Baaghi TV

Tag: آبنائے ہرمز

  • امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ

    امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ

    امریکی فوج کا اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے قریب گرکر تباہ ہوا تاہم اس واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملےکے دو ارکان کو ریسکیو کر لیا گیا ہے تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کے نتیجے میں تباہ ہوا یا یہ کسی فنی خرابی، تکنیکی مسئلے یا حادثاتی صورتحال کا شکار ہوا امریکی حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حادثہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے وا قعے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر میں موجود عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

    اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ محفوظ ہیں اور ہیلی کاپٹر گرنےسےمتعلق باضابطہ رپورٹ جلد جاری کریں گے،جبکہ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ سامنے آسکے گی-

  • امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، امریکی فوج نے ایک تجارتی بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ جہاز نے ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری محاصرے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، گمبیا کے پرچم تلے چلنے والا تجارتی جہاز ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جہاز کو متعدد بار متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیاحملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور ایران کی جانب اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اب تک پانچ تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ 116 دیگر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکیں امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور پابندیوں یا محاصرے کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

  • آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا بھر پور جواب دیا جائے گا، ایرانی فوج

    آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا بھر پور جواب دیا جائے گا، ایرانی فوج

    ایرانی فوج کی اعلیٰ ترین آپریشنل کمانڈ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا ایران کے نافذ کردہ سسٹم میں خلل ڈالنے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ایران کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج مکمل اختیارات کے ساتھ آبنائے ہرمز کا انتظام چلا رہی ہیں اس راستے سے گزرنے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر لازم ہے کہ وہ ایران کے متعین کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق صرف مقررہ راستہ اختیار کریں اور ٹرانزٹ کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے پیشگی اجازت کا حصول یقینی بنائیں۔

    ایرانی فوج نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت یا نیوی گیشن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز اس راستے پر محفوظ سفر نہیں کرسکیں گے۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سمندر کے راستے سپلائی ہونے والے پیٹرولیم اور خام تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد گزرتا ہے ایران نے اس گزرگاہ کو امریکا اور اس کے اُن اتحادی ممالک کے بحری جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت میں حصہ لیا یا اس کی حمایت کی تھی۔

    ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی غیر قانونی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اس گزرگاہ پر اپنا سخت کنٹرول نافذ کیا تھا ایرانی حکام نے اس اقدام کو امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا، جسے اب امریکا نے ختم کر دیا ہے.پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے جمعرات کے روز ٹریکنگ سسٹم بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے امریکی آئل ٹینکر کو واپس جانے پر مجبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حالیہ بیان میں ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سلامتی کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔

  • آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

    آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یکم مارچ سے ایران کے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے-

    سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی اور جہاز رانی کی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ناکہ بندی ختم کرنا کوئی سفارتی رعایت نہیں، بلکہ یہ محض ایک غیر قانونی عمل کا خاتمہ ہوگا جو سرے سے شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد یکم مارچ سے آبنائے ہرمز ایران کے ’خصوصی اقدامات‘ کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو صرف ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران اور عمان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ساحلی ممالک نے خطے کی سلامتی، قومی مفادات اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے ایران اور عمان ایسے طریقہ کار وضع کریں گے جو ایک جانب دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور دوسری جانب عالمی جہاز رانی کے محفوظ تسلسل کی ضمانت بھی فراہم کرے گا۔

    ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا ذکر کیا گیا تھااسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ صرف اور صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے’اس مرحلے پر یورینیم کی افزودگی کی تفصیلات اور افزودہ یورینیم کے حوالے سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران حالیہ تجربات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ایران اور عمان کی جانب سے مستقبل میں اختیار کیے جانے والے کسی بھی انتظامی طریقہ کار کا مقصد قومی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا،مغربی ممالک کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم اور سخت زبان کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران ’یہ کرنا چاہیے‘ یا ’یہ کرنا ہوگا‘ جیسی زبان قبول نہیں کرتا اور اپنے فیصلے صرف اپنی قوم کے مفادات اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں روس اور چین کو خصوصی سہولتیں دینے کا اعلان کر دیا ہے-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روس اور چین کے جہازوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا اور اس حوالے سے نئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

    ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ مشاورتی اجلاس اہم رہے تاہم موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں آیا یورینیم سے متعلق امور امریکا کے ساتھ جاری رابطوں کا حصہ بھی نہیں ہیں ایران اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔

  • یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز  میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    ایران نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے تہران سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزارنے کے معاملے پر تہران سے رابطے میں ہیں مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد اطلاعا ت ملی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسد ارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہوسکے-

    تاہم ایرانی میڈیا نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے،ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کردیا تھا، اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم تہران اب بھی آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق اس گزرگاہ پر کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ایران کو اہم سفارتی اور معاشی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے، جبکہ دوسری جا نب امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے،امن کے دنوں میں آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدر تی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دیگر اہم تجارتی سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جن میں چینی جہاز بھی شامل تھےیہ اجازت ”آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول“ پر معاہدے کے بعد دی گئی، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک ”جنگ سے پہلے والی صورتحال“ میں واپس نہیں جائے گی، گزشتہ ماہ تہران نے اس راستے سے حاصل ہونے وا لی فیس کی پہلی آمدن موصول ہونے کا بھی اعلان کیا تھا۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کیلئے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کرلیا ہے، جسے جلد متعارف کرایا جائے گا، اس نئے نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک یا فریقین ہی سہولت حاصل کرسکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کیلئے باقاعدہ فیس بھی وصول کی جائے گی، نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کیلئے یہ راستہ بند رہے گا، ایران اس اصطلاح کو امریکی فوجی آپریشن کیلئے استعمال کرتا ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نیا میکینزم تیار کر لیا،میکینزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائے گی ، یہ راستہ نام نہاد ‘فریڈم پروجیکٹ’ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے ، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا، اس سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے نہ ہونے کی ٹھو س ضمانت کے بغیر باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی،

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکا کے قرض میں اضافہ ہوگا اور مارگیج کی شرح بڑھے گی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم امریکا کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات کی پختہ ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے ماضی میں جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران امریکا دو مرتبہ ایران پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں اگر سنجیدہ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا گیا تو ایران سفارتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہوگا۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے ، جنہیں ”چھپی محافظ“ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے بلومبرگ کے مطابق ایران کے پاس ”غدیر کلاس“ کی کم از کم 16 منی آبدوزیں موجود ہیں بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ہر آبدوز میں 10 سے کم اہلکار سوار ہوتے ہیں۔

    ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ دو سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امن تجاویز پر اختلافات برقرار ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

  • صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

    صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجویز احمقانہ ہے، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں،ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں، ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    ایران نے آبنائے ہرمز میں باقاعدہ ایک بحری اتھارٹی قائم کردی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی قائم کردی بحری اتھارٹی آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے اور ان سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی مجاز ہوگی ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ایک فارم فراہم کیا جا رہا ہے جس میں ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات مانگی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے سرکاری چینل نے بھی رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے قواعد و ضوابط بھیج دیے ہیں،یران نے اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو 28 فروری سے بند کر رکھا ہے ،حالات اس وقت اور کشیدہ ہوگئے جب 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کردی جو تاحال جاری ہے اور اس وجہ سے جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

  • فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –

    فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

    بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔

    اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-