Baaghi TV

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی امریکا کو نئی پیشکش

iran

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے جس میں ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے،ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے ثالثی کے طور پر امریکا تک پہنچایا جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی،تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔

ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرے، لیکن ایران کی نئی تجویز میں اس معاملے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کے روز اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے اس میٹنگ میں مذاکرات میں جاری جمود اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر بات ہوگی۔

اتوار کے روز ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بحری ناکہ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس نے ایران کی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے جب آپ کے پاس تیل کی بھاری مقدار سسٹم میں موجود ہو اور اسے جہازوں میں نہ ڈالا جا سکے تو وہ لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایسا ہونے سے پہلے صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا بحران اس وقت مزید گہرا ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آئی وائٹ ہاؤس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں عراقچی سے ملیں گے، لیکن ایران کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ ملنے پر صدر ٹرمپ نے یہ دورہ منسوخ کر دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انہیں 18 گھنٹے طویل فلائٹ پر بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم فون پر بھی بات کر سکتے ہیں اور ایرانی اگر چاہیں تو ہمیں کال کر سکتے ہیں، ہم صرف وہاں بیٹھنے کے لیے سفر نہیں کریں گے عباس عراقچی نے پاکستان، مصر، ترکی اور قطر کے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ ایرانی قیادت میں امریکی مطالبات پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کو دی گئی نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کو حل کیا جائے اور جنگ بندی میں طویل المدتی توسیع یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے جوہری مذاکرات اس کے بعد شروع ہوں گے جب ناکہ بندی ختم ہو جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکا پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، صدر واضح کر چکے ہیں کہ تمام پتے امریکا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ صرف وہی معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار نہ بنانے دے۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر پاکستانی حکام نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

More posts