Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لئے ہفتے کی چھٹی بحال کردی

    وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لئے ہفتے کی چھٹی بحال کردی

    اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور اس پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری لاہور پہنچ گئے،حمزہ شہباز کو ظہرانے پر دعوت

    ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم توانائی بحران پر قابو پانے کےلیے مارکیٹوں کی شام 7 بجے بندش کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کابینہ نے وزرا اور سرکاری ملازمین کے پیٹرول میں 40 فیصد کٹوتی کی منظوری بھی دے دی ہے۔

    توانائی کی بچت کا پلان کابینہ اجلاس میں پیش کردیا گیا وزارت توانائی کی جانب سےبجلی بچت کیلئے8 نکاتی فارمولا تیار کیا گیا بجلی بچت سےمتعلق تجاویزوزیراعظم کےقائم ورکنگ گروپ نےتیارکیں-

    اجلاس میں سرکاری تیل کے کوٹے میں 33 فیصد کمی کرنے کی تجویز دی گئی ہفتے میں ایک دن گھرسے کام کرنے کی تجویزبھی پلان کا حصہ تھا تجویز میں کہا گیا نجی شعبہ بھی ایک دن گھرسے کام کرنے کو ترجیح دے، گلیوں،شاہراہوں پرلگی لائٹس جزوی طورپرآن رکھنے کی تجویز بھی دی گئی-

    ،وزارت توانائی کی تجویز میں کہا گیا کہ مارکیٹس،شادی ہالزرات 10 بجےبند کیےجائیں توانائی کی بچت کیلئے بھرپورآگاہی مہم چلانے کی بھی تجویز دی گئی-

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا میرا پکا ارادہ ہے،یہ آدمی نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے،رانا ثناءاللہ

    دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ہفتے میں دو تعطیلات کی تجویز دی ہے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں سارے مللک میں ہفتہ میں ہفتہ اتوار پور ی تعطیل اورجمعہ کےروز آدھادن یعنی ہفتہ میں 4 سے 5 دن کام ہوکام کےدنوں میں ایک گھنٹہ دفاتر کا دورانیہ بڑھا دیا جائے.سڑکوں پہ ٹریفک کم ہو گی.تیل اور بجلی دونوں کی بچت ہو گی.کفایت شعار ی کے کلچر کو فروغ ملے گا-

    عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان پر قرارداد پیش

  • صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کئے گئے ایکسز ٹو میڈیا (ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل2022 زیر بحث آیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ممبران کو بل میں ورڈنگ کے حوالے سے معمولی خدشات تھے جن کو دور کردیا گیا ہے۔خصوصی افراد کیلئے یہ بل لایا گیا ہے۔ایسے لوگ ڈرامہ نہیں دیکھ سکتے، خبریں نہیں دیکھ سکتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔بل میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ معمولی نوعیت کی ہے۔آپ اس قانون پر عمل درآمدکرانے میں مدد کریں گے۔بل میں لفظ ”ڈمپ“کو نکال دیا گیا ہے۔ممبران میں سننے کی حس سے محروم ایک فرد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔دو سینیٹرز اور دو قومی اسمبلی کے اراکین بھی ممبران میں شامل ہوں گے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کو بل پر کوئی اعتراض نہیں۔چیئرمین پیمرا نے بھی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پیمرا کو بھی بل کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ہم اس بل کو متفقہ طور پر پاس کرتے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ایکسز ٹو میڈیا(ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل 2022 کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
    سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے ریڈیو پاکستان کے راولپنڈی کے دفتر میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بحث ہوئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ معلومات کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ متعلقہ حکام کے مطابق مالی بحران کے باعث درخت کاٹے گئے ہیں لیکن وجہ نہیں بتائی گئی۔درختوں کے معاملے میں تو پی ٹی آئی چیمپئین ہیں اور درخت لگانا عمران خان کا بہتر اقدام تھا۔درختوں کے رقبے کے لحاظ سے پاکستان دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے۔قائمہ کمیٹی کا فرض ہے کہ اس معاملے کی جانچ کرے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ درخت کٹنے کے قابل تھے، اگر عمران خان وزیراعظم ہوتے تو ان کو بھی لکھتا کہ اس معاملے کا وہ نوٹس لیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پی بی سی کی طرف سے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کتنے درخت کاٹے گئے، درخت جو کاٹے گئے وہ کن اقسام کی تھے اور ان کی مارکیٹ ویلیو کیا تھی یہ سب تفصیلات کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنا ضرروری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے اگلی میٹنگ میں ای پی اے اور پنجاب کے ماحولیاتی ادارے کے حکام کو طلب کرلیا۔ ڈی جی پی بی سی نے کہا کہ ابھی دو ہفتے پہلے ڈی جی پی بی سی کا چارج سنبھالا ہے۔اس وقت ادارے کا مالی بحران 1922 ملین کا ہے جبکہ 22 ملین کا اس سال کا شارٹ فال ہے۔کچھ درخت بہت پھیل گئے تھے، ٹرانسمیشن اور سیکیورٹی کے مسئلے تھے اس وجہ سے درخت کاٹے گئے۔اس وقت پی بی سی کے 58 یونٹس ہیں جس میں 25 یونٹس نے جواب دیا اور آکشن کیلئے 21 یونٹس کیلئے اشتہار دیا گیا ہے۔پی بی سی راولپنڈی دفتر میں 100 درخت کاٹے گئے جن کی مالیت 7 لاکھ ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینئراینکرپرسنز اور صحافیوں کے خلاف مقدمات کامعاملہ بھی زیربحث آیا ہے۔ اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ آزادی صحافت پر حملے ہو رہے ہیں قد غن لگائی جا رہی ہے۔چینلز کے نمبر تبدیل ہو رہے ہیں مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔صحافیوں کے تحفظ کیلئے بل پاس کیا گیا ان رولز پر عمل درآمد ابھی تک کیوں نہیں ہوا۔اینکر پرسن عمران ریاض نے کہا کہ مجھے نوٹسز مل رہے ہیں پیشی کے، 28 تاریخ کو پیش ہونا تھا اور نوٹس 31 کو ملا تاکہ میں پیش نہ ہو سکوں اور میرے خلاف ایکشن لیا جائے۔ڈرون کیمرے سے میرے گھر کی ویڈیوز بنائی گئیں۔پولیس نے بھی میرا گھر گھیرا لیکن میں نکل گیا، پولیس والے نے مجھے کہا کہ آپ نکل جائیں ورنہ گرفتار کرلیں گے۔ٹھٹھہ میں 502 کی دفعہ لگائی گئی جو کہ صرف حکومت لگا سکتی ہے، مدعی عاشق علی ہے جس کے خلاف منشیات کے 16 مقدمات ہیں اور عدالت نے اسکا شناختی کارڈ بلاک کرایا ہے۔مقدمہ وہ درج کیا گیا جو صرف ریاست کرا سکتی ہے۔نواب شاہ میں میرے خلاف دوسرا مقدمہ ہے، تیسرا مانسہرہ میں،کسی صوبائی حکومت نے ا نکوائری نہیں کرائی کہ یہ جعلی مقدمات کون کروا رہا ہے۔ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے، جمعہ کو پیشی ہے، مجھے کہا گیا کہ اسلام آباد نہیں چھوڑنا ورنہ گرفتار کر لیں گے۔عالمی تنظیمیں ہم سے تفصیلات مانگ رہی ہیں، پاکستان کا امیج متاثر ہوگا ہمیں مجبور نہ کریں کہ یو این میں جائیں۔
    اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے آئی جیز کو کمیٹی میں بلائیں کہ 505 کی دفعات کیوں لگائی گئی پینل کوڈ کے تحت۔سیالکوٹ، لاہور، ملتان میں اے آر وائے کو بند کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی، کیبل آپریٹر نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔کمیٹی سے گزارش ہے کہ آپ منتخب نمائندے ہیں آپ فیصلہ کریں، آپ سے انصاف کی امید ہے۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کسی کا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے لیکن کیا اپنی رائے کیلئے دوسرے کا گلا گونٹ دیا جائے یہ جبر ہے۔رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے جب مجھے پکڑا گیا یہ سارے میرے ساتھ کھڑے تھے کیونکہ سوال اظہار رائے اور قلم کا تھا۔اس مسئلے پر میں صحافیوں اور ان اینکر پرسنز کے ساتھ ہوں۔نائب صدر پی ایف یو جے نے کہا کہ اے ار وائے کے اینکرز کے خلاف کل 8 مقدمات ہیں۔باہر ممالک میں چینلز کسی نہ کسی پارٹی کی سائیڈ لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں ایسے مقدمات لگائے جا رہے ہوں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کے مطابق ان صحافیوں کے خلاف کوئی ایکشن ہی نہیں لیا گیا جس پر چیئرمین پیمرا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس سے پیمرا کا تعلق نہیں ہے، پیمرا چینلز کے اندرونی انتظامیہ کے معاملات میں عمل دخل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔جو ذمہ دار ہیں تو ان کو بلائیں۔نائنٹی ون کیبل کا ہمیں بتایا گیا اور ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پیمرا سے گزشتہ تین ماہ کی چینلز کی نمبرنگ کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    اینکر پرسن صابر شاکر نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کیبل آپریٹرز کو چینل کی بندش کاحکم نہیں دے سکتے۔ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ جہاز سے اٹھا لیں گے، ارشد شریف، اے آر وائے اور چینل کے مالک سلمان کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔ میری اور ارشد شریف کی زندگی خطرے میں ہے۔سینیٹرعرفان صدیقی کو بھی اس وقت کی حکومت نے نہیں اٹھایا تھا۔ کل تک محب وطن تھے آج دشمن ہو گئے۔مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ کس ملک میں رہ رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے۔
    سینیٹرعون عباس نے کہا کہ پیمرا بھی اس معاملے میں بے بس ہیں، سیکریٹری اطلاعات کا بھی کوئی کام نہیں۔اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں ہر ہفتے کمیٹی بلائیں، آئی جیز اور ہوم سیکریٹریز کو بلائیں۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ جمہوریت آزاد صحافت کے بغیر پروان نہیں چھڑتی۔ارشد شریف کا معاملہ میرے لئے حیران کن نہیں ہے۔بلوچستان میں سیاست دانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔صحافی کا بھی کسی جماعت کی طرف جھکاؤ ہو سکتا ہے۔ہر چینل کی اپنی پالیسی ہوتی ہے یہ ان کا حق ہے۔ شائستہ زبان میں تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے۔چاروں صوبوں کے آئی جیز کو بلائیں، معلومات کرائیں کہ جس شخص نے ایف آئی آر کاٹی وہ کون ہیں؟ کس کے کہنے پر یہ کیا ہے؟ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو انصاف اور حفاظت فراہم کریں۔جو بھی اقدامات اٹھائیں گے ہم ساتھ ہیں۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس ایشو کے اوپر میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ساتھ ہوں یہ قومی مسئلہ ہے۔ہم ان کا دفاع کریں گے، جو بھی کمیٹی طے کرے گی ہم ساتھ ہیں۔ اپنے آپ کو خوش کرنے کیلئے سب کو بلائیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ نہیں کرسکتے۔اصول بنائے کہ ہم ہر آواز کو سنیں، آواز کو بند کرنے کی بات نہیں ہونی چاہئے۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ان کا پرسان حال کون ہے؟ پیمرا کو بھی نہیں پتہ، وزارت کا کیا جواب ہے، صحافیوں پروٹیکشن بل کے رولز ابھی تک نہیں آئے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کہا کہ ہیومن رائٹ نے اس بل کے حوالے اے ایکشن لینا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آزادی صحافت پر جو حملہ ہے اس میں وزارت کیا کرے گی۔ اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ شکایت کنندہ کو کمیٹی میں بلائیں ہم اخراجات برداشت کریں گے اور ان سے یہ کمیٹی پوچھے۔اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرنی چاہئے، تاکہ کل کو صحافیوں کو تحفظ حاصل ہو۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 5.5 سیکشن تو حکومت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔چیئرمین کمیٹی نے طویل بحث کے بعد معاملے کو اگلی میٹنگ تک موخر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی میٹنگ میں وزیر اطلاعات بھی آئیں اور دیگر متاثرین کو بھی آکر سنیں گے اس کے بعد کمیٹی فیصلہ دے گی۔
    چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ صحافیوں کے معاملے کا تعلق وزارت اطلاعات سے ہے،کیا آپ لوگ اس زیادتی کو تسلیم کرتے ہیں؟۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو لکھنا چاہئے کہ اس حوالے سے ایکشن لیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جو بھی اقدام اٹھائیں گے اس پر مشاورت کریں گے۔وزارت اطلاعات بتائیں کہ جو چینلز بندہیں ان کو بحال کریں گے۔جس پر چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کوئی چینل بند نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کے معاملے میں کچھ چینلز اور اخبارات کو زیادہ نوازا جارہا ہے۔جو چینلز ایک ہی کیٹیگری میں ہیں ان کے اشتہارات میں اتنی تفریق کیوں ہے۔چینلز کی بندش کی تحقیقات کروائیں۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے وزارت اطلاعات سے سات دن کے اندر 2008-2013، 2013-2018، 2018 -اپریل 2022 اور اپریل 2022 سے اب تک ٹی وی چینلز اور اخبارات کو دئیے گئے اشتہارات کا ڈیٹا طلب کرتے ہوئے وزیراعظم کے دورہ ترکی کے حوالے سے اشتہارات کی تفصیلات بھی چیئرمین کمیٹی نے طلب کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس پئیر کا پیسہ ہے صحیح جگہ خرچ ہونا چاہئے۔صحافیوں کے تحفظ کے بل پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا۔چیئرمین کمیٹی نے صحافیوں کے تحفظ کے بل پر جلد سے جلد عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی۔ابھی صحافیوں والا معاملہ عدالت میں ہے۔رولز کے مطابق زیر سماعت کیسز سے متعلق کمیٹی کوئی ہدایات نہیں دے سکتی۔چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری اطلاعات و نشریات سے اگلی میٹنگ میں اینکر پرسنز اور دیگر صحافیوں کے خلاف ایف آئی آرز کی تمام تفصیلات کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ لوگ اپنے صحافیوں کو تحفظ دیں، وزارت داخلہ کے ساتھ صحافیوں کے تحفظ کا معاملہ اٹھائیں۔اینکرپرسنز کے معاملے کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا، بلیم گیم ہو رہی ہے۔صحافیوں کے تحفظ کی ذمہ داری وزارت اطلاعات کی ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان صدیقی، عون عباس بپی، انور لعل دین، چاہر بزنجو اجلاس میں شریک ہوئے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے- چیئرمین پیمرا، چیئرمین پی سی بی، سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات،اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا توسختی سے نمٹا جائے گا.وفاقی کابینہ کا فیصلہ

    ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا توسختی سے نمٹا جائے گا.وفاقی کابینہ کا فیصلہ

    ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا توسختی سے نمٹا جائے گا.وفاقی کابینہ کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ نے عوام کو عمران خان کے 25 مئی کے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر مبارکباد دی ،کابینہ نے کہا کہ میڈیا اور وزارتِ اطلاعات کی عوام کے لئے مسلح جتھوں اور اِن کے اصل چہرے کے حقائق پر مبنی رپورٹنگ قابلِ ستائش ہے – وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہئے۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اجلاس کو بتایا کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔وفاقی کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے تمام اہلکاروں کو اپنے فرائض بخوبی انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا ,وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ سمیت پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ،وزیر داخلہ نے اجلاس کو باور کرایا کہ ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ مولانا اسعد محمود نے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر قوم کو مبارکباد دی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے 25 مئی کے خونی مارچ کے اعلان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے اسلحہ کے ساتھ اسلام آباد پر حملے کا سختی سے نوٹس لیا اور تشویش کا اظہار کیا

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر عوام اور لانگ مارچ کے دوران خدمات انجام دینے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا ،رانا ثناء اللہ نے کابینہ کو بتایا کہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ریاست مخالف سوچی سمجھی سازش تھی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پی ٹی آئی نے ایک دن پہلے کے پی ہائوس میں مسلح جتھوں کو جمع کیا، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے بھی پولیس پر حملہ کیا ،رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ واضح طور پر ریاست پر حملے کی کوشش تھی ،وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کا بھی نوٹس لیا اور شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ہم پوری قوت کے ساتھ ریاست اور وفاقی دارالحکومت پر حملہ کریں گے۔

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

  • عمران خان کیخلاف گھیرا تنگ کریں گے، حکومتی اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کر لیا

    عمران خان کیخلاف گھیرا تنگ کریں گے، حکومتی اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کر لیا

    اتحادی جماعتوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی،نواز شریف، فضل الرحمان اور آصف زرداری نے فوری الیکشن نہ کروانے پر اتفاق کیا عمران خان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ،جہاں بھی کرپشن کا ثبوت ملا فوری قانونی کاروائی ہوگی ،سخت معاشی فیصلوں پر تمام شراکت داروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ،قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی جلد بلانے کا فیصلہ کیا گیا ،حکومت معیشت سے متعلق دیگر شراکت داروں سے بھی ملے گی،اجلاس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اتحادی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،

    نجی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کر یہ ڈھول گلے میں باندھا ہے مل کر ہی بجائیں گے ، سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کے جلسوں سے پریشان نہ ہوں ہم ان سے بڑے جلسے کرینگے،اجلاس میں شہباز شریف کو مشاورت سے بڑے فیصلے کرنے کا مکمل فری ہینڈ بھی مل گیا،

    قبل ازیں وزیراعظم کی زیرصدارت تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس ہوا تمام جماعتوں نے 2023 تک اپنی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا، تمام اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم کے فیصلے کی توثیق کی۔وزیراعظم اور تمام اتحادیوں نے معیشت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار تھے

    عمران خان کی رہائشگاہ بنی گالہ کی سیکورٹی میں اضافہ

    سیاست ثانوی،سب مل کر معاشی مسائل کو حل کریں،شاہد خاقان عباسی

  • پاکستان:وفاقی کابینہ کا اجلاس آج :سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

    پاکستان:وفاقی کابینہ کا اجلاس آج :سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس کا 5 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں درآمدات، برآمدات اور تجارتی توازن کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سافٹ ویئر ایکسپورٹ اور آئی ٹی شعبے کی شرح نمو کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    ایجنڈے کے مطابق وفاقی کابینہ میں ریٹائرمنٹ کی ڈائریکٹری رپورٹ پیش کی جائے گی، پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر اعزازی نوٹ کے اجرا کی منظوری بھی دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق ای سی سی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ادھر ذرائع کے مطابق سینٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے اور یہ اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے صدرمملکت کواجلاس کی ریکوزیشن بھیجنے کے بعد طلب کیا ہے ،

    اس اہم اجلاس میں کیا فیصلے ہوں گے ، اس کےبارے میں فی الحال تو کوئی واضح چیزیں سامنے نہیں آئیں تاہم یہ کہا جارہا ہےکہ یہ اجلاس بھی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے کیونکہ سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرز کی طرف سے سخت ردعمل کی توقع ہے ، ادھر اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہےکہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ اس اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے‌حوالے سے کوئی پیش رفت کے طور پرمعاملے کو زیربحث لائے

  • لندن: حتمی فیصلوں کیلئے نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس،اہم اعلان متوقع

    لندن: حتمی فیصلوں کیلئے نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس،اہم اعلان متوقع

    لندن: نواز شریف نے حتمی فیصلوں کے لئے آج پھر اجلاس طلب کرلیا-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں ملکی صورت حال سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی جبکہ ن لیگ کی قیادت نے آج دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے-

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز حکومتی ٹیم نے معاشی حقائق کی روشنی میں مستقبل کے اقدامات کے بارے میں اپنی آراء پیش کیں تھیں نواز شریف نے حتمی فیصلوں کے لئے آج پھر اجلاس طلب کیا ہے جس میں ملک اور عوام کو بحران سے نکالنے کے لئے حکمت عملی کی منظوری دی جائے گی، اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے اتحادی جماعتوں کو آگاہ کیا جائے گا اور پھر اُن کی تائید و حمایت کے بعد نواز شریف اہم اعلان کریں گے۔

    آئین شکن عناصرسےقانون کےمطابق نمٹاجائیگا۔نوازشریف کی زیرصدارت فیصلہ

    بعد ازاں نواز شریف آج اہم پریس کانفرنس کریں گےجس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان بھی موجود ہوں گے توقع کی جارہی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کی وجوہات اور کرپشن کے حوالے سے اہم معلومات سے پردہ اٹھائیں گے۔

    قبل ازیں لندن پہنچنے کے بعد وزیراعظم اورکابینہ اراکین نےمسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سےملاقات کی اس دوران نوازشریف انتہائی گرم جوشی سے ملے اور شہباز شریف کو تھپکی بھی دی اس موقع پر نواز شریف سے احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی اور سعد رفیق نے بھی ملاقات کی جبکہ اسحاق ڈار عابد شیر علی اور سلیمان شہباز بھی موجود تھے۔

    نواز شریف نے لندن میں وزیراعظم شہباز شریف سے اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ مشاورت کی جبکہ ملک سیاسی صورتحال، پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل اور عام انتخابات سمیت دیگر امور کا بھی جائزہ لیا اجلاس میں اتفاق رائے پایا گیا کہ آئین شکن عناصر سے آئین اور قانون کےمطابق نمٹنا ہوگا اجلاس میں توانائی کےشعبے میں سابق حکومت کے پیدا کردہ سنگین بحران، لوڈشیڈنگ، تیل اور ایل این جی نہ منگوانے کی تفصیلات بیان کی گئیں جبکہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ سے عوام کو نجات دلانے اور ریلیف کی فراہمی سے متعلق مختلف سفارشات پر بھی غور ہوا۔

    شکر ہے پاکستان کو جادو ٹونے کے اڈے کی طرح چلانے والوں سے جان چھوٹی. مریم نواز

    دوسری جانب باغی ٹی وی کے مطابق ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کی لندن سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہےویڈیو میں ایم کیو ایم لندن کے بانی سربراہ الطاف حسین نے کہا ہےکہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں یہ صرف آپکو نہیں معلوم پوری دنیا کو معلوم ہے کہ جس زمانے میں رابطہ کمیٹی ہوا کرتی تھی اورمختلف اوقات میں مشاورت کے لئے، بات چیت کے لئے پاکستان سے لندن آیا کرتے تھے میرے پاس، یہی جماعت ہے بہت شور مچاتے تھے کہ رابطہ کمیٹی لندن یاترا کرنے گئی ہے، وہاں سے جو فیصلہ ہو گا اس کے مطابق آگے بڑھیں گے

    الطاف حسین نے ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ آج مجھ پر طعنہ زنی کرنے والے آج وہی مسلم لیگ والے نواز شریف کے پاس لندن نہیں آئے پاکستان سےان سے بات کرنے کے لئےاب کوئی لندن یاترا کا نام دے تو کیسا لگے گا، جب تک رابطہ کمیٹی نے اجتماعی طور پر ٹھاکر کے سامنے سجدہ نہیں کیا اسوقت تک پارٹی ڈسپلن نظم و ضبط آئین کے مطابق تھا، وفا پرست پاکستان و دنیا بھر میں موجود ہیں، ٹھاکر کے سامنے اجتماعی سجدہ کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے-

  • وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں ڈیز ل کی قلت کے خاتمے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا چیف سیکریٹری،پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ،سیکریٹری توانائی شرکت کریں گے-

    سیکریٹری صنعت،کمشنر لاہورڈویژن اورڈی سی لاہوربھی اجلاس میں شرکت کریں گے تمام کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے-

    واضھ رہے کہ گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے حمزہ شہباز سے وزیراعلیٰ کا حلف لیا تھا حمزہ شہباز شریف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے 21ویں وزیراعلی ہیں-

    عمران خان نے سیاسی روایات کا جنازہ نکال دیا ہے،شازیہ مری

    حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں ہوئی تھی گورنر ہاؤس،وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی تھی، تقریب میں ن لیگی رہنماؤں نے شرکت کی تھی حمزہ شہبازشریف سے حلف لینے کیلئے سٹیج سجا یا گیا تھا، جبکہ بڑی سکرین بھی لگائی گئی تھی-

    حمزہ شہباز تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے گورنر ہاوس کے پنڈال میں پہنچے تو مریم نواز اور ایاز صادق ان کے ہمراہ تھے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی پنجاب سمیت انتظامیہ کے اعلی عہدیدار تقریب میں موجود تھی ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری حلف برداری کی تقریب میں موجود تھے ڈی سی لاہور عمر چٹھہ بھی گورنر ہاؤس موجودتھے ، گورنر ہاؤس کے اندر ایک ہزار مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا حمزہ شہباز شریف کی حلف برداری تقریب میں پیپلز پارٹی کا وفد سید حسن مرتضیٰ کی قیادت میں شریک تھا،ن لیگی رہنما، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک تھیں-

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سےغیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا تھا کہ ہمارے لیے چیلنجز بہت زیادہ ہیں، چاہتے ہیں لوگوں کو ریلیف فراہم کریں گزشتہ حکومت نے صحت اور تعلیم سمیت کئی چیلنجز چھوڑے ہیں امن و امان کی صورتحال کا بھی مسئلہ ہے ہمیں تمام چینلجز کو پورا کرنا ہے یہ صرف (ن) لیگ کی حکومت نہیں ہے اس میں اتحادی جماعتیں بھی شامل ہیں یہ سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جس وجہ سے سب کومل کر فیصلہ لینا ہوتا ہے صوبہ بہت بڑا ہے اور چیلنجز بہت زیادہ ہیں چاہتے ہیں انہیں پورا کریں اور لوگوں کو ریلیف دیں

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز جہانگیر ترین کو ملنے پہنچ گئے

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے پنجاب آئینی بحران کا شکار تھا،پنجاب اسمبلی کے اندر تماشا لگایا گیا، پرویز الہٰی نے آئین اور قانون کی دھجاں بکھیریں، گورنر پنجاب نے ہائیکورٹ کے فیصلوں کا مذاق بنایا، یہ آئین کا نہیں، پاکستان اور پنجاب کی 12 کروڑ عوام کا مذاق ہے،دنیا نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنی انا کے آگے آئین کو چھوٹا کر دیا، سپریم کورٹ کو رات کے 12 بجے عدالت لگانا پڑی،سپریم کورٹ عدالت نہ لگاتی تو پاکستان بنانا ریپبلک بن جاتا، پنجاب کے عوام کا کیا قصور ہے کہ انہیں چیف ایگزیکٹو سے محروم رکھا،اپنے اتحادیوں کے ساتھ پاکستان اور پنجاب کے عوام کے مفاد میں آگے بڑھیں گے، تحریک انصاف نے بربادی، بیڈ گورننس اور کرپشن کی مثالیں قائم کیں-

    حلف اٹھاتے ہی حمزہ شہباز ان ایکشن، اجلاس طلب، اہم فیصلے متوقع

  • وزیراعلیٰ  پنجاب کا انتخاب ،صوبائی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ،صوبائی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ،صوبائی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار ہو گیا-

    باغی ٹی وی : وزارت اعلیٰ پنجاب کے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز اپوزیشن کے قافلے کے ہمراہ پنجاب اسمبلی پہنچے ، حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی رہنما علیم خان ایک ہی بس میں ایک ساتھ بیٹھ کر پنجاب اسمبلی پہنچے جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان لڑائی کی افواہیں دم توڑ گئیں ۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس لائیں گے ،ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں گے ،صوبو ں کیساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن بنائیں گے ،ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر پاکستان کیلئے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔

    عبدالعلیم خان نے پنجاب اسمبلی پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے فیصلوں کی وجہ سے پی ٹی آئی کو نقصان ہواہے عمران خان نے عثمان بزدار کی شکل میں نکما ترین شخص منتخب کیا ، عمران خان کے غلط فیصلوں کی شائد تلافی نہ ہو سکے ۔

    جبکہ وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے حکومتی امیدوار چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر کی نیت صاف نہیں لگ رہی ،وقت بتائے گا کہ دوست محمد کتنے ایماندار ہیں ۔

    وزارت اعلیٰ پنجاب کے حکومتی امیدوارچودھری پرویز الہیٰ نے پنجاب اسمبلی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نمبر پورے ہیں اگر نمبر پورے نہ ہوتے تو میں یہاں نہ آتا، آج میں کسٹوڈین نہیں ہوں ،آج پتاچلے گا کہ کون کسٹوڈین ہے اور اس کاکنڈکٹ کیا ہے ڈپٹی سپیکر کا آج پتا چلے گا کہ ان کا کنڈکٹ کیا ہے ۔

    صحافی نے سوال کیا کہ جو بھی نتیجہ آتا ہے کیا آپ اسے تسلیم کریں گے ، جس پر چودھری پرویز الہیٰ نے جواب دیا کہ اگر ناانصافی ہوتی ہے تو کون مانے گا کوشش کریں گے کہ الیکشن شفاف ہوں لیکن نیتیں صاف نہیں ہیں –

    قبل ازیں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے کہا تھا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے ووٹنگ آج ہو گی اور نتیجہ بھی آج ہی آئے گا، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اسمبلی آکر ماحول خراب کر سکے گا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ تعاون کریں اور نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو پر امن طور پر چلنے دیں ، تمام عمل انتہائی صاف اور شفاف ہوگا ، میؑڈیا کے نمائندگان اسمبلی کے اندر اور باہر موجود ہوں گے جو کچھ ہوگا ان کے سامنے ہوگا۔

    دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی کوشش ہو گی کہ ماحول ایسا پیدا کیا جائے کہ معاملہ التواء کا شکار ہو جائے ۔ آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ارکان ووٹ ڈال سکتے ہیں بعد ازاں ان کے پارٹی چیف کارروائی کر سکیں گے امن و امان سے متعلق کل آئی جی پنجاب سے میٹنگ ہوئی تھی ، وہ تمام معاملے کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں ، سکیورٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔

  • نئےسپیکرکاچناؤ، قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلانے پراسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

    نئےسپیکرکاچناؤ، قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلانے پراسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد: ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلانے کا اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وکیل منصور اعوان اور زینب جنجوعہ ایڈوکیٹ نے ن لیگ کے مرتضی جاوید عباسی کی جانب سے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی، درخواست پر آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا کہ 13 اپریل کا سرکلر جس میں اجلاس 22 اپریل تک ملتوی کیا گیا آئین سے متصادم ہے لہٰذا ڈپٹی اسپیکر کو اسپیکر اسمبلی کے الیکشن کے لیے فوری اجلاس بلانے کی ہدایت کی جائے۔

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ سیکریٹری پارلیمانی افیئرز اور سیکریٹری اسمبلی کو 16 اپریل کو اجلاس بلانے کی ہدایت کی جائے جبکہ ڈپٹی اسپیکر کو اسپیکر قومی اسمبلی کے اختیارات استعمال کرنے سے روکا جائے۔

    وزیر اعظم کا رمضان المبارک میں شہریوں کیلئے میٹرو بس سروس مفت چلانے کا حکم

    ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، سیکریٹری پارلیمانی افئیرز اور سیکریٹری اسمبلی کو درخواست میں فریق بنایا گیا۔

    واضح رہے کہ نئے سپیکر کے چناؤ کے لئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ بدل دی گئی ہےقائم مقام سپیکر قومی اسمبلی نے ہفتے کو ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کیا ،اجلاس میں سپیکر اسد قیصر کی جگہ نیا سپیکر قومی اسمبلی منتخب کیا جائے گا اجلاس ہفتہ 16 اپریل کو شیڈول تھا جو اب 22 اپریل بروز جمعہ کی سہ پہر 3 بجے ہوگا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری

    قبل ازیں گزشتہ روزسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری کیا گیا تھا اس سلسلے میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے تمام ممبران قومی اسمبلی کو مراسلے جاری کئے گئے مراسلے میں ہدایت کی گئی تھی کہ اسپیکر کا انتخاب 16 اپریل 2022 بروز ہفتہ کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا جائے گا۔

    مارچ میں بیرون ملک سے ورکرز ترسیلات زر کتنی رہیں،اسٹیٹ بینک نے تفصیلات جاری کردیں

    مراسلے میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 15اپریل دن 12 بجے تک سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائے جا سکتے ہیں۔کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی کی شعبہ قانون سازی برانچ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔نئے اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کی کارروائی اور طریق کار کے قاعدہ 2007 کے قاعدہ 9 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ سابق اسپیکر اسد قیصر کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہے اس قیصر نے سپیکر شپ سے عدم اعتماد کی کامیابی سے قبل استعفیٰ دے دیا تھا، ایاز صادق نے عدم اعتماد کے وقت اجلاس کی صدارت کی تھی،عمران خان پر عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں اور اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک ملتوی کیا گیا تھا، اب اجلاس 16 کو ہو گا، اور اسی روز سپیکر کے لئے بھی ووٹنگ ہو گی، متحدہ اپوزیشن اپنا سپیکر کا امیدوار لائے گی،کیونکہ پی ٹی آئی اسمبلیوں سے استعفے دے چکی ہے، متحدہ اپوزیشن میں سے کس پارٹی کے نام قرعہ نکلتا ہے اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا-

    وزیر اعظم کا پشاور موڑ تا نیو اسلام آباد ائیرپورٹ میٹرو بس کا زیرالتواء منصوبہ جلد مکمل کرنے کی…

  • نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈیول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق کاغذات نامزدگی آج دوپہر 2 بجے تک جمع کرائے جا سکیں گے اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سہ پہر3 بجے تک ہو گی۔

    تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر متحدہ اپوزیشن کا ملک بھر میں جشن

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق نئے وزیراعظم کا الیکشن کل بروز پیر دوپہر2 بجے ہو گا جبکہ اس سے قبل نئے قائد ایوان کے چناؤ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے طلب کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو وزارتِ عظمٰی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے-

    قومی اسمبلی میں پارلیمانی قائدین کے خطاب کے بعد ایاز صادق نے اجلاس 11 اپریل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا تھا ایاز صادق کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کیلئے کاغذات نامزدگی آج دن 2 بجے تک وصول کیے جائیں گے اور کاغذات کی اسکروٹنی سہ پہر تین بجے تک ہو گی جس کے بعد نئے قائد ایوان کا انتخاب 11 اپریل کو ہوگا-

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے ہیں-

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے سے انکار کرکے اسپیکر اسد قیصر مستعفی ہوکر ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے تھے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی گئی اس دوران ایوان میں حکومتی بینچز مکمل طور پر خالی ہوگئے تھے اور حکومتی ارکان ایوان سے چلے گئے تھے-

    ایوان میں 5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور دروازے بند کردیئے گئے تھے جس کے بعد ایاز صادق نے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کا اجلاس 12 بج کر دو منٹ تک ملتوی کردیا گیا تھا-

    بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ شروع ہوا اور نوید قمر نے عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جس کے بعد رائے شماری کا آغاز ہوا تھا

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔

    تحریک عدم اعتماد کے دوران منحرف ارکان نے اپنے ووٹ نہیں کاسٹ کیے جبکہ حکومتی عمران چونکہ ایوان میں موجود نہیں تھے لہٰذا ان کے ووٹ بھی کاسٹ نہیں ہوئے اور یوں تحریک عدم اعتماد 0-174 سے کامیاب قرار پائی۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد خطاب میں اعلان کیا تھا کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے اور کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے آج ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے اور پاکستان کے عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کرلی ہیں۔

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد خطاب میں کہا تھا کہ ’ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان ،پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اور ایک تاریخ رقم ہوئی ہے جبکہ آج 10 اپریل 1973 کو آئین منظور کیا گیا تھا انہوں نے تحرک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر پاکستانی قوم کو مبارکباد دی تھی-

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟