Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی

    آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی

    تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لئے اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف اوربلاول بھٹو آصف زرادری سمیت تمام عیاسی رہنما پارلیمنٹ میں موجود ہیں-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی طرف سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    اجلاس کے شروع میں تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کرائی گئی-

    بعد ازاں اپوزشین لیڈر شہباز شریف نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمان نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے اور آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہم سب اور پوری قوم اللہ تعالیٰ کے ہاں سربسجود ہے، اس کے لیے قوم پوری متحدہ اپوزیشن کی قیادت سلام پیش کرتی ہے جن کی جدوجہد کے نتیجے میں آج قوم کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا پرسوں پاکستان کی تاریخ میں تابناک دن تھا نظریہ ضرورت کا سہارا لیاگیا،عدالت نے اس کو دفن کردیا سپریم کورٹ نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی کام کو کالعدم قرار دیا،آج پارلیمان سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہاہے-

    شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسپیکر یہ کارروائی چلائیں،آج آپ آئین اورقانون کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر کھڑے رہیں،آج پارلیمانی نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے، آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے، آج آئین و قانون و عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے لیے کھڑے ہوجائیں،

    انہوں نے کہا کہ یہ کہنا چاہتا ہوں جو ماضی میں ہوا خدارا آج آپ اسپیکر کا کردار ادا کر کے تاریخ میں نام لکھوا لیں ہمارے سینوں میں بھی پاکستانی دل دھڑکتا ہے-

    شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ اگر آپ سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی، آپ سپریم کورٹ کے حکم کی عدولی کر رہے ہیں –

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزارش کرتا ہوں سپریم کورٹ کا جو حکم ہے اس کے تابع آج ہاؤس کی کارروائی چلائیں، وہ ہوا،شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا پیرا بھی پڑھ کر سنایا-

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کروں گا بیرونی سازش پر بھی آج ایوان میں بات ہونی چاہیئے-

    حکومت کی جانب سے سابق وزیر خارجہ شاہ مھحمود قریشی نے کہا کہ تحریک سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی تسلیم کرتاہوں تحریک عدم اعتماد کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے آئین میں تحریک عدم اعتماد کی گنجائش موجود ہے آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں-

    انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ آئین شکنی سے بھری پڑی ہے 12 اکتوبر 1999 کو آئین شکنی ہوئی جس کی قوم گواہ ہے اور اسی اعلیٰ عدلیہ نے ایک آمر کو آئین میں ترمیم کا اخیار کیا جس کی تاریخ بھی گواہ ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف نے بیانات دیے کہ کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کریں گے، میں خوش ہوں کہ ہماری جمہوریت پروان چڑھی ہے اور کوئی نظریہ ضرورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری کے لیے خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، 3 اپریل کو جو کچھ ہوا اسے دہرانا نہیں چاہتا لیکن عدلیہ نے اس کا نوٹس لیا، اتوار کو دروازے کھولے گئےکارروائی کا آغاز ہوا اور متفقہ طور پر رولنگ کو مسترد کیا –

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کئی سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے متحدہ اپوزیشن عدالت کیوں گئی اورسوموٹو کیوں لیا گیا اس کا پس منظر ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر دوستوں کو اعتراض تھا عدالت نے فیصلہ سنا دیا-

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ازخود نوٹس کیوں لیا گیا؟ اس کا ایک پس منظر ہے، قاسم سوری نے آئینی عمل سے انکار نہیں کیا،ایک نئی صورتحال آئی ہے، بیرون سازش کی بات ہو رہی ہے اس لیے اجلاس کا غیرمعینہ مدت تک ملتوی ہونا ضروری ہے۔

    مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہاں بیرونی سازش ہورہی ہے اس کی تحقیق ہونی چاہیے نیشنل سیکیورٹی کونسل اعلی ٰترین فورم ہے نیشنل سیکیورٹی کونسل میں لیٹر کا بھی ذکر ہوا قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ دیکھ کر اسے سنگین مسئلہ قرار دیا اور پھر دفتر خارجہ امریکی سفیر کو ڈی مارش کرنے کا حکم دیا دفتر خارجہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں احتجاج کیا جائے ہم نے اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں جگہ احتجاج کیا-

    شاہ محمود قریشی نے دھمکی آمیز مراسلے پر بات شروع کی تو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور کہا کہ وزیر خارجہ پھر اس مراسلے سے متعلق بات کر رہے ہیں، آج کے ایجنڈے میں صرف تحریک عدم اعتماد شامل ہے۔

    اپوزیشن کے شور شرابے کے بعد حکومتی بینچز سے بھی نعرے بازی شروع ہو گئی اور اسی دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ موصول ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ڈپٹی سپیکر کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا حکم نامہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو دوبارہ ساڑھے 10 بجے ہو گا اجلاس کا چھ نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے-

    امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کریں گے عوام میں جائیں گے:وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    قومی اسمبلی کے چھ نکاتی ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شامل ہے،آرٹیکل 95 کے تحت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قرارداد پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی ایجنڈے میں وقفہ سوالات، دو توجہ دلاؤ نوٹس اور ایک نکتہ اعتراض شامل ہے۔

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    قومی اسمبلی اجلاس کے اہم سیشن کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے سیل کر دیئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ بند رہے گا جبکہ منحرف اراکین اسمبلی کے لیے اضافی سکیورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ کوکالعدم قرار دیتے ہوئے 9 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

  • وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی اجلاس طلب کیا

    میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حیرت انگیز فیصلہ کیا سپریم کورٹ نے کہا منحرف اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں منحرف اراکین کا کیس تو سپریم کورٹ کےپاس تھا ہی نہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی اب نہیں رہی سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اب پارلیمان کی حاکمیت سپریم کورٹ کو منتقل ہو گئی ہے، ہم فیصلے پر نظرثانی کیلئے بھی جائیں گے،سپیکر کی رولنگ غلط کیسے ہو گئی اسکے تو عدالت کے پاس کوئی شواہد ہی نہیں،آپکے پاس دستاویز ہی نہیں تو کیسے پتہ لگا لیا اسپیکر نے غلط کام کیا سپریم کورٹ اپنا کام کرے پارلیمنٹ اپنا کام کرے گی یہ عمومی تحریک عدم اعتماد نہیں ہے، ہوتا تو ہم اسے ویلکم کرتے، تحریک عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی،کل سازش سے متعلق اصل ریکارڈ ممبران اسمبلی کے سامنے رکھا جائیگا،

    حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے ،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن خود اپنی تحقیقاتی ٹیمیں بنا سکے گا کمیشن تحقیقات کرے گا سازش کہاں سے ہوئی، کابینہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہمیں اپنی جدوجہد 23 مارچ 1940 سے شروع کرنی ہو گی ،ہم کہیں نہیں جا رہے عمران خان وزیر اعظم ہیں اور رہیں گے اچکنیں ٹنگی رہ جائیں گی 90 روز میں الیکشن ہونے چاہئیں ہرطرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہیں،

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

  • پنجاب اسمبلی اجلاس،آج ہو گا یا نہیں؟ کنفیوژن پیدا کر دی گئی

    پنجاب اسمبلی اجلاس،آج ہو گا یا نہیں؟ کنفیوژن پیدا کر دی گئی

    پنجاب اسمبلی اجلاس،آج ہو گا یا نہیں؟ کنفیوژن پیدا کر دی گئی
    نئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا یا نہیں ایک بار پھر کنفیوژن پیدا کر دی گئی ہے

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے آج شام ساڑھے سات بجے اجلاس طلب کر رکھا تھا، لیکن ترجمان پنجاب اسمبلی نے آج ہونے والے اجلاس کی تردید کر دی ہے ، ترجمان کا کہنا ہے کہ ترجمان نے کہا کہ آج طلب کئے جانے والے اجلاس کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا، اجلاس 16 اپریل کو ہی ہو گا۔

    جبکہ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ وکلاء سے مشاورت کے بعد اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شام ساڑھے 7 بجے ہوگا دوست محمد مزاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب بھی آج ہی ہوگا، قائد ایوان کے لیے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز آمنے سامنے ہونگے۔

    گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک ملتوی کرنے کی منظوری دی تھی، ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایوان میں توڑ پھوڑ کے بعد مرمت کیلئے موخر کیا گیا۔پنجاب اسمبلی کے 6 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہونا تھا۔

    مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز نے ردعمل میں کہا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےعدالت میں کل اجلاس بلانےکا کہا مگر خبر آئی پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک موخر کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے 40 ممبران معطل کر کے اپنے نمبرپورے کرنا چاہتے ہیں پنجاب اسمبلی میں توڑپھوڑ کی جلد انکوائری ہو گی

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو شہر سے باہر جانے سے روک دیا گیا حمزہ شہباز نے تمام اراکین کو لاہور نہ چھوڑنے کی ہدایت کر دی،اسمبلی سیکریٹریٹ نے ڈپٹی اسپیکر کے احکامات کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پنجاب میں 200 سے زائد ارکان موجود ہیں ان کے پاس 140 ارکان تھے یہ بہانے سے اجلاس کو معطل کرنا چاہتے ہیں ، ہماری اپنے ارکان کی تعداد 162 ہے پاکستان پیپلزپارٹی ، ترین گروپ اور اسد کھوکھر گروپ کے ارکان بھی ہمارے ساتھ ہیں ترین گروپ نے ہمیں سپورٹ کیا ہم ان کا ووٹ بھی کاسٹ کرائیں گے ہمارے ساتھ 4 آزاد ارکان بھی ہیں

    پنجاب اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 371 ہے جبکہ قائد ایوان منتخب ہونے کیلئے 186اراکین کی حمایت ضروری ہے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 183اورمسلم لیگ (ق)کے 10 ارکان ہے تاہم پی ٹی آئی کے ناراض گروپس کے 24ارکان حکومتی امیدوارکو ووٹ نہیں دیں گے مسلم لیگ (ن)کے165، پیپلزپارٹی کے7، راہ حق پارٹی کا 1 اور 1 آزاد رکن نے اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت کااعلان کیا ہے۔ ترین گروپ کے13ارکان،علیم خان گروپ کے9 ارکان اور سابق صوبائی وزیر سمیت 24ارکان نےبھی اپوزیشن کی حمایت کااعلان کیا ہے جس سے اپوزیشن کے نمبرز 198 تک پہنچ جائیںگے۔

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    عمران خان آپکو شرم تو نہیں آتی،علیم خان پھٹ پڑے، بہت کچھ بتا دیا

  • نئےوزیراعلیٰ کا انتخاب کھٹائی میں پڑگیا،پنجاب اسمبلی کااجلاس 16اپریل تک ملتوی

    نئےوزیراعلیٰ کا انتخاب کھٹائی میں پڑگیا،پنجاب اسمبلی کااجلاس 16اپریل تک ملتوی

    لاہور: نئےوزیراعلیٰ کا انتخاب کھٹائی میں پڑگیا،پنجاب اسمبلی کااجلاس 16اپریل تک ملتوی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کھٹائی میں پڑ گیا ہے، نئے قائد ایوان کیلیے کل ہونیوالا اسمبلی اجلاس 10 روز کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلیے کل بلایا جانیوالا اجلاس 10 روز کیلیے موخر کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اب یہ اجلاس 6 کے بجائے 16 اپریل کو ہوگا۔

    ڈپٹی اسپیکر نے 16 اپریل تک پنجاب اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کی منظوری دیدی ہے۔اس سے قبل 3 اپریل کو اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے باعث پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 اپریل تک ملتوی کیا گیا تھا۔

    ذرائع نے یہ بھی بتایا تھا کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے حکومتی اتحاد 3 آپشنز پر غور کررہی ہے۔
    ذرائع نے بتایا تھا کہ ان آپشنز میں ایک آپشن اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا بھی ہے۔

    وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے پیش نظر تحریک انصاف نے پارٹی ارکان پنجاب اسمبلی کو نوٹس جاری کر دیئے۔ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب میں پارٹی امیدوار چودھری پرویز الہی کو ووٹ دینے کا پابند کر دیا۔ غیر حاضری یا خلاف ووٹ دینے پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کا انتباہ کر دیا۔

    تحریک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی کو نوٹس پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر کی طرف سے جاری کئے گئے۔ جس میں کہا گیا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان نے چودھری پرویز الہی کو وزیراعلی کے لئے امیدوار نامزد کیا ہے، پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی پرویز الہی کو ووٹ دیں۔

  • قوم کوتاریخ کی بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو،مریم نواز

    قوم کوتاریخ کی بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو،مریم نواز

    بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف زرداری ایوان میں پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : اپوزیشن اراکین نے بلاول بھٹو کا ڈیسک بجا کر استقبال کیا سابق صدر آصف زرداری حکومتی بینچز پر گئے زرداری نے حکومتی اراکین سے مصافحہ کیا آصف زرداری اپنی سیٹ سے اٹھ کر شوکت ترین سے ملاقات کیلئے آئے حماد اظہر نے بھی آصف زرداری سے مصافحہ کیا-

    دوسری جانب ایم کیو ایم کے اراکین بھی اپوزیشن بینچز پر موجود ہیں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کی-

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارلیمان پر حملہ کرنا یاد ہے نا؟ آج انشاءاللّہ پارلیمان ہی تمہیں گھر بھیجے گی۔

    ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ قوم کو مہنگائی، نا اہلی، نالائقی اور تاریخ کی ہر لحاظ سے بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو ! اب اچھے دن آئیں گے انشاءاللّہ-


    انہوں نے کہا کہ قوم کوتاریخ کی بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو انہوں نے یوم نجات کے حوالے سے پوسٹر بھی شئیر کیا-


    مسلم لیگ کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس 174ووٹ ہیں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے 84،پیپلزپارٹی کے 56 اورایم ایم اے کے 14 اراکین ہیں ایم کیو ایم کے 6،بی اے پی 4،بی این پی مینگل 4 اور4 آزاد اراکین ہیں،بی این پی اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن بھی متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہے وزیر اعظم شہباز شریف ہوں گے لیکن اگر کوئی غیر آئینی حرکت کی گئی تو اس کے نتائج آئین میں موجود ہیں۔

    قبل ازیں مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ عمران خان اکثریت کھو بیٹھے ہیں عمران خان اب سابق وزیراعظم ہو گئے ہیں اگر استعفیٰ دیں تو عمران خان ایم این اے بھی نہیں رہےگا،عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر چپکے ہوئے ہیں،ہم عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا چاہتے ہیں،شہبازشریف وزیراعظم پاکستان ہوں گے پی ٹی آئی کے مزیدمنحرف ارکان بھی ہمیں ووٹ دیں گے اور آج ہم ان کو سرپرائز دیں گے۔

    تحریک عدم اعتماد،شہبازشریف کی زیر صدارت متحدہ اپوزیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی موجود ہیں اجلاس میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین موجود نہیں مشاورتی اجلاس میں 177 اراکین موجود تھے-

    سابق صدر آصف علی زرداری بھی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قومی اسمبلی پہنچ گئے آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ اجتماعی استعفے دیئے جا رہے ہیں کوئی بحران تو پیدا نہیں ہوگا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ہم سب بحرانوں سے نمٹ لیں گے ان بحرانوں کے سامنے کھڑے ہوں گے-

    شہباز شریف نے کہا کہ صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کہتے ہیں آپ کے ہاتھ میں وزیر اعظم بننے کی لکیر نہیں ہے جس پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی جادو ٹونے کا علم ہوگا مجھے معلوم نہیں مطلوبہ نمبر زسے ہمارے ممبرز کی تعداد زیادہ تھی –

    صحافی نے آصف زرداری سے پوچھا کہ کیا آپ نے ن لیگ کو پھنسا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک تو میں ن لیگ کو جتوا رہا ہوں آپ کہہ رہے کہ پھنسا رہے ہیں-

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ دوبارہ صدارت کے امیدوار ہیں؟ آصف زرداری نے کہا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے آپ بھی صدر بن سکتے ہیں-

    صحافی نے سوال کیا کہ معاشی بحران میں ن لیگ کی حکومت کیسے چلے گی،سابق صدر نے جواب دیا کہ یہ سوچیں آپ کیسے گزارہ کریں گے-

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیشگوئی کی ہے نئے الیکشن ہوسکتے ہیں عمران خان کو گرفتار کیا جاسکتا ہےشیخ رشید نے کہا کہ عمران خان بہت بڑا لیڈر بن چکا ہے وہ عوام میں جائے گا گیم کا فائنل جنرل الیکشن ہے یہ تو سیمی فائنل ہے ایک ہی درمیانی راستہ ہے کہ الیکشن ہو جائے پاکستان کا سب سے مہنگا اینکر بننے جا رہا ہوں-

    متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔

    متحدہ اپوزیشن اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی میدان میں آ گئی اسپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ،ایاز صادق، خورشید شاہ، نوید قمر اور شاہدہ اختر علی کی جانب سے جمع کرائی گئی-

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سرپرائز قرار دے دیا ہے-

    دوسری جانب مرتضیٰ جاوید عباسی کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد تیار ہو رہی ہے اسپیکر کیخلاف تحریک جمع نہ کرواتے تو اپوزیشن کیلئے مسائل پیدا ہو سکتے تھے، تحریک جمع ہونے کے بعد اب اجلاس 7 روز تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا-

    نوید قمرنے کہا کہ اسپیکر کےخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو جائے تو وہ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کرسکتا جب تک اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ نہ ہو جائے اجلاس چلتا رہےگا –

    ادھر وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیےقومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 11 بجے ہو ا وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قائدِ حزب اختلاف، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی عدم اعتماد کی قرار داد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ارکان قومی اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ارکانِ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ سے پیدل پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب روانہ ہو گئے ریاض پیرزادہ ،خالد رند ،اختر مینگل اور ناز بلوچ قومی اسمبلی پہنچ گئے-

    اختر منگل نے اپنے بیان میں کہا کہ امید ہے آج معاملہ حل ہو جائے گا معلوم نہیں عمران خان کیا سرپرائز دیں گے،پی ٹی آئی والے استفیٰ دیتے ہیں تو دے دیں-

    پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیر علی محمد خان کا کہنا ہے کہ آج حق پرستوں اور زر پرستوں کا مقابلہ ہے انشاء اللہ حق کی جیت ہوگی-

    ادھرپی ٹی آئی کے 10سے زائد منحرف ارکان پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے شرجیل میمن کچھ منحرف اراکین کو لے کر پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئےپی ٹی آئی کے منحرف ارکان ریاض مزاری ،نور عالم خان پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں ایک ایم این اے اور ڈرائیور کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے-

    علی وزیر پولیس کسٹڈی میں پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں وزیراعظم کی سیکیورٹی چیمبر کے باہر پہنچ گئی ہے-

    دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے 177 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کر رکھا ہے جبکہ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کو شکست دینے کے لیے نئی حکمت عملی بنائی ہے اور حکومت ارکان کو اجلاس میں جانے کی ہدایت کرتے ہوئے خود بھی اجلاس میں پہنچنے کا اعلان کیا۔

    ترجمان وزیراعظم آفس نے کہا ہے کہ عدم اعتماد سے متعلق ایک میڈیا چینل پر بےبنیاد خبریں چلائی جا رہی ہیں کہ اپوزیشن کے ارکان کو اسمبلی تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی جائے گی وزیراعظم آفس اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے اور ایسی یک طرفہ پروپیگنڈا مہم کی سخت مذمت کرتا ہے، وزیراعظم جمہوری عمل پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی غیر آئینی اقدام کے مخالف ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس صرف قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، کسی بھی پارلیمنٹیرین کو روکنے کی ہدایات نہیں ملیں، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ریڈ زون میں داخلے کی ہدایات نہیں دی گئیں اجلاس کے لیے بھرپور سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں-

    لاہور:پنجاب اسمبلی سیاسی منظر نامہ

    ادھرلاہور میں بھی سیاسی کارکن پنجاب اسمبلی میں پہنچ رہے ہیں، جہانگیر خان ترین گروپ پنجاب اسمبلی پہنچ گیا نعمان لنگڑیال کے مطابق ہمارے گروپ کے 13 ارکان آج حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گےپی ٹی آئی کی اس سے بڑی بدبختی کیا ہو گی کہ اس کا وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہے،تحریک انصاف کو ختم ہو جانا چاہیے-

    پنجاب اسمبلی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے ووٹنگ میں آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا استعفیٰ ایک ہی آئے گا، وہ عمران خان کا ہوگا-

    ترین گروپ کے رہنما علیم خان پنجاب اسمبلی پہنچ گئے انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ گورنر پنجاب کو ہٹانے سے بھی جنہوں نے ہارنا ہے وہ ہار کر رہیں گے-

    سیاسی رہنما عمر ایوب نے کہا کہ ہم مقابلے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں پارٹی کا پرچم پہن کر آیا ہوں لوکل باڈی الیکشن میں کامیابی ہوئی ہے-

    دوسری جانب دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ فساد سے بچنے کیلئے ریڈ زون سیل کردیا گیا،روڈ زون آنے جانے کےلیے صرف مارگلہ روڈ استعمال کیا جاسکتا ہے-

    اسلام آباد سیکورٹی ذرائع کے مطابق اتوارکے روز تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اور پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی چوک میں کارکنوں کی آمد پر سیکورٹی انتظامات کیلئے وفاقی پولیس اور ضلعی انتظامیہ الرٹ کردی گئی ہے۔

    ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کی مذمت کرتے ہیںُ:مریم نواز

    سیکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ کسی جماعت کے سیاسی کارکنوں کو ریڈزون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی انتظامیہ کے مطابق ریڈ زون میں ہر قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی ہے اسلام آباد میں دفعہ 144 کے تحت ڈبل سواری پرپابندی ہوگی جبکہ کل اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جبکہ وزارت داخلہ نے موبائل فون سروس بند کرنے پر بھی غور شروع کردیا ہے اسلام آباد میں ریڈ زون کے ارد گرد پولیس، ایف سی اور رینجرز کے 8 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں فورس کو اینٹی رائٹ کٹس اور آنسو گیس شیلز کی بھاری مقدار میں فراہم کی گئی ہے-

    جبکہ اسلام آباد کی سیکورٹی کیلئے مختلف صوبوں سے مزید فورس منگوائی جائے گی جس میں ایف سی کے 1500 جوان اور افسران شامل ہیں اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے 300 مرد اور 100 خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی بلایا جائے گا-

    نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن ارکان کو پہلے پارلیمنٹ لاجز میں ہی روکا جائے گا تاکہ وہ قومی اسمبلی نہ پہنچ سکیں، جو ارکان قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں، انہیں زدوکوب کیے جانے کا خدشہ ہے تاکہ ووٹنگ نہ ہوسکے جبکہ ووٹنگ سے روکنا سپریم کورٹ کے حکم اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے منصوبے کے شواہد موجود ہیں اور ان افسران کے خلاف مستقبل میں مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جو اس منصوبے پر عمل کریں گے ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں تاخیر کی تجویز کی اسپیکر نے مخالفت کی تھی، انہوں نے کہا کہ اتوار آخری دن ہے، ووٹنگ موخر نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو بتایا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کوئی بین الاقوامی سازش ہے، اگر حکومت کے پاس اس بارے میں شواہد ہیں تو مہربانی کرکے فراہم کردے-

    عشائیہ میں وزیراعظم نےاپوزیشن کو سرپرائزدے دیا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج صبح ساڑھے گیارہ بجے ہوگا، اجلاس کا 6 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہےاجلاس میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ ہوگی وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ایجنڈے میں شامل ہے، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان وزیراعظم عمران خان پر عدم اعتماد کرتا ہے، عمران خان ایوان کا اعتماد کھوچکے وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے وقفہ سوالات قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے-

    پھرنہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا:مریم نواز نے پاکستان میں کچھ کرنے کی دھمکی دے دی

    ن لیگ نے تحریک عدم اعتماد میں 200 سے زائد ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے کےلئے 186ووٹ درکار ہیں جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ نے حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان کیا ہے ادھر پرویز الہیٰ بھی کامیابی کے لئے متحرک ہیں-

    عمران خان وزیراعظم رہیں گے یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا:زرداری شریف اورفضل الرحمن متحرک

  • بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ المبارک دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا۔

    اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی شق 54 (3) اور شق 254 کے تحت تفویض اختیارات کو بروے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہو گا

    قومی اسمبلی کا اجلاس صرف ایک گھنٹہ جاری رہے گا اور پیر تک ملتوی ہو جائے گا۔ 12 بجے جمعہ کا وقفہ ہو گا اور ہفتہ اتوار کو اجلاس نہیں ہوگا

    اسپیکر اسد قیصر نے 25 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی وجہ بتا دی ،اسد قیصر کا کہنا ہے کہ 8 مارچ کو اجلاس طلب کرنے سے متعلق اپوزیشن کی ریکوزیشن وصول ہوئی او آئی سی اجلاس کیلئے قومی اسمبلی ہال استعمال کرنے سے متعلق تحریک21جنوری کو منظور ہوئی، او آئی سی اجلاس کیلئے 22 اور 23 مارچ کو قومی اسمبلی ہال استعمال کیا جائے گا، معلوم ہوا تزئن و آرائش کے باعث سینیٹ ہال بھی میسر نہیں ہے،قومی اسمبلی اجلاس کا انعقاد 24 مارچ تک ممکن نہیں ہے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلیے کوئی جگہ دستیاب نہیں چیرمین سی ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر سے پارلیمنٹ کے باہر اجلاس بلانے کیلئے متبادل جگہ مانگی مگر انہوں نے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں کوئی جگہ ہی دستیاب نہیں۔

    ن لیگی رہنما رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کا 21 مارچ کے بعد انعقاد غیرآئینی اورغیر قانونی ھے آئین کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ جانا ھو گا سلیکٹڈ کے حُکم پرسپیکر آئین اورقانون کوموم کی ناک بنا سکتا ھے نہ من مرضی کی تشریح کرسکتا ھے سیاسی وفاداریوں کی جبری تبدیلی کروانیوالوں نےاقتدارکیلئےآئین و ریاست کو داؤپرلگا دیا

    اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ 25 مارچ کو دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی ریکوزیشن پر طلب کیا اجلاس عدم اعتماد جمع ہونے کے 14 ویں کی بجائے 18 ویں دن طلب کیا گیا آئین کے آرٹیکل 54 (3)میں دن کے اندر کی قید ہے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ اسپیکر اسد قیصر کے آئین کے آرٹیکل 6 تحت کاروائی ہونی چاہئیے تاکہ آئندہ کوئی شخص یہ حرکت نہ کرسکے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مسلسل بے ضمیری کا مظاہرہ کرنے والا اقتدار جاتا دیکھ کربزدلی دکھا رہا ہے،جتنی بڑی بڑی باتیں کیں، اتنے ہی کم ظرف طرز عمل کا مظاہرہ کیا،عوام مہنگائی، بے روزگاری اور ہر محاذ پر ناکامیوں کو نہیں بھول سکتے،تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت کو ایک منٹ مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں،ساڑھے 3سال میں اپنے ہر دعوے پریوٹرن لینے والے کا نام عمران نیازی ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ اسد قیصر نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، نیازی کی وفاداری کا نہیں،آئین اور رولز کے تحت اسپیکر 14 روز میں اسمبلی اجلاس بلانے کا پابند ہے،تحریک عدم اعتماد پر 28 مارچ تک ووٹنگ نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہوگی اسپیکر 7روز میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کروانے کا پابند ہے،آئین کی خلاف ورزی پر اسپیکر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہو سکتی ہے،حکومت او آئی سی کانفرنس کی آڑ میں آئین کی خلاف ورزی سے باز رہے،عمران نیازی اسمبلی میں اکثریت کھونے کے بعد وزیر اعظم کے عہدے پر چمٹا ہوا ہے،عمران نیازی شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ اراکین اسمبلی پر حملے کروا رہا ہے،نیازی حکومت کے غیر قانونی احکامات ماننے والے افسران کے خلاف کارروائی ہوگی

    پاکستان پیپلزپارٹی پرلیمنٹرینز کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری کاکہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو بچانے کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے سے باز رہیں، اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس کو بلانے کے عمل میں تاخیری حربے استعمال کرنے سے گریز کریں،اگر اسپیکر 21 مارچ کو اجلاس طلب کرلیں تو وہ آئین کی بھی خلاف ورزی سے بچ جائیں گے اور اگلے دن تنظیم تعاون اسلامی کا اجلاس بھی بغیر کسی آئینی بحران کے ممکن ہوسکے گا،پاکستان پیپلزپارٹی تنظیم تعاون اسلامی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتی ہے،ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ آئین کی خلاف ورزی بھی نہ ہو اور او آئی سی اجلاس بھی خوش اسلوبی سے ہوجائے،

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 54 کی کلاز 3 کے تحت ایک چوتھائی ارکان ریکوزیشن درخواست جمع کرائیں تو سپیکر اجلاس بلانے کا پابند ہیں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 54 میں لکھا ہے کہ سپیکر صاحب 14 روز سے زائد تاخیر نہیں کرسکتے اپوزیشن نے 8 مارچ کو ریکوزیشن جمع کرائی تھی، اس طرح سے آخری دن 22 مارچ بنتا ہے سپیکر صاحب نے 22 مارچ سے پہلے اجلاس نہ بلایا تو ائین شکنی ہو گی آئین شکنی کے بارے میں آرٹیکل 5 واضح ہے اور آرٹیکل 6 میں سزا لکھی ہے آرٹیکل 95 میں عدم اعتماد کی تحریک کا طریقہ کار واضح ہے آئین سپیکر کو پابند کرتا ہے کہ تحریک جمع ہونے کے بعد کل 7 دن کے اندر اس کارروائی کو مکمل کرے

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تحریک جمع ہونے کے بعد سپیکر 3 دن کے بعد اور 7 دن سے پہلے رائے شماری کرانے کا پابند ہے ایوان کو چلانے کے رول 37 تمام متعلقہ طریقہ کار کی مکمل وضاحت کرتا ہے رول 37 سپیکر کو پابند کرتا ہے کہ وہ اجلاس کے آغاز اور تلاوت کے فوری بعد تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش کرے، اس کے علاوہ وہ کوئی اور کارروائی ایوان میں نہیں کرسکتا تحریک عدم اعتماد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت کے بعد سپیکر صاحب اجلاس ملتوی نہیں کرسکتے آئینی و قانونی شقوں سے روگردانی آئین شکنی ہے جو ملک سے غداری اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہے

    قبل ازیں نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے اسپیکر قومی اسیمبلی سے 21 مارچ کو اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریکیوزیشن کے بعد اسپیکر 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہیں،اپوزیشن کی ریکیوزیشن کی مدت 21 مارچ کو پوری ہو رہی ہے،اجلاس بلانے میں تاخیر آئین کی خلاف ورزی ہے،اسپیکر کے پاس اجلاس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں،اسپیکر اپنی جماعت کی عددی پوزیشن پوری ہونے کے انتظار میں آئین کے خلاف ورزی نہیں کر سکتے، چیئرمین بلاول بھٹو کا اجلاس بلانے اور عدم اعتماد ایجنڈا پے لانے کا مطالبہ جائز اور آئینی ہے، اسپیکر قومی اسیمبلی تحریک انصاف کے کارکن کا کردار ادا کر رہے، ہائوس کے کسٹوڈین کا نہیں،اسپیکر وزیراعظم کو بچانے کے لئے تحریک انصاف کے ٹائیگر فورس کا کردار ادا نہ کریں،وہ آئین کو پامال کرنے کے مجرم ہونگے اور ان پر آرٹیکل 6 لاگو ہوگا،سپریم کورٹ نے بھی حکم دیا ہے کہ عدم اعتماد کا معاملہ آئین کے مطابق ہونا چاہئے،عدم اعتماد کسی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی راستہ ہے، اسپیکر اس کو روکنے کے لئے غیر آئینی اقدامات نا اٹھائے، اسپیکر عمران خان کو بچانے کے لئے آئین شکنی نا کریں،

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

  • وزیراعظم نےسینئر پارٹی رہنماؤں کو کل وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا

    وزیراعظم نےسینئر پارٹی رہنماؤں کو کل وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے ناراض ارکان اور اپوزیشن جماعتوں کی صف بندی کے پیش نظر سینئر پارٹی رہنماؤں کو کل وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عمران خان کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ملکی سیاست میں رونما ہونے والی سیاسی ہلچل کے تناظر میں لیا گیا ہے ایک جانب تحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان نے ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کردیا اور دوسری جانب اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تاریخ پر اتفاق کیا ہے۔

    عدم اعتماد والے شوق پورا کر لیں،وزیراعظم

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے موجودہ صورتحال میں سینئر پارٹی رہنماؤں سے پھر مشاورت کافیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں اپوزیشن کی ممکنہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کی حکمت عملی پربھی غور ہوگا۔

    واضح رہے کہ کل ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس پہلے ہی ملتوی کیا جا چکا ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شاہ محمودقریشی ، اسد عمر، پرویز خٹک، بابر اعوان، گورنر خیبرپختونخوا، گورنر سندھ اورپنجاب نے اجلاس میں شرکت کی تھی اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیاگیا تھا-

    وزیر اعظم کا یورپی یونین کونسل سے یوکرین تنازع پرتشویش کا اظہار

    مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قانونی امور پر بریفنگ دی،وزیراعظم عمران خان اجلاس کے دوران پر اعتماد نظر آئے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چوروں کا ایجنڈا ناکام بنا دیں گے،عدم اعتماد والے شوق پورا کر لیں، ہماری تیاری مکمل ہے،جمہوری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،جن کو مقدمات سے خطرہ ہے وہ لوٹی ہوئی دولت سے انقلاب نہیں لا سکتے وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبہ کا بل قومی اسمبلی لانے کا فیصلہ کیا اورقانونی و پارلیمانی ٹیم سے بل کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کی-

    پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گرا لی

  • روس، یوکرین  تنازع:وزیراعظم کا پاکستان میں متعلقہ اداروں سے رابطہ

    روس، یوکرین تنازع:وزیراعظم کا پاکستان میں متعلقہ اداروں سے رابطہ

    ماسکو: وزیراعظم کی زیرصدارت ماسکو میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں یوکرین روس تنازع سے متعلق بدلتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ماسکو میں موجود پاکستانی وفد اور پاکستان میں متعلقہ اداروں سے مشاورت کی وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ماسکو میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور معید یوسف و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا

    اجلاس میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان پاکستان میں متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

    وزیر اعظم عمران خان اہم دورے پر آج ماسکو میں موجود ہیں جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوگی اور وفود کی سطح پرملاقات ہو گی وزیراعظم عمران خان اسلامک سینٹر ماسکو کا دورہ بھی کریں گے۔ وزیراعظم روسی کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے مصروف دن گزارنے کے بعد آج وطن واپس روانہ ہوں گے۔

    امریکا کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرہ کرنے سے گریز

    قبل ازیں امریکی ترجمان محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ہماری دیرینہ شراکت داری اور تعاون ہے،جمہوری پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کےموجودہ وقت میں دورہ روس پر تبصرہ نہیں کر سکتا تاہم ہر ذمہ دار جمہوری ملک روس کو عدم استحکام پھیلانے والی جنگ سے روکے یوکرین کی صورت حال پر ہر ذمہ دار ملک کو تشویش کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    روس کا یو کرین پر حملہ:اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں

  • وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت انسداد کرونا کے لیے اقدامات  کا اعلی سطح کا اجلاس

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت انسداد کرونا کے لیے اقدامات کا اعلی سطح کا اجلاس

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت انسداد کرونا کے لیے اقدامات کا اعلی سطح کا اجلاس ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم کی زیرصدارت ایک بہت بڑا اجلاس منعقد ہوا ہے اس اجلاس کو ملک میں OMICRON کی لہر کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح اور خطے میں اس کے پھیلاؤ سے بھی آگاہ کیا گیا.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جنوری میں OMICRON کی بلند ترین سطح کے بعد کیسز میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے مگر اب بھی یورپ اور امریکہ میں اس کے کیسز کی تعداد سب سے ذیادہ ہے. خطے میں اس وقت کرونا سے اموات کے حوالے سے بھارت سرِ فہرست ہے جہاں اب بھی کم و بیش ایک ہزار کے قریب لوگ روزانہ کرونا سے جان بحق ہو رہے ہیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں حکومت کے ایس او پیز پر سختی سے عملدارآمد یقینی بنانے کے اقدامات کی بدولت OMICRON کے کیسز میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے. اس کے علاوہ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ OMICRON سے بیمار مریضوں کی انتہائی نگہداشت میں آمد چوتھی لہر کے مقابلے میں 71 فیصد کم ہے. 10 فروری 2022 کے بعد مثبت کیسز کی تعداد میں 6.8 فیصد سے کمی، ہسپتال میں داخلہ اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت میں اضافہ بھی نہیں ہو رہا جو کہ مثبت رجحان ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں کرونا کی نئی لہر سے یومیہ اوسطاً 42 اموات ہو رہی ہیں.

    مزید برآں اجلاس کو کرونا ویکیسن پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ بارہ سال سے ذیادہ عمر کی 15 کروڑ آبادی میں سے اس وقت 9 کروڑ (58 فیصد) افراد کو مکمل طور پر ویکسین لگائی جا چکی ہے جبکہ مارچ 2022 تک یہ تعداد بڑھ کر 11 کروڑ (72 فیصد) ہو جائے گی. اسکے علاوہ 11 کروڑ 50 لاکھ (72 فیصد) لوگوں کو ایک ڈوز لگ چکی ہے جو مارچ 2022 تک بڑھ کر 13 کروڑ (85 فیصد) ہو جائے گی.

    ملک میں ویکسینیشن کے ہر پاکستانی محفوظ فیز ون کیلئے اس وقت 61 ہزار 329 ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور یومیہ 22 لاکھ ویکسین کی ڈوز لگائی جا رہی ہیں. ویکیسنیشن کا فیز ٹو 7 مارچ 2022 سے شروع ہوگا. 12 سال سے 17 سال کے 59 فیصد طلباء کو مکمل ویکسین لگائی جا چکی ہے اور 18 سال سے زائد 34 لاکھ افراد کو بوسٹر ڈوز بھی لگائی جا چکی ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں مکمل آبادی کو ویکسین لگانے کیلئے سٹاک موجود ہے.

    صوبائی سطح پر ویکسینین کی رفتار کے حوالے سے پنجاب اول نمبر پر ہے جبکہ اسکے بعد سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر علاقے آتے ہیں. اجلاس کو ویکسینیشن کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل اور کرونا وباء کے دواران فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی پزیرائے کیلئے بھی تجاویز پیش کی گئیں.

    وزیرِ اعظم نے NCOC اور وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ویکسینیشن کو مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاونینِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر شہباز گِل، میجز جنرل ظفر اقبال، کمانڈر NCOC, میجر جنرل آصف گورایا ڈی جی آپس NCOC, اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

  • کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟  وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے سوال

    اسلام آباد: سانحہ مری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزرا ضلعی انتظامیہ کے حق میں بول پڑے ہیں –

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں سانحہ مری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کے دوران بتایا گیا کہ ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں مارا گیا

    وزیراعظم نے منعقدہ اجلاس میں استفسار کیا کہ کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ جس کے جواب میں وفاقی وزرا نے مری انتظامیہ کی حمایت کی ر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ صورتحال کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر تھے، اس لیے رینجرز کو طلب کرنا پڑا جبکہ شام پانچ 5 ہی مری جانے والے راستے بند کردیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت بحال کر دی

    وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ دور میں سیاحت ایک نئی حقیقت ہے ان کا کہنا تھا کہ سیاحت بڑھ گئی ہے لیکن انفراسٹرکچر کئی دہائیاں پیچھے ہے نئےہوٹلز کی تعمیرکے ساتھ پرانے اسٹرکچر کو بہتر کرنا لازمی ہے بڑھتے ہوئے سیاحوں کو معیاری رہائش کی فراہمی ایک چیلنج ہے۔

    علاوہ ازیں اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ریسکیو آپریشن میں سول اداروں اورفوج کی کاوش کی بھی تعریف کی۔

    کورونا وبا کے دوران خدمات سرانجام دینےوالے ورکرزمیں تعریفی اسناد اور شیلڈزتقسیم

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ سانحہ مری حادثہ نہیں مجرمانہ غفلت ہے شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ مری پر پوری قوم افسردہ اور غم میں مبتلا ہے۔

    انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ اس سے بڑھ کر انتظامیہ کی غفلت اور کیا ہو سکتی ہے؟اس سانحے کا پورا احتساب ہونا چاہیے۔

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے