Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ہماری  عسکری کارروائیوں کو روکنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا،ایرانی وزیر خارجہ

    ہماری عسکری کارروائیوں کو روکنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا،ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے عسکری کارروائی کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی غیر قانونی جارحیت کو روکتا ہے، تو ایران بھی مزید جوابی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    انہوں نے واضح کیا جیسا کہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا، نہ کہ ایران نے،اسرائیل کو تہران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے تک اپنے حملے روکنے چاہیے تھے جو اب گزر چکا ہے،فی الحال کسی جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے، تاہم، اگر اسرائیلی حکومت ایرانی عوام پر اپنی غیر قانونی جارحیت کو 4 بجے تک روک دیتی ہے، تو ہمارا بھی مزید جواب دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ہماری عسکری کارروائیوں کو روکنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    https://x.com/araghchi/status/1937311435882922420

    دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کبھی بھی دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتی اور اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

    سوشل میڈیا پر سائٹ ایکس جاری اپنے ایک بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ جو لوگ ایرانی عوام اور ان کی تاریخ سے واقف ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قوم ایسی نہیں جو کسی بھی حالت میں ہتھیار ڈال دے ایران نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، لیکن وہ جارحیت کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

    https://x.com/khamenei_ir/status/1937255046372295137

    سپریم لیڈر کے اس بیان کو موجودہ صورتحال میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت پیغام تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب ایران کی جوابی کارروائیوں اور مزاحمتی محاذ کے بیانات میں شدت آ رہی ہے،قبل ازیں، حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بھی کہا تھا کہ ایران امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف فاتح بن کر ابھرے گا۔

  • ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا،نیتن یاہو

    ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا،نیتن یاہو

    ایران کےجوہری تنصیبات پر امریکی حملےکے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل سے مکمل رابطےکے ساتھ کیےگئے،ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا-

    اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا ایران کاجوہری پروگرام اسرائیل کے وجود کےلیےخطرہ تھا اور اس سے ایرانی جوہری پروگرام سےدنیا کے امن کوخطرہ لاحق تھا،صدر ٹرمپ نے آپریشن مکمل ہونےکےفوری بعد مجھے کال کی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا، ایران خطے میں دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے،امریکا نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرکے نا صرف اپنے اتحادیوں بلکہ پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے اسرائیلی وزیر اعظم نےصدر ٹرمپ کو اسرائیل کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایران کے خلاف مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

    ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ آج رات جو امریکا اور صدر ٹرمپ نے غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کیا، امریکا واقعی بے مثال ہےتاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں سے محروم رکھنے کے لیے اقدام کیا،ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت تاریخ کا ایک نیا رخ متعین کر رہی ہے، جو مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے امن و خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مبارک ہو صدر ٹرمپ، ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا آپ کا جراتمندانہ فیصلہ تاریخ کو بدل دے گا،صدر ٹرمپ اور میں اکثر کہتے ہیں ’طاقت کے ذریعے امن‘، پہلے طاقت آتی ہے اور پھر امن جب کہ آج رات، صدر ٹرمپ اور امریکا نے زبردست طاقت کے ساتھ عمل کیا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کی رات 2:30 بجے امریکا نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

  • ایرانی میزائل حملے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے

    ایرانی میزائل حملے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے

    ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر جوابی میزائل حملہ کردیا-

    برطانوی خبر رساں اداے روئٹرز کے مطابق ایران نے امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں-

    https://x.com/TehranTimes79/status/1936655853966234031

    الجزیرہ کے مطابق اردن کے محکمہ عوامی تحفظ کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں فضائی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجا دیے گئے ہیں۔

    https://x.com/TehranTimes79/status/1936654436396597505

    اسرائیلی فوج نے ایران سے بھیجے گئے 2 ڈرونز گرانے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مشرق کی جانب سے چھوڑے گئے ڈرونز کو اردن کی سرحد کے قریب روک لیا گیا ہے۔

    https://x.com/TehranTimes79/status/1936653512441467058

    اسرائیل کی ایئرپورٹس اتھارٹی نے حالیہ پیش رفت کے پیش نظر فضائی حدود کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کردیا اسرائیلی اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’موجودہ حالات کے سبب اسرائیل کی فضائی حدود میں آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم مصر اور اردن کے ساتھ زمینی سرحدی گزرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

  • اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    ایران نے چابہار کے قریب بڑی انٹیلی جنس کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ 141 ایجنٹس گرفتار کر لیے ہیں، جن میں 121 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

    اس پیش رفت نے بھارت کے مبینہ خفیہ کردار کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے مطابق یہ افراد ایران کے حساس علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ دورانِ تفتیش ان کے قبضے سے خفیہ دستاویزات، انکرپٹڈ کمیونیکیشن ڈیوائسز، سیٹلائٹ فونز اور حساس ساز و سامان برآمد ہوا ہے، جو ان کے جاسوسی نیٹ ورک کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے۔

    بھارتی تعلق اور علیحدگی پسند روابط
    تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچستان یوتھ کنکشن (BYC) جیسے علیحدگی پسند گروپوں سے بھی ہے۔ ان روابط سے ایران اور پاکستان دونوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کا سراغ ملا ہے۔ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار بھارتی شہری اسرائیلی موساد کے براہِ راست احکامات پر کام کر رہے تھے۔ اس خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے ایران کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور تجارتی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    خفیہ منصوبہ "پروجیکٹ گڈون-عشا”
    ایرانی حکام نے "پروجیکٹ گڈون-عشا” کے نام سے موسوم خفیہ منصوبے کی سلائیڈز برآمد کی ہیں، جن کے مطابق بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کی مشترکہ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس منصوبے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) کے براہِ راست ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن میں منی لانڈرنگ، اسلحے کی ترسیل اور ڈیجیٹل پروپیگنڈہ شامل ہیں۔

    مالی معاونت اور شیل کمپنیاں
    ایرانی رپورٹس کے مطابق بھارت ایران کے ساتھ بظاہر تجارتی شراکت داری کا دکھاوا کر رہا تھا، جب کہ ممبئی میں رجسٹرڈ شیل کمپنیوں کے ذریعے ایران مخالف گروہوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ بھارتی شہری راجیش سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے 32 لاکھ ڈالر ایسے عناصر کو منتقل کیے، جو ایران اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایرانی تجزیہ کاروں کا ردعمل
    ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت درحقیقت مغربی اور صیہونی ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے ساتھ شراکت دار بن چکا ہے۔ وہ اسٹریٹجک خودمختاری کے پردے میں طویل مدتی سازشوں کا حصہ ہے، جس میں انسانی حقوق کی آڑ میں تخریب کاری، باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی اور پروپیگنڈہ مہمات شامل ہیں۔

    یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بھارت کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے اور تہران، اسلام آباد سمیت پورے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

  • ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے جرمن اخبار بِلڈ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’ہم جو اندازہ لگا رہے ہیں، اس کے مطابق ہم نے پہلے ہی کم از کم دو یا تین سال کے لیے ان کے پاس جوہری بم کے امکان میں تاخیر کر دی ہے،سرائیل کا ایک ہفتہ طویل حملہ جاری رہے گا، ہم اس خطرے کو دور کرنے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے، جو ہم وہاں کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے والا وہ واحد ملک ہے جس نے 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کرلی ہے تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس کے پاس جوہری وار ہیڈ بنانے کے لیے تمام اجزا موجود ہیں، آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ’یہ کہنا ’سراسر قیاس آرائیاں‘ ہیں کہ ایران کو ہتھیار تیار کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔

    ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے خلاف اقوام متحدہ میں شکایت درج کرا دی ہے ایران کی جانب سے سیکرٹری جنرل اور سیکیورٹی کونسل کے صدر کو گروسی کیخلاف شکایت درج کرائی گئی، ایرانی مندوب نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مؤقف پر گروسی کی خاموشی پر اعتراض اٹھایا، انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے بھی گروسی کیخلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی نیوکلیئر تنصیب اراک پر حملے کا عالمی ادارے نے مؤثر ردعمل نہیں دیا ہے،جس پر سربراہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی گروسی نے کہا کہ ایجنسی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہی ہے، انسپکٹرز ایران میں موجود ہیں، جب ممکن ہوا نیوکلیئر تنصیبات کا دورہ کریں گے۔

    ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان

  • غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری، 60  فلسطینی شہید

    غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری، 60 فلسطینی شہید

    اسرائیلی افواج کی بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں92 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    اسرائیلی افواج کی جانب سے جمعہ کو مختلف مقامات پر کی گئی فضائی بمباری اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 60 افراد شہید ہوگئے، جن میں 31 افراد وہ تھے جو خوراک اور امدادی سامان کےلیے قطاروں میں کھڑے تھے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل کے مطابق، جنوبی غزہ میں پانچ افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امدادی سامان کے انتظار میں کھڑے تھے، جبکہ مزید 26 فلسطینیوں کو وسطی علاقے نیٹساریم کاریڈور کے قریب نشانہ بنایا گیا یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد خوراک کی تلاش میں پہنچتے ہیں۔

    موسیقی محبت اور امن کے پیغام کو سرحدوں کے پار پہنچاتی ہے، مریم نواز

    اسرائیلی فوج نے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’’مشکوک افراد‘‘ کے قریب آنے پر پہلے وارننگ فائر کیا گیا، مگر جب وہ نہ رکے تو فضائی حملے کے ذریعے انہیں ہدف بنایا گیا۔

    یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا کی حمایت سے قائم کردہ ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت امدادی مراکز کھولے گئے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ اور بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اس فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ ادارہ اسرائیلی فوجی مقاصد کے تابع ہے۔

    اسرائیلی فوجی طیاروں نے غزہ میں رہائشی عمارتوں پر بمباری کی دوسری جانب شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ البلد میں شدید فضائی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں مزید 31فلسطینی شہید ہوگئے،اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے غزہ کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ائیر شو کے دورے پر فرانسیسی وزیر اعظم رافیل طیارے میں پھنس گئے

    اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے پیاس اور بھوک کے باعث بچوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے، یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق غزہ میں صرف 40 فیصد صاف پانی فراہم کرنے والے پلانٹس کام کر رہے ہیں، اور غذائی قلت کے باعث چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں شدید کمزوری کے کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے انہوں نے خود ایسی ماؤں اور بچوں کو دیکھا جو خوراک کے حصول کی کوشش میں زخمی ہوئے، ان میں ایک بچہ بھی شامل تھا جو ٹینک شیلنگ کا نشانہ بن کر دم توڑ گیا۔

    محرم الحرام میں پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ

  • اسرائیلی فضائی دفاعی نظام چند ہفتے میں غیر موثر ہونے کا امکان

    اسرائیلی فضائی دفاعی نظام چند ہفتے میں غیر موثر ہونے کا امکان

    ایرانی میزائل اور ڈرون گرانے کے لیے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام چند ہفتے میں غیر موثر ہونے کا امکان ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں ڈرون اور میزائل مار گرانے کے لیے انٹرسیپٹر کم ہونے لگے،امریکہ اسرائیلی فضائی دفاع کی معاونت کی کوشش کر رہا ہے،دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ملٹری کی تردید کے باوجود وال سٹریٹ جرنل کی ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے ممکنہ امداد کی رپورٹ ہے-

    وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائل انٹرسیپٹرز کم ہو رہے ہیں، امریکہ اسرائیل کے دفاع کو بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اسرائیل کو امریکہ کا تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم دوبارہ فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر سسٹم سے لیس چوتھا ڈسٹرائر بھی خطے میں بھیجا جا سکتا ہے، اگر تنازعہ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہا تو اسرائیل کے پاس انٹرسیپٹر کی کمی ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں آپریشن ’وعدہ صادق تھری‘ بھرپور طریقے سے جاری ہے اور تہران نے تل بیب سمیت اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائلوں کی برسات کا اٹھارہواں مرحلہ مکمل کرلیا۔

    خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے نئی کارروائیوں میں صہیونی فوجی مراکز، دو فضائی اڈے، دفاعی صنعتیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے "روئٹرز” کے مطابق اسرائیل میں رات کو لگ بھگ 2:30 بجے (پاکستان میں 4:30 بجے) صہیونی فوج نے ایران کی طرف سے آنے والے میزائلوں کے بارے میں اپنے عوام کو خبردار کیا اور وسطی اسرائیل کے کچھ حصوں بشمول تل ابیب کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں بھی فضائی حملے کے سائرن بجنے لگے۔

    ایران سے فائر کیے گئے میزائل وسطی اسرائیل کے علاقے ڈین گش میں بھی گرےصہیونی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے تل ابیب کی طرف آنے والے تمام میزائلز کو ہوا میں ناکام بنا دیا۔

    ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ ایران نے پانچ بیلسٹک میزائل داغے اور میزائل کے اثرات کے فوری طور پر کوئی اشارے نہیں ملے، تاہم اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم نے کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے نئے حملے وسطی اسرائیل میں ایک عمارت کی چھت پر آگ لگنے کی اطلاع ملی۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے جو اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا اور جس سے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں کئی کمیونٹیز میں سائرن بج رہے تھےڈرون ایک غیر آبادی والے علاقے میں گر کر تباہ ہوا اور اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

  • اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیں گے،ایرانی صدر

    اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیں گے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا –

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک پیغام میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ سے امن اور سکون کے خواہاں رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں دشمن کی جارحیت کا غیر مشروط خاتمہ اور صہیونی دہشتگردوں کی مہم جوئی کے خاتمے کی یقینی ضمانت اس مسلط کردہ جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہےانہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا جس سے حملہ آور کو اپنے اقدام پر پچھتانا پڑے گا۔

    واضح رہے کہ 13 جون کو صہیونی حکومت نے ایران کے خلاف بلاجواز جنگ چھیڑی، جس میں ایران کے جوہری، عسکری اور رہائشی مراکز پر فضائی حملے کیے گئے، ان حملوں میں درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈر، جوہری سائنسدان اور عام شہری شہید ہوئےان حملوں کے بعد ایرانی افواج نے فوری طور پر جوابی کارروائی شروع کر دی، پاسداران انقلاط کی ایرو اسپیس فورس نے ’وعدہ صادق سوم‘ کے تحت 20 جون تک صہیونی حکومت پر 16 مرحلوں میں جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔

  • اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اسرائیلی عوام کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل کی جارہی ہے-

    اسرائیلی فوج اور حکومت کی جانب سے اگرچہ مسلسل برتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، خاص طور پر فضائیہ کی جانب سے، جو ایرانی فضائی حدود میں باآسانی میزائل داغنے اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن عوامی سطح پر ایک اور قسم کی بحث جاری ہے خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے براہ راست ایران پر حملہ نہ کیا، تو یہ جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو نہ صرف مہنگی بلکہ ناقابل برداشت بھی ہو گی۔

    اس خدشے کا اندازہ تل ابیب کی سڑکوں پر لگے ان بل بورڈز سے بھی ہوتا ہے، جن میں امریکی صدر سے صاف الفاظ میں مطالبہ کیا جا رہا ہے: “Finish the Job” – کام مل کرو، یعنی ایران پر فیصلہ کن حملہ کریں تاکہ جنگ جلد ختم ہو۔

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس جنگ کے دورانیے پر کوئی واضح بات نہیں کی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کئی ہفتے یا مہینے تک بھی جاری رہ سکتی ہے، جو اسرائیل کے لیے سیاسی، عسکری اور معاشی طور پر شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے-

  • ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا کہا کہ ،اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے،تاہم ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا –

    وزیرخارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کسی سے بھی خصوصاً امریکا سے اس معاملے پر مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں،اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف اسرائیلی جرائم میں شراکت دار ہے، موجودہ حالات میں، اور جب تک صیہونی حکومت کے حملے جاری ہیں ہم کسی سے خصوصاً امریکا سے اس معاملے پر مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، ہم نے ان پر واضح کردیا ہے کہ جب تک جارحیت اور حملے جاری رہیں گے، بات چیت یا سفارتکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت حالتِ دفاع میں ہیں، یہ دفاع نہ رکے گا اور نہ روکا جا سکتا ہے، ایران کبھی بھی سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتا جوکہ اسرائیلی کارروائیوں کے برعکس ہے جن میں دانستہ طور پر غزہ میں اسپتالوں پر حملہ کیا گیا۔

    عراقچی سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی ملاقات فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ہونی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی حل تلاش کرنا ہے یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب اسرائیل نے پچھلے ہفتے ایران پر شدید حملے شروع کیے، اور یہ یورپی ممالک کی پہلی بڑی سفارتی کوشش ہے کہ صورتحال کو پرامن انداز میں کنٹرول کیا جائے۔

    برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی، جو اس مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے، انہوں نے کہا کہ "آنے والے دو ہفتوں میں ایک سفارتی حل کا موقع موجود ہے”، یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے بعد کہی۔