Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی وزیراعظم کا اہداف کے حصول تک ایران پر  حملے جاری رکھنے کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم کا اہداف کے حصول تک ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اہداف کے حصول تک حملے جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

    اسرائیل نے خطے کا امن غارت کردیا، عالمی قوانین پامال کر دیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قوم سے خطاب میں ایران پر حملے اور آپریشن رائزنگ لاین کا اعلان کیا، کہا کہ حملوں میں ایرانی ایٹمی تنصیبات، بلیسٹک میزائل پروگرام اور ایرانی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا-

    اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کے درجنوں ریڈار تباہ کر دیئے ہیں، حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے، جارحیت سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے دیوار گریہ پر حاضری دی، مذہبی رسم کے طور پر دیوار گریہ میں نوٹ بھی لکھ کر رکھا حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم خود بھی محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے، عوام کو بھی بنکروں میں رہنے کی ہدایت دے دی امریکی سفارتی عملہ بھی بنکرز میں منتقل ہوگیا۔

    لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کہتے ہیں حملہ ناگزیر تھااسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ائیرپورٹس بند کردیے گئے ہیں، ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کرلیا گیا ایران پر حملے سے قبل اسرائیل بھر میں سائرن بجائے گئے خوفزدہ اسرائیلی شہریوں نے کھانے پینے کی اشیا جمع کرنا شروع کر دیں۔

    اسرائیلی حملے سے قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیاں سامنے آگئیں،ویڈیوز

  • اسرائیلی حملہ، ایران میں انتقام کی علامت ’سرخ پرچم‘ لہرا دیا گیا

    اسرائیلی حملہ، ایران میں انتقام کی علامت ’سرخ پرچم‘ لہرا دیا گیا

    اسرائیل کی جانب سے حملے کے بعد ایران کے شہر قُم میں انتقام کی علامت سرخ پرچم لہرا دیاگیا۔

    اسرائیل نے رات گئے ایران پر حملہ کیا اور کئی مقامات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایرانی کی اعلیٰ عسکری قیادت اور متعدد سائنسدان شہید ہوگئے اسرائیل نے ایران کی نطنز جوہری تنصیب کو بھی نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی حملے کے انتقام کی علامت سرخ پرچم لہرا دیاگیا ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے مذہبی اہمیت کے حامل اہم شہر قُم کی مسجد جُمکران میں ایرانی روایات کے مطابق انتقام کی علامت سرخ پرچم بھی لہرادیا گیا۔

    https://x.com/IranObserver0/status/1933437807516922214

    واضح رہے کہ 2020 میں عراق میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں شہادت اور حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت کے بعد سرخ پرچم لہرایا گیا تھا۔

    سیالکوٹ: AEOs کی انسپکشن ڈیجیٹلائز، رئیل ٹائم رپورٹنگ کا نظام متعارف

    پاکستان کا اپنے شہریوں کو ایران،عراق کا سفر نہ کرنے کا مشورہ

    اسرائیلی حملہ علاقائی امن کے خلاف اعلانِ جنگ ہے،خالد مسعود سندھو

  • اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کرسکتا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے، اور اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے مشر ق وسطیٰ سے اپنے سفارتی مشنز کے عملے میں کمی کرنا شروع کر دی ہے، بحرین، کویت کے بعد عراق سے بھی کچھ عملے کے انخلا کی اجازت دے دی گئی ہے ، جب کہ پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں سے فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کے انخلا کی منظوری دے دی ہے۔

    سیکیورٹی کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا پس منظر یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کو کم ہوتا دیکھ رہے ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی جاتیں، اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تباہ کن فوجی تصادم کو روکا جا سکتا۔

    ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ میں اب اس معاہدے کے بارے میں اتنا پُرامید نہیں ہوں، جتنا کچھ مہینے پہلے تھا، ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے، لیکن میں معاہدے کے ہونے کے بارے میں بہت کم پُرامید ہوں۔

    حالیہ مہینوں میں، امریکی انٹیلی جنس حکام کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کی منظوری کے بغیر حملہ کر سکتا ہے، ایسا اقدام نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی نازک جوہری سفارت کاری کو سبوتاژ کر دے گا، بلکہ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو بھی جنم دے گا۔

    تہران طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسرائیل کے سب سے بڑے فوجی اور سیاسی حامی کے طور پر امریکا کو ایران پر کسی بھی اسرائیلی حملے کی صورت میں نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    علاوہ ازیں ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی تنازعہ چھڑتا ہے تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گاایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی اور مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے نقصانات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے ۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ان تمام سفارت خانوں کو (جو ایرانی مفادات کی زد میں آ سکتے ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے مشن شامل ہیں ) ہدایت دی ہے کہ وہ ایمرجنسی ایکشن کمیٹیاں قائم کریں، اور واشنگٹن کو حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹیں بھیجیں، اسی عمل کے نتیجے میں بدھ کے روز وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عراق سے غیر ضروری عملے کے انخلا کی اجازت دی تھی۔

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنی سفارت خانوں کی افرادی قوت کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، ہماری تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کا دائرہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری جانب ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے ٓپریشنز کے لیے غیر ضروری عملے اور فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکیوں کو گھر اور بیرون ملک دونوں جگہ محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، اسی عزم کے تحت ہم مسلسل اپنے سفارت خانوں میں مناسب عملے کی تعیناتی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کی موجودگی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ کچھ امریکی اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے نکالا جا رہا ہے، کیوں کہ یہ ایک خطرناک جگہ ہو سکتی ہے،واشنگٹن میں کینیڈی سینٹر میں ’Les Miserables‘ دیکھنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ہم نے اطلاع دے دی ہے، ایران کے پاس جوہری ہتھیا ر نہیں ہونے چاہئیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور کویت سے بھی غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دی ہے، جس سے انہیں ملک چھوڑنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ، ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات سے فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ روانگی کی منظوری دے دی ہے، ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ زیادہ تر ان خاندانوں کے لیے اہم ہے، جو بحرین میں مقیم ہیں، کیوں کہ وہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    2 امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ کشیدگی کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا (جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتے ہیں) نے جمعرات کو امریکی قانون سازوں کے سامنے اپنی پیشی ملتوی کر دی۔

    جنرل مائیکل کوریلا کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا،یہ مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں امریکا کی طرف سے عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں ہو رہے ہیں، ایران اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

    مذاکرات کے چھٹے دور کا عارضی طور پر اس ہفتے کے آخر میں عمان میں طے تھا، تاہم اس حوالے سے واقف امریکی اہلکاروں نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات کے انعقاد کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں، ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بعد میں بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، اور حالیہ امریکی جوہری معاہدے کی تجویز پر ایران کے جواب پر بات کریں گے،صدر ٹرمپ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔

  • غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،مزید 42 فلسطینی شہید

    غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،مزید 42 فلسطینی شہید

    غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری جاری رہی ، فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 42 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ 11 افراد شمالی علاقے جبالیا پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے غزہ کے علاقے خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوجی دھماکہ خیز مواد اور سرنگوں کا پتہ لگانے کے لیے ایک عمارت میں داخل ہوئے تھے جہاں پہلے سے نصب بارودی مواد پھٹنے سے عمارت اسرائیلی فوجیوں پر آ گری، ادھر امریکی حمایت یافتہ تنظیم نے غزہ پٹی میں تمام امدادی مراکز ایک روز سے زائد بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، فلسطینی حکام کے مطابق تنظیم کے امدادی مرکز پر اب تک اسرائیلی حملوں میں امداد کے منتظر 110 فلسطینی شہید ہوئے۔

    غزہ میں جاری جنگ کے باعث اب تک 54,418 فلسطینی شہید اور 124,190 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں نسل کشی کا مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید اور سفارتی سبکی کے بعدمودی کو جی 7 اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشین ہم منصب کو ٹیلی فون، پاک بھارت کشیدگی پر حمایت کا شکریہ

    بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید اور سفارتی سبکی کے بعدمودی کو جی 7 اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا

  • اسرائیل: ریستوران میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک،22 سالہ مشتبہ نوجوان گرفتار

    اسرائیل: ریستوران میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک،22 سالہ مشتبہ نوجوان گرفتار

    یروشلم :اسرائیل کے علاقے کفر قاسم ایک ریسٹورینٹ میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ریسٹورینٹ میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت 28 سالہ عدی شعبان اور 29 سالہ سعید شعبان کے ناموں سے ہوئی ہے۔جاں بحق ہونے والوں کا تعلق شہر لد سے تھا جن میں عدی کی منگنی آ جاتوار کو ہونا تھی جب کہ سعید دو بچوں کا باپ ہے۔

    عدی شعبان معروف ٹیکسی ڈرائیور امین شعبان کا بیٹا تھا جو 2016 میں تل ابیب میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے میں مارے گئے تھے، پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے مشتبہ ملزم 22 سالہ نوجوان کا تعلق رملہ شہر سے ہے واقعہ خاندانی رنجش کا لگتا ہے اس واقعے کے بعد رواں برس اسرائیل میں آباد عرب برادری میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 100 تک جا پہنچی۔

    سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیئے گئے

    ادھر نیشنل سیکیورٹی کے وزیر ایتمار بن گویر پر ملک کے عرب علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، ان کے دور وزارت کے پہلے سال 2023 میں عرب برادری میں قتل کی شرح تاریخی سطح پر پہنچ گئی تھی جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا دو گنا تھی۔

    سکھ تنظیموں کا مودی کو جی 7 اجلاس میں مدعو نہ کرنے کا مطالبہ

  • اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد حصے پر قبضہ،  مزید 30 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد حصے پر قبضہ، مزید 30 فلسطینی شہید

    اسرائیل نے غزہ پٹی کے 77 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا، بمباری سے مزید 30 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    غزہ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے 77 فیصد علاقے پر قبضہ کر چکی ہے، یہ قبضہ براہ راست زمینی دراندازی کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں، علاقوں، زمینوں اور املاک تک رسائی سے روک کر کیا گیا ہے،جس کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہونے لگی۔

    غزہ کے پناہ گزین اسکول پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 25 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں حلال احمر کے دو کارکن ، ایک صحافی اور 11 سالہ انفلوئنسر سمیت متعدد بچے شہدا میں شامل ہیں،صحافی ابو وردہ کی شہادت کے بعد شہید فلسطینی صحافیوں کی تعداد 220 ہو گئی۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے پناہ گزین کیمپوں اور خیمہ بستی کو نقصان پہنچایا شہدا کی مجموعی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کر گئی غزہ کے حکام نے عالمی برادری سے اسرائیلی جنگی جرائم رکوانے کا فوری مطالبہ کیا ہے۔

    دوسری جانب کونسل آ ف امریکن اسلامک ریلیشنز نے غزہ میں صحافی اور اہلِ خانہ کی شہادت کی مذم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اورعالمی میڈیا اسرائیل کے ہاتھوں قتل پر خاموش ہے۔

    ادھر یمن کے حوثیوں نے ایک بار پھر اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کیا جس پر اسرائیلی فوج نے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کردیا۔

  • برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل معطل کر دی

    برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل معطل کر دی

    برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ نئی فری ٹریڈ ڈیل کو معطل کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو اس فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہے۔

    گیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ غزہ میں لاکھوں شہری قحط کے خطرے سے دوچار ہیں، جو ایک افسوسناک اور ناقابل قبول صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں 11 ہفتوں سے انسانی امداد کی ناکہ بندی ایک ظالمانہ اقدام ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر امداد کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کریں۔ لیمی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد روکنا اور عالمی شراکت داروں کے تحفظات کو نظرانداز کرنا ناقابل دفاع ہے۔

    یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا پہلے ہی اسرائیل کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہیں، تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق

  • اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرلےگی،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرلےگی،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرلےگی۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کے ٖفضائی حملے اور زمینی آپریشن جاری ہے اور ایسے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرلےگی، غزہ میں لڑائی شدید ہے، ہم پیشرفت کر رہے ہیں اور ہم غزہ پٹی کے تمام علاقے کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔

    دوسری جانب خلیجی میڈیا کا بتانا ہےکہ اسرائیلی فورسز نے ایک گھنٹے کے دوران غزہ میں 30 فضائی حملے کیے ہیں جن میں صبح سے 32 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جب کہ اسرائیلی فوج نے شہریوں کو خان یونس سے بھی انخلا کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی بورڈ کی ایشیا کپ سے دستبرداری کی خبروں کی تردید

    واضح رہے کہ نیتن یاہو سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے بھی غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالنے اور فلسطینیوں کو کسی اور جگہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر عالمی دباؤ کی وجہ سے وہ بعد ازاں اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

    اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بتسلئیل سموتریچ نے پیر کے روز ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کو صرف "کم سے کم خوراک اور دوا” فراہم کی جائے گی، اور یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ "حماس تک ان میں سے کچھ نہیں پہنچے گا”ہم گذشتہ ڈیڑھ سال سے غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں اور اُسے ملبے کا ڈھیر بنا دیں گے۔ فوج ایک پتھر بھی اپنی جگہ پر نہیں چھوڑے گی، سموٹریچ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "غزہ کے شہریوں کو جنوبی حصے میں دھکیلا جائے گا اور وہاں سے وہ تیسرے ممالک منتقل ہوں گے۔

    سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس اعجازسواتی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر

    اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ پر اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں، جو ایک عارضی جنگ بندی کے بعد روکی گئی تھیں یہ جنگ بندی مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی سے طے پائی تھی، تاہم مذاکرات کے اگلے مرحلے میں تعطل کے بعد اسرائیل نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیں۔

  • غزہ : اسرائیلی فوج کی بمباری سے یحییٰ السنوار کے بھائی شہید

    غزہ : اسرائیلی فوج کی بمباری سے یحییٰ السنوار کے بھائی شہید

    اسرائیلی فوج کی غزہ میں بمباری سے حماس کے شہید رہنما یحییٰ السنوار کے بھائی سمیت 144 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرئیلی فوج نے خان یونس پر بم برسائے ، جس میں یحییٰ سنوار کا دوسرا بھائی بھی شہید ہو گیا، زکریا سنوار کا جسد خاکی ملنے کی تصدیق کر دی گئی، وہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں پروفیسر تھے، زکریا کے بیٹے بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے۔

    سیف زون المواسی کیمپ پر اسرائیلی حملے میں 36 فلسطینی شہید ہوئے ، شہید ہونے والوں میں صحافی جوڑا خالد ابوسیف اور نور قندیل بھی شامل ہے۔

    غزہ میں خوراک اورادویات کی شدید قلت بھی جاری ہے ، تمام اسپتال طبی خدمات سرانجام دینے سے قاصر ہو گئے ہیں دوسر ی جانب اسرائیل نے غزہ میں جاری مکمل ناکہ بندی کے دو ماہ بعد بالآخر "بنیادی مقدار” میں خوراک داخل کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق یہ فیصلہ فوج کی سفارش پر کیا گیا تاکہ غزہ میں ممکنہ بھوک کے بحران کو روکا جا سکے اگر انسانی بحران پیدا ہوتا ہے تو اس سے اسرائیلی فوج کا جاری آپریشن متاثر ہو سکتا ہے، اسی لیے محدود سطح پر امدادی خوراک داخل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،اسرائیلی حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ امدادی خوراک حماس کے ہاتھ نہ لگے، اس کے لیے خصوصی اقدا مات کیے جائیں گے۔

    اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ میں مکمل ناکہ بندی نافذ کر رکھی تھی جس کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا تھا، تاہم اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے کئی بار خبردار کیا کہ غزہ میں خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    جبکہ اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (UNRWA) کے سربراہ فلپ لازارینی نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں UNRWA کے 300 سے زائد ملازمین شہید ہو چکے ہیں انہوں نے اس المناک حد کو "خونریز سنگ میل” قرار دیا ہے۔

    فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر اہلکار اسرائیلی فوج کے حملوں میں اپنے بچوں اور خاندانوں کے ساتھ شہید ہوئے اور ان کی پوری کی پوری فیملیاں مٹا دی گئیں ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے، جن میں طبی عملہ اور اساتذہ شامل تھے جو اپنی کمیونٹیز کی خدمت کر رہے تھے،ان ہلاکتوں کا کوئی جواز نہیں، اگر ان جرائم پر خاموشی اختیار کی گئی تو مزید بے گناہوں کی جانیں جائیں گی، جو ذمہ دار ہیں، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔

  • غزہ: اسرائیلی فوج کی پناہ گزین اسکول پر بمباری، 40 فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج کی پناہ گزین اسکول پر بمباری، 40 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں 24 گھنٹوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 107 فلسطینی شہید کردیئے۔

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں مسجد خالی کرنے کا حکم دے کر قریبی پناہ گزین اسکول پر بمباری کردی جس کے نتیجے میں 2صحافیوں سمیت 40 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے، 24 گھنٹوں میں خواتین اور بچوں سمیت 107 فلسطینی شہید کردئیے گئے۔

    دوسری جانب لبنان پر حملہ کرکے حماس رہنما کو قتل کردیا جب کہ قحط زدہ غزہ کے بچے غذائی قلت سے نحیف ہوگئے ورلڈ سینٹرل کچن نے امدادی سامان ختم ہونے پر غزہ میں کام روکنے کا اعلان کردیا جس کےبعد امریکی کانگریس کے 94 ڈیموکریٹ اراکین نے اسرائیل سے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل فوری بحال کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

    بھارتی ہزیمت، اسرائیلی ساخت کے ہیراک ڈرونز پاکستان بھیجنے لگا، سب تباہ

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ غزہ میں موجود 3 ایسے اسرائیلی مغوی جنہیں پہلے زندہ سمجھا جا رہا تھا، ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد ان افراد کی تعداد جو یقیناً زندہ ہیں، صرف 21 رہ گئی ہے ہمیں مکمل یقین ہے کہ 21 مغوی زندہ ہیں ، تاہم 3 دیگر کے بارے میں یہ یقینی نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں دیئے گئے بیان کی توثیق کے طور پر سامنے آیا ہے،روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کو ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ ایک ہفتہ قبل 24 مغوی زندہ تھے، لیکن اب یہ تعداد 21 رہ گئی ہے۔

    ننکانہ صاحب: بھارتی ڈرون کھیتوں میں گر کر تباہ، کوئی جانی نقصان نہیں

    یرغمالیوں کے اہل خانہ کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ہیڈکوارٹر ایک بار پھر وزیرِ اعظم سے مطالبہ کرتا ہے کہ جب تک آخری مغوی واپس نہیں آ جاتا، جنگ کو روکا جائے-

    اسرائیل میں یرغمالیوں کے امور کے کوآرڈینیٹر گال ہیرش نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے قبضے میں 59 اسرائیلی مغوی ہیں، جن میں سے 24 زندہ جبکہ 35 ہلاک ہو چکے ہیں یہ اعداد و شمار صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل بھی یہی تھے اور اس کے بعد بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    خیبر: بابِ خیبر پر بھارتی جارحیت کے خلاف خیبر پولیس اور قبائلی عمائدین کا بھرپور احتجاج