Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل کا  فلسطین کے مغربی کنارے پر  خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ

    اسرائیل کا فلسطین کے مغربی کنارے پر خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ

    تل ابیب: اسرائیل نے غزہ کے بعد اب فلسطین کے مغربی کنارے پر بھی خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:مڈل ایسٹ کے مطابق اسرائیل نے فلسطین کے مغربی کنارے میں آباد کی گئی غیر قانونی آبادیوں کی حفاظت کے نام پر خودکار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛اسرائیلی فوج مغربی کنارے پر دور سے کنٹرول کیے جانے والے خودکار ہتھیار نصب کرنے کی تیاری کررہی ہے، اس خودکار سسٹم کو ‘See-Fires’ بھی کہا جاتا ہے جس میں ایک ٹاور، نگرانی کے جدید آلات اور مہلک آگ نکالنے والے ہتھیاروں سمیت دیگر ہتھیار شامل ہیں-

    مغربی کنارے کے لیے ان سسٹمز کی تیاری شروع ہو چکی ہے،ابتدائی طور پر، انہیں اسرائیلی فوج کی طرف سے اعلی خطرے والے مقامات پر نصب کیا جائے گا، فلسطینی مغربی کنارے میں 300 غیر قانونی اسرائیلی آبادیاں قائم ہیں جن میں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار رہائش پذیر ہیں، جنہیں 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے کے بعد سے تعمیر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، علاقے میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کے بارے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، مغربی کنارے کے ڈویژن کا 636 Reconn

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج خود کار ہتھیاروں کے اس سسٹم کو 2008 سے استعمال کررہی ہے اور یہ سسٹم اس سے قبل غزہ کے بارڈر کے ساتھ لگائی گئی اسرائیلی باڑ کے ساتھ بھی نصب کیا گیا تھا تاکہ غزہ سے ہونے والے حملوں کو روکا جائے۔

  • شام:اسرائیل کی طرطوس پر 2012 کے بعد سے اب تک کی شدید ترین بمباری

    شام:اسرائیل کی طرطوس پر 2012 کے بعد سے اب تک کی شدید ترین بمباری

    شام: اسرائیل کی جانب سے گذشتہ روز شام کے ساحلی شہر طرطوس پر 8 گھنٹے سے زائد تک شدید بمباری کی گئی جس کے باعث پورا علاقہ لرز اٹھا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ شب آٹھ گھنٹے سے زیادہ تک شام کے ساحلی شہر طرطوس کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس دوران میں زور دار دھماکے سنے گئے اور کئی مقامات سے آگ کے بلند و بالا شعلے اٹھتے دکھائی دیے،اسرائیل نے 10 سے زیادہ حملے کیے ،بمباری اتنی شدید تھی کہ حملے کا نشانہ بننے والے علاقے ریکٹر اسکیل پر تین کی شدت کے برابر جھٹکوں سے لرز اٹھے۔

    شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد” کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جن اہداف کو نشانہ بنایا ان میں فضائی دفاع کے یونٹ اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کے گودام شامل ہیں، گذشتہ رات ہونے والے یہ حملے 2012 سے اب تک کے شدید ترین حملے تھے۔

    ادھر طرطوس میں رہنے والے شامی فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا جب شہر کو اسرائیلی بم باری میں اتنے بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا اسرائیل نے ایسے میزائل استعمال کیے جو شاید پہلی مرتبہ شام پر بمباری میں استعمال ہوئے کہ دھماکوں کی آوازیں دس کلو میٹر سے زیادہ دوری تک سنی گئیں اس شدید بم باری کے سبب علاقے میں رہنے والے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    شامی فوج کے ایک سابق عہدے دار میجر جنرل کمال الموسی نے عرب میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں شامی فوج کے عسکری ساز و سامان کا 85 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ8دسمبر کو سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد سے اب تک اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں میں 500 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں ان کا مقصد شامی فوج اور مسلح فورسز کی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے-

  • سعودی عرب  کی اسرائیل  کی   گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    سعودی عرب کی اسرائیل کی گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    ریاض:سعودی عرب نے اسرائیل کی گولان میں توسیع پسندانہ قبضے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ گولان میں یہودی آبادکاری کو وسعت دینے کے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت اور مسترد کرتے ہیں اسرائیل کا یہ اقدام شام کی سلامتی، استحکام اور امن کی بحالی کے امکانات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

    ایک سرکاری بیان میں، وزارت نے مملکت کے مضبوط موقف کی توثیق کرتے ہوئے، بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں کی مذمت کرے اس نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ گولان کی پہاڑیوں پر شامی عرب سرزمین پر قبضہ کیا گیا ہے،عالمی برادری اسرائیل کی گولان کے بفرزون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں-

    واضح رہے کہ شام میں مسلح باغی گروہوں نے محض 11 دن میں دارالحکومت دمشق پر قبضہ کرلیا تھا اور بشار الاسد روس فرار ہوگئے تھے جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے شام میں فوجی اڈوں، ایئرپورٹس اور ملٹری تنصیبات پر بمباری کی اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بنائے گئے جنگ سے پاک علاقے ’’بفرزون‘‘ میں داخل ہوگئی تھی، اسرائیل نے مقبوضہ گولان کے علاقے میں مزید توسیع کا ارادہ ظاہر کیا ہے جو کہ شام اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

  • غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری،دیرالبلح کے میئر سمیت مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری،دیرالبلح کے میئر سمیت مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری، مزید 70 نہتے فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، غزہ میں اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں، صیہونی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں دیرالبلح کے میئر سمیت مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید کردئیے۔

    2 روز قبل بھی اسرائیل نے غزہ کے علاقے نصیرات میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں سمیت 33 فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا جبکہ حملے میں 50 سے زائد فلسطینی زخمی بھی ہوئے تھے گزشتہ سال 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    دوسری جانب لندن میں فلسطین کے بعد لبنان اور شام پر جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرہ اور پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاجی ریلی نکالی گئی،اس کے علاوہ مظاہرین نے اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے بھی لگائے اور ساتھ ہی حکومت برطانیہ سے فوری جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور اسرائیل کو اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • چند گھنٹوں میں  اسرائیل کے شام پر 60 سے زائد حملے

    چند گھنٹوں میں اسرائیل کے شام پر 60 سے زائد حملے

    دمشق:گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے شام پر 60 سے زائد حملے کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :بشار الاسد اور ان کی حمایت یافتہ فوج کے فرار ہونے کے بعد اسرائیل مسلسل شامی فوج کے اسلحے کے ذخائر اور فوجی سازوسامان کو تباہ کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں میں شام کے فوجی ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر 61 میزائل حملے کیے گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم نے شام پر چند گھنٹوں میں ان تازہ ترین اسرائیلی حملوں کو رپورٹ کیابرطانیہ میں موجود تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران شام کی سرزمین پر 60 سے زائد حملے کیے ہیں، اسرائیل نے ہفتے کی شام 5 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شام کے فوجی ٹھکانوں پر 61 میزائل داغے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی شام پر جارحیت کا یہ سلسلہ تقریبا ایک ہفتہ قبل باغی افواج کی جانب سے ملک کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام کے بااختیار رہنما احمد الشرع نے اسرائیل کی جانب سے شامی سرزمین پر قبضے اور جاری حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی،ان کا کہنا تھا کہ شام اب ایک اور نئے تنازع میں الجھنے کے لیے بہت تھک چکا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج شام کے شہر قنیطرہ میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقہ جبری خالی کرانے کےلیے پانی و بجلی اور سڑکوں کا نظام تباہ کردیا ہے۔

  • اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے تمام فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کر دیا تھا، تاکہ وہ ان اثاثوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں آنے سے بچا سکے۔

    اسرائیل کی فوج نے شام میں تقریباً 500 مقامات پر بمباری کی، شام کی بحریہ کو تباہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کی معروف سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا سب سے اہم اور دیرپا اقدام شام کے بلند ترین پہاڑ، جبل حرمون کی چوٹی پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کا قبضہ عارضی ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہر ایفرایم انبار، جو یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جبل حرمون علاقے کا سب سے بلند مقام ہے، جو لبنان، شام اور اسرائیل پر نظر رکھتا ہے۔ انبار نے کہا، "یہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ پہاڑوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔”

    جبل حرمون کی چوٹی شام میں واقع ہے اور یہ ایک بفر زون میں آتا تھا، جو اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان 50 سال تک تقسیم کا باعث رہا۔ تاہم، پچھلے اتوار تک یہ بفر زون غیر فوجی تھا اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جو دنیا کی سب سے بلند مستقل نگرانی کے مقام پر تعینات تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل نے جمعہ کے روز فوج کو حکم دیا کہ وہ موسم سرما کی سختیوں کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا، "شام کی صورت حال کے پیش نظر جبل حرمون کی چوٹی پر ہمارے کنٹرول کو برقرار رکھنا ہماری سیکیورٹی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔” اسرائیلی فوج جبل حرمون کی چوٹی سے آگے بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور بقااسم تک پہنچ چکی ہے، جو دمشق سے تقریباً 25 کلومیٹر (15.5 میل) دور ہے، تاہم یہ دعویٰ وائس آف دی کیپیٹل، ایک شامی کارکن گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سی این این نے اس دعویٰ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس ہفتے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی افواج "دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔”

    اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا، جو جبل حرمون کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تب سے اس پر قابض ہے۔ شام نے 1973 کی جنگ میں اس علاقے کو واپس لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل نے 1981 میں گولان کو اپنی سرزمین میں ضم کر لیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ نے گولان پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا۔

    اسرائیل نے دہائیوں تک جبل حرمون کے نچلے ڈھلوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہے اور یہاں ایک اسکی ریزورٹ بھی قائم کیا ہے، تاہم چوٹی ہمیشہ شام کے اختیار میں رہی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔”

    جبل حرمون کی چوٹی اسرائیل کے لیے ایک زبردست اثاثہ ہے۔ یہ 2814 میٹر (9232 فٹ) بلند ہے اور یہ نہ صرف اسرائیل یا شام کا سب سے بلند مقام ہے بلکہ لبنان کے ایک پہاڑ سے بھی اونچا ہے۔

    ایفرایم انبار نے 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں جبل حرمون کی کئی اہمیتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پہاڑ اسرائیل کو شام کی گہرائیوں میں الیکٹرانک نگرانی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو بروقت خبردار کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی والے متبادل جیسے فضائی نگرانی کے آلات، پہاڑ پر نصب تنصیبات کی مانند مؤثر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں بڑے اینٹینا نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دشمن کی زمین سے مار کرنے والی میزائلوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف اور شام کی مستقبل کی صورتحال

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے نئے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے "ہاتھ بڑھا رہا ہے”۔ لیکن 7 اکتوبر کے بعد کے عالمی منظر نامے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسرائیل زیو نے کہا، "یہ زیادہ تر ہمارے لیے تسلی کی بات ہے۔ ہم نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیمیں فوجی سازوسامان پر قابض ہو جاتی ہیں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔”نیتن یاہو نے کہا کہ جبل حرمون پر اسرائیل کا قبضہ عارضی ہے اور اسرائیل کبھی بھی جہادی گروپوں کو اس خلا کو پُر کرنے اور گولان کی بلندیوں پر اسرائیلی کمیونٹیز کو 7 اکتوبر جیسے حملوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایسا کوئی فوجی دستہ قائم ہونا ضروری ہے جو 1974 کے معاہدے پر عمل پیرا ہو اور جو سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ اسرائیل کب اس علاقے سے پیچھے ہٹے گا۔ ایفرایم انبار کے مطابق، "یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ فوج وہاں رہنا پسند کرے گی۔”

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

  • اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل نے شام میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانے کے لیے حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    اسرائیل کی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے کمزور ہونے اور شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے لیے اسرائیلی فضائیہ اپنی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے ،اسرائیلی اخبار کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اسرائیل مزید اقدامات کرے گا۔ فوجی حکام نے کہا کہ اسرائیل ایران کے جوہری منصوبے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ایران کو ایک جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھا رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے اسرائیل کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ نے شام میں فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے شام میں مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں شام کے فضائی دفاعی نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ایران کے حامیوں، خاص طور پر لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ ایران ایک جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ایران کو اس پروگرام میں کامیابی حاصل ہوئی تو اس سے پورے خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنا اسرائیل کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اسرائیل نے بارہا یہ کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام رہی تو اسرائیل کو خود ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹریش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حملوں کو فوراً روک دے اور شام سے باہر نکل جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور بے قابو بنا سکتی ہیں اور اس کے انسانی بحران کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔دوسری جانب، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اسرائیل کے دفاعی اقدامات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے جو اقدامات درکار ہوں، وہ اٹھانے کا حق ہے، اور امریکہ اسرائیل کے اس حق کی حمایت کرتا ہے۔

    اسرائیل کی ممکنہ حملے کی شدت کا انحصار ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت اور اسرائیل کی عسکری حکمت عملی پر ہوگا۔ اسرائیل نے پہلے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں، اور حالیہ دنوں میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی فضائیہ کے مطابق، اس بار ایران کے جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ برسوں میں کئی بار بڑھ چکی ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیتا رہتا ہے۔ ایران بھی اسرائیل کے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دے چکا ہے اور بارہا اسرائیل کو دھمکی دے چکا ہے کہ وہ اس کی جوہری صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب دے گا۔

    اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، تو اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری میں اس حملے پر شدید ردعمل آ سکتا ہے، اور اس سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود سیاسی اور فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اس صورتحال میں مداخلت کر سکتے ہیں تاکہ تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

  • اسرائیل نے جنوبی لبنان سے فوج کا انخلا شروع کر دیا

    اسرائیل نے جنوبی لبنان سے فوج کا انخلا شروع کر دیا

    اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنے فوجی واپس بلانے کا عمل شروع کردیا ہے، یہ اعلان امریکا نے کیا ہے

    ۔ ایک قصبے سے اسرائیلی فوجی نکل گئے تو لبنانی فوج نے کنٹرول سنبھال لیا،دوسری طرف امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر جیک سلیون کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    جنگ بندی معاہدے کے تحت جنگ بندی شروع ہونے کے بعد اسرائیل کو ساٹھ دن کے اندر اپنی فوج کو جنوبی لبنان سے مکمل طور پر نکال لینا ہے۔

    اسرائیل کا دورہ کرنے والے جیک سلیون نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یرغمالیوں کو چھوڑنے کی ڈیل اور غزہ میں جنگ بندی کے بہت نزدیک ہے۔ معاملات کو نپٹانے اور تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کا وقت ہوگیا ہے۔ مجھے احساس ہوچلا ہے کہ اب نیتن یاہو کسی معاہدے تک پہنچ چکے ہیں۔

    اس پریس کانفرنس سے قبل جیک سلیون نے اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفت و شنید کی اب بہت سوں کو یقین ہوچلا ہے کہ یہ ڈیل کامیاب ہوگی جیک سلیون قطر مذاکرات کے کلیدی کردار رہے ہیں انہوں نے گزشتہ ہفتے غیر معمولی تحرک کی بات کہی تھی۔

    اسرائیل میں اور اسرائیل سے باہر نیتن یاہو کے بہت سے ناقدین نے اُن پر فلسطینیوں سے مذاکرات کی راہ مسدود کرنے کا الزام عائد کیا ہے دوسری طرف اسرائیل بھی حماس پر یہی الزام عائد کرتا آیا ہے۔

    جیک سلیون کا کہنا ہے کہ شام میں اپنے دوست یا حلیف بشارالاسد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہو جانے کے بعد حماس نے بھی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہےشام میں حکومت کے خاتمے کے بعد لبنان میں جنگ بندی نے بھی ایک مختلف تناظر پیدا کیا ہےحماس کے خلاف اسرائیلی فوج کی کامیابیوں نے یہ تناظر پروان چڑھایا ہے۔

    جیک سلیوان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے یہ سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا کہ یحیٰ سِنوار، حسن نصراللہ یا خود ایران نے سوچا تھا ہمیں اچانک مشرقِ وسطیٰ میں بڑی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے اسرائیل طاقتور ہوکر ابھرا ہے اور ایران کمزور پڑگیا ہے۔

  • اسرائیل کے شامی فوجی اہداف  پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کی جانب سے شام پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس میں شامی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں شام میں مختلف اسٹریٹیجک فوجی مقامات پر 480 فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے شامی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں اسرائیل نے خاص طور پر اسٹریٹیجک فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے مشرق میں واقع بفر زون میں فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بفر زون میں اپنے فوجی بھیج کر شام کے 70 سے 80 فیصد اسٹریٹیجک فوجی اثاثوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل نے شام کے ساحلی شہر البیضا اور لطاکیہ بندرگاہ پر بھی حملے کیے ہیں، جہاں 15 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے دمشق اور دیگر اہم شہروں میں ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات کو بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جس سے شام کی عسکری صلاحیتوں پر مزید ضرب لگائی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ سے لے کر شمالی شام تک ایک "گریٹر اسرائیل” منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اسرائیل کی موجودہ کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے اسرائیلی حملوں کو شام-اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے شام کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور یہ کہ ان حملوں کی شدت سے شام کے ساتھ موجود امن معاہدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔روسی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرے اور شام میں جاری جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔پاکستان سمیت دیگر عرب ممالک نے بھی اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس حملے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنے جارحانہ رویے کو فوری طور پر روکنے اور علاقائی امن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

  • اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی  اہم  دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    دمشق: اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کے اہم اوراسٹریٹیجک دفاعی تنصیبات مکمل تباہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق شام کےخلاف اسرائیلی دہشت گردی انتہا کوپہنچ گئی، غاصب صیہونی افواج نے گذشتہ دو دنوں کے دوران شام کے تقریباً تمام فوجی اور حساس مراکز پر حملے کئے ان حملوں کا مقصد شام کی فوجی اور اسٹریٹجک صلاحیت کو ختم کرنا تھا جن میں فضائی اڈے، فوجی تحقیقاتی مراکز، بحری تنصیبات اور اسلحے کے ذخائر شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق صہیونی طیاروں نے 2روزمیں480سے زائد حملے کئے ، شام کے بری ، حملوں میں بحری اور فضائی اڈے مکمل تباہ ہوگئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے شام کی نئی حکومت کو دھمکی دی کہ ایران کو تنظیم نو کی اجازت دی تو طاقتور ردعمل دیں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شام کے سترفیصد حصے پر مسلح باغی گروپ قابض ہوچکے ہیں صرف بیس فیصد علاقہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے زیراثرہے الاذقیہ اور طرطوس میں ابھی تک روسی فوجی اڈے قائم ہیں، نگران وزیراعظم محمد البشیر نے بیرون ملک موجود شامی شہریوں سے وطن واپسی کی اپیل کردی ، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے مطالبہ کیا نئی حکومت کوکیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنا چاہیے، شام میں جہاں بھی کیمیائی ہتھیار ملیں، شام کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا خاتمہ کرے اور ان علاقوں کو کنٹرول میں لے جہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔’

    اس سے پہلے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ شام کی اگلی حکومت شام کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ بننے دے۔ نیز یہ بھی یقینی بنائے کہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار کا جہاں کہیں بھی ذخیرہ ہو اسے تباہ کرے۔

    واضح رہے ‘ھیتہ التحریر الشام’ کی مسلح فورسز نے اتوار کے روز بشار الاسد کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد محمد البشیر کے زیر قیادت ایک نئی عبوری حکومت کے قیام کا منگل کے روز اعلان کیا ہے۔