Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی وزیراعظم  کرپشن کیسز میں 5 سال بعد عدالت میں پیش

    اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کیسز میں 5 سال بعد عدالت میں پیش

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کرپشن کیسز میں 5 سال بعد عدالت میں پیش ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر ہونے والے حملوں کو اب ایک سال سے زائد کا وقت گزر چکا ہے مگر اسرائیل میں اب بھی خوف کی فضا قائم ہےوزیراعظم نیتن یاہوکےخلاف کرپشن کیسز کی سماعت آج تل ابیب کے ایک تہہ خانے (بم پروف بنکر) میں قائم کی گئی عدالت میں ہوئی جہاں وہ 5 سال بعدعدالت میں پیش ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق دوران سماعت حکمران جماعت کے رہنما اور وزرا بھی نتین یاہو کی حمایت میں عدالت پہنچ گئے جب کہ غزہ جنگ کے مخالف اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے اسرائیلیوں نے بھی نتین یاہو کےخلاف مظاہرہ کیا ، مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں حماس کے زیر حراست تقریباً 100 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مزید مذاکرات کریں۔

    نیتن یاہو نے مقدمہ ملتوی کرانے کی کوشش کی مگر عدالت نے درخواستیں مسترد کردیں،نیتن یاہو کی گواہی تین دن تک جاری رہنے کا امکان ہے اور انہیں گواہی کے بعد وضاحت کے لیے دوبارہ بلایا جا سکتا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق 75 سالہ نیتن یاہو اسرائیل کے پہلے موجودہ وزیر اعظم ہیں جن پر کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ ملک کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے رہنما ہیں، جو 2009 سے تقریباً مسلسل اقتدار میں ہیں، اسرائیلی وزیراعظم کو تین کیسز میں فراڈ، ایک کیس میں رشوت ستانی کے الزامات کا سامنا ہے۔

    اسرائیل ایک سال سے زائد عرصے سے غزہ میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے خلاف جنگ کر رہا ہے، جس کے دوران نیتن یاہو کو ان کی عدالت میں پیشی شروع کرنے میں تاخیر ہوئی تھی لیکن گزشتہ جمعرات کو ججوں نے فیصلہ سنایا کہ اسے گواہی دینا شروع کر دینا چاہیے۔

    عدالت نے کہا کہ غزہ کی جنگ اور پڑوسی ملک شام سمیت مشرق وسطیٰ میں وسیع تر انتشار سے پیدا ہونے والے ممکنہ نئے خطرات کے باوجود،رشوت خوری، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزام میں، نیتن یاہو ہفتے میں تین بار گواہی دیں گے-

  • ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اسرائیلی حملوں اور گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کے قبضے کی توسیع کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔

    تہران کی جانب سے "جارحیت کو روکنے” اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانے کا یہ مطالبہ اس کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شام کی سرزمین میں ایک "سیکیورٹی زون” قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا گولان کی بلندیوں میں اقدام "مقبوضہ رژیم کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ رویے کی علامت ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قانونی اصولوں اور ضوابط کی بے حرمتی ہے۔”

    اسرائیل نے 1967 میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ یہ خطہ شام کی سرزمین تھا جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلا جنگی تصادم ہو سکتا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 7 اکتوبر 2023 کو ایران کے حامی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • شمالی غزہ میں  3 اسرائیلی فوجی ہلاک  اور 12 زخمی

    شمالی غزہ میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 12 زخمی

    تل ابیب: شمالی غزہ میں آج ہونے والی جھڑپوں میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 12 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی فوج کے مطابق جھڑپوں میں 12 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے اسرائیلی فوج کی جانب سے اس حملے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی میڈیا کے جانب سے لبنان میں 4 اور غزہ میں 2 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی گئی تھی،اسرائیلی میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 816 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے 384 فوجی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    پیر کے روز اسرائیلی ریڈیو نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کی لبنان میں تازہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب وہ حزب اللہ کی بنائی ہوئی ایک حفاظتی سرنگ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سرنگ میں اسلحہ رکھا گیا تھا تاہم اسرائیلی ریڈیو نے اس واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔بس یہ بتایا ہے کہ چار فوجیوں کی ہلاکت کا یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا ہے۔

    یہ ہلاکت خیز واقعہ اس وقت پیش جب اسرائیلی فوجی سرنگ کو بارود سے اڑانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سرنگ فوجیوں کے اوپر آگری ہے سرائیلی حکام نے اس واقعے کا الزام حزب اللہ کو دیا ہے نہ یہ کہا ہے کہ حزب اللہ نے 26 نومبر کے جنگ بندی معاہدے کی اس سلسلے میں کوئی خلاف ورزی ہے-

  • صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    اسرائیل نے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کی گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون پر قبضہ کر لیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فورسز کو حکم دیا کہ وہ شام کے ساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے ذریعے قائم کیے گئے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک بفر زون پر "قبضہ” کر لیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ دہائیوں پرانا معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور شامی فوجیوں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑ دی ہیں جس سے اسرائیلی قبضے کی ضرورت ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف بھی فوج بڑھا دی اور اسرائیل فوج مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف باڑ لگانے میں مصروف ہے۔شامی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل خانہ جنگی کافائدہ اٹھا کر شامی علاقوں پر قبضہ چاہتا ہے۔باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

  • شامی فوج نےسرحدی چوکیاں خالی کر دیں،بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر اسرائیلی فوج تعینات

    شامی فوج نےسرحدی چوکیاں خالی کر دیں،بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر اسرائیلی فوج تعینات

    شامی فوج نے ملک پر باغی ملیشیا حیات التحریر الشام کے قبضے کے ساتھ ہی لبنان کے ساتھ تمام سرحدی چوکیوں کو بھی خالی کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی افواج کی جانب سے سرحدی چوکیاں خالی کرنے پر اسرائیلی فوج کے ٹینک اور بکتر بند جنوب مغربی شام کے قنیطرہ میں داخل ہو گئے ہیں،اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے شام کے برابر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر فوجی تعینات کر دیئے ہیں یہ اقدام شام میں تازہ ترین واقعات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، باغیوں کو بشارالاسد کی فوج کے اسلحے پر قبضے سے روکنےکی کوشش کریں گے، شامی باغی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

    عراقی حکام کا کہنا ہے کہ 2000 شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی ہے، دمشق پر قبضے سے پہلے باغیوں نے حمص شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کیا، حمص کی فوجی جیل سے 3500 سے زائد قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    شامی صدر بشار الاسد کے دمشق سے فرار اور ان کی 24 سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد مسلح اپوزیشن گروہوں نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے پیشِ نظر اتوار کے روز اردن نے شام کے استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی اہمیت کا اعادہ کیا ہےخطے میں سلامتی کی حالت کو تقویت دینے پر "کام جاری ہے، لبنانی فوج نے ضروری یونٹس اور بٹالین شام کے ساتھ سرحد پر بھیج دی۔

    بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے چند گھنٹوں قبل قطر، سعودی عرب، اردن، مصر، عراق، ایران، ترکیے اور روس کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں شام کی موجودہ صورتِ حال کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔

    ادھر شامی باغیوں نے دارالحکوت دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اتوار کی صبح ایران کے سفارت خانے پر بھی دھاوا بول دیا۔

    شامی باغی گروپ حیات تحریر الشام (HTS) نے دارالحکومت دمشق پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، العربیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دمشق میں واقع ایرانی سفارت خانے کی عمارت اور املاک کی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔

    ایران کے انگریزی نشریاتی ادارے ”پریس ٹی وی“ نے سفارت خانے پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس صورتحال کو شام میں ایرانی مفادات پر براہ راست حملہ قرار دیا،فوٹیج میں افراتفری کے مناظر دکھائے گئے، سفارت خانے کے اندرونی حصے کو کافی نقصان پہنچا، جبکہ جنگجوؤں نے حسن نصر اللہ کے پوسٹرز بھی پھاڑ دئے۔

    خیال رہے کہ ایران صدر بشار الاسد کا ایک اہم اتحادی ہے اور شام پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہےدمشق میں ایران کے سفارت خانے پر حملہ شام میں ایرانی مفادات کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے برسو ں سے، ایران اسد کا بڑا حامی رہا ہے، جو اس کی حکومت کو اقتدار میں رکھنے کے لیے فوجی، مالی اور سیاسی حمایت فراہم کرتا ہے، تاہم باغی افواج کی حالیہ پیش قدمی اور شام میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے باعث خطے میں ایرانی مداخلت کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

  • فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد اسرائیل اور ممکنہ فلسطینی ریاست کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    صدر میکرون کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وہ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جو جون میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی کوششیں کی جائیں۔صدر میکرون نے کہا کہ وہ اور سعودی ولی عہد فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اپنے سفارتی کوششوں کو مزید بڑھائیں گے، تاکہ اس بحران کو حل کرنے کی راہ پر گامزن ہوا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد عالمی شراکت داروں کو اس معاملے کے حل کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا؟ تو میکرون نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کریں گے جب یہ قدم دو طرفہ تسلیم کی تحریک کے آغاز کے طور پر اٹھایا جائے گا۔صدر میکرون نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اس بات کا خواہاں ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس یورپی اور غیر یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں شامل کرنا چاہتا ہے جو اس دو ریاستی حل کی سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور فلسطین کے مکمل آزاد ہونے تک اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ یورپی یونین کے بعض نمائندوں نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ سفارتکاری کو سراہا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بغیر فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنا پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

    فرانسیسی صدر کا یہ اعلان عالمی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ کانفرنس کامیاب ہوتی ہے اور دونوں طرف سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے، تو یہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ تنازعہ کے حل کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • ٹرمپ نےاسرائیلی یرغمالیوں کی عدم رہائی پر مشرق وسطیٰ کو جہنم بنانے کی دھمکی دے ڈالی

    ٹرمپ نےاسرائیلی یرغمالیوں کی عدم رہائی پر مشرق وسطیٰ کو جہنم بنانے کی دھمکی دے ڈالی

    واشنگٹن: جنگوں کا خاتمہ کرنے کے دعویدار ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے جنگی محاذ کھولنے کی دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل” پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ افراد جو انسانیت کے خلاف یہ مظالم کر رہے ہیں، انہیں اپنی کارروائیوں کی قیمت چکانی ہوگی، حماس میری حلف برداری 20 جنوری 2025 سے پہلے قیدی رہا کر دے ورنہ سنگین نتائج کیلئے تیار رہیں، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے سب باتیں کرتے ہیں اب تک کوئی سنجیدہ کارر وائی نظر نہیں آئی۔
    america
    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہا غزہ میں اسرائیلی قیدی رہا نہ کیے گئے تو مشرق وسطیٰ کو جنہم بنا دیں گے افراد جو انسانیت کے خلاف یہ مظالم کر رہے ہیں،انہیں اپنی کارروائیوں کی قیمت چکانی ہوگی، ان کی حکومت ذمہ داروں کو ایسا سبق سکھائے گی جو امریکی تاریخ میں کبھی نہیں دیا گیا،ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔

    اس سے قبل غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے حوالے سے حماس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 14 ماہ کی جنگ کے دوران 33 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی یرغمالی ابھی بھی لاپتا ہیں، حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ یرغمالیوں کے حوالے سے جو بھی اقدامات کرے، وہ جلدی کرے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    اسرائیلی حکومت نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، مگر اس تمام صورتحال نے خطے میں مزید سیاسی کشیدگی پیدا کر دی ہے، اور ٹرمپ کی دھمکی نے عالمی سطح پر اسرائیل اور حماس کے مابین مذاکرات کی راہ میں نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

  • غزہ : اسرائیل  انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ : اسرائیل انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر منیر البرش نے کمزور اور لاچار فلسطینیوں پر استعمال ہونے والے اسرائیلی اسلحے سے متعلق ہولناک انکشافات کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں اسرائیل نے ظلم اور جبر کی نئی تاریخ رقم کردی، ایسے ممنوع ہتھیار استعمال کر رہا ہے کہ نسانیت دنگ رہ جائے، غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج ایسے ہتھیار استعمال کر رہی ہے جن سے مرنے والوں کی لاشیں بخارات بن جاتی ہیں۔

    غزہ کے ڈائریکٹر ہیلتھ نےکہا کہ اسرائیل نہتے فسطینی پناہ گزینوں پر خطرناک کیمیکل اور مواد والے بم برسا رہا ہے جس کے ہولناک اثرات سامنے آ رہے ہیں،عالمی قوتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے غزہ میں سیزفائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوری ڈیل کی تردید کی ہے،ایک بیان میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس غزہ میں سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کررہا ہے لیکن ہم اب تک حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ہم بہت متحرک ہوکر کام کررہے ہیں تاکہ یہ عمل جلد مکمل ہو اور ہم اس سلسلے میں خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے بھی قریبی رابطوں میں ہیں، اس حوالے سے مسلسل کام ہورہا ہے، اس سلسلے میں مزید بات چیت اور مشاورت کی ضرورت ہے، ہمیں امید ہےکہ ہم جلد ہی سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے لیکن اب تک ہم اس مرحلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں 44 ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ1 لاکھ 5 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

  • غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید  100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی ہے، ہفتے کو غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 100 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں سے 75 فلسطینی بیت لاحیا کی رہائشی عمارتوں پر بمباری میں شہید ہوئے۔

    اس کے علاوہ جنوبی غزہ کے شہرخان یونس پر اسرائیل کی بمباری میں17 افرا دشہید ہوئے، اسرائیلی طیاروں نےخان یونس میں 2 مقامات کو نشانہ بنایا، غزہ میں خوراک تقسیم کےدوران اسرائیلی حملے میں 3 امدادی کارکن بھی شہید ہوئے، حملے کے بعد امدادی ادارے نے غزہ میں خوراک تقسیم کا کام بند کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے دوران وحشیانہ زمینی اور فضائی حملوں میں 2700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کو سنگین غذائی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے۔

    فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار 382 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 5 ہزار 142 فلسطینی زخمی بھی ہوئے،جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے-

  • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ،نیتن یاہو کے حامی خفا

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ،نیتن یاہو کے حامی خفا

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکا کی سرپرستی میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے مطابق اسرائیل 60 روز میں جنوبی لبنان سے اپنی فورسز کو واپس بلائے گا اور حزب اللہ کے زیر کنٹرول علاقے کا کنٹرول لبنانی حکومت سنبھالے گی، معاہدے کے مطابق حزب اللہ اپنے جنگجو اور اسلحے کو دریائے لطانی سے ہٹائے گی۔

    اس حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی کی تجویز مان لی ہے، معاہدےکو دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے،برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔

    حزب اللہ سے جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اگر حزب اللہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو دوبارہ حملے کرنے میں بالکل بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گےحزب اللہ کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے، اب ہماری پوری توجہ ایرانی خطرے کی طرف ہوگی، ہم مشرق وسطیٰ کا چہرہ تبدیل کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے لبنانی شہریوں کو فی الحال جنوبی لبنان واپس نہ جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے وقت سے متعلق اپ ڈیٹ کریں گے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حزب اللہ نے جنگ بندی پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تاہم حزب اللہ کے سینئر عہدیدار حسن فضل اللہ نے لبنانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی ریاست کے اختیارات میں توسیع کی حمایت کرتے ہیں، مزاحمت کو غیر مسلح کرنا اسرائیلی تجویز تھی جو ناکام ہو گئی۔

    ادھر جنگ بندی معاہدے کی منظوری سے قبل اسرائیل نے حزب اللہ کے 30 اہداف پر بمباری کی اور طائر میں حزب اللہ کمانڈر سمیت مزید 42 افراد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیاجنوبی لبنان میں جھڑپوں میں 2 اسرائیلی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ حزب اللہ نے نہاریہ میں اسرائیلی فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا جس میں 3 افراد زخمی ہو گئے۔

    دوسری جانب جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حامی ان سے شدید خفا ہیں، اسرائیل کی حزب اللہ کے ساتھ ڈیل کے بعد کیے جانے والے سروے کے مطابق جنگ کے باعث شمالی اسرائیل سے بے گھر ہونے والے 80 فیصد تعداد جو نیتن یاہو کے حامی تھے، انہوں نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کو غلط قرار دیتے ہوئے غصے کا اظہار کیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق اگر ملکی سطح پر بات کی جائے تو حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر عوام کی رائے منقسم نظر آئی، 37 فیصد نے جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی جبکہ 32 فیصد نے اسے غلط کہا اور 31 فیصد اس حوالے سے خاموش رہے۔

    جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے اسرائیلی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو جانا چاہتے تھے اور اس کے لیے سیز فائز ضروری تھا لیکن لبنانی شہریوں کی واپسی سے انہیں شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

    ایک اسرائیلی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی معاہدے سے واحد امید یہ ہے کہ حزب اللہ اب ان دیہاتوں پر حملہ نہیں کرے گی اور اپنا نیا نیٹ ورک تیار کرے گی۔

    ایک اور اسرائیلی شہری کا کہنا تھا کہ سیز فائر معاہدے کے باوجود سب سے بڑا خطرہ سکیورٹی کا ہے، یہ دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں رہ رہے ہیں، ہمیں نا تو امریکیوں اور نا ہی لبنانی فورسز پر بھروسہ ہے کہ وہ سرحد پر امن و امان قائم کریں گے، ہمیں صرف اپنی فوج پر بھروسہ ہے، اگر اسرائیلی فورسز یہاں کا کنٹرول نہیں سنبھالتیں تو یہ بہت ہی مشکل ہے کہ شہری واپس جائیں۔