Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بلا توقف جاری

    غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بلا توقف جاری

    اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شمالی غزہ سے ایک لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جنہیں بھوک پیاس، تکالیف، مایوسی اور موت کے خطرات کا سامنا ہے۔

    یو این کی رپورٹ کے مطابق علاقے میں اسرائیلی فوج کی بمباری اور زمینی حملے بدستور جاری ہیں۔ اس نے لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی بھی روک رکھی ہے اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کی متعدد درخواستوں کے باوجود امدادی مشن علاقے میں رسائی نہیں پا سکے۔امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہر طرح کے اشاریوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی غزہ کے حالات انتہائی تباہ کن ہو چکے ہیں۔علاقہ عملاً محاصرے میں ہے جہاں امدادی اداروں کو نہ تو رسائی مل رہی ہے اور نہ ہی ان کے لیے تحفظ کی کوئی ضمانت ہے۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی جاری ہے اور ایسے حالات میں امداد کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے.جینز لائرکے نے شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے امدادی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے حالات کی کچھ یوں منظرکشی کی ہے کہ جب کوئی ایسی صورتحال دیکھتا ہے تو کچھ کرنے کے لیے چھلانگ لگانا چاہتا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی کیونکہ اس کی ٹانگیں ٹوٹ چکی ہے۔جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی کے اجلاس میں عرب لیگ کی نمائندہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ اسرائیل کی جانب سے ‘انروا’ کو ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ ادارہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ناقابل انتقال حقوق اور مسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی برادری کے اتفاق رائے کی علامت ہے۔عرب لیگ کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ ‘انروا’ کے خلاف اسرائیل کی کوئی بھی جارحیت اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ سے متعلق کنونشن کی کھلی پامالی ہو گی۔’اوچا’ نے بتایا ہے مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کو محض نفاذ قانون کے اقدامات نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ شہریوں کے خلاف جنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔5 اور 11 نومبر کے درمیانی عرصہ میں اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں 11 فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ ان میں تین افراد فضائی حملوں میں مارے گئے۔ ایک واقعے میں اسرائیلی آباد کار نے حملہ آور فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ ایک فلسطینی شہری اپنے پاس موجود دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔اسرائیل کی فورسز نے مشرقی یروشلم میں مزید نو رہائشی عمارتیں منہدم کر دی ہیں جن میں رہنے والے 23 بچوں سمیت 50 فلسطینی بے گھر ہو گئے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں، ان سے بدسلوکی اور توہین آمیز سلوک کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعات گزشتہ مہینے پناہ گزینوں کے کیمپوں اور قصبوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران پیش آئے۔حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حکام نے راملہ میں جانچ پڑتال کی متعدد چوکیاں روزانہ چند گھنٹوں کے لیے دوبارہ کھول دی ہیں اور علاقے تک رسائی میں حائل کڑی رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔کمیٹی کے اجلاس میں متعدد مندوبین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ‘انروا’ کے خلاف پابندی سے متعلق قوانین کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا۔

    برطانیہ اور سندھ یکساں تخلیقی روایاں رکھتے ہیں، مراد علی شاہ

    وزارت داخلہ کا غیرقانونی وی پی اینز کی بندش کیلئے خط، اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت

  • لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی میں گزشتہ روز مزید 6 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران ایک کیپٹن سمیت 6 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنانی سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مزید توسیع کا اعلان کیا تھا، اور یہ اسرائیلی فوج کا پہلا بڑا جانی نقصان ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق، فوجی ایک سرحدی گاؤں میں واقع عمارت میں کارروائی کے دوران حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے تمام فوجی گولانی بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک 47 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں
    لبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل کے اطراف میں اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائیاں جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جھڑپیں ایترون گاؤں کے قریب اور عیناتا گاؤں کی سمت میں ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔دوسری جانب، جنوبی لبنان کے حباریہ گاؤں میں اسرائیلی فضائی بمباری سے ایک کسان، یاسین عبداللہ ابو قیس، ہلاک ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے 146ویں ڈویژن کے لیے شمال مشرقی نیٹیو حیشیارا سیٹلمنٹ اور نہاریا شہر کے مشرق میں ایک لاجسٹک بیس پر میزائل حملہ کیا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی سرحدی پوسٹ، جَل العالَم اور شہر نہاریا پر بھی راکٹ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی فوج نے بیروت کے مضافاتی علاقوں حریت حرک اور برج البراجنہ سے مقامی افراد کو نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بیروت کے علاقے شوفیحات، العَمروسیہ اور غوبیریہ سے بھی اسی طرح کے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی ڈرون کا ایک حملہ بھی اس علاقے میں ہوا۔اسرائیلی فوج نے نگیو کے علاقے میں واقع غیر تسلیم شدہ گاؤں ام المسمیر پر دھاوا بول کر وہاں کی آخری عمارت، ایک مسجد، کو منہدم کر دیا، جس کی تصدیق فلسطینی نیوز ایجنسی وفا نے کی ہے۔

    دریں اثناء، اسرائیل کی آبادکاری کی وزیر اورریٹ اسٹروک نے ایک اسرائیلی اخبار "یدعوت احرونوت” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں مزید زمینوں پر قبضہ کرنا چاہیے تاکہ حماس کو یہ سمجھا سکے کہ کچھ قیمتیں ایسی ہیں جو وہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ: اسرائیل کا جنگی رویہ نسل کشی کے مترادف
    اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی رویے کو "نسل کشی کے مترادف” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی، انسانی امداد کی رکاوٹ، اور شہریوں و امدادی کارکنوں پر حملے کے ذریعے جان بوجھ کر موت، قحط اور سنگین زخمیوں کو پیدا کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فضائی بمباری اور جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال نے خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو جنم دیا ہے، جو اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے کہ وہ شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق کرے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب تدابیر اپنائے۔اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل کے حملوں نے "ماحولیاتی تباہی” مچا دی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

  • ٹرمپ نے سی آئی اے سربراہ،اسرائیل میں سفیر کی نامزدگی کر دی

    ٹرمپ نے سی آئی اے سربراہ،اسرائیل میں سفیر کی نامزدگی کر دی

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ سمیت مشرق وسطیٰ کیلئے ایلچی اور اسرائیل میں اپنے سفیر کے کیلئے نامزدگیاں کردی ہیں

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے ڈونر اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اسٹیووٹکوف کو مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی ایلچی نامزد کیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف امن کیلئے ایک ان تھک آواز ہوں گے اور ہم سب کیلئے فخر کا باعث بنیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کیلئے ایلچی نامزد ہونے والے 67 سالہ اسٹیووٹکوف کو اس سے قبل باضابطہ سفارت کاری یا خارجہ پالیسی کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مغربی کنارے کے وجود سے انکاری اور حماس سے جنگ بندی کے مخالف اسرائیل نواز سابق گورنر مائیک ہکابی جان کو اسرائیل کیلئے امریکی سفیرنامزد کیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مائیک ہکابی بہترین پبلک سرونٹ اور گورنر رہ چکے ہیں، وہ اسرائیل سے محبت کرتے ہیں اور اسرائیل کے لوگ انہیں چاہتے ہیں،مائیک ہکابی کی بیٹی سارہ ہکابی سینڈرز اس وقت امریکی ریاست ارکنساس کی گورنر ہیں، وہ 2017 سے 2019 تک ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جان ریٹکلیف کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 سے 2021 کے دوران جان ریٹکلیف کو نیشنل انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر مقرر کیے جانے کے بعد ان پر تنقید کی جا رہی تھی کہ صدر ٹرمپ انٹیلی جنس ایجنسی کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر رہے ہیں،ڈونلڈ کی نئی انتظامیہ میں جیوئش امریکن لی زیلڈین انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے سربراہ ہوں گے، زیلڈین نے بائیڈن کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق قانون کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔

    واضح رہے کہ 5 نومبر 2024 کو امریکا میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دیکر دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تھے،ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

  • مغربی کنارے کو اگلے سال اسرائیل میں مکمل طور پر ضم کیا جائے گا،اسرائیلی وزیر

    مغربی کنارے کو اگلے سال اسرائیل میں مکمل طور پر ضم کیا جائے گا،اسرائیلی وزیر

    تل ابیب: اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بیتسالل اسموترچ نے کہا ہے کہ مغربی کنارے کو اگلے سال اسرائیل میں مکمل طور پر ضم کیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق وزیر خزانہ نے صحافیوں کے سوال پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرے گی، اگرچہ اس معاملے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے لیکن مستقبل کی امریکی حکومت کے ساتھ یہ معاملہ زیر بحث آسکتا ہے۔

    باخبر اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ٹرمپ کی جیت کو مغربی کنارے کے الحاق کا ایک بہترین موقع سمجھتی ہے اور یہ مسئلہ اس وقت اسرائیلی مقتدر حلقوں میں زیر بحث ہے۔

    ان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو 20 جنوری کو ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے فوراً بعد مغربی کنارے پر خودمختاری نافذ کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔

    دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کے کم از کم دو عہدیداروں نے سینیر اسرائیلی وزرا کو یہ خیال پیش کرنے کے خلاف متنبہ کیا ہےتین با خبر ذرائع نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ منتخب صدر اپنی دوسری مدت کے دوران مغربی کنارے کے اسرائیل کے الحاق کی حمایت کریں گے۔

    دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان کی جانب سے اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس قسم کے بیانات اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی نیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ کئی برسوں سے مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔

  • لبنان میں پیجر دھماکے ہم نے کروائے،اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    لبنان میں پیجر دھماکے ہم نے کروائے،اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    لبنان میں پیجر دھماکے اسرائیل نے ہی کروائے، اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کر لیا، اسرائیلی وزیراعظم نے حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ پر حملے کا بھی اعتراف کر لیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ کی کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں اور حسن نصراللہ پرحملوں کے پیچھے اسرائیل تھا،یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں پیجر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹایا تھا جس کے بعد اسرائیلی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کیا اور بتایا کہ انہوں نے حملوں پر اصرار کیا تھا جبکہ سابق وزیر دفاع حملوں کے خلاف تھے

    واضح رہے کہ 17 ستمبر کو لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے،

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    لبنان پیجر بم دھماکوں میں ملوث انڈین نژاد نارویجن شخص کے بین الاقوامی سرچ وارنٹ جاری

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ

    لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • وزیر دفاع کی برطرفی نیتن یاہو کو مہنگی پڑ گئی

    وزیر دفاع کی برطرفی نیتن یاہو کو مہنگی پڑ گئی

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے وزیر دفاع یواف گیلانٹ کی برطرفی کے خلاف اسرائیل کے مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق یواف گیلانٹ کی برطرفی کے خلاف تل ابیب، نہاریہ، حیفا اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے، مظاہرین نے وزیراعظم کے خلاف سخت نعرے بازی کی، اور ہزاروں مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر کے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں خطرہ ایران یا حزب اللہ سے نہیں، بلکہ اپنی حکومت سے ہے۔

    اسرائیلی پولیس نے احتجاج کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ 40 اسرائیلیوں کو بھی گرفتار کیا گیا،یہ مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر جب ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے جنگ کے دوران وزیر دفاع یواف گیلانٹ کو برطرف کر دیا تھا۔ یواف گیلانٹ کی جگہ موجودہ وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالیں گے، وزیراعظم کے دفتر سے جاری خط میں یواف گیلانٹ کو یہ اطلاع دی گئی کہ اس خط کی وصولی کے 48 گھنٹے بعد وہ وزیر دفاع کے عہدے سے برطرف ہو جائیں گے نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہمارے درمیان اعتماد تھا، لیکن گزشتہ کچھ مہینوں میں وہ اعتماد ختم ہو چکا ہے۔“ اس بیان نے حکومت میں موجود کشیدگی اور عوامی عدم اعتماد کی عکاسی کی ہے، جو کہ ملک کے موجودہ سیکیورٹی حالات میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

  • اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ کے دوران وزیر دفاع کو برطرف کر دیا

    اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ کے دوران وزیر دفاع کو برطرف کر دیا

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دوران جنگ اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلانٹ کو برطرف کردیا۔

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے "اے پی” کے مطابق یوو گیلنٹ کی جگہ موجودہ اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالیں گے،وزیراعظم نے وزیردفاع یوو گیلنٹ کو ایک ایسے وقت میں برطرف کر دیاجب اسرائیل ایک سے زیادہ محاذوں پر جنگ میں الجھا ہوا ہے۔

    نئے وزیردفاع کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ وہ نئی ذمہ داریاں اسرائیلی ریاست اور اس کے شہریوں کی سکیورٹی کے لئے مشن اور مقدس فرض سمجھ کر سرانجام دیں گے۔

    نیتن یاہو اور گیلنٹ کئی مرتبہ غزہ جنگ کے معاملے پر آمنے سامنے آئے ہیں تاہم نیتن یاہو نے اپنے حریف وزیر دفاع کو برطرف کرنے سے گریز کیا تھاوزیردفاع کو برطرف کرنے کے اعلامیے میں نیتن یاہو نے برطرفی کی وجہ ان کے اور وزیر دفاع کے درمیان اعتماد کے فقدان اور اختلافات کو قرار دیا۔

    نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’جنگ کے بیچ میں وزیراعظم اور وزیردفاع کے درمیان مکمل اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی ہے کہ جنگ کی شروعات کے مہینوں کے دوران دونوں کے درمیان پورا اعتماد تھا اور بہت ہی ثمرآور کام بھی ہوا تاہم بعد کے مہینوں میں یہ اعتماد ختم ہوگیا، گیلانٹ نے ایسے بیانات دیے جو حکومت اور کابینہ کے فیصلوں سے متصادم تھے-

    دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو سیاسی مفادات کے لیے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

    وزیر اعظم نیتن یاہو کی طرف سے برطرفی کے بعد یوو گیلنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریاست اسرائیل کی سلامتی ہمیشہ سے میری زندگی کا مشن تھا، اور رہے گا،ایک ٹیلی ویژن بیان میں، انہوں نے کہا کہ ان کی برطرفی تین چیزوں پر تنازعہ کا نتیجہ ہے: الٹرا آرتھوڈوکس ملٹری سروس کا مسئلہ، غزہ میں یرغمالیوں کو چھوڑنا، اور حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کی سرکاری تحقیقات کا مطالبہ کرنا-

    اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر نے اس فیصلے کی حمایت کرتےہوئے کہا کہ یواف گیلانٹ ’جیت‘ میں ایک رکاوٹ تھے۔

    سی این این کے مطابق گیلنٹ کی برطرفی کے بعد تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر حصوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جب نیتن یاہو نے مجوزہ عدالتی اصلاحات کی مخالفت پر گزشتہ سال پہلی بار گیلنٹ کو برطرف کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملک گیر مظاہرے ہوئے، نیتن یاہو کے اعلان کے چند منٹ بعد ہی اپوزیشن لیڈروں نے اسرائیلیوں سے احتجاج میں سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا۔
    israel
    یروشلم اور تل ابیب میں مظاہرے پھوٹ پڑے یروشلم میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرین نے "شرم کرو” کے نعرے لگائے، تل ابیب میں، مظاہرین نے ایک مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا جبکہ غزہ میں یرغمالیوں کے اہل خانہ نے وزیر اعظم کا عرفی نام استعمال کرتے ہوئے "بی بی ایک غدار ہے” کے نعرے لگائے۔
    neetan
    ایک اسرائیلی شہری جن کا بیٹا متان ابھی بھی غزہ میں ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ "جنگ کے دوران گیلینٹ کو فارغ کرنا اور ایک ایسے آدمی جس کے پاس سیکورٹی سے متعلق تجربہ نہیں ہے، کو اس جگہ پر مقرر کرنا، یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ کوئی بھی کھڑا نہیں ہو گا۔” نیتن یاہو کے پاس جوکہ انہیں ڈیل کرنے اور جنگ کو طول دینے سے روکیں۔

    اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے اسے ’’پاگل پن کا عمل‘‘ قرار دیا کہا کہ "نیتن یاہو اپنی حقیر سیاسی بقا کے لیے اسرائیل کی سیکورٹی اور آئی ڈی ایف (اسرائیل ڈیفنس فورسز) کے سپاہیوں کو بیچ رہے ہیں”جنگ کے درمیان میں یووگیلنٹ کی برطرفی پاگل پن ہے”۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کے برطرف وزیردفاع گیلنٹ اور وزیراعظم نیتن یاہو دونوں دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن غزہ میں گزشہ ایک برس سے جاری جنگ کے دوران دونوں کے درمیان انتہائی کشیدگی جاری تھی –

  • اسرائیل آئندہ دو ہفتوں میں لبنان کے محاذ پر جنگ ختم کرنے کا سوچ رہا ہے،اسرائیلی میڈیا

    اسرائیل آئندہ دو ہفتوں میں لبنان کے محاذ پر جنگ ختم کرنے کا سوچ رہا ہے،اسرائیلی میڈیا

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل آئندہ دو ہفتوں میں لبنان کے محاذ پر جنگ ختم کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق اسرائیلی ٹی وی ‘چینل 12’ پر اتوار کی شام نشر ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل یہ باور کرا چکا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم یہ بھی لگتا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کا سوچ رہا ہے۔

    رپورٹ میں ایک سینئر اسرائیلی ذمے دار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 10 سے 14 روز میں شمالی محاذ پر معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے،ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز لبنان کے ساتھ سرحد کا دورہ کیااس موقع پر انہوں نے شمالی اسرائیل میں امن کی واپسی کے عزم کا اظہار کیا خواہ یہ "معاہدے کے ذریعے ہو یا اس کے بغیر”۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے پیچھے دھکیلنا اسرائیلی آبادی کی واپسی کے لیے بنیادی امر ہے انہوں نے زور دیا کہ وہ حزب اللہ کو زندہ رکھنے کے لیے شام کے راستے آنے والی ایرانی "آکسیجن” منقطع کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

    ادھر نئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں غزہ کی پٹی جیسا منظر نامہ بنانے کی کوشش میں ہے یہاں کے 11 قصبوں اور دیہات میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیل چکی ہے کئی ماہرین نے باور کرایا ہے کہ شاید اسرائیل کا مقصد آبادی سے خالی ایک بفر زون قائم کرنا ہے یہ حکمت عملی اس نے غزہ کے ساتھ اپنی پوری سرحد پر بھی نافذ کی تھی۔

    یو اے ای میں دھند کا راج،ریڈ اور یلو الرٹ جاری

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت آنے کے بعد تقریبا دس لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں ان میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی لبنان سے ہے بعض لبنانیوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل 25 برس قبل جنوبی لبنان کی آزادی کے 25 برس بعد دوبارہ سے اس کے بعض حصوں پر قبضہ کر لے گا۔

  • جنوبی غزہ  میں  2 اسرائیلی فوجی ہلاک،1 شدید زخمی

    جنوبی غزہ میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک،1 شدید زخمی

    جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کے 2 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی فوج کی جانب سے تصدیق کی گئی ہےکہ ہلاک ہونے والے دونوں فوجیوں کا تعلق گیواتی بریگیڈکی شیکڈ بٹالین سے تھا فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں شیکڈ بٹالین سے تعلق رکھنے والا ایک فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے گزشتہ ایک سال سے جاری غزہ جنگ میں مجموعی طور پر780 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے اکتوبر کا مہینہ رواں سال کا سب سے زیادہ مہلک مہینہ رہا ہے جنوبی لبنان میں جاری زمینی آپریشن میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 37 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے غزہ میں جاری جنگ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں مجموعی طور پر 19 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ایک اسرائیلی فوجی حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ غزہ میں ایک اسرائیلی قیدی کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں اسرائیل کے اندر فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں 9 اسرائیلی شہری اور 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ان میں سے سب سے زیادہ مہلک حملہ یکم اکتوبر کو تل ابیب کے قریب ہوا جس میں 7 اسرائیلی ہلاک ہوئے اکتوبر میں اسرائیل پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں میں مجموعی طور پر 13 شہری ہلاک ہوئے جبکہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں 6 اسرا ئیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے، غزہ اور لبنان میں ہونے والی زمینی جنگ، ڈرون اور راکٹ حملوں اور اسرائیل کے اندر فلسطینی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں اکتوبر کے مہینے میں فوج اور پولیس کے اہلکاروں اور شہریوں سمیت 88 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

  • اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی فوج نے حماس کے سینئر رہنما عزالدین قصاب کو بھی شہید کر دیا

    حماس نے خان یونس میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو سینیئر ارکان کی شہادت کا اعلان کیا ہے، عزالدین قصاب انٹرنل کمیونیکیشن آفس کے رکن اور غزہ میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی پیروی کی کمیٹی کے رکن تھے،ایمن عیاش غزہ کی پٹی میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی فالو اپ کمیٹی کی رکن تھے۔اسرائیلی فوج نے بیت لاہیہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں بمباری کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید ہو گئے۔ نصیرت کیمپ کے اطراف بھی ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی، جس کے باعث 26 فلسطینیوں کی جانیں گئیں۔

    واضح رہے کہ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے 778 افسران اور اہلکار مارے جا چکے ہیں، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے کی ہے،ہ غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپوں میں 366 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل اور لبنان میں حملوں کے نتیجے میں 62 فوجی جان کی بازی ہار گئے، اور 58 اسرائیلی پولیس افسران بھی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور انسانی جانوں کے نقصان پر گہری افسوس کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو اس تشدد کے سلسلے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بے گناہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔