Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں پروازیں بحال

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں پروازیں بحال

    ایرانی فضائی دفاعی نظام نے تہران، خوزستان، اور ایلام کے صوبوں میں فوجی مقامات پر اسرائیلی حملوں کو کامیابی سے روک دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، ان کارروائیوں کی بدولت کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جو جاری کشیدگی کے درمیان ایک نمایاں دفاعی کامیابی ہے۔

    مقامی لوگوں نے تہران کے نواح میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ اقدامات اسرائیلی ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں اٹھائے گئے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک ذریعہ نے کہا، "ہمارے فضائی دفاعی دستے دشمنانہ اہداف کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے، اور کوئی اہم تنصیبات متاثر نہیں ہوئیں۔”

    سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کے آس پاس آسمان میں روشنی پھیل گئی جب میزائلوں نے آنے والی دھمکیوں کو روکا۔احتیاط کے طور پر، ایران نے مہرباد اور امام خمینی ایئرپورٹ سے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں، جن کی بحالی صبح 9:00 بجے مقامی وقت پر ہوئی، جیسا کہ سول ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان جعفر یزرلو نے تصدیق کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے بعد سخت حفاظتی پروٹوکولز موجود ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو انہوں نے ایرانی میزائل خطرات کے خلاف خود دفاع کے طور پر بیان کیا ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور کوئی نقصان نہیں ہوا،اسلامی جمہوریہ کسی بھی غیر ملکی خطرات کے خلاف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے چوکس اور پُرعزم ہے۔

    جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

  • جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،ایران

    ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی ‘جارحیت’ کا مقابلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    رات گئے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے،امریکی ساختہ F35 جہازوں سے بعض ایرانی فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے،ایران نےکئی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے،اسرائیل نے یکم اکتوبر کے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد 26 اکتوبر کی صبح تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملہ کیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ تہران اور اس کے قریبی شہر کرج میں 5 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کو متناسب جواب کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ایران کسی بھی ‘جارحیت’ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ تہران کے قریب 3 مختلف مقامات پر حملوں کو ناکام بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔

    دوسری جانب، ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاسداران انقلاب کا کوئی دفتر نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام ہوائی اڈوں پر صورتحال معمول کے مطابق ہے، تاہم ایران نے اگلے نوٹس تک اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    علاوہ ازیں ایران نے اسرائیلی میزائل حملے ناکام بنانے کی ویڈیو جاری کی ہے،اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ائیر پورٹ سمیت شیراز اور کرج شہر میں فضائی حملے کیے ہیں، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی مکمل کرلی ہے، ایران میں طے شدہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور اسرائیل کو درپیش فوری خطرات کو دور کر دیا گیا، ایران نے ان حملوں کے جواب میں حملے کیے تو جواب دیا جائے گا۔

  • اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    اسرائیل نے یکم اکتوبر کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں ایرانی دارالحکومت تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے تہران میں متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جہاں تہران اور قریبی شہر کرج میں پانچ دھماکوں کی آوازیں سنائی گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ دھماکے پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کے قریب ہوئے۔ اسرائیلی حملوں کے بعد کئی مقامات پر آگ لگنے کی بھی اطلاعات ہیں، اور ایک عمارت میں آگ لگنے کی خبر ہے، حالانکہ تہران کے فائر بریگیڈ نے وضاحت کی ہے کہ اس عمارت کا وزارت دفاع سے کوئی تعلق نہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایک اہم سیکیورٹی عمارت میں دھماکے ہوئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا کہ اس عمارت سے دس سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ کرج وہ شہر ہے جہاں ایران کے نیوکلیئر پاور پلانٹس واقع ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔اسرائیل نے حملے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو آگاہ کر دیا تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس کے مطابق، اس فضائی حملے میں کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور خطے میں اس کی پراکسیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دمشق کے مختلف علاقوں اور عراق کے شہر تکریت میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں، اور اس وقت دونوں ممالک کی فضاؤں میں کوئی طیارہ موجود نہیں تھا۔

    ایرانی انٹیلی جنس حکام نے بتایا ہے کہ دھماکوں کی وجہ ممکنہ طور پر ایران کے فضائی دفاعی نظام کا فعال ہونا ہو سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کا کوئی دفتر نشانہ نہیں بنایا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق، تہران ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکے ہوئے، اور ان دھماکوں کی اطلاعات پر ایرانی فضائی حدود سے پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اپنے دفاع کی مشق ہیں، اور صدر بائیڈن کو اس کارروائی سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے وضاحت کی کہ اس حملے کا مقصد اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کو مضبوط کرنا ہے، اور یہ یکم اکتوبر کو ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب ہے۔

    یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ کس طرح یہ تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے انکشاف کیا ہے کہ الجزیرہ کے چھ صحافی حماس اور فلسطین اسلامی جہاد کے ساتھ کام کرتے ہیں

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے چھ صحافی حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے رکن ہیں۔ غزہ سے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات اور متعدد دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 6 صحافیوں کا غزہ کے عسکری گروپوں سے تعلق ہے،اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو ملنے والی دستاویزات میں دہشت گردی کے تربیتی کورسز کی فہرستیں، فون ڈائریکٹریز، اور دہشت گردوں کے لیے تنخواہ کے دستاویزات” شامل ہیں۔ دستاویزات "غیر واضح طور پر ثابت” کرتی ہیں کہ صحافی حماس اور اسلامی جہاد کے متعلقہ عسکری ونگز کے ارکان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جن صحافیوں کو آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کارندوں کے طور پر ظاہر کیا ہے، وہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق الجزیرہ میں خاص طور پر شمالی غزہ میں حماس کے لیے پروپیگنڈے کی سربراہی کرتے ہیں۔چھ صحافیوں کی شناخت انس جمال محمود الشریف، علاء عبدالعزیز محمد سلامہ، حسام باسل عبدالکریم شباط، اشرف سمیع احسور سراج، اسماعیل فرید محمد ابو عمرو اور طلال محمود عبدالرحمن اروکی کے نام سے ہوئی ہے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق انس الشریف ایک راکٹ لانچنگ اسکواڈ کا سربراہ اور حماس کی نصرت بٹالین میں نخبہ فورس کمپنی کا رکن تھا۔ علاء سلامہ شبورہ بٹالین کے اسلامی جہاد کے پروپیگنڈہ یونٹ کے نائب سربراہ تھے۔ شبات حماس کی بیت حنون بٹالین میں ایک سنائپر تھا، اشرف سراج اسلامی جہاد کی بوریج بٹالین کا رکن تھا۔ ابو عمرو مشرقی خان یونس بٹالین میں ٹریننگ کمپنی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اور عبدالرحمن اروکی حماس کی نصرت بٹالین میں ٹیم کمانڈر تھے۔اسماعیل ابو عمرو رواں سال فروری میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت الجزیرہ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کے عسکری گروپوں سے روابط ہیں۔

    اس سال مئی میں بنجمن نیتن یاہو حکومت نے حماس کے حامی پروپیگنڈے پر اسرائیل میں الجزیرہ چینل کی نشریات کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے رام اللہ میں الجزیرہ بیورو کو بھی بند کر دیا تھا۔

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • اسرائیل کا حالیہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فیصلہ کن منصوبہ تیار

    اسرائیل کا حالیہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فیصلہ کن منصوبہ تیار

    تل ابیب: اسرائیل نے حالیہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں ایک فیصلہ کن منصوبہ تیار کر لیا ہے-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا نے اسرائیلی چینل 14 کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ یہ منصوبہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ پر حالیہ حملے کی جوابی کارروائی کے طور پر تیار کیا گیا ہے منصوبے میں ایرانی عہدیداروں کی رہائش گاہیں، ایرانی تیل کی تنصیبات، فوجی مقامات، اور سرکاری عمارتیں شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج اور غیر ملکی انٹیلی جنس سروس نے ایک تفصیلی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی شامل ہے اس منصوبے کی تفصیلات صرف چند عہدیداران کے پاس ہوں گی، اور ایرانی اہداف پر حملے سے کچھ دیر قبل پائلٹس کو ہدف کی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

    پاکستان اور سعودی عرب کا اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا عزم

    یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ذاتی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی اطلاعات دی تھیں اس سے پہلے، ایران نے اسرائیل پر 400 بیلسٹک میزائل داغے تھے، جس کے نتیجے میں اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے تھے اور عوام نے بنکرز میں پناہ لی تھی۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کو اس طرح جواب دے کہ خطے میں زیادہ کشیدگی نہ ہوامریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور اسرائیل سے سعودی عرب روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقت آگیاہے کہ کامیابیوں کوپائیدارسٹریٹجک کامیابی میں بدل دیاجائے۔

    250 سال قبل تانبے کی پلیٹوں پر کندہ کی گئی ڈوڈلز کی …

    اسرائیل حماس جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اب ہمیں یرغمالیوں کی واپسی، جنگ کے خاتمے اور اس کے بعدکی پلاننگ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے خطے میں مختلف سمت کی جانب بڑھنے کا یہ غیرمعمولی موقع ہے،اسرائیل کے ایران پر حملے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا اسرائیل ایران کو اس طرح جواب دےکہ خطے میں زیادہ کشیدگی نہ ہو۔

  • خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    غزہ میں اسرائیلی بربریت ،کفن کم پڑ گئے، فلسطینی وزارت صحت نے کفن بھجوانے کی اپیل کر دی

    فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت جاری ہے، سات اکتوبر کو گزشتہ برس حماس کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی غزہ پر بمباری کر رہا ہے، فلسطین میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، گھر مسمار، سکول تباہ، ہسپتال ملیا میٹ کر دیئے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، ایسے میں فلسطینی وزارت صحت نے عالمی دنیا سے اپیل کی ہے کہ اگر کچھ اور نہیں بھیج سکتے تو کم از کم کفن ہی بھیج دیں،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہسپتالوں میں کفن ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لاشوں کو کمبل سے ڈھانپا جا رہاہے،ہمیں کفن بھجوائے جائیں،کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت نہیں کیونکہ اسرائیل ہمیں بھی قتل کر دے گا، ہمیں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء کی لاشیں ڈھانپنے کے لیے کچھ کفن بھیج دیں تاکہ آپ ہمارے خون اور زخم دیکھ کر بیزار نہ ہوں

    دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے،غزہ میں لگ بھگ 2 لاکھ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، غزہ کی 8 فیصد آبادی ماری جا چکی ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں اور چند اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • اسرائیلی فوج  کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ

    بیروت: اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ ہاشم صفی الدین کو تین ہفتے پہلے بیروت پر حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا-

    ہاشم صفی الدین حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے کزن ہیں اور سید حسن نصراللہ کو اس سے پہلے شہید کیا جا چکا ہے یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے سابق سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے بعد حزب اللہ کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدیدار کے قتل کی تصدیق کی، تاہم حزب اللہ کی جانب سے ابھی تک اسرائیل کے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رہنے تک مذاکرات سے صاف انکار کر دیا،حزب اللہ کے میڈیا ونگ کے سربراہ محمد عفیف نے بیروت کے جنوبی مضافات میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم نیتن یاہو کے گھر کو نشانہ بنانے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم …

    محمد عفیف نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پچھلی بار ہمارے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکے لیکن ہمارے درمیان میدانِ جنگ باقی ہے اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی کے دوران ہمارے کچھ جنگجوؤں کو حراست میں لے لیا اور اب ان کی خیریت کا وہی ذمہ دار ہے، اگرچہ حزب اللہ نے کسی اسرائیلی فوجی کو گرفتار نہیں کیا لیکن اب قریب آگئے ہیں، دشمن کے اسیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

    واضح رہے کہ غزہ پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد جہاں اسرائیلی فوج نے فلطسینیوں کی نسل کشی شروع کی وہیں لبنان پر بھی اس کے کچھ عرصے بعد حملے شروع کیے گئے جن میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد لبنانی جاں بحق ہوچکے ہیں اور 12 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • اسرائیل کا وحشیانہ قتل عام جاری،شمالی غزہ کے اسپتالوں میں کفن ختم ہو گئے

    اسرائیل کا وحشیانہ قتل عام جاری،شمالی غزہ کے اسپتالوں میں کفن ختم ہو گئے

    شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نشل کشی جاری، اسرائیلی جارحیت اور قتل عام اس قدر بڑھ چکا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں شہید فلسطینوں کی لاشوں کو دفنانے کیلئے کفن ختم ہوچکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش جو اس وقت شمالی غزہ میں موجود ہیں کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے کئی زخمی شہید ہوگئے اور ہم ان کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے اسپتالوں میں کفن ختم ہوچکے ہیں اور ہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں موجود کپڑے عطیہ کریں۔

    عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی حکام اور سول سروسز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والے درجنوں افراد کی لاشیں سڑکوں پر بکھری ہوئی ہیں یا عمارتوں کے ملبے میں دبی ہوئی ہیں تاہم مسلسل بمباری کے باعث ان تک پہنچنا مشکل ہورہا ہے۔

    عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آج صبح سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہو چکے ہیں ان میں سے 37 شمالی غزہ میں مارے گئے، اسرائیلی فوج شمالی غزہ میں 18 روز سے جاری محاصرے کے دوران 640 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہے۔

    دوسری جانب شمالی غزہ کے زیر محاصرہ علاقے جبالیہ کے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امداد نہ پہنچی تو آئندہ چند گھنٹوں میں اسپتال میں موجود زخمی زندہ نہیں بچیں گے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے دنیا فوری طور پر ادویات، امداد اور طبی عملے کی فراہمی کےلیے اقدامات کرے اگر ایسانہ کیا گیا تو آئندہ چند گھنٹوں میں زخمی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، گلیوں میں جو کوئی نظر آتا ہے اس پر گولی چلائی جاتی ہے، یہاں موجود لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 42 ہزار 600 سے زائد افراد، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں جبکہ99 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  • اسرائیلی حملے کا خدشہ: حزب اللہ کے عبوری سربراہ ایران منتقل

    اسرائیلی حملے کا خدشہ: حزب اللہ کے عبوری سربراہ ایران منتقل

    بیروت: لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم ممکنہ اسرائیلی حملوں کے پیش نظر لبنان سے ایران منتقل ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم 5 اکتوبر کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے زیر استعمال طیارے میں بیروت سے تہران کے لیے روانہ ہوئے ایرانی وزیر خارجہ اُن دنوں لبنان اور شام کے سرکاری دورے پر آئے تھے۔ تاہم حزب اللہ اور ایران کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نعیم قاسم نے 27 ستمبر کو اسرائیل کے ہاتھوں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد سے 3 تقاریر کی جن میں سے دو تقریریں ایران سے کیں، ایرانی اعلیٰ قیادت کی جانب سے حزب اللہ کے عبوری سربراہ کو اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نعیم قاسم کو بیروت سے تہران منتقل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رہے کہ حماس کے ساتھ جنگ ​​کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل حسن نصر اللہ سمیت حزب اللہ کے کئی صف اوّل کے رہنماؤں کو قتل کرچکا ہےحزب اللہ کی موجودہ قیادت میں سے عبوری سربراہ نعیم قاسم وہ واحد رہنما ہیں جو تنظیم کے بانی ارکان میں سے ہیں اور عوام میں نہایت مقبول ہیں۔