Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، تل ابیب میں شدید تشویش

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، تل ابیب میں شدید تشویش

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری میں ممکنہ پیش رفت نے تل ابیب میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ کسی حتمی معاہدے کی صورت میں امریکا ایران کو اہم رعایتیں دے سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی انتظامیہ کے حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکےایک اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ ان رابطوں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ اس وقت مذاکرات میں کن نکات پر بات چیت ہو رہی ہے اور کون سی تجاویز زیر غور ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے آخری مرحلے میں ایران کو بعض اہم رعایتیں دے سکتا ہے خاص طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے امکانات اسرائیلی خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو معمول کے مطابق امریکی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ مذاکرات کی صورتِ حال سے آگاہ رہیں اسرائیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا نے انہیں کسی غیر متوقع صورتِ حال سے دوچار نہیں کیا۔

    ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ نیتن یاہو مسلسل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ان مذاکرات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہیں، جن میں سب سے اہم ایران کے جوہری مواد کا خاتمہ ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل کی تشویش یہ بھی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک پر سخت پابندیاں برقرار رہیں، اوراسرائیلی فوج کو خطے میں خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی بھی حاصل رہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران معاہدہ قبول کر لے تو جنگ ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی تاہم انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے انکار کی صورت میں شدید حملے کیے جائیں گے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں کہا کہ تہران امریکا کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے ان تجاویز پر غور کے بعد ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔

  • ایران پر  امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    ایران پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں حملے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

    یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد ایرانی اہداف نشانے پر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے پہلے ہی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے،ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے،اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں ایران کے وسطی اور مغربی حصوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

    صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

    اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

  • اسرائیلی ٹیلی کام نیٹ ورکس کو عالمی سطح پر نگرانی کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف

    اسرائیلی ٹیلی کام نیٹ ورکس کو عالمی سطح پر نگرانی کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف

    2026 کی ایک تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی ٹیلی کام انفراسٹرکچر بشمول 5G اور پرانے نیٹ ورکس کو عالمی نگرانی کے لیے استعمال کیاجاتا ہےجو تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ اور ناروے جیسےممالک میں 15,700 سےزیادہ فون لوکیشنز کو ٹریک کرتا ہےیہ سسٹم سگنلنگ سسٹمز (SS7/Diameter) کا استحصال کرتا ہے تاکہ نیٹ ورک تک رسائی کو ٹریکنگ ٹولز میں تبدیل کیا جا سکے، جس میں نجی اسرائیلی کنٹریکٹرز اور انٹیلی جنس یونٹس سے رابطے ہوتے ہیں۔

    اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع ہونیوالی اس تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کو گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا کے 10 سے زائد ممالک میں افراد کی نگرانی اور لوکیشن ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہےکینیڈا میں قائم ڈیجیٹل ریسرچ گروپ سٹیزن لیب کی تحقیقات کے مطابق 1970 کی دہائی میں قائم نیٹ ورکس سے لے کر جدید 5 جی سسٹمز تک کو جدید اسپائی ویئر پروگرامز کے ذریعے ’ٹریکنگ ڈیوائسز‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔

     رپورٹ کے مطابق نومبر 2022 سے اب تک تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، ناروے، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سمیت 10 مختلف ممالک میں فون کی لوکیشن معلوم کرنے کی 15 ہزار 700 سے زائد کوششیں کی گئیں یہ کارروائیاں اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے انجام دی گئیں۔

    تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کوگنائٹ کی پیرنٹ کمپنی ویرنٹ نے کانگو کی جمہوریہ کے ایک سرکاری ادارے کو ای ایس 7 پر مبنی ’اسکائی لاک‘ نامی ٹریکنگ سسٹم فروخت کیا مزید برآں، سوئٹزرلینڈ کی ٹیلی کام کمپنی فنک ٹیلی کام سروسز نے رے زون گروپ جیسی اسرائیلی نگراں کمپنیوں کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ موبائل آپریٹرز کی نقالی کرتے ہوئے پرانے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کریں۔

    اس طریقے سے ایس ایس 7 سگنلنگ پروٹوکول کے ذریعے دنیا بھر میں صارفین کی نگرانی ممکن بنائی گئی ایس ایس 7 دراصل ایک پرانا سسٹم ہے جو کالز اور میسجز کی روٹنگ، بین الاقوامی رومنگ اور مختلف موبائل آپریٹرز کے درمیان رابطہ ممکن بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اسے نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا جدید 4جی اور 5جی نیٹ ورکس کو چلانے والے ڈایا میٹر سسٹمز کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    تحقیقات میں ایک اہم سائبر حملے کی تکنیک ’سم جیکنگ‘ کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے تحت صارف کو نظر نہ آنے والا ایک خفیہ ایس ایم ایس بھیج کر اور اس میں موجود کمانڈ کے ذریعے سم کارڈ کو فون کی لوکیشن شیئر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اسرائیلی کمپنیوں 019 موبائل اور پارٹنرز کمیونیکیشن کے نیٹ ورکس کے ذریعے بھی فون ٹریکنگ کی گئی –

    تاہم 019 موبائل نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ورچوئل آپریٹر ہے اور ممکن ہے کہ اس کی شناخت کو غلط استعمال کیا گیا ہو جبکہ ایکسزیلیرا ٹیلی کام، پارٹنرز کمیونیکیشن، فنک اور کوگنائٹ ویرینٹ سمیت دیگر متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی بمباری، 41 افراد شہید

    اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی بمباری، 41 افراد شہید

    لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 افراد شہید ہو گئے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 41 افراد شہید ہوئے ہیں یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب 17 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، مارچ سے جاری کشیدگی کے بعد مجموعی شہادتوں کی تعداد 2,659 جبکہ 8,183 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج نے متعدد فضائی حملے کیے، جن میں نبطیہ، بنت جبیل، شوکین، کفر دجال اور دیگر علاقے شامل ہیں ان حملوں میں رہائشی مکانات اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق نبطیہ کے علاقے شوکین پر حملے میں 3 افراد، جبکہ کفر دجال پر گاڑی کو نشانہ بنانے سے 2 افراد شہید ہوئے اسی طرح لوازیہ میں ایک گھر پر حملے میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اسرائیلی فضائیہ نے نبطیہ کے قریب القدس چوک اور ضلع ٹائر کے علاقے صدیقین کے گرد بھی حملے کیے، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا۔

    دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیں، تاہم مقامی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والوں میں عام شہری شامل ہیں ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

  • اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    گزشتہ دنوں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ،حراست میں لیے گئے افراد میں ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سائف ابو کشک بھی شامل ہیں جبکہ سپین اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کو باضابطہ درخواست پیش کرے گا۔

    اسپین کے وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر سائف ابو کشک کو رہا کرے ابو کشک کو برازیل کے کارکن تھیاغو آویلا کے ساتھ اسرائیل کے جنوبی شہر اشکلون میں حراست میں رکھا گیا ہے قانونی امدادی تنظیم “لیگل سینٹر فار عرب مائنارٹی رائٹس اِن اسرائیل (عدالہ)” کے مطابق دونوں افراد نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر دی ہےانکے نمائندوں نے دونوں کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران مار پیٹ، آنکھوں پر پٹی اور تنہائی میں رکھنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان پر ممکنہ طور پر حماس سے روابط کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے وزارت نے یہ بھی کہا کہ انہیں قونصلر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

    اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری جاری رکھے گا، اور اسرائیل سے ہسپانوی شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسپین اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے حوالے سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مسلسل اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا ہے-

  • ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران کے صوبے زنجان میں جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے گرائے گئے نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز اُس وقت پیش آیا جب خصوصی ڈیمولیشن یونٹس ایک حساس مشن پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد علاقے میں موجود نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی نشاندہی کرکے ناکارہ بنانا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کلسٹر بموں اور دیگر بارودی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد زنجان کے وسیع علاقے کو خطرات لاحق ہو گئے تھے اس بارودی مواد کے باعث زرعی زمینوں سمیت تقریباً 1200 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔

    بیان کے مطابق ان ہی خطرات کے پیش نظر خصوصی یونٹس نے انتہائی احتیاط اور مہارت کے ساتھ بارودی مواد کی تلاش، صفائی اور ناکارہ بنانے کا آپریشن شروع کیا تھا ٹیمیں اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھیں کہ اسی دوران ایک مقام پر بارودی مواد اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان ہوا تمام جاں بحق اہلکار تربیت یافتہ، تجربہ کار اور ماہر افراد تھے جو خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک خصوصی ٹیمیں 15 ہزار سے زائد نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنا چکی ہیں، تاہم اب بھی کئی علاقوں میں بارودی مواد موجود ہےیہ ہتھیار بین الاقوامی کنونشنز کے تحت ممنوع تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان کے چھوٹے چھوٹے حصے برسوں تک خطرہ بنے رہتے ہیں، کلیئرنس آپریشن کے دوران یہ مواد زمین کے نیچے تقریباً تین میٹر گہرائی میں بھی دفن پایا گیا، جس کی نشاندہی اور ناکارہ بنانے کا عمل انتہائی خطرناک تھا۔

  • سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا

    سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا

    سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا ہے-

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ میں شامل 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہےہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلی نژاد تھیاگو آویلا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ ان کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے ہے جس پر امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں کارکن ’پاپولر کانفرنس فار فلسطینی ابراڈ‘ منسلک ہیں، جس پر واشنگٹن نے حماس کے لیے خفیہ طور پر کام کرنے کا الزام لگایا ہے، ابو کشک مذکورہ تنظیم کے اہم رکن ہیں جبکہ تھیاگو آویلا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں اسرائیل میں مقیم ان دونوں ممالک کے قونصلر نمائندے جلد ان سے ملاقات کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس امدادی بیڑے میں 50 سے زائد کشتیاں شامل تھیں جنہوں نے فرانس، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لیے سفر شروع کیا تھا،فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے ایک ہزار کلومیٹر دور بین الاقوامی سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے 211 کارکنوں کو حراست میں لیا اور ان کے ساز و سامان کو نقصان پہنچایا۔

    اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے درجنوں کارکن جمعہ کے روز یونانی جزیرے کریٹ پر اترے پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی حراست میں لیے گئے افراد میں شامل تھے، تاہم نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کی رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔

  • حزب اللہ  نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فائبر آپٹک یا جدید FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز روایتی الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظاموں (جیسے آئرن ڈوم) سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ریڈیو سگنل کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کا سگنل جام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

    یہ ڈرونز طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو فیڈ کی بدولت انتہائی درست نشانہ بناتے ہیں ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی ٹینکوں، بالخصوص مرکاوا ٹینک، اور فوجی ٹھکانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،، جس کے باعث نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو جدید اور کم لاگت بنا کر میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہےیہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے خود ساختہ ریاست صومالی لینڈ میں اپنے پہلے سفیر کے تقرر کی منظوری دے دی ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے مائیکل لوٹم کو صومالی لینڈ میں اپنا پہلا سفیر مقرر کیا ہے۔ وہ اس وقت افریقہ کے لیے اسرائیل کے اقتصادی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے قبل آذربائیجان، کینیا اور قازقستان میں بطور سفیر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو نے دسمبر 2025 میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اس اقدام پر متعدد مسلم ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا اور خطے میں اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور تب سے وہ عملی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے، تاہم عالمی سطح پر اسے اب بھی صومالیہ کا حصہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور اسے محدود یا کوئی بین الاقوامی تسلیم حاصل نہیں، ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام مشرقی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔