Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔

  • اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بڑی طاقت قرار دے دیا۔

    غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھارت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو سراہا جبکہ دنیا بھر میں ایران اور لبنان پر حملوں کی وجہ سے اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے لیکن بھارت سے منفرد تعلقات کی تعریف کی اور ان تعلقات کو بڑی طاقت قرار دیا،کہا کہ ہمیں دنیا کے کئی ممالک میں اپنی قانونی حیثیت پر مسائل کا سامنا ہے لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے، بھارت میں اسرائیل کو دیوانہ وار تعاون مل رہا ہے، انتہائی دیوانہ وار تعاون مل رہا ہے۔

    مغربی کنارے میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران نریندر مودی سے اپنے تعلقات کی تعریف کی اور کہا کہ میرے خیال میں سب سے زیادہ فالوورز سب سے زیادہ ہیں، اتنے دنیا میں کہیں اور نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ یہ نیتن یاہو کی جانب سے بھارت میں اپنی مقبولیت سے متعلق یہ پہلا بیان نہیں ہے بلکہ اس سے قبل 2018 میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ نئی دہلی کے دورے کو انہوں نے ‘لوو فیسٹ’ قرار دیا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اب بھی اسرائیل کی عزت کی جاتی ہے، بھارت کی آبادی 1.4 ارب ہے اور وہاں اسرائیل بہت مقبول ہے، اسی طرح یہاں نریندر مودی کو پسند کیا جاتا ہے اور میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بھارت گیا جو محبت کا جشن تھا۔

  • مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل  کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔

    ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہےترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی، اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھاابراہم معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔

    ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے تجارت معطل کرتے وقت اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتلِ عام روکنا ہوگا اور غزہ کے عوام کو خوراک، رہائش، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو تعلقات معمول پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ ترکیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ترکیہ کو ممکنہ علاقائی حریف قرار دینے کے بیانات پر بھی تنقید کی، انہوں نے کہا کہ اسرا ئیل کی داخلی سیاست میں اکثر ایک ’دشمن‘ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اس کے جنگی عزائم کو جواز فراہم کیا جا سکے ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اسر ا ئیل صرف اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ مزید علاقوں پر قبضے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہاکان نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئےجو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہےانہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔

  • اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شمالی غزہ میں حالیہ حملے کے دوران شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی ملٹری نے اپنے ایک بیان میں محمد عودہ کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے،دوسری جانب، حماس کی جانب سے تاحال سربراہ کی شہادت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی گئی جبکہ اسرائیلی میڈیا مسلسل دعویٰ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ محمد عودہ کو مئی میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے عزالدین الحداد کی جگہ سنبھالی تھی جو ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم  طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیلی وزیراعظم طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیل کے74 سالہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیر کی شام یروشلم کے ہداسا این کیریم میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    عبرانی زبان کے مقامی میڈیا پر وزیرِ اعظم کی اسپتال منتقلی کی خبریں نشر ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کے دفتر نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیتن یاہو اسپتال میں موجود ہیں اور وہاں ان کے دانتوں کا ایک ایسا علاج کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کی صحت کا معاملہ حالیہ دنوں میں عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ماضی میں ان کی بیماریوں کی معلومات کو عوام سے چھپا نے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وجہ سے ملک کے اندر ان کی مجموعی صحت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں جنم لے رہی ہیں۔

    گزشتہ ماہ ہی نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ اسی ہداسا اسپتال میں غدود کے کینسر یعنی پروسٹیٹ کی رسولی کا کامیاب علاج کروا چکے ہیں،اسرائیلانہوں نے اس معلومات کو عوام سے چھپانے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ میں نے یہ معلومات عوام کو دینے سے گریز کیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ایران حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اس معلومات کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے اس وقت یہ تو تسلیم کیا کہ ان کی تابکاری یعنی ریڈی ایشن کے ذریعے تھراپی کی گئی ہے لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کینسر کی تشخیص کب ہوئی، ان کا علاج کب شروع ہوا اور یہ کب ختم ہوا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ان کی سالانہ صحت کی رپورٹ اور کینسر کے علاج سے متعلق کچھ دستاویزات بھی جاری کیں، لیکن ان دستاویزات پر کسی اسپتال کا مونوگرام یا کوئی سرکاری مہر موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی بیان ہے یہ رپورٹ محض چند غیر واضح نکات پر مشتمل تھی جس سے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کس سال کی میڈیکل رپورٹ ہے۔

    نیتن یاہو کی صحت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جولائی 2023 میں ان کے دل میں پیس میکر یعنی دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والا آلہ لگایا گیا تھا، مارچ 2024 میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا اور دسمبر 2024 میں ان کے پروسٹیٹ کو نکالنے کی سرجری بھی کی گئی تھی ماضی میں جب نیتن یاہو کو پیس میکر لگایا گیا تھا، تو اس وقت بھی حکام نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

    ابتدائی طور پر ان کے دفتر اور شیبا میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے عوام کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم کو صرف شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے نگرانی کے لیے اسپتال رکھا گیا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کے دل کے نیچے ایک مانیٹرنگ آلہ فٹ کیا گیا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ ہم نے ان کے دل کے ٹیسٹ میں کچھ خرابیاں دیکھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اس وقت عوام کو یہی یقین دلایا کہ وزیرِ اعظم کا دل مکمل طور پر نارمل کام کر رہا ہے۔

  • ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش  ، امریکی میڈیا

    ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش ، امریکی میڈیا

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے بدلے کئی عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی تو ٹرمپ نے پوچھا، ’’آپ لائن پر ہیں یا نہیں؟‘‘دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پا کستان، سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا گیا تو ’’خطرناک نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے مذاکرات اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیاامریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ شاید ایران بھی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، تاہم عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس تجویز پر خاموشی اختیار کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس ممکنہ معاہدے میں کوئی بڑا سفارتی فائدہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام خود اس مجوزہ ڈیل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کررہا ہےاسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کردی گئی تو ایران کو معاشی اور عسکری بحالی کا وقت مل جائے گا، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے دوبارہ کارروائی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘‘ جبکہ بعض حکام نے اسے ’’خراب اور انتہائی مسئلہ خیز ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی جانب سے طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ “مناسب اور بہترین” ہوگا جبکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے ’’ناکام لوگ‘‘ قرار دیا،جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’’72 گھنٹوں میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوسکتا-

  • اسرائیلی وزیر کے فرانس میں داخلے پر پابندی

    اسرائیلی وزیر کے فرانس میں داخلے پر پابندی

    فرانس نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمر بن گویر کے فرانسیسی سرزمین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نویل بارو نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غزہ جانے والے فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر عالمی سطح پر بڑھتے غصے کی عکاسی کرتا ہے،اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویرکو فرانس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی یہ فیصلہ فرانسیسی اور یورپی شہریوں کے ساتھ نامناسب رویے کے باعث کیا گیا تمار بن گویر کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، اسی لیے فوری طور پر ان کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے گرفتار کارکنوں کو ہاتھ بندھے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا تھا، اور ویڈیو میں ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ فرانس اس بحری قافلے کے طریقہ کار کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے سفارتی اور قونصلر خدمات پر دباؤ بڑھتا ہے، تاہم فرانسیسی شہریوں کو دھمکانے یا ان کے ساتھ بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی، خصوصاً اگر ایسا کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے کیا جائے، اتمار بن گویر کے اقدامات اور بیانات کی مذمت خود اسرائیل کے متعدد حکومتی اور سیاسی رہنماؤں نے بھی کی ہے اسرائیلی وزیر ماضی میں بھی فلسطینیوں کے خلا ف نفرت انگیز اور تشدد پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اتمار بن گویر پر مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سے قبل اٹلی بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کر چکا ہے۔

    اتمار بن گویر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ایک انتہائی دائیں بازو کے رہنما ہیں، جو غزہ جنگ اور فلسطینیوں سے متعلق اپنے سخت مؤقف کی وجہ سے عالمی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز صمود فوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال حساس ہو گئی تھی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا اس واقعے کے بعد اٹلی، ترکیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈ سمیت دیگر ممالک اور یورپی یونین نے اسے انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔

  • سعد ایدھی کراچی پہنچ گئے، اسرائیل میں قید کے دوران بدترین تشدد کا انکشاف

    سعد ایدھی کراچی پہنچ گئے، اسرائیل میں قید کے دوران بدترین تشدد کا انکشاف

    غزہ کے لیے روانہ ہونے والے بحری امدادی قافلے ’صمود فلوٹیلا‘ میں شامل معروف سماجی کارکن سعد ایدھی اسرائیلی فوج کی حراست سے رہا ہونے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

    جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پہنچنے پر سعد ایدھی کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں ان کی اہلیہ اور کم سن بیٹی بھی موجود تھیں اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد ایدھی نے بتایا کہ ان کا یہ مشن غیر مسلح اور سراسر انسانی امداد پر مبنی تھا، جس کا مقصد بھوک کے شکار مظلوم فلسطینی عوام اور بچوں تک خوراک اور ادو یات پہنچانا تھا ان کا سفر 14 مئی کو شروع ہوا تھا، لیکن غزہ سے 200 ناٹیکل مائل دور بین الاقوامی سمندر میں اسرائیلی فوج نے انہیں زبردستی گرفتار کرلیا۔

    سعد ایدھی نے انکشاف کیا کہ ان کے قافلے میں 180 افراد شامل تھے، جنہیں 2 راتیں بحری جہاز پر محصور رکھا گیا، اس دوران شدید تشدد کے باعث 35 افراد زخمی ہوئے جبکہ 15 افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، حراست کے دوران انہیں کھانے میں صرف ڈبل روٹی اور پانی دیا جاتا تھا، 3 روز بعد جب انہیں اسرائیل پہنچایا گیا تو وہاں بھی غیر انسانی سلوک کا سلسلہ جاری رہا اور انہیں ایک ایسے سیل میں بند کردیا گیا جہاں رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی اس ظلم کے خلاف انہوں نے بھوک ہڑتال کی اور صرف پانی پی کر وقت گزارا۔

    سعد ایدھی کے مطابق اسرائیلی اہلکار قیدیوں کو سونے نہیں دیتے تھے اور اس مقصد کے لیے ان کی آنکھوں پر لیزر لائٹس ماری جاتی تھیں، جبکہ قید خانے کے فرش پر جان بوجھ کر پانی ڈال دیا جاتا تھا، انہیں کئی کئی گھنٹے گھٹنوں کے بل بٹھا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا جن افراد کے پاس امریکی یا یورپی پا سپورٹس نہیں تھے، ان پر زیادہ ظلم کیا جاتا تھا، جبکہ اپنی حکومت کے خلاف بولنے والے امریکی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا تھا۔

    سعد ایدھی کا کہنا تھا کہ ان پر 4 دن تک لرزہ خیز تشدد کیا گیا، لیکن فلسطینی تو گزشتہ 80 سال سے یہ ظلم برداشت کررہے ہیں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کا لایا ہوا امدادی سامان ضائع کر دیا گیا ہے، تاہم وہ فلسطین کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور دوبارہ امداد پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہوں نے حکومتِ پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کا مسئلہ حل کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔

    اس موقع پر موجود سابق سینیٹر مشتاق احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعد ایدھی نے اس مشن کے ذریعے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کی ہے اور اپنے دادا کا نام روشن کیا ہےوہ خود بھی دو مرتبہ اسرائیلی جیل میں قید رہ چکے ہیں اور وہاں کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے واقف ہیں اس وقت اسرا ئیل میں 11 ہزار فلسطینی قیدی موجود ہیں، جن میں 400 کے قریب 10 سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں، اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور کر لیا ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

  • پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی شدید مذمت

    پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی شدید مذمت

    پاکستان نے بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے روکے جانے اور اس میں موجود انسانی حقوق کے کار کنوں کی گرفتاری کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے-

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری حدود میں عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں پاکستانی شہری سعد ادھی بھی شامل ہیں۔

    پاکستان نے اس اقدام کو انسانی امدادی مشن کی روک تھام اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروا ئیاں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے جارحانہ بحری اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہیں،جو انسانی رسائی کو محدود اور بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے مشنز کے خلاف کسی بھی جابرانہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے دیرینہ اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں موجود اپنے سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بیرون ملک اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زیر حراست افراد کی سلامتی، وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے پاکستان مسلم دنیا کے مسائل، خصوصاً فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کی مسلسل رکاوٹ کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے، اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے مشترکہ دباؤ ڈالے اور جنگی و تنازعاتی علاقوں میں انسانی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

  • اسرائیلی فوج کا غزہ فلوٹیلا پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا غزہ فلوٹیلا پر حملہ

    فلوٹیلا ٹریکر کے مطابق اسرائیلی فوج نے’’انڈروس‘‘ نامی کشتی کو غزہ سے 82 ناٹیکل میل دور روک لیا، جبکہ اب تک گلوبل صمود فلوٹیلا کی 61 کشتیوں کو مختلف کارروائیوں میں روکا جا چکا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس وقت بھی 9 امدادی کشتیاں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں دوسری جانب امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے بعد خطےمیں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے فلوٹیلا منتظمین اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے کم از کم دو کشتیوں پر فائرنگ کی لائیو اسٹر یمنگ میں اسرائیلی فورسز کو کشتیوں کی جانب فائر کرتے دیکھا گیا، تاہم استعمال ہونے والے گولہ بارود کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران لائیو گولیاں استعمال نہیں کی گئیں متعدد انتباہات کے باوجود کشتیوں نے پیش قدمی جاری رکھی جس پر انہیں روکنے کے لیے “غیر مہلک ذرائع” استعمال کیے گئے کارروائی کا مقصد کشتی کو خبردار کرنا تھا، مظاہرین یا کارکنوں کو نشانہ بنانا نہیں، واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں، تاہم فلوٹیلا منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے باعث مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اور کارکنان سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اسرائیل ماضی میں بھی کئی امدادی مشنز کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روک چکا ہے۔