Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

    کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتےشاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟-

    یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایااسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

  • ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    تہران میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنا دی گئی-

    ایرانی عدالتی ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچائیں جسے قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دونوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے مقدمات اور فیصلے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

  • نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔

    سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔

  • اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔

    اطالوی خبر رساں ادارے اے این اے ایس اے کے مطابق وزیراعظم جورجیا میلونی نے شہر ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-

    توانائی پالیسی کے حوالے سے روسی گیس پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا ایک مؤثر ہتھیار ہے گزشتہ برسوں میں روس پر ڈالا گیا اقتصادی دباؤ امن کے قیام کے لیے ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور امید ظاہر کی کہ 2027 کے اوائل تک اس حوالے سے پیش رفت ہوگی۔

    وزیراعظم میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوپ سے متعلق حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ناقابل قبول قرار دیاانہوں نے پوپ لیو سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاشرے میں خود کو مطمئن محسوس نہیں کریں گی جہاں مذہبی رہنما سیاسی ہدایات کے تابع ہوں۔

    امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے، تاہم اتحادی ہونے کے باوجود اختلاف رائے کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جب آپ دوست اور اتحادی ہوں، خصوصاً اسٹریٹجک سطح پر، تو آپ میں یہ حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ جہاں اختلاف ہو وہاں اسے بیا ن کیا جا سکے۔

  • اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    امریکا کے شہر نیویارک میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور جاری جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرگئے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید نعرے بازی کی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا مظاہرین نے امریکی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنگی اقدامات کی حمایت فوری طور پر بند کی جائے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹین کے دفاتر کے باہر دھرنا بھی دیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اور اس میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

  • ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی

    ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل پر حملہ کردیں گے۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے،انہوں نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔

    اردگان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے،غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیو ں کو بے دردی سے قتل کر دیا، خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • نیتن یاہو کا ترک صدر  پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام

    نیتن یاہو کا ترک صدر پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔

    اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ترک صدر پرکردوں کےقتل عام میں ملوث ہونےکا بھی الزام لگایا کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔

    ترک صدارتی دفتر کے کمیونیکیشن امور کے سر برا ہ برہا نیتن دوران Burhanettin Duran نے کہا کہ نیتن یاہوکی غزہ میں نسل کشی اور خطےکے7 ملکوں پر حملےجاری ہیں، نیتن یاہو ترک صدر کو نشانہ بنانے کی خوش فہمی کا شکار ہیں نیتن یاہو مجرم ہےجن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکےہیں-

    انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے خطےکو کشیدگی اور تصادم میں دھکیلنا چاہتا ہے، سب جانتےہیں اسرائیلی وزیراعظم دوسروں کو درس دینےکی اخلاقی اورقانونی حیثیت کھو چکا ہے، نیتن یاہوکو بالآخر انسانیت کےخلاف جرائم کا ذمےدار ٹھہرایا جائے گا۔

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف  احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے،احتجاج کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "جنگ روکو” اور "نسل کشی بند کرو”، جنوبی لبنان پر قبضہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا اور جب تک امن قائم نہیں ہوتا، اسرائیل میں حقیقی سلامتی ممکن نہیں جیسے نعرے درج تھے-

    رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اس بار احتجاج ملک کے دیگر شہروں جیسے یروشلم، حیفہ اور بئر سبع تک بھی پھیل گیا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،س لیے حکومت کو فوری طور پر امن مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔