Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل میں فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور

    اسرائیل میں فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور

    اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دی جا سکے گی، جبکہ سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر پھانسی پر عملدرآمد بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے اس قانون کے حق میں 62 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 48 نے مخالفت کی اور ایک رکن اجلاس میں غیر حاضر رہا، قانون کے تحت دی جانے والی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی،یہ قانون اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی جانب سے پیش کیا گیا، پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مقتولین کے لیے انصاف اور دشمنو ں کے لیے عبرت کا دن ہے، جو دہشت گردی کا انتخاب کرے گا وہ موت کا انتخاب کرے گا۔

    فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائیں گے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامک جہاد نے بھی اس قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے تنظیموں نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف مزاحمت کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

    ادھر امریکا نے اسرائیل کے اس متنازع قانون پر براہ راست مذمت سے گریز کیا ہے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ امریکا اسرائیل کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہےامریکا کو توقع ہے کہ ایسے مقدمات میں شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم انہوں نے اس قانون پر کسی قسم کی تنقید کرنے سے احتراز کیا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں قتل کے جرائم پر سزائے موت ختم کر دی تھی، جبکہ سول عدالت کے ذریعے آخری بار سنہ 1962 میں نازی جرائم کے منصوبہ ساز ایڈولف آئخ مین کو پھانسی دی گئی تھی،مغربی کنارے کی فوجی عدالتوں کو پہلے ہی سزائے موت سنانے کا اختیار حاصل ہے، تاہم ماضی میں اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

  • افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ   خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ

    افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ

    افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

    بنگلہ دیشی جریدے دی مسلم ٹائمزکےمطابق پاکستان نے4 سالہ سفارتی کوششوں کے بعد افغانستان میں موجوددہشتگردوں کےٹھکانوں پرکارروائی کی طالبان رجیم کےجارحانہ رویےاورعدم تعاون کی وجہ سےقطراورترکیہ کی ثالثی کی کوششیں بےسود رہیں، فتنہ الخوارج کی پشت پناہی اورافغان سرزمین کے استعمال کی وجہ سے پاکستان طالبان کیخلاف کارروائی پرمجبور ہوا، علاقائی عدم استحکام کوسمجھنے کیلئے بھارت اسرائیل تعلقات اورافغان طالبان کےپراکسی کردارکاجائزہ لیناہوگا،افغانستان دہشتگرد گروہوں کیلئےمحفوظ پناہ گاہ بن چکاجو جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام کومتاثرکررہاہے-

    ماہرین کے مطابق افغان سرزمین سےسرحد پارحملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلح گروہوں کیلئےسازگارماحول طویل المدتی علاقائی امن کیلئےخطرہ ہے۔

  • اسرائیل خطے میں ابھرنے والے نئے علاقائی نظم و نسق کا عادی ہو جائے،ایرانی پاسداران انقلاب

    اسرائیل خطے میں ابھرنے والے نئے علاقائی نظم و نسق کا عادی ہو جائے،ایرانی پاسداران انقلاب

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں ابھرنے والے نئے علاقائی نظم و نسق کا عادی ہو جائے-

    پاسدارانِ انقلاب کے قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں موجود اتحادی قوتوں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو خطے میں توسیع پسندی کے عزائم رکھتے ہیں، تاہم ان کے یہ خواب اب حقیقت کا روپ دھارتے نظر نہیں آ رہے۔

    بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کے بقول شمال میں حزب اللہ اور جنوب میں انصار اللہ نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے صیہونی ریاست کے دعوؤں اور یہودی آبادکاروں سے کیے گئے وعدوں کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے،مزاحمتی کمانڈروں کی شہادتوں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مزاحمتی قوتوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مربوط ہے اور ان کا وار روم ایک ہی ہے،بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل کو اس نئی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

  • حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی  ہلاکت کی تصدیق

    حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف متعدد راکٹ حملوں کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں، جس کے بعد اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی مجموعی تعداد دس تک پہنچ گئی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے 4 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے کیے اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی شروع کی ہے، جو 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے کی گئی سرحد پار حملے کے بعد شروع ہوئی۔

    لبنانی حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1247 افراد ہلاک اور 3690 زخمی ہو چکے ہیں۔

    یہ کشیدگی ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی حملے شروع کیے تھے، جن میں 28 فروری سے اب تک 1340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے اور اسرائیل اور خلیج کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا-اسرائیل، ایران جنگ میں ایک بار پھر تیزی سے دیکھنے میں آئی ہے ادھر رات گئے امریکا و اسرائیل کی جانب سے رات گئے ایران میں شدید فضائی حملے کیے گئے، ایران کے شہر اصفہان میں بڑے حملے کیے گئے جہاں اسلحے کے ایک اہم ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔

  • امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار  کیا ہے،ایرانی میڈیا

    امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے،ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے-

    ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اہم ایرانی قیادت کو ہدف بنانے، بڑے شہروں اور ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے، اور ممکنہ زمینی و محدود ایٹمی کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ ایران کے شمال مغر ب سے 4 ہزار افراد پر مشتمل اپوزیشن فورسز کے ساتھ زمینی حملہ کیا جائے گا، ایران کے جنوب مشرق سے 2 ہزار 500 امریکی فوجی داخل ہوں گے، فوجی اتا رنے کے لیے بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جائے گا میزائل حملوں کے لیے 5 سے 15 فوجیوں پر مشتمل جنگی یونٹس پیرا شوٹ کے ذریعے شہری اور ایٹمی تنصیبات میں اتارے جائیں گے بعض فوجی اور ایٹمی مقامات پر محدود ایٹمی حملوں کی تیاری بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں جاری جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہ۔ اتوار کو بھی ایرانی شہروں پر بمباری جاری رہی اور اسرائیلی فوج نے ایران سے فائر کیے گئے راکٹوں کا سراغ لگایا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں ہفتوں طویل زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام ضروری آپشنز فراہم کرنے کی تیاری میں ہے، امریکی انتظامیہ نے ایرانی جزیرے خارگ پر کنٹرول اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقو ں پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا ہے۔

    اخبار کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے پینٹاگون کی تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے تاہم ایک امریکی ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ زمینی کارروائی کی مدت دو ماہ ہو سکتی ہے امریکی منصوبوں میں سپیشل آپریشنز اور روایتی پیادہ فوج کے حملے شامل ہو سکتے ہیں، ایران میں جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی میرینز تعینات کر دیے گئے ہیں، اور امریکی فوج کی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

  • ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور6000 سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں،اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 232 افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد جنگ کے دوران ہسپتالوں میں داخل شدگان کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ان زخمیوں میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک،8افراد کی حالت تسلی بخش اور 215 افراد کی حالت بہتر بتائی گئی ہےجبکہ 7 افراد کو گھبراہٹ کے علاج کے لیے اسپتال لایا گیاوزارت صحت نے زخمی ہونے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو پناہ گاہ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھی چوٹیں لگی ہیں۔

    علاوہ ازیں، اسرائیل نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اس کے 261 اسرائیلی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، تاہم فوج نے اب تک ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہےدوسری جانب اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہےماہرین کا خیال ہے کہ اتنا بڑا بجٹ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل خود کو کسی ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔

    دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر محمد المصری نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا کہا کہ اسرائیل کا یہ تاریخی بجٹ اُس کی اِس نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر کئی جنگیں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تاریخی طور پر امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اور جنگ کے دوران یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اب اسرائیل کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حالات ہمیشہ ایسے نہ رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اور وہاں کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے ملنے والی امریکی امداد پر بھی تنقید کر رہے ہیں اس بجٹ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اسرائیل خود کو جنگ کے خاتمے پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ وہ شاید ابھی جنگ کے وسط یا محض آغاز میں ہے سرائیلی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ شام، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی جنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو حقیقت بنا سکیں۔

  • پام سنڈے: اسرائیلی حکام نے اعلیٰ عیسائی رہنما کو چرچ جانے سے روک دیا

    پام سنڈے: اسرائیلی حکام نے اعلیٰ عیسائی رہنما کو چرچ جانے سے روک دیا

    اسرائیلی حکام نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پام سنڈے کے موقع پر لاطینی کارڈینل کو مقدس چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا –

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لاطینی کارڈینل پیئر باتیستا پیزابالا پام سنڈے کی خصوصی عبادت میں شرکت کے لیے ہولی چرچ جا رہے تھے کہ اسرائیلی پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا،ان کے ہمراہ کیتھولک چرچ کے سرپرست پادری فراسسکو لیلپو کو بھی چرچ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    اس واقعے پر کیتھولک چرچ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے صدیوں میں پہلی بار پیش آنے والا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ مذہبی قیادت کو عبادت سے روکنا اربوں مسیحیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    ادھر اٹلی نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ ایمانوئل میکرون نے بھی مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کو بلا رکاوٹ عبادات کی آزادی دی جائے۔

  • اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملے مکمل جنگی شمولیت نہیں بلکہ محض انتباہ ہیں۔

    الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں امریکی مشن کے سابق نائب سربراہ نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں نے صرف چند میزائل فائر کیے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک پیغام دیا جا سکے خطے میں امریکی افواج کی آمد اور ممکنہ بڑے پیمانے پر کشیدگی کی باتوں کے پیش نظر یہ اقدام ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

    نبیل خوری کے مطابق حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب بھی موجود ہیں، اور اگر ایران کے خلاف مکمل کارروائی کی گئی تو ہم بھی اس میں شامل ہو جائیں گے، تاہم فی الحال وہ عملی طور پر مکمل جنگ میں شامل نہیں ہوئے اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں تو ان کا سب سے اہم اور خطرناک اقدام آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہو سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی کشتیوں، بارودی سرنگوں یا میزائلوں کے ذریعے اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں نبیل خوری کے بقول انہیں صرف چند بحری جہاز وں پر حملہ کرنا ہوگا، جس کے بعد بحیرہ احمر سے گزرنے والی تمام تجارتی جہاز رانی رک سکتی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام ایک سرخ لکیر ثابت ہوگا، جس کے بعد یمن کے خلاف فوری فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کو پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملہ داغا تھا، جس کی حوثی فوجی ترجمان یحیی ساری نے تصدیق کی تھی۔

  • یوگینڈا آرمی چیف کا  ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    یوگینڈا آرمی چیف کا ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    یوگینڈا کے آرمی چیف مہوذی کائنیروگابا نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جنگ میں شامل ہونے کی پیشکش کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جنرل مہوذی کائنیروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ یوگینڈا کی افواج اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کی جانب سے لڑنے کے لیے تیار ہیں مشرق وسطیٰ میں جنگ بند ہونی چاہیے، تاہم اگر اسرائیل کو تباہ کرنے یا شکست دینے کی کوشش کی گئی تو یوگینڈا بھی اس جنگ میں شامل ہو جائے گا،اگر اسرائیل کو مدد درکار ہو تو یوگینڈا کی فوج صرف ایک اشارے کی منتظر ہے اور فوری طور پر تعاون فراہم کرے گی۔

    واضح رہے کہ یوگینڈا کی فوج میں تقریباً 45 ہزار اہلکار شامل ہیں، جبکہ جنرل مہوذی ملک کے صدر یواری موسیونی کے بیٹے بھی ہیں وہ سوشل میڈیا پر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں دفاعی ماہرین کے مطابق اس بیان سے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں مزید شدت آ سکتی ہے، کیونکہ دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔

  • اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ  کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران شہید کیا گیا وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھ ۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

    آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔