Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق متنازع اور امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے،قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی جائے گی، انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جا سکے گی اور عدالت کے پاس متبادل سزا دینے کے اختیارات محدود ہوں گے صرف غیر معمولی حالات میں ہی عدالت عمر قید کی سزا سنا سکے گی۔

    اس قانون کی منظوری رواں سال مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوجی قیادت سے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی اس قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جبکہ اسرائیلی شہری یا اسرائیل میں رہائش پذیر افراد اس کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات سویلین عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو نسلی امتیاز اور دوہرا قانونی نظام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

  • پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    پاکستان سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انسانی ہمدردی مشن پر اسرائیلی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور عالمی قوانین کی نفی کرتی ہیں وزرائے خارجہ نے گرفتار انسانی حقوق کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے –

    وزرائے خارجہ نے فلوٹیلا میں شامل شہری شرکاء کی حفاظت اور سلامتی پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کشتیوں پر حملے اور کارکنوں کی من مانی گرفتاری بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں گرفتار تمام کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، گرفتار تمام کارکنوں کے حقوق اور وقار کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔

    وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ پُرامن انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں پر بار بار حملے بین الاقوامی قانون اور آزادیٔ جہاز رانی کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی ہیں، عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے،وزرائے خارجہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عالمی برادری شہریوں و انسانی امدادی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائے، ان خلاف ورزیوں پر احتساب کو یقینی بنانے اور سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

  • امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے  نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکا اور اسرائیل تیار، ایران پر اگلے ہفتے نئے حملوں کا امکان ، نیویارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور اگلے ہفتے حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے دو نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور حملے جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر ’زیادہ شدید فضائی حملے‘ شامل ہیں، جبکہ ایک آپشن ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کی کارروائی بھی بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیے گئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو ’بیکار‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو ’انتہائی کمزور‘ کہا۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا پر اعتماد کی کوئی وجہ نہیں، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ شدید متاثر ہو رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تیل کی قلت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نیا میکینزم تیار کر لیا،میکینزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائے گی ، یہ راستہ نام نہاد ‘فریڈم پروجیکٹ’ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے ، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا، اس سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے نہ ہونے کی ٹھو س ضمانت کے بغیر باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی،

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکا کے قرض میں اضافہ ہوگا اور مارگیج کی شرح بڑھے گی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم امریکا کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات کی پختہ ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے ماضی میں جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران امریکا دو مرتبہ ایران پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں اگر سنجیدہ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا گیا تو ایران سفارتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہوگا۔

  • یروشلم میں حساس دفاعی اسرائیلی تنصیب میں دھماکہ

    یروشلم میں حساس دفاعی اسرائیلی تنصیب میں دھماکہ

    یروشلم میں حساس دفاعی اسرائیلی تنصیب میں دھماکے سےآگ بھڑک اٹھی-

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے مقبوضہ علاقے بیت شمیش میں ایک حساس دفاعی تنصیب کے قریب ہونے والے شدید دھماکے کے بعد آگ کے بلند شعلے اور دھوئیں کے بادل دور دور تک دکھائی دیئے، جبکہ واقعے نے اسرائیلی سیکیورٹی اور دفاعی تنصیبات سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں دھماکے کی نو عیت اور ممکنہ نقصان کے حوالے سے تاحال مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

    دھماکا مقبوضہ یروشلم کے مغربی علاقے بیت شمیش میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی گاڑیوں کی آمد و رفت محدود کر دی، عبرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک حساس دفاعی تنصیب کے قریب ہوامتعلقہ فیکٹری میں ہیوی اور لائٹ راکٹ انجن تیار کیے جاتے ہیں، جن میں ایرو ٹو، ایرو تھری، سلور اینکر، براک ایٹ اور براک ایم ایکس میزائل سسٹمز کے انجن بھی شامل ہیں ان اطلاعات کے بعد واقعے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق دھماکے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی، جبکہ ممکنہ جانی نقصان یا زخمیوں سے متعلق بھی کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں،بعض رپورٹس میں اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دھماکا دراصل دھماکا خیز مواد کا ’کنٹرولڈ بلاسٹ‘ تھا، تاہم قریبی آبادی کو پیشگی اطلاع نہ دیے جانے پر مقامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید

    غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید

    غزہ میں حماس کے اہم رہنما اور القسام بریگیڈ کے کمانڈر عزالدین الحداد اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید ہوگئے، جس کی تصدیق حماس نے بھی کردی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی مختلف مساجد سے ان کی شہادت کے اعلانات کیے گئے، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور حماس کے حق میں نعرے لگائے گئے،عزالدین الحداد کی میت کو حماس کے پرچم میں لپیٹ کر جلوس کی صورت میں پہلے اسپتال اور بعد ازاں مسجد اقصیٰ منتقل کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔

    کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے اسرائیلی حکام کے مطابق مئی 2025 میں محمد السنوار کی شہادت کے بعد انہوں نے غزہ میں حماس کی قیادت سنبھالی تھی محمد السنوار، حماس کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کے بھائی تھے، جنہوں نے بھا ئی کی شہادت کے بعد تنظیم کی قیادت سنبھالی تھی، جبکہ بعد میں یہ ذمہ داری عزالدین الحداد کو منتقل ہوئی۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق عزالدین الحداد جنگ کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں کی نگرانی کے نظام کا بھی حصہ تھے اور وہ خود کو یرغمالیوں کے درمیان رکھتے تھے تاکہ انہیں نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے ان کی شہادت کو ایک بڑی آپریشنل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ سابق یرغمالیوں کے بیانات میں ان کا نام بارہا سامنے آیا تھا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث حماس رہنماؤں اور کارکنوں کا دنیا کے کسی بھی حصے میں تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

    عزالدین الحداد کو ’دی گھوسٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کیونکہ وہ کئی مرتبہ اسرائیلی حملوں میں محفوظ رہے اور اچانک منظر سے غائب ہو جانے کی وجہ سے مشہور تھے،وہ 1980 کی دہائی میں حماس میں شامل ہوئے تھے اور تنظیم کے طویل عرصے تک سرگرم رہنے والے عسکری کمانڈروں میں شمار کیے جاتے تھے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا،اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری میں تقریباً ایک لاکھ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر اور متعدد رہائشی عمارتیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان ملاقاتیں جمعرات اور جمعے کو ہوں گی، جن کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوگی۔

    صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ایک تاریخی ملاقات کرانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں تاہم لبنانی صدر نے اسرائیلی حملوں کے دوران نیتن یاہو سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کو کہا تھا کہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں اور یہ عمل تمام لبنانی عوام کے مفاد میں ہے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی تھی تاہم اس دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور اسرائیلی افواج پر حزب اللہ کی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے جنگ بندی معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہے بدھ کے روز اسرائیل نے بیروت میں جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ بھی کیا، جس کے بعد امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کے لیے کہیں بھی کوئی ‘استثنیٰ نہیں ہے،حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط یہ سمجھتے تھے کہ وہ بیروت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے حملوں کی ہدایت دے سکتے ہیں، لیکن اب وہ محفوظ نہیں رہے۔

    یاد رہے کہ رواں برس 2 مارچ کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد 16 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے مذاکراتی عمل سے قبل موجودہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

  • اسرائیلی حملے میں حماس  رہنما خلیل الحیہ کا  ایک اور بیٹا شہید

    اسرائیلی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کا ایک اور بیٹا شہید

    حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    حماس عہدیدار باسم نعیم نے عزام الحیہ کے غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، یہ خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے تھے جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

    خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، وہ متعدد بار اسرائیلی حملوں اور مبینہ قاتلانہ کوششوں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم ہر بار محفوظ رہےگزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک حملے میں بھی ان کے ایک بیٹے کی شہادت ہوئی تھی جبکہ خلیل الحیہ اس حملے میں بچ گئے تھے اس سے قبل 2008 اور 2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران بھی ان کے دو بیٹے شہید چکے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی اور غزہ میں مسلسل فضائی حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، غزہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد رہائشی علاقوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرلینڈ کے سابق اور موجودہ فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات نے اسرائیل کے خلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق “آئرش اسپورٹ فار فلسطین” نامی مہم کے تحت فٹبالرز، موسیقاروں اور سماجی شخصیات نے فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف یوئیفا نیشنز لیگ میچز کھیلنے سے انکار کرےمہم میں شامل شخصیات کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی حقوق کی صورتحال کے باعث اسرائیل کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات ختم کیے جائیں۔

    اس مہم کی حمایت کرنے والوں میں سابق آئرش فٹبال کوچبریان کیئر، سابق انٹرنیشنل فٹبالر لوئس قوئن اور متعدد لیگز کے کھلاڑی شامل ہیں جبکہ آئرش موسیقاروں اور مشہور بینڈز نے بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے۔

    دوسری جانب آئرش فٹبال ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ یوئیفا قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت میچز کھیلنے کی پابند ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے خلاف کھیلوں کے بائیکاٹ کی آوازیں دنیا کے مختلف ممالک میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور متعدد تنظیمیں اسرائیل کے خلاف میچز کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہیں،قبل ازیں آئر لینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے یوئیفا سے اسرائیلی ٹیم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا

  • اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید  کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فضائی حملوں کے دوران حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، جب کہ بیروت حملے میں ایک اعلیٰ عہدیدار کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ٹائم آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ لبنان میں گزشتہ روز کیے گئے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے دو اہم کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، شہید ہونے والوں میں محمد علی بازی شامل ہیں، جو حزب اللہ کے نصر ریجنل ڈویژن میں انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، جب کہ حسین حسن رمانی حزب اللہ کے فضائی دفاعی یونٹ کے سربراہ تھے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمانڈرز اسرائیلی فوج اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث تھے16 اپریل کو لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 220 سے زائد حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جنہیں اسرائیل اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے 85 ارکان کو شہید کیا، جب کہ تنظیم سے متعلق 180 سے زائد فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا یہ کارروائیاں لبنان سے اسرائیل کے خلاف ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے تاحال اسرائیل کے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا –