Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • پاکستان کا برطانوی وزیر داخلہ کے پاکستانی مردوں کے حوالے سے بیان پراظہارتشویش

    پاکستان کا برطانوی وزیر داخلہ کے پاکستانی مردوں کے حوالے سے بیان پراظہارتشویش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان جمہوری اقدار پر یقین رکھتا ہے،پاکستان نے برطانوی وزیر داخلہ کے پاکستانی مردوں کے حوالے سے بیان پر اظہار تشویش کیا اور کہا کہ برطانوی وزیر داخلہ کا بیان خطرناک رجحانات کو فروغ دے گا،

    ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یونان میں پاکستانی شہریوں کی گرفتاری سے آگاہ کیا گیا ہے،پاکستان تحقیقات اور تفتیش کے لئے یونانی حکام سے مکمل تعاون کرے گا پاکستان دہشت گردی میں ملوث افراد کو کیفرکردار کردار تک پہنچانے پر یقین رکھتا ہے،کرغزستان اور جنوبی کوریا کے ویزا کا معاملہ، ہر ملک کا سفارت خانے ویزا کے اجرا کا فیصلہ خود کرتا ہے،مسجد اقصی میں اسرائیلی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں مسجد اقصی میں اسرائیلی کارروائیوں سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچی پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات نہیں،اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال چین کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں، سی پیک کے آغاز کے 10 برس کے پس منظر میں وزیر احسن اقبال کی اعلی چینی حکام سے ملاقاتیں ہوئی ہیں وزیراعظم کے معاون امیر مقام نے ایس سی او اجلاس برائے ثقافت میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی ملائشیا میں پاکستانی سفیر آمنہ بلوچ کو بیلجیئم و یورپی یونین میں سفیر مقرر کر دیا گیا،ایرانی سرزمین سے فائرنگ کے واقعہ پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستان اور ایران کی حکومتیں اس معاملے پر رابطے ہیں،فائرنگ کے واقعے پر ایرانی حکومت سے ہر سطح پر رابطہ کیا گیا،ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا یا نہیں؟ ترجمان دفتر خارجہ نے واضح جواب دینے سے گریز کیا،

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ 26 مارچ کو ڈھاکہ میں پاکستانی سفارتخانے نے بنگلہ دیش کے قومی دن پر مبارکباد کا پیغام دیا ،بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا بیان سفارتی محاذ پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے،پاکستان کے خلاف الزام تراشی کرتے ہوئے بھارتی رہنما اپنے ملک کے سماجی ڈھانچے کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو ہندوتوا کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار اور اجتماع کے حق کو کچلنے کی پالیسی بند کرے،

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    سرسید پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی ماموں بھانجا اسٹریٹ کریمنلز گرفتار کر لئے

  • کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    عالمی اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    نیتن یاہوکی وزارت عظمیٰ پر واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں خالی کرائی گئی بستیوں کی تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری کا کوئی ارادہ نہیں،نتین یاہو کے اس اقدام کی امریکہ نے مذمت کی تھی، اورواشنگٹن میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،منسوخ شدہ قانون نے 2005 میں اسرائیلی آباد کاروں کے انخلاء کے بعد اسرائیلی شہریوں کو جنین اور نابلس آنے جانے کی اجازت دی تھی، یہ وہ علاقے ہیں جو سب سے زیادہ تشدد کا شکار ہیں یہ فیصلہ آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح تصادم کا باعث بنے گا۔ مارچ 2023 کے اوائل میں ہی موجودہ اسرائیلی حکومت نے شرم الشیخ میں سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے دوران اس عزم کو جاری رکھنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے واشنگٹن ناراض ہے،محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کی اس خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے

    بدلتے ہوئے عالمی اتحاد کے پس منظر میں، لازم و ملزوم جڑواں شہروں کے درمیان تعلق کوئی معنی نہیں رکھتا،اسرائیل تعلقات کی بہتری کے لئے کوشش نہیں کر رہا یہ بیانیہ فرسودہ ہو چکا کیونکہ اسرائیل نے ہی حال ہی میں کئی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے، اسرائیل کے مراکش، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ قطر نے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکا کو شرائط پیش کی ہیں۔ اگرچہ دونوں میں غیر رسمی تعلقات ہیں اس کے علاوہ اسرائیل کے اردن اور مصر کے ساتھ امن معاہدے ہیں۔ دوحہ وہ نشست ہے جسے اسرائیلی ہیروں کے تاجر تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی،حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اب سعودی عرب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے، چینی یوآن چین، سعودی عرب اور روس کے لیے کرنسی کے تبادلے کے ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آرہا ہے

    پاور گیم کے اصول ،اسرائیل اور امریکا کے تعلقات یقیناً اسرائیل کے لیے موزوں ہیں لیکن امریکا کا کیا ہوگا؟ پس منظر میں نئے اتحادوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ ابھرتی ہوئی صورتحال میں، کیا امریکہ مسلم ریاستوں بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کی نیک نیتی کو داؤ پر لگا رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بہت پیچھے ہیں۔ اب امریکہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے نئے عالمی نظام میں اپنے مفاد کا خیال رکھنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • وزارت تجارت کی اسرائیل سے تجارت کی خبروں پر وضاحت

    وزارت تجارت کی اسرائیل سے تجارت کی خبروں پر وضاحت

    اسلام آباد: وزارت تجارت نے اسرائیل سے تجارت کی تردید کردی اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل سے تجارتی تعلقات ہیں اور نہ ہی استوار کرنا چاہتے ہیں، پاکستان اور اسرائیل کی مابین تجارتی تعلقات استوار ہونے کی افواہیں پروپیگنڈا ہیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان وزارت تجارت نے کہا کہ امریکی یہودی کانگریس کی پریس ریلیز کا غلط مطلب اخذ کیا گیا، کانگریس نے بھی اسے آفیشل تجارت نہیں کہا،پاکستانی یہودی فیشل بنک خالد نے ذاتی حیثیت سےکھانے پینےکی اشیا کےتین نمونے متحدہ عرب امارات سے یروشلم اور حیفہ بھجوائے۔

    پاکستانی مسالے،کھجوریں اور ڈرائی فروٹس اسرائیل میں برآمد

    ترجمان وزارت تجارت نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اس اقدام کی کسی صورت معاونت نہیں کی اور نہ ہی بینکاری یا آفشیل چینلز استعمال کیے گئے متحدہ عرب امارات سے پاکستان کی بات چیت میں اوریجن کے معاملے پر سختی سے عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے تجارت کے لیے 96 فیصد مصنوعات پر ڈیوٹی ٹیکس کم کیے ہیں، یو اے ای کے اس اقدام کا مقصد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی تجارت کو فائدہ پہنچانا ہے۔

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    واضح رہے کہ پاکستانی یہودی شہری فشیل بن خالد نے اپنےٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں پاکستانی مسالے، کھجوریں اور دیگر سامان یہودی مارکیٹ میں فروخت کیلئے رکھا ہوا تھا فشیل بن خالد کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان سے فوڈ پروڈکٹ کا پہلا بیج اسرائیل برآمد کیا ہے جس میں کھجوریں، خشک میوہ جات اور مسالے شامل ہیں۔

  • پاكستانی يہودى کوعمران خان کی حكومت ميں اسرائيل جانے كی اجازت ملی،طاہراشرفی

    پاكستانی يہودى کوعمران خان کی حكومت ميں اسرائيل جانے كی اجازت ملی،طاہراشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین ،علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش ہو رہی ہے ، تحریک انصاف بے بنیاد الزام تراشی بند کرے،

    علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کے حوالہ سے پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کر رہی ہے، سیاسی مقاصد کے لئے متفقہ موقف کو متنازع بنایا جا رہا ہے ، ایسا نہ کیا جائے، مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ایک پاكستانی يہودى کو عمران خان كے دور حكومت ميں اسرائيل جانے كی اجازت ملی پاكستانی يہودى نے ایک عرب ملک سے پاكستانی اشيا اسرائيل بھیجیں، س سے متعلق وزارت تجارت یا خارجہ سے این اوسی سامنے نہیں آیا ، نہ ہی ایسی اطلاع ہے کہ اس کی سرکاری طور پر اجازت دی گئی

    علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ یہ عمل ہم پاکستانیوں کے لیے قابل تشویش تھا دکھ کی بات ہے پاکستانیوں کے متقفہ معاملے پر کچھ دوستوں نے سیاست شروع کردی اور حکومت، مولانا فضل الرحمان ،ان کی جماعت اور دیگرحکومت کی تائید کرنیوالی جماعتوں کو مطعون کرنا شروع کردیا میں نہیں سمجھتا کہ اس عمل میں حکومت، اتحادی جماعتوں یا مولانا فضل الرحمان کا عمل دخل ہے

    واضح رہے کہ پاکستانی تاجر کے مسالے، کھجوریں اور ڈرائی فروٹ اسرائیلی مارکیٹ میں فروخت ہونے لگا۔ پاکستانی یہودی شہری فشیل بن خالد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں پاکستانی مسالے، کھجوریں اور دیگر سامان یہودی مارکیٹ میں فروخت کیلئے رکھا ہوا ہے فشیل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بحیثیت پاکستانی مجھے مبارک ہو میں نے پاکستانی فوڈ پروڈکٹس کی پہلی کھیپ اسرائیل کی مارکیٹ میں برآمد کی۔

    اس ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جا رہاہے کہ اسرائیل اور پاکستان کی تجارت شروع ہو گئی ہے، ٹویٹر پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بھی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، رہنما پاکستان تحریک انصاف بابر اعوان نے اسرائیل جانے والے وفد کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آئین میں لکھا ہے اسرائیل نہیں جاسکتے، عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنے والے بتائیں کنٹینرز کیسے چلا گیا ؟، تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی ردعمل دے رہے ہیں تا ہم علامہ طاہر اشرفی نے واضح کر دیا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے،

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

  • آذربائیجان نے اسرائیل میں اپنے پہلے  سفارتخانے کا افتتاح کر دیا

    آذربائیجان نے اسرائیل میں اپنے پہلے سفارتخانے کا افتتاح کر دیا

    تل ابیب: مسلم ملک آذربائیجان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بحال ہوگئے،اسرائیل نے آذربائیجان کے اس اقدام کو تاریخی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آذربائیجان نے اسرائیلی شہر تل ابیب میں اپنے پہلے سفارتخانے کا افتتاح کر دیا سفارت خانے کی افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے وزراءخارجہ نے شرکت کی۔

    شیخ منصور بن زاید آل نہیان یو اے ای کے نائب صدر مقرر

    افتتاح سے قبل دونوں وزراء خارجہ نے ملاقات کی ،اس موقع پر اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں آذربائیجان کے سفار تخانے کا افتتاح باہمی تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں مزید وسعت آئے گی آذربائیجان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے اور آذربائیجان اسرائیل کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ جلد ہی ایک بڑی اقتصادی وفد کے ساتھ باکو کا دورہ کریں گے۔

    انڈونیشیا فیفا انڈر 20 ورلڈکپ کی میزبانی سے محروم

    دوسری جانب آذربائیجان کے وزیرخارجہ نےکہا کہ اسرائیل آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کرنےوالے پہلےممالک میں سے ایک تھا، گزشتہ 30 سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر تعلقات مضبوط تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور آذربائیجان کے درمیان 30 سال سےتعلقات ہیں اورباکو میں 1993 سےاسرائیل کا سفارت خانہ موجود ہے اسرائیل دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے دسمبر 1991 میں آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کیا اور 2 سال بعد وہاں اپنا سفارتخانہ بھی کھول لیا۔

    امریکا میں سپریم کورٹ اور وفاقی ججز کیلئے نئے ضابطوں کا اطلاق

  • انڈونیشیا فیفا انڈر 20 ورلڈکپ کی میزبانی سے محروم

    انڈونیشیا فیفا انڈر 20 ورلڈکپ کی میزبانی سے محروم

    فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا نے انڈونیشیا کو انڈر 20 ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم کردیا-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق فیفا کی جانب سے یہ فیصلہ انڈونیشیا کے صوبے بالی کے گورنر کی جانب سے ایونٹ میں اسرائیلی ٹیم کی میزبانی سے انکار کی پاداش میں کیا گیا فیفا کا کہنا ہے کہ انڈر20 ورلڈ کپ کیلئے متبادل میزبان کا اعلان جلد کیا جائے گا اور فی الحال ایونٹ کا شیڈول تبدیل نہیں کیا جا رہا انڈونیشیا کے خلاف مزید جرمانوں کا اعلان بھی جلد کیا جائے گا۔

    پی سی بی کامورنے مورکل،مکی آرتھر اوراینڈریو پٹک کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

    خیال رہے کہ فیفا انڈر 20 ورلڈکپ رواں برس انڈونیشیا میں ہونا تھا تاہم اب اس سے میزبانی واپس لے لی گئی ہے۔ انڈر 20 ورلڈ کپ 20 مئی سے 11 جون تک ہونا تھا انڈونیشیا کو میزبان ملک ہونے کی وجہ سے اس ایونٹ میں شریک ہونا تھا تاہم اب میزبانی چھینے جانے کے بعد اس کی شرکت کا بھی امکان نہیں۔ انڈونیشیا 1979 کے بعد سے اب تک ٹورنامنٹ کیلئے کوالیفائی نہیں کر سکا ہے۔

    بلوچستان میں بارش برسانے والی مغربی ہوائیں داخل،موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی

    واضح رہے کہ جکارتہ میں گزشتہ دنوں اسرائیلی ٹیم کی متوقع شرکت پر مظاہرہ بھی کیا گیا تھا جس میں مظاہرین نے انڈونیشین اور فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

  • امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا: جوبائیڈن

    امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا: جوبائیڈن

    جدہ :امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا:اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدرجو بائیڈن نے عرب رہ نماؤں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا مشرقِ اوسط میں ایک فعال شراکت دار کی حیثیت سے موجود رہے گا۔

    وہ ہفتے کے روزجدہ میں منعقدہ ’سلامتی اورترقی سربراہ اجلاس‘ میں شریک عرب رہ نماؤں سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہاکہ امریکاخطے کے مثبت مستقبل کی تعمیرمیں مدد دینے کے لیے آپ سب کے اشتراک سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور وہ خطے سے کہیں نہیں جا رہا ہے۔

    بائیڈن مشرقِ اوسط میں امریک کی مشغولیت کا ایک نیاباب شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔امید ہے کہ وہ امریکی فوجی تنازعات سے آگے بڑھیں گے اور اس کے بجائے ایک ایسے خطے پرزوردیں گے جو ممالک کے داخلی معاملات کا احترام کرے لیکن امریکا ایران سے متعلق لاحق خدشات کے پیش نظراقتصادی انضمام اور مشترکہ دفاع کا خواہاں ہو۔

    بائیڈن نے سربراہ اجلاس کویہ بھی بتایا کہ امریکااس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ جوہری ہتھیار کبھی ایران کے ہاتھ نہ لگیں۔

    وہ صدر امریکاکی حیثیت سے مشرق اوسط کے اپنے پہلے دورے پر ہیں۔ انھوں نے جمعہ کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی اورآج انھوں نے چھے خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل جی سی سی اور مصر، اردن اور عراق کے مشترکہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔

  • اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کےدرمیان کینسراورذیابیطس پرتحقیق کا معاہدہ

    اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کےدرمیان کینسراورذیابیطس پرتحقیق کا معاہدہ

    اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان کینسر اور ذیابیطس پر تحقیق کا معاہدہ طے پا گیا،نیز خطے میں وٹامن ڈی کی کمی کے مسئلے پر بھی مشترکہ طور پر تحقیقات کی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے ریسرچ سنٹر ‘کے ایس ایم ‘ (The Kahn-Sagol-Maccabi (KSM) research and innovation centre) اور اماراتی ہیلتھ آرگنائزیشن صحہ (SEHA) نے رواں ہفتے ابوظبی میں معاہدے پر دستخط کیے ہیں معاہدے کا بنیادی مقصد میڈیکل ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی ترقی و فروغ میں باہم تعاون کرنا ہے۔

    معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی سفیر امیر حایک اور اسرائیل کے معاشی اتاشی افیاد تمیر بھی موجود تھے متحدہ عرب امارات کے ادارے ‘صحہ’ ( SEHA) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید الکویتی بھی موجود تھے۔

    واضح رہے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدہ ابراہم کے تحت اسرائیل اور عرب امارات کے درمیان 2020 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد یہ اسرائیلی میڈیکل ریسرچ کے ادارے اور اماراتی ادارے صحہ کے درمیان یہ پہلا باضابطہ اور اہم معاہدہ ہے۔

    رواں ماہ مارچ میں دونوں ملکوں نےموٹاپےاور ذیابیطس سےنمٹنے کےلیے ایک علاقائی فورم قائم کیا تھا کیونکہ دونوں ملکوں میں ذیابیطس کا مرض مقابلتاً زیادہ ہے اسی طرح دونوں ممالک میں موٹاپا باقی دنیا سے زیادہ ہےمتحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے اس معاہدے سے قبل بحرین اور اسرائیل کے درمیان بھی ایسا ہی معاہدہ اسی اسرائیلی ادارے ‘کے ایس ایم ‘ کے ساتھ کیا جا چکا ہے بحرین اور امارات نے اکٹھے ہی 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

    علاوہ ازیں اسرائیل اور امارات کے صحت سےمتعلقہ ادارے اس معاہدے کےعلاوہ امارات میں کلینیکل ڈیٹا مرتب اور محفوظ کرنے کے لیے ایک ‘جینومک ریسرچ رجسٹری’ بھی قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں گذشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے ۔ اس معاہدے کا مقصد بھی صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانا ہے۔

  • امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے دورے پر اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے دورے پر اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر جوبائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل پہنچنے پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے انضمام کو مزید آگے بڑھائےگا، امریکی انتظامیہ امریکا اسرائیل روابط کو مزید مضبوط بنانےکے لیے پرعزم ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق دو روزہ دورے میں صدر جوبائیڈن بیت المقدس میں اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے امریکی صدر جمعےکو مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملیں گے۔

    اسرائیل کے بعد امریکی صدر جمعے کو براہ راست پرواز سے سعودی عرب روانہ ہوجائیں گے، خیال رہےکہ جو بائیڈن کا بطور امریکی صدر مشرق وسطیٰ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    فلسطینیوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ 2021 میں ان کی صدارت شروع ہونے کے بعد سے امریکہ نے ان کے لیے زیادہ کام نہیں کیا لیکن انسانی حقوق پر تناؤ کی وجہ سے اصل توجہ ان کے سعودی دورے پر ہوگی۔

    مسٹر بائیڈن کو ہفتے کے روز مملکت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی منصوبہ بند ملاقات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن پر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 2018 میں ترکی میں سعودی مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دینے کا الزام لگایا تھا۔ شہزادے نے اس کی تردید کی۔ الزامات، اور سعودی پراسیکیوٹرز نے سعودی ایجنٹوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

    مسٹر بائیڈن نے ہفتے کے روز واشنگٹن پوسٹ میں ایک آپشن میں اپنے دورے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا "مقصد ریاض کے ساتھ تعلقات کو از سر نو تشکیل دینا تھا –

    یہ دورہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ایک ایسے وقت میں بھی آیا ہے، اور توقع ہے کہ مسٹر بائیڈن اور شہزادہ محمد کے درمیان ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے میں توانائی کی پیداوار ہو گی، جن کا ملک دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔

    صدر اور ان کے وزیر خارجہ، انٹونی بلنکن، سعودی عرب میں ہونے والی علاقائی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے، ان اطلاعات کے درمیان کہ امریکہ اسرائیل اور کئی عرب ریاستوں کے درمیان قریبی دفاعی تعاون کے معاہدے کا خواہاں ہے، جن میں سے کچھ پرانے دشمن ہیں۔ ایران سے خطرہ

    مسٹر بائیڈن اسرائیل سے براہ راست سعودی عرب جانے والے پہلے امریکی صدر بنیں گے، جسے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کئی دہائیوں کے بائیکاٹ کے بعد ریاض کی جانب سے اسرائیل کو قبول کرنے کی ایک چھوٹی لیکن اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ مسٹر بائیڈن کا طیارہ سعودیوں کے لیے "ہماری طرف سے امن اور امید کا پیغام لے کر جائے گا”۔

  • شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    نیویارک:شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نےاپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ 1 مارچ 2011 سے31 مارچ 2021 کےدرمیان تقریباً 307,000 شہری مارے گئے،جو شام میں تنازعات سے متعلق شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے زیادہ تخمینہ ہے۔

    شام میں جنگوں اورباہمی لڑائی میں مارے جانے شہریوں کے اعدادوشمارجاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ اس کی رپورٹ میں شہری ہلاکتوں پر دستیاب اعداد و شمارجمع کرتے وقت تمام ٹیکنیکل پہلووں کی پاسداری کی گئی اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 سال کی مدت میں 306,887 شہری مارے گئے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہ "اس رپورٹ میں تنازعات سے متعلقہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار محض جسمانی تریخی اعداد کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ انفرادی انسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔”

    "ان 306,887 شہریوں میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے ان خاندانوں اور برادری پر گہرے، دہرانے والے اثرات مرتب ہوئے جس سے وہ تعلق رکھتے تھے۔”اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ رپورٹ کے تجزیے سے تنازع کی شدت اور پیمانے کا بھی واضح اندازہ ہو جائے گا، اور اس میں جنگجوؤں کی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

    اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نےحتمی قرار دیا تھا اور اس میں 143,350 شہریوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا گیا تھا جن کی تفصیلی معلومات کے ساتھ مختلف ذرائع نے انفرادی طور پر دستاویزات فراہم کی تھیں

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں کم از کم ان کا پورا نام، تاریخ اور موت کا مقام شامل ہے جس میں نقاط کو مربوط کرنے کے لیے شماریاتی تخمینہ لگانے کی تکنیک اور متعدد نظاموں کا تخمینہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے کچھ اہم پہلوغائب تھے

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے، مزید 163,537 شہری ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا گیا، جس سے مجموعی طور پر شہری ہلاکتوں کی تعداد 306,887 ہو گئی۔

    "ااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہس میں وہ بہت سے، بہت سے شہری شامل نہیں ہیں جو صحت کی دیکھ بھال، خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری انسانی حقوق تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے، جن کا جائزہ لیناابھی باقی ہے۔”رپورٹ میں کہا گیا کہ 306,887 کے تخمینے کا مطلب ہے کہ اوسطاً، ہر روز، پچھلے 10 سالوں میں، 83 شہری تنازعات کی وجہ سے پرتشدد موت کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ "گذشتہ 10 سالوں میں 1.5 فیصد شہری کل آبادی کا ان تنازعات میں مارے گئے