Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • وزیراعظم  کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے سدباب کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں انسانی سمگلنگ کے سد باب کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قانونی فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزارت داخلہ وزارتِ قانون و انصاف سے تعاون کرے۔ فیڈرل پراسیکیوشن ایکٹ 2023 پر عمل درآمد تیز کیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کا مکمل سد باب تمام اداروں کی مشترکہ کوشش اور تعاون سے ممکن ہے۔ انسانی سمگلروں کی گرفتاری اور استغاثہ کے لیے درکار افرادی قوت کا حصول تیز کیا جائے۔

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ مراکش سے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 27 انسانی سمگلروں کی شناخت کی جا چکی ہے اور 5 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے کو بیرون ملک انسانی سمگلروں کی جلد از جلد حوالگی کے لیے دفتر خارجہ کو انسانی سمگلروں کے خلاف تحقیقات میں جمع کردہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے قصوروار اشتہاری مجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی،

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    عمران ،بشریٰ کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

  • وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریلویز کے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان ریلویز کی بحالی، ترقی اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کی زمین کو نجی شعبے کے تعاون سے کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت دی۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو خطے کے دیگر ممالک خصوصاً وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کو مسابقتی طور پر مسافروں کو راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مسافروں کو سفر کی بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ ریلویز میں پیشہ ورانہ اور باصلاحیت افرادی قوت کا استعمال کیا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کے پرانے نظام کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت دی تاکہ خدمات میں مزید بہتری آئے اور مسافروں کے سفر کے تجربے کو آسان اور سہولت بخش بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کو ہدایت دی کہ وہ مال برداری کی خدمات کو بھی منافع بخش بنائے تاکہ ادارے کی مالی حالت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے ریلویز کی کارکردگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور مستقبل میں مزید ترقی کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد پاکستان ریلویز کے اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سیلاب کے دوران پاکستان ریلویز کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا اور 35 دن تک پٹریاں زیر آب رہیں۔ تاہم، پاکستان ریلویز نے مختلف اقدامات کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا اور مال برداری (Freight Operations) میں ابتدائی لاگت کے برابر منافع کمایا۔ فی الحال پاکستان ریلویز ملک میں مال برداری کی مارکیٹ میں 8 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

    پاکستان ریلویز کی رائٹ سائزنگ کے عمل میں 18 فیصد غیر ضروری عملے کو فارغ کرنے کی معلومات بھی اجلاس میں شیئر کی گئی۔ اس کے علاوہ، تھر کول کے مواصلاتی منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے ریلویز کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، محمد علیم خان، محمد اورنگزیب خان، خواجہ محمد آصف، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سردار اویس لغاری اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔اس اجلاس کا مقصد پاکستان ریلویز کے نظام کو جدید بنانے اور اس کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات کرنا تھا تاکہ ملک کی معیشت میں ریلویز کا کردار اہم اور مضبوط ہو۔

    آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    علی امین گنڈا پور سے پارٹی عہدہ کس کے کہنے پر واپس لیا گیا

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیمی بل کو منظور کرلیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی صدارت میں ہوا، جس میں اس ترمیمی بل پر تفصیلی بحث کی گئی۔

    اجلاس کے دوران صحافتی تنظیموں نے بل پر اپنے اعتراضات پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں جو صحافت کی آزادی کو محدود کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ بل میں ’فیک نیوز‘ کی تعریف مبہم ہے اور اس سے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ بل پر نظرثانی کی جائے اور اسے دوبارہ پیش کیا جائے تاکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے صحافتی تنظیموں کی طرف سے اپنی تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنی سفارشات تحریری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھیں تاکہ کمیٹی ان پر غور کرتی۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اجلاس میں حصہ لیا اور کہا کہ اس ملک میں کسی کو گرفتار کرنے کے لیے کسی خاص قانون کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ خود کرایہ داری کے قانون کے تحت گرفتار ہو چکے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ وزیر اطلاعات کے ساتھ صحافیوں کی ملاقات میں بعض ترامیم پر اتفاق ہوا تھا، اور وزارت داخلہ کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں نئی ترامیم کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    اینکرز ایسوسی ایشن نے بھی ترمیمی بل پر اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ انہیں بل پر اپنی تجاویز دینے کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فیک نیوز کے قانون کے حامی ہیں، مگر موجودہ بل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر کامران مرتضی، سینیٹر پلوشہ خان اور سینیٹر میر دوستین حسن ڈومکی بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے اس بل کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون صرف قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگا۔

    یہ بل صحافتی آزادی، انٹرنیٹ کے استعمال، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے حوالے سے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس پر مزید بحث اور نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

    امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

  • 26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،درخواست گزاروں نےآئینی ترمیم کے خلاف فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمشن نے جن ججز کو آئینی بنچ کے لیے نامزد کیا وہ سب اس بینچ کا حصہ ہیں۔ججز کی نامزدگی جوڈیشل کمشن کرتا ہے جبکہ کیسز کی فکسشین 3 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ جسٹس آمین الدین خان ہیں، کمیٹی میں جسٹس محمد علی مظہر اور میں شامل ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر آپ خود کنفیوز ہیں،آپ اس بنچ کو ہی فل کورٹ سمجھیں۔ وکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جاۓ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں آئینی معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئینی بنچ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ ہی بنایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فُل کورٹ کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس ہی جاسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے آپ پہلے دن سے ہی لڑنے کے موڈ میں ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہیے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر کوئی فریق دلائل دینے کو تیار نہیں تو عدالت حکم جاری کرے گی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ جو اس بینچ کے سامنے بحث نہیں کرنا چاہتا وہ پیچھے بیٹھ جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فُل کورٹ تشکیل دینے پر پابندی تو کوئی نہیں ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان نامکمل تھا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے لیے کل ممبران پر ووٹنگ ہوئی یا دستیاب ممبران پر،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دستیاب ممبران نے ووٹنگ کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دستیاب ممبران ٹوٹل کیا ایوان کے دو تہائی پر پورا اترتا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ گنتی حکومت نے پوری ہی کر لی تھی، یہ مسئلہ نہیں اٹھا رہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا ایوان میں تمام صوبوں کی نمائندگی مکمل تھی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی سینیٹ میں نمائندگی مکمل نہیں، وہاں سینیٹ انتخابات ابھی رہتے تھے،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ اختر مینگل کی درخواست میں ترمیم کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ دینے میں کتنے آزاد تھے، اسے بھی مدِ نظر رکھا جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ درخواست میں ایک نکتہ مخصوص نشستوں کا بھی اٹھایا گیا ہے، ایوان مکمل ہی نہیں تھا تو ترمیم کیسے کر سکتا تھا،وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندے ہی آئینی ترمیم کا اختیار رکھتے ہیں۔

    آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟ اس طرح تو آئینی ترمیم کا کیس کافی عرصہ لٹکا رہے گا۔سپریم کورٹ نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی

    13جنوری کو عمران کی بیٹوں سے بات کروائی،جیل حکام کا عدالت میں جواب

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • کیا شہباز شریف 5 سال وزیر اعظم رہ پائیں گے؟ بلاول سے صحافی کا سوال

    کیا شہباز شریف 5 سال وزیر اعظم رہ پائیں گے؟ بلاول سے صحافی کا سوال

    پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ 26 آئینی ترمیم کو کسی نے رول بیک کیا تو نہیں مانیں گے، ساتھی ججز کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ساتھ دینا چاہیے،

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ماحول افسوسناک ہے، بینچ چاہے آئینی ہو یا سپریم کورٹ کا، آئین و قانون کا احترام کرنا ضروری ہے اور ان کو ماننا لازمی ہے۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ چیف جسٹس کے راستے میں مشکلات پیدا کرنے کے بجائے آسانیاں فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ عدلیہ کا نظام مزید مستحکم ہو سکے۔ 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کے سوا کوئی بھی ادارہ ختم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور ادارہ اس ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

    اسی دوران بلاول بھٹو نے پیکا ایکٹ پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ایکٹ پر میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے مشاورت کی جاتی تو صورتحال بہتر ہو سکتی تھی۔ بلاول بھٹو نے حکومت سے اپیل کی کہ کسی بھی قانون یا قدم کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی فیصلہ تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ حکومت کو فیصلے کرنے سے پہلے عوامی نمائندوں، میڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار کا تحفظ ہو سکے۔پی ٹی آئی کے دور میں بھی پیپلز پارٹی نے پیکاایکٹ کی مخالفت کی تھی ،پیپلز پارٹی کی اپنی سوچ ہے، حکومت کو مشاورت کرنی چاہئے،

    بلاول زرداری سے سوال کیا گیا کہ :کیا شہباز شریف 5 سال وزیر اعظم رہ پائیں گے؟ جس کے جواب میں بلاول نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ انشاءاللہ،

    بلاول نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہر ملک کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، چین اور امریکہ کے مابین کیا حالات ہیں،چین کے صدر کو دعوت ملنے کے بعد امریکہ کے لئے ضروری تھا کہ بھارت کی بھی نمائندگی ہو، پاکستان کی پالیسی اپنی جگہ قائم دائم ہے،پاکستان کے نیو کلیئر اثاثے بھٹو کے تحفے،بینظیر کی امانت ہیں، پیپلز پارٹی کبھی بھی سودا کرنے کو تیار نہیں ہو گی، کچھ بھی ہو جائے، میری ٹرمپ کی حلف برداری میں جانے کی خبر جھوٹ تھی میڈیا سے پوچھیں کیوں چلائی، البتہ ناشتے کی دعوت پر میں جاؤں گا، میں حکومت کا حصہ نہیں ،اسلئے یہ آفیشیلی پروگرام نہیں ہے، ہم کابینہ کا حصہ بھی نہیں بن رہے،

    قومی اسمبلی سے منظور شدہ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 مسترد کرتے ہیں۔لاہور پریس کلب

    چاہت فتح علی خان کی متھیرا کے ساتھ نامناسب انداز میں تصویر پر تنقید

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پاکستان کی پارلیمنٹ میں آج ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو آیا، جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

    یہ اجلاس صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت نے ایجنڈے میں آٹھ بل رکھے ہیں، جن پر اپوزیشن کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگی اور اس کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گی۔

    مشترکہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی درخواست کی، تاہم اسپیکر نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر اپوزیشن ارکان نے اپنے احتجاج کا آغاز کیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی، جن میں "پیکا ایکٹ نامنظور” اور "صحافیوں پہ ظلم بند کرو” جیسے نعرے شامل تھے۔ احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ ان ہنگامی حالات میں ایوان میں شور و غوغا مچ گیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کی طرح کا منظر پیش کرنے لگا۔

    اس کے باوجود اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھا اور حکومتی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کرنے کا عمل نہ رک سکا۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ احتجاج ایک دن پہلے کی طرح ہی تھا، جس میں حکومت کے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18منٹ جاری رہا،مشترکہ اجلاس نے 9منٹ میں 4بل کثرت رائے سے منظور کئے،،نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ کے قیام کا بل 2024منظور ،بل سینیٹر منظور احمد نے پیش کیا ،بل کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی،تجارتی تنظیمات ترمیمی بل 2021ء مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا جبکہ درآمدات و برآمدات انضباط ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا۔قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024ء اور نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ بل 2024ء بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیے گئے۔علاوہ ازیں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء ڈیفر کر دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء مؤخر کر دیا گیا۔این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2023ء اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیے گئے۔وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیا گیا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تجارتی تنظیمات ترمیمی بل سمیت 4 قوانین منظور کر لیے گئے، پی ٹی آئی اراکین پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے اور بھرپور احتجاج کیا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت کے ایک گھنٹہ بعد شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، بلاول بھٹو زرداری، وزیر دفاع خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور دیگر اراکین ایوان میں پہنچے، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کونسل کے اراکین بھی ایوان میں موجود تھے۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 12 فروری 2025 کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا.

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا،پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر بھی صحافیوں کے احتجاج میں شامل ہوگئے،صحافیوں کی جانب سے شہباز گردی نامنظور کے نعرے لگائے گئے،پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی،

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔عدالت

  • یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    تعلیم کے بین الاقوامی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج تعلیم کے بین الاقوامی دن کے موقع پر، ہم ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے افراد اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانے میں تعلیم کے اہم کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس سال کے تعلیم کے بین الاقوامی دن کا موضوع "مصنوعی ذہانت اور تعلیم: خودکاری کی دنیا میں انسانی عوامل کا تحفظ،” کے تحت ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت میں پیش رفت ہماری انسانیت کی خدمت کے لئے ہماری مشترکہ کوششوں میں ہماری مدد کرے۔جیسے جیسے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام تیزی سے ہماری زندگیوں میں ضم ہو رہے ہیں، انسانی مداخلت اور مشین سے چلنے والے اعمال کے درمیان کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ یہ صورتحال ہماری لئے مواقع اور چیلنجز دونوں فراہم کر رہی ہے۔ یہاں یہ اہم سوال انتہائی اہم ہے کہ آٹومیشن کی بڑھتی ہوئی لہر کے درمیان ہم انسانی عوامل کو کیسے برقرار رکھ اور بڑھا سکتے ہیں؟ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ تعلیم کی تبدیلی کا اصل محرک ہے طاقت کو جو نوجوانوں کو ترقی پذیر تکنیکی منظر نامے میں ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ تنقیدی سوچ، اختراع، اور اخلاقی ذمہ داری کو فروغ دے کر، ہم اپنے شہریوں کو نہ صرف تکنیکی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے آلات سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ انھیں ایسے طریقے تشکیل دینا چاہتے ہیں جو ہماری اقدار کو برقرار رکھیں، ہماری آزادیوں کی حفاظت کریں، اور ہمارے معاشرے کو آگے بڑھائیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو تکنیکی ترقی کو قبول کرنے کے لیے تیار کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کی تعلیم دینے والے کالجوں میں ہائی-امپیکٹ آئی ٹی لیبز کا قیام، دیہات میں موجود آئی سی ٹی اسکولوں میں ڈیجیٹل ہب، گوگل سینٹر آف ایکسی لینس، اسمارٹ کلاس رومز، اور ای۔ -تعلیم پورٹل وغیرہ شامل ہیں،مزید برآں، ہم نے اختراع کو فروغ دینے کے لیے ایک روزگار مراکز، سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارکس ، روبوٹکس اینڈ مائینڈ گیمز، اور اسٹیم لیبز جیسے منصوبے شروع کئے ہیں ۔ یہ ضروری ہے کہ ہمارے اسکول ہمارے بچوں کو مطلوبہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوں۔آج کے دن جب کہ ہم ایک ایسے تعلیمی نظام کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جو انسانی تخلیقی صلاحیتوں، ہمدردی اور مقصد کے جوہر کی حفاظت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے نظام کو اپنا رہا ہے ، میں اپنے معلمین اور شراکت داروں کی محنت کا اعتراف کرنا چاہوں گا جو کہ اپنی کوششوں سے ہماری زندگیوں کو منور کر رہے ہیں۔آئیے ہم سب مل کر علم کی روشنی کے اس نیک مقصد کو آگے بڑھاتے رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔

    انضمام الحق کے بیٹے ابتسام الحق کا نکاح

    انجینئرنگ یونیورسٹی،ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹا لیکن جمع نہ کروایا

  • سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے اس پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ نے چھ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی جسٹس جمال خان مندو خیل کر رہے ہیں۔ اس بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 27 جنوری کو مقرر کر دی ہے۔ اس سماعت کے دوران چھ رکنی لارجر بینچ 27 جنوری کو دن ایک بجے اس اپیل پر غور کرے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو ایک سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کا عہدہ ختم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے معاملے کو دیکھیں۔اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

    نذر عباس کی جانب سے چیلنج کیے جانے والے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس اور اس پر جاری قانونی کارروائی کی اہمیت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سپریم کورٹ کا موقف معمول سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات میں کسی قسم کی غلطی یا بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

  • پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے 19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بار پھر اسرائیلی جرائم کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان غزہ میں سیز فائر کا خیرمقدم کرتا ہے اور مسئلہ فلسطین کے دو قومی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان اسرائیل کے جرائم کا احتساب چاہتا ہے اور غزہ کی صورتحال میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے تاکہ غزہ کو دوبارہ رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔

    افغان باشندوں کی ملک بدری سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان افغان باشندوں کو امریکا یا کسی تیسرے ملک بھیجنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، ابھی تک پاکستان کو اس حوالے سے امریکہ سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔پاکستان نے داعش کے حوالے سے افغانستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا۔ ون چائنہ پالیسی کی غیر متزلزل حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،پاکستان امریکہ میں نئی انتظامیہ کا خیرمقدم کرتا ہے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔

    سندھ طاس معاہدے پر موقف
    سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے انتظام کا بنیادی معاہدہ ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے نے کشن گنگا ڈیم پر پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت اس معاہدے کی تکمیل کو یقینی بنائے گا اور پاکستان اس معاہدے پر پوری طرح کاربند ہے۔

    مراکشی کشتی حادثے پر افسوس
    مراکشی ساحل پر گزشتہ ہفتے کشتی کے المناک حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں 25 پاکستانی خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مراکشی حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اس واقعے کی مزید نگرانی کی جا رہی ہے۔

    پاکستان کا برکس میں شمولیت کا عزم
    پاکستان نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ برکس میں شمولیت کا خواہاں ہے اور اس پر پاکستان کا موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے شام کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان شام میں امن کی بحالی کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کے ایڈیشنل خارجہ سیکریٹری افریقی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان سیاسی مشاورت کا دورہ کامیاب رہا، تاہم پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سیاسی مشاورت کا دور آج اسلام آباد میں ہو گا۔

    کشمیر کے مسائل کا حل اگر کسی طرح کروایا جا سکتا ہے تو ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ترجمان دفترخارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق انڈیا سے قیدیوں کی رہائی، تبادلے کے لیے تیار ہیں،پاکستان اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔سفارتی محاذ پر یہ معاملہ بار بار اٹھایا جارہا ہے۔دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے قیدی موجود ہیں،یہ ایک بنیادی انسانی مسئلہ ہے اس کو حل ہونا چاہیے۔کشمیر کے مسائل کا حل اگر کسی طرح کروایا جا سکتا ہے تو ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔کشمیری عوام کو انکا حق خودارادیت اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ملنا چاہیے ۔ قیدیوں کے حوالے سے دہلی میں ہمارا سفارتخانہ اور سفیر اس معاملے پر کام کر رہا ہے

    ٹرمپ کی تقریب میں محسن نقوی کی شرکت اور ملاقاتوں کا علم نہیں،دورہ وزارت خارجہ کے ذریعے نہیں ہوا،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت اور ملاقاتوں کا علم نہیں، دورہ وزارت خارجہ کے ذریعے نہیں ہوا، مزید تفصیلات کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں،ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے امریکہ میں پاکستانی سفیر نے شرکت کی ہے،

    سیف علی خان واقعی زخمی تھے یا صرف ایک” اداکاری” تھی،حملے پر سوال اٹھ گئے

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات