Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہو گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقہ کی علیحدگی انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی دور کریں گے،وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں،عدالت نے مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • 26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    اسد قیصر کے خلاف 26 نمبر چنگی توڑ پھوڑ کیس میں درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔آج کی سماعت میں اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اسد قیصر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کے وکیل صفائی عائشہ خالد نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    اسد قیصر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کے انہیں 14 فروری تک مقدمہ میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز  کے ناموں کی منظوری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے بارے میں تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے دو ناموں کی نامزدگی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے لیے 4 ممکنہ امیدواروں میں سے دو کے ناموں کی منظوری دی۔ ان میں سے ایک نام سیشن جج اعظم خان کا ہے، جبکہ دوسرے نام سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار، راجہ انعام امین منہاس کا ہے۔کمیشن کے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے تین ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم، ان ناموں کی تفصیلات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔

    یہ فیصلہ اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کی عدلیہ میں مزید بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ججز کی تعیناتی سے مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جا سکے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں سہولت حاصل ہو سکے۔

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، گارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

  • پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس آفریدی کے الگ الگ فیصلے ہیں، آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتامجسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فئیر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کی اکثرت کیا تھی، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اکثریت 9 ججز سے بنی تھی،21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ویں ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پرجوڈیشل نظرثانی کی رائے دی،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلہ کا جوڈیشل ریویو ہونا چاہیئے، احتجاج اور حملہ میں فرق ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیصلے میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیس کو 9 مئی کے تناظر میں دیکھا جائے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان کو ملٹری ٹرائل میں سزا پر اپیل کا حق دینے سے حکومت نے انکار کیا۔

    9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی، سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہیں چلیں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاستی املاک پر حملہ کرکے ریاست کی سیکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

    جسٹس اظہر حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاؤس پر احتجاج کرتے تھے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کرے، جس پر خواجہ حارث نے کہا ’یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے‘۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی خصوصی ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے 9 اور 10 مئی واقعات پر مرکوز رکھیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، 9 مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیئے تھا، عدالت کا فوکس 9 اور 10 مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا،

    ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔،عدالت نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی عدالت موجودگی میں فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی عدالت میں موجود تھے،نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی، علیمہ خان سمیت عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،سلمان صفدر، شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

    عمران خان بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب،بشریٰ معاون،تحریری فیصلہ جاری
    احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے،عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے ،بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے، دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، عمران خان اور بشری بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاونٹ کے دستخط کنندہ ہیں،اس مقدمے کا زیادہ تر دار و مدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے، شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم نہیں کر سکے جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم فیصلہ نہیں سنایا گیا، آج 17 جنوری جمعہ کو فیصلہ سنایا گیا

    بشریٰ بی بی فیصلہ سننے کے لئے اڈیالہ جیل پہنچیں تو بشریٰ بی بی کی گاڑیاں اڈیالہ جیل کے اندر انہیں اُتارکر واپس باہر آگئیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی اور داماد بھی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اڈیالہ جیل کے گیٹ پر قیدی وین بھی پہنچائی گئی، میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی،رہنما مسلم لیگ ن طاہرہ اورنگزیب بھی فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی تھیں،انکا کہنا تھا کہ فیصلے تو سارے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میں فیصلے کا انتظار کر رہی ہوں،رضوان رضی، حسن ایوب، گوہر بٹ، شفقت عمران بھی فیصلہ سننے اڈیالہ جیل کے عدالت پہنچے،تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری، بشریٰ بی بی کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہ ملی،سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج نہیں جانے دیا گیا، پہلے میں سب سماعتوں پر آتا رہا ہوں مجھے نہیں علم کہ کیوں نہیں جانے دیا گیا،

    ن لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب اور دانیال چوہدری بھی فیصلہ سُننے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، کمرہ عدالت میں 22 صحافی آج موجود تھے،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم سمیت نیب پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبران عرفان احمد،سہیل عارف،اویس ارشد اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں، عمران خان کے وکیل بھی عدالت پہنچ گئے ہیں

    فیصلے سے قبل پولیس نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت اڈیالہ جیل کے اطراف کی نگرانی ایس پی صدر نیبل کھوکھر نے کی، جبکہ ایس ڈی پی او صدر دانیال رانا کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایچ او صدر اعزاز عظیم کو سکیورٹی انتظامات کے سب انچارج کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی اور انسپیکٹر محمد سلیم کو اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے علاقے میں 6 تھانوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، سکیورٹی کے امور کی نگرانی کے لیے ایلیٹ اور ڈولفن فورس کی بھی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ تمام اہم مقامات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انسپیکٹر نسرین بتول کی نگرانی میں خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی امور کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے دوران کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دعوت نامے موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے 20 افراد کو دعوت نامے ملے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ان کے پارٹی کے لوگ اس اہم موقع پر موجود ہوں گے، تاہم جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی دیگر عہدیدار کو دعوت نامہ آیا ہے؟ تو انہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے مرکزی عہدیدار اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے، لیکن پارٹی کے کچھ اراکین اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    اسی دوران، مذاکرات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کمیشن تشکیل دیے جائیں تاکہ ہمارے افراد کی ضمانت کی جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل پر حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل درآمد کر سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی پھر آگے کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر عمل قانون کے مطابق اور شفاف ہونا چاہیے۔

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا صحافی ثاقب بشیر کو اڈیالہ جیل میں کوریج کی اجازت کا حکم

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن