Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتہ کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی ہے اور اس کے حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر اڑان پاکستان کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو مقامی طور پر تیار کردہ ملک کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو ضروری قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی ترقی اور استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی ترقی کی رفتار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو 2018 میں رک گئی تھی۔ وزیرِ اعظم نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی استحکام کے دوران ترقی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیرِ اعظم نے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں کمی کا سہرا حکومت کی محنتی معاشی ٹیم کے سر ہے، اور برآمدات میں اضافے، صنعتی اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کے نفاذ اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ کے نظام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومتی پالیسوں پر ان کے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کے جلد تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان اور خطے کی ترقی کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی باصلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے، اور حکومت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

    ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے وزیرِ اعظم کی حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کو سراہا، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے ساتھ حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو تحسین کا نشانہ بنایا۔ وفد کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان بھی شریک تھے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

  • رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی، جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں رؤف حسن پر مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) میں بھی درج ہے۔اس دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی رپورٹ نہیں آئی،گنڈاپور ہر بار اسلام آباد آتے ہیں اور لوگ یہاں سے گرفتار ہو جاتے ہیں،خیبرپختونخوا میں تو آپکو تفصیلات جلد مل جانی چاہیے،

    رؤف حسن کی جانب سے وکیل عائشہ خالد عدالت میں پیش ہوئیں،عدالت نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور نیب سے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں،اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد رپورٹ پیش کریں تاکہ کیس کی مزید کارروائی کی جا سکے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے سینیٹ کمیٹی میں کہا ہے کہ ابھی وزارت داخلہ کی طرف سے ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کی کلیئرنس نہیں آئی، انہیں تحفطات سے آگاہ کیا تو انہوں نے حکومت کی پالیسی سے اتفاق کیاہے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں اسٹار لنک کی لانچ پر بریفنگ دی گئی۔چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں قومی اسپیس پالیسی 2023 میں آئی جس پر 2024 میں رولز بنے پھر اسپیس کے حوالے سے پاکستان اسپیس ریگولیٹری بورڈ قائم کیا گیا، یہ باڈی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ماتحت ہو گی، حکومت نے سوچا ہو گا کہ سپارکو کو کمرشل تحفظ دیں، اس لیے ریگولیٹری باڈی قائم کی گئی، کوئی سیٹیلائٹ پاکستان میں سروس دینا چاہے تو وہ پہلے ای ای سی پی کے پاس رجسٹر ہو گی پھر ریگولیٹری بورڈ کے پاس رجسٹر ہو گی پھر پی ٹی اے کے پاس لائسنس کیلئے آئیں گے۔

    انوشہ رحمان نے استفسار کیا کہ نگراں حکومت کے دور میں کیسے پالیسی بنی؟ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اسٹار لنک نے فروری 2022 میں لائسنس کیلئے اپلائی کیا جو وزارت داخلہ کےپاس سکیورٹی کلیئرنس کے لیے گیا، وزارت داخلہ کی طرف سے اسٹار لنک کی کلیئرنس نہیں آئی،لنک ریمورٹ علاقوں میں بزنس والے لوگوں کو سپورٹ کرے گا، اسٹار لنک نئے ریگولیٹری بورڈ کےساتھ رجسٹر ہوگی تو پی ٹی اے لائسنس جاری کر دیں گے، ایک چینی کمپنی ٹرپل ایس ڈی بھی پاکستان آرہی ہے۔ کوئی سیٹلائٹ بھی پاکستان آ سکتی ہے۔

    ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ایلون مسک نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جس میں پاکستانیوں پر الزام لگائے گئے جو بھی فیصلہ کریں ایلون مسک نے جو کہا ہے اس کو نظر میں رکھیں۔،پلوشہ خان نے کہا کہ ایلون مسک پاکستان مخالف ہے، اس کی وجہ سے ہماری عالمی بدنامی ہوئی ہم اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں،انوشہ رحمان نے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کی بندش بھی دیکھ رہے ہیں، اب ایسی سیٹلائٹ لا رہے ہیں جو ایلون مسک جیسے جارحانہ رویے کے حامل شخص کے ماتحت ہے، صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں غیرا خلاقی نوعیت یا عملدرآمد کے مسائل آئیں گے، اسے ہینڈل کرنے کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟ جو مواد چلے گا اس کیلئے ریگولیٹری باڈی کون ہوگی؟

    چئیرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ریگولیٹری باڈی ان سب باتوں کو دیکھ کر ہی لائسنس دینے کا فیصلہ کرے گی، یہ وہ براہ راست سیٹلائٹ سے سیٹلائٹ میں نہیں چلے گا، اسٹار لنک گراؤنڈ پر آئے گا، گیٹ وے کے ذریعے چلے گا،اتھارٹی نے اپنے تحفظات انھیں دیے ہیں، اسٹار لنک نے حکومتی پالیسی سے اتفاق کیا ہے، وہ سسٹم کو بائی پاس نہیں کریں گے، جب حکومت کہے گی ڈیٹا بلاک کرے تو وہ بلاک کریں گے، ایلون مسک کی ٹوئٹ کی وجہ سے اسٹارلنک کی پاکستان رجسٹریشن کا معاملہ دوبارہ اٹھا۔

    ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ اسپیس کی ریگولیشن ٹیکنیکل ہے، اسے سپارکو دیکھتا ہے۔ ا نوشہ رحمان نے کہا کہ یہ کام تو پی ٹی اے کو کرنا چاہے تھا، ابھی وزارت آئی ٹی نے پیکا کی ذمہ داری وزرات داخلہ کو دے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سپارکو اور ریگولیٹری اتھارٹی کو طلب کر لیا۔

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا
    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پاکستان میں کام کرنے والے بیرون ملک کے موجودہ 86 پائلٹس کے لائسنز کی توثیق میں 2 سال اور 2025 میں نئے پائلٹس کی شمولیت کی فارن ویلیڈیشن میں 3 سال کی توسیع کی منظوری دے دی- وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ سالوں میں کووڈ کی وبا اور پاکستانی پائلٹس پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی ائیرلائنز کو بیرون ملک سے پائلٹس کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ کابینہ ڈویژن کی مذکورہ بالا سفارش پر مکمل قانونی کارروائی کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے توشہ خانہ کے نظام میں مزید شفافیت لانے کے لیے توشہ خانہ ایکٹ 2024 پر نظر ثانی کے لیے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر نیشنل سییڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے قوائد وضوابط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ذمہ داری وزارت آئی ٹی سے وزارت داخلہ کو منتقل کئے جانے کے حوالے سے رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کی منظوری دے دی- وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر نشینل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اپیلیٹ ٹریبیونل کے ممبر فنانس کے طور پر ڈاکٹر عمار حبیب خان کی تعیناتی کی منظوری دے دی-

    وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے، اس عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم نے کہا کہ پرائم منسٹر ریلیف پیکج مستحقین تک پہنچانے کے لیے نئی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 جنوری 2025 اور 17 جنوری 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی-

  • سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد رہا ہونے والے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ نے اپنے تحریری جواب میں سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے رہا کیے گئے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔وزارت خارجہ کے مطابق، سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان قیدیوں کی رہائی کی تفصیل درج ذیل ہے

    2019 میں 545 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2020 میں 892 قیدی رہا ہوئے۔
    2021 میں 916 پاکستانی قیدیوں کو آزادی ملی۔
    2022 میں 1331 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2023 میں 1394 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔
    2024 میں 2130 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا گیا۔

    مزید برآں، وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اس وقت مختلف ممالک کی جیلوں میں 23 ہزار 456 پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ سعودی عرب میں 12 ہزار 156 پاکستانی قید ہیں، یو اے ای میں 5 ہزار 292، یونان میں 811 اور قطر میں 338 پاکستانی جیلوں میں ہیں۔

    یہ تفصیلات سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

  • پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سب لوگ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، عمران خان ہی ہماری پارٹی کا نشان ہیں۔

    الیکشن کمیشن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آئین وقانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرائے، ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں سرٹیفکیٹ نہیں ملا، ہم نے الیکشن کمیشن کے آئینی وقانونی سوالات کا جواب دے دیا تھا، پارٹی سرٹیفکیٹ ہمارا آئینی وقانونی حق ہے، پارٹی دفتر پر چھاپے کے دوران ایف آئی اے دستاویزات لے گئی تھی، ہمیں امید ہے اگلی سماعت پر پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ مل جائے گا، پی ٹی آئی دنیا کی بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے ہے، پاکستان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہے، ممبران صاحبان اور چیف الیکشن کمشنر کیلئے وہی طریقہ کار ہے جو آئین میں درج ہے، پارلیمنٹری کمیٹی بننے پر ہی یہ پراسیس جلد مکمل ہوگا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے ایک ہی مُلاقات ہوئی، وہ بھی خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تھی، اِس کے علاوہ کچھ نہیں، میں نے اڈیالہ جیل کے نہ اندر، نہ باہر کسی سے صحافی سے بات نہیں کی، ہماری ایک ہی میٹنگ ہوئی، لوگ اس کو بیک ڈور کہتے، ہماری ایک ہی ملاقات ہوئی یہ بارہا کہہ چکا ہوں،26 ویں آئینی ترمیم چیلنج ہو چکی ہے سپریم کورٹ میں پٹیشن ہے پینڈنگ ہے اس میں جب جوڈیشل کمیشن کی سماعت تھی تو جج صاحبان نے بھی پوائنٹ آؤٹ اٹھا لیا تھا کہ ہم ججز کو پوائنٹ کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کس طرح غیرقانونی قیادت چلا رہی؟ اکبر ایس بابر
    دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی مختلف گزارشات میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت جوآرگرنازیشن سٹرکچر اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ یعنی پی ٹی آئی کا لکھ کر بھی ان کو دیا ہے کہ موجودہ آرگنائزیشن سٹرکچر جب تک قانونی انٹرا پارٹی الیکشن نہیں ہوجاتے نہیں ہے،یہ پی ٹی آئی میں جو عہدوں کے دعوے کرتے یہ غیر قانونی ہیں، ہم نے آج الیکشن کمیشن کو کہا کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کس طرح غیرقانونی قیادت چلا رہی ہے، ایک ارب کے لگ بھگ روپیہ بانٹا گیا ہے، جب تک پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت بحال نہیں ہوتی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سیز کئے جائیں،یہ بہروپیے ہیں، ایسے لوگ جن کا پی ٹی آئی سے دور دور تک تعلق نہیں وہ پی ٹی آئی پر قابض ہیں، ابھی جو 190 ملین پاؤنڈ فیصلہ آیا ،میں پی ٹی آئی کا بانی ممبر ہوں، مجھے تشویش ہوئی ،

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس،بیرسٹر گوہر کو مہلت مل گئی
    قبل ازیں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، چیف الیکشن کمشنر نے چیئرمین پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر صاحب یہ کیس 30 اپریل 2024 سے چل رہا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال تحریری جواب جمع نہیں کروایا گیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے پانچ درخواستوں اور نوٹس پر جواب جمع کروانا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نوٹس کا جواب ہم دے چکے ہیں، درخواست گزاروں کی گزارشات کا جواب آئندہ سماعت پر جمع کروا دیں گے،اس موقع پر اکبر ایس بابر نے کہا کہ کیس کا فیصلہ ہونے تک پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں، ا لیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی۔

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

  • متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    پاکستان کی وزارت تجارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آم کی برآمدات کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کر دیے ہیں، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    وزارت تجارت کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے یو اے ای کو 159.74 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے ہیں۔ اس دوران، پاکستان نے برطانیہ کو 131.96 ملین ڈالرز، سعودی عرب کو 29.61 ملین ڈالرز، اور قازقستان کو 93.86 ملین ڈالرز مالیت کے آم بھیجے ہیں۔اسی طرح، افغانستان کو 35.98 ملین ڈالرز، عمان کو 39.88 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے گئے۔ وزارت تجارت کے مطابق، اس عرصے کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 63 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے 30.9 ملین ڈالرز مالیت کے ترشاوہ پھل بھی برآمد کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی آم عالمی منڈیوں میں اپنی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط برآمدی سامان کے طور پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ اعدادوشمار پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی منفرد ذائقہ اور معیار کے باعث پسند کیے جا رہے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

  • مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے،

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں ایک نیا اور خوفناک پہلو سامنے آیا ہے، جس میں زندہ بچ جانے والوں نے انسانی اسمگلروں کے ذریعے تاوان لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سانحے میں کم از کم 44 پاکستانیوں کی جانیں گئیں، اور اب یہ سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام نے ایسے مجرمانہ آپریشنز کی حمایت کی یا ان میں ملوث رہنے کے لیے آنکھیں بند کیں۔وہ زندہ بچ جانے والے افراد جو اس خوفناک تجربے سے بچ کر مراکش میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آئے، انہوں نے اس سانحے کے حوالے سے ہولناک تفصیلات شیئر کیں۔ ان کے مطابق، 66 پاکستانیوں کو لے کر جانے والی کشتی کو اسمگلروں نے کھلے سمندر میں جان بوجھ کر روک دیا۔ اسمگلر پھر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے صرف ان افراد کو رہا کرتے گئے جو ادائیگی کر سکے – جو کہ 21 افراد تھے۔ باقی تارکین وطن کو چھوڑ دیا گیا، جنہیں قدرتی آفات، بھوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایک زندہ بچ جانے والے نے بتایا، "انہوں نے ہمارے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا۔ جو لوگ پیسے نہ دے سکے، انہیں مارا پیٹا اور مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔”

    اس انکشاف نے پاکستان میں غصہ اور غم کی لہر دوڑادی ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی موت پر سوگوار ہیں، جن میں سے بیشتر گجرات کے ضلع کے نوجوان تھے۔ عوامی غصے میں اضافے کی وجہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے افسران پر غفلت اور ممکنہ طور پر اسمگلروں کی حمایت کرنے کے الزامات ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسران انسانی اسمگلنگ کے آپریشنز پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، رشوتیں لے کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور مجرمانہ عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ایک وزارت کے ذرائع نے الزام لگایا، "یہ افسران اسمگلروں کا تحفظ کر رہے ہیں۔ وہ اہم شواہد دفن کرنے اور ان مجرموں کو بچانے کے لیے ماہانہ پیسے وصول کرتے ہیں۔”

    اس ممکنہ غفلت نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے سینکڑوں جانیں داؤ پر لگی ہیں۔جیسے ہی قوم اس سانحے پر غم و غصے میں ڈوبی ہوئی ہے، انصاف اور احتساب کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث اسمگلروں کے خلاف شفاف اور جامع تحقیقات کرے، ساتھ ہی وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں موجود غفلت اور کرپشن کی تحقیقات بھی کرے۔

    واضح رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے،وزیراعظم شہباز شریف نے مراکش کے لیے ایک حکومتی ٹیم بھیجنے کا حکم دیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چوہدری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔

    دوسری جانب موریطانیہ میں حالیہ کشتی حادثے کے متاثرہ خاندانوں کا غم بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وہ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ اس حادثے میں کئی پاکستانی شہریوں کی جانیں گئی ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔گوجرانوالہ کے دو سگے بھائی ہارون اور عزیر بھی اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ عزیر تو کسی طرح بچ گیا لیکن اس کے بھائی ہارون اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ عزیر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن حالات اتنے زیادہ سنگین تھے کہ وہ اسے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے ایک نوجوان اجمل کا بھی موریطانیہ میں کچھ عرصہ سے کوئی پتا نہیں چل سکا۔ اس کے والدین ابھی تک نہیں جان پائے کہ ان کا بیٹا کشتی حادثے کا شکار ہوا ہے یا وہ زندہ ہے۔ اجمل کے اہلِ خانہ نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے حکومت سے مدد کی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کرے اور دیگر تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے۔

    انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا ایک اور ملزم گرفتار
    موریطانیہ کے کشتی حادثے کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں گوجرانوالہ سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا رکن تھا۔ اس ملزم کی گرفتاری سے مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جو اس پورے نیٹ ورک کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ان تمام مسائل کے درمیان متاثرین کے خاندانوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے، اور ان کی جانب سے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے اور اس حادثے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

  • جوڈیشل آرڈر نہ مان کر    قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے تین ججز نےچیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    آئینی بینچ کے سربرا ہ جسٹس امین الدین خان کو بھی تینوں ججزنے خط لکھا ہے، خط جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نےلکھا،تینوں ججز کی جانب سے خط میں بینچ اختیارات سے متعلق کیس کا ذکر کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ جسٹس عقیل عباسی کو 16 جنوری کو بینچ میں شامل کیا گیا،جسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں کیس سن چکے ہیں،خط میں 20جنوری کو کیس سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کی شکایت کی گئی،خط میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی 17 جنوری اجلاس کا ذکر کیا گیا،جسٹس منصورعلی شاہ نےکمیٹی کو آگاہ کیاا ان کا نقطہ نظر ریکارڈ پر ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کمیٹی اجلاس میں شرکت سے انکار کیاجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا انہیں کمیٹی میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں کمیٹی کو پہلے والا بینچ تشکیل دیکر 20 جنوری کو سماعت فکس کر سکتی تھی،جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے معاملے کو توہین عدالت قرار دیا،

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،بینچزکے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    طلبی پررجسٹرار سپریم کورٹ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ رجسٹرار نے جواب دیا کہ کیس آئینی بینچ کا تھا، غلطی سے ریگولر میں لگ گیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بینچ میں مجھے شامل کرنا تھی، جسٹس عقیل عباسی نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس کو ہائی کورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے بینچ میں شامل کرنا غلطی تھی کیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھاگیا؟ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا،رجسٹرار سپریم کور ٹ نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ عدالت میں پیش کردیا

    جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، نوٹ میں آپ لکھ رہے ہیں کہ 16 جنوری کو آرڈر جاری ہوا ،نوٹ میں آپ آرڈر کی بنیاد پر نیا بینچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے؟ رجسٹرار نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا،آئینی بینچز کی کمیٹی نےترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے،ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بینچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بینچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی،جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ہمارے کیس سننے سے کم از کم آئینی ترمیم کا مقدمہ تو مقرر ہوا،پہلے تو شور ڈلا ہوا تھا لیکن ترمیم کا مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تھا، ٹیکس کیس میں کونسا آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جانا تھا جو یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا، عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ جو دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں یہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا دفاع ہے، دفاع میں پیش کیے جانے والے موقف پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ درست ہے یا نہیں،

    یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو مقدمہ واپس لینے کا اختیار کہاں سے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ کمیٹی کیسز مقرر کر سکتی ہے تو واپس بھی لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی رہے، آپکو چیزوں کا علم تو ہوگا،ججز کمیٹی کا عدالتی بنچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت ججز کمیٹی عدالتی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو کل کوئی کیس اس وجہ سے واپس لے لیا جائے گا کہ حکومت کیخلاف فیصلہ ہونے لگا ہے، میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں، 17 جنوری کو ججز کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، مجھے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا گیا،میں نے جواب دیا جوڈیشل آرڈر دے چکا ہوں، کمیٹی میں بیٹھنا مناسب نہیں،پھر 17 جنوری کو ہی آرٹیکل 191 اے فور کے تحت آئینی بنچز ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس وقت عدالتی بنچ میں کیس تھا اس وقت دو اجلاس ایک ہی دن ہوئے،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ججزآئینی کمیٹی نے منٹس میں کہا 26ویں آئینی ترمیم کیس آٹھ ججز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کیس آئینی بنچ میں بھیجا جاتا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تو ہم کیس سن ہی نہیں رہے تھے، چلیں اچھا ہے، اس کیس کے بہانے کیسز تو لگنا شروع ہو گئے،

    ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،اٹارنی جنرل طلب،منیر اے ملک اور حامد خان عدالتی معاون مقرر
    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا،سینئر وکیل منیر اے ملک اور حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلا کو کل سنیں گے،یہ اہم معاملہ ہے کہ ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ صلاح الدین نے بینچ کے سامنے استدعا کی کہ کچھ ججز کے اختیارات باقی ججز سے کیوں زیادہ ہیں اس معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے تو کمیٹی میں پہلے اس بات کی ریکوئسٹ کردی تھی۔ جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایاکہ کیا ہم توہین عدالت کی سماعت میں ایسا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اس سے متعلق وکلاء ہمیں آگاہ کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل کھڑے ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے فل کورٹ بنا سکتی ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد