Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ  بارے  عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ بارے عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس مکروہ دھندے کو مکمل طور پر روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے ذریعے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعظم نے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ادارہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔

    انہوں نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی سکریننگ کے لیے ایک معیاری نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی بیرون ملک سفر اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے مؤثر مہم چلائے تاکہ عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث انتہائی مطلوب سمگلروں کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے بھرپور تعاون حاصل کرے۔

    اجلاس کے دوران شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ انسانی سمگلروں کے خلاف اب تک متعدد اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جون 2023 سے دسمبر 2024 تک کے دوران کئی انسانی سمگلر گرفتار کیے جا چکے ہیں اور متعدد سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔مزید یہ کہ انسانی سمگلروں کے 500 ملین روپے سے زائد کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں اور ضبطی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی سمگلروں کے استغاثہ کے عمل کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی تیز رفتار کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی اور اس اہم معاملے پر اپنے خیالات اور سفارشات پیش کیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی اور اس مکروہ دھندے کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

    نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

  • مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو گا، جس میں پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، جن میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں جلد تکمیل کی امید ہے اور امکان ہے کہ اس کا نتیجہ خوشخبری کی صورت میں نکلے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کے بانی اور رہنما کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ہیں، وہ سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ جمہوریت کا استحکام قائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے جلد مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔

    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے،پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں،ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی،تا کہ تحقیق ہو کہ سچ کیا ہے، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،ہم اس پر پیچھےنہیں ہٹیں گے.

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

  • وزیرِ اعظم  کا ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالرز کے وعدے کاخیرمقدم

    وزیرِ اعظم کا ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالرز کے وعدے کاخیرمقدم

    وزیرِ اعظم پاکستان، شہباز شریف نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو 10 سال کے کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت 20 ارب ڈالرز کے وعدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس شراکت داری کے تحت ورلڈ بینک کی مدد پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سی پی ایف کے تحت پاکستان کی قومی ترجیحات کے مطابق چھ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان شعبوں میں بچوں کی غذائیت، معیاری تعلیم، صاف توانائی، ماحولیاتی استحکام، جامع ترقی اور نجی سرمایہ کاری شامل ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ان شعبوں پر مرکوز کام پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ورلڈ بینک کا یہ اقدام پاکستان کی ترقی کے لیے ایک سنگین اور مؤثر مدد فراہم کرے گا۔

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے ملک میں اقتصادی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے عوام کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرے گا۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر آرمی چیف اور دیگر متعلقہ حکام کی محنت اور کاوشوں کو بھی سراہا، اور کہا کہ سی پی ایف پاکستان کے معاشی استحکام اور صلاحیت پر ورلڈ بینک کے اعتماد کی ایک بڑی علامت ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں ترقی کو تیز کرے گا اور ملک کی ترقی کے لیے کوششوں کو مزید ہم آہنگ کرے گا تاکہ لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

    شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • پاکستان کا مستقبل آئی ٹی شعبے کی ترقی سے منسلک ہے، وزیراعظم

    پاکستان کا مستقبل آئی ٹی شعبے کی ترقی سے منسلک ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "اڑان پاکستان” منصوبہ ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور اس کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے آراستہ کرنا بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کی کلید ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ "تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے نیووٹیک اور پرائم منسٹر یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور حکومت کی پالیسی ہے کہ نجی شعبے کو فروغ دے کر ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے۔”

    اس کے علاوہ، وزیراعظم نے آئی ٹی شعبے کی ترقی کو پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی اس شعبے کے فروغ سے جڑی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے بیرون ملک ملازمت فراہم کرنے کے لیے دوست ممالک کی مارکیٹس کے تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک ملازمت فراہم کرنے والی جعلی کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو بغیر لائسنس کے کام کر رہی ہیں۔وزیراعظم کو اجلاس میں بتایا گیا کہ عنقریب نوجوانوں کے لیے "وزیراعظم ڈیجیٹل یوتھ ہب” کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں کو ملازمتوں اور دیگر خدمات کی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے اس پلیٹ فارم کو عوام کے لیے آسان بنانے کے لیے انگریزی کے ساتھ ساتھ تمام مقامی زبانوں میں بھی متعارف کرانے کی ہدایت دی۔اجلاس میں وزیراعظم کو پرائم منسٹر یوتھ ایمپلائمنٹ پلان، افرادی قوت کو بین الاقوامی مارکیٹ میں درکار صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے اقدامات اور دیگر منصوبوں کی پیشرفت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    اے این ایف کی کارروائیاں،تعلیمی اداروں میں منشیات فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار

    کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • عمران کو سزا سنانے والے ججز  اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    عمران کو سزا سنانے والے ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کو متنازعہ بنانے پر تلی ہوئی ہے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے 17 جنوری کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا ہے، جس میں ہائی کورٹ کے نئے ججز کی تقرری کی جانی ہے۔ اس اجلاس میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے والے ججز، شاہ رخ ارجمند اور ہمایوں دلاور کو ہائی کورٹ کے نئے ججز بنانے کا امکان ہے تاکہ وہ سزا سنانے کے بعد اپیلوں کی سماعت بھی کر سکیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو متنازعہ بنانے کے لیے مختلف حکمت عملی اپناتے ہوئے اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو اتنا کمزور بنانا چاہتی ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ اس سے ملک میں انصاف کا نظام متاثر ہوگا اور جب انصاف حقدار تک نہیں پہنچے گا تو ملک کیسے ترقی کر سکے گا۔علدیہ حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، تاکہ عوام کو عدلیہ پر اعتماد بحال ہو سکے۔

    اس کے ساتھ ہی، اسد قیصر نے کہا کہ اگر عدلیہ کو حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رکھا گیا، تو ملک میں عدلیہ کا کردار کمزور ہو جائے گا اور اس کا اثر ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر پڑے گا۔

    اسد قیصر نے مزید بتایا کہ القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ جج ناصر جاوید رانا نے تیسری بار مؤخر کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لا کر فیصلے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، اسد قیصر نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عدالتیں اپنے فیصلے جلد سنائیں گی تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔اسد قیصر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور ملک میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائے تاکہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے ہو سکیں۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

  • حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے اور وہ ہر کیس کو اپنے انداز سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے ججز کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، اور ان پر تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر وہ تنقید تعمیراتی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے چیف جسٹس پاکستان بننے کا فیصلہ بہت جلدی میں ہوا تھا اور اس وقت وہ اپنی حلف برداری کے لیے نیا سوٹ تک نہیں خرید سکے تھے۔ انہوں نے عدلیہ کے اندر اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ میں کئی ریفارمز کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ہائیکورٹ کی اتھارٹی کے احترام کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ کے ماتحت ہے، اس لیے براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے دورے کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ جب وہ کوئٹہ گئے تھے، تو بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے شکایات کیں۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آفریدی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا ایشو ان کے دل میں گہرا اثر چھوڑ گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

  • حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    ایک طرف پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی، غریب خود کشیاں کر رہے تو وہیں حکمران قومی خزانے پر عیاشیاں کر رہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہو گی۔

    ایف بی آر نے گاڑیاں خریدنے کے لیے ایک کمپنی کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا ہے، جس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری 2 مراحل میں کی جائے گی۔ایف بی آر کے خط کے مطابق، گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ پیشگی ادائیگی 500 گاڑیوں کی مکمل ادائیگی کے طور پر شمار کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی کھیپ کی ترسیل کے بعد باقی رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور 1010 گاڑیوں کی ڈلیوری جنوری سے مئی 2025 کے دوران مکمل ہو گی۔

    پہلے مرحلے میں جنوری میں 75 گاڑیاں، فروری میں 200 گاڑیاں اور مارچ میں 225 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اپریل میں 250 گاڑیاں اور مئی میں 260 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ایف بی آر کے ترجمان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فیلڈ افسران کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں صرف اور صرف فیلڈ افسران کے استعمال کے لیے ہوں گی۔

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

  • جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی رابطے ٹوٹ گئے، 26 ویں آئینی ترمیم وجہ بنی

    مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان سیاسی تعلقات مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ 26 ویں آئینی ترمیم ہے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان یہ تعلقات اس وقت ختم ہوئے جب جے یو آئی کو اڈیالہ جیل سے حکومت کی جانب سے ہونے والے مذاکرات میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    جے یو آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے مذاکرات میں انہیں اس معاملے پر بالکل آگاہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان بیک وقت حکومت اور اپوزیشن میں شامل ہیں، جس وجہ سے پی ٹی آئی کے لیے ان سے بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کی فضا قائم تھی، تاہم اب یہ تعلقات تلخ یادوں کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں۔ سیاسی رابطوں کی اس سرد مہری کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ترمیم بنی ہے، جس پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات گہرے ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ جو مذاکرات کر رہی ہے، اس میں جے یو آئی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام ،دو ہلاک