Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    استحکام پاکستان کے رہنما عون چودھری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں، اوورسیز کے سامنے کچھ تفصیلات رکھنا چاہتا ہوں ، پاکستان کے خلاف پی آر فرم کو ایکٹیو کیا گیا جو پروپیگنڈا کرتے ہیں

    عون چودھری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پاکستان کے خلاف سازی کی ،پی ٹی آئی نے 2016 میں لندن میں پی آر فرم کی خدمات حاصل کی تھیں، پی ٹی آئی کی سیاست کا انحصار اس بات پر تھا کہ امریکا سے ان کے خلاف سازش ہوئی ، اب ہم نے مداخلت کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کی تو ان کے ممبران نے مخالفت کی ،
    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا جہاں سے آپ کو پیسا مل رہا ہے ایک ایک اکاونٹ کو عوام کے سامنے لاؤں گا ، آپ کو جو پیسے دے رہے ہیں سب ہمیں معلوم ہے ،آپ نے پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف گھناؤنی مہم چلائی، آپ کی حکومت چلی گئی تو آپ نےاداروں پر حملہ کردیا ،پی ٹی آئی والے سازش کرنے والوں کو سامنے لے کر آئیں بے نقاب کریں، پی ٹی آئی کے لوگوں کو کہہ رہا ہوں کہ آپ استعمال ہو رہے ہیں ،آپ نے پی آر فرم ہائر کی اس کے اخراجات کہاں سے آئے ؟آپ نے یہودیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی ،یہ مہم کون چلاتا ہے اس کے پیسے کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ افراد تو پی ٹی آئی آفس کے تنخوادار تھے وہ یہاں تک کیسے پہنچے؟پی ٹی آئی کے لوگ پاکستان مخالف مہم چلانے والوں کو خود بے نقاب کریںاگر اپنے لیڈر کو چھڑانا ہے تو پاکستان کے اندر آؤ، لندن کیوں بھاگ گئے ؟پہلے دوسال کہا امریکا سے آپ کے خلاف سازش ہوئی ، آپ نے پاکستان کے بچے بچے کو بے وقوف بنایا ،

    مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے لنکس کس کے ساتھ ہیں،عون چودھری
    عون چودھری کا مزید کہنا تھا کہ جہاں میرے ملک کی بات آئے گی تو پھر کسی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی،پاکستان کو ہم نے آگے لے کر جانا ہے،مشکل وقت ضرور ہے لیکن یہ سب پاکستان کے بھلے کے لیے ہو رہا ہے، آپ کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، آپ کو جو جو پیسے دے رہے ہیں اس کی منی ٹریلز بھی موجود ہے ،پی ٹی آئی کے سینئرز کو کہنا چاہتا ہوں ان مگر مچھوں کو بے نقاب کریں ،مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے لنکس کس کے ساتھ ہیں ،آپ کون ہوتے ہیں پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے؟ میں نے پارٹی کیلئے قربانیاں دیں ،آج بھی مجھ سے رہنما رابطے کرتے ہیں،میں پنجاب حکومت کا ترجمان تھا جب میں نے بانی کو کہا کہ پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے،جب معاملات بتانا شروع کیے تو مجھے عہدے سے ہٹا دیا گیا،

    عون چودھری کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی پر شہدا کے اہلخانہ سے معافی مانگیں تو میں بھی انکے ساتھ کھڑا ہوں گا۔میرا پی ٹی آئی کیلئے پیغام ہے کرو میری ٹرولنگ، جتنا کر سکتے ہو کرو، جہاں ملک کی بات آئے گی میں آپ اور آپ کی لیڈر شپ کو وہاں لے جا کر کھڑا کروں گا جہاں آپ کو منہ چُھپانے کی جگہ نہیں ملے گی،

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    ہمارے دور میں کچھ غلط ہوا تھا تو اس کو دہرانا نہیں چاہیے، عون چوہدری

    زیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری کی ملاقات

  • نواز شریف کو روزانہ چالیس چالیس لوگ ملنے آتے تھے، عمران خان کا شکوہ

    نواز شریف کو روزانہ چالیس چالیس لوگ ملنے آتے تھے، عمران خان کا شکوہ

    اڈیالہ جیل میں آج عمران خان کے مقدمات کی سماعت ہوئی تو عمران خان اوربشریٰ بی بی نے جیل میں موجود صحافیوں سے بات چیت کی

    عدالت میں عمران خان کی بات چیت کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے کئی بار عمران خان کو روکنے کی کوشش کی گئی، مسلسل ٹوک پر عمران خان غصہ میں آ گئے،اور جیل حکام سے کہا کہ "یہ اوپن ٹرائل تم مجھے بات کرنے سے نہیں روک سکتے”۔

    عمران خان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، پارٹی چھوڑنے والے رہنماؤں کے بارے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تشدد سہنے والے اور فائلیں دیکھ کر بھاگنے والے پارٹی رہنماؤں کے بارے میں الگ فیصلے ہونگے، تحریک انصاف کے جن دو گروپوں میں اختلاف ہے میں نے ان دونوں گروپوں کو 4تاریخ کو بلایا ہے ان سے بات کرونگا،

    امریکہ میں اسرائیلی لابی سب سے زیادہ مضبوط ہے وہ بھی امریکہ کی تاریخ میں ایسی قرار داد نہیں لاسکے،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کانگریس نے پاکستانی انتخابات سے متعلق قرارداد میں اہم سوالات اٹھائے ہیں،کانگریس نے پوری تحقیقات کے بعد متفقہ طور پر قرار داد منظور کی، کانگریس کی قرار داد میں وہی سوالات اٹھائے گئے جن کا ذکر پلڈاٹ،فافن اور پٹن کی ہے، ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت پوری قوم نے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں،سب جانتے ہیں الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، امریکہ میں اسرائیلی لابی سب سے زیادہ مضبوط ہے وہ بھی امریکہ کی تاریخ میں ایسی قرار داد نہیں لاسکے، کانگریس کی قرارداد انتخابات سے متعلق ہے جبکہ سائفر میری حکومت کے خاتمے سے متعلق تھا، میں آج بھی ڈونلڈ لو کی مداخلت پر اپنے موقف پر قائم ہوں۔

    ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ عمر ایوب کے خلاف نعرے لگے ہاتھا پائی ہوئی کیا یہ پارٹی میں تقسیم کی نشان دہی نہیں،جس پر عمران خان نے کہا کہ عمر ایوب نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دیں اور بہت مشکل وقت دیکھا ہے، عمر ایوب کی پارٹی کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں،عمران خان سے فواد چودھری بارے سوال کیا گیا تو عمران خان نے کوئی جواب نہیں دیا.

    پاکستان کو بچانا ہے مشکلات سے نکالنا ہے تو شفاف الیکشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،عمران خان
    بجٹ پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ ظالمانہ بجٹ ہے اسے مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے، بجلی گیس اور ٹیکسز میں مزید اضافہ ہوگا، حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا، پاکستان کو بچانا ہے مشکلات سے نکالنا ہے تو شفاف الیکشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،عوامی مینڈیٹ والی حکومت اصلاحات کرکے ملک کو مشکل سے نکال سکتی ہے، میرے لئے جیل میں ایک کاغذ تک لانے کی اجازت نہیں دی جاتی، نواز شریف کو روزانہ چالیس چالیس لوگ ملنے آتے تھے، مجھے ابھی تک پتہ ہی نہیں انتخابات میں ہماری پارٹی کا کون کون سا امیدوار جیتا ہے۔

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بھی صحافیوں سے بات چیت کی ہے، بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ ایک مقام سجین ہے ایک مقام علیئن ہے ایک مقام یہ ہے جہاں ہم کھڑے ہیں، یہاں جھوٹوں، فراڈیوں اور چوروں کی حکومت ہے،موجودہ حکومت ملک اور فوج کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے، یہ لوگ ہمیں کیا گرائیں گے ان کو میرا رب گرائے گا.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • وفاقی وزیر نجکاری علیم خان سے روسی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر نجکاری علیم خان سے روسی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ ومواصلات عبدالعلیم خان سے روس کے سفیر البرٹ پی خوریف کی ملاقات ہوئی ہے

    روس کے سفیر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے مابین ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے روس معاشی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے،وسط ایشیائی ممالک اور جنوبی ایشیا کے ملکوں کے مابین رابطے اہمیت کے حامل ہیں،تجارتی فروغ کیلئے روس اور سینٹرل ایشیا کو کراچی پورٹ سے منسلک کرنے کے خواہاں ہیں.

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے روسی سفیر سے دو طرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور روس کے سفیر کے مابین ملاقات میں مختلف شعبوں میں دو طرفہ عملی پیش رفت پر اتفاق کیا گیا، وفاقی وزیرسرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے روس کے سفیر کو اپنے حالیہ دورہ سینٹرل ایشیا سے آگاہ کیا

    روس پاکستان کے ساتھ "سٹریٹیجک پارٹنر "کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے،روسی سفیر
    روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا کہنا تھا کہ روس پاکستان کو مختلف منصوبوں میں مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کر نے کاخواہشمند ہے،چین پاکستان اور سینٹرل ایشیائی ممالک کا روس تک نیٹ ورک اہمیت کا حامل ہے، تاجکستان، ازبکستان اور افغانستان کے راستے پاکستان تک زمینی رابطہ چاہتے ہیں،موجود ہ حالات میں پاکستان کو خطے میں تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے،روس پاکستان کے ساتھ "سٹریٹیجک پارٹنر "کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے

    وفاقی وزیر اور روسی سفیر کی ملاقات میں اسلام آباد اور کراچی سے ماسکو تک دو طرفہ فلائٹ آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا، وفاقی سیکرٹری مواصلات علی شیر محسود بھی ملاقات میں موجود تھے جنہوں نے حکومتی پالیسیوں اور محکمہ مواصلات پر بریفنگ دی.

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • "عزم استحکام ” سے  حصول امن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے،علماو مشائخ کانفرنس

    "عزم استحکام ” سے حصول امن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے،علماو مشائخ کانفرنس

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی علماء و مشائخ امن کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے علماء و مشائخ کا آج کا نما ئندہ اجلاس محرم الحرام 1446 ھ وما بعد آنے والے ایام میں ملک میں یگانگت ، بھائی چارہ اور امن کی فضاء قائم رکھنے میں اہم کر دار ادا کرے گا۔ ملک کے اندرونی حالات میں موجود شد ت پسند ی اور انتہا پسند ی کی با قی ماندہ جڑیں بھی اب ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ خاص کر "عزم استحکام ” سے نیشنل ایکشن پلان کو نہ صرف تقویت ملے گی بلکہ حصول امن کے مطلوبہ نتائج بھی حاصل ہوں گے۔ ایک بار پھر محراب و مبنر سے پیغام پاکستان کے ضابطہ اخلاق کو عام کر نے اور اس ضابطہ اخلاق کو معا شرے کے بنیادی تانے بانے تک پہچانے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ محرم الحرام کے حوالہ سے الگ ضابطہ اخلاق کو بھی عام کر ناانتہائی اہم ہے ۔ یہ اہم ذمہ داری علماء و مشائخ ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ دستور کی بالادستی قائم کی جائے اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھا جائے ۔ ایک طرف مقدسات اسلام کی تعظیم کر نا ہو گی تو دوسری طرف تکفیر، نفرت انگیزی ،تشدد، تعصب، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے حقیقی اقدامات بھی کر نا ہوں گے۔ ملکی قانون اور شریعت کی رو سے اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ ضرور کی جائے لیکن اس کی آڑ میں کسی شخص، فرقہ یا کسی قومی ادارے کے خلاف نفرت انگیز تحریر و تقریر سےاپنے آپ کو روکا جائے۔آج کا یہ اجتماع ملک میں ہجوم کے ہاتھوں ملزمان کی ہلاکت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ با لائے قانون نہ تو اس طرح کے قتل کی کوئی اجازت ہے اور نہ ہی اس طرح کے قتل کے ملزمان کو ہیرو بنایا جائے ۔ پاکستانی معا شرے میں کمزور طبقات کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنا نے کے لئے حقیقی اقدامات کر نا ہوں گے۔غزہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و ستم کی شدت سے مذمت کرتےہیں اور پوری دنیا سے بالعموم اوراہل اسلام سے خصوصاً مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظلم کو روکنے کے اقدامات کئے جا ئیں۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب نعیمی کی جانب سے پیغام پاکستان کی روشنی میں ضابطۂ اخلاق جاری کیا گیا ہے

    1۔ تمام شہریوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی بالادستی کو تسلیم کریں، ریاست پاکستان کی عزت و تکریم بجا لائیں اور ساتھ ہی ساتھ ہر حال میں ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری کے حلف کو نبھائیں۔
    2۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری بنیادی حقوق کی عزت و تکریم کو یقینی بنائیں جیسا کہ دستور پاکستان میں مندرج ہیں، بشمول قانون کی نظر میں مساوات، سماجی اور سیاسی حقوق، اظہار خیال، عقیدہ، عبادت اور اجتماع کی آزادی۔
    3۔ دستور پاکستان کی اسلامی ساخت اور قوانینِ پاکستان کا تحفظ کیا جائے گا۔ پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ شریعت کے نفاذ کے لیے پرامن جدوجہد کریں۔
    4۔ اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں گی اور یہ شریعت کی روح کے خلاف ہیں اور کسی فرد کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومتی، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں کے افراد سمیت کسی بھی فرد کو کافر قرار دے۔
    5۔ علماء، مشائخ اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ ریاست اور ریاستی اداروں خاص طورپر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی بھرپور حمایت کریں تاکہ معاشرے میں سے تشدد کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔
    6۔ ہر فرد ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصّبات کی بنیاد پر چلنے والی تحریکوں کا حصّہ بننے سے گریز کرے۔ ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
    7۔ کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تنازعہ اور جبراً اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلّط نہ کرے کیونکہ یہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور فساد فی الارض ہے۔
    8۔ کوئی نجی یا سرکاری یا مذہبی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تبلیغ نہ کرے، تربیت نہ دے اور نفرت انگیزی، انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ نہ دے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
    9۔ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں، خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہوں، کے خلاف سخت انتظامی اور تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔
    10۔ اسلام کے تمام مکاتب فکر کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ کریں، مگر کسی کو کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی اور اہانت پر مبنی جملوں یا بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    11۔ کوئی شخص خاتم النبیین حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم، جملہ انبیاء کرام امہات المؤمنین، اہلِ بیت اطہار، خلفاء راشدین اور صحابہ کرامؓ کی توہین نہیں کرے گا۔ کوئی فرد یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا نہ ہی توہینِ رسالت کے کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ بنے گا۔
    12۔ کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرے گا اور صرف مذہبی سکالر ہی شرعی اصولوں کی وضاحت مذہبی نظریے کی اساس پر کرے گا۔ البتہ کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرہ اختیار ہے (مسلمان کی تعریف وہی معتبر ہوگی جو دستور پاکستان میں ہے)۔
    13۔ کوئی شخص کسی قسم کی دہشت گردی کو فروغ نہیں دے گا، دہشت گردوں کی ذہنی و جسمانی تربیت نہیں کرے گا، ان کو بھرتی نہیں کرے گا اور کہیں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوگا۔
    14۔ سرکاری، نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب میں اختلافِ رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا کیونکہ فقہی اور نظریاتی اختلافات پر تحقیق کرنے کے لیے سب سے موزوں جگہ صرف تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔
    15۔ تمام مسلم شہری اور سرکاری حکام اپنے فرائض کی انجام دہی اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کی روشنی میں کریں گے۔
    16۔ بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں، خنثیٰ اور دیگر تمام کم مستفیض افراد کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات ہر سطح پر دی جائیں گی۔
    17۔ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق کریں۔
    18۔ اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواتین سے ان کے ووٹ، تعلیم اور روزگار کا حق چھینے اور ان کے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچائے۔ ہر فرد غیرت کے نام پر قتل، قرآن پاک سے شادی، ونی، کاروکاری اور وٹہ سٹہ سے باز رہے، کیونکہ یہ اسلام کی رو سے ممنوع ہیں۔
    19۔ کوئی شخص مساجد، منبر و محراب، مجالس اور امام بارگاہوں میں نفرت انگیزی پرمبنی تقاریر نہیں کرے گا اور فرقہ وارانہ موضوعات کے حوالے سے اخبارات، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر متنازعہ گفتگو نہیں کرے گا۔
    20۔ آزادی اظہار اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے، اس لیے میڈیا پر ایسا کوئی پروگرام نہ چلایا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا سبب بنے اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • وزیرِ اعظم   کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ کیا ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مون سون کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی،وزیرِ اعظم نے مون سون کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم کر دی.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے تمام صوبائی حکومتوں و متعلقہ اداروں کی مون سون کے حوالے سے معاونت کرے. ہنگامی صورتحال میں متوقع طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. کسانوں اور دریاؤں و ندی نالوں کے گردونواح کے لوگوں کو روزانہ کی بنیادوں پر میڈیا و دیگر ذرائع سے پیشگی اطلاعات دی جائیں.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مون سون کی پیش گوئی اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں این ڈی ایم کی جانب سے مون سون کی اب تک کی پیش گوئی اور متوقع خطرے سے دوچار علاقوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. جس میں بتایا گیا کہ جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں چاروں صوبوں میں مون سون کی شدید بارشیں متوقع ہیں،رواں برس مون سون بارشوں کا سلسلہ پاکستان میں جنوب مشرق سے ہوتا ہوا شمال کی جانب بڑھے گا. جولائی کے پہلے ہفتے میں پوٹھوہار اور پنجاب کے مشرقی حصے میں بارشیں متوقع ہیں. جولائی کے دوسرے ہفتے میں راولپنڈی، سرگودھا، گجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں موسلادھار جبکہ بہاولپور، ملتان، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں کہیں کہیں بارشوں کا امکان ہے. اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ستلج، چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال متوقع ہے.ان دریاؤں کے گرد و نواح میں آبادیوں کو نہ صرف پیشگی اطلاعات اور نقل مکانی کیلئے تیاریاں مکمل ہیں بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی جا چکی ہے. سندھ میں جولائی کے دوسرے اور چوتھے ہفتے میں کراچی، میر پور خاص، نواب شاہ، سکھر و حیدرآباد میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں. تھر پارکر، بدین ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں اگست کے تیسرے ہفتے بھی مون سون بارشوں کی توقع ہے. خیبر پختونخوا میں جولائی میں ہزارہ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ اگست کے تیسرے ہفتے تک متحرک رہنے کا امکان ہے.بلوچستان میں جولائی کے دوسرے، چوتھے اور اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ساحلی و سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. اگست کے تیسرے ہفتے میں لسبیلہ، ارماڑہ، خضدار، بارکھان، سبی اور ژوب میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا امکان ہے.گلگت بلتستان میں جولائی میں جزوی بارشیں جبکہ اگست کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر بارشوں کی توقع ہے جس میں سکردو، ہنزہ، چلاس اور غزر میں بارشوں کا امکان ہے. آزاد کمشیر میں جولائی کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر موسلادھار بارشوں اور لینڈ سلائیدنگ کا خطرہ ہے.

    اجلاس کو ستلج اور چناب کے کناروں پر آبادیوں کے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ پورے ملک میں کشتیوں، خیموں، نکاسی آب کیلئے پمپس، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھا گیا ہے.مون سون کے حوالے سے تیاری رواں برس جنوری جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشقیں مارچ سے جاری ہیں. ریسکیو اداروں، پی ڈی ایم ایز، افواج پاکستان کے دستوں اور این ڈی ایم اے مسلسل متوقع طور پر متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ پر ہیں.مون سون الرٹ اور موسم کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پیشگی اطلاعات کیلئے این ڈی ایم اے نے ایک موبائل ایپ متعارف کرائی ہے جو لوگوں کے استعمال میں ہے. مون سون میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی مون سون کنٹنجینسی پلان مرتب کرکے متعلقہ اداروں و صوبائی حکومتوں کو بھیجا جا چکا ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کو قومی نشریات کا حصہ بنایا جائے.کسانوں کو باقاعدگی کے ساتھ موسم کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے. کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کسانوں کی بھرپور معاونت کی جائے.

    اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹیرز نے اپنے صوبوں میں مون سون اور اس حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل پر بریفنگ دی. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، رانا تنویر حسین، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز ویڈیو لنگ کی ذریعے شریک تھے.

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کوئی چیز غلط رپورٹ ہوئی جس پر پیمرا نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا؟ میرا نہیں خیال کہ ہماری ہائیکورٹ سے ایسا کچھ ہوا ہے یا رجسٹرار نے کوئی شکایت بھیجی ہو، اگر میں نے کوئی بات نہ کہی ہو اور رپورٹ ہو جائے تو کمپلینٹ پر پیمرا اُس میڈیا ہاؤس کو penalize بھی کر سکتا ہے،اوپن دنیا کا زمانہ ہے، جو کچھ ہو رہا ہے عوام کو جاننے دیں، پچھلے ایک سال میں پیمرا نے غلط رپورٹنگ پر کتنی کاروائیاں کی ہیں؟رپورٹرز تو بالکل درست رپورٹنگ کرتے ہیں، شام کو جو پروگرامز میں بیٹھ کر فیصلے سناتے ہیں وہ مسئلہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے رپورٹرز تو بہت ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرتے ہیں، میں تو کہتا ہوں 99.99 فیصد رپورٹنگ درست ہوتی ہے، پوائنٹ ون فیصد انسانی غلطی ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ میں بھی مجھے یقین ہے کہ ایسے ہی ہوتا ہو گا، اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے، عدالت جب دستخط شدہ فیصلہ جاری کر دیتی ہے تو وہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے، جج پر نہیں بلکہ اُسکے فیصلے پر تنقید کی جانی چاہیے،ہمیں عدالتی فیصلوں پر مباحثوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، عدالتی فیصلوں پر روشنی ڈالی جانی چاہیے کہ قانون ایسے تھا لیکن فیصلے میں یہ غلطی ہے،

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ ، سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ وکیل مخدوم علی خان نے بتایا آئین کے مطابق سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی نہ کہ آزاد امیدواروں کو، سیاسی جماعتیں تب مخصوص نشستوں کی اہل ہوں گی جب کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہوگی ،میرے پاس ریکارڈ آگیا ہے، 2002 اور 2018 میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے،2002 کی قومی اسمبلی میں 14آزاد اراکین تھے، 14آزاد اراکین کو نکال کر باقی مخصوص نشستوں کا فارمولا نکالا گیا،ان 14آزاد اراکین کی مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں میں بانٹی گئیں، ایک اسمبلی میں بلوچستان میں 20فیصد آزاد اراکین تھے، آزاد اراکین کو ہمیشہ الگ کیا جاتا رہا،

    کیا سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آزاد اراکین کو پولیٹیکل پارٹیز سے الگ رکھنے کے نتائج کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں تقریباً 33فیصد اراکین اسمبلی آزاد ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 51کی زیلی شق چھ کی اصل لینگویج تک خود کو محدود رکھ رہا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے باہر کردیا، کیا سپریم کورٹ کی آئینی زمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی یہی سوال کیا گیا تھا،میں آخر میں آرٹیکل 187پر دلائل دونگا ،

    جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 لایا گیا، 2002 میں مخصوص نشستوں کی تعداد 10 تھی،2018 میں 272 کل نشستیں تھیں تین پر انتخابات ملتوی ہوئے اور 13 آزاد امیدوار منتخب ہوئے، 9 امیدوار سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے مخصوص نشستوں کا فارمولا 265 نشستوں پر لاگو ہوا، 2018 میں 60 خواتین کی اور 10 اقلیتی سیٹیں مخصوص تھیں،2002 کے انتخابات میں بلوچستان میں 20 فیصد آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے، مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا،جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن کی غلطی کو درست کریں؟ الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی ،بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کے ناطے کیا یہ ہماری زمہ داری نہیں کہ اسے درست کریں،

    کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟جسٹس منیب اختر
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہے کیا آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحادکونسل میں آزادامیدواروں کی شمولیت ہوسکتی ہے، کیا سنی اتحادکونسل مخصوص نشستوں کی اہل ہے یا نہیں؟جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آزاد امیدواروں کی تعداد 2024 میں بہت بڑی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق کسی صورت کوئی نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں کبھی آزاد اراکین کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا، اس مرتبہ آزاد اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کیس بھی آیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسمبلی مدت ختم ہونے میں 120 دن رہ جائیں تو آئین کہتا ہے انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟ جن کو آپ آزاد کہہ رہے وہ آزاد نہیں انکو الیکشن کمیشن نے فیصلے سے آزاد کیا۔

    آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں،آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں، موجودہ سچوئشن بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتی تو خالی چھوڑ دیں، پارلیمانی پارٹی کےلیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو،
    پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے،پارلیمانی پارٹی کی مثال غیرمتعلقہ ہے کیونکہ اس معاملے کا تعلق انتخابات سے پہلے کا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کا ذکر آئین میں کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ذکر صرف آرٹیکل 63 اے میں ہے، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو،

    پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کر چکا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس اختیار کے تحت پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کرتا ہے؟ پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب الجواب دلائل میں وہ خود بتا دیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وہ نہیں، آپ بتائیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن پر کیا کہتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل کو دکھادیا،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن بھی دکھا دیا ،وکیل فیصل صدیقی نے کہ کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹیفکیشن سے زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بھی بنا چکا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار پارلیمانی پارٹی نہیں بنا سکتے،آزادامیدواروں نے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے جو پارٹی ایک سیٹ کم سے کم جیت کر آئی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی سیاسی جماعت کے جیتے ہوئے امیدوار ہوں تو سیاسی پارٹی آٹومیٹکلی پارلیمانی پارٹی بن جاتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزادامیدوار پارٹی بنا لے تو آرٹیکل 51 نافذ نہیں ہوگا، آزادامیدوار کی اسمبلی سے باہر تو پارٹی تصور کی جائےگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار کسی ایسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا جو پارلیمانی پارٹی نہ ہو،

    نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سرکاری طور پر ہونے والے کمیونکیشن کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے ان نوٹیفکیشنز کا تعلق نہیں، اٹارنی جنرل منصوراعوان نے علامہ اقبال کے بانگ درا کے شعر کا حوالہ دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، میرا شوق دیکھ اور میرا انتظار دیکھ،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ،جسٹس منیب اختر
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تشریح مان لیں تو پارلیمان میں بیٹھے اتنے لوگوں کا کوئی پارلیمانی لیڈر نہیں ہوگا؟ موقف مان لیا تو کسی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ہونے پر کارروائی ممکن نہیں ہوگی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ہے،بتائیں نا الیکشن کمیشن انہیں پارلیمانی پارٹی مان کر کیسے نشستوں سے محروم کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو بتا رہا ہے کہ ہمارے ریکارڈ میں یہ پارلیمانی جماعت ہے، ریکارڈ کسی وجہ سے ہی رکھا جاتا ہے ناں؟

    اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسا ہوسکتا کہ سیاسی جماعت اگر پارلیمانی پارٹی نہ ہو لیکن سیٹ جیتے تو پارلیمانی پارٹی تصور کی جاسکتی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات ہی تعین کریں گے کہ پارلیمانی پارٹی کون ہوگی،آزادامیدوار اگر ہوں تو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو سکتے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں آزادامیدوار کے بارے میں نہیں پوچھ رہی، میں انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے حوالے سے پوچھ رہی، آپ کے مطابق سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی بنے گی، ابھی تو ہم دیکھ رہے آزادامیدوار سیاسی جماعت ہیں یا نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں،لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن چکی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک آئینی ادارے نے غیر آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں، ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا کیس،سپریم کورٹ نے سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت ہونے کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابی نشان واپسی اور تضادات سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار ہے، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں الگ معاملہ زیرسماعت ہے، میری درخواست الگ ہے،

    تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل کا عدالت میں اعتراف
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگ رہا تھا سپریم کورٹ پیر تک کیس نمٹا دے گی لیکن لگتا ہے کچھ وقت اور لگے گا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹہ سماعت کا کہا گیا ہے،لگتا یہی ہے کہ کل یا پرسوں تک سپریم کورٹ کیس کا فیصلہ کر دے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک جماعت کا انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا وہ بطور سیاسی جماعت ختم ہو جائے گی؟ کیا تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں اب بھی درج ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی، تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک شخص آزادالیکشن لڑتاہےلیکن کہتاہےکہ اس سیاسی جماعت سےہوں توہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ میں بتاتا ہوں کہ ہوا کیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو ہوا اسکو چھوڑ دیں میں مفروضوں پر بات نہیں کر رہا، عدالتی سوال کا جواب دیں، پی ٹی آئی بطور جماعت موجود ہے، اُسکے چیئرمین، سیکرٹری وغیرہ ہیں نا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرائے،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دائر کی لیکن الیکشن کمیشن نے خارج کر دی، سلمان راجہ نے درخواست دی کہ انتخابی نشان نہ دیں لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار مان لیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے 5 جولائی تک جواب طلب کر لیا.

  • دوران عدت نکاح کیس، بشریٰ ،عمران کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    دوران عدت نکاح کیس، بشریٰ ،عمران کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیل پر سماعت ہوئی

    اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی، عمران خان کے وکلاء زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سینئر وکیل سلمان صفدر تھوڑی دیر میں آ رہے ہیں، اس لیے سماعت میں مختصر وقفہ کر دیں، خاور مانیکا کے بھی جونیئر وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سینئر وکیل زاہد آصف 11 بجے پیش ہوں گے، لہٰذا سماعت میں وقفہ کیا جائے،ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، سلمان صفدر دلائل دیں، عدالت نوٹ کر لے گی،عدالت نے سلمان صفدر کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کر دیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج جزوی دلائل دوں گا باقی کل کے لئے کیس رکھ لیں،سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کا کیس ہے، آپ کا سزا معطلی کی درخواست پر آرڈر دیکھا ہے میرے کچھ پوائنٹ فیصلے میں تحریر نہیں،جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کے پاس پورا ٹائم ہے آج اور کل بھی ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدت نکاح کیس اپیلیں ،بدنیتی اور فراڈ میں جو چیز مشترکہ ہے وہ ارادہ ہونا ہے،اگر رجوع کا حق تھا تو وہ ایک سول معاملہ ہے اس کا کریمنل سے تعلق نہیں ہے، یہ کافی نہیں کہ یہ کہہ دینا کہ میں رجوع کر لیتا، اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتےکہتے میں نے رجوع کرنا تھا ،ہمیں آپ سے انصاف کی امید ہے، سزا معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی،جج افضل مجوکا نے کہا کہ ایک دن نکاح ہوا دوسرے دن خاور مانیکا کو پتہ چل گیا لیکن وہ خاموش رہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتے کہتے میں نے رجوع کرنا تھا، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ 1992 اور 1994 کی سپریم کورٹ کی ججمنٹ غیر موثر ہے ۔سلمان اکرم راجہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے متعد فیصلوں کا حوالہ دیا گیا

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آپ جن فیصلوں کا ذکر کر رہے ہیں میں ان کی سماعتوں میں بیٹھا کرتا تھا اور میرا ایل ایل ایم کا تھیسیس اسی پر تھا، میں نے یہ نہیں کہا کہ عدت کا دورانیہ 90 دن ہے، سپریم کورٹ نے 39 دن کے بعد اپنے فیصلے سے عورت کو تحفظ فراہم کیا،مفتی سعید نے بھی کہا کہ عورت کی بات عدت کے حوالے سے حتمی ہے لیکن عدالت میں غلط بیانی کی،90 دن کا دورانیہ عدت نہیں رجوع کا وقت ہے اسے عورت کے لیے تلوار نہیں بنایا جاسکتا،

    جج افضل مجوکا نے وکیل عثمان ریاض گل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور ججمنٹ ہے وہ آپ نوٹ کر لیں آپ آجکل خاموش رہتے ہیں ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چار گواہ ہیں مگر ملازم لطیف کے بیان کو ٹرائل کورٹ نے اہمیت دی، مفتی سعید کی گواہی بھی جھوٹی ثابت ہوئی، خاور مانیکا نے لطیف کے بیان پر انحصار کیا اور خود بھی وڈیو بیان پر غلط بیانی کی،دوسرے نکاح کی بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عدت پوری تھی یا نہیں، یہ ایک گھڑی گئی کہانی تھی جس سے بانی پی ٹی آئی کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، یقیناً جج صاحب پر کوئی پریشر تھا کہ فیصلہ سنانے کے دن ہائی کورٹ کو لکھ دیا کہ فیصلہ نہیں سنا سکتا،

    خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ کل اور پرسوں ہائی کورٹ میں ہوں، 5 تاریخ کو سماعت رکھ لیں، جج افضل مجوکا نے کہا کہ سلمان صفدر کتنا ٹائم لیں گے، عثمان گل نے کہا کہ ہم بشری بی بی کی جانب سے دلائل کے لئے ایک دن لیں گے،عدالت نے دوران عدت نکاح کیس میں اپیلوں کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کردی،عدالت ے حکم دیا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب کل اپنے دلائل مکمل کریں پرسوں بیرسٹر سلمان صفدر اپنے دلائل مکمل کریں خاور مانیکا کے وکیل 4 جولائی یا 8 جولائی میں سے ایک دن اپنے دلائل مکمل کرلیں عدالت نے ہر صورت 8 جولائی تک کیس کو ختم کرنا ہے

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،

  • پاکستان اقوام متحدہ کے کاربن ٹریڈنگ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے،رومینہ خورشید

    پاکستان اقوام متحدہ کے کاربن ٹریڈنگ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے،رومینہ خورشید

    اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام کے ڈنمارک مشن کے 3 رکنی وفد نے سینئر ماہر اقتصادیات کی قیادت میں وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم سے وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام میں مشیر کاربن کریڈٹ مارکیٹس عروہ خان نے وزیر اعظم کی موسمیاتی مشیر رومینہ خورشید عالم کو کاربن مارکیٹ سے متعلق ان اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جن میں سیمنٹ، تیل اور سمیت مختلف شعبوں سے اپنے کاربن کریڈٹس کی فروخت سے پاکستان معاشی فوائد حاصل کرسکتا ہے،انہوں نے وزیر اعظم کے موسمیاتی معاون کو پالیسی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سیمنٹ، فضلہ، ٹیکسٹائل، تیل اور گیس، ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں سمیت مختلف ممکنہ شعبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنی تنظیم کی مکمل تکنیکی اور غیر تکنیکی مدد کا بھی یقین دلایا۔

    دونوں فریقوں نے پاکستان کے مختلف صنعتی شعبوں کو بین الاقوامی کاربن تجارتی منڈیوں میں اپنے کاربن کریڈٹ فروخت کرنے اور مالی فوائد حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم کی موسمیاتی معاون رومینہ خورشید نے ملاقات کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم کاربن مارکیٹوں کی جانب سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن مارکیٹ میں کاربن کریڈٹ پیدا کرنے اور کاربن کریڈٹس کی فروخت سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے پیش کی جانے والی غیر استعمال شدہ اقتصادی صلاحیت سے بہت زیادہ آگاہ ہیں۔”

    کاربن مارکیٹس بین الاقوامی تجارتی نظام ہیں جس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ختم کرنے یا کم کرنے والے اداروں سے کاربن کریڈٹ خرید کر ان کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی تلافی کے لیے کاربن کریڈٹ فروخت اور خریدے جاتے ہیں۔

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم