Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سینیٹرفیصل واوڈااور مصطفی کمال ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،بیرسٹرفروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ مصطفیٰ کمال نےغیرمشروط معافی مانگی اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کرچکے ہیں،فیصل واوڈا عدالت پیش ہوئے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل نہیں آئے؟کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے، فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کلائنٹس کہاں ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26 چینل کی جانب سے میں ہوں،چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کسی کلائنٹ نے ابھی تک کوئی جواب جمع نہیں کروایا،آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تمام چینلز کے نمائندگان عدالت میں موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا چکا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جواب پر دستخط وکیل کے ہیں چینلز کے نہیں،توہین عدالت کیس میں دستخط چینلز کے ہونا لازمی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شوکاز نوٹس ہوتا تو جواب چینلز کے دستخط سے جمع ہوتا،میڈیا اداروں کو شوکاز نوٹسز نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ میڈیا اداروں کو شوکاز کروانا چاہتے ہیں ؟جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کم از کم میڈیا اداروں کے کسی ذمہ دار افسر کا دستخط شدہ جواب جمع ہونا چاہیے تھا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ کہاں سے کر رہے ہیں؟ پیمرا سے یا کسی بین الاقوامی کنونشن سے دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق اور سچ میں فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ میں آج آپ سے نئی بات سیکھوں گا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کہاں آپ کو کچھ بھی سکھا سکتا ہوں،سچ کا تناظر وسیع ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے کھڑے ہیں یہ حقیقت ہے یا سچ؟بال کی کھال اتارنے جیسی بات کر رہے ہیں، صدیقی صاحب وکیل نے اپنے کلائنٹ کا مفاد دیکھنا ہوتاہے،

    کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آئین پسند نہیں؟ میں سمجھا آپ آئین سے بات کا آغاز کریں گے،کوئی کسی کو چور ڈاکو کہے اور میڈیا کہے ہم نے صرف رپورٹنگ کی ہے کیا یہ درست ہے؟کیا ایسے آزاد میڈیا کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں؟ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے دو الگ الگ چیزیں ہیں،گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، کیا آئین میں صحافت کی کچھ حدود ہیں یا نہیں، ایک وکیل دوسرے کو جھوٹا اور چور کہے تو میڈیا بغیر تصدیق چلا دیتا ہے، کیا توہین آمیز مواد چلانا توہین عدالت نہیں،کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں، ایسا بھی نہیں ہوا کہ ایک بار غلط بات آنے پر پریس کانفرنس کوکاٹ دیا ہو، اب فریڈم آف ایکسپریشن کے تحت بتائیں اس پریس کانفرنس سے کتنے پیسے کمائے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کلائنٹس سے ہدایات لے لیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایک ایک سے بلا کر پوچھ لیتے ہیں،

    ڈائریکٹر نیوز جیوٹی وی رانا جوادروسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کتنی بار وہ پریس کانفرنس چلائی کتنے پیسے بنائے؟رانا جواد نے کہا کہ گیارہ بارہ بلیٹن میں وہ پریس کانفرنس چلی،پیسوں کا نہیں پتہ میں صرف ایڈیٹوریل دیکھتا ہوں فنانس نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریس کانفرنس کرنے والے کہہ رہے ہیں ان سے غلطی ہو گئی،آپ مگر کہہ رہے ہیں کہ آپ کا فرض ہے یہ دکھائیں گے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی شخص آکر کہہ دے میں عوام کا نمائندہ ہوں آپ اسے نشر کریں گے؟

    آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھرسختی سے پیش آئیں گے،چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فریڈم آف پریس کی وضاحت 200سال سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 200سال سے کیوں؟ 1400سال سے کیوں شروع نہیں کرتے،آپ کو 1400سال پسند نہیں؟ 200سال کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں کہ تب امریکا آزاد ہوا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں 200 سال کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ ماڈرن آئین کی ابتدا تب ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے آغاز ہو رہا ہے آئین کا،اس میں کہاں ماڈرن ایج کا ذکر ہے؟ آپ نے بطور ٹی وی چینلز ان کی گفتگو پھیلائی آپ ان پر تہمت اب لگا رہے ہیں توہین کی خود کہتے ہیں کچھ نہیں کیا،باہر کے ممالک میں تو پریس کانفرنس لائیو نہیں دکھائی جاتی، وہاں پریس کانفرنس سن لی جاتی ہے پھر کچھ چیزیں کاٹ لیتے ہیں، اب آپ امریکا کی مثال نہیں دیں گے، آپ نے خود مان لیا توہین ہوئی ہے پھر آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں، یہ تو اب آپ کے اعتراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا اعتبار ہے آپ جو بھی فیصلہ کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں سرٹیفکیٹ نہ دیں، کیا یہ آئینی دلیل ہے کہ آپ پر پورا اعتبار ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ چینلز کے دستخط سے جواب دیں تو دے دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھر آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں تو خود توہین عدالت کی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، ایک ساتھی جج نے کمرہ عدالت میں بات کر دی تھی اس لیے کارروائی شروع کرنا پڑی، ٹی وی چینلز کی جانب سے آپ کا جواب جارحانہ ہے، آپ جواب میں پریس کانفرنس کو توہین کہہ کر اسے نشر کرنا اپنا حق بھی کہہ رہے ہیں، یہ فساد فی الارض کی بات ہے اور اب ہمارا فرض ہے کہ کچھ کریں،

    فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے، چیف جسٹس
    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ عام لوگوں کے ذہن پر میڈیا کا بہت اثر ہوتا ہے، آپ نے پریس کانفرنس چلائی پھر بار بار ٹکرز چلے،ہ ٹی وی چینلز پر ان لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے جنہیں قانون کا کچھ علم نہیں ہوتا،تبصرے لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے سولہ سو فیصلے لکھ چکے ہیں،اگر کوئی میکنزم نہیں ہے تو بنا لیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو چاہتے ہیں تماشا بنے ورنہ آپ کا کام کیسے چلے گا، عدالتی معاون حافظ عرفات کی جانب سے غیبت، بدگمانی اور فاسق کی خبر کی ممانعت میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی شوق نہیں کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں،کیا کریں مگر معاشرہ تباہ ہو رہا ہے،میڈیا کی آزادی سے متعلق ہم بہت محتاط ہیں، کورٹ رپورٹنگ کرنے والے معاشرے میں ایک کام کر رہے ہیں جا کر بتاتے ہیں یہ ہو رہا ہے،اب وہ فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے،

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    سپریم کورٹ، ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری،،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نےتمام میڈیا چینلز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، عدالت نے ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کا موقف درست ہے تو ڈٹ کر کھڑے رہیں،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ میڈیا چینلز کے وکیل نے کہا لائیو پریس کانفرنس دکھانا انکا حق اور ڈیوٹی ہے،توہین عدالت کا قانون واضح ہے،تمام میڈیا چینلز کے جوابات ایک جیسے ہیں،26 چینلز نے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا،میڈیا چینلز نے جواب پر دستخط نہیں کیے، ٹی وی چینلز شوکاز نوٹس پر دستخط شدہ جواب جمع کرائیں،ٹی وی چینلز براڈ کاسٹ سے پیسہ کماتے ہیں،ٹی وی چینلز جواب کیساتھ اشتہارات سے کمائی گئی رقم کا ریکارڈ جمع کرائیں،جوابات پر ٹی وی چینلز کے مالکان اور چیف ایگزیکٹو کے دستخط ہونے چاہیں،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • شبلی فراز کے استعفے سے  پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی، شیر افضل مروت

    شبلی فراز کے استعفے سے پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی، شیر افضل مروت

    تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ تحریک انصاف کا نیا سیکرٹری جنرل کون ہو گا، ایسے میں شیر افضل مروت سامنے آئے ہیں، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں عمر ایوب خان کی طرف سے سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑنے کے دانشمندانہ فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز چند دیگر افراد کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی ایک بھی کام پورا کرنے میں ناکام رہی۔ خان جیل میں ہے اور مینڈیٹ کی بازیابی ابھی دور ہے۔ ہماری خواتین اور رہنما جیلوں میں بند ہیں اور ہم عوام کو ایک عظیم تحریک کے لیے متحرک کرنے میں ناکام رہے۔ ملک بھر میں بلے کے نشان، مخصوص نشستوں، ضمنی انتخابات اور پارٹی کی تنظیم نو کا نقصان ایسی چند مثالیں ہیں جہاں پارٹی قیادت بری طرح ناکام رہی۔ پارٹی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹیاں فیورٹ پر مشتمل ہوتی ہیں اور فیصلے میرٹ پر نہیں ہوتے۔ میں شبلی فراز سے پارٹی آفس اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف دونوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا ہوں تب ہی پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی۔ اگر پارٹی کارکن مجھے میدان میں چاہتے ہیں تو میرے مطالبے کے حق میں آواز بلند کریں۔ اگر شبلی کو ہٹایا گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پارٹی وقت کی ضرورت کے مطابق اٹھے گی۔ اگر ہم ماضی کی طرح ناقص لوگوں پر خاموشی اختیار کرتے رہے تو فتح نظر نہیں آئے گی

    شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کیا تھا،شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

  • راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کی تقرری کا سلسلہ جاری ہے

    سید مصطفی محمود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید مصطفی محمود کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے توانائی(پٹرولیم ڈویژن) کے اجلاس میں کیا گیا،قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ رائے حیدر علی خان اور تائید کنندہ محمد معین عامر پیرذادہ تھے،

    سید حسین طارق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید حسین طارق کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں کیا گیا،سید حسین طارق کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید جاوید علی شاہ اور تائید کنندہ ذوالفقار علی تھے

    ملک محمد افضل کھوکھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، ملک محمد افضل کھوکھر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے اجلاس میں کیا گیا،ملک محمد افضل کھوکھر کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ ملک محمد عامر ڈوگر تھے

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے اجلاس میں کیا گیا،راجہ خرم نواز کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید رفیع اللہ اور تائید کنندہ میں ڈاکٹر طارق فضل اور جمال احسن خان شامل تھے

    نواب زادہ افتخار احمد خان بابر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایوی ایشن کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، نواب زادہ افتخار احمد خان بابر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایویشن کے اجلاس میں کیا گیا،چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ حاجی امتیاز احمد چودھری اور تائید کنندہ جام عبد الکریم تھے

    محترم پولین بلوچ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین منتخب ہوگئے،محترم پولین بلوچ کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں کیا گیا،کیسو مل کھئیل داس تجویز کنندہ اور شرمیلا فاروقی تائید کنندہ تھے

    میر غلام علی تالپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے چیئرمین منتخب ہو گئے،میر غلام علی تالپور کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اجلاس میں کیا گیا،محترمہ آصفہ بھٹو زرداری تجویز کنندہ اور طاہرہ اورنگزیب تائید کنندہ تھے

    مخدوم سید عبدالقار گیلانی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے چیئرمین منتخب ہو گئے،عبدالقادر گیلانی کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے اجلاس میں کیا گیا، معظم خان جتوئی نے سید عبدالقار گیلانی کا نام تجویز کیا جبکہ اور محترمہ ناز بلوچ سید عبدالقار گیلانی کے نما کی تائید کی۔

    فتح اللہ خان قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین منتخب ہو گئے،فتح اللہ خان کو ممبران قومی اسمبلی برائے دفاع کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں کیا گیا۔ ملک ابرار نام تجویز کیا جبکہ برگیڈیئر ریٹائر محمد اسلم گھمن نے فتح اللہ کے نام کی تائید کی۔

    ملک شاہ گورگیج چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول منتخب ہو گئے،ملک شاہ گورگیج کو ممبران قومی اسمبلی برائے نارکوٹکس کنٹرول کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں منتخب کیا۔ممبر قومی اسمبلی خالد حسین مگسی نے ملک شاہ گورگیج کا نام تجویز کیا جبکہ دیگر ممبران نے ملک شاہ گورگیج کے نام کی تائید کی۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،وزیراعظم

    آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وسط ایشیائی ممالک بالخصوص آذربائیجان کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری کے شعبے میں تعلقات کے فروغ کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزیرِ اعظم کو پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارت کے حجم، استعداد اور تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو اقتصادی تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرنے کی ہدایت کر دی،دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور آزربائجان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر بات چیت ہو رہی ہے۔آزربائجان کیساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کی وسیع استعداد موجود ہے۔

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نےآذربائیجان کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون و تجارتی شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کیلئے سمندر تک اقتصادی راہداری کا قدرتی راستہ فراہم کرتا ہے۔ آذربائیجان اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارت کی استعداد اور موجودہ تجارت کو بڑھانے کیلئے جامع لائحہ عمل بنا کر پیش کیا جائے۔ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو دہائیوں پر محیط ہیں۔حکومت کی کاروبار و سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے۔

    اجلاس میں نائب وزر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، عبدالعلیم خان، سردار اویس خان لغاری، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • انتخابی نشان بلے  کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    تحریک انصاف کےانتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے
    سپریم کورٹ میں درخواست درخواست شہری انجینئر قاضی محمد سلیم نے 184(3) کے تحت دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں چیف جسٹس پاکستان اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں تحریک انصاف کو بلے کا نشان اور مخصوص نشستیں دینے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں انتخابی نشان کے بغیر حصہ لیا، اب انتخابی نشان واپس کیا جائے، انتخابی نشان بلے کی واپسی کے بعد آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت بھی دی جائے، پی ٹی آئی کو متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت مخصوص نشستیں فراہم کی جائیں، تحریک انصاف نے عام انتخابات میں دیگر تمام جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ 84 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گ

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی تھی، سپریم کورٹ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار وں آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لیا تھا،

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے اس سے قبل بھی ایک درخواست دائر ہو چکی ہے،

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے،کیس سے متعلق حتمی پیپر بک جمع کرا دیے ہیں،الیکشن کمیشن سے کہاہے کہ 81 آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مجھے دیں ،تحریک انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو فراہم کردوں گا،حامدرضا نے کاغذات نامزدگی میں کہا میرا تعلق سنی اتحاد اور اتحاد تحریک انصاف سے ہے،حامدرضا کے دستاویزات میں کہا تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں،تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں،حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا،حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،

    حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟جسٹس منیب اختر کا استفسار
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں تو حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنا چاہ رہا ہوں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامدرضا نے جمع نہیں کروایا،حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف کا دیاہے،حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں،وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامدرضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی،

    جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 12جنوری کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ کےبعدایک پارٹی کےسرٹیفکیٹ جمع کرانے کےبعد کیا دوسری پارٹی کاسرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کےپاس امیدوارکے کاغذات نامزدگی کےساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے،پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے، ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرےگا نا؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے،اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزادامیدوار ہوتاہے،

    دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟جسٹس نعیم اختر افغان
    حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کے مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیاجائے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کردیاہو؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا،جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جارہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے، چیف جسٹس قاض فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن آگے بڑھتے ہیں،

    کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟چیف جسٹس
    امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار پارٹی وابستگی اور ٹکٹ جمع کرائے تو کیا اسے آزاد ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ جن 81 امیدواروں کی فہرست آپ نے دی ہے اس میں 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی، 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار الیکشن کے حوالے سے کتنے غیر سنجیدہ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی اور ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہر کیے،انتخابی نشان الگ چیز ہے ان امیدواروں کو پی ٹی آئی کا کیوں تصور نہ کیا جائے، امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نے انکی حیثیت پارٹی سے آزاد تبدیل کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی طور پر پر پارٹی وابستگی واپس لی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی تھی تو امیدوار پارٹی ٹکٹ کہاں سے لاتے؟امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے، سکندر مہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تضادات کے باوجود امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کو نشان نہیں ملے گا،الیکشن کمیشن نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا نا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آزادامیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا،

    سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، جسٹس منیب اختر
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہورہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کردیں،سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا،22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا نگران حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

    سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو،چیف جسٹس
    امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرواتے، دنیا بھر کی باتیں کررہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ایک آئینی ادارہ تسلیم کرتے ہیں ، امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوار تو کہہ رہا کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں،امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزاد امیدوار ہوں، وہ تو کہہ رہا کہ سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھا تو عدالت کو دکھانے کا توکوئی جواز نہیں،

    آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟جسٹس جمال مندوخیل
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ جج ہمارے فیصلے کو برقرار رکھ چکے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کے پابند نہیں،ہم نے جو اصل مسئلہ ہے اسے دیکھنا ہے، سوال یہ ہے الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈس فرنچائز کیسے کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا انتخابی نشان نہیں ہو گا تو پی ٹی آئی جماعت نہیں ہو گی؟ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتاوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے ، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا جواب یہی ہے نا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بنچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا، انتخابی نشان والے فیصلے کیخلاف نظر ثانی زیر التوا ہے،یہ بات درست نہیں ہے، ہم نے تشریح صیحح کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کرکے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ 80 سے زائد امیدواروں کو، چھ امیدواروں نے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا لیکن چھ کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مجھے بتائیں کاغذات نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جارہا،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے, وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزادامیدوار خود کو ظاہرکیا، آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے،دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزادامیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزادامیدوار نے خود کو امیدوار ظاہرنہیں کیا، الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزادامیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا،

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتاہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا نہیں ضروری، الیکشن کمیشن کے عدالت کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں تضاد ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا جس میں امیدوار اپنا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟

    ڈی جی لاء نے روسٹرم پر مخصوص نشستوں کے حصول سے متعلق سنی اتحادکونسل کامنشور پڑھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا منشور پڑھ کر انہیں مخصوص نشستیں دیتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا منشور عدالت کے سامنے لایاجائے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا دیکھوں یا ایک پارٹی کا منشور دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے منشور کو نظر انداز کیوں کروں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کسی اور پارٹی کا منشور نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں، میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کررہاہوں،

    الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل سکندر بشیر کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز پڑھے گئے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جینتی پڑےگی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی،آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں، فل کورٹ میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین کے وکلاء کو بھی ایسے ہی ٹریٹ کیا گیا جیسے آپ کو کیاگیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف اور سنی اتحاد نےکوئی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، سنی اتحاد نے نہیں دی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کردیاتھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات پڑیں گے؟الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کتنا وقت لگےگا؟ ایک دو منٹ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو کوشش کررہے کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے گیارہ بجے؟ تحریک انصاف کی لسٹ آج فراہم کردیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی لسٹ دےدوں گا،سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن بھی فراہم کردیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے،صرف عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ درخواست دائر کر دی ہے،

    ‏مخصوص نشستوں کا کیس یکم جولائی بروز سوموار تک ملتوی کر دیا گیا،‏فل کورٹ بینچ مخصوص نشستوں پر سماعت آج بھی مکمل نہ کر سکا

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کس قانون کے تحت ہڑتال کرتی ہیں؟ جواب طلب

    بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کس قانون کے تحت ہڑتال کرتی ہیں؟ جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ہڑتال کے باعث وکلاء کو کمرہِ عدالت میں داخلے سے روکنے پر عدم پیروی پر کیس خارج ہونے کا معاملہ ،وکلاء کو کیسز کی پیروی سے روکنے پر ایڈووکیٹ نعیم بخاری کی درخواست پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا فیصلہ کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکلاء تنظیموں سے دو سوالات پر 5 جولائی کو دلائل طلب کر لیے ،بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کس قانون کے تحت ہڑتال کرتی ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا فیصلہ
    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز وکلاء کو زبردستی عدالتوں میں جانے سے روک سکتی ہیں؟ وکلا کو عدالت داخلے سے روکنے پر رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی گئی، جسٹس بابر ستار نے رجسٹرار سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی شکایت آئی تھی؟ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ نہیں، ہمارے پاس کوئی ایسی شکایت نہیں آئی، ویڈیو موجود ہے لیکن شور کی وجہ سے آڈیو موجود نہیں کہ وکلاء کیا بول رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ توہین عدالت کا کیس ہے آڈیو کا اس سے کیا تعلق؟ یہ کیا رپورٹ ہے آپ کی، جسٹس بابر ستار نے ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار نے آپ کی رپورٹ پر ہی انحصار کیا ہے، ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی نے عدالت میں کہا کہ وہ میری رپورٹ نہیں ہے پولیس کی رپورٹ ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہائیکورٹ کی سکیورٹی کی جواب دہ اسلام آباد پولیس ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار نے کہا کہ جی بالکل، ہائیکورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کی ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کیا مطلب اگر ہائیکورٹ میں دروازے بند ہوں تو آئی جی کو کہیں گے؟آپ اپنا وکیل کریں، میں آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کروں گا،

    یہ تاثر غلط ہے کہ ہم بندے لے کر آئے اور عدالت پر اثر انداز ہوئے، حسن رضا پاشا
    پاکستان بار کونسل کے ممبر حسن رضا پاشا بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ عدالت میں درخواستیں آئی ہیں کہ وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہو سکے، اسلام آباد میں موجود وکلاء کی تنظیموں کو نوٹس اس لیے کیا تھا کہ وہ عدالت کی معاونت کریں، عدالت میں وکلاء کی تعداد زیادہ ہونے پر جسٹس بابر ستار نے وکلاء رہنماؤں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کم لوگ ہیں اگلی بار اس سے زیادہ لے آئیے گا، حسن رضا پاشا نے کہا کہ جناب غصے میں آ گئے ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں غصے میں نہیں آیا آپ اپنا کنڈکٹ تو دیکھیں، بار کونسل سے معاونت مانگی تھی کہ جب زور زبردستی کی ہڑتال ہوتی ہے تو بار کونسل کا کیا کردار ہوتا ہے؟ حسن رضا پاشا نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم بندے لے کر آئے اور عدالت پر اثر انداز ہوئے، ہمیں اس سے تکلیف ہوئی ہے،یہ تاثر دیا گیا کہ ہم ڈنڈے سوٹے لے کر کھڑے رہے اور وکلاء کو ہڑتال پر مجبور کیا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ اپنا جواب جمع کروائیں اور جو کہنا چاہتے ہیں لکھ دیں، وکلا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ پھر ایک کام کریں ہائیکورٹ بار صدر ریاست علی آزاد کو جیل بھیج دیں، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست علی آزاد صاحب ہمارے صدر ہیں، لیڈر ہیں،

    علیم عباسی سابق وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عدالت میں پیش ہوئے، اور کہا کہ وکلاء کی ہڑتال کا معاملہ جب آتا ہے تو وکلاء پیش نہیں ہوتے، بار ایسوسی ایشن درخواست کرتی ہے کہ وکلاء پیش نہ ہوں اور وہ پیش نہیں ہوتے،ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ زور زبردستی ہو یہ ایک معمول کا معاملہ ہوتا ہے، عدالت نے پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل اور بار نمائندوں کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 5 جولائی تک ملتوی کر دی.

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو بجلی کی ننگی تاروں پر لٹکا دیا ہے ، جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ تو اپنے کیس ختم کروانے آئے تھے، اور وہ کر رہے ہیں، ایک لاکھ 68ہزار میرا بجلی کا بل آیا ہے، غریب عوام کہاں جائے ، کھانے کو روٹی نہیں اور بلوں کی بھرمار ہے،اگلے ماہ کے آخر تک نوازشریف بھی اپنا بیانیہ بدل لیں گے، جب چور چوکیدار بن جائیں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، حکومت بتائے کسی ملک نے ان کو اب تک 5 ڈالر بھی دیئے ہیں، میری مارکیٹ کے 18 دکاندار دکانیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اصل مذاکرات فوج کیساتھ کئے جائیں اور درمیانی راستہ نکالاجائے، چور، ڈاکو، لٹیرے، ناکام، نااہل بجٹ پیش کرنے والی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے بعد کے پی اور بلوچستان میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں، امریکی کانگریس کے 368 ارکان فارم 47 والے نہیں ہیں، قوم چین کے وزیر کی اسلام آباد میں تقریر پر بھی غور کرے۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد ہوئی، شیخ رشید احمد نے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی وصول کی۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے بلاول بھٹو سے متعلق نازیبا گفتگو پر شیخ رشید احمد کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیاتھا.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا،عدالت نے کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور محکمہ داخلہ پنجاب کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    14 مئی 2024 کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے سال 2022 میں اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے سابق وفاقی وزیر شیری مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈرز گرفتار

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے تھے کہ جب کسی کی گرفتاری غلط ڈیکلئیر ہو جائے تو اس دوران جو ہوا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں اسلام آباد سے ہمارے دائرہ اختیار کے اندر گرفتاری درست ہوئی یا نہیں، اگر کسی دوسر ے صوبے سے گرفتاری چاہیے ہوگی تو کیا باہر سے کوئی آکر اٹھا کر لے جائے گا؟ ایسے منہ اٹھا کر کوئی دوسرے صوبے میں جا کر کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟

    واضح رہے کہ 21 مئی 2022 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو اسلام آباد سے ’گرفتار‘ کرلیا گیا تھا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے تصدیق کی تھی کہ شیریں مزاری کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

  • چیئرمین سینیٹ  سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔آسٹریلین ہائی کمشنر نے سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین بہترین تعلقات قائم ہیں۔دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی وفود کے تبادلوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون میں اضافے اور خاص طور پرتعلیم کے شعبے میں تعاون کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانی ومالی قربانیاں دی ہیں۔پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے اہم فورمز کا حصہ رہاہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں پناہ دی اور ان کی تعلیم اور بہتر معیار زندگی کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اور افغان پناہ گزینوں کے لئے بہت کام کیا ہے۔ پاکستان سے 8 ہزار افغان پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لئے آسٹریلیا میں اہتمام کریں گے۔
    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موسمی تغیرات کے حوالے سے دنیا بھر کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ موسمی تغیرات سے متاثرہ مماک کی صف میں پاکستان اولین مماک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لئے بہتر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔گلوبل وارمنگ اور موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لئے ہمیں اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانا ہو گی۔ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے بین الاقوامی معاہدات پرہم سب کو عمل پیرا ہو نا ہوگا۔ سید یوسف رضا گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک ادارہ جاتی میکنزم موجود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس میکنزم کو مزید موثر بنایاجائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ممالک زراعت،لائیوسٹاک، تعلیم، کان کنی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر معاشی خوشحالی لا سکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آسٹریلیا میں پاکستانی طلبا وطالبات حصول تعلیم کے لئے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ آسٹریلیا پاکستانی طالبعلموں کے لئے زیادہ سے زیادہ تعلیمی وظائف کا اہتمام کرے۔

    آسٹریلین ہائی کمشنر نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ آسٹریلیامیں موجود پاکستانی کمیونٹی آسٹریلیا کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے.

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی