Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • جب پاکستان کی بات آئے تب سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے.اسحاق ڈار

    جب پاکستان کی بات آئے تب سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے.اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے.سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ آئین کے مطابق اپنا کام کرتی ہے.وفاقی کابینہ میں بھی بجٹ کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے.سینیٹ سے کوئی اچھی تجاویز ہیں تو ان کو لینا چاہئے

    قبل ازیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے باہمی احترام کی بنیاد پر پرامن تعلقات چاہتے ہیں مگر پاکستان بھارتی بالادستی کے قیام کی یک طرفہ کوششوں کو قبول نہیں کرے گا، بھارت پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں ملوث ہے، ہم بھارت سے کشمیر سمیت تمام دیرینہ مسائل پر بات چیت کے خواہاں ہیں، بھارت کی ذمہ داری ہے وہ تمام مسائل پر با مقصد و نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنائے، صرف ایک رکن ملک کی وجہ سے سارک جیسا کارآمد پلیٹ فارم منجمد ہے،

    عالمی امن و استحکام میں پاکستان کو اپنے اہداف کو یقینی بنانا ہو گا،اسحاق ڈار
    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سی پیک کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک علاقائی خوشحالی اور پاک چین اقتصادی ٹرن آوٹ بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے، پاکستان میں چینی باشندوں کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے ، ایران، خلیجی ممالک، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک ہماری ترجیحات ہیں، ہم برطانیہ، روس اور یورپی یونین سے اچھے تعلقات کےلیے کوشاں ہیں، اپنی خارجہ پالیسی ایجنڈا کے لیے وسائل کا ہر اونس استعمال کررہے ہیں،چینی وفد پاکستان میں سیاسی نبض دیکھنے آیا تھا، سیاسی استحکام پاکستان کےلیے بہت ضروری ہے، بدقسمتی سے ملکی عدم استحکام نے سب کچھ تباہ کردیا، عالمی امن و استحکام میں پاکستان کو اپنے اہداف کو یقینی بنانا ہو گا، لوگ کہتے تھے پاکستان سفارتی سطح پر تنہا ہو چکا ہے مگر یو این سلامتی کونسل کے انتخابات نے ثابت کیا پاکستان واپس آ چکا ہے، ہماری جماعت نے اقتصادی صورتحال بہتر بنائی اور ملک نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کیا، ڈیفالٹ،اکنامک ڈیٹ اور پروپیگنڈا جیسی فضول باتوں کو اب رکنا چاہیے، جب پاکستان کی بات آئے تب سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے.

    عدم مساوات، عالمی دہشتگردی اور بین الاقوامی جرائم کا مقابلہ کوئی ملک اکیلے نہیں کرسکتا،اسحاق ڈار
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سیاست میں ایک دور ختم ہو رہا ہے تو نیا دور شروع ہو رہا ہے، دنیا میں ملٹی پولیرٹی کا تصور ابھر رہا ہے،غزہ میں بچوں اور عورتوں کی نسل کشی جاری ہے، مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے، اسلامو فوبیا کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کا بڑا چیلنج دنیا کو درپیش ہے، عالمی تعاون اور یکجہتی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، عالمی طاقتوں میں مخاصمت دنیا میں چیلنجز کو بڑھا رہی ہے، نئی سرد جنگ کا خوف دنیا کو ڈرا رہا ہے، پاکستان ایک تزویراتی جگہ پر موجود ہے، پاکستان قدرتی طور پر عالمی تزویراتی ماحول سے متاثر ہو رہا ہے، عالمی سیاست و تاریخ کے تناظر میں پاکستان کو احتیاط سے قدم اٹھانے ہیں، عدم مساوات، عالمی دہشتگردی اور بین الاقوامی جرائم کا مقابلہ کوئی ملک اکیلے نہیں کرسکتا۔

    ریاست کیخلاف اٹھنے والوں سے کوئی بات چیت نہیں، اسحاق ڈار

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے۔جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا آپ لائیو کال کو مانیٹر کر سکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 2013ء میں نئی پالیسی آئی، وزارت داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ضرورت پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں.

    جسٹس بابر ستارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارت داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ ان میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کے کام کرنے کیا میکانزم ہے؟

    پی ٹی وی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے،پی ٹی اے کے پاس فون ٹیپنگ کے اختیارات نہیں،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ سرویلنس سے متعلق بنائے گئی پالیسی کی کیبنٹ میٹنگ کی منظوری کے منٹسس اگلی سماعت پر پیش کریں۔

    کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا،جسٹس بابر ستار
    جسٹس بابر ستار نے پولیس کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کسی کے گھر بغیر وارنٹ جا سکتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا پولیس بھی کسی کی سرویلنس نہیں کرتی، جو سڑکوں پر کیمرا لگے ہیں وہ بھی خلاف قانون ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا بالکل ایسا ہی ہے آپ اس کا ڈیٹا نہیں لے سکتے، اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، پولیس وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں

    میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے،جسٹس بابر ستار
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت ان چیمبر کرلیں،جس پر جسٹس بابر ستار نےکہا کہ قانون بنا ہے یا نہیں اس کا ان چیمبر سماعت سے کیا تعلق ہے، یہاں ججز کے چیمبرز ٹیپ ہورہے ہیں، آپ کی بات میں نے سن لی یہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ نہِیں ہے،آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

    جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا اور کہا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

    پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پرلانے کی ہدایت
    وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے استفسار کیا کہ کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے،وکیل ٹیلی کام کمپنی نے عدالت میں کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی توسیع کر دی ہے،دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی قابلِ تجدید شمسی توانائی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے،معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے ہیں،اللہ کے فضل وکرم سے ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے،چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے،اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا،عام آدمی کے معاشی تحفظ اور اُسے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے

    عزم استحکام کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات، گٹھ جوڑ اور انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے،وزیراعظم
    کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے وژن عزم استحکام کے حوالے سے گردش کررہی غلط فہمیوں اورقیاس آرائیوں کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا۔اور کہا کہ عزم استحکام ایک کثیر جہتی، مختلف سیکورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے، اس مقصد کے لیے کسی نئے و منظم مسلح آپریشن کی بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا،بڑے پیمانے پر مسلح آپریشن جس کے نتیجے میں نقل مکانی کی ضرورت ہو،وژن عزم استحکام کے تحت ایسے کسی آپریشن کی شروعات محض غلط فہمی ہےعزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پر تشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے

    پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی،کابینہ کو بریفنگ
    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ بجٹ 2024-25بحث کے دوران وزراء پارلیمان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں .اجلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں. پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی. وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی.

    ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت
    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت دے دی۔ یہ خصوصی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کی سفارش پر وزارت مذہبی امور، حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اسلامی امور، دعوت و رہنمائی سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی حکومت نے ریاستی اور سرحدی علاقوں کی ڈویژن کی سفارش پر اور سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بہاولپور کے امیر(مرحوم) کی غیر منقولہ جائیداد کے لیے قائم عمل درآمد کمیٹی کی مدت میں مارچ 2025 تک توسیع دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (FAB)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    چینی کی قیمت پر نظر رکھنے کے لئے کابینہ کمیٹی بنانے کی ہدایت
    وفاقی کابینہ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی برآمد کے فیصلے کے بارے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اس حوالے سے شوگر ایڈوائزی بورڈ و متعلقہ اداروں نے آئندہ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے کی کھپت اور اضافی چینی کے ذخائر کا تخمینہ لگا کر باقی ماندہ میں سے قلیل مقدار میں چینی کی برآمد کی منظوری دی ہے. وزیرِ اعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو چینی کی قیمت پر نظر رکھے گی اور اگر چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا اندیشہ ہوا تو اسکی مزید برآمد کو روک دیا جائے گا.

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کی تیار کی گئی قومی اقتصادی کونسل (NEC) کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2022-23 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز(Cabinet Committee on Legislative Cases)کے11جون 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارےCabinet Committee on State Own ed Enterprises (CCoSOEs) کے20 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی،رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ برائے سال 2024-25 پر عام بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی،حکومت بننے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا جس کے تحت چاروں صوبوں کی پی ایس ڈی پی میں ہم سے مشاورت لے کر بنانی چاہیئے تھی۔ مگر افسوس کے ساتھ حکومت نے اس شرط پر عمل نہیں کیا اگر اس شرط پر عمل ہوتا تو بہتر نتائج سامنے آتے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اورنج ٹرین کا مقابلہ کرنا ہے یا دیگر تو اپنے وسائل سے کیسے منصوبے لے کر آسکتے ہیں ؟پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ جو بینظیر نے شروع کی تھی،اسی کو ہم آگے رکھیں، تھرکول کا کامیاب منصوبہ ہویا روڈ ز ،انفراسٹرکچر کا،یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ہی کامیاب ہوتے ہیں، اگر صوبے ہدف حاصل نہیں کرتے تو اپنے بجٹ سے ہدف پورا کریں گے، سر پلس سیلز ٹیکس کی صورت میں صوبے اضافی ریونیو اپنے پاس رکھیں گے، امید ہے کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوگی، حکومت اب تک مہنگائی کو قدرے کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر اپوزیشن نشانے پر تھی، ہم پاکستان کے بنیادی مسئلے کا دفاع کرنے کے لیے ایک ہوئے، اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی سازش کی گئی،ہمارا سیاسی فلسفہ پروگریسو ٹیکسیشن میں یقین رکھتا ہے، ہم عام آدمی کو محصولات کی مد میں ریلیف دینے میں اب تک ناکام رہے ہیں، ہر بجٹ بلاواسطہ ٹیکسیشن پر زور دیتا ہے

    نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے،نیب کو ختم کرنا ہو گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاست آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کو نیب قانون سے استثنیٰ دیا جائے جبکہ ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو بھی نیب سے استثنیٰ دیا گیا ہے ، ہمیں نیب ختم کرنا ہےاور بیوروکریسی کو طاقتور بنانا ہے۔ہمارے منشور میں ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے،نیب کے خاتمے سے معیشت کو بھی فائدہ ہوگا،پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہا ہوں نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،بزنس مین ڈرپوک ہوتا ہے وہ پیسہ انوسٹ کرتا ہے تو اسے نیب گھیر لیتا ہے یہ معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے . دودھ پہ اٹھارہ فیصد ٹیکس لگانا کسی سیاستدان نہیں بلکہ بابو کا فیصلہ ہے ،سٹیشنری پہ ٹیکس لگانا بھی کسی بابو کا فیصلہ ہے اس قسم کے احمقانہ فیصلے واپس لیے جائیں حکومت کو یقین دلاتا ہوں ہم حکومت کے ساتھ ہوں گے

    عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں عوام کے مسائل کیا ہیں عوام کے مسائل حل کریں گے عوام کو مسائل سے نکالیں گے عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا، چارٹر آف اکانومی معیشت کی ترقی کا پہلا قدم ہوگا، اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے، نیشنل چارٹر آف اکانومی بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہوگا،وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی، اربوں کی سبسڈی کسانوں کودیں تومعاشی انقلاب آئےگا،

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،شیخ رشید پر درج مقدمے خارج

    بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،شیخ رشید پر درج مقدمے خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف سندھ اور بلوچستان کے تھانوں میں درج مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کے کیس میں شیخ رشید کی اخراج مقدمہ کی درخواست منظور کر لی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ فیصلہ سنا یا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیخ رشید کے خلاف تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج کر دیئے ہیں، عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    واضح رہے کہ شیخ رشید پر بلاول بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    چالیس دن تو کیا چالیس سال بھی چلہ پر رہتا تو عمران بشریٰ پر الزام نہ لگاتا،شیخ رشید
    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبر ایک ہے ،مردے تین ہیں،فیصلہ ہو جائے گا کہ قبر میں کون کون جائے گا،30اگست سے پہلے فیصلہ ہوجائے گا۔کھسرے بڑی طاقت بن کر اُبھرے ہیں۔ اب مانگتے نہیں لوگ خود ڈر کر پیسے دے دیتے۔قبرایک ہے مردے تین ہیں۔ یہ کوئی حکومت ہے کہ بندے نے احرام باندھا ہوا ہو اور وہ حج پر نہیں جا سکتا، اٹھانا یہاں ایک فیشن بند گیا ہے پاکستان میں خواجہ سرا مقبول ترین طاقت بن چکے ہیں، جس دکان پر جاتے ہیں وہ مانگتے نہیں بلکہ سو روپیہ انکو ملتا، شیخ رشید نے منیب فاروق کے انٹرویو کے متعلق کہا کہ مجھے کچھ نہیں معلوم تھا ، جو میں نے کہا وہی انہوں نے نشر کیا، میں چالیس دن تو کیا چالیس سال بھی چلہ پر رہتا تو عمران بشریٰ پر الزام نہ لگاتا، ان بھکاریوں‌کو سعودی عرب، یواے ای کہیں سے بھی خیرات نہیں ملی، صنم جاوید، یاسمین راشد کے لئے بھی راستہ کھلا ہے کہ ایک ہی کیس کئی جگہوں‌پر درج نہیں ہو سکتا، میں آئی ایل ایف کی تعریف کرتا ہوں ،کل اڈیالہ جیل میں کیسز ہیں چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں، آئی ایل ایف کو چاروں صوبائی ہیڈ کوارٹر کو استقبالیہ دوں گا، غریب ورکر کا کیس آئی ایل ایف کے سوا کسی نے نہیں لڑا، میں نے 27 انٹرویو دیئے، مفت بھی انٹرویو دیئے، چالیس روز کے چلے میں میری صحت متاثر ہوئی اب میں 30 اگست تک آرام کروں گا.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام، وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ اعلان کردہ وژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جارہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں نوگو ایریاز میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان کارروائیوں کےلیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ضرورت تھی، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی پاکستان میں منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے، بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہےجہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام پاکستان میں پائیدارامن واستحکام کےلیے ایک کثیر جہتی وژن ہے، عزم پاکستان مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے جس کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کےنفاذ میں نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے، قومی ایکشن پلان سیاسی میدان میں قومی اتفاق رائے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردوں کی باقیات، سہولت کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، عزم استحکام سے ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے گا، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے، تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ اس موضوع پر غیر ضروری بحث کو بھی ختم کرنا چاہیے۔

    سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے نہیں پاکستان کیلئے سٹینڈ لیں، وزیر دفاع
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کا موازنہ ضرب عضب ،راہ نجات اور ردالفساد سے کیا جارہا ہے لیکن ان آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی مگر مقاصد ایک ہی تھے اور یہ آپریشن بھی دہشتگردوں کے خلاف ہے جس کا آغاز کیا جائے گا، تین جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں، ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں، اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ضرور دور کریں گے، آپریشن پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، آپریشن کے سیاسی عزائم نہیں، مقصد دہشت گردی کی لہر ختم کرنا ہے، آپریشن کا فوکس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو گا

    تحریک انصاف دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا، صوبوں کو مالی مدد کرنا ہو گی، عدلیہ نے قومی سلامتی کی کوشش میں سپورٹ نہ کیا تو آپریشن مؤثر نہیں رہے گا، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا تھا وزیرِ اعظم کے کہنے پر قدم اٹھا رہے ہیں، ماضی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس وقت اور آج کل صورتِ حال میں بہت فرق ہے، فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا، فاٹا کے علاقے نوگو ایریاز بن چکے تھے، آج ایسی صورتحال نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں بی ایل اے رات کے وقت کارروائی کرتے ہیں، سوات میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی تھی،پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی، اس اقدام سے تباہی آئی، امن نہیں آیا، امن پارہ پارہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کے حوالہ سے بیورو کریسی اور میڈیا کی حمایت کی بھی اشد ضرورت ہوگی، پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے، ہم نے دونوں جنگیں امریکی تحفظات کے لیے لڑیں، ردالفساد اور ضرب عضب کے بعد امن قائم ہوا تھا.

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • سینیٹ اجلاس،ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے،شبلی فراز

    سینیٹ اجلاس،ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے،شبلی فراز

    پیرکو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیرصدارت ہوا۔

    سینیٹ میں شہید فوجی جوانوں کے حوالے سے دعائے مغفرت کرائی گئی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے دعائے مغفرت کروائی،وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عیسائی فوجی جوانوں کے لئے سینیٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    جس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو دہشتگردوں سمیت کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کرسکتا ،شبلی فراز
    سینیٹ میں قائدحزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ جو استحکام ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر پہنچ سے باہر رہے گا ،جنہوں نے انتخابات جیتے ہیں ان کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا ،اس مرتبہ کا انتخابات دھاندلی زدہ انتخابات کی ماں تھا ،ایک لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر اسے جیل میں ڈالا گیا پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کو نشان عبرت بنایا جارہا ہے ،پنجاب پی ٹی آئی کے لیے کربلا بنا ہوا ہے ،پنجاب میں آمریت اور فسطائیت ہے۔اپیکس کمیٹی میں آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا اعلان کیا مختلف قسم کے ملٹری آپریشن دیکھے ہیں جتنی شہادتیں ہوئی سب پاکستانی ہیں گزشتہ ایک دو ماہ سے فوجی جوانوں کی شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے آپریشن عزم استحکام ہمیں تھوڑا ہٹ کر نظر آتا ہے ۔نہیں سمجھ آتا کہ اس کو کیسے لیں ۔استحکام حاصل کرنے کے لئے آپریشن نہیں استحکام لانے والی چیزیں چاہیے معاشی استحکام ہوتا ہے جو استحکام ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ اس وقت تک دور رہے جب تک آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کی حقیقی نمائندگی ہو ملک صاف شفاف انتخابات نہیں ہوئے ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر جیل میں ڈالا گیا پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں اور خواتین کو جیل میں ڈال کر نشانہ عبرت بنایا جا رہا ہے پنجاب میں فسطائیت اور آمریت ہے پنجاب میں پی ٹی آئی کے لوگوں پر جھوٹے مقدمات کئے جاتے ہیں ان حالات میں کیسے ملک میں استحکام آئے گا جو مقدمات بنائے گئے وہ مکمل طور پر مذاق ہے انتخابات میں اربوں روپے خرچ کرکے جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ،ہم سے انتخابی نشان اور مخصوص نشستیں چھینیں گئیں ، کوئی بھی آپریشن کرلیں ایسی صورتحال میں استحکام کیسے آسکتے۔مہنگائی کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بدتر ہوگی ،کچھ لوگ جمہوریت کے لبادے میں گدھ کا کردار ادا کررہے ہیں۔آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا ہے ،وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں ہوں گے ، بجٹ بنانے والوں کے پاس کوئی اخلاقی قوت نہیں ،ایک ارب ڈالر کے لئے ہم دنیا میں کشکول لے کر گھوم رہے ہیں ۔استحکام آزادانہ منصفانہ انتخابات اور جمہوریت میں چھپا ہوا ہے ، شبلی فراز نے کہاکہ جس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو دہشتگردوں سمیت کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کرسکتا ،اقتدار میں موجود لوگوں نے ملک کو ہر طرح کے خطرات سے دوچار کردیا ہے ،ایوان بالا کو قوانین کے مطابق چلایا جائے ،اپوزیشن کے بغیر آپ نہیں چل سکتے ، ملکی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ بانی پی ٹی آئی پر قائم مقدمات ختم کرکے اسے رہا کیا جائے ، ملکی استحکام کی چابی قیدی 804 کے پاس ہے ،اس ملک کو اکٹھا بانی پی ٹی آئی نے رکھا ہے ۔ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے وہی استحکام لا سکتا ہے ،

    سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اتفاق کرنا چاہئیے ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مزید مشکل ہو گا، سلیم مانڈوی والا
    خزانے اور محصولات کی قائمہ کمیٹی کے چئیرمین سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر سفارشات پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ہمیں سفارشات کے لئے عموما چودہ دن ملتے ہیں۔اس بار ہمیں صرف چھ دن دئیے گئےمیں تمام کمیٹی ارکان، سینیٹ عملے، میڈیا ،مختلف وزارتوں کے حکام نے بہت تعاون کیا،32 سٹیک ہولڈرز نے کمیٹی میں نمائندگی کی اور اپنی سفارشات پیش کیں۔18.9کھرب روپے کے بجٹ میں سے 9 کھرب سے زیادہ سود کی ادائیگی میں صرف کرتے ہیں۔2.4 ملین نان فائلرز کو کوئی نہیں پوچھ رہا ۔بڑے سیٹھوں اور مالدار افراد پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔تفصیلی مشاورت کے بعد جامع رپورٹ مرتب کی ہے ،یہ پارلیمنٹ اور حکومت قرضوں پر چل رہی ہے ،ہم بجٹ کو پورا کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں جس کا حجم بڑھتا جارہا ہے،ہم ٹیکس ادا کرنے والوں پر پھر ٹیکس لگا دیتے ہیں نان ٹیکس پیئرز کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ، قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکس میں اضافے کو مسترد کیا ہے۔نوزائیدہ بچوں کے دودھ پر ٹیکس اضافے کو بھی یکسر مسترد کیا گیا ہےمعذور افراد کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت ان سے ملکر ان کے مسائل حل کرے ،پولٹری فیلڈ پر ٹیکس سے متعلق قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت اس پر نظر ثانی کرےجو ہسپتال مریضوں سے پیسے نہیں لیتے انھیں مراعات دی جائیں۔جو ہسپتال مریضوں سے پیسے لیتے ہیں ان کو مراعات نہ دیں۔سستے موبائل فون پر ٹیکس کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی، پہلی بار سکول کے بچوں کی پینسل، ربڑ کاغذ پر ٹیکس لگایا گیا جس کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کیا۔اس ٹیکس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔انہوں نےکہاکہ فائلر اور نان فائلر کے درمیان فرق دنیا بھر میں اور کہیں نہیں۔ہمیں ملکی معیشت اور بجٹ تیاری میں کوئی بہتری نظر نہیں ا رہی۔ہمیں ملکی معیشت پر سیاست نہیں کرنی چاہئیے۔تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اتفاق کرنا چاہئیے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مزید مشکل ہو گاملکی معیشت مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہو گا۔

    سینیٹ میں عزم استحکام آپریشن کے خلاف تحریک انصاف کے سینیٹرز نے ایوان میں شدید احتجاج کیا ۔ چیئرمین کے ڈائس کاگھیرو کیا ،پختونوں کا قتل نا منظور ،ایک اور فوجی آپریشن نامنظور، مکمل بلڈوز نامنظور کے نعرے لگائے ۔احتجاج کے بعد تحریک انصاف کے سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے کہ کیا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ ہو؟میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں امن بحال نہیں ہونا چائیے؟ اپیکس کمیٹی میں فوجی آپریشن کی منظوری تمام وزارء اعلی کی موجودگی میں کیا گیا۔یہ طالبان خان کا تحفظ مانگتے ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں چاہتے۔مشکل وقت میں مشکل بجٹ پیش ہوا جس پر ہم نے تنقید بھی کی۔کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہےکیا مذہب کے نام پر سرعام لوگوں کو سزائیں دینا درست ہے؟ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پاکستان میں امن، استحکام نہ آئے۔اس سے پہلے سوات میں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی تھی۔جس پر بےنظیر بھٹو شہید نے سوات میں پاکستان کا پرچم لہرانے کا نعرہ لگایا تھا جو ان کا آخری نعرہ ثابت ہوا.سینیٹر شیری رحمن نےسوات اور سرگودھا میں ہجوم کے ہاتھوں دو افراد کو سرعام قتل کے خلاف سینیٹ میں قراداد پیش کی، قرارداد میں کہاگیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہریوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔ایوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود قراداد منظور کر لی۔

    کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    وفاقی بجٹ،128سفارشات پرمبنی رپورٹ سینیٹ میں پیش،سفارشات منظور
    سینیٹ نے بجٹ سفارشات منظور کر لیں، 128سفارشات پرمبنی رپورٹ چئیرمین فنانس کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے پیش کی ،سینیٹ نے سفارشات کی منظوری دے دی ،سیلز ٹیکس میں 1300 ارب روپے اضافے کی تجویز واپس لینے کی سفارش کی گئی،اور کہا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں 50 فیصد کمی کی جائے،ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، سینیٹ نے مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی بھی سفارش کر دی، 660 سی سی تک کی کاروں پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرح زیرو کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے کی سفارش کر دی،فاٹا اور پاٹا میں لوکل سپلائی پر ٹیکس چھوٹ 30 جون 2025 تک دینے کی سفارش کر دی،تعمیراتی شعبے کیلئے فنانس ایکٹ 2019 کا ٹیکس رجیم بحال کرنے کی سفارش کر دی،تعمیراتی شعبے پر عائد پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کر دی،اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کےفروغ کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کی سفارش کی گئی،کمپنیوں کے بغیر نوٹس اکاونٹ بلاک کرنے کا قانون ختم کرنے کی سفارش کی گئی،کسٹم ایکٹ 1969 میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ،سیل ٹیکس ایکٹ 1990 میں بھی ترمیم کی سفارش کی گئی،انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں بھی ترمیم سفارشات کا حصہ ہے،درآمد شدہ اور مقامی سولر انڈسٹری کی اشیاء پر یکساں ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ، سٹیشنری کی آٹھ اشیاء پر ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ،مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تمام اشیاء پر قیمتوں کا اندراج ہونا چاہیے ، چیریٹی کے نام پر ٹیکس چھپانے والی تنظیموں کی نشاندہی کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے،ایف بی آر میں 5000 سے زاہد خالی نشستوں کو مکمل کرنے کی سفارش قومی اسمبلی کو بھجوا دی گئی،موبائل ٹیلی فونز پر اضافی ٹیکس نافذ نہ کرنے کی سفارش پیش کی گئی ،پولٹری فیڈز پر سیل ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے،اس ٹیکس سے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ،نیوز پرنٹ پر نافذ دس فیصد جی ایس ٹی واپس لینے اور اسے زیرو ریٹ سٹیٹس میں لانے پر غور کی سفارش کی گئی،ادویات اور سرجری میں زیر استعمال بعض اشیاء میں بھی جی ایس ٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی.

    تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں،فیصل سبزواری
    ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر فیصل سبزواری نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دی جائےتنخواہ دار طبقے کی قاںل ٹیکس آمدن کی حد بڑھائی جائے۔تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں تنخواہ دار طبقے کی بجائے مجموعی آمدن پر ٹیکس لگایا جائےغریب کسان اور ہاری کو ٹیکس سے مکمل جھوٹ دی جائے ۔

    عزم استحکام آپریشن پر ہم سب کو لبیک کہنا ہو گا، پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، فیصل واوڈا
    سینیٹر فیصل واڈا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونے جا رہا ہے اور ہو کر رہے گا یہ ملک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں یہ بجٹ بھی منظور ہو گا اور ڈنکے کی چوٹ پر منظور ہو گاوزیر خزانہ نے ہماری سفارشات بہت تحمل سے سنی اور تعاون کیاوفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو فی الفور ختم کیا جائےبجٹ کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں پورے ملک کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی اٹھارہ فیصد ٹیکس لاگو ہو گاوزیر خزانہ کسی کے دباو میں نہ آئیں پارلیمان اپ کے ساتھ کھڑی ہے آپریشن تو ہو گا آپریشن پر ہم سب کو لبیک کہنا ہو گا ڈنکے کی چوٹ پر بجٹ پاس ہو گا ، نجکاری بھی ہو گی جب سب کو 18 فیصد ٹیکس سلیب دینا ہے تو کے پی کو بھی یہی ہو گی نجکاری پر وزیر خزانہ کی حمایت کرتے ہیں اضافی منسٹریاں ختم کی جائیں بجٹ کی مکمل حمایت کریں گےہم اپنے حصے کا ٹیکس بوجھ لیں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس پورے ملک پر لگاو ،آپریشن ملک میں استحکام لائے گا ، قومی اسمبلی میں اتنے غلط الفاظ استعمال کیے گیے بے حیا لوگوں نے قومی اسمبلی میں اس بے ہودہ بات پر ڈیسک بجائے وزیر خزانہ کو دباو میں آنے کی ضرورت نہیں.

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ بجٹ بحث پر تمام سینیٹرز کی رائے پر مبنی نکات یومیہ ہمیں موصول ہوتی رہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بہت محنت سے سفارشات دیں ان سفارشات کا ضرور جائزہ لیں گےکل بروزمنگل قومی اسمبلی کی بجٹ تقریر میں دیکھیں گے کہ سینیٹ سفارشات پر بہت سی سفارشات کو مالیاتی بل کا حصہ بنائیں گے.

  • ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پاکستان جیسے ملک کے لیے اہم چیلنجز ہیں،احسن اقبال

    ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پاکستان جیسے ملک کے لیے اہم چیلنجز ہیں،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پاکستان جیسے ملک کے لیے اہم چیلنجز ہیں جبکہ بے پناہ مواقعے بھی فراہم کر رہی ہے جس سے ہمیں بھرپور استفادہ کرنا چاہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو فزکس اور عصری ضروریات پر 49ویں بین الاقوامی نتھیاگلی سمر کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں چیرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ,ڈاکٹر علی رضا انور سمیت دنیا بھر کے سائنسدانوں اور طالب علموں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لیے اس بین الاقوامی کانفرس نے سائنسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی روایت قائم کی ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو گزشتہ 49 سالوں سے اس بین الاقوامی کانفرس کی میزبانی پر مبارک باد بھی دی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوے ,وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کوانٹم ,کمپوٹنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل دور کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے یونیورسٹیوں میں نیشنل سنٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے جن سےطالب علم بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2018 سے لیکر اب تک وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی ہدایت پر ملک بھر کی جامعات میں درجنوں نیشنل سنٹرز قائم کیے گیے تھے جن سے ہزاروں طالب علم بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    مزید براں, تقریب سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ سائبر سکیورٹی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ عالمی سائببر سیکورٹی مارکیٹ کا 2026تک 345.4$ بلین تک پہنچنے کا امکان ہے۔حکومت نے پاکستان میں کوانٹم ٹیکنالوجیز کی ترقی میں معاونت کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں جبکہ حکومت سرکردہ تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے، کوانٹم ریسرچ اور اختراعی اقدامات میں مزید سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے. ان منصوبوں کا مقصد کوانٹم سائنس، کمپیوٹنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سائنسی مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے.

    کانفرنس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بشمول کوانٹم ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ، اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز اور کوٹنگز پر تفصیلی سیشن منقعد کیے جائیں گے۔ کانفرنس 6 جولائی 2024 تک نتھیاگلی میں جاری رہے گی۔

    قومی اسمبلی: وزیرِ قانون کی سوات کے معاملے پر قرار داد کثرتِ رائے سے منظور

    سوات: مدین واقعہ میں ملوث 23 افراد گرفتار، تحقیقات کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل

    سوات،توہین مذہب کے الزام میں قتل ،تھانہ جلانے پرمقدمہ درج

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سینئر صحافی حامد میر کی ارشد شریف کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست یہ ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر تحقیقات جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،آپ نے پچھلی سماعت میں کہا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، آپ کوئی آرڈر شیٹ دیکھا دیں،جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی ابھی کام کر رہی ہے ابھی کینیا سے ایم ایل ار سے متعلق ایم او یو سائن ہونا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ڈیڑھ سال سے جے آئی ٹی آئی نے کوئی کام نہیں کیا، جے آئی ٹی کو ہیڈ کون کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی مائی لارڈ ایسا ہے۔

    شعیب رزاق نے کہا کہ ان کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ جے آئی ٹی کو کوئی ہیڈ نہیں کر رہا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایف آئی آر ہوئی ہے؟ شعیب رزاق نے کہا کہ جی تھانہ رمنا میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب جے آئی ٹی کا کچھ حصہ لیک ہوا تو جس پر کینیا نے ریزرویشن دیں، عدالت نے تھانہ رمنا کے ایس ایچ کو بھی ذاتی حثیت میں اگلی سماعت میں طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دیکھ لوں سٹیٹ نے کیا کیا ہے اب تک ؟جے آئی ٹی میں کون ہے،عدالت نے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو اصل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائی کورٹ،الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی ٹی آئی امیدواروں کی درخواستوں پر کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کر دی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ منٹ وقت لے لیں ، کیا پانچ منٹ سے بھی وقت کم کردوں؟ آپ اس آرڈیننس کا کیسے دفاع کریں گے؟ کون سا آسمان گرنے لگا تھا کہ قائم مقام صدر سے رات و رات آرڈیننس جاری کروا دیا،پارلیمنٹ کو ختم کردیتے ہیں،اور آرڈیننس کے زریعے حکومت چلواتے ہیں ، آپ لوگوں نے آرڈیننس کی فیکٹری لگا رکھی ہے، ایک واہ فیکٹری ہے اور دوسری آرڈیننس فیکٹری ، وہ اسلحہ بنانے ہیں آپ آرڈیننس بناتے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا ٹریبیونل تبدیلی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا، انجم عقیل عدالت میں سوری ، سوری کرتے رہے، جج کے تعصب پر اپنے الفاظ پر شرمندگی اور معذرت کا اظہار کیا،عدالتی زبان قرار دیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جھاڑ پلا دی کہا کہ آپ نے بیان حلفی بھی لگایا ہوا ہے کہ جو درخواست میں لکھا وہ درست ہے،آپ انگریزی پڑھ سکتے ہیں؟ پڑھیں،آپ نےاقرباء پروری لکھا ہے آپ نے یہ الزام کیوں لگایا؟انجم عقیل کے ساتھ کھڑے وکیل کےلقمےپر چیف جسٹس عامر فاروق سخت برہم ہو گئے،کہا میں نے ذاتی طور پر طلب کیا ہے تو انہیں خود بات کرنے دیں،انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں،میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، عدالت نے حکم دیا کہ انجم عقیل خان ہر سماعت پر حاضری یقینی بنائیں ، عدالت نے کیس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی

    آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا انجم عقیل خان سے مکالمہ
    دوران سماعت انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات ابھی نہیں کر رہے، آپ نے جو الزامات لگائے اس متعلق بتائیں، انجم عقیل خان نے کہا کہ میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جج صاحب نے کہاں تعصب ظاہر کیا جہاں آپکو لگا یہ انصاف نہیں کرینگے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپکی درخواست پر ساری کارروائی کی، آپ بتا تو دیں،آپ سوری سوری کر رہے ہیں، یہ بتائیں Bias کیا ہوتا ہے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج نہیں ہے، یہ سادہ انگریزی ہے، جج صاحب متعصب تھے کیونکہ انہوں نے آپکی سفارش نہیں مانی؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ نہیں، ہم نے سفارش کی ہی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اچھا، یہ مجھے نہیں پتہ سفارش کی ہے یا نہیں، آپ پارلیمنٹیرین ہیں، آپ قانون بنائیں گے، آپ نے پوری اکانومی چلانی ہے، آپ وہاں جا کر بھی کہیں گے کہ مجھے اکانومی کا نہیں معلوم؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ لیگل گراؤنڈز پر میرے وکیل عدالت کو بتائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل اپنے سے تو نہیں کرتا، آپ نے کہا تو انہوں نے درخواست دی ہو گی نا، مجھے تو کوئی جلدی نہیں، آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے، آپ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتائیں ورنہ آپ اپنا نقصان کرینگے، ہم سب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں آپکو جواب دینا ہو گا،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب