Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سینیٹ اجلاس،ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے،شبلی فراز

    سینیٹ اجلاس،ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے،شبلی فراز

    پیرکو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیرصدارت ہوا۔

    سینیٹ میں شہید فوجی جوانوں کے حوالے سے دعائے مغفرت کرائی گئی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے دعائے مغفرت کروائی،وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عیسائی فوجی جوانوں کے لئے سینیٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    جس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو دہشتگردوں سمیت کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کرسکتا ،شبلی فراز
    سینیٹ میں قائدحزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ جو استحکام ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر پہنچ سے باہر رہے گا ،جنہوں نے انتخابات جیتے ہیں ان کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا ،اس مرتبہ کا انتخابات دھاندلی زدہ انتخابات کی ماں تھا ،ایک لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر اسے جیل میں ڈالا گیا پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کو نشان عبرت بنایا جارہا ہے ،پنجاب پی ٹی آئی کے لیے کربلا بنا ہوا ہے ،پنجاب میں آمریت اور فسطائیت ہے۔اپیکس کمیٹی میں آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا اعلان کیا مختلف قسم کے ملٹری آپریشن دیکھے ہیں جتنی شہادتیں ہوئی سب پاکستانی ہیں گزشتہ ایک دو ماہ سے فوجی جوانوں کی شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے آپریشن عزم استحکام ہمیں تھوڑا ہٹ کر نظر آتا ہے ۔نہیں سمجھ آتا کہ اس کو کیسے لیں ۔استحکام حاصل کرنے کے لئے آپریشن نہیں استحکام لانے والی چیزیں چاہیے معاشی استحکام ہوتا ہے جو استحکام ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ اس وقت تک دور رہے جب تک آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کی حقیقی نمائندگی ہو ملک صاف شفاف انتخابات نہیں ہوئے ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر جیل میں ڈالا گیا پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں اور خواتین کو جیل میں ڈال کر نشانہ عبرت بنایا جا رہا ہے پنجاب میں فسطائیت اور آمریت ہے پنجاب میں پی ٹی آئی کے لوگوں پر جھوٹے مقدمات کئے جاتے ہیں ان حالات میں کیسے ملک میں استحکام آئے گا جو مقدمات بنائے گئے وہ مکمل طور پر مذاق ہے انتخابات میں اربوں روپے خرچ کرکے جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ،ہم سے انتخابی نشان اور مخصوص نشستیں چھینیں گئیں ، کوئی بھی آپریشن کرلیں ایسی صورتحال میں استحکام کیسے آسکتے۔مہنگائی کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بدتر ہوگی ،کچھ لوگ جمہوریت کے لبادے میں گدھ کا کردار ادا کررہے ہیں۔آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا ہے ،وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں ہوں گے ، بجٹ بنانے والوں کے پاس کوئی اخلاقی قوت نہیں ،ایک ارب ڈالر کے لئے ہم دنیا میں کشکول لے کر گھوم رہے ہیں ۔استحکام آزادانہ منصفانہ انتخابات اور جمہوریت میں چھپا ہوا ہے ، شبلی فراز نے کہاکہ جس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو دہشتگردوں سمیت کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کرسکتا ،اقتدار میں موجود لوگوں نے ملک کو ہر طرح کے خطرات سے دوچار کردیا ہے ،ایوان بالا کو قوانین کے مطابق چلایا جائے ،اپوزیشن کے بغیر آپ نہیں چل سکتے ، ملکی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ بانی پی ٹی آئی پر قائم مقدمات ختم کرکے اسے رہا کیا جائے ، ملکی استحکام کی چابی قیدی 804 کے پاس ہے ،اس ملک کو اکٹھا بانی پی ٹی آئی نے رکھا ہے ۔ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے وہی استحکام لا سکتا ہے ،

    سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اتفاق کرنا چاہئیے ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مزید مشکل ہو گا، سلیم مانڈوی والا
    خزانے اور محصولات کی قائمہ کمیٹی کے چئیرمین سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر سفارشات پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ہمیں سفارشات کے لئے عموما چودہ دن ملتے ہیں۔اس بار ہمیں صرف چھ دن دئیے گئےمیں تمام کمیٹی ارکان، سینیٹ عملے، میڈیا ،مختلف وزارتوں کے حکام نے بہت تعاون کیا،32 سٹیک ہولڈرز نے کمیٹی میں نمائندگی کی اور اپنی سفارشات پیش کیں۔18.9کھرب روپے کے بجٹ میں سے 9 کھرب سے زیادہ سود کی ادائیگی میں صرف کرتے ہیں۔2.4 ملین نان فائلرز کو کوئی نہیں پوچھ رہا ۔بڑے سیٹھوں اور مالدار افراد پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔تفصیلی مشاورت کے بعد جامع رپورٹ مرتب کی ہے ،یہ پارلیمنٹ اور حکومت قرضوں پر چل رہی ہے ،ہم بجٹ کو پورا کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں جس کا حجم بڑھتا جارہا ہے،ہم ٹیکس ادا کرنے والوں پر پھر ٹیکس لگا دیتے ہیں نان ٹیکس پیئرز کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ، قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکس میں اضافے کو مسترد کیا ہے۔نوزائیدہ بچوں کے دودھ پر ٹیکس اضافے کو بھی یکسر مسترد کیا گیا ہےمعذور افراد کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت ان سے ملکر ان کے مسائل حل کرے ،پولٹری فیلڈ پر ٹیکس سے متعلق قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت اس پر نظر ثانی کرےجو ہسپتال مریضوں سے پیسے نہیں لیتے انھیں مراعات دی جائیں۔جو ہسپتال مریضوں سے پیسے لیتے ہیں ان کو مراعات نہ دیں۔سستے موبائل فون پر ٹیکس کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی، پہلی بار سکول کے بچوں کی پینسل، ربڑ کاغذ پر ٹیکس لگایا گیا جس کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کیا۔اس ٹیکس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔انہوں نےکہاکہ فائلر اور نان فائلر کے درمیان فرق دنیا بھر میں اور کہیں نہیں۔ہمیں ملکی معیشت اور بجٹ تیاری میں کوئی بہتری نظر نہیں ا رہی۔ہمیں ملکی معیشت پر سیاست نہیں کرنی چاہئیے۔تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اتفاق کرنا چاہئیے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مزید مشکل ہو گاملکی معیشت مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہو گا۔

    سینیٹ میں عزم استحکام آپریشن کے خلاف تحریک انصاف کے سینیٹرز نے ایوان میں شدید احتجاج کیا ۔ چیئرمین کے ڈائس کاگھیرو کیا ،پختونوں کا قتل نا منظور ،ایک اور فوجی آپریشن نامنظور، مکمل بلڈوز نامنظور کے نعرے لگائے ۔احتجاج کے بعد تحریک انصاف کے سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے کہ کیا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ ہو؟میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں امن بحال نہیں ہونا چائیے؟ اپیکس کمیٹی میں فوجی آپریشن کی منظوری تمام وزارء اعلی کی موجودگی میں کیا گیا۔یہ طالبان خان کا تحفظ مانگتے ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں چاہتے۔مشکل وقت میں مشکل بجٹ پیش ہوا جس پر ہم نے تنقید بھی کی۔کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہےکیا مذہب کے نام پر سرعام لوگوں کو سزائیں دینا درست ہے؟ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پاکستان میں امن، استحکام نہ آئے۔اس سے پہلے سوات میں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی تھی۔جس پر بےنظیر بھٹو شہید نے سوات میں پاکستان کا پرچم لہرانے کا نعرہ لگایا تھا جو ان کا آخری نعرہ ثابت ہوا.سینیٹر شیری رحمن نےسوات اور سرگودھا میں ہجوم کے ہاتھوں دو افراد کو سرعام قتل کے خلاف سینیٹ میں قراداد پیش کی، قرارداد میں کہاگیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہریوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔ایوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود قراداد منظور کر لی۔

    کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    وفاقی بجٹ،128سفارشات پرمبنی رپورٹ سینیٹ میں پیش،سفارشات منظور
    سینیٹ نے بجٹ سفارشات منظور کر لیں، 128سفارشات پرمبنی رپورٹ چئیرمین فنانس کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے پیش کی ،سینیٹ نے سفارشات کی منظوری دے دی ،سیلز ٹیکس میں 1300 ارب روپے اضافے کی تجویز واپس لینے کی سفارش کی گئی،اور کہا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں 50 فیصد کمی کی جائے،ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، سینیٹ نے مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی بھی سفارش کر دی، 660 سی سی تک کی کاروں پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرح زیرو کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے کی سفارش کر دی،فاٹا اور پاٹا میں لوکل سپلائی پر ٹیکس چھوٹ 30 جون 2025 تک دینے کی سفارش کر دی،تعمیراتی شعبے کیلئے فنانس ایکٹ 2019 کا ٹیکس رجیم بحال کرنے کی سفارش کر دی،تعمیراتی شعبے پر عائد پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کر دی،اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کےفروغ کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کی سفارش کی گئی،کمپنیوں کے بغیر نوٹس اکاونٹ بلاک کرنے کا قانون ختم کرنے کی سفارش کی گئی،کسٹم ایکٹ 1969 میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ،سیل ٹیکس ایکٹ 1990 میں بھی ترمیم کی سفارش کی گئی،انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں بھی ترمیم سفارشات کا حصہ ہے،درآمد شدہ اور مقامی سولر انڈسٹری کی اشیاء پر یکساں ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ، سٹیشنری کی آٹھ اشیاء پر ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ،مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تمام اشیاء پر قیمتوں کا اندراج ہونا چاہیے ، چیریٹی کے نام پر ٹیکس چھپانے والی تنظیموں کی نشاندہی کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے،ایف بی آر میں 5000 سے زاہد خالی نشستوں کو مکمل کرنے کی سفارش قومی اسمبلی کو بھجوا دی گئی،موبائل ٹیلی فونز پر اضافی ٹیکس نافذ نہ کرنے کی سفارش پیش کی گئی ،پولٹری فیڈز پر سیل ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے،اس ٹیکس سے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ،نیوز پرنٹ پر نافذ دس فیصد جی ایس ٹی واپس لینے اور اسے زیرو ریٹ سٹیٹس میں لانے پر غور کی سفارش کی گئی،ادویات اور سرجری میں زیر استعمال بعض اشیاء میں بھی جی ایس ٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی.

    تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں،فیصل سبزواری
    ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر فیصل سبزواری نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دی جائےتنخواہ دار طبقے کی قاںل ٹیکس آمدن کی حد بڑھائی جائے۔تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں تنخواہ دار طبقے کی بجائے مجموعی آمدن پر ٹیکس لگایا جائےغریب کسان اور ہاری کو ٹیکس سے مکمل جھوٹ دی جائے ۔

    عزم استحکام آپریشن پر ہم سب کو لبیک کہنا ہو گا، پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، فیصل واوڈا
    سینیٹر فیصل واڈا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونے جا رہا ہے اور ہو کر رہے گا یہ ملک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں یہ بجٹ بھی منظور ہو گا اور ڈنکے کی چوٹ پر منظور ہو گاوزیر خزانہ نے ہماری سفارشات بہت تحمل سے سنی اور تعاون کیاوفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو فی الفور ختم کیا جائےبجٹ کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں پورے ملک کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی اٹھارہ فیصد ٹیکس لاگو ہو گاوزیر خزانہ کسی کے دباو میں نہ آئیں پارلیمان اپ کے ساتھ کھڑی ہے آپریشن تو ہو گا آپریشن پر ہم سب کو لبیک کہنا ہو گا ڈنکے کی چوٹ پر بجٹ پاس ہو گا ، نجکاری بھی ہو گی جب سب کو 18 فیصد ٹیکس سلیب دینا ہے تو کے پی کو بھی یہی ہو گی نجکاری پر وزیر خزانہ کی حمایت کرتے ہیں اضافی منسٹریاں ختم کی جائیں بجٹ کی مکمل حمایت کریں گےہم اپنے حصے کا ٹیکس بوجھ لیں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس پورے ملک پر لگاو ،آپریشن ملک میں استحکام لائے گا ، قومی اسمبلی میں اتنے غلط الفاظ استعمال کیے گیے بے حیا لوگوں نے قومی اسمبلی میں اس بے ہودہ بات پر ڈیسک بجائے وزیر خزانہ کو دباو میں آنے کی ضرورت نہیں.

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ بجٹ بحث پر تمام سینیٹرز کی رائے پر مبنی نکات یومیہ ہمیں موصول ہوتی رہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بہت محنت سے سفارشات دیں ان سفارشات کا ضرور جائزہ لیں گےکل بروزمنگل قومی اسمبلی کی بجٹ تقریر میں دیکھیں گے کہ سینیٹ سفارشات پر بہت سی سفارشات کو مالیاتی بل کا حصہ بنائیں گے.

  • ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پاکستان جیسے ملک کے لیے اہم چیلنجز ہیں،احسن اقبال

    ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پاکستان جیسے ملک کے لیے اہم چیلنجز ہیں،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پاکستان جیسے ملک کے لیے اہم چیلنجز ہیں جبکہ بے پناہ مواقعے بھی فراہم کر رہی ہے جس سے ہمیں بھرپور استفادہ کرنا چاہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو فزکس اور عصری ضروریات پر 49ویں بین الاقوامی نتھیاگلی سمر کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں چیرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ,ڈاکٹر علی رضا انور سمیت دنیا بھر کے سائنسدانوں اور طالب علموں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لیے اس بین الاقوامی کانفرس نے سائنسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی روایت قائم کی ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو گزشتہ 49 سالوں سے اس بین الاقوامی کانفرس کی میزبانی پر مبارک باد بھی دی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوے ,وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کوانٹم ,کمپوٹنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل دور کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے یونیورسٹیوں میں نیشنل سنٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے جن سےطالب علم بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2018 سے لیکر اب تک وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی ہدایت پر ملک بھر کی جامعات میں درجنوں نیشنل سنٹرز قائم کیے گیے تھے جن سے ہزاروں طالب علم بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    مزید براں, تقریب سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ سائبر سکیورٹی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ عالمی سائببر سیکورٹی مارکیٹ کا 2026تک 345.4$ بلین تک پہنچنے کا امکان ہے۔حکومت نے پاکستان میں کوانٹم ٹیکنالوجیز کی ترقی میں معاونت کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں جبکہ حکومت سرکردہ تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے، کوانٹم ریسرچ اور اختراعی اقدامات میں مزید سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے. ان منصوبوں کا مقصد کوانٹم سائنس، کمپیوٹنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سائنسی مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے.

    کانفرنس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بشمول کوانٹم ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ، اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز اور کوٹنگز پر تفصیلی سیشن منقعد کیے جائیں گے۔ کانفرنس 6 جولائی 2024 تک نتھیاگلی میں جاری رہے گی۔

    قومی اسمبلی: وزیرِ قانون کی سوات کے معاملے پر قرار داد کثرتِ رائے سے منظور

    سوات: مدین واقعہ میں ملوث 23 افراد گرفتار، تحقیقات کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل

    سوات،توہین مذہب کے الزام میں قتل ،تھانہ جلانے پرمقدمہ درج

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سینئر صحافی حامد میر کی ارشد شریف کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست یہ ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر تحقیقات جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،آپ نے پچھلی سماعت میں کہا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، آپ کوئی آرڈر شیٹ دیکھا دیں،جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی ابھی کام کر رہی ہے ابھی کینیا سے ایم ایل ار سے متعلق ایم او یو سائن ہونا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ڈیڑھ سال سے جے آئی ٹی آئی نے کوئی کام نہیں کیا، جے آئی ٹی کو ہیڈ کون کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی مائی لارڈ ایسا ہے۔

    شعیب رزاق نے کہا کہ ان کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ جے آئی ٹی کو کوئی ہیڈ نہیں کر رہا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایف آئی آر ہوئی ہے؟ شعیب رزاق نے کہا کہ جی تھانہ رمنا میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب جے آئی ٹی کا کچھ حصہ لیک ہوا تو جس پر کینیا نے ریزرویشن دیں، عدالت نے تھانہ رمنا کے ایس ایچ کو بھی ذاتی حثیت میں اگلی سماعت میں طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دیکھ لوں سٹیٹ نے کیا کیا ہے اب تک ؟جے آئی ٹی میں کون ہے،عدالت نے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو اصل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائی کورٹ،الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی ٹی آئی امیدواروں کی درخواستوں پر کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کر دی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ منٹ وقت لے لیں ، کیا پانچ منٹ سے بھی وقت کم کردوں؟ آپ اس آرڈیننس کا کیسے دفاع کریں گے؟ کون سا آسمان گرنے لگا تھا کہ قائم مقام صدر سے رات و رات آرڈیننس جاری کروا دیا،پارلیمنٹ کو ختم کردیتے ہیں،اور آرڈیننس کے زریعے حکومت چلواتے ہیں ، آپ لوگوں نے آرڈیننس کی فیکٹری لگا رکھی ہے، ایک واہ فیکٹری ہے اور دوسری آرڈیننس فیکٹری ، وہ اسلحہ بنانے ہیں آپ آرڈیننس بناتے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا ٹریبیونل تبدیلی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا، انجم عقیل عدالت میں سوری ، سوری کرتے رہے، جج کے تعصب پر اپنے الفاظ پر شرمندگی اور معذرت کا اظہار کیا،عدالتی زبان قرار دیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جھاڑ پلا دی کہا کہ آپ نے بیان حلفی بھی لگایا ہوا ہے کہ جو درخواست میں لکھا وہ درست ہے،آپ انگریزی پڑھ سکتے ہیں؟ پڑھیں،آپ نےاقرباء پروری لکھا ہے آپ نے یہ الزام کیوں لگایا؟انجم عقیل کے ساتھ کھڑے وکیل کےلقمےپر چیف جسٹس عامر فاروق سخت برہم ہو گئے،کہا میں نے ذاتی طور پر طلب کیا ہے تو انہیں خود بات کرنے دیں،انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں،میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، عدالت نے حکم دیا کہ انجم عقیل خان ہر سماعت پر حاضری یقینی بنائیں ، عدالت نے کیس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی

    آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا انجم عقیل خان سے مکالمہ
    دوران سماعت انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات ابھی نہیں کر رہے، آپ نے جو الزامات لگائے اس متعلق بتائیں، انجم عقیل خان نے کہا کہ میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جج صاحب نے کہاں تعصب ظاہر کیا جہاں آپکو لگا یہ انصاف نہیں کرینگے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپکی درخواست پر ساری کارروائی کی، آپ بتا تو دیں،آپ سوری سوری کر رہے ہیں، یہ بتائیں Bias کیا ہوتا ہے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج نہیں ہے، یہ سادہ انگریزی ہے، جج صاحب متعصب تھے کیونکہ انہوں نے آپکی سفارش نہیں مانی؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ نہیں، ہم نے سفارش کی ہی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اچھا، یہ مجھے نہیں پتہ سفارش کی ہے یا نہیں، آپ پارلیمنٹیرین ہیں، آپ قانون بنائیں گے، آپ نے پوری اکانومی چلانی ہے، آپ وہاں جا کر بھی کہیں گے کہ مجھے اکانومی کا نہیں معلوم؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ لیگل گراؤنڈز پر میرے وکیل عدالت کو بتائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل اپنے سے تو نہیں کرتا، آپ نے کہا تو انہوں نے درخواست دی ہو گی نا، مجھے تو کوئی جلدی نہیں، آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے، آپ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتائیں ورنہ آپ اپنا نقصان کرینگے، ہم سب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں آپکو جواب دینا ہو گا،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس منیب اختر،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلوں میں آئینی تشریح کی قدرتی حدود سےمطابقت پر زور دیا گیا ہے، آرٹیکل 51 اور 106 سے 3 ضروری نکات بتانا ضروری ہیں، آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کی غلط تشریح دی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئین کو نظر انداز کیا۔

    آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل صدیقی سے کہا کہ الیکشن کمیشن یا آپ کیا سوچ رہے ہیں وہ چھوڑ دیں، الیکشن کمیشن بھی آئین پر انحصار کرے گا، الیکشن کمیشن آئین کی غلط تشریح بھی کر سکتا ہے، عدالت کسی کی طرف سے آئین کی تشریح پر انحصار نہیں کرتی، آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور فیصل صدیقی میں بلے کے نشان پر اہم بحث ہوئی، وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپ کے فیصلے کی جس لیول پر انٹرپٹیشن کی آپ دیکھئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا،وکیل نے کہا کہ اس ملک میں متاثرہ فریق کیلئے کوئی چوائس نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،صرف آئین پر رہیں،وکیل نے کہا کہ ایک رات پہلے انتخابی نشان لے لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا تو نہیں لیا، آپ تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں آپ کا نشان کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا ،گھوڑا

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی،بلے باز کے نشان سے متعلق وضاحت کروں گا کہ کیا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کیا ہوا، آپ فیکٹس پر ذرا فوکس کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان لئے جانے کے بعد معاملہ کنفیوژ ہوگیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل آسان ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین پر عمل نہ کرکے ملک کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کی آپ کی تشریح الگ ہے میری الگ ہے،

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ تمام امیدوار پی ٹی آئی کے تھے حقائق منافی ہیں، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے سرٹیفکیٹس جمع کروا کر واپس کیوں لیے گئے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ جنھوں نے الیکشن لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی انھیں کیوں مخصوص نشستیں دی جائیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ آپ کے دلائل سے تو آئین میں دیے گئے الفاظ ہی غیر موثر ہو جائیں گے، سنی اتحاد کونسل تو پولیٹیکل پارٹی ہی نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارٹی الیکشن نہیں لڑتی بلکہ امیدوار الیکشن لڑتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے دلائل مفادات کا ٹکراؤ ہیں، یا آپ سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کریں یا پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں، ہم نے صرف دیکھنا ہے آئین کیا کہتا ہے، ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا، نظریاتی میں گئے اور پھر سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے، آپ صرف سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملک میں ایسے عظیم ججز بھی گزرے ہیں جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا،صرف آئین پر رہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان چلے جانے کے بعد پولیٹیکل پارٹی نہیں رہی،لیکن پولیٹیکل ان لسٹڈ پولیٹیکل پارٹی تو ہے، الیکشن کمیشن نے ان لسٹڈ پارٹی تو قرار دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی، اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے،

    جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیا تو اپیل کیوں دائر نہیں کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ اس سوال کا جواب سلیمان اکرم راجہ دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رولز آئین کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کہا تھا 80 فیصد لوگ آزاد ہو جاتے ہیں تو کیا دس فیصد والی سیاسی جماعتوں کو ساری مخصوص نشستیں دے دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل آئین یہی کہتا ہے، کسی کی مرضی پر عمل نہیں ہو سکتا، اس ملک کی دھجیاں اسی لیے اڑائی گئیں کیونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا،میں نے حلف آئین کے تحت لیا ہے،پارلیمنٹ سے جاکر آئین میں ترمیم کرا لیں، ہمارے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے ہیں،امریکہ اور برطانیہ کے آئین کو صدیاں گزر چکی ہیں، جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ہماری انا کی بات ہو جائے گی،مشکل سے ملک پٹری پہ آتا ہے پھر کوئی آکر اڑا دیتا ہے،پھر کوئی بنیادی جمہوریت پسند بن جاتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت فورٹریس آف ڈکشنری نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن ملکوں کا آپ حوالہ دےرہے ان کے آئین کل نہیں بنے،پاکستان کے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے اور اس کا حال کیا کیا ہے، انگلستان میں لکھا ہوا آئین نہیں، تاریخ دیکھتے ہیں،

    جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، جو کچھ 2018 میں ہوا وہی ابھی ہوا، جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا،یہ باتیں سب کے علم میں ہیں، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ میں آپکی باتوں سے مکمل متفق ہوں،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کے صدر تھے، کیا انہوں نے انتخابات کی تاریخ دی ، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تھا جو انتخابات نہیں کروا سکا،ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوائی تھی،انتخابات ہم نے کروائے ، پی ٹی آئی نے تو لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن رکوانے کی کوشش کی ، کبھی کبھی سچ بول دیا کریں ، باہر جا کر بڑے بڑے شو کر کےجھوٹ نا بولا کریں، الیکشن ہم نے کروائے تھے، تحریک انصاف اور ان کے صدر عارف علوی اور عمران خان تو الیکشن روکنے پر لگے ہوئے تھے۔الیکشن کمیشن ایک عرصے سے تحریک انصاف کو پارٹی الیکشن کروانے کا کہہ رہا تھا لیکن پارٹی الیکشن نہیں کروائے،عمران خان بطور وزیراعظم بھی الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہورہے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا
    چیف جسٹس قاضی فائز جب 13 جنوری بلے کے نشان کے کیس کے فیصلے سے متعلق وضاحت دے رہے تھے تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا میں اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ نظرثانی درخواست زیر التوا ہے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم نظر ثانی درخواست دائر ہوئی ہے ،مجھے علم نہیں، پتہ کریں، حامد خان کئی بار ملے کبھی ذکر نہیں کیا، حامد خان نے بھی نظر ثانی درخواست دائر ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی بات ہوئی تھی جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کرائی تھی کہ نظر ثانی زیر التوا ہے اس لیے اس حوالے سے بات نا کی جائے .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا،آفس سے تفصیلات مانگ لیں،پی ٹی آئی وکیل سے کہا کہ آپ نے یاددہانی نہیں کروائی.

    الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو جماعت سیاسی نہیں اور الیکشن نہیں لڑی اس کی مخصوص نشستیں کہاں جائیں گی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا،

    آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا،چیف جسٹس
    جسٹس اطہر من اللہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میں بحث ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا آئین کو پسند کیوں نہیں کرتے؟ آئین آئین ہوتا ہے، وکیل نے کہا کہ ایک بات کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں، آپ سیاسی بات کرتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم یہاں انسانی حقوق کے دفاع کیلئے موجود ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا، عدالت سمجھتی سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جنہوں نے آپ کو جوائن کیا کیا ان میں کوئی غیر مسلم ہے، اہم سوال ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، دیکھنا پڑےگا،

    پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،چیف جسٹس
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیمطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خواتین کو نہیں غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،بطور آفیسر آف کورٹ اس سوال کا جواب دیں ،وکیل نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب اس لئے نہیں دے رہا کہ یہ اتنا سادہ نہیں،ہر آزاد ایم این اے، ایم پی ائے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو، میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں، مخصوص نشستیں صرف متناسب نمائندگی کے سسٹم کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں، متناسب نمائندگی کے نظام کے علاوہ مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا کوئی تصور نہیں،مخصوص نشستیں امیدواروں کا نہیں سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے،الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ شمولیت صرف پارلیمان میں موجود جماعت میں ہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن کی یہ تشریح خودکشی کے مترادف ہے،

    وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے،چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج بھی پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتا ہے، ایوان کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا، میری نظر میں ایوان کو مکمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا، ہمارے ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، ملک آئین کے مطابق چلا ہی کب ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کر لئے.

    وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ خلاف آئین ہے،فیصل صدیقی اپیل کے حوالے سے تفصیل سے دلائل دے چکے،ہماری تین درخواستیں تھیں عدالت چاہے تو معاونت کےلیے تیار ہوں،مزید معاونت بھی کردوں گا، وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان کے دلائل مکمل کرلیے.

    سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کردیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنول شوزب پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر ہیں، الیکشن ایکٹ کیمطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا، کنول شوزب کوپہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کنول شوزب کیا اکیلی تھیں جو سنی اتحاد کونسل میں نہیں گئیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب عام انتخابات میں منتخب نہیں ہوئیں، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو ملنے پر انہیں منتخب ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اوکے، تو یہ متاثرہ فریق ہیں، کیا کنول شوزب نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کنول شوزب متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر کیسے براہ راست سپریم کورٹ آ سکتی ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس عدالت میں چیلنج کیا تھا اس کا فیصلہ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ فیصلہ کچھ دیر تک ریکارڈ کا حصہ بنا دوں گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہی نہیں کیا گیا اس کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کنول شوز ب سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں شامل ہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب کا نام سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں موجود ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں نام دکھائیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فہرست لی ہی نہیں تو ریکارڈ سے کیسے دکھا سکتا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ آٹھ فروری کے حوالے سے بھی درخواست زیر التواء ہے،عدالت نے ہر غیرمتعلقہ معاملے پر ازخودنوٹس لیا ہے لیکن الیکشن پر نہیں، انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فیصل صدیقی کا کیس تباہ کر رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ کسی کا کیس تباہ نہیں کر رہا، سمجھ نہیں آ رہا آپ بار بار یہ کیوں کہہ رہے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ دلائل کیلئے کتنا وقت لیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک گھنٹے سے زائد وقت لوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گھنٹہ آپ کو نہیں دے سکتے،اس کیس کو ہم اتنا طویل نہیں کر سکتے،ہزاروں دیگر مقدمات زیر التوا ہیں،زیر التوا مقدمات والوں پر تھوڑا رحم کر لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں جسٹس اطہر من اللہ سے وسیع تناظر میں متفق ہوں،میری رائے میں پی ٹی آئی کو ہمارے سامنے آنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کو آکر کہنا چاہئے تھا یہ ہماری نشستیں ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسے حالات تھے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو سُنی اتحاد کونسل میں جانا پڑا؟ کیا پی ٹی آئی کو پارٹی نہ ماننے والے آرڈر کیخلاف درخواست اسی کیس کے ساتھ نہیں سُنی جانی چاہئے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ نے ہماری اپیل واپس کر دی، رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے تھے، رجسٹرار آفس نے کہا انتخابی عمل نشان الاٹ کرنے سے آگے بڑھ چکا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ اہم ترین معاملہ تھا لیکن آپ نے اپیل دائر نہیں کی، چیمبر اپیل دائر نہ کرنے سے اہم ترین معاملہ غیرموثر ہوگیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا چیمبر اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی معاملات میں جانے کے بجائے عدالت 184/3 کا اختیار کیوں نہیں استعمال کر سکتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سُنی اتحاد کونسل اگر بیان دے کہ کنول شوزب انکی امیدوار ہونگی تو درخواست سن سکتے ہیں،

    ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ سلمان صاحب 86 لوگ ایک جماعت سے الیکشن لڑ کر بعد میں ایک شخص کو جوائن کر گئے کیوں؟ ہمیں وہ مجبوری تو بتا دیں وہ مجبوری کیا تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا، کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رک نہیں سکتا، سلمان اکرم راجہ صاحب بات سن بھی لیا کریں کیا ہم اب آپکے مفروضوں پر چلیں گے یا آئین پر چلیں گے۔ کل کو ہر کوئی آکر کہہ دے گا کہ یہ مجبوری تھی اسلئے آئین چھوڑ دیں، ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہاں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،فاطمہ جناح نے انتخابات میں حصہ لیا تو تب بھی عوام سے حق چھینا گیا،مکمل سچ کوئی نہیں بولتا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی بیانات میں نہیں جاوں گا آئین و قانون پر دلائل دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جیتنے کے بعد آزاد اُمیدوار سُنی اتحاد کونسل میں کیوں شامل ہوئے؟ آپ کو پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہئے تھا، آپ پی ٹی آئی کا انتخاب کرتے تو آپ کا کیس اچھا ہوسکتا تھا.

    سپریم کورٹ، دوران سماعت خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلنے پر چیف جسٹس کا نوٹس
    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خاتون کے فون سےہری لائٹ جلنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹس لے لیا،سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے تھے کہ اس دوران خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ پیچھے سے کون تصویر لے رہا تھا؟وکلا نے کہاکہ خاتون کے پاس ڈائری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ خاتون بیٹھی ہیں، کیا گرین چیز سے پکچر لے رہی ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کھڑی ہو جائیں ، آپ کے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟خاتون کے فون میں دیکھیے کیا کر رہی ہیں اور ہری لائٹ کیا تھی جو دیکھنے میں آئی؟

    آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے،چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86امیدوار آزاد منتخب نہیں ہوئے، لوگوں نے انہیں سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے طور پر منتخب کیا، 86 امیدواروں کو کیوں لگا کہ ایک ہی جماعت سے منسلک ہونا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلمان صاحب تھوڑا سا برداشت رکھیں، اگر آپ اپنا آزاد کا سٹیٹس برقرار رکھیں گے تو پھر بھی اُنہی سیاسی جماعتوں کو جائیں گی آپ کو نہیں ملیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو جیتی گئی نشستوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے توشروع میں کہا تھا ایک رکن بھی پارلیمنٹ میں خالی نہیں چھوڑا جاسکتا، آپ کہہ رہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنا کوئی مسئلہ نہیں ,ہر چیز قانون کی بنیاد پر ہوتی ہے ,بظاہر قانون کی زبان بڑی واضح ہے ,ہر سیاسی جماعت کی اپنی منزل ہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد مشاورت سے سنی اتحاد کونسل کو اپنایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے درست کہا کہ جب آپ آزاد امیدوار ہیں تو پھر ایسی جماعت میں جانا ہوگا جس نے سیٹ انتخابات میں حاصل کی ہوں گی ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہ رہے کہ الیکشن میں نہ جیتے آزاد ملے تو سیٹ حاصل کرلی ؟ جواضح کردیا گیا ہے کہ جو سیٹیں آپ نے جیتی ان میں آزاد شامل ہوں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن میں جیتی گئی سیٹیں اور حاصل کردہ دونوں میں فرق ہیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حاصل کردہ سیٹوں سے مطلب جیتی گئی سیٹ لیا جا رہا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت ماننے سے کونسا آئینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کون جیتا کون آگیا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 25 بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ووٹر سب کے منشور نہیں پڑھتا ج،چھوٹی سیاسی جماعت میں اگر آذاد امیدوار شامل ہوجاے تو کیا ہوگا ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ارب پتی سیاسی جماعت خرید لے ؟کل کوئی ارب پتی کہے کیا الیکشن لڑنا پارٹی اور آزاد امیدوار خریدوں گا پھر ؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 نمائندے آزاد نہیں تھے انہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے ووٹ پڑے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم آزاد امیدوار ہونے کی ہی وجہ سے سیاسی جماعت میں شامل ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ لیں کوئی آزاد امیدوار نہیں ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آذاد امیدوار آزاد ہی رہتے تو پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پھر مخصوص نشستیں خالی رہتیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ہیں،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شروع میں الیکشن کمیشن نے ساری سیٹیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی،بعد میں مقدمہ بازی کی وجہ ان سیٹوں کو روک دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہم آزاد ممبر ہوئے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر غلط سمجھا گیا.

    پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ گر آزادامیدوار ایک جماعت میں دو تین ماہ بعد شامل ہوتے تو کیا جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے کی اہلیت ہوگی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسی وجہ سے تین دنوں میں شامل ہونے کا قانون ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت ہی عجیب سا قانون ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل ہے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار سمجھا جائے یا سنی اتحاد کونسل کا،آپ پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل ہیں سنی اتحاد کونسل کی بات نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بات تو ماننے والی ہے مجموعی طور پرتحریک انصاف نے برے انداز میں کیس کو چلایا ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے چودہ مختلف فیصلے رکھوں گا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ سنی اتحاد یا پی ٹی آئی کو چاہتے ہیں،صرف درخواست گزار کی بات ہو رہی ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف درخواست گزار کی انفرادی بات نہ کی جائے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دے رہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت خواہ ہوں ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنے درخواست گزار کی بات کریں دوسروں کی بات کیسی کر رہے ہیں، ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز نے سنی اتحاد کونسل جوائن کرنے پر احتجاج کیا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نہیں ہمارے خلاف صرف الیکشن کمیشن تھا،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ، عزت کا حقدار ، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی غلطیوں کا حل ہم ڈھونڈیں؟ ہم نے الیکشن کمیشن کو نہیں منظور کیا، آپ نے کیا، غلطیاں تو کی نا،کنول شوذب کوئی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018 میں ایک سیاسی جماعت مشکلات کا شکار تھی، 2024 میں بھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کو الیکشن کمیشن میں خرابی محسوس ہوئی درخواست دائر کریں یا قوانین میں ترامیم کریں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، عزت کا حقدار ہے، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،سپریم کورٹ بھی عزت کے ساتھ برتاؤ کی حقدار ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 ممبران نے کاغذات جمع کرواتے وقت کہاکہ تحریک انصاف کے ہیں؟ کیا عوام کو انتخابات کے سسٹم پر بھروسہ ہے؟ کیوں سچ نہیں بول سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل کچھ اور کہہ رہا ہے لیکن مجھے دماغ کے ساتھ دلائل دینے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کسی کو اختلاف نہیں، آزاد امیدواروں کو کوئی تو شناخت ملے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ سکتےکہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعت کی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں،میں بطور آزاد امیدوار ہی کیس کو دیکھ رہا، بطور پی ٹی آئی امیدوار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ جذبات میں دلائل دے رہے ہیں،جب سی ٹی اسکین کروانے جائیں تو ایک گولی دیتے ہیں جو ریلیکس کر دیتی ہے،از راہ تفنن بات کر رہا ہوں سلمان اکرم راجہ صاحب آپ بھی وہ گولی کھا لیا کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جمیعت علمائے اسلام میں بھی شامل ہوسکتےتھے، کس کی رائے تھی سنی اتحاد میں شامل ہونے کی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ممکن تھا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی ذہنیت نہ ملے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ اپنے ووٹرز کا حق دے رہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے پر مجبور کیا، ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچکزئی صاحب کی جماعت میں بھی جا سکتے تھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی جماعت کی تلاش تھی جس کے ساتھ چل سکیں کل وہ ہم میں ضم ہو سکے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو انتخابی نشان والے کیس میں بھی کہا تھا مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہو تو عدالت آجانا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے مسئلہ پیدا ہوا تو کیا یہ عدالت اسے درست کر سکتی ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرے تو میں اسے عظیم فیصلہ کہوں گا، پاکستان کے عوام بھی اس فیصلے پر جشن منائیں گے، سنی اتحاد نے انتخابات سے قبل اعلان کیا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں گے، جب تحریک انصاف بطور آزاد انتخابات لڑی تو حامدرضا نے بھی آزادامیدوار الیکشن لڑا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حامدرضا اپنی ہی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حامد رضا بطور تحریک انصاف امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو یہی نہیں معلوم کہ حامدرضا نے اپنے کاغذات میں کس پارٹی کا نام لکھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو کنول شوذب کا معلوم نہیں، حامدرضا نے کیوں آزادامیدوار الیکشن لڑا، سنی اتحاد کہاں ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ صاف شفاف انتخابات کروائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 86 لوگوں کی بات نہ کریں، آپ ایک درخواستگزار ہیں، 86 درخواستگزار نہیں، ایم کیو ایم آپ کی حکومت کا حصہ تھی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے، ہم آئین کی تشریح چاہتےہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایم کیو ایم والے آپ کے ساتھ تھے، آج نہیں، کل سنی اتحاد نے بھی ایسا کیا تو ہمارے پاس آئیں گے؟کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کل صبح ساڑھے نو بجے کیس کی سماعت کریں گے،کل تمام وکلا کو سن کر کیس ختم کریں گے،تمام وکلا مختصر دلائل دیں،پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک،الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل کے دلائل رہ گئے ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں ایک متاثرہ فریق کی نمائندگی کر رہا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا،جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کرلیے ، کیس کی آئندہ سماعت 25 جون کو دوبارہ ہوگی ،

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے،الیکشن کمیشن
    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا،سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • مال خانے سے کروڑوں کا غبن،ایس ایچ او سمیت 9 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

    مال خانے سے کروڑوں کا غبن،ایس ایچ او سمیت 9 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

    ہیڈکواٹر مال خانے سے 15 کروڑ روپے مالیت کی غیر ملکی وملکی کرنسی سمیت بیش قیمت موبائل فون و دیگر مال مقدمہ چوری و خرد برد،ایف آئی اے ،اینٹی کرپشن اسلام آباد کی تفتیش میں ہوشربا انکشافات سامنے آ ئے، ایف آئی اے نے مندرہ پولیس کی جانب سے ملزمان جن میں ایک ایف آئی اے کا سابق ملازم ایک سیکورٹی اہلکار اے ایس آئی شامل تھا کو گرفتار کیے جانے کے دوران رقم و مال مقدمہ سے بھرا ایک بیگ برآمدگی میں ہی نہ ڈالنے کا انکشاف کردیا۔سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے ایف آئی اے کی شکایت پر انکوائری کہ تو ایس ایچ او مندرہ و تفتیشی آفیسر وغیرہ بھی سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی انکوائری میں خاطر خواہ جواب نہ دے سکے ۔ تمام کو تحویل میں لیکر تھانہ مندرہ منتقل کردیا گیا.واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،

    مقدمہ تھانہ مندرہ میں ایس ایچ او ایف آئی اے اسفند یار کی مدعیت میں درج کیا گیا، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف ائی اے) کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کے مال خانے سے 15 کروڑ روپے کی ملکی وغیر ملکی کرنسی لوٹنے والے ملزمان سے برآمد رقم میں ہیرا پھیری کرنے پر ایس ایچ او مندرہ سمیت 9 پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، مقدمہ میں ایس ایچ او مندرہ یاسر اعوان، اسسٹنٹ سب انسپکٹرعمران مظفر، سات کانسٹیبلز خضر حیات، مظفر شاہد محمود اسد محمود،عثمان،مختار حسین اور محمد نعیم شہزاد سمیت ایک پرائیویٹ شخص کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے،متن مقدمہ کے مطابق 31 مئی کو ایف ائی اے مال خانہ سے دو ملزمان نے تقریبا 15 کروڑ مالیت کی ملکی غیر ملکی کرنسی لوٹی، کار سوار دوملزمان سعد انوراور محمد حمزہ کو مندرہ پولیس نے سنیپ چیکنگ کے دوران ٹول پلازہ سے گرفتار کیا،گاڑی سے کرنسی،اے ٹی ایم کارڈز،ایئرپورٹ پر داخلہ کے عارضی این اوسی سمیت مختلف اشیاء برآمد کیں، اس دوران ایس ایچ او مندرہ ایک پرائیویٹ فرد کے ساتھ سلور کلر کی گاڑی میں تھے،ایس ایچ او ملزمان کے ہمراہ اور پرائیویٹ فرد کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہوئے، ایف ائی اے اینٹی کرپشن سرکل کو مال خانہ سے ملکی وغیر ملکی کرنسی لوٹنے کے واقعہ کی تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ ملزمان نے واردات کے دوران مجموعی طور پر تقریبا 15 کروڑ روپے کی کرنسی لوٹی،جبکہ مندرہ پولیس نے ملزمان سے صرف 40 لاکھ 89 ہزار روپے کی برآمدگی ظاہرکی، مال خانہ سے چوری مختلف مقدمات میں بر آمدگی کے ریکارڈ کی رپورٹ، مندرہ ٹول پلازہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جبکہ مندرہ تھانہ کی روزنامچہ رپورٹ کو پھاڑنے اور ٹمپرنگ سے بھی ملزمان کی بددیانتی ظاہر ہے، روزنامچہ نمبر 82 کا صفحہ پھٹا ہوا، خراب پایا گیا۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر تمام مجرم پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ نامعلوم نجی افراد کے خلاف تعزیری کارروائی شروع کی جائے،ملزمان سے قومی خزانے کی غبن کی گئی رقم بھی برآمد کی جاسکتی ہے۔

    قبل ازیں 2 جون کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز سے 5 کروڑ روپے مالیت کے چوری ہونے والے سامان کا سراغ لگا لیا گیا تھا، کروڑوں روپے مالیت کے سامان کی چوری میں سابق ایف آئی اے ملازم بھی شامل تھا،تھانہ مندرہ پولیس نے مال مقدمہ برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ،برآمد ہونے والے سامان میں موبائل فونز،وائرلیس سیٹ، جعلی نمبر پلیٹس، غیر ملکی کارڈز اور قومی شناختی کارڈ شامل تھے،سامان میں شامل 5 پارسل سے 5 کروڑ روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی تھی،گرفتار ہونے والے ملزمان میں سعد انور اور محمد حمزہ شامل تھے،کروڑوں روپے مالیت کے سامان چوری میں عبداللہ خان، مہتاب، علی اور حسن شامل تھے،ملزمان نے بیان دیا تھا کہ سامان ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کے سی بی سی دفتر سے چوری کیا گیا،

    برآمد کی گئی رقم کا غبن حیران کن،تحقیقات ہونی چاہیے، شہزاد قریشی
    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار شہزاد قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ایف آئی اے ملکانہ سے لاکھوں مالیت کی غیر ملکی اور مقامی کرنسی کی چوری اور پھر مندرہ پولیس کی جانب سے برآمد کی گئی رقم کا غبن حیران کن ہے۔اس جرم میں کون سے سینئر اور جونیئر پولیس افسران ملوث ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ اس سے پولیس فورس کا مجموعی امیج اور آئی جی پنجاب کی کاوشوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    https://x.com/shahzadausaf/status/1804478517624660161?t=IEVPqE-gupUBjRVcwF4M1A&s=08

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • عمران خان کی رہائی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ

    عمران خان کی رہائی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا ہے

    احتجاج کی قیادت عمرایوب اور بیرسٹر گوہر علی خان نے کی، اراکین اسمبلی کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی گئی، اس موقع پر اراکین اسمبلی کی جانب سے عمران خان کی تصاویر اٹھائی گئی تھیں،تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا،اس موقع پر پولیس نے الیکشن کمیشن جانے والے راستے بند کر دیئے،اور احتجاج کے شرکا کو الیکشن کمیشن کے باہر شاہراہ دستور پر روک دیا گیا.

    اس موقع پر احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے سارے پارلیمنیرینز نکل رہے ہیں سڑکوں پر،پارلیمنٹیرینز بانی تحریک انصاف کی رہائی کیلئے احتجاج کررہے ہیں،انصاف دیر سے ملنا بھی ناانصافی ہے،آج اس ناانصافی کے کے خلاف ہم نکلے ہیں، اس ایوان میں ہماری آواز نہیں سنی جارہی،ایوان میں جو بولا ہماری آواز بند کر دی گئی،ہم خواتین کی رہائی چاہتے ہیں،یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے،

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان فوری مستعفی ہوں، انہوں نے عدالتوں کے سامنے جھوٹ بولا تھا، انہوں نے 46 ارب کا بجٹ مانگا اور صرف ساڑھے سولہ ارب خرچ کیے، انتخابات میں پی ٹی آئی کی 180 سیٹیں چوری کی گئیں، ہماری سیٹیں چھین کر فارم 47 پر لوگوں کو لایا گیا، چین کے وزیر نے کل واضح کہا کہ سیکیورٹی مسائل حل کریں۔

    عمران خان 50 روپے کے پیپر پر دستخط کر کے باہر نہیں گئے،زرتاج گل
    اس موقع پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے غلام نہیں، جو لوگ ناجائز ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں چیف جسٹس سے اپیل ہے انہیں سنا جائے۔تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کے مستقبل کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی 50 روپے کے پیپر پر دستخط کر کے باہر نہیں گئے،شاہد آفریدی سو بار مر کر پیدا ہو بھی جائے تو بھی اسکی حیثیت، اوقات نہیں کہ عمران خان کا مقابلہ کر سکےکہاں عمران خان کہاں یہ؟ زمین وآسمان کا فرق ہے۔میں میڈیا کے ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو بے پناہ پریشر کے باوجود ہمارا احتجاج کروڑوں لوگوں تک پہنچاتے ہیں،8 فروری کو جیتنے والے عمران خان کو آپ نے کال کوٹھڑی میں بھیج دیا صرف اس وجہ سے کہ آپ اس کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے،

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چار رہنماؤں کی نظربندی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، ڈی سی پنڈی نے 15روزہ نظر بندی احکامات 3ایم پی او کے تحت جاری کئے ہیں، تحریک انصاف کے رہنماؤں شہریار ریاض،کرنل ریٹائرڈاجمل صابرراجہ،چوہدری امیر افضل،تیمور مسعود اکبر کے نظر بندی احکامات جاری کئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں نظر بند کیا جائے گا،

  • نوازشریف رائیونڈ محل،   زرداری بلاول ہاؤس،عمران خان بنی گالہ عطیہ کریں،مصطفیٰ کمال

    نوازشریف رائیونڈ محل، زرداری بلاول ہاؤس،عمران خان بنی گالہ عطیہ کریں،مصطفیٰ کمال

    اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث جاری ہے، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو بجٹ پیش کرتے ہیں وہ اس کی تعریف کرتے ہیں، جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں وہ بجٹ پر تنقید کرتے ہیں، ایوان میں موجود لوگ باری باری اپوزیشن اور حکومتی بینچز پر بیٹھ چکے ہیں ، ہر بار ایک جیسا ہی بجٹ پیش کیا جاتا ہے، وفاقی بجٹ نارمل بجٹ ہے، بجٹ میں آدھا پیسہ آئی ایم ایف اور دیگرملکوں کا ہے، پاکستان میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی جائے، ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے نواز شریف، آصف زرداری، فضل الرحمان پہل کریں، کیا ہی بہتر ہو ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے سیاسی رہنما 1000 روپے جمع کرائیں۔

    سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے قرض اتارنے کا نسخہ بتاتے ہوئے کہا کہ نواز شریف رائے ونڈ محل، عمران خان بنی گالہ اور آصف زرداری صاحب بلاول ہاؤس عطیہ کر دیں، جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ اعلان کریں کہ 25 فیصد جائیدادیں پاکستان کو عطیہ کرتے ہیں، اراکین اسمبلی اپنی تنخواہ کا 25 فیصد ملک کیلئے عطیہ کریں،تمام ریٹائرڈ فوجی افسران، حاضر سروس جرنیل 50، 50 کروڑ روپے پاکستان کو عطیہ کریں، ہم ایک ہزار ارب روپے اپنے پاس سے جمع کریں تو پاکستانی عوام 78 ہزار ارب روپے بھی ادا کر دیں گے، بجٹ کے مطابق ایف بی آر 13 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرے گا، جو منظر نامہ پیش کیا یہ نارمل نہیں غیر معمولی حالات ہیں، پیراسٹامول سے یہ کینسر ختم ہونے والا نہیں، سرجری کی ضرورت ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں امن کرنے کا ہر کوئی دعویٰ کرتا ہے، اسٹریٹ کرائم تو ان سے کنٹرول ہو نہیں رہا کراچی کا امن وہاں کے نوجوانوں نے قائم کیا ہے، جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے اتنا ہلکا ہاتھ تو کسی جماعت کے ساتھ نہیں رکھا گیا، رانا ثناء اللہ کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی، ان کا ایک بھی آدمی لاپتہ نہیں ہمارے 900 لوگ لاپتہ ہیں،ا کراچی پاکستان کو اس معاشی دلدل سے نکال سکتا ہے، ہم اپنے پاس پیسہ نہیں رکھتے، ہم پورے پاکستان کو بانٹتے ہیں،میں ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں معاشی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائےِ پاکستان کی معیشت کا جو ٹیومر ہے اس کا علاج کرنے کی ضرورت ہے،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کاسینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں بچوں کے دودھ پر ٹیکس کا معاملہ زیر غور آیا، کاپی پینسل اور سٹیشنری آئٹمز پر بھی ٹیکسز پر غور کیا گیا،سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سول اور کریمینل کیسز کیلئے الگ قانون بنایا جائے ،ایف بی آر حکام نے کہا کہ جرمانہ کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر پر کائیبور پلس 3 شرح سود عائد ہو گی،کمیٹی نے تجویز کی منظوری دیدی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی کا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے،جب تک سب لوگوں کے بینک اکاؤنٹ نہیں ہوں گے اس وقت تک معیشت کو دستاویزی شکل دینا مشکل ہے ،ایف بی آر حکام نے کہا کہ
    بچوں کے فارمولا دودھ پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے،اسٹیشنری آئٹمز پر 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے،مختلف اشیاء پر چھوٹ ختم کرنے سے 107 ارب روپے آمدن ہوگی،آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کی جا رہی ہے،آئی ایم ایف نے 749 اشیاء پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،دودھ اور بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے،ضرورت مندوں کو نقد امداد فراہم کی جائے گی،دودھ پر ٹیکس بڑھانے سے 40 ارب کا ریونیو آئے گا،پینسل کاپیوں سٹیشنری پر ٹیکس بڑھانے سے 7 ارب روپے ریونیو آئے گا

    بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحما ن نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد سٹنٹنگ ریٹ ہے دودھ پر سیلز ٹیکس بڑھانے زیادتی ہے ،اس پر کوئی مشاورت نہیں کی کئی،انوشہ رحمان نے کہا کہ یہ تجویز ظالمانہ ہے،کمیٹی نے بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی

    کھلے دودھ کا نرخ ایف بی آر حکام قائمہ کمیٹی میں نہ بتا سکے
    سینیٹر انوشے رحمان نے ایف بی آر حکام سے سوال کیا کہ کھلے دودھ کا ریٹ کیا ہے؟ کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر حکام کھلے دودھ کا نرخ نہ بتا سکے، ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ "ہم نے کبھی کھلا دودھ نہیں خریدا”سینیٹر انوشے رحمان نے کہا کہ اس وقت مرغی کا ریٹ کیا ہے؟بازار جایا کریں دودھ اور مرغی خریدا کریں،آپ یہ چیزیں خریدیں گے تو آپ میں ہمدردی پیدا ہوگی،جب آپ بھی یہ چیزیں نہیں خرید سکیں گے تب آپ کو احساس ہوگا.

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر انوشہ رحمٰن نے ایف بی آر حکام سے پوچھا کہ کیا قبر پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے؟ اس دوران فاروق ایچ نائیک بھی بولے اور کہا کہ ابھی آئی ایم ایف کو اس کا پتہ نہیں، کراچی میں قبر کھودنے والے گورکن پر بھی ٹیکس لگنا چاہیے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر ہر چیز پر ہی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

    سینیٹر اخونزادہ چٹان نے سینیٹ کی خزانہ کمیٹی میں تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا و پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، ایف بی آر فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مخالفت کرتا ہے، ان علاقوں کو انڈسٹری دیں تاکہ سرمایہ دار ترقی کریں، فاٹا و پاٹا کے لیے چار سے 5 سالہ پلان ہونا چاہیے،چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹیکس چھوٹ کا فائدہ فاٹا کو نہیں ہوتا، فاٹا کو ٹیکس چھوٹ کا فائدہ صرف چند لوگوں کا ہوتا ہے،سینیٹر اخونزادہ چٹان نے کہا کہ وہاں اسٹیل میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، فاٹا میں ان پٹ پر 6 فیصد کے بجائے 3 فیصد ٹیکس کر دیا جائے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم