Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں کی منظوری

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں کی منظوری

    پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں کی منظوری دے دی ہے

    سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالہ سے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تعیناتی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے ناموں کی توثیق کی گئی، اجلاس میں بھیجے گئے ناموں کی منظوری دے دی گئی

    پارلیمانی کمیٹی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی بطورسپریم کورٹ جج کی منظوری دی ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی بطورجج سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال کی بھی بطور جج سپریم کورٹ کی منظوری دی گئی۔

    جوڈیشل کمیشن نے حتمی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا .

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کا فیصلہ پانچ ممبران کی اکثریت سے ہوا.جسٹس ملک شہزاد احمد کی سپریم کورٹ تقرری کی جوڈیشل کمیشن کے چار ممبران نے مخالفت کی،ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کی مخالفت کی،جسٹس منیب اختر جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس منظور ملک نے بھی مخالفت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تقرری کی حمایت کی.اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور نمائندہ پاکستان بار اختر حسین نے بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام کی حمایت کی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی اور جسٹس شاہد بلال کے ناموں کی سفارش متفقہ طور پر کی گئی.

  • انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کیخلاف نفرت پیدا ہوتی ،جسٹس محسن اختر کیانی

    انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کیخلاف نفرت پیدا ہوتی ،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پرسماعت کی، درخواست گزار ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل اور اسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ” آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، سی ٹی ڈی اور ایف آئی اے عہدیدران پر مشتمل کمیٹی بنادی تھی، کیا اس کمیٹی نے کوئی ورکنگ کی ہے ؟”. اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر عدالت عید کے بعد کا وقت دے دے، جس پر جسٹس محسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لاپتہ ہیں انہوں نے بھی عید کرنی ہے۔

    ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ میں واضح کرنا چاہتی ہوں ادھرکوئی بیان دیا جاتا ہے بلوچستان میں کچھ اور ہوتا ہے گزشتہ سماعت کے بعد مسنگ پرسنز کے نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں انیس الرحمان کو 5 جون کو خضدار سے جبری طور پر لاپتا کیا گیا، انیس الرحمان ابھی مسنگ ہے باقی طالب علم بازیاب ہوئے ہیں.جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب لانگ ٹرم مسنگ کا معاملہ شارٹ ٹرم مسنگ کی شکل اختیار کررہا ہے، کسی لیول پر پالیسی میکرز سے کسی نے سوال کیا؟ وہ محسوس نہیں کر رہے کہ ریاست کے خلاف کس طرح نفرت بڑھ رہی ہے، ہوں گے ضرور ان میں دہشتگرد بھی لیکن جو بھی ہونا ہے قانون کے مطابق ہونا ہے،ایمان مزاری نے کہا کہ پہلے لاپتہ کرتے ہیں پھر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیتے ہیں، اب یہ معاملہ پورے ملک میں بڑھ رہا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے ،انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے، عدالتوں نے بھی ابھی تک صرف لاپتا افراد کی ریکوری پر فوکس کیا، ہم کبھی لاپتا افراد کی ریکوری سے آگے نہیں گئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "95 میں سے 91 افراد لاپتہ ریکور ہوئے جس دن ان کے بیانات ہم نے ریکارڈ کر لئے آپ کی آدھی حکومت آفیشلز پراسیکیوٹ ہو جائیں گی ” عالمی سطح پر ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار بھی یہاں نہیں آ رہے،وئی سفیر پاکستان آنے کو تیار نہیں، میں نے بازیاب افراد کو بلا کر بیانات ریکارڈ کروا لئے تو آپ کے افسران کیخلاف کارروائی ہوگی۔عدالتیں فرسٹریٹ ہو کر کیس بند نہیں کر دیتیں، وہ فیصلہ دیتی ہیں،

    بلوچ طلباء کی بازیابی سے متعلق عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی،اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کروں گا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    لڑکی سمیت 9 لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس، پیشرفت نہ ہونے پرعدالت برہم

    آٹھ برس سے لاپتہ شہری بازیاب کیوں نہ ہوا،عدالت برہم،رپورٹ طلب

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • برطانوی ویزہ کیلئے نو پاکستانی بینکوں کی دستاویزات ناقابل قبول ہونے کا خط جعلی قرار

    برطانوی ویزہ کیلئے نو پاکستانی بینکوں کی دستاویزات ناقابل قبول ہونے کا خط جعلی قرار

    متحدہ عرب امارات کے بعد برطانیہ کے ویزہ کے حوالہ سے سوشل میڈیا پرپروپیگنڈہ کیا جانے لگا جس پر برطانوی ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وضاحت جاری کی ہے

    سوشل میڈیا پر ایک لیٹر وائرل ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے ویزا اور امیگریشن حکام نے ویزا درخواست کے لئے نو پاکستانی بینکوں کی مالی دستاویزات کو مسترد کر دیا ہے،لیٹر 28 مئی کو جاری کیا گیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ اس اعلامیہ کے ذریعے تمام متعلقہ فریقوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ پاکستان کے درج ذیل بینکوں کو یوکے ویزا اینڈ امیگریشن سے برطانیہ کے لیے ویزا کی منظوری کے لیے مسترد کر دیا گیا ہے۔ فوری طور پر، ان بینکوں کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی مالیاتی دستاویزات کو ویزا درخواست کے ساتھ قبول نہیں کیا جائے گا،جن بینکوں کا نام لیٹر میں شامل تھا ان میں الائیڈ بینک لمیٹڈ ، عسکری بینک لمیٹڈ ،بینک الفلاح، بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ، فضل بینک لمیٹڈ ، حبیب بینک لمیٹڈ، 7. JS بینک لمیٹڈ ، ایم سی بی، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ شامل تھے،لیٹر میں مزید کہا گیا تھا کہ ہم تمام طلباء کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی مالیاتی دستاویزات منظور شدہ اور تسلیم شدہ بینکوں کے ذریعہ جاری کی جائیں۔

    سوشل میڈیا پر لیٹر وائرل ہوا تو برطانوی ہائی کمیشن نے اس لیٹر کو فیک کہا اور تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جو لیٹر میں‌لکھا ہوا ہے، ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ”م شیئر کی گئی جعلی دستاویز سے باخبر ہیں جو بظاہر یوکے ویزا و امیگریشن کی جانب سے ہے کہ کچھ بینکس اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ یوکے ویزا درخواست کے لیے ممنوع قرار دیئے گئے ہیں، یہ درست نہیں۔ اگر آپ کو یہ موصول ہو، تو اسے ڈیلیٹ کریں مزید شیئر نہ کریں اور اس شخص کو آگاہ کریں یہ جعلی ہے”.

    واضح رہے کہ برطانیہ کے لیے پاکستان سے ویزوں کی پروسیسنگ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    پاکستانیوں کیلے یو اے ای کا ویزا بند نہیں کیا گیا،قونصل جنرل

    ساحر علی بگا کو بھی دبئی کا دس سالہ گولڈن ویزا مل گیا

    صبا قمر کو بھی متحدہ عرب امارات(یو اے ای)کا گولڈن ویزا مل گیا

    عمران اشرف کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا گولڈن ویزا جاری

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کی عیادت کی،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کی خیریت دریافت کی،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےمولانا فضل الرحمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہوں۔ مولانا فضل الرحمان سے 25 سالہ دیرینہ تعلق ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے عزت و احترام والا رشتہ ہے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحما ن نے محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی.

  • امریکی محکمہ خزانہ کے وفد کی وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری سے ملاقات

    امریکی محکمہ خزانہ کے وفد کی وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری سے ملاقات

    وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس لغاری سے امریکی محکمہ خزانہ کے وفد نے ملاقات کی۔ امریکی وفد کی قیادت اسسٹنٹ سیکرٹری برائے خزانہ برینٹ نیمن کر رہے تھے۔ ملاقات کا مقصد توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔

    وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر میں خامیاں دور کرنے کے لیے اصلاحاتی پلان بنا لیا ہے۔ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کے انرجی مکس کو بہتر بنانا اور پاور سیکٹر کی باقی خرابیوں کو دور کرنا ہے ۔ وزیر نے سیکرٹری کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی تقسیم اور ترسیل میں نجی شعبے کی شراکت بڑھانے کے لیے اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد پاکستانی عوام کو فراہم کی جانے والی سروسز کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

     وزیر نےکہا کہ پاکستان پنکھوں کی تبدیلی کا پروگرام شروع کر رہا ہے جس سے توانائی کی بچت ہوگی ۔سردار اویس لغاری نے موسمی پیداوار اور طلب کے فرق کو دور کرنے کے لیے امریکی تکنیکی مدد کی ضرورت کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پاور سیکٹر کے لیے زیادہ سازگار شرحوں پر بین الاقوامی فنانسنگ حاصل کرنے میں امریکی امداد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    امریکی معاون وزیر خزانہ نے پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات کے اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے پاور سیکٹر کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ کے 8 الیکشن ٹریبونلز کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کردی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کر دی، دائر درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے برخلاف ہے ،الیکشن ٹربیونلز تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،اپیل کو کل سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 8 الیکشن ٹریبونلز تشکیل دینے کا فیصلہ دیا تھا،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے گزشتہ روز 8 ٹریبونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کئے تھے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 13 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہے،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے،نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے،جولائی میں تمام ٹیکسوں کا اطلاق کیا جائے گا، تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہئیے تھا،این ٹی این نمبر ہو گا تو بیرون ملک سفر ہو سکے گا،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا، 10 فیصد ٹیکس ٹوجی ڈپی کی شرح ناقابل برداشت ہے،تقریباََ 31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں،ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے،

    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس،پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں کا احتجاج
    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس، صحافیوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل احتجاج کیا،صحافیوں نے کھڑے ہو کر ظالمانہ ٹیکسز کیخلاف اپنا ٹوکن احتجاج ریکارڈ کروایا،صحافیوں کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھتیں، البتہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں۔دوران پریس کانفرنس سینیئر صحافی ثنا اللہ خان نے سوال کیا کہ آپ نے وزیراعظم ہاؤس، نیشنل اسمبلی، سینیٹ کا بجٹ بڑھا دیا، میڈیا میں لوگوں کو کیش تنخواہیں ملتی ہیں کیا ایف بی آر نے آج تک پوچھا؟ آپ باتیں کرتے ہیں سسٹم ٹھیک ہی نہیں کرنا چاہتے، اپنے اخراجات کم نہیں کرنا چاہتے، لوگوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں،

    اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،علی پرویز ملک
    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ جو راستہ شہباز شریف نے اختیار کیا وہ مشکل اور کٹھن ضرور ہے، حکومت کو کچھ وقت دیں، مقدس گائے وہ ہوتی ہے جو سسٹم سے باہر نکل کر آمدنی پیدا کررہی ہو اور ٹیکس نہ دے رہی ہو پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے جاتی، شہباز شریف 100 گنا ریلیف دینا چاہتے تھے، جب خسارہ بڑھتا ہے تو اس کے لیے آپ نوٹ چھاپیں یا قرض لے کر اگلی نسلوں پر بوجھ ڈالیں، تنخواہ دار طبقے میں امیر طبقہ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہا تھا،نان فائلرز کو وقت دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، ڈیجیٹائزیشن کے بعد نان فائلرز سے ٹیکس بھی لیا جائے گا اور پوچھا بھی جائے گا،مڈل کلاس پر ہم نے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا، ایک لاکھ روپے تنخواہ والے پر سب سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے ،جو بھی پاکستان کی خدمت کے لئے آگے آتے ہیں، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسکے خلوص،نیت پر شک کریں، ہمیں دل کو وسیع کر کے مسائل پر بات کرنی ہو گی، اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،مزدور کی پہلے32 ہزار تنخواہ تھی اب 37 ہزار ہوجائیگی،پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں،ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے پر 1200 روپت تک کا بوجھ بڑھاہے،

    وفاقی بجٹ، وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 روپے مختص
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 ارب روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لئے 5936 اور نئے منصوبوں کے لئے 14,315 ملین روپے مختص کر دیے،وفاقی حکومت نے آئندہ مالی بجٹ میں وزیراعظم ڈائرایکٹو کے تحت جموں کشمیر کے 16سو طلباء کے لئے 250 ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 میں پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کے لئے 3200ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وزیراعظم یوتھ سکل پروگرام کے لئے 4000ہزار ملین روپے مختص کر دیے

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی 141 جاری اور 19 نئی اسکیموں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 60,000 ملین روپے رکھے ہیں، بجٹ دستاویز کے مطابق جاری سکیموں کے لیے تقریباً 41,871.792 ملین روپے اور نئی سکیموں کے لیے 18,128.208 ملین روپے رکھے گئے ہیں،جاری سکیموں میں افغان طلباء کو علامہ محمد اقبال کے 3000 وظائف کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے اکیڈمک بلاک کی تعمیر کیلئے450 ملین روپے ، باچا خان یونیورسٹی، چارسدہ کی ترقی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کی ترقی کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے کیمپس کے قیام کے لیے 400 ملین روپے، کامیاب جوان اسپورٹس اکیڈمیز (ہائی پرفارمنس اینڈ ریسورس سینٹرز) اور یوتھ اولمپکس – ایچ ای سی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،بلتستان سکردو یونیورسٹی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں،فلبرائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام HEC-USAID (فیز-III) کے لیے 759 ملین روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے،ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی اوورسیز اسکالرشپس کیلئے3890 ملین روپے ، پاک-امریکہ نالج کوریڈور (فیز-I) کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے لیے 3000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئی اسکیموں میں وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام آف پاکستان نے وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 6000 ملین جبکہ نظر ثانی شدہ پروگرام کیلئے 10000 ملین روپے رکھے ہیں،اسی طرح وزیراعظم کے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے لیے 30 ملین روپے، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور انوویشن سینٹر کے قیام کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • قومی اسمبلی، بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش،بلاول شریک نہ ہوئے

    قومی اسمبلی، بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش،بلاول شریک نہ ہوئے

    اسلام آباد: اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے، اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا.

    پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، بلاول زرداری نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے بعد روانہ ہو گئے،اسحاق ڈار بلاول کو منانے گئے تا ہم بلاول نہ مانے،تاہم اسحاق ڈار خورشید شاہ اور نوید قمر کو ایوان میں لے آئے.وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں پہنچ گئے.تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی. اراکین نے عمران خان کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں،اور عمران خان کی رہائی کے لئے نعرے لگا رہے تھے،

    آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مئی میں مہنگائی کم ہو کر 12 فیصد تک آ گئی ، اشیائے خورونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں،آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے، درپیش چینلجز کے باوجود یہ معمولی کامیابی نہیں،

    پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،وزیر خزانہ
    اپوزیشن اراکین نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ دیں.قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے صرف چار اراکین شریک ہیں،سید غلام مصطفی شاہ، سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک ہیں،وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ معیشت بہتر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے ،ماضی میں ریاست پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ دالا گیا ، غیر ضروری ذمہ داریوں کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے ،ملک بحران کی صورتحال سے نکل چکا ہے، دیر پا ترقی کے سفر کا آغاز ہوچکا ہے پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،ہمیں ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے عوامی ریلیف پر توجہ دینا ہوگی،بہتر حکمت عملی کے تحت مہنگائی میں خاطر خواہ کمی ہوئی، بد قسمتی سے پاکستان ٹیکس نظام میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے، وزیر اعظم کی ہدایت ہے ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے،کفالت پروگرام کے تحت مستفید افراد کی تعداد ایک کروڑ کی جائے گی آبی وسائل کیلئے 206 ارب مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں آئی ٹی پارک کیلئے 8 ارب روپے فراہم کریں گے ،حکومتی آمدن کو بڑھائیں گے اور اخراجات میں کمی کرینگے ،پی آئی ایس پی میں مزید 5 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا ،بجلی چوری کی روک تھام سے 50 ارب روپے کی بچت ہوگی، پی آئی اے کی نجکاری کو تیز تر بنایا جائے گا،

    ماہانہ اجرت 36 ہزار، دفاع کیلئے2 ہزار 122 ارب مختص،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ
    کم از کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کردی آئندہ مالی سال مہنگائی میں اضافے کی شرح کا ہدف 12 فیصد رکھا گیا ،9 ہزار 775 ارب روپے سود کی ادائیگی ہوگی ،دفاع کیلئے 2 ہزار 122 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،وفاق کے مجموعی اخراجات 18 ہزار 270 ارب روپے ہوں گے ،پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 1500 ارب رکھے ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 839 ارب روپے رکھے ہیں ،آزاد کشمیر ، جی بی، ضم اضلاع اور دیگر کیلئے 1777 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،الیکٹرانک بائیکس کیلئے 4 ارب ، انواٹر پنکھوں کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گے ہیں،50 ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نئے پلاٹوں،رہائشی اور کمرشل پراپرٹی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے،فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے ،فائلرز کیلئے شرح 15 فیصد اور نان فائلرز کیلئے 45 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے.

    توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ 9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،جامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپے،
    آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے ،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے ، چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے ،بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے ،کراچی میں آئی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے ،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے،

    نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،بجٹ دستاویزات
    موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے،ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات مہنگی ہوں گی ،سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا،تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سگریٹ فلٹر میں استعمال ہونے خام مال پر چوالیس ہزار روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگے گی،ٹیکس سٹیمپ کے بغیر سگریٹ بیچنے والے ریٹیلز پر سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی،

    پنشن اخراجات کیلئے 1014 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،سولر پینل، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال خام مال کی درآمد پر رعایت دینے کی تجویز دی گئی،آئرن اور سٹیل سکریپ پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ کی تجویز دی گئی،گریڈ ایک یا 16 تک تمام خالی اسامیاں ختم کرنے کی تجویز 45 ارب روپے سالانہ بچت ہوگی

    مالی سال 25-2024 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے. افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا، ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے.وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,877 ارب روپے ہے، صوبوں کا حصہ سات ہزار چار سو اڑ تیسں (7.438) ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف تین ہزار پانچ سوستاسی (3,587) ارب روپے ہو گا.وفاقی حکومت کی خالص آمدنی نو ہزار ایک سو انیس (9,119) ارب روپے ہو گی،

    بجٹ اجلاس، نواز شریف، بلاول، مولانا فضل الرحمان،اختر مینگل شریک نہ ہوئے
    بجٹ اجلاس سے اہم ترین سیاستدان اور سینئر ارکان غائب رہے،بجٹ اجلاس سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف غیر حاضر رہے، بلاول بھٹو زرداری بھی بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہوئے ،بی این پی مینگل کے سربراہ اختر جان مینگل بھی بجٹ اجلاس سے لا تعلق، شریک نہ ہوئے ،سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کیلئے نہ آئے

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کیلئے 18 ہزار ارب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کرے گی

    وزارت خزانہ نے بجٹ تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے، وفاقی کابینہ بجٹ کی حتمی منظوری دے گی جس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سالانہ وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے، اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے موقع پر ہنگامہ آرائی کا امکان ہے.

    مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب آج اپنا پہلا بجٹ پیش کریں گے،بجٹ میں‌نئے مالی سال کیلئے ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 12 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے اور وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 3.792 ٹریلین روپے رکھنے کا امکان ہے جس سے مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں اضافہ ممکن ہو سکے گا جو جاری مالی سال کے دوران 2.4 فیصد رہا،نئے مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف 3.6 فیصد سے زائد جبکہ وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1221 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 12 ہزار970 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ قرض اور سود ادائیگیوں پر 9 ہزار 700 ارب روپے تک خرچ کئے جانے کا تخمینہ ہے،وفاقی بجٹ کا خسارہ ساڑھے 9 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا تخمینہ ہے، بجٹ میں وفاق کی آمدن کا تخمینہ 15 ہزار 424 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے،وفاقی بجٹ میں ٹیکس آمدن کا تخمینہ 13 ہزار 320 ارب روپےلگایاگیاہے، براہ راست ٹیکسوں کا حجم 5 ہزار 291 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جبکہ نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 2103 ارب روپے لگایا گیا ہے ، آئندہ مالی سال مرکزی بینک کے منافع کی مد میں 11 سو ارب ‏روپے اکٹھے ہونےکا تخمینہ ہے جبکہ آئندہ برس مجموعی اخراجات کا تخمینہ 24 ہزار 710 ارب روپے لگایا گیا ہے اور جاری اخراجات کے لئے 22 ہزار 37 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،بجٹ میں دفاع کے لئے 1252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صوبائی و وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 3 ہزار595 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

    آئندہ بجٹ میں سبسڈی کا حجم ایک ہزار 509 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 7 ہزار ارب روپے جاری کیے جائیں گے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن بل کا تخمینہ 960 ارب تک ہونے کا امکان ہے جبکہ بی آئی ایس پی کو 593 ارب روپے کا بجٹ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    حکومت کاغیر منقولہ جائیداد اور شیئرز پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ
    آئندہ بجٹ میں جائیداد کے خریدنے پر ایڈوانس ٹیکس 3 سلیب میں لینے کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ فائلر کو 5 کروڑ کی جائیداد خریدنے پر 3 فیصد ٹیکس لگانے کا امکان ہے،مالی سال 25-2024 ٹیکس تجاویز میں جائیداد خریدنے پر ایڈوانس 3 سلیب میں ٹیکس لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے،بجٹ میں پانچ سے 10کروڑ کی جائیداد پر 4 فیصد ٹیکس جبکہ نان فائلر کی ٹیکس کی شرح 12 فیصد طے کرنے کا امکان ہے، 10کروڑ سے زائد کی جائیداد پر 5 فیصد ٹیکس جبکہ نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح 15فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔حکومت نےغیر منقولہ جائیداد اور شیئرز پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے،غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز ،شیئرز کی فروخت پر نان فائلر 35 اور فائلرکےلیے 15 فیصد تک ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے.

    تنخواہ دار طبقے کے لیے5ٹیکس سلیب متعارف
    حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے5ٹیکس سلیب متعارف کروا دیئے،6لاکھ تک سالانہ انکم والوں کے لیے چھوٹ برقرار رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے،6سے 12 لاکھ روپے والوں کے لیے ٹیکس بڑھا کر 2500 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،12لاکھ سے 22 لاکھ سالانہ تنخواہ دار کے لیے ٹیکس ریٹ 15 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے،22سے 32 لاکھ تنخواہ لینے والوں کے لیے 35 ہزار 8 سو 34 روپے ماہانہ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،32سے 41 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کے لیے ماہانہ 58 ہزار سے زائد ٹیکس مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،14لا کھ سے اُوپر تنخواہ لینے والوں پر 35 فیصد ٹیکس مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے

    نکوٹین پاؤچ اور ای سگریٹ پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی گئی ہے،ای سگریٹ پر ایف ای ڈی ریٹ در آمدی ڈیوٹی کے مطابق لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے،نکوٹین پاؤچ پر ایف ای ڈی 2 ہزار روپے فی کلو گرام کرنے کی تجویز دی گئی ہے، نشہ آوور ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،

    موبائل فون کے ایس کے ڈی اور کٹس پر 18 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،850سی سی گاڑی پر 25 ہزار روپےود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،850سے 1000 سی سی گاڑیوں پر 40 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،1000سی سی 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 67500 روپے ٹیکس، 1300سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ایک لاکھ 20ہزار روپےٹیکس،18000سے 2000سی سی گاڑیوں پر4 لاکھ 50 ہزار ٹیکس،2000سے 2500 سی سی گاڑیوں پر 8 لاکھ 75 ہزار روپے ٹیکس،2500سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 13 لاکھ 50 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے.

    آئندہ مالی سال کیلئے پاور سیکٹر کے 19 منصوبے مکمل ہونے کا تخمینہ
    مکمل ہونے والے منصوبوں سے ایک ہزار 962 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی. بجٹ دستاویزات کے مطابق 660میگاواٹ صلاحیت کاجامشورو پاور پراجیکٹ جولائی میں مکمل ہوگا،221میگاواٹ کا سکی کناری پاور پروجیکٹ یونٹ ون جولائی میں مکمل ہوگا ،221میگاواٹ کا سکی کناری یونٹ ٹو بھی اگست 24 میں مکمل ہوگا،221میگاواٹ کا سکی کناری یونٹ 3 ستمبر 2024 میں مکمل ہوگا ،221میگاواٹ یونٹ 4 سکی کناری منصوبہ اکتوبر 24 میں مکمل ہوگا،بہاولپور میں 110 میگاواٹ سولر پراجیکٹ اکتوبر 24 میں مکمل ہوگا،بجٹ دستاویز
    لوئرچترال میں 69 میگاواٹ کا پن بجلی منصوبہ جنوری 2025 میں مکمل ہوگا،جون 2025 تک بجلی کی پیداوار میں ایک ہزار 962 میگاواٹ اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،جون 2025 تک بجلی کی پیداواری صلاحیت کو 43 ہزار 310 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،جون 2025 تک سولر سے بجلی کی پیداوار 782 میگاواٹ ہو جائے گی،آئندہ سال ہوا سے بجلی کی پیداوار 1 ہزار 845 میگاواٹ ہو جائے گی، آئندہ سال پانی سے بجلی کی پیداوار 11 ہزار 820 میگاواٹ ہو جائے گی، آئندہ سال ایل این جی سے بجلی کی پیداواری صلاحیت 8 ہزار 125 میگاواٹ ہو جائے گی

    ایوی ایشن ڈویژن کیلئے7ارب 25 کروڑروپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ
    دفاعی ترقیاتی بجٹ میں66 فیصد کااضافہ کیاگیا ،دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال دفاعی پیداوارکے ترقیاتی بجٹ میں89 فیصدکا اضافہ کیا گیا،آئندہ مالی سال دفاع کا ترقیاتی بجٹ 5 ارب63کروڑ60لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں،رواں مالی سال دفاع کا ترقیاتی بجٹ 3ارب 40 کروڑ روپے رکھا گیا تھادفاعی پیداوارکا ترقیاتی بجٹ 3ارب77 کروڑ60 لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے،رواں مالی سال کیلئے دفاعی پیداوارکاترقیاتی بجٹ 2ارب روپے مختص کیا گیاتھا،ایوی ایشن ڈویژن کیلئے7ارب 25 کروڑروپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ ،ایوی ایشن ڈویژن کے11جاری منصوبوں کیلئے 4 ارب روپےسے زائد،ایوی ایشن ڈویژن کے2 نئے منصوبوں کیلئے3ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے.نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 3 ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویزکیا گیا ہے،آئندہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 3 ارب 70کروڑڈالرمقررکیا گیا ہے،تجارتی خسارے کا ہدف 24 ارب 94 کروڑڈالرمقرر کیا گیا ہے،آئندہ مالی سال ملکی برآمدات کا ہدف 32 ارب 34 کروڑ ڈالرمقررکیا گیا ہے،درآمدات کا ہدف 57 ارب 27 کروڑ ڈالر مقررکیا گیا ہے،ترسیلات زر کا ہدف 30 ارب 27 کروڑ ڈالر مقررکیا گیا ہے.

    تنخواہوں میں 25 فیصد، پنشن میں 15 فیصد اضافہ کی وزیراعظم نے دی منظوری
    وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی،گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،گریڈ 17 سے 20 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،گریڈ 21 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی

    بجٹ اجلاس، سنی اتحاد کونسل نے حکمت عملی طے کر لی
    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل نے بجٹ25-2024 کے اجلاس کیلئے حکمت عملی طےکر لی ہے،پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں آج ہونے والے بجٹ اجلاس کیلئے حکمت عملی طے کی گئی،باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران شورشرابا کیا جائے گا، عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی جائے گی.بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بجٹ جب پیش ہو گا تو یقینی طور پر ہم اس پر بات کریں گے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن آئی ایم ایف کو الزام دے گی اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن پر الزام عائد کرے گی، آج پیش ہونے والا بجٹ ایک بلیم گیم ہے، اس بجٹ میں عوام کے لیےکچھ نہیں ہو گا،

    حکومت نے شعبہ زراعت اورکاشتکار کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک روا رکھا ہواہے.سردارظفرحسین خاں
    کسان بورڈپاکستان کے مرکزی صدرسردارظفرحسین خاں نے کہاہے کہ حکومت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اقتصادی سروے 2023-24 کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران گندم پیداوار 3کروڑ14 لاکھ ٹن رہی جبکہ19سال میں پہلی مرتبہ کپاس کی پیداوار میں 108فیصد کا اضافہ ہوا، ایک کروڑ دو لاکھ گانٹھ روئی پیدا ہوئی۔ چاول کی پیداوار34 فیصد بڑھی، چاول کی پیداوار95 لاکھ70 ہزار ٹن رہی،اس کے باوجود حکومت نے شعبہ زراعت اورکاشتکار کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک روا رکھا ہواہے۔حکومت کے گندم نہ خریدنے کے فیصلہ سے کسان کو30 ہزارروپے سے زائد فی ایکڑ نقصان اٹھانا پڑا جس سے اگلی فصلوں کی کاشت پر منفی اثر پڑے گا اور آئندہ زراعت کا شعبہ بھی ترقی نہیں کر سکے گا۔۔انہوں نے کہاکہ ملک کی70 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہونے کے باوجود حکومت زراعت کی ترقی کے لیے کسانوں کو سہولیات دینے کی بجائے انہیں زندہ درگور کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ افسر شاہی کی غلط پالیسیوں اور کمیشن مافیا کی ملی بھگت کے باعث آج کسان در بدر ہے۔ حکومت نے اپنے ملک کے کسانوں سے گندم خریدنے کی بجائے ایک ارب ڈالر کی گندم باہر سے امپورٹ کر لی اور اپنے کسانوں کو900 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ فصلوں کی بہتر پیداوار کے لئے جدید اور معیاری پیچ ستے نرخوں پرفراہم کئے جائیں، ملاوٹی کھادوں، جعلی ادویات اور جعلی بیچ فروخت کرنے والے ڈیلروں کو عمر قیدکی سزائیں دی جائیں،ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کیلئے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے، زرعی اور زرخیز زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی عائد کی جائے،زرعی اجناس کی پیدواری لاگت کم کرنے کے لیے زرعی ان پٹس جن میں کھاد اور زرعی ادویات شامل ہیں پر سبسڈی دی جائے،بجلی، گیس اور ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کی جائے۔

  • سپریم کورٹ کامونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کامونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت کی، سی ڈی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی جو عدالت نے مسترد کر دی عدالت نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارک میں قائم ریسٹورنٹس 3ماہ میں مکمل ختم کیے جائیں۔نیشنل پارک سے باہر کہیں بھی لیز مقصود ہو تو متاثرہ ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے،نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ ہمیں بتائیں کب تک ریسٹورنٹ منتقل کرسکتے ہیں ؟ آپ رضاکارانہ طورپرمنتقل نہیں کریں گے تو ہم سیل کرنے کا حکم دے دیں گے۔وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہمیں چار ماہ کا وقت دیدیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 3ماہ کا وقت دے رہے ہیں ، ہمارامقصد نیشنل پارک کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ نیشنل پارک کے علاوہ قائم دیگرتمام ریسٹورنٹس کوجاری غیرضروری نوٹس ختم کرتے ہیں،ہمارے کیس کا فوکس صرف نیشنل پارک کی حد تک ہے۔

    مالک مونال ریسٹورنٹ لقمان افضل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری میں اس فیصلے سے مثبت تاثر نہیں جائیگا، لوگ کہیں گے پاکستان میں سرمایہ کاروں کےساتھ یہ سلوک ہوتا ہے۔جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین و قانون کو دیکھ کر نیشنل پارک کا تحفظ یقینی بنانا ہے، پوری دنیا میں دیکھ لیں کہیں بھی نیشنل پارک میں ریسٹورنٹ موجود نہیں۔لقمان افضل نے کہا کہ پوری دنیا کے نیشنل پارکس میں ریسٹورنٹ موجود ہیں ، ڈیٹا منگوا کر دیکھ لیں، اس ریسٹورنٹ سے تربیت یافتہ 400 تک لوگ سالانہ بیرون ممالک روزگارکیلئے جاتے ہیں۔

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ