Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کس قانون کے تحت ہڑتال کرتی ہیں؟ جواب طلب

    بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کس قانون کے تحت ہڑتال کرتی ہیں؟ جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ہڑتال کے باعث وکلاء کو کمرہِ عدالت میں داخلے سے روکنے پر عدم پیروی پر کیس خارج ہونے کا معاملہ ،وکلاء کو کیسز کی پیروی سے روکنے پر ایڈووکیٹ نعیم بخاری کی درخواست پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا فیصلہ کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکلاء تنظیموں سے دو سوالات پر 5 جولائی کو دلائل طلب کر لیے ،بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کس قانون کے تحت ہڑتال کرتی ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا فیصلہ
    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز وکلاء کو زبردستی عدالتوں میں جانے سے روک سکتی ہیں؟ وکلا کو عدالت داخلے سے روکنے پر رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی گئی، جسٹس بابر ستار نے رجسٹرار سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی شکایت آئی تھی؟ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ نہیں، ہمارے پاس کوئی ایسی شکایت نہیں آئی، ویڈیو موجود ہے لیکن شور کی وجہ سے آڈیو موجود نہیں کہ وکلاء کیا بول رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ توہین عدالت کا کیس ہے آڈیو کا اس سے کیا تعلق؟ یہ کیا رپورٹ ہے آپ کی، جسٹس بابر ستار نے ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار نے آپ کی رپورٹ پر ہی انحصار کیا ہے، ڈپٹی رجسٹرار سیکورٹی نے عدالت میں کہا کہ وہ میری رپورٹ نہیں ہے پولیس کی رپورٹ ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہائیکورٹ کی سکیورٹی کی جواب دہ اسلام آباد پولیس ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار نے کہا کہ جی بالکل، ہائیکورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کی ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کیا مطلب اگر ہائیکورٹ میں دروازے بند ہوں تو آئی جی کو کہیں گے؟آپ اپنا وکیل کریں، میں آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کروں گا،

    یہ تاثر غلط ہے کہ ہم بندے لے کر آئے اور عدالت پر اثر انداز ہوئے، حسن رضا پاشا
    پاکستان بار کونسل کے ممبر حسن رضا پاشا بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ عدالت میں درخواستیں آئی ہیں کہ وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہو سکے، اسلام آباد میں موجود وکلاء کی تنظیموں کو نوٹس اس لیے کیا تھا کہ وہ عدالت کی معاونت کریں، عدالت میں وکلاء کی تعداد زیادہ ہونے پر جسٹس بابر ستار نے وکلاء رہنماؤں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کم لوگ ہیں اگلی بار اس سے زیادہ لے آئیے گا، حسن رضا پاشا نے کہا کہ جناب غصے میں آ گئے ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں غصے میں نہیں آیا آپ اپنا کنڈکٹ تو دیکھیں، بار کونسل سے معاونت مانگی تھی کہ جب زور زبردستی کی ہڑتال ہوتی ہے تو بار کونسل کا کیا کردار ہوتا ہے؟ حسن رضا پاشا نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم بندے لے کر آئے اور عدالت پر اثر انداز ہوئے، ہمیں اس سے تکلیف ہوئی ہے،یہ تاثر دیا گیا کہ ہم ڈنڈے سوٹے لے کر کھڑے رہے اور وکلاء کو ہڑتال پر مجبور کیا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ اپنا جواب جمع کروائیں اور جو کہنا چاہتے ہیں لکھ دیں، وکلا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ پھر ایک کام کریں ہائیکورٹ بار صدر ریاست علی آزاد کو جیل بھیج دیں، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست علی آزاد صاحب ہمارے صدر ہیں، لیڈر ہیں،

    علیم عباسی سابق وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عدالت میں پیش ہوئے، اور کہا کہ وکلاء کی ہڑتال کا معاملہ جب آتا ہے تو وکلاء پیش نہیں ہوتے، بار ایسوسی ایشن درخواست کرتی ہے کہ وکلاء پیش نہ ہوں اور وہ پیش نہیں ہوتے،ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ زور زبردستی ہو یہ ایک معمول کا معاملہ ہوتا ہے، عدالت نے پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل اور بار نمائندوں کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 5 جولائی تک ملتوی کر دی.

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو بجلی کی ننگی تاروں پر لٹکا دیا ہے ، جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ تو اپنے کیس ختم کروانے آئے تھے، اور وہ کر رہے ہیں، ایک لاکھ 68ہزار میرا بجلی کا بل آیا ہے، غریب عوام کہاں جائے ، کھانے کو روٹی نہیں اور بلوں کی بھرمار ہے،اگلے ماہ کے آخر تک نوازشریف بھی اپنا بیانیہ بدل لیں گے، جب چور چوکیدار بن جائیں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، حکومت بتائے کسی ملک نے ان کو اب تک 5 ڈالر بھی دیئے ہیں، میری مارکیٹ کے 18 دکاندار دکانیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اصل مذاکرات فوج کیساتھ کئے جائیں اور درمیانی راستہ نکالاجائے، چور، ڈاکو، لٹیرے، ناکام، نااہل بجٹ پیش کرنے والی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے بعد کے پی اور بلوچستان میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں، امریکی کانگریس کے 368 ارکان فارم 47 والے نہیں ہیں، قوم چین کے وزیر کی اسلام آباد میں تقریر پر بھی غور کرے۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد ہوئی، شیخ رشید احمد نے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی وصول کی۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے بلاول بھٹو سے متعلق نازیبا گفتگو پر شیخ رشید احمد کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیاتھا.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا،عدالت نے کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور محکمہ داخلہ پنجاب کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    14 مئی 2024 کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے سال 2022 میں اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے سابق وفاقی وزیر شیری مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈرز گرفتار

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے تھے کہ جب کسی کی گرفتاری غلط ڈیکلئیر ہو جائے تو اس دوران جو ہوا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں اسلام آباد سے ہمارے دائرہ اختیار کے اندر گرفتاری درست ہوئی یا نہیں، اگر کسی دوسر ے صوبے سے گرفتاری چاہیے ہوگی تو کیا باہر سے کوئی آکر اٹھا کر لے جائے گا؟ ایسے منہ اٹھا کر کوئی دوسرے صوبے میں جا کر کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟

    واضح رہے کہ 21 مئی 2022 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو اسلام آباد سے ’گرفتار‘ کرلیا گیا تھا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے تصدیق کی تھی کہ شیریں مزاری کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

  • چیئرمین سینیٹ  سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔آسٹریلین ہائی کمشنر نے سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین بہترین تعلقات قائم ہیں۔دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی وفود کے تبادلوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون میں اضافے اور خاص طور پرتعلیم کے شعبے میں تعاون کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانی ومالی قربانیاں دی ہیں۔پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے اہم فورمز کا حصہ رہاہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں پناہ دی اور ان کی تعلیم اور بہتر معیار زندگی کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    آسٹریلین ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اور افغان پناہ گزینوں کے لئے بہت کام کیا ہے۔ پاکستان سے 8 ہزار افغان پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لئے آسٹریلیا میں اہتمام کریں گے۔
    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موسمی تغیرات کے حوالے سے دنیا بھر کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ موسمی تغیرات سے متاثرہ مماک کی صف میں پاکستان اولین مماک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لئے بہتر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔گلوبل وارمنگ اور موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لئے ہمیں اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانا ہو گی۔ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے بین الاقوامی معاہدات پرہم سب کو عمل پیرا ہو نا ہوگا۔ سید یوسف رضا گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک ادارہ جاتی میکنزم موجود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس میکنزم کو مزید موثر بنایاجائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ممالک زراعت،لائیوسٹاک، تعلیم، کان کنی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر معاشی خوشحالی لا سکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آسٹریلیا میں پاکستانی طلبا وطالبات حصول تعلیم کے لئے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ آسٹریلیا پاکستانی طالبعلموں کے لئے زیادہ سے زیادہ تعلیمی وظائف کا اہتمام کرے۔

    آسٹریلین ہائی کمشنر نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ آسٹریلیامیں موجود پاکستانی کمیونٹی آسٹریلیا کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے.

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

  • جب پاکستان کی بات آئے تب سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے.اسحاق ڈار

    جب پاکستان کی بات آئے تب سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے.اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے.سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ آئین کے مطابق اپنا کام کرتی ہے.وفاقی کابینہ میں بھی بجٹ کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے.سینیٹ سے کوئی اچھی تجاویز ہیں تو ان کو لینا چاہئے

    قبل ازیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے باہمی احترام کی بنیاد پر پرامن تعلقات چاہتے ہیں مگر پاکستان بھارتی بالادستی کے قیام کی یک طرفہ کوششوں کو قبول نہیں کرے گا، بھارت پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں ملوث ہے، ہم بھارت سے کشمیر سمیت تمام دیرینہ مسائل پر بات چیت کے خواہاں ہیں، بھارت کی ذمہ داری ہے وہ تمام مسائل پر با مقصد و نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنائے، صرف ایک رکن ملک کی وجہ سے سارک جیسا کارآمد پلیٹ فارم منجمد ہے،

    عالمی امن و استحکام میں پاکستان کو اپنے اہداف کو یقینی بنانا ہو گا،اسحاق ڈار
    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سی پیک کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک علاقائی خوشحالی اور پاک چین اقتصادی ٹرن آوٹ بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے، پاکستان میں چینی باشندوں کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے ، ایران، خلیجی ممالک، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک ہماری ترجیحات ہیں، ہم برطانیہ، روس اور یورپی یونین سے اچھے تعلقات کےلیے کوشاں ہیں، اپنی خارجہ پالیسی ایجنڈا کے لیے وسائل کا ہر اونس استعمال کررہے ہیں،چینی وفد پاکستان میں سیاسی نبض دیکھنے آیا تھا، سیاسی استحکام پاکستان کےلیے بہت ضروری ہے، بدقسمتی سے ملکی عدم استحکام نے سب کچھ تباہ کردیا، عالمی امن و استحکام میں پاکستان کو اپنے اہداف کو یقینی بنانا ہو گا، لوگ کہتے تھے پاکستان سفارتی سطح پر تنہا ہو چکا ہے مگر یو این سلامتی کونسل کے انتخابات نے ثابت کیا پاکستان واپس آ چکا ہے، ہماری جماعت نے اقتصادی صورتحال بہتر بنائی اور ملک نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کیا، ڈیفالٹ،اکنامک ڈیٹ اور پروپیگنڈا جیسی فضول باتوں کو اب رکنا چاہیے، جب پاکستان کی بات آئے تب سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے.

    عدم مساوات، عالمی دہشتگردی اور بین الاقوامی جرائم کا مقابلہ کوئی ملک اکیلے نہیں کرسکتا،اسحاق ڈار
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سیاست میں ایک دور ختم ہو رہا ہے تو نیا دور شروع ہو رہا ہے، دنیا میں ملٹی پولیرٹی کا تصور ابھر رہا ہے،غزہ میں بچوں اور عورتوں کی نسل کشی جاری ہے، مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے، اسلامو فوبیا کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کا بڑا چیلنج دنیا کو درپیش ہے، عالمی تعاون اور یکجہتی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، عالمی طاقتوں میں مخاصمت دنیا میں چیلنجز کو بڑھا رہی ہے، نئی سرد جنگ کا خوف دنیا کو ڈرا رہا ہے، پاکستان ایک تزویراتی جگہ پر موجود ہے، پاکستان قدرتی طور پر عالمی تزویراتی ماحول سے متاثر ہو رہا ہے، عالمی سیاست و تاریخ کے تناظر میں پاکستان کو احتیاط سے قدم اٹھانے ہیں، عدم مساوات، عالمی دہشتگردی اور بین الاقوامی جرائم کا مقابلہ کوئی ملک اکیلے نہیں کرسکتا۔

    ریاست کیخلاف اٹھنے والوں سے کوئی بات چیت نہیں، اسحاق ڈار

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے۔جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا آپ لائیو کال کو مانیٹر کر سکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 2013ء میں نئی پالیسی آئی، وزارت داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ضرورت پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں.

    جسٹس بابر ستارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارت داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ ان میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کے کام کرنے کیا میکانزم ہے؟

    پی ٹی وی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے،پی ٹی اے کے پاس فون ٹیپنگ کے اختیارات نہیں،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ سرویلنس سے متعلق بنائے گئی پالیسی کی کیبنٹ میٹنگ کی منظوری کے منٹسس اگلی سماعت پر پیش کریں۔

    کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا،جسٹس بابر ستار
    جسٹس بابر ستار نے پولیس کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کسی کے گھر بغیر وارنٹ جا سکتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا پولیس بھی کسی کی سرویلنس نہیں کرتی، جو سڑکوں پر کیمرا لگے ہیں وہ بھی خلاف قانون ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا بالکل ایسا ہی ہے آپ اس کا ڈیٹا نہیں لے سکتے، اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، پولیس وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں

    میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے،جسٹس بابر ستار
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت ان چیمبر کرلیں،جس پر جسٹس بابر ستار نےکہا کہ قانون بنا ہے یا نہیں اس کا ان چیمبر سماعت سے کیا تعلق ہے، یہاں ججز کے چیمبرز ٹیپ ہورہے ہیں، آپ کی بات میں نے سن لی یہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ نہِیں ہے،آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

    جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا اور کہا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

    پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پرلانے کی ہدایت
    وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے استفسار کیا کہ کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے،وکیل ٹیلی کام کمپنی نے عدالت میں کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی توسیع کر دی ہے،دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی قابلِ تجدید شمسی توانائی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے،معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے ہیں،اللہ کے فضل وکرم سے ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے،چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے،اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا،عام آدمی کے معاشی تحفظ اور اُسے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے

    عزم استحکام کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات، گٹھ جوڑ اور انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے،وزیراعظم
    کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے وژن عزم استحکام کے حوالے سے گردش کررہی غلط فہمیوں اورقیاس آرائیوں کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا۔اور کہا کہ عزم استحکام ایک کثیر جہتی، مختلف سیکورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے، اس مقصد کے لیے کسی نئے و منظم مسلح آپریشن کی بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا،بڑے پیمانے پر مسلح آپریشن جس کے نتیجے میں نقل مکانی کی ضرورت ہو،وژن عزم استحکام کے تحت ایسے کسی آپریشن کی شروعات محض غلط فہمی ہےعزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پر تشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے

    پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی،کابینہ کو بریفنگ
    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ بجٹ 2024-25بحث کے دوران وزراء پارلیمان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں .اجلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں. پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی. وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی.

    ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت
    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت دے دی۔ یہ خصوصی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کی سفارش پر وزارت مذہبی امور، حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اسلامی امور، دعوت و رہنمائی سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی حکومت نے ریاستی اور سرحدی علاقوں کی ڈویژن کی سفارش پر اور سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بہاولپور کے امیر(مرحوم) کی غیر منقولہ جائیداد کے لیے قائم عمل درآمد کمیٹی کی مدت میں مارچ 2025 تک توسیع دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (FAB)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    چینی کی قیمت پر نظر رکھنے کے لئے کابینہ کمیٹی بنانے کی ہدایت
    وفاقی کابینہ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی برآمد کے فیصلے کے بارے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اس حوالے سے شوگر ایڈوائزی بورڈ و متعلقہ اداروں نے آئندہ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے کی کھپت اور اضافی چینی کے ذخائر کا تخمینہ لگا کر باقی ماندہ میں سے قلیل مقدار میں چینی کی برآمد کی منظوری دی ہے. وزیرِ اعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو چینی کی قیمت پر نظر رکھے گی اور اگر چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا اندیشہ ہوا تو اسکی مزید برآمد کو روک دیا جائے گا.

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کی تیار کی گئی قومی اقتصادی کونسل (NEC) کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2022-23 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز(Cabinet Committee on Legislative Cases)کے11جون 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارےCabinet Committee on State Own ed Enterprises (CCoSOEs) کے20 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی،رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ برائے سال 2024-25 پر عام بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی،حکومت بننے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا جس کے تحت چاروں صوبوں کی پی ایس ڈی پی میں ہم سے مشاورت لے کر بنانی چاہیئے تھی۔ مگر افسوس کے ساتھ حکومت نے اس شرط پر عمل نہیں کیا اگر اس شرط پر عمل ہوتا تو بہتر نتائج سامنے آتے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اورنج ٹرین کا مقابلہ کرنا ہے یا دیگر تو اپنے وسائل سے کیسے منصوبے لے کر آسکتے ہیں ؟پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ جو بینظیر نے شروع کی تھی،اسی کو ہم آگے رکھیں، تھرکول کا کامیاب منصوبہ ہویا روڈ ز ،انفراسٹرکچر کا،یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ہی کامیاب ہوتے ہیں، اگر صوبے ہدف حاصل نہیں کرتے تو اپنے بجٹ سے ہدف پورا کریں گے، سر پلس سیلز ٹیکس کی صورت میں صوبے اضافی ریونیو اپنے پاس رکھیں گے، امید ہے کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوگی، حکومت اب تک مہنگائی کو قدرے کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر اپوزیشن نشانے پر تھی، ہم پاکستان کے بنیادی مسئلے کا دفاع کرنے کے لیے ایک ہوئے، اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی سازش کی گئی،ہمارا سیاسی فلسفہ پروگریسو ٹیکسیشن میں یقین رکھتا ہے، ہم عام آدمی کو محصولات کی مد میں ریلیف دینے میں اب تک ناکام رہے ہیں، ہر بجٹ بلاواسطہ ٹیکسیشن پر زور دیتا ہے

    نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے،نیب کو ختم کرنا ہو گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاست آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کو نیب قانون سے استثنیٰ دیا جائے جبکہ ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو بھی نیب سے استثنیٰ دیا گیا ہے ، ہمیں نیب ختم کرنا ہےاور بیوروکریسی کو طاقتور بنانا ہے۔ہمارے منشور میں ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے،نیب کے خاتمے سے معیشت کو بھی فائدہ ہوگا،پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہا ہوں نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،بزنس مین ڈرپوک ہوتا ہے وہ پیسہ انوسٹ کرتا ہے تو اسے نیب گھیر لیتا ہے یہ معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے . دودھ پہ اٹھارہ فیصد ٹیکس لگانا کسی سیاستدان نہیں بلکہ بابو کا فیصلہ ہے ،سٹیشنری پہ ٹیکس لگانا بھی کسی بابو کا فیصلہ ہے اس قسم کے احمقانہ فیصلے واپس لیے جائیں حکومت کو یقین دلاتا ہوں ہم حکومت کے ساتھ ہوں گے

    عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں عوام کے مسائل کیا ہیں عوام کے مسائل حل کریں گے عوام کو مسائل سے نکالیں گے عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا، چارٹر آف اکانومی معیشت کی ترقی کا پہلا قدم ہوگا، اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے، نیشنل چارٹر آف اکانومی بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہوگا،وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی، اربوں کی سبسڈی کسانوں کودیں تومعاشی انقلاب آئےگا،

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،شیخ رشید پر درج مقدمے خارج

    بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،شیخ رشید پر درج مقدمے خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف سندھ اور بلوچستان کے تھانوں میں درج مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کے کیس میں شیخ رشید کی اخراج مقدمہ کی درخواست منظور کر لی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ فیصلہ سنا یا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیخ رشید کے خلاف تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج کر دیئے ہیں، عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    واضح رہے کہ شیخ رشید پر بلاول بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    چالیس دن تو کیا چالیس سال بھی چلہ پر رہتا تو عمران بشریٰ پر الزام نہ لگاتا،شیخ رشید
    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبر ایک ہے ،مردے تین ہیں،فیصلہ ہو جائے گا کہ قبر میں کون کون جائے گا،30اگست سے پہلے فیصلہ ہوجائے گا۔کھسرے بڑی طاقت بن کر اُبھرے ہیں۔ اب مانگتے نہیں لوگ خود ڈر کر پیسے دے دیتے۔قبرایک ہے مردے تین ہیں۔ یہ کوئی حکومت ہے کہ بندے نے احرام باندھا ہوا ہو اور وہ حج پر نہیں جا سکتا، اٹھانا یہاں ایک فیشن بند گیا ہے پاکستان میں خواجہ سرا مقبول ترین طاقت بن چکے ہیں، جس دکان پر جاتے ہیں وہ مانگتے نہیں بلکہ سو روپیہ انکو ملتا، شیخ رشید نے منیب فاروق کے انٹرویو کے متعلق کہا کہ مجھے کچھ نہیں معلوم تھا ، جو میں نے کہا وہی انہوں نے نشر کیا، میں چالیس دن تو کیا چالیس سال بھی چلہ پر رہتا تو عمران بشریٰ پر الزام نہ لگاتا، ان بھکاریوں‌کو سعودی عرب، یواے ای کہیں سے بھی خیرات نہیں ملی، صنم جاوید، یاسمین راشد کے لئے بھی راستہ کھلا ہے کہ ایک ہی کیس کئی جگہوں‌پر درج نہیں ہو سکتا، میں آئی ایل ایف کی تعریف کرتا ہوں ،کل اڈیالہ جیل میں کیسز ہیں چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں، آئی ایل ایف کو چاروں صوبائی ہیڈ کوارٹر کو استقبالیہ دوں گا، غریب ورکر کا کیس آئی ایل ایف کے سوا کسی نے نہیں لڑا، میں نے 27 انٹرویو دیئے، مفت بھی انٹرویو دیئے، چالیس روز کے چلے میں میری صحت متاثر ہوئی اب میں 30 اگست تک آرام کروں گا.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام، وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ اعلان کردہ وژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جارہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں نوگو ایریاز میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان کارروائیوں کےلیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ضرورت تھی، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی پاکستان میں منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے، بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہےجہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام پاکستان میں پائیدارامن واستحکام کےلیے ایک کثیر جہتی وژن ہے، عزم پاکستان مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے جس کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کےنفاذ میں نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے، قومی ایکشن پلان سیاسی میدان میں قومی اتفاق رائے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردوں کی باقیات، سہولت کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، عزم استحکام سے ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے گا، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے، تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ اس موضوع پر غیر ضروری بحث کو بھی ختم کرنا چاہیے۔

    سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے نہیں پاکستان کیلئے سٹینڈ لیں، وزیر دفاع
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کا موازنہ ضرب عضب ،راہ نجات اور ردالفساد سے کیا جارہا ہے لیکن ان آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی مگر مقاصد ایک ہی تھے اور یہ آپریشن بھی دہشتگردوں کے خلاف ہے جس کا آغاز کیا جائے گا، تین جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں، ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں، اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ضرور دور کریں گے، آپریشن پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، آپریشن کے سیاسی عزائم نہیں، مقصد دہشت گردی کی لہر ختم کرنا ہے، آپریشن کا فوکس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو گا

    تحریک انصاف دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا، صوبوں کو مالی مدد کرنا ہو گی، عدلیہ نے قومی سلامتی کی کوشش میں سپورٹ نہ کیا تو آپریشن مؤثر نہیں رہے گا، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا تھا وزیرِ اعظم کے کہنے پر قدم اٹھا رہے ہیں، ماضی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس وقت اور آج کل صورتِ حال میں بہت فرق ہے، فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا، فاٹا کے علاقے نوگو ایریاز بن چکے تھے، آج ایسی صورتحال نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں بی ایل اے رات کے وقت کارروائی کرتے ہیں، سوات میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی تھی،پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی، اس اقدام سے تباہی آئی، امن نہیں آیا، امن پارہ پارہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کے حوالہ سے بیورو کریسی اور میڈیا کی حمایت کی بھی اشد ضرورت ہوگی، پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے، ہم نے دونوں جنگیں امریکی تحفظات کے لیے لڑیں، ردالفساد اور ضرب عضب کے بعد امن قائم ہوا تھا.

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی