Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس منیب اختر،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلوں میں آئینی تشریح کی قدرتی حدود سےمطابقت پر زور دیا گیا ہے، آرٹیکل 51 اور 106 سے 3 ضروری نکات بتانا ضروری ہیں، آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کی غلط تشریح دی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئین کو نظر انداز کیا۔

    آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل صدیقی سے کہا کہ الیکشن کمیشن یا آپ کیا سوچ رہے ہیں وہ چھوڑ دیں، الیکشن کمیشن بھی آئین پر انحصار کرے گا، الیکشن کمیشن آئین کی غلط تشریح بھی کر سکتا ہے، عدالت کسی کی طرف سے آئین کی تشریح پر انحصار نہیں کرتی، آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور فیصل صدیقی میں بلے کے نشان پر اہم بحث ہوئی، وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپ کے فیصلے کی جس لیول پر انٹرپٹیشن کی آپ دیکھئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا،وکیل نے کہا کہ اس ملک میں متاثرہ فریق کیلئے کوئی چوائس نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،صرف آئین پر رہیں،وکیل نے کہا کہ ایک رات پہلے انتخابی نشان لے لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا تو نہیں لیا، آپ تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں آپ کا نشان کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا ،گھوڑا

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی،بلے باز کے نشان سے متعلق وضاحت کروں گا کہ کیا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کیا ہوا، آپ فیکٹس پر ذرا فوکس کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان لئے جانے کے بعد معاملہ کنفیوژ ہوگیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل آسان ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین پر عمل نہ کرکے ملک کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کی آپ کی تشریح الگ ہے میری الگ ہے،

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ تمام امیدوار پی ٹی آئی کے تھے حقائق منافی ہیں، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے سرٹیفکیٹس جمع کروا کر واپس کیوں لیے گئے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ جنھوں نے الیکشن لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی انھیں کیوں مخصوص نشستیں دی جائیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ آپ کے دلائل سے تو آئین میں دیے گئے الفاظ ہی غیر موثر ہو جائیں گے، سنی اتحاد کونسل تو پولیٹیکل پارٹی ہی نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارٹی الیکشن نہیں لڑتی بلکہ امیدوار الیکشن لڑتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے دلائل مفادات کا ٹکراؤ ہیں، یا آپ سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کریں یا پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں، ہم نے صرف دیکھنا ہے آئین کیا کہتا ہے، ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا، نظریاتی میں گئے اور پھر سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے، آپ صرف سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملک میں ایسے عظیم ججز بھی گزرے ہیں جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا،صرف آئین پر رہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان چلے جانے کے بعد پولیٹیکل پارٹی نہیں رہی،لیکن پولیٹیکل ان لسٹڈ پولیٹیکل پارٹی تو ہے، الیکشن کمیشن نے ان لسٹڈ پارٹی تو قرار دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی، اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے،

    جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیا تو اپیل کیوں دائر نہیں کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ اس سوال کا جواب سلیمان اکرم راجہ دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رولز آئین کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کہا تھا 80 فیصد لوگ آزاد ہو جاتے ہیں تو کیا دس فیصد والی سیاسی جماعتوں کو ساری مخصوص نشستیں دے دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل آئین یہی کہتا ہے، کسی کی مرضی پر عمل نہیں ہو سکتا، اس ملک کی دھجیاں اسی لیے اڑائی گئیں کیونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا،میں نے حلف آئین کے تحت لیا ہے،پارلیمنٹ سے جاکر آئین میں ترمیم کرا لیں، ہمارے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے ہیں،امریکہ اور برطانیہ کے آئین کو صدیاں گزر چکی ہیں، جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ہماری انا کی بات ہو جائے گی،مشکل سے ملک پٹری پہ آتا ہے پھر کوئی آکر اڑا دیتا ہے،پھر کوئی بنیادی جمہوریت پسند بن جاتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت فورٹریس آف ڈکشنری نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن ملکوں کا آپ حوالہ دےرہے ان کے آئین کل نہیں بنے،پاکستان کے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے اور اس کا حال کیا کیا ہے، انگلستان میں لکھا ہوا آئین نہیں، تاریخ دیکھتے ہیں،

    جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، جو کچھ 2018 میں ہوا وہی ابھی ہوا، جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا،یہ باتیں سب کے علم میں ہیں، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ میں آپکی باتوں سے مکمل متفق ہوں،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کے صدر تھے، کیا انہوں نے انتخابات کی تاریخ دی ، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تھا جو انتخابات نہیں کروا سکا،ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوائی تھی،انتخابات ہم نے کروائے ، پی ٹی آئی نے تو لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن رکوانے کی کوشش کی ، کبھی کبھی سچ بول دیا کریں ، باہر جا کر بڑے بڑے شو کر کےجھوٹ نا بولا کریں، الیکشن ہم نے کروائے تھے، تحریک انصاف اور ان کے صدر عارف علوی اور عمران خان تو الیکشن روکنے پر لگے ہوئے تھے۔الیکشن کمیشن ایک عرصے سے تحریک انصاف کو پارٹی الیکشن کروانے کا کہہ رہا تھا لیکن پارٹی الیکشن نہیں کروائے،عمران خان بطور وزیراعظم بھی الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہورہے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا
    چیف جسٹس قاضی فائز جب 13 جنوری بلے کے نشان کے کیس کے فیصلے سے متعلق وضاحت دے رہے تھے تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا میں اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ نظرثانی درخواست زیر التوا ہے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم نظر ثانی درخواست دائر ہوئی ہے ،مجھے علم نہیں، پتہ کریں، حامد خان کئی بار ملے کبھی ذکر نہیں کیا، حامد خان نے بھی نظر ثانی درخواست دائر ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی بات ہوئی تھی جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کرائی تھی کہ نظر ثانی زیر التوا ہے اس لیے اس حوالے سے بات نا کی جائے .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا،آفس سے تفصیلات مانگ لیں،پی ٹی آئی وکیل سے کہا کہ آپ نے یاددہانی نہیں کروائی.

    الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو جماعت سیاسی نہیں اور الیکشن نہیں لڑی اس کی مخصوص نشستیں کہاں جائیں گی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا،

    آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا،چیف جسٹس
    جسٹس اطہر من اللہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میں بحث ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا آئین کو پسند کیوں نہیں کرتے؟ آئین آئین ہوتا ہے، وکیل نے کہا کہ ایک بات کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں، آپ سیاسی بات کرتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم یہاں انسانی حقوق کے دفاع کیلئے موجود ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا، عدالت سمجھتی سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جنہوں نے آپ کو جوائن کیا کیا ان میں کوئی غیر مسلم ہے، اہم سوال ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، دیکھنا پڑےگا،

    پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،چیف جسٹس
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیمطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خواتین کو نہیں غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،بطور آفیسر آف کورٹ اس سوال کا جواب دیں ،وکیل نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب اس لئے نہیں دے رہا کہ یہ اتنا سادہ نہیں،ہر آزاد ایم این اے، ایم پی ائے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو، میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں، مخصوص نشستیں صرف متناسب نمائندگی کے سسٹم کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں، متناسب نمائندگی کے نظام کے علاوہ مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا کوئی تصور نہیں،مخصوص نشستیں امیدواروں کا نہیں سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے،الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ شمولیت صرف پارلیمان میں موجود جماعت میں ہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن کی یہ تشریح خودکشی کے مترادف ہے،

    وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے،چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج بھی پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتا ہے، ایوان کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا، میری نظر میں ایوان کو مکمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا، ہمارے ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، ملک آئین کے مطابق چلا ہی کب ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کر لئے.

    وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ خلاف آئین ہے،فیصل صدیقی اپیل کے حوالے سے تفصیل سے دلائل دے چکے،ہماری تین درخواستیں تھیں عدالت چاہے تو معاونت کےلیے تیار ہوں،مزید معاونت بھی کردوں گا، وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان کے دلائل مکمل کرلیے.

    سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کردیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنول شوزب پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر ہیں، الیکشن ایکٹ کیمطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا، کنول شوزب کوپہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کنول شوزب کیا اکیلی تھیں جو سنی اتحاد کونسل میں نہیں گئیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب عام انتخابات میں منتخب نہیں ہوئیں، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو ملنے پر انہیں منتخب ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اوکے، تو یہ متاثرہ فریق ہیں، کیا کنول شوزب نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کنول شوزب متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر کیسے براہ راست سپریم کورٹ آ سکتی ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس عدالت میں چیلنج کیا تھا اس کا فیصلہ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ فیصلہ کچھ دیر تک ریکارڈ کا حصہ بنا دوں گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہی نہیں کیا گیا اس کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کنول شوز ب سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں شامل ہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب کا نام سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں موجود ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں نام دکھائیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فہرست لی ہی نہیں تو ریکارڈ سے کیسے دکھا سکتا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ آٹھ فروری کے حوالے سے بھی درخواست زیر التواء ہے،عدالت نے ہر غیرمتعلقہ معاملے پر ازخودنوٹس لیا ہے لیکن الیکشن پر نہیں، انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فیصل صدیقی کا کیس تباہ کر رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ کسی کا کیس تباہ نہیں کر رہا، سمجھ نہیں آ رہا آپ بار بار یہ کیوں کہہ رہے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ دلائل کیلئے کتنا وقت لیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک گھنٹے سے زائد وقت لوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گھنٹہ آپ کو نہیں دے سکتے،اس کیس کو ہم اتنا طویل نہیں کر سکتے،ہزاروں دیگر مقدمات زیر التوا ہیں،زیر التوا مقدمات والوں پر تھوڑا رحم کر لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں جسٹس اطہر من اللہ سے وسیع تناظر میں متفق ہوں،میری رائے میں پی ٹی آئی کو ہمارے سامنے آنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کو آکر کہنا چاہئے تھا یہ ہماری نشستیں ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسے حالات تھے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو سُنی اتحاد کونسل میں جانا پڑا؟ کیا پی ٹی آئی کو پارٹی نہ ماننے والے آرڈر کیخلاف درخواست اسی کیس کے ساتھ نہیں سُنی جانی چاہئے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ نے ہماری اپیل واپس کر دی، رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے تھے، رجسٹرار آفس نے کہا انتخابی عمل نشان الاٹ کرنے سے آگے بڑھ چکا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ اہم ترین معاملہ تھا لیکن آپ نے اپیل دائر نہیں کی، چیمبر اپیل دائر نہ کرنے سے اہم ترین معاملہ غیرموثر ہوگیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا چیمبر اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی معاملات میں جانے کے بجائے عدالت 184/3 کا اختیار کیوں نہیں استعمال کر سکتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سُنی اتحاد کونسل اگر بیان دے کہ کنول شوزب انکی امیدوار ہونگی تو درخواست سن سکتے ہیں،

    ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ سلمان صاحب 86 لوگ ایک جماعت سے الیکشن لڑ کر بعد میں ایک شخص کو جوائن کر گئے کیوں؟ ہمیں وہ مجبوری تو بتا دیں وہ مجبوری کیا تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا، کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رک نہیں سکتا، سلمان اکرم راجہ صاحب بات سن بھی لیا کریں کیا ہم اب آپکے مفروضوں پر چلیں گے یا آئین پر چلیں گے۔ کل کو ہر کوئی آکر کہہ دے گا کہ یہ مجبوری تھی اسلئے آئین چھوڑ دیں، ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہاں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،فاطمہ جناح نے انتخابات میں حصہ لیا تو تب بھی عوام سے حق چھینا گیا،مکمل سچ کوئی نہیں بولتا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی بیانات میں نہیں جاوں گا آئین و قانون پر دلائل دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جیتنے کے بعد آزاد اُمیدوار سُنی اتحاد کونسل میں کیوں شامل ہوئے؟ آپ کو پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہئے تھا، آپ پی ٹی آئی کا انتخاب کرتے تو آپ کا کیس اچھا ہوسکتا تھا.

    سپریم کورٹ، دوران سماعت خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلنے پر چیف جسٹس کا نوٹس
    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خاتون کے فون سےہری لائٹ جلنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹس لے لیا،سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے تھے کہ اس دوران خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ پیچھے سے کون تصویر لے رہا تھا؟وکلا نے کہاکہ خاتون کے پاس ڈائری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ خاتون بیٹھی ہیں، کیا گرین چیز سے پکچر لے رہی ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کھڑی ہو جائیں ، آپ کے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟خاتون کے فون میں دیکھیے کیا کر رہی ہیں اور ہری لائٹ کیا تھی جو دیکھنے میں آئی؟

    آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے،چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86امیدوار آزاد منتخب نہیں ہوئے، لوگوں نے انہیں سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے طور پر منتخب کیا، 86 امیدواروں کو کیوں لگا کہ ایک ہی جماعت سے منسلک ہونا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلمان صاحب تھوڑا سا برداشت رکھیں، اگر آپ اپنا آزاد کا سٹیٹس برقرار رکھیں گے تو پھر بھی اُنہی سیاسی جماعتوں کو جائیں گی آپ کو نہیں ملیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو جیتی گئی نشستوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے توشروع میں کہا تھا ایک رکن بھی پارلیمنٹ میں خالی نہیں چھوڑا جاسکتا، آپ کہہ رہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنا کوئی مسئلہ نہیں ,ہر چیز قانون کی بنیاد پر ہوتی ہے ,بظاہر قانون کی زبان بڑی واضح ہے ,ہر سیاسی جماعت کی اپنی منزل ہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد مشاورت سے سنی اتحاد کونسل کو اپنایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے درست کہا کہ جب آپ آزاد امیدوار ہیں تو پھر ایسی جماعت میں جانا ہوگا جس نے سیٹ انتخابات میں حاصل کی ہوں گی ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہ رہے کہ الیکشن میں نہ جیتے آزاد ملے تو سیٹ حاصل کرلی ؟ جواضح کردیا گیا ہے کہ جو سیٹیں آپ نے جیتی ان میں آزاد شامل ہوں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن میں جیتی گئی سیٹیں اور حاصل کردہ دونوں میں فرق ہیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حاصل کردہ سیٹوں سے مطلب جیتی گئی سیٹ لیا جا رہا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت ماننے سے کونسا آئینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کون جیتا کون آگیا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 25 بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ووٹر سب کے منشور نہیں پڑھتا ج،چھوٹی سیاسی جماعت میں اگر آذاد امیدوار شامل ہوجاے تو کیا ہوگا ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ارب پتی سیاسی جماعت خرید لے ؟کل کوئی ارب پتی کہے کیا الیکشن لڑنا پارٹی اور آزاد امیدوار خریدوں گا پھر ؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 نمائندے آزاد نہیں تھے انہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے ووٹ پڑے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم آزاد امیدوار ہونے کی ہی وجہ سے سیاسی جماعت میں شامل ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ لیں کوئی آزاد امیدوار نہیں ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آذاد امیدوار آزاد ہی رہتے تو پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پھر مخصوص نشستیں خالی رہتیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ہیں،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شروع میں الیکشن کمیشن نے ساری سیٹیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی،بعد میں مقدمہ بازی کی وجہ ان سیٹوں کو روک دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہم آزاد ممبر ہوئے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر غلط سمجھا گیا.

    پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ گر آزادامیدوار ایک جماعت میں دو تین ماہ بعد شامل ہوتے تو کیا جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے کی اہلیت ہوگی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسی وجہ سے تین دنوں میں شامل ہونے کا قانون ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت ہی عجیب سا قانون ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل ہے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار سمجھا جائے یا سنی اتحاد کونسل کا،آپ پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل ہیں سنی اتحاد کونسل کی بات نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بات تو ماننے والی ہے مجموعی طور پرتحریک انصاف نے برے انداز میں کیس کو چلایا ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے چودہ مختلف فیصلے رکھوں گا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ سنی اتحاد یا پی ٹی آئی کو چاہتے ہیں،صرف درخواست گزار کی بات ہو رہی ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف درخواست گزار کی انفرادی بات نہ کی جائے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دے رہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت خواہ ہوں ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنے درخواست گزار کی بات کریں دوسروں کی بات کیسی کر رہے ہیں، ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز نے سنی اتحاد کونسل جوائن کرنے پر احتجاج کیا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نہیں ہمارے خلاف صرف الیکشن کمیشن تھا،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ، عزت کا حقدار ، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی غلطیوں کا حل ہم ڈھونڈیں؟ ہم نے الیکشن کمیشن کو نہیں منظور کیا، آپ نے کیا، غلطیاں تو کی نا،کنول شوذب کوئی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018 میں ایک سیاسی جماعت مشکلات کا شکار تھی، 2024 میں بھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کو الیکشن کمیشن میں خرابی محسوس ہوئی درخواست دائر کریں یا قوانین میں ترامیم کریں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، عزت کا حقدار ہے، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،سپریم کورٹ بھی عزت کے ساتھ برتاؤ کی حقدار ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 ممبران نے کاغذات جمع کرواتے وقت کہاکہ تحریک انصاف کے ہیں؟ کیا عوام کو انتخابات کے سسٹم پر بھروسہ ہے؟ کیوں سچ نہیں بول سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل کچھ اور کہہ رہا ہے لیکن مجھے دماغ کے ساتھ دلائل دینے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کسی کو اختلاف نہیں، آزاد امیدواروں کو کوئی تو شناخت ملے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ سکتےکہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعت کی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں،میں بطور آزاد امیدوار ہی کیس کو دیکھ رہا، بطور پی ٹی آئی امیدوار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ جذبات میں دلائل دے رہے ہیں،جب سی ٹی اسکین کروانے جائیں تو ایک گولی دیتے ہیں جو ریلیکس کر دیتی ہے،از راہ تفنن بات کر رہا ہوں سلمان اکرم راجہ صاحب آپ بھی وہ گولی کھا لیا کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جمیعت علمائے اسلام میں بھی شامل ہوسکتےتھے، کس کی رائے تھی سنی اتحاد میں شامل ہونے کی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ممکن تھا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی ذہنیت نہ ملے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ اپنے ووٹرز کا حق دے رہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے پر مجبور کیا، ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچکزئی صاحب کی جماعت میں بھی جا سکتے تھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی جماعت کی تلاش تھی جس کے ساتھ چل سکیں کل وہ ہم میں ضم ہو سکے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو انتخابی نشان والے کیس میں بھی کہا تھا مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہو تو عدالت آجانا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے مسئلہ پیدا ہوا تو کیا یہ عدالت اسے درست کر سکتی ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرے تو میں اسے عظیم فیصلہ کہوں گا، پاکستان کے عوام بھی اس فیصلے پر جشن منائیں گے، سنی اتحاد نے انتخابات سے قبل اعلان کیا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں گے، جب تحریک انصاف بطور آزاد انتخابات لڑی تو حامدرضا نے بھی آزادامیدوار الیکشن لڑا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حامدرضا اپنی ہی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حامد رضا بطور تحریک انصاف امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو یہی نہیں معلوم کہ حامدرضا نے اپنے کاغذات میں کس پارٹی کا نام لکھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو کنول شوذب کا معلوم نہیں، حامدرضا نے کیوں آزادامیدوار الیکشن لڑا، سنی اتحاد کہاں ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ صاف شفاف انتخابات کروائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 86 لوگوں کی بات نہ کریں، آپ ایک درخواستگزار ہیں، 86 درخواستگزار نہیں، ایم کیو ایم آپ کی حکومت کا حصہ تھی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے، ہم آئین کی تشریح چاہتےہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایم کیو ایم والے آپ کے ساتھ تھے، آج نہیں، کل سنی اتحاد نے بھی ایسا کیا تو ہمارے پاس آئیں گے؟کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کل صبح ساڑھے نو بجے کیس کی سماعت کریں گے،کل تمام وکلا کو سن کر کیس ختم کریں گے،تمام وکلا مختصر دلائل دیں،پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک،الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل کے دلائل رہ گئے ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں ایک متاثرہ فریق کی نمائندگی کر رہا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا،جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کرلیے ، کیس کی آئندہ سماعت 25 جون کو دوبارہ ہوگی ،

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے،الیکشن کمیشن
    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا،سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • مال خانے سے کروڑوں کا غبن،ایس ایچ او سمیت 9 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

    مال خانے سے کروڑوں کا غبن،ایس ایچ او سمیت 9 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

    ہیڈکواٹر مال خانے سے 15 کروڑ روپے مالیت کی غیر ملکی وملکی کرنسی سمیت بیش قیمت موبائل فون و دیگر مال مقدمہ چوری و خرد برد،ایف آئی اے ،اینٹی کرپشن اسلام آباد کی تفتیش میں ہوشربا انکشافات سامنے آ ئے، ایف آئی اے نے مندرہ پولیس کی جانب سے ملزمان جن میں ایک ایف آئی اے کا سابق ملازم ایک سیکورٹی اہلکار اے ایس آئی شامل تھا کو گرفتار کیے جانے کے دوران رقم و مال مقدمہ سے بھرا ایک بیگ برآمدگی میں ہی نہ ڈالنے کا انکشاف کردیا۔سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے ایف آئی اے کی شکایت پر انکوائری کہ تو ایس ایچ او مندرہ و تفتیشی آفیسر وغیرہ بھی سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی انکوائری میں خاطر خواہ جواب نہ دے سکے ۔ تمام کو تحویل میں لیکر تھانہ مندرہ منتقل کردیا گیا.واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،

    مقدمہ تھانہ مندرہ میں ایس ایچ او ایف آئی اے اسفند یار کی مدعیت میں درج کیا گیا، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف ائی اے) کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کے مال خانے سے 15 کروڑ روپے کی ملکی وغیر ملکی کرنسی لوٹنے والے ملزمان سے برآمد رقم میں ہیرا پھیری کرنے پر ایس ایچ او مندرہ سمیت 9 پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، مقدمہ میں ایس ایچ او مندرہ یاسر اعوان، اسسٹنٹ سب انسپکٹرعمران مظفر، سات کانسٹیبلز خضر حیات، مظفر شاہد محمود اسد محمود،عثمان،مختار حسین اور محمد نعیم شہزاد سمیت ایک پرائیویٹ شخص کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے،متن مقدمہ کے مطابق 31 مئی کو ایف ائی اے مال خانہ سے دو ملزمان نے تقریبا 15 کروڑ مالیت کی ملکی غیر ملکی کرنسی لوٹی، کار سوار دوملزمان سعد انوراور محمد حمزہ کو مندرہ پولیس نے سنیپ چیکنگ کے دوران ٹول پلازہ سے گرفتار کیا،گاڑی سے کرنسی،اے ٹی ایم کارڈز،ایئرپورٹ پر داخلہ کے عارضی این اوسی سمیت مختلف اشیاء برآمد کیں، اس دوران ایس ایچ او مندرہ ایک پرائیویٹ فرد کے ساتھ سلور کلر کی گاڑی میں تھے،ایس ایچ او ملزمان کے ہمراہ اور پرائیویٹ فرد کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہوئے، ایف ائی اے اینٹی کرپشن سرکل کو مال خانہ سے ملکی وغیر ملکی کرنسی لوٹنے کے واقعہ کی تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ ملزمان نے واردات کے دوران مجموعی طور پر تقریبا 15 کروڑ روپے کی کرنسی لوٹی،جبکہ مندرہ پولیس نے ملزمان سے صرف 40 لاکھ 89 ہزار روپے کی برآمدگی ظاہرکی، مال خانہ سے چوری مختلف مقدمات میں بر آمدگی کے ریکارڈ کی رپورٹ، مندرہ ٹول پلازہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جبکہ مندرہ تھانہ کی روزنامچہ رپورٹ کو پھاڑنے اور ٹمپرنگ سے بھی ملزمان کی بددیانتی ظاہر ہے، روزنامچہ نمبر 82 کا صفحہ پھٹا ہوا، خراب پایا گیا۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر تمام مجرم پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ نامعلوم نجی افراد کے خلاف تعزیری کارروائی شروع کی جائے،ملزمان سے قومی خزانے کی غبن کی گئی رقم بھی برآمد کی جاسکتی ہے۔

    قبل ازیں 2 جون کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز سے 5 کروڑ روپے مالیت کے چوری ہونے والے سامان کا سراغ لگا لیا گیا تھا، کروڑوں روپے مالیت کے سامان کی چوری میں سابق ایف آئی اے ملازم بھی شامل تھا،تھانہ مندرہ پولیس نے مال مقدمہ برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ،برآمد ہونے والے سامان میں موبائل فونز،وائرلیس سیٹ، جعلی نمبر پلیٹس، غیر ملکی کارڈز اور قومی شناختی کارڈ شامل تھے،سامان میں شامل 5 پارسل سے 5 کروڑ روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی تھی،گرفتار ہونے والے ملزمان میں سعد انور اور محمد حمزہ شامل تھے،کروڑوں روپے مالیت کے سامان چوری میں عبداللہ خان، مہتاب، علی اور حسن شامل تھے،ملزمان نے بیان دیا تھا کہ سامان ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کے سی بی سی دفتر سے چوری کیا گیا،

    برآمد کی گئی رقم کا غبن حیران کن،تحقیقات ہونی چاہیے، شہزاد قریشی
    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار شہزاد قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ایف آئی اے ملکانہ سے لاکھوں مالیت کی غیر ملکی اور مقامی کرنسی کی چوری اور پھر مندرہ پولیس کی جانب سے برآمد کی گئی رقم کا غبن حیران کن ہے۔اس جرم میں کون سے سینئر اور جونیئر پولیس افسران ملوث ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ اس سے پولیس فورس کا مجموعی امیج اور آئی جی پنجاب کی کاوشوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    https://x.com/shahzadausaf/status/1804478517624660161?t=IEVPqE-gupUBjRVcwF4M1A&s=08

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • عمران خان کی رہائی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ

    عمران خان کی رہائی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا ہے

    احتجاج کی قیادت عمرایوب اور بیرسٹر گوہر علی خان نے کی، اراکین اسمبلی کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی گئی، اس موقع پر اراکین اسمبلی کی جانب سے عمران خان کی تصاویر اٹھائی گئی تھیں،تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا،اس موقع پر پولیس نے الیکشن کمیشن جانے والے راستے بند کر دیئے،اور احتجاج کے شرکا کو الیکشن کمیشن کے باہر شاہراہ دستور پر روک دیا گیا.

    اس موقع پر احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے سارے پارلیمنیرینز نکل رہے ہیں سڑکوں پر،پارلیمنٹیرینز بانی تحریک انصاف کی رہائی کیلئے احتجاج کررہے ہیں،انصاف دیر سے ملنا بھی ناانصافی ہے،آج اس ناانصافی کے کے خلاف ہم نکلے ہیں، اس ایوان میں ہماری آواز نہیں سنی جارہی،ایوان میں جو بولا ہماری آواز بند کر دی گئی،ہم خواتین کی رہائی چاہتے ہیں،یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے،

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان فوری مستعفی ہوں، انہوں نے عدالتوں کے سامنے جھوٹ بولا تھا، انہوں نے 46 ارب کا بجٹ مانگا اور صرف ساڑھے سولہ ارب خرچ کیے، انتخابات میں پی ٹی آئی کی 180 سیٹیں چوری کی گئیں، ہماری سیٹیں چھین کر فارم 47 پر لوگوں کو لایا گیا، چین کے وزیر نے کل واضح کہا کہ سیکیورٹی مسائل حل کریں۔

    عمران خان 50 روپے کے پیپر پر دستخط کر کے باہر نہیں گئے،زرتاج گل
    اس موقع پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے غلام نہیں، جو لوگ ناجائز ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں چیف جسٹس سے اپیل ہے انہیں سنا جائے۔تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کے مستقبل کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی 50 روپے کے پیپر پر دستخط کر کے باہر نہیں گئے،شاہد آفریدی سو بار مر کر پیدا ہو بھی جائے تو بھی اسکی حیثیت، اوقات نہیں کہ عمران خان کا مقابلہ کر سکےکہاں عمران خان کہاں یہ؟ زمین وآسمان کا فرق ہے۔میں میڈیا کے ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو بے پناہ پریشر کے باوجود ہمارا احتجاج کروڑوں لوگوں تک پہنچاتے ہیں،8 فروری کو جیتنے والے عمران خان کو آپ نے کال کوٹھڑی میں بھیج دیا صرف اس وجہ سے کہ آپ اس کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے،

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چار رہنماؤں کی نظربندی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، ڈی سی پنڈی نے 15روزہ نظر بندی احکامات 3ایم پی او کے تحت جاری کئے ہیں، تحریک انصاف کے رہنماؤں شہریار ریاض،کرنل ریٹائرڈاجمل صابرراجہ،چوہدری امیر افضل،تیمور مسعود اکبر کے نظر بندی احکامات جاری کئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں نظر بند کیا جائے گا،

  • نوازشریف رائیونڈ محل،   زرداری بلاول ہاؤس،عمران خان بنی گالہ عطیہ کریں،مصطفیٰ کمال

    نوازشریف رائیونڈ محل، زرداری بلاول ہاؤس،عمران خان بنی گالہ عطیہ کریں،مصطفیٰ کمال

    اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث جاری ہے، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو بجٹ پیش کرتے ہیں وہ اس کی تعریف کرتے ہیں، جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں وہ بجٹ پر تنقید کرتے ہیں، ایوان میں موجود لوگ باری باری اپوزیشن اور حکومتی بینچز پر بیٹھ چکے ہیں ، ہر بار ایک جیسا ہی بجٹ پیش کیا جاتا ہے، وفاقی بجٹ نارمل بجٹ ہے، بجٹ میں آدھا پیسہ آئی ایم ایف اور دیگرملکوں کا ہے، پاکستان میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی جائے، ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے نواز شریف، آصف زرداری، فضل الرحمان پہل کریں، کیا ہی بہتر ہو ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے سیاسی رہنما 1000 روپے جمع کرائیں۔

    سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے قرض اتارنے کا نسخہ بتاتے ہوئے کہا کہ نواز شریف رائے ونڈ محل، عمران خان بنی گالہ اور آصف زرداری صاحب بلاول ہاؤس عطیہ کر دیں، جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ اعلان کریں کہ 25 فیصد جائیدادیں پاکستان کو عطیہ کرتے ہیں، اراکین اسمبلی اپنی تنخواہ کا 25 فیصد ملک کیلئے عطیہ کریں،تمام ریٹائرڈ فوجی افسران، حاضر سروس جرنیل 50، 50 کروڑ روپے پاکستان کو عطیہ کریں، ہم ایک ہزار ارب روپے اپنے پاس سے جمع کریں تو پاکستانی عوام 78 ہزار ارب روپے بھی ادا کر دیں گے، بجٹ کے مطابق ایف بی آر 13 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرے گا، جو منظر نامہ پیش کیا یہ نارمل نہیں غیر معمولی حالات ہیں، پیراسٹامول سے یہ کینسر ختم ہونے والا نہیں، سرجری کی ضرورت ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں امن کرنے کا ہر کوئی دعویٰ کرتا ہے، اسٹریٹ کرائم تو ان سے کنٹرول ہو نہیں رہا کراچی کا امن وہاں کے نوجوانوں نے قائم کیا ہے، جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے اتنا ہلکا ہاتھ تو کسی جماعت کے ساتھ نہیں رکھا گیا، رانا ثناء اللہ کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی، ان کا ایک بھی آدمی لاپتہ نہیں ہمارے 900 لوگ لاپتہ ہیں،ا کراچی پاکستان کو اس معاشی دلدل سے نکال سکتا ہے، ہم اپنے پاس پیسہ نہیں رکھتے، ہم پورے پاکستان کو بانٹتے ہیں،میں ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں معاشی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائےِ پاکستان کی معیشت کا جو ٹیومر ہے اس کا علاج کرنے کی ضرورت ہے،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کاسینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں بچوں کے دودھ پر ٹیکس کا معاملہ زیر غور آیا، کاپی پینسل اور سٹیشنری آئٹمز پر بھی ٹیکسز پر غور کیا گیا،سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سول اور کریمینل کیسز کیلئے الگ قانون بنایا جائے ،ایف بی آر حکام نے کہا کہ جرمانہ کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر پر کائیبور پلس 3 شرح سود عائد ہو گی،کمیٹی نے تجویز کی منظوری دیدی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی کا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے،جب تک سب لوگوں کے بینک اکاؤنٹ نہیں ہوں گے اس وقت تک معیشت کو دستاویزی شکل دینا مشکل ہے ،ایف بی آر حکام نے کہا کہ
    بچوں کے فارمولا دودھ پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے،اسٹیشنری آئٹمز پر 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے،مختلف اشیاء پر چھوٹ ختم کرنے سے 107 ارب روپے آمدن ہوگی،آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کی جا رہی ہے،آئی ایم ایف نے 749 اشیاء پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،دودھ اور بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے،ضرورت مندوں کو نقد امداد فراہم کی جائے گی،دودھ پر ٹیکس بڑھانے سے 40 ارب کا ریونیو آئے گا،پینسل کاپیوں سٹیشنری پر ٹیکس بڑھانے سے 7 ارب روپے ریونیو آئے گا

    بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحما ن نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد سٹنٹنگ ریٹ ہے دودھ پر سیلز ٹیکس بڑھانے زیادتی ہے ،اس پر کوئی مشاورت نہیں کی کئی،انوشہ رحمان نے کہا کہ یہ تجویز ظالمانہ ہے،کمیٹی نے بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی

    کھلے دودھ کا نرخ ایف بی آر حکام قائمہ کمیٹی میں نہ بتا سکے
    سینیٹر انوشے رحمان نے ایف بی آر حکام سے سوال کیا کہ کھلے دودھ کا ریٹ کیا ہے؟ کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر حکام کھلے دودھ کا نرخ نہ بتا سکے، ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ "ہم نے کبھی کھلا دودھ نہیں خریدا”سینیٹر انوشے رحمان نے کہا کہ اس وقت مرغی کا ریٹ کیا ہے؟بازار جایا کریں دودھ اور مرغی خریدا کریں،آپ یہ چیزیں خریدیں گے تو آپ میں ہمدردی پیدا ہوگی،جب آپ بھی یہ چیزیں نہیں خرید سکیں گے تب آپ کو احساس ہوگا.

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر انوشہ رحمٰن نے ایف بی آر حکام سے پوچھا کہ کیا قبر پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے؟ اس دوران فاروق ایچ نائیک بھی بولے اور کہا کہ ابھی آئی ایم ایف کو اس کا پتہ نہیں، کراچی میں قبر کھودنے والے گورکن پر بھی ٹیکس لگنا چاہیے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر ہر چیز پر ہی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

    سینیٹر اخونزادہ چٹان نے سینیٹ کی خزانہ کمیٹی میں تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا و پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، ایف بی آر فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مخالفت کرتا ہے، ان علاقوں کو انڈسٹری دیں تاکہ سرمایہ دار ترقی کریں، فاٹا و پاٹا کے لیے چار سے 5 سالہ پلان ہونا چاہیے،چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹیکس چھوٹ کا فائدہ فاٹا کو نہیں ہوتا، فاٹا کو ٹیکس چھوٹ کا فائدہ صرف چند لوگوں کا ہوتا ہے،سینیٹر اخونزادہ چٹان نے کہا کہ وہاں اسٹیل میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، فاٹا میں ان پٹ پر 6 فیصد کے بجائے 3 فیصد ٹیکس کر دیا جائے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • زلفی بخاری کی شیخ رشید پر تنقید ،کہا کئی کشتیوں کے سواروں کے ساتھ یہی ہوتا

    زلفی بخاری کی شیخ رشید پر تنقید ،کہا کئی کشتیوں کے سواروں کے ساتھ یہی ہوتا

    پی ٹی آئی کے رہنما ، سابق وفاقی وزیر، زلفی بخاری کاکہنا ہے کہ کہ شیخ رشید کو احساس ہوگیا ہوگا کہ عمران خان کے بغیر وہ کونسلر بھی نہیں بن سکتے۔

    زلفی بخاری لندن میں ہیں،ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے شیخ رشید پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پی ٹی آئی کی وجہ سے شیخ رشید کو عوام نے بہت عزت دی، شیخ رشید کو کہاں سے اشارے مل رہے ہیں اس کا پتہ ہے،مجھے پتہ ہے تم کن کے کہنے پر میرے خلاف انٹرویوز دے رہے ہو، جو لوگ کئی کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں ان کے ساتھ آخر میں یہ ہی ہوتا ہے، شیخ رشید بانی پی ٹی آئی اور عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ شیخ رشید عوامی مسلم لیگ کے امیدوار تھے، تحریک انصاف نے انکے مقابلے میں امیدوار کھڑا کیا تھا،انتخابات کے نتائج کے مطابق شیخ رشید چھٹے نمبر پر آئے، تحریک لبیک کے امیدوار کے ووٹ بھی شیخ رشید سے زیادہ تھے.اب عید کے دنوں میں شیخ رشید نے مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویو بھی دیئے ہیں،

  • غائب ہونے والا امیگریشن و پاسپورٹ افسر  سامنے آ گیا

    غائب ہونے والا امیگریشن و پاسپورٹ افسر سامنے آ گیا

    پر اسرار طور پر غائب ہونے والے امیگریشن و پاسپورٹ افسر کا سراغ مل گیا۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاسپورٹ امیگریشن حیات تارڑ نے وفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد پولیس سے رابطہ کر لیا ہے،اس ضمن میں حیات تارر کے بھائی صدف حسین کا بیان حلفی بھی سامنے آیا ہے جس میں اسکا کہنا ہے کہ میرا بھائی غائب نہیں ہوا بلکہ رضاکارانہ طور پر غیر حاضر تھا۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر حیات تارڑ کومختلف الزامات کی وجہ سے معطل کیا گئا تھا جس کے بعد وہ 30 مئی سے پراسرار طور پر غائب تھا ، ملزم پر پاسپورٹس کے اجرا میں بے ضابطگی اور کرپشن کا الزام ہے۔

    حیات تارڑ کے اہلخانہ نے پاسپورٹ حکام پر حبس بے جا میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ حکام کےخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم اب حیات تارڑ از خود سامنے آ گیا .

  • سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس

    سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ،آزاد کشمیر کے مغوی شہری خواجہ خورشید کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی ،سرکاری وکیل نے کہا کہ خواجہ خورشید کے خلاف پولیس کے پاس کوئی مقدمہ درج نہیں ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی، وزارت دفاع کی رپورٹ کدھر ہے؟ نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت میں کہا کہ ہمیں کل نوٹس موصول ہوا ہے، تھوڑا وقت دے دیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز سے کہیں اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرائیں، سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ پیر کو رپورٹ عدالت میں پیش کریں،

    وکیل نے کہا کہ اٹھارہ، اُنیس دن ہو گئے ایک شخص لاپتہ ہے، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، سب پریشان ہیں، عدالت نے کہا کہ رپورٹ آ جائے تو پھر دیکھ لیتے ہیں،

    انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کیخلاف نفرت پیدا ہوتی ،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    لڑکی سمیت 9 لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس، پیشرفت نہ ہونے پرعدالت برہم

    آٹھ برس سے لاپتہ شہری بازیاب کیوں نہ ہوا،عدالت برہم،رپورٹ طلب

    ججز سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ادارے اپنی حدود میں کام کریں،جسٹس محسن اختر کیانی

  • قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلاس،وزارتوں کے منصوبہ جات کی تفصیلات کا جائزہ

    قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلاس،وزارتوں کے منصوبہ جات کی تفصیلات کا جائزہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹرقرۃ العین مری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی نے تمام وزارتوں کی ڈویژن وار پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات کی تفصیلات کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے سفارشات مرتب کر لیں۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی سفارشات سے کمیٹی کا آغاز کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کے کل 10 منصوبہ جات ہیں جن میں سے 7 جاری اور 3 نئی اسکیمیں ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے کل 10 منصوبہ جات ہیں جن میں سے ایک نئی اسکیم اور 9 جاری منصوبہ جات ہیں،7 اسی سال مکمل جائیں گے۔ پاور ڈویژن کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کل 65 منصوبہ جات ہیں جن میں سے 16 نئے اور باقی 49 جاری منصوبہ جات ہیں،43 اسی سال مکمل ہو جائیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کے ضلع لیہ میں سولرپاور پلانٹ کے لئے 4800 ایکڑ زمین 13 لاکھ فی ایکڑ کے حساب سے خریدی گئی ہے جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر لیہ کو تفصیلات فراہم کرنے کے حوالے سے کمیٹی اجلاس میں طلب کر لیا۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اس علاقے کی زمین بنجر ہے معاملے کو جاننے کی ضرورت ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃالعین مری نے کہا کہ کوشش کی جائے کہ وہ منصوبہ جات جن کی 100 فیصد فنڈننگ حاصل کی گئی ہے ان کو مقررہ وقت پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور یہ بھی لائحہ عمل اختیار کیاجائے کہ جاری منصوبے 30 فیصد مکمل ہونے کے بعد ادارے نئی اسکیمیں شروع کروائیں تاکہ جاری منصوبے بھی وقت پر مکمل ہوں اور قومی خزانے پر تاخیر کی وجہ سے اضافی بوجھ نہ پڑے۔

    سالانہ 10 فیصد مقامی گیس کے ذخائر میں کمی کا انکشاف
    پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی جاری دو اسکیمیں ہیں جو اسی سال مکمل ہو جائیں گی۔وزارت پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ کل 7 پی ایس ڈی پی میں منصوبہ جات ہیں جن میں سے 5 جاری اور 2 نئی اسکیمیں ہیں ان میں سے 4 اسی سال مکمل ہوجائیں گی۔سینیٹر جام سیف اللہ خان نے پیٹرولیم ڈویژن کے حکام سے استفسار کیا کہ ان کے علاقے سے گیس نکل رہی ہے اور مقامی لوگوں کو سہولت نہیں دی جا رہی جس پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ 2021 کے بعد کوئی گھریلو کنکشن نہیں دیا گیا۔ سالانہ 10 فیصد مقامی گیس کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے اس لئے نئے کنکشن دینے پرپابندی ہے صرف لائنوں پر کام کیا جا رہاہے البتہ وہ علاقے جہاں سے گیس نکلتی ہے ان کے پانچ کلو میٹر کی حدود میں بسنے والی آبادی کو گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

    وزارت پلاننگ ڈویژن ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے کے لئے منصوبہ بندی تیار کرے،چیئرپرسن کمیٹی
    وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے سیکرٹری نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس ادارے کی کل 27 منصوبہ جات ہیں جن میں 13 جاری اور 14 نئے منصوبے ہیں، اگلے سال کیلئے 14 تعمیرات سے متعلق بڑی اسکیمیں ہیں جن کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ان منصوبہ جات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ 7.1 ارب ڈالر فارن فنڈننگ سے ملنا تھے وہ کیوں نہیں ملے اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ وزارت پلاننگ ڈویژن ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے کے لئے منصوبہ بندی تیار کرے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے میں مدد ملے اور وزارت اس تناظر میں موثر حکمت عملی بھی اختیار کرے۔

    وزارت ریلوے کے 36 کل منصوبہ جات ہیں،8 اگلے سال تک مکمل ہو جائیں گے،حکام
    ریلوے ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس ادارے کے کاموں کو چار سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایم ایل ون کا منصوبہ کچھ تاخیر کا شکار ہے کوشش کی جا رہی ہے کہ کمزور سیکٹر پر زیادہ توجہ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹریک انفراسٹرکچر پر خصوصی کام کر رہے ہیں۔ سینیٹر جام سیف اللہ خان کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ایم ایل ون کے منصوبے پر 2014 میں منصوبہ بندی کا کام شروع ہوا دو سال میں ڈیزائن مکمل کیا۔ یہ منصوبہ کراچی سے پشاور 1726 کلو میٹر اپ گریڈیشن کا ہے۔ 2017 میں جو ڈائزئنگ ہوئی اس پر کچھ تحفظات تھے پھر 2020 میں اس پر کچھ کام ہوا ان امور کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی فنانسنگ کی کمیٹیاں اس کے قرض اور دیگر امور کے حوالے سے معاملات طے کریں گی۔ اس منصوبے چین کی کمپنی نے کام کرنا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت ریلوے کے 36 کل منصوبہ جات ہیں،8 اگلے سال تک مکمل ہو جائیں گے۔ سائنس ٹیکنالوجی ریسرچ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کل 31 منصوبہ جات ہیں جن میں سے ایک نیا ہے 11 منصوبے اسی سال مکمل ہوجائیں گے اور بجٹ کا 95 فیصد جاری منصوبوں پر خرچ کریں گے۔ جسے قائمہ کمیٹی نے سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ جب تک جاری منصوبے 30 فیصد مکمل نہ ہو جائیں نئے منصوبے شروع نہ کیے جائیں۔

    قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اسٹرٹیٹجک پلانز ڈویژن اور سپارکو کے اداروں کا دورہ کرنے کا فیصلہ
    اسٹرٹیٹجک پلانز ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک ہی منصوبہ جو اسی سال مکمل ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے اس ادارے کا دورہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ سپارکو کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کل 5 منصوبے ہیں جن میں سے 4 جاری اور ایک نیا منصوبہ ہے 4 اسی سال مکمل ہو جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے اس ادارے کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزارت مذہبی امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی 3 جاری اسکیمیں ہیں جس پر چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ جو ورکنگ پیپر فراہم کیے گئے ہیں اس بک میں مذہبی امور کی پی ایس ڈی پی کی ایک صرف اسکیم ہے۔ وزارت منصوبہ بندی ان کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرے۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، جام سیف اللہ خان اور ذیشان خانزادہ کے علاوہ سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ