Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے،عدالت

    پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    پریس ایسوسی ایشن اور پی ایف یو کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی،درخواست گزار فیاض محمود ، رضوان قاضی اور عقیل افضل عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے،میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے، پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے،صرف سنسنی خیز ٹکر چلانے پر مسئلہ ہوتا ہے ،

    پیمرا نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا ،درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر عمر اعجازِ گیلانی اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کا اس معاملے سے تعلق ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ یہ پیمرا کا معاملہ ہے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں ہے ،بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ پیمرا نے جس قانون کا سہارا لیا ہے اس میں زیر سماعت مقدمات رپورٹ کرنے پر پابندی نہیں ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کرلئے کیس کی سماعت گیارہ جون تک ملتوی کر دی گئی

    عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی،پیمرا کو ایک اور عدالتی نوٹس جاری

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مندرجات پر مبنی ویڈیو کے پوسٹ کئے جانے پر ایف آئی اے کے نوٹس کا معاملہ ،مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اور قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب خان نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    ایف آئی اے کے نوٹس کے معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے اور عدالت کے روبرو چیلنج کرنے کا بھی اعلان کر دیا،عمر ایوب خان نے ایف آئی اے کو نوٹس کا جواب تحریری طور پر بھجوا دیا ،جواب ممتاز ماہرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان کی وساطت سے بھجوایا گیا ،جواب میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے ہمارے مؤکل عمر ایوب خان کو ایک ہتک آمیز نوٹس بھجوایا جس میں مبہم، مشکوک اور غیرقانونی سوالات پوچھے گئے،نوٹس سقوطِ ڈھاکہ سے جڑے واقعات سے متعلق ہے جس پر حکومتِ پاکستان نے کمیشن قائم کیا، اس کمیشن نے 1972 میں عبوری جبکہ 1974 میں مکمل رپورٹ ریاست کو جمع کروائی جسے نہ تو مسترد کیا گیا نہ ہی اس کے مندرجات کی تردید کی گئی، کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں جنرل یحییٰ خان اور ہتھیار ڈالنے والے جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے بیانات بھی قلمبند کئے اور انہیں رپورٹ کا حصہ بنایا، حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کابینہ ڈویژن میں موجود ہے، ایف آئی اے نہ تو تاریخ دانوں پر مشتمل ایک محکمہ ہے نہ ہی سپریم کورٹ اور 2 ہائیکورٹس سے بالا کوئی ادارہ ہے، ایف آئی اے کے اس نوٹس کا واحد مقصد ملک کے مقبول ترین سیاسی قائد عمران خان اور ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کو نشانۂ انتقام بنانا ہے، ایف آئی اے جواب کی تیاری کیلئے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل فراہم کرے، عمر ایوب اپنے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے اس نوٹس کے ذریعے کئے جانے والے پراپیگنڈے کا معاملہ پارلیمان میں اٹھانے اور اسے عدالت کے روبرو چیلینج کرنے کا حق بھی استعمال کریں گے،

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • ہم چین کے  اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، وزیراعظم

    ہم چین کے اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہے کہ ماضی میں رہیں گے تو کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے، ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھیں گے تو ہی کامیابی مل سکے گی۔

    چین کے شہر شینزن میں پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا چین کی ترقی ہمارے لئے قابل تقلید ہے، چین کو دباؤ میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر چینی عوام و قیادت نے دباؤ کے آگے نہ جھکنے اور کامیابی حاصل کرنے کا آہنی عزم کیا، ہم اسی عزم کیساتھ پاکستان واپس جائیں گے اور عظیم چینی اقتصادی ماڈل کی پیروی کریں گے۔دنیا کو چین کی ترقی سے سبق سیکھنا چاہیے چین مختصر مدت میں دنیا کی دوسری بڑی معاشی و فوجی طاقت بن گیا ہم چین کے عظیم اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان افرادی قوت ہے۔بزنس کانفرنس دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے،چین کے شہر شینزن نے مختصر مدت میں ترقی حاصل کی جو ہمارے لیے ایک مثال ہے،پاکستانی کمپنیاں اپنی مصنوعات بہتر انداز سے دنیا کے سامنے پیش کریں، چین نے ترقی کے لیے فرسودہ طریقہ چھوڑ کر جدید طریقے کو اپنایا، پاکستان بھی بدعنوانی پر قابو پانے کےلیے مؤ ثر اقدامات کر رہا ہے، پاکستان میں کاروبار میں آسانی پیداکرنے کے لیے بزنس کونسل قائم کی،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ترقی کی ضمانت ہے، یہاں قرضوں کے لیے نہیں بلکہ کاروبار اور ترقی کے لیے آیا ہوں،5 چینی باشندوں کی دہشت گردی کے واقعے میں ہلاکت افسوسناک لمحہ تھا، پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے، چینی شہریوں کو فول پروف سکیورٹی دیں گے۔

    وزیرِاعظم کاشینزن میں نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر اور شینزن ایگزیبیشن میوزیم کا دورہ
    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نےشینزن میں نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر اور شینزن ایگزیبیشن میوزیم کا دورہ کیا،وزیرِاعظم نے دورے کے دوران موقع پر ہی وفاقی وزراء اور متعلقہ پاکستانی حکام کو آج ہی نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر کے ساتھ مزاکرات کرکے پاکستان میں ایسے جدید نظام کے قیام کیلئے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کردی.نانشان ون اسٹاپ سروسز سینٹر پہنچے پر شینزن نانشان دسٹرکٹ پیپلز گورنمنٹ کی پارٹی لیڈرشپ گورنمنٹ کی رکن اور ڈپٹی مئیر لی زنہا (Li Zhina) نے وزیر اعظم کا استقبال کیا. نانشان ون اسٹاپ سروسز کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو کمپنیوں کی ایک ہی چھت تلے رجسٹریشن و دیگر کاروائی کے حوالے سے ڈیجیٹل نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے نانشان ون اسٹاپ سروسز میں کمپنی و کاروباری کی رجسٹریشن کیلئے جدید نظام کی تعریف کی. وزیرِ اعظم نے وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، سیکٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و دیگر متعلقہ حکام کو پاکستان میں ایسا نظام متعارف کرنے کیلئے فوری طور پر نانشنان ون اسٹاپ سروسز کے حکام سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے چینی تعاون سے پاکستان میں فوری طور پر ایسے سینٹر کے قیام کیلئے پاکستانی حکام کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے پاکستانی حکام کو شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی ایسا ہی جدید اور تیز تر نظام متعارف کرانے کی ہدایات بھی دیں.وزیرِاعظم نے شینزن کے ارتقاء و ترقی کے حوالے سے قائم شینزن ایگزیبیشن میوزیم کا بھی دورہ کیا. میوزیم کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو شینزن کی ترقی کے سفر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور شینزن کے قلیل مدت میں ترقی کے سفر کی تعریف کی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چینی کمپنی ترانشیئن ہولڈنگز کے بانی کی ملاقات
    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چینی کمپنی ترانشیئن ہولڈنگز کے بانی و چیئرمین ژو ژاؤجیانگ کی شینزن میں ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ٹرانشیئن ہولڈنگز کے چیئرمین نے وزیرِ اعظم کو کمپنی کے پاکستان میں موجودہ آپریشنز، عالمی سطح پر اسکی برآمدات اور پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ چیئرمین ٹرانشیئن ہولڈنگز نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ کمپنی کا پاکستان میں موبائل فونز کی تیاری کے حوالے سے پہلے سے ایک یونٹ قائم ہے جس میں 5 ہزار کے سے زائد پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ کمپنی پاکستان میں موبائل فونز کے حوالے سے اپنی سرمایہ کاری میں وسعت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے جس سے موبائل فونز کی تیاری کے بعد پاکستان سے انکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔چینی کمپنی نے پاکستان میں اپنے موبائل بنانے کے یونٹ میں سرمایہ کاری میں وسعت اور پاکستان میں چار شعبوں: موبائل فونز کی تیاری، الیکٹرک بائیکس، جدید زراعت اور فِن ٹیک میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا،وزیرِ اعظم نے وفاقی وزراء اور پاکستان کے چین میں سفیر کو ٹرانشیئن ہولڈنگز کے ساتھ مل کر جلد ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ حکومت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں و کاروباری شخصیات کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے ٹرانشیئن ہولڈنگز کو پاکستان میں مقامی سطح پر اشیاء تیار کرکے انکی پاکستان سے بیرونِ ملک برآمدات کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے۔ملاقات میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، عبدالعلیم خان، جام کمال، عطاءاللّٰہ تارڑ اور وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ نے بھی شرکت کی۔

    شینزن لاہور کا سسٹر شہر اور گوانگڈونگ پنجاب کا سسٹر صوبہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف
    قبل ازیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے شینزن کے سربراہ (Secretary) اور صوبہ گوانگڈونگ کے نائب سربراہ (Deputy Secretary) مینگ فینلی کی وزیرِاعظم سے شینزن میں ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں مینگ فین لی نے وزیرِاعظم کا شینزن آنے پر خیر مقدم کیا اور انہیں شینزن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کئی برس بعد شینزن آکر دلی خوشی ہوئی۔ شینزن کی حکومت اور اسکے عوام کی مہمان نوازی پر مشکور ہوں۔ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اونچی، سمندر کی گہرائی جتنی گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔پاکستانی قیادت اور عوام ہر مشکل وقت میں چین کے تعاون پر چینی قیادت اور اسکے عوام کی مشکور ہے۔ پاکستان چین کی ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ شینزن لاہور کا سسٹر شہر اور گوانگڈونگ پنجاب کا سسٹر صوبہ ہے۔ پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے اور چین کی ترقی سے سیکھنا چاہتا ہے۔ ہماری حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے اشتراک اور سرمایہ کاری سے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ اپنے دورے کے شینزن سے آغاز کا مقصد شینزن کی ترقی بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی سے سیکھنا ہے۔ پاکستانی حکومت جدید ٹیکنالوجی سے ملکی زرعی شعبے کی پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت و دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اسکی نوجوان افرادی قوت ہے جو ملکی آبادی کے 60 فیصد ہے، شینزن اور پاکستان میں یہ قدر مشترک ہے۔ امید کرتا ہوں کہ شینزن میں پاکستانی طلباء کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

    مینگ فینلی کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کی دوستی بہت مضبوط اور گہری ہے۔ شینزن کی حکومت اور شینزن کے لوگوں کیلئے آپکی میزبانی اعزاز کی بات ہے۔امید کرتا ہوں آپکی چینی اعلیٰ قیادت بالخصوص چینی صدر عزت مآب شی جن پنگ اور چینی وزیرِاعظم لی چیانگ کے ساتھ ملاقاتیں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مفید ثابت ہونگی۔ شینزن میں پاکستانی طلباء کی بڑی تعداد زیرِ تعلیم ہے۔ پاکستان اور شینزن کے مابین تجارت کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ مینگ فینلی

    ملاقات کے بعد مینگ فینلی نے وزیرِاعظم اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ، وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان اور وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ بھی شریک تھی.

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • سعودیہ پلٹ شہری ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گیا،18لاکھ لٹ گئے

    سعودیہ پلٹ شہری ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گیا،18لاکھ لٹ گئے

    اسلام آباد ،تھانہ لوہی بھیر کے علاقے میں ڈکیتی کی بڑی واردات ہوئی ہے

    موٹر سائیکل سوار 2 ملزمان سعودیہ سے آنے والے شہری سے 18 لاکھ 15 ہزار لوٹ کر فرار ہو گئے،تحریری درخواست پر تھانہ لوہی بھیر پولیس نے تا حال ایف آئی آر درج نہ کی،درخواست میں کہا گیا کہ 4 جون کو سعودیہ سے پاکستان اپنے رشتے داروں کے گھر سواں گارڈن اسلام آباد آیا، اپنے عزیز عبداللہ اور کلال ممتاز کے ساتھ صدر سے سعودی کرنسی چینج کروائی، 18 لاکھ روپے پاکستانی کرنسی میں نے شاپر میں ڈال کر گاڑی کی سیٹ کے نیچے رکھ لی، سٹریٹ نمبر 4 سواں گارڈن ایف بلاک گھر کے سامنے رکے تو دو موٹر سائیکل سوال ملزمان قریب آئے،موٹر سوال ملزمان نے گن پوائنٹ پر سیٹ کے نیچے سے پیسے پرس اور ضروری دستاویزات کے گئے،شہری نے تحریری طور پر لوہی بھیر تھانے میں درخواست دے دی ہے

  • معزز جج کیخلاف تین ہیش ٹیگز پر مبنی منظم مہم تھی، ایف آئی  رپورٹ عدالت پیش

    معزز جج کیخلاف تین ہیش ٹیگز پر مبنی منظم مہم تھی، ایف آئی رپورٹ عدالت پیش

    جسٹس بابر ستار کیخلاف سوشل میڈیا مہم اور فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بینچ میں شامل ہیںدوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے آئی ایس آئی کی رپورٹ جمع کرائی گئی ۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے اپنی رپورٹ کا جائزہ پیش کیا گیا، رپورٹ کے مطابق ٹویٹ کرنے اور ری ٹویٹ کرنے والے چند اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی تھی ۔رپورٹ سے صاف ظاہر ہے کہ معزز جج کیخلاف تین ہیش ٹیگز پر مبنی یہ ایک منظم مہم تھی، ایف آئی اے کی جانب سے ایکس انتظامیہ کو بھی مشکوک اکاؤنٹس کی معلومات کے لیے ایمرجنسی ڈسکلوژر ریکویسٹ بھیجی گئی ہیں۔
    حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے حکام کے مطابق چند مزید اکاؤنٹس سے متعلق معلومات آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے رکھی جائیں گی ۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل، امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ گرین کارڈ محض ایک سفری دستاویز ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور امیگریشن حکام نے تسلیم کر لیا ہے کے گرین کارڈ کا مطلب شہریت نہیں ہے، اس وضاحت کے بعد حکومت نے جسٹس بابر ستار کے خلاف ٹویٹس میں الزامات کے جھوٹا ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی اے، آئی بی، ڈی جی امیگریشن، سی ٹی ڈی، پیمرا اور ایف بی آر کی رپورٹس عدالت میں جمع کرادی گئی ہیں۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام اداروں کے رپورٹ تیار کرنے والے ایکسپرٹس مختصر پریزنٹیشن طلب کر لی ہے۔
    رپورٹ کے پہلے دو صفحات پر کہا گیا ہے کہ اکاؤنٹس غیر فعال ہونے کے باعث پیش رفت نہیں ہوسکتی، جس ہر عدالت نے کہا کہ بڑی مایوسی کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ نامکمل ہے۔عدالت نے ففتھ جنریشن وار کے تناظر میں پوچھا کہ اگر صدر مملکت یا آرمی چیف پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے جائیں تو کیا آئی ایس آئی پھر بھی یہی جواب دے گی؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آئی ایس آئی ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ ہمیں ان دونوں سوالوں سے متعلق جواب نہیں مل سکا۔

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ 10 جولائی تک طلب

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ 10 جولائی تک طلب

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ 10 جولائی تک طلب کرلی

    عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں نئے ریٹ پر پراپرٹی ٹیکس نوٹس معطل کردیے اور ریمارکس دیئے کہ پٹیشنرز کو پرانے ریٹ پر پراپرٹی ٹیکس جمع کرانا ہوگا،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی منظوری کے بعد یہ ٹیکس لگا سکیں گے۔درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی و دیگر وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ لوکل گورنمنٹ کے الیکشنز کیوں نہیں ہو رہے ؟الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے شیڈول دیا ہوا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 125 یونین کونسل کی حد تک حلقہ بندیاں ہو چکیں نئی کی ضرورت نہیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بھی فیصلہ ہے لوکل گورنمنٹ الیکشن کرانے ہیں،کیا بانی پی ٹی آئی ، نواز شریف ، شہباز شریف سب کی حکومتیں اس کی ذمہ دار ہیں کسی نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ الیکشن نہیں کرائے،جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن وکیل کو ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیشنل اسمبلی کے حلقوں سے یونین کونسل کو مکس نا کریں،ہر دو تین ماہ بعد کیا نئی حلقہ بندیاں ہوں گی ؟وفاقی حکومت سے پوچھ کر آئیں اسلام آباد لوکل گورنمنٹ الیکشن کی تاریخ بتا دیں،اگر تاریخ نا دی تو وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی توہین عدالت کا نوٹس کروں گا ، سی ڈی اے ایم سی آئی کے نام پر سارے شہر کی تباہی پھیر رہا ہے،بغیر لوکل گورنمنٹ آپ نے اربوں کے ٹیکس لگا دئیے،بغیر کسی اختیار کے سی ڈی اے نے ایم سی آئی کے اربوں روپے کے فنڈز استعمال کر دئیے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ اس حوالے سے دوسری عدالت میں بھی کیس زیر سماعت ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کسی دوسری کورٹ کا ذمہ دار نہیں میں اپنی کورٹ کو ذمہ دار ہوں،جو آپ کو سمجھ آتی ہے وہ تاریخ دے دیں ایک ہفتے کا وقت دے رہا ہوں،وفاقی حکومت اگر الیکشن نہیں کراتی تو میں ان کو دیکھ لوں گا۔

  • اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹربیونل منتقل کرنے کی درخواستیں قابل سماعت قرار

    الیکشن کمیشن،اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں کے نتائج کے خلاف کیسز دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے سماعت کی، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ کیس الیکشن ٹریبونل سے منتقل کرنے کی درخواست کی ہے،الیکشن کمیشن سیکشن 151 کے تحت کیس دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کا اختیار رکھتا ہے، الیکشن ٹریبونل سی پی سی کے علاوہ کوئی اختیار استعمال نہیں کرسکتا، الیکشن ٹریبونل نے یکطرفہ طور پر جانبدار کاروائی شروع کی ہوئی ہے، الیکشن ٹریبونل کی کاروائی سے جانبداری واضح ہے، الیکشن ٹریبونل نے ہمیں موقع دیے بغیر یکطرفہ طور پر کاروائی شروع کی ہے،الیکشن ٹریبونل کے ریمارکس سے میرا موکل حراساں ہے،ٹریبونل ٹرائل کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ کے اختیارات استعمال کر رہا جو غیر قانونی ہے،ٹریبونل ازخود نوٹسز لے رہا ہے جو ٹرائل کورٹ کے زمرے میں نہیں آتا، جانبداری کی وجہ سے ٹریبونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہوں،

    اگر آپ نے کچھ غلط نہیں کیا تو آپ کو جیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے،چیف الیکشن کمشنر
    چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ٹریبونل کے کن احکامات سے آپ جانبداری کا الزام لگا رہے ہیں؟ وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ ٹریبونل نے ہمیں بلائے بغیر جرمانے اور یکطرفہ کاروائی کی،ٹریبونل نے موقع دیے بغیر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، ٹریبونل کے سپیڈی ٹرائل سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ نے اعتراضات ٹریبونل کے سامنے رکھے؟ وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ ہم نے ٹریبونل کے سامنے اعتراضات نہیں رکھے، الیکشن کمیشن کا ریکارڈ ہمیں دکھائے بغیر دوسرے فریق کے ریکارڈ سے موازنہ شروع کردیا، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اعتراضات ٹریبونل کے سامنے رکھتے، سنوائی نہ ہوتی تو الیکشن کمیشن آتے، کیا آپ کو خوف ہے کہ آپ کو سنے بغیر فیصلہ ہوگا، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ خدشہ ہے ٹریبونل کیس مکمل کیے بغیر عبوری آرڈر جاری کرسکتا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد کی حد تک الیکشن کمیشن نے صرف ایک ٹریبونل قائم کیا ہے، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ الیکشن کمیشن نئے ٹریبونل بنا سکتا ہے، الیکشن کمیشن کسی ریٹائرڈ جج پر مشتمل ٹریبونل بنائے تاکہ آرام سے کاروائی ہو، ٹریبونل جج نے کہا کہ بیان حلفی جعلی ہوا تو ادھر سے جیل بھیج دوں گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر آپ نے کچھ غلط نہیں کیا تو آپ کو جیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ کسی فریق کو جیل بھجوانا ٹریبونل کا اختیار نہیں ہے،الیکشن کمیشن فوری ٹریبونل کی کاروائی روکنے کے احکامات جاری کرے،وکیل انجم عقیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیسز خیبرپختونخوا کے ٹریبونلز کو بھی منتقل کرسکتا ہے،

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹربیونل منتقل کرنے کی درخواستیں قابل سماعت قرار دے دیں،الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 6 جون کو کرے گا ،الیکشن کمیشن نے ن لیگی ارکان قومی اسمبلی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنادیا

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر براہ راست سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس کی سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرٹیکل 17اور63اے میں سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کاذکر ہے،سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی . چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیاسی اور پارلیمانی جماعت کے لیے آئین میں کیاتشریح ہے؟آپ 8 فروری سے پہلے کیا تھے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 8فروری سے پہلے ہم سیاسی جماعت تھے،آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ہم پارلیمانی جماعت بن گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہو سکتے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا عدالت کے سامنے موجود معاملے سے تعلق نہیں،سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان ایک تفریق ہے،

    آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین اس تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی 63 اے آرٹیکل موجود ہے، سنی اتحاد کونسل دونوں سیاسی اور پارلیمنٹری پارٹی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں سربراہ کے حوالے سے ابھی بتا دیتاہوں لیکن عدالت میں یہ بات اہم نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟ معلوم کیسے ہوتا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹری سربراہ کا مقدمہ سے تعلق نہیں اس لیے اس حوالے سے تیاری نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے آپ کے سوالات سے پولیٹیکل لفظ ہذف کردیا ہے،

    الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟جسٹس منیب اختر
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سیاسی جماعت ہونے کے بغیر پارلیمانی پارٹی ہو؟ جو بھی پارٹی اسمبلی میں ہوگی تو پارلیمانی پارٹی ہوگی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمان میں فیصلے پارلیمانی پارٹی کرتی ہے اسکے فیصلے ماننے کے سب پابند ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی قانونی طور پر پارٹی سربراہ کی بات ماننے کی پابند نہیں ہوتی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے پارلیمانی پارٹی کا نہیں، آرٹیکل 51 اور مخصوص نشستیں حلف اٹھانے سے پہلے کا معاملہ ہے،ارکان حلف لیں گے تو پارلیمانی پارٹی وجود میں آئے گی، پارلیمانی پارٹی کا ذکر اس موقع پر کرنا غیرمتعلقہ ہے، مناسب ہوگا کہ سیاسی جماعت اور کیس پر ہی فوکس کریں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد امیدوار وہ ہوتا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہو، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں کوئی خود کو پارٹی امیدوار ظاہر کرے اور ٹکٹ جمع کرائے تو جماعت کا امیدوار تصور ہوگا، آزاد امیدوار وہی ہوگا جو بیان حلفی دے گا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، سنی اتحاد میں شامل ہونے والوں نے خود کو کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی امیدوار ظاہر کیا، کاغذات بطور پی ٹی آئی امیدوار منظور ہوئے اور لوگ منتخب ہوگئے، الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟ انتخابی نشان ایک ہو یا نہ ہو وہ الگ بحث ہے لیکن امیدوار پارٹی کے ہی تصور ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل سے میں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس حساب سے تو سنی اتحاد میں پی ٹی آئی کے کامیاب لوگ شامل ہوئے،پارٹی میں تو صرف آزاد امیدوار ہی شامل ہو سکتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کس بنیاد پر امیدواروں کو آزاد قرار دیا تھا؟الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو خود آزاد تسلیم کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا اس سارے تنازع کی وجہ بنا، سپریم کورٹ نے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، انتخابی نشان کا مسئلہ خود الیکشن کمیشن کا اپنا کھڑا کیا ہوا تھا،الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیکر اپنے کھڑے کیے گئے مسئلے کا حل نکالا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے پر سیاسی جماعت کو نشان نہیں ملا،کیا کسی امیدوار نے بلے کے نشان کیلئے رجوع کیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو درخواست دی گئی مسترد ہونے پر آرڈر چیلنج بھی کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان صرف سیاسی جماعت کی سہولت کیلئے ہے، انتخابی نشان کے بغیر بھی سیاسی جماعت بطور پارٹی الیکشن لڑ سکتی ہے،

    جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا، قانونی غلطیوں کی پوری سیریز ہے جس کا آغاز یہاں سے ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے خود کو پی ٹی آئی امیدوار قرار دینے کیلئے رجوع کیا تھا، الیکشن کمیشن نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست مسترد کر دی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہر امیدوار اگر بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی امیدوار ہوتا تو یہ سپریم کورٹ فیصلے کی خلاف ورزی ہوتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بلے باز بھی کسی سیاسی جماعت کا نشان تھا جو پی ٹی آئی لینا چاہتی تھی،بلے باز والی جماعت کیساتھ کیا ہوا تھا؟ وکیل نے کہا کہ بلے باز والی جماعت کیساتھ انضمام ختم کر دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے میں لکھا ہے کہ بلے کا نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہوسکتا؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں ایسا کچھ نہیں لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو ایسا کہنے کی ضرورت تھی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ نشان کسی اور کو نہیں مل سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس انتخابی نشان کا نہیں انٹرا پارٹی انتخابات کا تھا، عدالت نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر کہا تھا کوئی ایشو ہوا تو رجوع کر سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت مضبوط توجیہات ہیش کی جا رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے کے بعد بلے کے نشان کو ختم کیا گیا تھا یا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جسٹس منیب کے مطابق بلے کے نشان ختم ہونے کے باجود امیدواروں نے پی ٹی آئی امیدواروں کے طور پر الیکشن لڑا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سر یہ ہی ہم کرنا چاہتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے ختم کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کرنا چاہتے تھے کیا مطلب، ؟ وکیل نے کہا کہ میں سنی اتحاد کونسل کے ہر ممبر کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل اختلاف آسکتا ہے وہ کہیں ہمارے ممبرز ہیں یہ کہیں ہمارے،

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحادکونسل نے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، الیکشن کمیشن نے درخواست مستردکرتے ہوئےکہا سنی اتحاد کونسل نےانتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اس میں کوئی تنازع نہیں کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات نہیں لڑے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تنازع کی بات کیوں کررہے ہیں، بس کہیں الیکشن نہیں لڑا،جو امیدوار ہمارےسامنے نہیں جن کی آپ نمائندگی کررہے ہیں وہ تو سب تحریک انصاف کے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار تو آپ کو چھوڑ رہے ہیں، آپ کی پارٹی میں نہیں آرہے، تحریک انصاف کے امیدوارتوپھرآزاد نہ ہوئے۔

    ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،چیف جسٹس
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑسکتے تھے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے امیدواروں کوکس بنیاد پرانتخابی نشان دیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابی نشان دیا اور بطور آزاد امیدوار شناخت دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے جو ہمارے سامنے نہیں، پی ٹی آئی مسلسل شکایت کر رہی تھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں مل رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ شکایت ہمارے سامنے نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں، ہمیں دیکھنا ہے ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کیسے ہو سکتا تھا، ایک جماعت مسلسل شفاف موقع نہ ملنے کا کہہ رہی تھی اور یہ پہلی بار نہیں تھا،

    دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایوان کو نشستوں کی مقرر کردہ تعداد سے کم رکھا جا سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایوان کی مختص تمام نشستیں پوری ہونا لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ
    متناسب نمائندگی کے نام پر ڈراماٹائز کرنے کی ضرورت نہیں،مخصوص نشستوں پر تو پارٹی سربراہ کی صوابدید ہے چاہے دوستوں کو نواز دے،مخصوص نشستوں میں ووٹرز کا کوئی کردار نہیں ہوتا یہ پارٹی سربراہ مقرر کرتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق لسٹ سیاسی جماعت نے دینی ہوتی سربراہ نے نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا حوالہ دیا اور کہا کہ بظاہر پی ٹی آئی امیدواروں نے پارٹی تبدیل کی، پارٹی تبدیل کرنے پر آرٹیکل 63 اے والا فیصلہ موجود ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی سے متعلق ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی،

    عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی انتخابات ہوتے تو فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کا ہوتا،جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پوری جمہوریت کی بات کریں، عوام کو جماعت میں شامل کرتے ہیں تو ارکان کا حق ہے کہ وہ الیکشن لڑیں،عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،آپ نے اس بات کو چھیڑا ہے تو پوری بات کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس کیس پر نظرثانی زیرالتواء ہے کیا سب کچھ یہاں ہی کہنا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم سب سچ بولنا شروع کریں تو سچ بہت کڑوا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں حاصل کی گئی سیٹوں پر ملتی ہیں ووٹوں پر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی میں شمولیت کیلئے جماعت کا اسمبلی میں ہونا لازمی نہیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسمبلی میں حاصل کی گئی سیٹوں پر الاٹ ہوتی ہیں، قانون میں نشستیں حاصل کرنے کا ذکر ہے جیتنے کا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایوان میں زیادہ آزاد امیدوار ہوں اور دو سیاسی جماعتیں ہوں تو کیا ہو گا؟ کیا ساری مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں کو جائیں گی؟ یاان جماعتوں کو صرف اپنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی؟پہلے اس تنازعے کو حل کریں اس کا کیا جواب ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حقیقی آزاد امیدوار ہوں تو ان کے تو مزے ہو جائیں گے، حقیقی آزاد امیدواروں کو تو دیگر سیاسی جماعتیں لے لیتی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر یہ 77 لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا؟

    کیس کی سماعت 24جون کو ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 24اور 25کو پورے دو دن کیس کی سماعت کرینگے، ان دو دنوں میں کوئی اور کیسز نہ لگائے جائیں،

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • عدالت کا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

    عدالت کا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

    اسلام آباد، عدالت نے تحریک انصاف کے سیکرٹریٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیازنے گزشتہ روز کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ "سی ڈی اے نے 2022 اور 2023 میں سابقہ مالک کو نوٹس اور پھر شوکاز جاری کیا تھا، سی ڈی اے وضاحت پیش نہیں کر سکا کہ نوٹس پرانے مالک کو کیوں بھیجے جاتے رہے،سب سے اہم یہ ہے کہ نوٹس یا شوکاز کی سروس کی کوئی رسید ریکارڈ پر نہیں، سی ڈی اے نے پی ٹی آئی کا مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے کا آرڈر سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،سی ڈی اے کا دفتر سیل کرنے کا آرڈر بھی تحریک انصاف کو نہیں لکھا گیا، نہ کاپی بھیجی گئی”۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ عدالت پی ٹی آئی کا سیکریٹریٹ فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دیتی ہے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ سی ڈی اے قانون کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے

    گزشتہ روز کیس کی سماعت ہوئی تھی تو تحریک انصاف کے رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ،سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیئے،دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔ شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ تحریک انصاف کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

    ایم کیو ایم رہنما سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بیان حلفی جمع کرا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ” اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتا ہوں، عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں، معزز عدالت سے معافی کی درخواست اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں”۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر