Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی  ، رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    ینگ جرنلسٹ کی تربیتی ورکشاپ سے وزیراعظم کی کوارڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ورکشاپ آرگنائزر کرنے والوں کا کام قابل تحسین ہے ،میڈیا پر صحیح خبر دینا ایک بہت بڑا کام ہے،

    رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ بریکنگ نیوز کروڑوں لوگوں تک جاتی ہے اسکا درست ہونا چاہیے ،انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا فرق واضح ہونا چاہئے، 2005 سے ڈبیلو ایم سی یہ کام کر رہی ہے،کوئی فیلڈ ایسی نہیں جہاں مشکلات نہ ہوں،اپنی دلیل کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا اہم کام ہے ایس ڈی جیز کی میڈیا میں بات نہیں ہوتی ،میڈیا بحث کا نہیں ذمہ داری کا پلیٹ فارم ہے، موسمیاتی تبدیلی کی کوئی سرحد نہیں، پوری دنیا کا مسئلہ ہے ،دنیا میں اس وقت کلائمنٹ چینج سے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہمارے افراد اور ماحول پر آ رہا ہے، کام کرنا پڑتا ہے، سیکھنا پڑتا ہے، کسی بھی گائیڈ لینے میں شرم نہیں آنا چاہئے ،تھیوری کیساتھ پریکٹیکل ورک ہونا بہت ضروری ہے،ہر فیلڈ میں خواتین اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، ہمارا کام اس ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہے، جب بات کی جائے تو فائدہ مند ہونا چاہئے، غلط بات کو روکیں گے تو مثبت اثرات مرتب ہوں گے، امن کی فاختہ میڈیا سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ،ایک چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ہے، سب حقوق کی بات کرتے فرائض کی بات نہیں کی جاتی، خوشی ہوئی ینگ جرنلسٹ کو دیکھ کر کہ وہ آنے والے وقت میں میڈیا کے محاذ پر ہونگی ،آجکل میڈیا کا دور ہے،

    سب سے بڑا چیلنج گلوبل وارمنگ ،جس کی کوئی ملکی سرحد نہیں ہوتی،رومینہ خورشید عالم
    رومینہ خورشید عالم کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان بچیوں سے ملکر اچھا لگا۔ذمہ دارانہ طریقے سے خبر پہنچانا میڈیا میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ویمن میڈیا سنٹر ۲۰۰۵ سے اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ کلائمیٹ چینج ایک بہت بڑا سبجیکٹ ہے مگر ٹاک شوز میں اس پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔نوجوان صحافی خواتین سے کہوں گی کلائمیٹ چینج پر کام کریں۔شعبہ صحافت میں خواتین نے بہت بڑا کام کیا ہے۔اپنے ملک کا پازیٹو امیج دکھانے کے لیے کام کریں۔ اس طرح کی ورکشاپس ، بالخصوص کلائمیٹ چینج پر زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیں۔ کلائمیٹ چینج کے رپورٹرز ہمارے چیمپینز ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج گلوبل وارمنگ ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی کوئی ملکی سرحد نہیں ہوتی۔
    اس کمپین کا آغاز بھی کلائمیٹ چیمپئنز اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے کر رہے۔مارگلہ ہلز پر آگ کے واقعات میں تمام کلائمیٹ فورس نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔آنے والے ایک دو ماہ میں ورکشاپس کریں گے۔کاپ ۲۹ کی رپورٹنگ پر بھی تربیتی ورکشاپس کریں گے۔ میں آج فائر فائٹرز کو یاد کرونگی جو جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔پہلی بار آگ بجھانے کے لیے فورا سے پہلے ہیلی بھیجے گئے۔اگلا ایوارڈ شبیر کے نام سے ہوگا اور بیٹ رپورٹرز کی طرف سے نام ملنے کی منتظر ہوں۔وزیراعظم نے گلوبل وارمنگ اور ہیٹ ویو پر ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ہیٹ ویو پر ہائی لیول انٹر ڈیپارٹمنٹل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے آفیسرز شامل ہیں۔

    رپورٹ. محمد اویس،اسلام آباد

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

  • سعودی شہریوں سے موبائل فون چھینے والا ایک ملزم گرفتار

    سعودی شہریوں سے موبائل فون چھینے والا ایک ملزم گرفتار

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کے نوٹس پر اسلام آباد پولیس کا بروقت ایکشن۔اسلام آباد پولیس نے سیکٹر ایف ایٹ سے سعودی شہریوں سے موبائل فون چھینے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ۔

    اسلام آباد پولیس نے 12 گھنٹے کے اندر ملزم کو گرفتار کرکے دونوں موبائل فون برآمد کر لئے ہیں۔گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔اسلام آباد پولیس نے موبائل ٹیکنالوجی۔ کیمروں اور ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے ملزم کو ٹریس کیا۔آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور ڈی آئی جی علی رضا نے سعودی سفارت خانے جا کر برآمد شدہ موبائل فون متعلقہ حکام کے سپرد کئے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی۔ ڈی آئی جی علی رضا اور ان کی ٹیم کو شاباش دی۔وزیر داخلہ نے کہا اسلام آباد پولیس ملزم کی گرفتاری اور موبائل فون برآمد کرنے پر مبارکباد اور تحسین کی مستحق ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے متعلقہ پولیس ٹیم کو تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان بھی کیاہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ میں ڈاکوؤں نے سعودی شہریوں کو لُوٹ لیا تھا،پولیس کے مطابق سیکٹر ایف ایٹ میں ڈاکووں نے دوسعودی شہریوں سے لوٹ مار کی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے،

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ جیل کے واش روم میں گر گئے

    جامعہ کراچی کے واش روم سے طالب علم کی لاش برآمد،پوسٹمارٹم کی رپورٹ آ گئی

    دوران سفر جہازکے واش روم میں "گھناؤنا کام” کرنیوالا گرفتار

    عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے. سرفراز بگٹی

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    ہاسٹل کے بعد بیوٹی پارلر میں خفیہ کیمروں سے خواتین کی "نازیبا ویڈیو "بنانے کا واقعہ

  • جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستارکے خلاف مہم کیس میں وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے دوبارہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بنچ میں شامل ہیں، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ جنہوں نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا ان کا پتہ لگائیں، جو اصل لوگ ہیں ان کا تعین کریں، ہم آرڈر کر دیں گے آپ اصل ذمہ داروں کا تعین کریں، مہم کا آغاز کرنے والے لوگوں کے خلاف تحقیقات کریں، آپ نے ان کا تعین کرنا ہے جنہوں نے جج کی فیملی کا ڈیٹا سب سے پہلے شیئر کیا، ہم اس حوالے سے ایک مناسب آرڈر بھی جاری کر دیں گے۔

    جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ہی روز میں تین مختلف مہم چلائی گئیں؟ اگر ملک دشمنوں کی جانب سے فائیو جی وار شروع کر دی جائے، اگر ملک دشمن یہ الزام عائد کر دیں کہ آرمی چیف، صدر مملکت توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان الزامات کے نتیجے میں جلاؤ گھیراؤ ہو، بلڈنگز کو جلا دیا جائے تو کیا آئی ایس آئی ان ملک دشمن عناصر کو ٹریس کر سکے گی یا نہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہاں اور ناں کا سوال ہے، بتائیں آپ کی استعداد ہے کہ نہیں؟جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے پاس فائیو جی وار فیئر کے خلاف کوئی سافٹ ویئر موجود نہیں؟ آپ بتائیں کہ فائیو جی وار فیئر کا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کے پاس کیا وسائل موجود ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات خفیہ ہے تو سربمہر لفافے میں جمع کرا دیں۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایف آئی اے حکام کو کہا کہ آپ نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے، ایف آئی اے نے اس رپورٹ سے بہت بہتر رپورٹ جمع کرائی ہے ، ہم سپیریئر ایجنسی سے ویسا ہی کام کی توقع کر رہے تھے.جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے واقعی بہت کام کیا ہے،عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا گرین کارڈ والے کو امریکی شہری کہیں گے؟ امیگریشن حکام نے بتایا کہ وہ امریکی شہری نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کی انفارمیشن جو صرف ایف آئی اے کے پاس ہو سکتی تھی وہ کسی سسٹم سے نکال کر اپلوڈ ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹریول دستاویز پبلک ہوئی ہیں،عدالت نے سسٹم سے دستاویزات نکالے جانے پر ڈی جی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ سسٹم میں معزز جج کی یہ انفارمیشن کتنی بار چیک کی گئی؟ آپ نے بتانا ہے کہ یہ انفارمیشن کیسے لیک ہوئی؟جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی امیگریشن کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ہمارے پاس نہیں ہوتی،امیگریشن حکام نے بتایا کہ ہماری تکنیکی ٹیم آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کر دے گی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن کیلئے لاگ ان کیا گیا ہوگا وہ آپ نے بتانا ہے۔عدالت نے آئی ایس آئی سے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی،جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسٹینڈ لے لیا ہے کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب امریکا کی شہریت نہیں ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب شہریت نہیں ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی اور ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت کی تاریخ تحریری حکمنامہ میں ہوگی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں،پاکستان بار کونسل

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں،پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے تحریک انصاف کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض مسترد کر دیا

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستان بار کونسل پی ٹی آئی کے چیف جسٹس سے ان کے پارٹی کیسز سے الگ ہونے کے مطالبے کی مذمت کرتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کو مسترد کرتے ہیں،یہ تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دباؤ ڈالے کی گھناؤنی سازش ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی جارہی ہے، پاکستان بار کونسل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

    واضح رہے کہ یکم جون کو تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پارٹی کے کیسز سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھاکہ کور کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی کے کیسز سے الگ ہوں، اس معاملے پر سپریم کورٹ سے کب رجوع کرنا ہے اس کا حتمی فیصلہ قانونی ٹیم کرے گی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسریٰ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہوکر چیف جسٹس پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ۔شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ مائی لارڈ آپ اس بنچ سے الگ ہو جائیں ۔سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کا فیصلہ موجود ہے جس میں آپ پر عمران خان کے کیسز سننے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل کرنے اور سی ڈی اے کے آپریشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی،تحریک انصاف کے رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ،سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیئے،دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔ شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ تحریک انصاف کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

    سی ڈی اے وکیل نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود مانا انہوں نےکمرشل پلاٹ خریدا اور اس کا استعمال ہی تبدیل کردیا،کمرشل پلاٹ کو پارٹی کے لیے استعمال کیاگیا جس سے وہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، جتنی اجازت دی گئی انہوں نےاس کے اوپرمزید تعمیرات کیں، عدالت نے سی ڈی اے وکیل سے استفسار کیا کہ کون سےنوٹس میں کہا ہےکہ اس پلاٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا ؟ اگر کسی نے پلاٹ کرائے پر دیا ہوا ہو تو نوٹس کس کو جائےگا؟ہم نےکئی کیسز دیکھے جن میں سی ڈی اے والےکبھی ایک کو نوٹس کرتے ہیں کبھی دوسرے کو، آپ ایسے معاملات پرمالک اور کرایہ دارکو نوٹسزکیوں نہیں کرتے تاکہ معاملہ ایک ہی بارمیں ختم ہو۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے سماعت کی،جسٹس مسرت ہلالی طبیعت ناسازی کے باعث فل کورٹ کا حصہ نہیں ہیں ،سلمان اکرم راجہ اور فیصل صدیقی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آگئے ، فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی تنازع نہیں، کیونکہ وہاں ہماری کوئی نمائندگی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا 2 اپیلیں فائل کی گئی ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی دو اپیلیں ہم نے فائل کی ہیں، ایک میری اور دوسری خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے فائل کی گئی ،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا ایک کیس عدالتوں میں زیر التوا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کیس ہے تو ایڈووکیٹ جنرل استغاثہ بنتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کی کارروائی چلتی ہے تو کیا موقف ہوگا؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک درخواست پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر نے دائر کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اس پر کیا فیصلہ آئے گا وہ دیکھیں گے، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے کوئی نشست جیتی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی نہیں، سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں جیتی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں اور میرے ساتھی ججز کے سوال نوٹ کر لیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ پارٹی کسی کو نامزد کرے، سرٹیفکیٹ دے اور امیدوار کی بھی خواہش ہے کہ میں اس پارٹی سے آؤں اور الیکشن کمیشن اسے آزاد ڈیکلیئر کر دے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کس کو فریق بنایا گیا تھا اور فائدہ کس کو پہنچا، کس جماعت کو کتنی اضافی نشستیں ملیں وہ بتائیں، یہ بتائیں کہ یہ نشستیں کس کو گئیں؟ واضح ہے نشستیں سیاسی مخالفین کو گئی ہوں گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں، تفصیل دے دیں؟ فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں،سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ ، ایک پیپلزپارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں

    مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی مخالفت ،ن لیگ پیپلز پارٹی کی حمایت کر دی
    جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دستاویز کو درخواست میں لگایا ہواہے ،
    آپ کو پارٹی تسلیم کیا گیا وہ آ پ کا تیار کردہ دستاویز ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ دستاویز الیکشن کمیشن کا سرٹیفائیڈ ہے، عدالت نے کہا کہ کیا وہ سرٹیفائیڈ فہرست تھی جو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنی فہرست دی تھی لیکن اس کو مانا نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کی نمائندگی یہاں موجود ہے ؟ پیپلزپارٹی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،جے یو آئی کی جانب سے کامران مرتضٰی عدالت میں پیش ہوئے،خصوصی نشستوں سے متعلق کیس میں جے یو آئی نے اپنے وکیل سینٹر کامران مرتضی کے زریعے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے درخواست گزار یعنی پی ٹی آئی کے موقف کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی جماعت جے یو آئی پاکستان ہے یا ف؟کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایف نکل جائے تو کیا حیثیت ہو گی،کامران مرتضیٰ نے کہا کہ کسی بھی پارٹی سے کوئی بھی لیڈر نکل جائے تو حیثیت نہیں ہو گی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتادی،مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے سیاسی جماعتیں اضافی مخصوص نشستیں رکھنا چاہتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت آئین کے تحت اضافی مخصوص نشست نہیں لے سکتی،

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت بجلی چلی گئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو اب لاٸٹ بھی چلی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بجلی چلی گٸی تو پھر یہ جنریٹر سے کیوں نہیں آئی؟یہ ٹی وی اور لاٸٹس تو چل رہی ہے،

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خطاب نہ کریں، یہ نہ کریں، درخواست دینی ہے تو دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بولنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ”الیکشن کمیشن نے ان ممبران کو آزاد ڈیکلیئر نہیں کیا بلکہ سنی اتحاد کونسل کا ممبر نوٹیفائی کیا ہے” چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ "کیا دیگر جماعتیں آپکی تائیدکرتی ہیں؟”- وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مائی لارڈ ان کو مال غنیمت ملا ہے وہ کیوں ہماری تایئد کریں گے،15دسمبر کو الیکشن شیڈول جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لیا، پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی،کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں 2 دن کا اضافہ کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے بلے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہوگئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کرسکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے سیاسی جماعت ختم ہوگئی اور جنازہ نکل گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے بطور سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لیا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 218(3) پر فوکس بہت زیادہ رہتا ہے،کیا 17 فروری تک تمام جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا تھا، 2فروری کو الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دینے کیلئے درخواست جمع کرائی، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا، سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا گیا لیکن مخصوص نشستیں دینے سے انکار کردیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ درجنوں سیاسی جماعتوں نے کبھی جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے کوئی غلطی بھی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن کو درست کرنا چاہیے تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی،الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن کہتا ہے سنی اتحاد الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہوچکی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن نے منطق کے بغیر فیصلہ دیا،ایک سیاسی جماعت الیکشن لڑ رہی ہو تو اس سے مخصوص نشستیں کیسے واپس لے سکتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی خود جماعت ہے تو کیس ختم ہوگیا،پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں پھر سنی اتحاد کونسل کیسے لے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،یہ سارا معاملہ عوام کا ہے،عوام سے ان کا حق نہیں لیا جاسکتا،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں، لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کو چھوڑیں اپنے طریقے سے جواب دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شکر ہے ابھی آپ نے سوال نہیں پوچھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کیخلاف جا سکتا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 218 تین کا حوالہ دینا بہت پسند ہے،

    دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ عوام کا ہے، ٹیکنکلٹی کے ذریعے عوام کا حق نہیں لیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کو یہ غلطی خود درست کرنی چاہئے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل سے کہا کہ کہ آپ مزید بحث کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کیس پر بحث کریں، میں آپ کو ریسکیو کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ ریسکیو ہونا نہیں چاہتے، دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں،آپ آگے بڑھیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے،فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے، اس قسم کا بیان تسلیم نہیں کیا جاسکتا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا،

    ،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،جسٹس جمال مندو خیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ پی ٹی آئی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ کچھ دیر تک جمع کرا دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن غیر قانونی کام کرے تو کیا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے مطابق تین روز میں آزاد امیدوار کوئی جماعت چن سکتے ہیں، ہوسکتا ہے چار روز بعد پی ٹی آئی سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئی ہو،شمیولیت صرف آزاد ارکان کر سکتے ہیں،کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے آزاد امیدوار تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ آزاد امیدوار کے طور پر ہی نوٹیفائی ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی نکات کی بنیاد پر عوام کو ڈس فرنچائز نہیں کیا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اب غلطی تسلیم کرتے ہوئے آزاد ارکان کو دوبارہ تین دن کا وقت دیدے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلے کے نشان کو اتنا ہوا بنایا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ گمراہ ہوگئے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا، یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی نشست نہیں تھی،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،آپکے مطابق سنی اتحاد کی کوئی جنرل نشست تھی نہ ہی پی ٹی آئی کی،بلے کے نشان والے فیصلے کو نہ کسی نے پڑھا نہ ہی سمجھا،

    جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے ، میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، آپ نے آدھے گھنٹے سے کچھ بھی نہیں لکھوایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں پہلے حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں،آپ کا قلم سوکھنے نہیں دونگا،

    قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ دکھا دیں کس روز پی ٹی آئی نے درخواست کی اور سنی اتحاد کونسل نے منظور کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا تمام ریکارڈ دے دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک کاغذکے ٹکڑے سے کیسے مان لیں کہ سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہوگئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہوجائیں تو مخصوص نشستیں دی جانی ہیں ماضی میں ایک قانون آیا تھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن لڑنا اور پانچ فیصد ووٹ لینا لازم ہے ، وہ قانون بعد میں ختم کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا حقیقی پوزیشن یہی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی سارا تنازعہ یہی ہے،الیکشن کمیشن اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نشست حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکشن میں جیتنا ضروری ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت سے بھی نشستیں لی جا سکتی ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں گیا وہاں ایک گھنٹے میں وکیل دلائل مکمل کرتے ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں بھی ججز سوال پوچھ رہے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وقت مقرر کر دیں تو وکلاء اس کے اندر دلائل مکمل کر دینگے، یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے، بیگم جو وقت مقرر کرتی ہے میں اس سے آگے نہیں جاتا،

    غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ نشستیں خالی چھوڑ دیں نہ آپکو ملیں نہ کسی اور کو،آرٹیکل 51 کے مطابق نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی اور کو دینے سے نشستیں خالی چھوڑنا ہی بہتر ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایسی جماعت جو الیکشن نہ لڑے سیاسی جماعت کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہی نہیں تھی تو اس میں شمولیت کیسے ہوسکتی؟سنی اتحاد میں شمولیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ ضروری ہوگا کہ آرٹیکل 51 کی تشریح کیلئے ووٹرز کا حق بھی مدنظر رکھا جائے،اصل حق تو ووٹرز کا ہے باقی تو سب بعد کی باتیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ساری بحث سیاسی جماعتوں کے سیاق و سباق میں ہو رہی ہے،کیا الیکشن کمیشن ووٹرز کے حق کو متاثر کر سکتا ہے؟ غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلا واپس لیکر کہا بیٹنگ کرو،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ
    بلا جماعت سے لیا تھا بلے بازوں سے نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ امیدوار خود بلے کا نشان مانگ سکتے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اس نکتے پر لازمی سنیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں ہماری بلے کے بغیر بھی بلے بلے ہوگئی ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی،

    ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایک ٹیکس کیس میں بھی لارجر بنچ بنا ہوا ہے وہ منسوخ کر رہے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کیوں بنائی تھی،پیپلز پارٹی اور تلوار چھین لیے گئے تھے، مسلم لیگ ن کیساتھ بھی یہی ہوا ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، ایسی صورتحال میں قانون کی تشریح اسی تناظر میں ہی کرنی چاہیے سب کچھ سامنے بھی ہوتا ہے نظر بھی آ رہا ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حق دار کو اس کا حق واپس کرکے انہیں نشستوں کا دعویٰ کرنے دیا جائے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے لیکن ہر چیز یہاں آتی ہے،کوئی یہاں سے خوش اور کوئی ناراض جاتا ہے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،شاعر احمد فرہاد کی بازیابی اورعدالت میں پیشی سےمتعلق کیس ،جسٹس محسن اختر کیانی نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    تحریری حکمنامے میں عدالت نے کہا کہ وکیل نے بتایا کہ احمد فرہاد اب تک گھر نہیں پہنچے ہیں،وکیل کے مطابق احمد فرہاد مظفرآباد تھانے میں درج مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، وکیل کے مطابق احمد فرہاد کے اہل خانہ کی ان سے ملاقات کروائی گئی ،وکیل کے مطابق طبی وجوہات کی بنا پر احمد فرہاد کی صحت ٹھیک نہیں ہے، اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق احمد فرہاد 2 جون تک جسمانی ریمانڈ پر ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق جسمانی ریمانڈ پر ہونے کے باعث درخواست غیر موثر ہوچکی احمد فرہاد کو اغوا کرنے والوں کی تشخیص اور ان کیخلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی،لا افسر کے مطابق احمد فرہاد کی بازیابی کے بعد یہ استدعا اب موثر نہیں رہی،احمد فرہاد کی پیشی تک عدالت لا افسر کے موقف سے اتفاق نہیں کرتی،وکیل کے مطابق احمد فرہاد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی گئی ،وکیل کے مطابق کچھ روز میں احمد فرہاد کے ضمانت پر رہا ہونے کے امکانات ہیں، محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 7 جون تک ملتوی کی جاتی ہے،

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس،عمران خان،قریشی،اسد عمر ودیگر بری

    آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس،عمران خان،قریشی،اسد عمر ودیگر بری

    سیشن کور ٹ اسلام آباد، آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی
    عدالت نےسابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو مقدمات سے بری کردیا، سیشن کور ٹ اسلام آباد نے اسد عمر ،علی محمد خان اورمراد سعید کو بھی بری کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ احتشام عالم نے بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ گولڑہ میں 2 مقدمات درج تھے،اسد عمر اور علی محمد خان عدالت پیش ہو کر حاضری لگوائی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سب رہنماؤں کو بری کر دیا.

    قبل ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس خان نے 2022 میں تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے حوالے سے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمات میں عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی اور رہنماؤں کو مقدمے سے بری کر دیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر لانگ مارچ کے دوران احتجاج اور توڑ پھوڑ کے کیس میں عمران خان، فیصل جاوید، علی نواز اعوان ، سیف اللہ نیازی، زرتاج گل اور اسد عمر کو بری کیا،

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    واضح رہے کہ 2022 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کیے گئے تھے،مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،پولیس کے مطابق مقدمات تحریک انصاف کے ڈی چوک پر لانگ مارچ پر تھانہ کوہسار میں درج ہوئے ہیں دونوں مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان و دیگررہنماؤں کی ایما پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجناح ایونیو پر میٹرو اسٹیشن کو آگ لگائی گئی، ایکسپریس چوک پر سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا،درج مقدموں میں لکھا گیا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے،درختوں کو آگ لگائی، ڈنڈے اٹھا کر آنے والے مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • اسلام آباد  میں ڈاکوؤں نے سعودی شہریوں کو لُوٹ لیا

    اسلام آباد میں ڈاکوؤں نے سعودی شہریوں کو لُوٹ لیا

    اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ میں ڈاکوؤں نے سعودی شہریوں کو لُوٹ لیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق سیکٹر ایف ایٹ میں ڈاکووں نے دوسعودی شہریوں سے لوٹ مار کی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے،سعودی شہری سیکٹر ایف ایٹ کے پارک میں واک کر رہے تھے سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے اور 4 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ڈیجیٹل سرویلینس، سیلولر ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹلی جنس کو بروئے کار لایا جارہا ہے اور جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیرداخلہ محسن نقوی نے سعودی شہریوں سے لوٹ مار کا نوٹس لے لیا انہوں نے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کو فون کرکے واقعے کی تفصیلات لیں اور ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیا۔

    02 جون تاریخ کے آئینے میں

    ٹی 20 ورلڈکپ: ویسٹ انڈیز نے پاپوا نیوگنی کو 5 وکٹ سے شکست دے دی

    مسٹر بیسٹ کی بھارتی کمپنی کو شکست، یوٹیوب پر سب سے زیادہ سبسکرائبرز والے …

  • اسلام آباد میں کرائے کا مکان دیکھنے آئی خاتون کو مالک مکان نے زیادتی کا نشانہ بناڈالا

    اسلام آباد میں کرائے کا مکان دیکھنے آئی خاتون کو مالک مکان نے زیادتی کا نشانہ بناڈالا

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں کرائے کا مکان دیکھنے آئی چار بچوں کی ماں کو مالک مکان نے زیادتی کا نشانہ بناڈالا-

    باغی ٹی وی : افسوسناک واقعہ محلہ اکال گڑھ میں پیش آیا،تھانہ گنج منڈی پولیس نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور چار بچوں کی ماں ہے، مالک مکان شفاقت علی نے مکان دکھانے کے بہانے دوسری منزل پر خاتون کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا،شور مچانے پر خاتون کے سر کے بال کاٹ دیے اور جان سے مارنے کی دھمکی دی، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا ہے اور مدعیہ کا میڈیکل پراسس کیا جارہا ہے، ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

    اداکارہ روینہ ٹنڈن پر ہجوم کی حملہ آور ہونے کی کوشش،ویڈیو وائرل

    قبل ازیں پنجاب کے شہر علی پور میں 2 اوباش نوجوانوں نے 9 سالہ بچے سے مبینہ طور پر زیادتی کی اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی، پولیس نے بتایا کہ علی پور کے تھانہ سیت پور کی حدود شیخانی کے محلہ مخدوماں میں دو اوباش نوجوانوں نے مبینہ طور پر 9 سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا بچے کے چچا اسد عباس نے بتایا کہ ملزمان نے میرے بھتیجے کے ساتھ زیادتی کرکے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی۔ لواحقین نے ملزمان کے خلاف کارروائی کے لئے درخواست تھانے میں جمع کرا دی ہے تاحال نہ واقعہ کا مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی ملزمان گرفتار کیے گئے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے پر پاکستان میں سعودی سفیر کا ٹیم کیلئے منفرد …

    دوسری طرف وہاڑی کی نواحی بستی احمد یار میں پانچ سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی گئی، پولیس نے کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم حامد کو گرفتار کر لیاپولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو میڈیکل کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے پر پاکستان میں سعودی سفیر کا ٹیم کیلئے منفرد …