Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وفاقی وزیرداخلہ   کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمن کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کرم میں امن کے قیام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بعض عناصر نے جان بوجھ کر کرم مسئلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے گرینڈ جرگہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دیرینہ نیاز مندی ہے اور پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پارا چنار میں امدادی اشیاء کے قافلوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرم میں امن و سکون کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملکی مفاد میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟

  • بلاول   سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی   ملاقات

    بلاول سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک امریکہ تعلقات اور دو طرفہ امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سفیر کی سفارتی خدمات کو سراہا اور ان کے دور میں پاک امریکہ تعلقات کی مزید ترقی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ بلوم نے اپنے عہدے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے پاک امریکہ تعلقات میں مزید فروغ کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور دونوں ملکوں کے مابین موجودہ روابط کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔

    ڈونلڈ بلوم نے اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔آخر میں، بلاول بھٹو زرداری اور ڈونلڈ بلوم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید استحکام لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی، تاکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار شراکت داری قائم ہو سکے۔

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

  • وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم حال ہی میں رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب محمد بن زید آلنہیان سے ہونے والی اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی جانب سے 2 ارب امریکی ڈالرز کی ادائیگی، جو کہ اس سال جنوری میں واجب الادا تھی، کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ہماری معیشت کے لئے انتہائی خوش آئند ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تاریخی تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔

    وفاقی کابینہ نے ریوینیو ڈویژن کی سفارش پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انفرااسٹرکچر کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کریٹیکل انفرااسٹرکچر قرار دینے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انتہائی حساس ڈیٹا کو سائبر حملوں جیسا کہ ہیکنگ اور کسی بھی غیرقانونی مداخلت سے بچانا ہے۔ اس اقدام سے ایف بی آر کا حساس ڈیٹا مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

    فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامےمیں توسیع
    وفاقی کابینہ نے ہوا بازی ڈویژن کی سفارش پر بین الاقوامی ائیر لائین فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی اور دوبئی سے لاہور اور اسلام آباد پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامے (Temporary Operating Permit )میں 4 جنوری 2025 سے 3 فروری 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ کو وزارت بحری امور کی جانب سے 11 وفاقی وزارتوں /ڈویژنز کی گوادر بندرگاہ سے مارچ 2024 سے اب تک کے دوران پبلک سیکٹر درآمدات و برآمدات پر بریفنگ دی گئی- وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں کی رپورٹس کو بریفنگ کا حصہ بنا کر ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ درآمدات و برآمدات میں کسی بھی قسم کی تخصیص کے بغیر پبلک سیکٹر کی تمام درآمدات و برآمدات کا 60 فیصد حصہ گوادر بندرگاہ سے کیا جائے ۔

    وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک
    وفاقی کابینہ کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز کی جانب سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای-آفس کے نفاذ کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی-اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ای-آفس کو اس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یکم جنوری 2025 سے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک کر دیا گیا اور تمام فائلز موومنٹ اور دیگر خط و کتابت صرف ای-آفس استعمال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 21 وزارتوں/ڈویژنز میں ای- آفس کا نفاذ سو فیصد کر دیا گیا ہے۔ ای-آفس کے نفاذ سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ اسٹیشنری اور پیٹرول کی مد میں قومی خزانے کو فائدہ بھی پہنچے گا۔ ای-آفس کے نفاذ سے وزیر اعظم آفس میں سمری کی پراسیسنگ کا دورانیہ اب زیادہ سے زیادہ صرف تین دن تک محیط ہو چکا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر اسکولوں اور کالجوں کے لئے ری فربشڈ کروم بکس کی خریداری/حصول کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈینینس کے سیکشن 21ـ اے کے تحت استثنیٰ دے دیا- وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان کروم بکس کی خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی کروایا جائے۔

    وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ اور شینڈونگ روئی (Shandong Ruyi) گروپ چائینہ کے درمیان ٹیکسٹائل پارکس کے قیام کے حوالے سے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے وزارت خارجہ کی سفارش پر ڈپلومیٹک اکیڈیمی ، وزارت خارجہ جمہوریہ سربیا اور فارن سروس اکیڈیمی ، وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-

    وفاقی کابینہ کو کابینہ کمیٹی برائے پرائیویٹ حج آپریٹرز کورٹ کیسز کی سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے حج 2025 کے انتظامات موجودہ 46 منظمین کریں گے ۔کمیٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں کے لئے نئی حج پالیسی بنائی جائے۔ وفاقی کابینہ نے مذکورہ کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حوالے سے تمام کورٹ کیسز کو منتقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 31 دسمبر 2024 اور یکم جنوری 2025 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے مختلف آپشنز پر کام

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک  لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ان سیٹلائٹس کے کردار اور ان کے ذریعے ملک کے کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران شزا فاطمہ خواجہ نے ایل ای او سیٹلائٹ کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل ای او سیٹلائٹس کے ذریعے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھایا جا سکتا ہے اور یہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف پاکستان کی ضروریات کو پورا کرے بلکہ عالمی معیار کے مطابق بھی ہو۔

    اسٹارلنک، جو کہ ایک معروف سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے، کے لائسنس کی فراہمی اور اس کے لیے ریگولیٹری پیشرفت کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ اسٹارلنک کے لائسنس کی فراہمی پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس پر بھی بات چیت کی گئی کہ اس پروسیس کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستانی صارفین کو عالمی معیار کی انٹرنیٹ سروسز میسر آئیں۔
    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے کنسلٹنٹ کی تقرری کو چند ہفتوں میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو ہم آہنگ کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ ہو سکے۔

    وزارت آئی ٹی نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو عالمی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی موجودگی کو مستحکم کیا جا سکے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کا عالمی سطح پر ایک مربوط اور جدید فریم ورک ہونا ضروری ہے تاکہ ملک کی ٹیکنالوجی میں ترقی ہو اور عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا جا سکے۔

    اس اجلاس کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا تھا بلکہ ملک میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک مربوط اور مضبوط حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی بڑھائی جائے گی جو کہ پاکستان کے معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

  • یو اے ای نے  واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی  ، وزیراعظم

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں متعین کی جانے والی معاشی سفارتکاری کی کوششوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، اور پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات میں نئی جہتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خاص طور پر اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا جس میں وہ رحیم یارخان میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، اور ملاقات کو نہ صرف مفید بلکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستان کی معیشت کے استحکام میں ایک بڑی مدد ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور معاشی سفارتکاری کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی گواہی دیتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو چکا ہے اور ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں زراعت، برآمدات، کامرس اور دیگر اہم شعبوں میں ترقی کی جانب پیش رفت شامل ہے۔ خاص طور پر، ٹیکسٹائل کے شعبے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اڑان پاکستان ہوم گرون پروگرام کا آغاز ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ ملے گا، اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اسی طرح، سمیڈا کا کردار پاکستان کی خوشحالی اور ترقی میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ ملک میں توانائی کے بحران کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور اس مسئلے کا حل پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشنل تعلقات کے حوالے سے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ پاکستان کے برادارنہ تعلقات کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ایجنڈا تیار کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم نے کرم میں امن معاہدے کے بعد ایک افسوسناک واقعہ کا ذکر کیا جس میں قافلے پر حملہ کیا گیا اور ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) اور سیکیورٹی فورسز کے جوان زخمی ہو گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرم میں امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی یہ کوشش افسوسناک ہے اور حکومت اس پر سخت ردعمل ظاہر کرے گی۔وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے کے خلاف اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پاکستان انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گا تاکہ نہ صرف ملکی عوام کی حفاظت کی جا سکے، بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی عالمی سطح پر مضبوط بنایا جا سکے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حکومت پاکستان معاشی ترقی، عوامی خوشحالی اور عالمی تعلقات میں بہتری کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد ملک میں استحکام لانا اور پاکستانی عوام کو بہتر معاشی مستقبل فراہم کرنا ہے۔

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کی نوعیت اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مختلف اقدامات اور اصلاحات پر بات چیت کی گئی، جو مستقبل میں عدالتی عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم ہوں گے۔

    اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی عمل کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانا تھا۔عدالتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا گیا تاکہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں عوامی انصاف کی رسائی کو وسیع کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی نظام تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے، تاکہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔عدالتی شفافیت اور تیز انصاف کے حوالے سے اصلاحات کے بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو نہ صرف شفاف بنایا جائے گا بلکہ عوام کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیسز کے التواء کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدامات کیسز کی جلد سماعت اور ان کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔ عوام سے تجاویز لینے کے لیے "آن لائن فیڈبیک فارم” کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی آراء اور شکایات کو براہ راست عدلیہ تک پہنچا سکیں اور عدالتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں عدلیہ کے وقار کو عالمی سطح پر بحال کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ورلڈ جسٹس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کا عزم کیا ہے، تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں مکمل اعتماد ہو۔اجلاس میں عدلیہ کے افسران کی تجاویز اور آراء پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

    اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کی بہتری کی طرف اہم قدم ہیں، بلکہ عوام کے لیے انصاف کی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات جلد نافذ کی جائیں گی اور عدلیہ میں اصلاحات کی یہ راہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،بچوں سے زیادتی ، چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور

    بچوں کا جنسی استحصال،برطانوی وزیراعظم ایلون مسک کی پوسٹوں پر پھٹ پڑے

  • بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات پر سنجیدہ ہے تو ان کے نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ صرف وقت ضائع کرنے کا عمل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں آیا اور ان کی مذاکراتی کمیٹی صرف دو مطالبات پر بات کر رہی ہے، جو پہلے ہی حکومت کو بتا دیے گئے ہیں۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ "میرے پاس میری مذاکراتی کمیٹی حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں لے کر آئی ہے، اور اگر حکومت انہیں ملاقات کی اجازت دیتی ہے، تو وہ مجھ سے بات کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو اپنی سنجیدگی دکھانی ہوگی اور ان کے مطالبات پر بات کرنی ہوگی تاکہ ایک نتیجے تک پہنچا جا سکے۔عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اس کیس کا فیصلہ کیوں نہیں سنایا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ "یہ مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میں کسی صورت میں ڈیل نہیں کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ "یہ جب بھی فیصلہ سنائیں گے، انہیں بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ بشریٰ بی بی پر مذاکرات کرنے کا کوئی الزام درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو بھی مذاکرات کا عمل ہوگا، وہ میری مذاکراتی ٹیم کے ذریعے ہوگا اور میں خود اس کے حتمی فیصلے کروں گا۔”عمران خان نے جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لا کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ "ان کا مارشل لا اتنا بدترین نہیں تھا، اُس دور میں میڈیا کو آزادی تھی۔ میں خود بھی اُس دور میں جیل گیا تھا۔”

    دوسری جانب، تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اس بات سے آگاہ کیا۔ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کل عمران خان سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ اس ملاقات کے بعد آگے کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔

    عمران خان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل میں اب مکمل طور پر "لیٹ” چکے ہیں

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا