Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • 2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ، جو دنیا بھر میں سفر کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ قرار دیا گیا ہے، 2025 میں سنگاپور کے پاس ہے۔ سنگاپور اپنے پاسپورٹ کو دوبارہ سر فہرست رکھنے میں کامیاب ہوا ہے اور اب اس کے شہریوں کو 227 مقامات میں سے 195 پر ویزا کے بغیر داخلے کی سہولت حاصل ہے، جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہریوں سے زیادہ ہے۔

    جاپان دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے پاسپورٹ کے حامل افراد کو 193 مقامات پر ویزا فری داخلے کی اجازت ہے۔ جاپان نے چین کے ساتھ ویزا فری معاہدہ دوبارہ بحال کیا ہے، جس سے اس کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔ چین کے ساتھ یہ معاہدہ کووِڈ-19 کی بندشوں کے بعد پہلی بار بحال ہوا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک جیسے فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، فن لینڈ اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن پر ہیں، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 192 مقامات پر ویزا فری داخلہ حاصل ہے۔چوتھی پوزیشن یورپی یونین کے سات ممالک کے پاس ہے جن کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 191 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ ان ممالک میں آسٹریا، ڈنمارک، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن شامل ہیں۔پانچویں پوزیشن پر بیلجیم، نیوزی لینڈ، پرتگال، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ ہیں، جن کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 190 مقامات پر ویزا فری رسائی حاصل ہے۔

    جہاں دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹس کے حامل ممالک کی فہرست نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کی، وہیں افغانستان 106ویں نمبر پر ہے، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو صرف 26 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ شام اور عراق کے پاسپورٹس بھی اس فہرست میں کمزور پوزیشن پر ہیں۔

    ہینلے اینڈ پارٹنرز کے چیئرمین کرسچن ایچ کیلن نے کہا کہ شہریوں کے حقوق اور ان کی نقل مکانی کی سہولت پر نئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے غور و فکر کی ضرورت ہے، کیونکہ قدرتی آفات اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    یو اے ای نے 2015 سے اب تک 72 نئے ممالک کے لیے ویزا فری رسائی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا پاسپورٹ 32 درجے اوپر چلا گیا ہے اور اب یہ 10ویں نمبر پر ہے۔چین نے بھی اس فہرست میں بہتری دیکھی ہے اور 2015 میں 94ویں نمبر سے بڑھتے ہوئے اب 2025 میں 60ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

    گلوبل پاسپورٹ پاور رینک 2025
    سنگاپور (195 مقامات)
    جاپان (193 مقامات)
    فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، فن لینڈ، جنوبی کوریا (192 مقامات)
    آسٹریا، ڈنمارک، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے (191 مقامات)
    بیلجیم، نیوزی لینڈ، پرتگال، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ (190 مقامات)
    یونان، آسٹریلیا (189 مقامات)
    کینیڈا، پولینڈ، مالٹا (188 مقامات)
    ہنگری، چیکیا (187 مقامات)
    ایسٹونیا، امریکہ (186 مقامات)
    لتھونیا، لیٹویا، سلووینیا، متحدہ عرب امارات (185 مقامات)

    ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے جنوری سے جون 2025 کے لیے جاری کی گئی عالمی پاسپورٹس کی طاقت کی فہرست کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کے 33 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس فہرست میں ویزا فری رسائی کو تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں "حقیقی ویزا فری سفر”، "ویزہ آن ارائیول” اور "الیکٹرونک ٹریول اتھارٹی” (ای ٹی اے) شامل ہیں۔

    حقیقی ویزا فری سفر: اس میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کو کسی قسم کا ویزا یا پیشگی انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    ویزہ آن ارائیول: ان ممالک میں پاکستانی شہریوں کو ان کے پہنچنے پر ویزا دیا جاتا ہے۔
    الیکٹرونک ٹریول اتھارٹی (ای ٹی اے): ان ممالک میں پاکستانی شہریوں کو الیکٹرانک طریقے سے ویزا یا اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    پاکستانی پاسپورٹ کو جن 12 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے، ان میں شامل ہیں
    بارباڈوس: یہ کیریبئین جزائر کا ایک ملک ہے جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    جزائر کک: جنوبی بحرالکاہل کا یہ ملک بھی پاکستانی شہریوں کو ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے۔
    ڈومینیکا: کیریبئین جزائر کا ایک چھوٹا ملک ہے، جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    ہیٹی: ایک اور کیریبئین جزیرہ نما ملک ہے، جہاں پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
    مڈغاسکر: افریقہ کا چوتھا سب سے بڑا جزیرہ اور دنیا کا مشہور سیاحتی مقام، یہاں بھی پاکستانی شہری بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔
    مائیکرو نیشیا: بحر الکاہل میں واقع یہ ملک پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری ہے۔
    مانٹسریٹ: یہ برطانیہ کے زیر انتظام جزائر ہیں، جہاں پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
    نیووے: جنوبی بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل یہ ملک بھی پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے۔
    روانڈا: یہ افریقی ملک پاکستانی شہریوں کو ویزا فری رسائی کی سہولت دیتا ہے۔
    سانٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز: یہ کیریبئین کا ایک چھوٹا سا ملک ہے، جہاں پاکستانی بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو: کیریبئین کے اس ملک میں بھی پاکستانیوں کے لیے ویزا فری رسائی ممکن ہے۔
    وانواتو: یہ آسٹریلیا کے قریب واقع جزائر پر مشتمل ملک ہے، جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔

    گرچہ پاکستانی پاسپورٹ کو ویزا فری رسائی حاصل ہے، مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان ممالک میں جانے کے لیے پاسپورٹ کی درست حالت اور مدتِ معیاد کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض ممالک میں دیگر ضروریات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ صحت کی حالت، مالی حیثیت یا پرواز کی بکنگ،پاکستانیوں کے لیے یہ ایک مثبت ترقی ہے کہ عالمی سطح پر ان کے پاسپورٹ کو ویزا فری رسائی حاصل ہے، جو بین الاقوامی سفر کے مواقع کو مزید وسیع کرتا ہے۔

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    نائیجیریا کا سب سے بڑا شہر موسم سرما کی پارٹی کی منزل

    دہلی ایئر پورٹ پر شہری گرفتار، سامان سے مگرمچھ کی کھوپڑی برآمد

    مرکزی مسلم لیگ کا یونین کونسلز کی سطح پر رکنیت سازی کیمپ لگانے کا فیصلہ

  • ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، وزیراعظم

    ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آج ان لینڈ ریونیو کے اپیلیٹ ٹربیونلز کے امور پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ان لینڈ ریونیو اپیلیٹ ٹربیونلز میں کی جانے والی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اصلاحات کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ عدالتوں میں رکی ہوئی محصولات کے قانونی مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) محصولات کے مقدمات کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ اس عمل میں مزید تاخیر نہ ہو۔وزیراعظم نے اپیلیٹ ٹربیونلز کے حوالے سے ایک اور اہم بات کی کہ ان میں بین الاقوامی معیار کی افرادی قوت کو مسابقتی تنخواہوں، مراعات اور پیشہ ورانہ ٹیلنٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جائے تاکہ ٹیکس کے مقدمات کا فوری حل ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین ٹیلنٹ کو تعینات کر کے محصولات کے کیسز کو تیزی سے حل کیا جائے اور اس کام میں کسی بھی قسم کی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے ایف بی آر کی اصلاحات کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تیزی سے کام جاری ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے اس عمل میں خاطر خواہ پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کراچی میں حال ہی میں شروع کیے گئے "فیس لیس اسسمنٹ نظام” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے ذریعے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوا ہے اور کسٹمز کلیئرنس کے عمل میں بھی وقت کی کمی آئی ہے۔وزیراعظم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک و قوم کی ایک ایک پائی کا تحفظ کرے گی اور ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، تاہم غریب عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک، اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم کے اس اجلاس سے یہ واضح ہوا کہ حکومت اپیلیٹ ٹربیونلز کے معاملات میں بہتری لانے اور ایف بی آر کی اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ ملک میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور اقتصادی ترقی میں مدد ملے۔

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

  • سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز، جو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی، سوا چار سال کے بعد ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس پرواز کا آغاز وزیر دفاع خواجہ آصف کی موجودگی میں ہوا، جنہوں نے مسافروں کو الوداع کرتے ہوئے اس تاریخی موقع پر اہم باتیں کیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پیرس کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی بیان بازی نے پی آئی اے کو بہت نقصان پہنچایا، اور اس کے باوجود پی آئی اے نے سول ایوی ایشن کے ساتھ مل کر محنت کی اور 4 سال کے دوران کئی سو ارب روپے کا خسارہ اٹھایا۔وزیر ہوابازی خواجہ آصف نے پرواز کو خود بھی وزٹ کیا ،وزیر ہوابازی نے پرواز پی کے 749 کے مسافروں سے بات چیت بھی کی۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق، پہلی پرواز جو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی، وہ دن کے بارہ بجے روانہ ہوئی ہے۔ پیرس جانے اور آنے والی پہلی اور دوسری پروازوں کی فلائٹ بکنگ مکمل ہو چکی ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پی آئی اے کی پروازوں کے لیے عوام میں بڑی دلچسپی ہے۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق، وہ پیرس کے لیے ہفتے میں دو براہ راست پروازیں چلائے گی، اور مسافروں کو ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس میں موبائل فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

    یورپ کی فضاﺅں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا ،خواجہ آصف
    اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس پرواز کی روانگی سے قبل ایک تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی محنت کو سراہا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازیں اب یورپ کی فضاؤں میں بھی پرواز کریں گی، اور وہاں سبز ہلالی پرچم لہراے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے برطانیہ میں بھی تین مقامات پر اپنی پروازیں آپریٹ کرے گی۔خواجہ آصف نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ پی آئی اے پر اس وقت 800 ارب روپے کا قرض ہے، اور اس کے باوجود پی آئی اے نے اپنی خدمات میں بہتری لانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، قومی ایئر لائن پاکستانیوں کی میتیں بغیر کسی چارجز کے مفت لے کر آتی تھی لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے اوور سیز پاکستانی اس سہولت سے محروم ہو گئے تھے۔ پورے یورپ کے لئے قومی ایئر لائن کی پروازیں بحال ہو گئی ہیں، یورپ کی فضاﺅں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا ہے، ایک غیر ذمہ دار بیان نے قومی ایئر لائن کو بہت نقصان پہنچایا، ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔

    یہ پرواز پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں کی دوبارہ بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی، اور اس کے ذریعے نہ صرف قومی ایئر لائن کی ساکھ میں بہتری آئے گی، بلکہ پاکستانی شہریوں کو بھی بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی۔

    وزیرِاعظم کی پی آئی اے کی پیرس کیلئے پہلی پرواز کی روانگی پر عوام کو مبارکباد
    اسلام آباد: وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی کے بعد پیرس کیلئے پہلی پرواز کی روانگی پر عوام کو مبارکباد دی۔ وزیرِاعظم نے اس اہم موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک بڑی سہولت حاصل ہوگی، کیونکہ وہ اب براہِ راست پروازوں کے ذریعے اپنے وطن واپس جا سکیں گے اور دیگر اہم مقامات تک بھی آسانی سے سفر کر سکیں گے۔

    وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کے لئے پروازوں کی بندش سے قومی ایئرلائن کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تھا اور اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی تھی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے موجودہ حکومت نے پی آئی اے کا تشخص بحال کیا ہے اور اب یہ قومی ایئرلائن ترقی کی جانب گامزن ہے۔شہباز شریف نے اس کامیابی کے حوالے سے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ ہوا بازی و وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، اور متعلقہ تمام اداروں کے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا اور انہیں تحسین کے لائق قرار دیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی محنت اور عزم کی بدولت پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی ممکن ہوئی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سپریم کورٹ کی جیل اصلاحاتی کمیٹی کی ممبر خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور پولیس کو حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت میں خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پر سماعت کے دوران آیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست گزار اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جا سکے۔دورانِ سماعت، خدیجہ شاہ کی وکیل آمنہ علی نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکلہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فوری فراہمی ضروری ہے تاکہ ان کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کو ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کا تدارک کیا جائے۔

    عدالت نے درخواست کو سننے کے بعد اس پر فیصلہ دیتے ہوئے ایف آئی اے اور پولیس کو خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا اور کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    شہزادہ ولیم کا کیٹ مڈلٹن کی 43ویں سالگرہ پر خصوصی پیغام

    18 برس بعد دوسری شادی کرنیوالی خاتون نے اپنی شرائط بتا دیں

  • وفاقی وزیرداخلہ   کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمن کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کرم میں امن کے قیام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بعض عناصر نے جان بوجھ کر کرم مسئلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے گرینڈ جرگہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دیرینہ نیاز مندی ہے اور پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پارا چنار میں امدادی اشیاء کے قافلوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرم میں امن و سکون کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملکی مفاد میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟

  • بلاول   سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی   ملاقات

    بلاول سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک امریکہ تعلقات اور دو طرفہ امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سفیر کی سفارتی خدمات کو سراہا اور ان کے دور میں پاک امریکہ تعلقات کی مزید ترقی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ بلوم نے اپنے عہدے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے پاک امریکہ تعلقات میں مزید فروغ کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور دونوں ملکوں کے مابین موجودہ روابط کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔

    ڈونلڈ بلوم نے اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔آخر میں، بلاول بھٹو زرداری اور ڈونلڈ بلوم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید استحکام لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی، تاکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار شراکت داری قائم ہو سکے۔

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

  • وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم حال ہی میں رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب محمد بن زید آلنہیان سے ہونے والی اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی جانب سے 2 ارب امریکی ڈالرز کی ادائیگی، جو کہ اس سال جنوری میں واجب الادا تھی، کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ہماری معیشت کے لئے انتہائی خوش آئند ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تاریخی تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔

    وفاقی کابینہ نے ریوینیو ڈویژن کی سفارش پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انفرااسٹرکچر کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کریٹیکل انفرااسٹرکچر قرار دینے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انتہائی حساس ڈیٹا کو سائبر حملوں جیسا کہ ہیکنگ اور کسی بھی غیرقانونی مداخلت سے بچانا ہے۔ اس اقدام سے ایف بی آر کا حساس ڈیٹا مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

    فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامےمیں توسیع
    وفاقی کابینہ نے ہوا بازی ڈویژن کی سفارش پر بین الاقوامی ائیر لائین فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی اور دوبئی سے لاہور اور اسلام آباد پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامے (Temporary Operating Permit )میں 4 جنوری 2025 سے 3 فروری 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ کو وزارت بحری امور کی جانب سے 11 وفاقی وزارتوں /ڈویژنز کی گوادر بندرگاہ سے مارچ 2024 سے اب تک کے دوران پبلک سیکٹر درآمدات و برآمدات پر بریفنگ دی گئی- وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں کی رپورٹس کو بریفنگ کا حصہ بنا کر ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ درآمدات و برآمدات میں کسی بھی قسم کی تخصیص کے بغیر پبلک سیکٹر کی تمام درآمدات و برآمدات کا 60 فیصد حصہ گوادر بندرگاہ سے کیا جائے ۔

    وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک
    وفاقی کابینہ کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز کی جانب سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای-آفس کے نفاذ کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی-اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ای-آفس کو اس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یکم جنوری 2025 سے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک کر دیا گیا اور تمام فائلز موومنٹ اور دیگر خط و کتابت صرف ای-آفس استعمال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 21 وزارتوں/ڈویژنز میں ای- آفس کا نفاذ سو فیصد کر دیا گیا ہے۔ ای-آفس کے نفاذ سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ اسٹیشنری اور پیٹرول کی مد میں قومی خزانے کو فائدہ بھی پہنچے گا۔ ای-آفس کے نفاذ سے وزیر اعظم آفس میں سمری کی پراسیسنگ کا دورانیہ اب زیادہ سے زیادہ صرف تین دن تک محیط ہو چکا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر اسکولوں اور کالجوں کے لئے ری فربشڈ کروم بکس کی خریداری/حصول کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈینینس کے سیکشن 21ـ اے کے تحت استثنیٰ دے دیا- وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان کروم بکس کی خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی کروایا جائے۔

    وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ اور شینڈونگ روئی (Shandong Ruyi) گروپ چائینہ کے درمیان ٹیکسٹائل پارکس کے قیام کے حوالے سے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے وزارت خارجہ کی سفارش پر ڈپلومیٹک اکیڈیمی ، وزارت خارجہ جمہوریہ سربیا اور فارن سروس اکیڈیمی ، وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-

    وفاقی کابینہ کو کابینہ کمیٹی برائے پرائیویٹ حج آپریٹرز کورٹ کیسز کی سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے حج 2025 کے انتظامات موجودہ 46 منظمین کریں گے ۔کمیٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں کے لئے نئی حج پالیسی بنائی جائے۔ وفاقی کابینہ نے مذکورہ کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حوالے سے تمام کورٹ کیسز کو منتقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 31 دسمبر 2024 اور یکم جنوری 2025 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے مختلف آپشنز پر کام

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک  لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ان سیٹلائٹس کے کردار اور ان کے ذریعے ملک کے کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران شزا فاطمہ خواجہ نے ایل ای او سیٹلائٹ کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل ای او سیٹلائٹس کے ذریعے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھایا جا سکتا ہے اور یہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف پاکستان کی ضروریات کو پورا کرے بلکہ عالمی معیار کے مطابق بھی ہو۔

    اسٹارلنک، جو کہ ایک معروف سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے، کے لائسنس کی فراہمی اور اس کے لیے ریگولیٹری پیشرفت کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ اسٹارلنک کے لائسنس کی فراہمی پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس پر بھی بات چیت کی گئی کہ اس پروسیس کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستانی صارفین کو عالمی معیار کی انٹرنیٹ سروسز میسر آئیں۔
    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے کنسلٹنٹ کی تقرری کو چند ہفتوں میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو ہم آہنگ کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ ہو سکے۔

    وزارت آئی ٹی نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو عالمی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی موجودگی کو مستحکم کیا جا سکے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کا عالمی سطح پر ایک مربوط اور جدید فریم ورک ہونا ضروری ہے تاکہ ملک کی ٹیکنالوجی میں ترقی ہو اور عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا جا سکے۔

    اس اجلاس کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا تھا بلکہ ملک میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک مربوط اور مضبوط حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی بڑھائی جائے گی جو کہ پاکستان کے معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ