Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • نیو  گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں ائیرپورٹ کی تعمیر، اس کی فعالیت اور علاقے میں اقتصادی ترقی کے امکانات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ چین اور پاکستان کے مابین تاریخی اور مثالی دوستی کی ایک عظیم مثال ہے۔وزیراعظم نے اجلاس میں ائیرپورٹ کی تعمیر پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "گوادر کا نیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ چین اور پاکستان کے درمیان اس شراکت داری کی علامت ہے جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ اقتصادی ترقی کی نئی راہیں بھی کھول دی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیار کی جدید سہولتوں سے آراستہ یہ ائیرپورٹ نہ صرف گوادر بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ "یہ ائیرپورٹ نہ صرف گوادر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گا بلکہ پورے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے لیے بھی اقتصادی فوائد کا سبب بنے گا۔”

    وزیراعظم نے اجلاس میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو ایک مصروف ٹرانزٹ پوائنٹ بنانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ "ائیرپورٹ کی فعالیت کو بڑھانے کے لیے ہمیں ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ یہ ائیرپورٹ نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کا مرکز بن سکے بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرے۔”وزیراعظم نے گوادر ائیرپورٹ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دیگر علاقوں کے درمیان رابطہ سڑکوں کو بہتر بنانے کی ہدایت دی تاکہ ائیرپورٹ کی سہولت کا فائدہ پورے علاقے کو پہنچ سکے۔ "ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ گوادر ائیرپورٹ تک پہنچنے کے لیے سڑکوں کی صورتحال بھی بہترین ہو تاکہ وہاں کی معیشت کو مزید تقویت مل سکے۔”

    وزیراعظم نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ "سکیورٹی ایک اہم پہلو ہے، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ائیرپورٹ پر داخلی اور خارجی سکیورٹی کا ہر پہلو مضبوط ہو تاکہ عالمی سطح پر اعتماد اور اطمینان حاصل کیا جا سکے۔”وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل اور اس کی کامیاب فعالیت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کا نیا ایئرپورٹ نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو بھی مزید بڑھائے گا۔

    مریم نواز کے خوبصورت انداز،ایک بار پھر سوشل میڈیا کو ہائی جیک کر لیا

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

  • مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے میں قانونی طور پر جیت چکا ہوں میرے کیس فائنل سٹیج پر ہیں میں ڈیل نہیں کروں گا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا، 9 مئی کو جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہےانھوں نے 9 مئی کرایا ہے۔دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو 9 مئی میں گرفتار کیا گیا لیکن 9 مئی کو جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی انہیں آپ نے کیسے معاف کردیا، جس سے واضح ہے یہ ڈرامہ صرف پارٹی توڑنے کیلئے تھا،ہمارے 2یہ مطالبات ہیں کہ جو ڈیشنل کمیشن بنائیں اور یہ بےگناہ لوگ جو آپ نے جیلوں میں بھریں ہوئے ہیں ان کو رہا کریں۔جب ان کو رہا کر دیں گے پھر اگر آپ نے بات کرنی ہو گی میرے سے بات کریں،عمران خان نے کہا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ کے پہلے کیس جیسا ہے۔القادر یونیورسٹی کیس میں چھ تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کو انہوں نے سزا سنانی ہے۔القادر کا کیس اور توشہ خانہ ٹو اعلی عدالتوں میں ختم ہو جائینگے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے عدلیہ کا مذاق بنایا گیا ہے،بانی یہ پوچھ رہے ہیں مجھے ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے جب میں کیسز لڑ رہا ہوں۔ کسی باہر کے ملک کے کہنے پر ڈیل نہیں کرونگا۔

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

  • اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کی بین الاقوامی حمایت کے حوالے سے ایک بیان میں سخت تنقید کی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت ان تمام ممالک سے آ رہی ہے جو اسرائیل کے کھلے حامی ہیں، اور جن ممالک کی حمایت کی بدولت اسرائیل کا وجود قائم ہے۔ ان ممالک نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی بلکہ وہ خود فلسطینیوں کے قتل عام کے سہولت کار ہیں۔ ان ممالک سے جو افراد عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں، یا تو وہ خود صیہونی ہیں یا پھر اسرائیل کی مسلم دشمن پالیسیوں کے کھلے طور پر حامی ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یا پھر یہ ممالک اور افراد کسی ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے؟ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ممالک اور افراد چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو لپیٹ کر اسے اپنے مالکوں کی ‘کلائنٹ اسٹیٹ’ بنا لیا جائے، جو ان کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک بڑی سازش کا شکار ہو رہا ہے، اور اس سازش کو عملی طور پر مکمل کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کے حمایتیوں کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور ایٹمی صلاحیت کے خلاف کچھ طاقتیں ایک پیچیدہ کھیل کھیل رہی ہیں۔خواجہ آصف نے عمران خان کے عالمی تعلقات اور ان کی سیاست پر گہرے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور طاقت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حالیہ جوڑ توڑ صرف داخلی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی سطح پر ایک گہری سازش ہو سکتی ہے، جس میں کچھ بیرونی طاقتیں اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کو ایک کمزور ریاست میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔عمران خان کی غیر متوقع حمایت میں وہ ممالک اور افراد شامل ہیں جو فلسطین کے مسئلے پر مکمل خاموش ہیں اور جو اسرائیل کے حق میں کھل کر بات کرتے ہیں،

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو )، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے امور زیر بحث آئے،وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ بلنگ کے نظام میں شفافیت لائی جاسکے، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اوور بلنگ کسی طور قابل قبول نہیں ؛ اوور بلنگ میں ملوث افسران کے خلاف سخت کاروائی ہو گی ،بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں. وزیراعظم نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی کے عمل میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انتہائی شفاف عمل کے ذریعے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے،بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں افرادی قوت کی بھرتی میرٹ پر کی جائے ؛ بھرتیوں کے عمل میں شفافیت پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،نیپرا کے دیئے گئے ٹارگٹ کے حصول کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

    اجلاس کو لیسکو، پیسکو اور فیسکو کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں نومبر تک لیسکو کی ریکوری 96.82 فیصد، پیسکو کی ریکوری 87.98 فیصد اور فیسکو کی ریکوری 97.57 فیصد رہی ،مالی سال 2024-25 میں نومبر تک ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز کے حوالے سے لیسکو 13.04 فیصد، پیسکو 33 فیصد جبکہ فیسکو 6.01 فیصد ہے،لیسکو نے 223365 تھری فیز اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنے ہیں جن میں سے 49470 کی تنصیب ہو چکی ہے ،پیسکو نے 152559 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنی ہے جن میں سے 51173 کی تنصیب ہو چکی ہے ،فیسکو نے 192311 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنی ہے جن میں سے 11276 کی تنصیب ہو چکی ہے،لیسکو ، پیسکو اور فیسکو کے صارفین کو شکایت کے ازالے اور دیگر خدمات کے حوالے سے کال سینٹرز ، ای میلز ، ویب سائٹس ، انٹریکٹو وائس رسپانس ، نیپرا کی موبائل اور ویب سروسز کی سہولیات حاصل ہیں،بجلی کی ترسیل کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایات کے حوالے سے ہیلپ لائن 118 کی تمام موبائل فون آپریٹرز سے مفت رسائی یقینی بنائی جا رہی ہے،اس مالی سال نومبر تک لیسکو نے 99.2 فیصد، پیسکو نے 99.9 فیصد اور فیسکو نے 99.7 فیصد تک شکایات کیں

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

  • پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    اسلام آباد: حکومت نے ایک بڑی کاروائی کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ملک کے سب سے امیر 10 فیصد افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں ٹیکس چوری کی ہے۔ ان افراد کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار تک پہنچتی ہے، اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ہر ایک تقریباً 64 لاکھ پاکستانی روپے سالانہ ٹیکس چوری کرتا ہے۔

    اس فہرست میں سے حکومت نے مزید 1 لاکھ 90 ہزار افراد کو نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کاروباری شخصیت، زمینوں کے مالکان اور بڑی کمپنیوں کے مالکان ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک سے باہر ہیں اور ان کی دولت کا بیشتر حصہ غیر قانونی ذرائع سے آ رہا ہے۔

    پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کی شرح بہت کم ہے، اور ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس کے نظام کو مضبوط بنانے اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ایف بی آر نے ان افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور ان پر نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ٹیکس کی ادائیگیاں مکمل کریں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم سے ملک کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے اور اس رقم کو عوامی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    یہ خبر ملکی معیشت کے حوالے سے ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے اور عوام میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے جو کرپشن کے خلاف ایک سنگین کارروائی کی صورت اختیار کر رہا ہے، جبکہ کچھ افراد اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات معاشی طبقاتی فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کے بعد مزید افراد کی شناخت کی جائے گی جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس چوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوامی خدمات میں اضافہ کیا جا سکے۔

    فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

  • وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں دو اہم صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق، کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری دی۔

    کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی ہے ، وفاقی کابینہ نے مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی بھی منظوری دی ہے جس کے ذریعے بینکوں کے 70 ارب روپے کے اضافی منافع پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بینکوں کے منافع کے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ ان منافعوں پر اضافی ٹیکس لگایا جا سکے۔ اس آرڈیننس کا مقصد بینکوں سے اضافی آمدنی حاصل کرنا اور حکومت کی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ اور شہریت کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی،پاکستان میں پانچ سال قیام شہریت کیلئے ضروری قرار دے دئے گئے،بیرون ملک بھیک مانگنے والے کو 50 ہزار جرمانہ اور پاسپورٹ کی ضبطگی بھی ہوگی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ان دونوں آرڈیننسز کی منظوری کو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف مالیاتی سسٹم کی بہتری آئے گی بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو۔کابینہ کے دیگر فیصلے وفاقی کابینہ نے مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا اور دیگر فیصلے بھی کیے جن میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ شامل تھا۔

    انسانی سمگلنگ ،وزیراعظم کا ملوث تمام افراد کو حراست میں لینے کا حکم

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

  • خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان افغانستان سے کام کر رہی ہے خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں خواہش ہے افغانستان سے بہتر تعلقات ہوں۔

    وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بطور پڑوسی افغانستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن بدقسمتی سے کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی وہاں سے آپریریٹ کر رہی ہے جو ناقابل قبول ہے،پارا چنار میں وفاقی حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات پہنچائیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم سے مریضوں کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا،سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف پوری طرح صف آرا ہیں،افغانستان کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک معاشی اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں لیکن افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں حملے کر رہے ہیں،افغانستان کو بارہا کہا کہ کالعدم تنظیم کو وہاں سے آپریٹ کرے گی تو یہ قبول نہیں، افغان حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف ٹھوس حکمت علی پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی سالمیت کے بھرپور دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران بے نظیر بھٹو شہید کو تاریخی خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو جمہوریت کی علمبردار، مفاہمت کی مضبوط حامی اور استقامت کی علامت بنیں، میثاق جمہوریت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پائیدار سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے،آج ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی 17ویں برسی منا رہے ہیں۔ میں ان کے خاندان، خاص طور پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پیروکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو فخر کے ساتھ ان کے وژن اور ان کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔27دسمبر2007کو محترمہ بے نظیربھٹوکوراولپنڈی میں شہیدکیاگیا.شہیدبےنظیربھٹوایک جراتمنداوردلیرخاتون تھیں.شہیدبےنظیربھٹوکو اسلامی دنیامیں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کااعزازحاصل ہوا.شہیدبےنظیربھٹواورنوازشریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے.میثاق جمہوریت کی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی. شہیدبے نظیربھٹوکی قربانی ہم سب کےلیے ایک مثال ہے.اللہ تعالیٰ شہیدبےنظیربھٹوکےدرجات بلند اورخاندان کو صبرجمیل عطاکرے.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنارمیں ادویات کی قلت کے حوالے سے میڈیامیں خبریں زیرگردش تھیں.وفاقی حکومت نےفوری طور پر پاڑاچنارمیں ادویات کی کھیپ بھجوائی.اب تک ایک ہزارکلوگرام ادویات پاڑاچناربھجوائی جاچکی ہیں.پاڑاچنارسے مریضوں کو ہیلی کاپٹرکے ذریعےدوسرے شہروں میں منتقل کیاگیا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسزبہادری سے دہشتگردوں کیخلاف نبردآزماہیں.گزشتہ روز ہماری سکیورٹی فورسز نے کئی خوارج کو جہنم واصل کیا.جھڑپ کے دوران پاکستان آرمی کے ایک میجر شہیدہوئے.بدقسمتی سے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہورہی ہے.افغانستان ہماراہمسایہ ، ہماری ہزاروں کلومیٹرسرحدمشترک ہے.خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہترہوں اورمعاشی میدان میں تعاون فروغ پائے. افغا ن سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے.افغان حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے تیارہیں ،مسئلے کے حل کیلئے وہ ٹھوس حکمت عملی اپنائے.کالعدم ٹی ٹی پی کو کسی صورت کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.کالعدم ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے کارروائیاں ہمارے لئے ریڈلائن ہیں.کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں.پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کاہرصورت دفاع کریں گے.کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو شہیدکرتےہیں.افغان حکام فی الفورنوٹس لیں اور ٹھوس حکمت عملی اپنائیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آذربائیجان کے صدرکے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے.آذربائیجان کے صدرسے طیارہ حادثے پر اظہارہمدردی کیاہے.آذربائیجان کے صدرپاکستان کے خیرخواہ ہیں.خوشخبری ہے کہ آئی سی سی کے ایونٹس پاکستان میں ہونے جارہے ہیں.آئی سی سی ایونٹ کے لیے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں. کرکٹ ایونٹ عوام کی دلجوئی کے لیے ایک اچھاموقع ہے.تنازعات کے متبادل حل کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے.اے ڈی آرکامسئلہ حل ہونے سے 70ارب روپے موصول ہوں گے

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    نواز شریف کے پوتے کی نکاح کی تقریب میں تلاوت، ویڈیو وائرل

  • سفری پابندیوں کی فہرست میں نام،شعیب شاہین عدالت پہنچ گئے

    سفری پابندیوں کی فہرست میں نام،شعیب شاہین عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین نے نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں شعیب شاہین نے استدعا کی کہ پاسپورٹ پر عائد پابندی ختم کی جائے ،نقل و حرکت اور بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے ، درخواست گزار سپریم کورٹ کا ماہر وکیل ہے پولیس نے غیر قانونی طور پر درخواست گزار کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی، سیاسی انتقام کے تحت درخواست گزار پر 19 ایف آئی آرز درج کی گئیں، تمام ایف آئی آرز میں درخواست گزار کو ضمانت دی جا چکی ہے، درخواست گزار کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹفکیشن لسٹ ( میں ڈال دیا گیا ہے، لسٹ سے نام نکالنے کا حکم دیا جائے، شعیب شاہین کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں سکریٹری وزارت داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈائریکٹر امیگریشن اور چیئرمین نادرا کو فریق بنایا گیا ہے

    آسٹریلوی میڈیا نے کوہلی کو "مسخرہ” قرار دے دیا

    مونس الہی کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم

  • گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات ملک میں گیس سپلائی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،

    وزیر اعظم نے گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی کی شکایات پر نوٹس لے لیا اور ہدایات دیں کہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کو گیس کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنائی جائے.وزیر اعظم نے سسٹم کی ساخت میں اصلاحات لانے کی ہدایت تاکہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے

    اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سسٹم میں سرپلس آر ایل این جی موجود ہے، جس کی وجہ سے گیس لوڈ مینجمنٹ میں پچھلے سال کی نسبت بہتری آئی ہے.پچھلے سال کی نسبت اس سال گیس لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم ہے.گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس فراہم کی جارہی ہے.پاور سیکٹر کو بھی گیس ڈیمانڈ کے مطابق دی جا رہی ہے.صارفین کی شکایات کے حوالے سے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے آن لائین ڈیش بورڈز کام کر رہے ہیں.ایس این جی پی ایل کی شکایات کو حل کرنے کی شرح 93 فیصد جبکہ ایس ایس جی سی کی شرح 79 فیصد ہے.ملک کی تمام گیس فیلڈز فعال ہیں ،اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

  • عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان حکومت کی تعریفیں کرنے لگے

    عمران خان آج اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی بھی موجود تھے،صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے ،جن کے عمران خان نے جواب دیئے،صحافیوں نے عمران خان سے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پوچھ لیا ،صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے؟جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے، معیشت مستحکم ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے علاوہ کسی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تمام رہنماؤں کو ابھی جیل داخلے سے روکا گیا ہے، کمیٹی کی ملاقات جب طے ہے انہیں روکنا تذلیل ہے، حکومت میں شامل کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو ملاقات سے روکنے پر ہم احتجاج کرتے ہیں،حکومت میں شامل مریم نواز گروپ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکراتی کمیٹی کو لوگ باعزت لوگ ہیں انہیں روکنا انکی توہین ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں میں اگر جاؤں گا تو مکمل رہائی میں جاؤں گا ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،سب کیسز کا سامنا کروں‌گا، پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ،جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں،بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو بنی گالہ یا کے پی کے شفٹ کر رہے ہیں،عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سول نا فرمانی کی کال واپس نہیں ہوگی، عمران خان کا موقف ہے کہ اوور سیز ہی زرمبادلہ بھیجتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے دو مطالبات میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات