Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • یو اے ای نے  واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی  ، وزیراعظم

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں متعین کی جانے والی معاشی سفارتکاری کی کوششوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، اور پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات میں نئی جہتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خاص طور پر اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا جس میں وہ رحیم یارخان میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، اور ملاقات کو نہ صرف مفید بلکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستان کی معیشت کے استحکام میں ایک بڑی مدد ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور معاشی سفارتکاری کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی گواہی دیتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو چکا ہے اور ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں زراعت، برآمدات، کامرس اور دیگر اہم شعبوں میں ترقی کی جانب پیش رفت شامل ہے۔ خاص طور پر، ٹیکسٹائل کے شعبے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اڑان پاکستان ہوم گرون پروگرام کا آغاز ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ ملے گا، اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اسی طرح، سمیڈا کا کردار پاکستان کی خوشحالی اور ترقی میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ ملک میں توانائی کے بحران کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور اس مسئلے کا حل پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشنل تعلقات کے حوالے سے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ پاکستان کے برادارنہ تعلقات کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ایجنڈا تیار کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم نے کرم میں امن معاہدے کے بعد ایک افسوسناک واقعہ کا ذکر کیا جس میں قافلے پر حملہ کیا گیا اور ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) اور سیکیورٹی فورسز کے جوان زخمی ہو گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرم میں امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی یہ کوشش افسوسناک ہے اور حکومت اس پر سخت ردعمل ظاہر کرے گی۔وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے کے خلاف اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پاکستان انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گا تاکہ نہ صرف ملکی عوام کی حفاظت کی جا سکے، بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی عالمی سطح پر مضبوط بنایا جا سکے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حکومت پاکستان معاشی ترقی، عوامی خوشحالی اور عالمی تعلقات میں بہتری کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد ملک میں استحکام لانا اور پاکستانی عوام کو بہتر معاشی مستقبل فراہم کرنا ہے۔

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کی نوعیت اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مختلف اقدامات اور اصلاحات پر بات چیت کی گئی، جو مستقبل میں عدالتی عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم ہوں گے۔

    اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی عمل کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانا تھا۔عدالتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا گیا تاکہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں عوامی انصاف کی رسائی کو وسیع کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی نظام تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے، تاکہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔عدالتی شفافیت اور تیز انصاف کے حوالے سے اصلاحات کے بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو نہ صرف شفاف بنایا جائے گا بلکہ عوام کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیسز کے التواء کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدامات کیسز کی جلد سماعت اور ان کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔ عوام سے تجاویز لینے کے لیے "آن لائن فیڈبیک فارم” کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی آراء اور شکایات کو براہ راست عدلیہ تک پہنچا سکیں اور عدالتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں عدلیہ کے وقار کو عالمی سطح پر بحال کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ورلڈ جسٹس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کا عزم کیا ہے، تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں مکمل اعتماد ہو۔اجلاس میں عدلیہ کے افسران کی تجاویز اور آراء پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

    اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کی بہتری کی طرف اہم قدم ہیں، بلکہ عوام کے لیے انصاف کی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات جلد نافذ کی جائیں گی اور عدلیہ میں اصلاحات کی یہ راہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،بچوں سے زیادتی ، چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور

    بچوں کا جنسی استحصال،برطانوی وزیراعظم ایلون مسک کی پوسٹوں پر پھٹ پڑے

  • بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات پر سنجیدہ ہے تو ان کے نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ صرف وقت ضائع کرنے کا عمل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں آیا اور ان کی مذاکراتی کمیٹی صرف دو مطالبات پر بات کر رہی ہے، جو پہلے ہی حکومت کو بتا دیے گئے ہیں۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ "میرے پاس میری مذاکراتی کمیٹی حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں لے کر آئی ہے، اور اگر حکومت انہیں ملاقات کی اجازت دیتی ہے، تو وہ مجھ سے بات کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو اپنی سنجیدگی دکھانی ہوگی اور ان کے مطالبات پر بات کرنی ہوگی تاکہ ایک نتیجے تک پہنچا جا سکے۔عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اس کیس کا فیصلہ کیوں نہیں سنایا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ "یہ مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میں کسی صورت میں ڈیل نہیں کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ "یہ جب بھی فیصلہ سنائیں گے، انہیں بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ بشریٰ بی بی پر مذاکرات کرنے کا کوئی الزام درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو بھی مذاکرات کا عمل ہوگا، وہ میری مذاکراتی ٹیم کے ذریعے ہوگا اور میں خود اس کے حتمی فیصلے کروں گا۔”عمران خان نے جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لا کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ "ان کا مارشل لا اتنا بدترین نہیں تھا، اُس دور میں میڈیا کو آزادی تھی۔ میں خود بھی اُس دور میں جیل گیا تھا۔”

    دوسری جانب، تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اس بات سے آگاہ کیا۔ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کل عمران خان سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ اس ملاقات کے بعد آگے کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔

    عمران خان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل میں اب مکمل طور پر "لیٹ” چکے ہیں

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

  • حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا جو لاپتہ ہیں اُس پرآواز کیوں نہیں اُٹھا رہے؟ پارٹی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی تصاویر جاری کریں، لوگوں کو بتائیں، عمران خان نے کہا، 26 نومبر کا حساب دینا ہوگا، یہ نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ایسا تاثر دیا جائے کہ عمران خان بھی حکومتی این آر او کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عمران خان بیک ڈور چینلز کے ذریعے حکومت سے معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ بالکل غلط ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ حکومت کی طرف سے یہ پیغامات عمران خان تک براہ راست نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے پہنچائے گئے ہیں۔ ان پیغامات میں حکومت نے کئی مرتبہ عمران خان سے کہا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں یا پھر انہیں ہاؤس اریسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ علیمہ خان نے کہا کہ حکومت کے ان پیغامات کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان خاموش رہیں اور حکومت کو چلنے دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت سے کسی بھی بیک ڈور مذاکرات میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عمران خان کے دو بنیادی مطالبات ہیں: پہلا، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر ایک جوڈیشل کمیشن کا قیام، اور دوسرا، بے گناہ افراد کی رہائی۔ علیمہ خان کے مطابق، عمران خان کا خیال ہے کہ جو کچھ بھی ہونا چاہیے وہ عدلیہ اور قانون کے ذریعے ہو، اور وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں۔علیمہ خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی این آر او یا بیک ڈور رابطے کی حمایت نہیں کرتے اور وہ عدالتوں سے سزا سنوانا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ ان کے خلاف الزامات کس نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں فوری فیصلہ سنایا جائے تاکہ اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے۔

    علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کارکنان کے لاپتا ہونے کی صورتحال کا پتہ چلائیں اور اس معاملے کو میڈیا میں اُٹھائیں۔ بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کے واقعات کا حساب لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ اس دن ہونے والے آپریشن کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا موقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا خوف ختم ہو جائے اور وہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں سنجیدگی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی بھی اس پر تیزی سے عمل کرے گی، لیکن اگر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو پھر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے سامنے پی ٹی آئی کے دو مطالبات ہیں، مگر ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ مذاکراتی کمیٹی سے ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے بانی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا، جس سے مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔علیمہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 26 نومبر کے آپریشن کے حوالے سے عمران خان نے کہا تھا کہ اس پر حکومت کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے کارکنان اب مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اس معاملے پر آواز اُٹھائیں گے۔

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت اور مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے تنازعے کے بعد بالآخر صلح ہوگئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے اختلافات کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    شیرافضل مروت نے اس موقع پر کہا کہ "ہم سیاسی ورکر ہیں، اور ہمارے درمیان جو واقعہ پیش آیا تھا، اس کے بعد ہم نے آذربائیجان میں بھی اکٹھے ہوئے۔ اس واقعہ سے ہمارے دلوں میں کوئی میل نہیں ہے، ہم ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ چھوٹے بھائی ہیں اور ہمارے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی یا بغض نہیں ہے۔”افنان اللہ خان نے بھی شیرافضل مروت کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، "میں شیرافضل مروت کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، وہ میرے بھائی ہیں اور ہمیں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔”

    یاد رہے کہ ستمبر 2023 میں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو کے دوران شیر افضل مروت اور سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان ایک تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں شیر افضل مروت نے افنان اللہ خان کو تھپڑ مارا تھا، جس کے بعد افنان اللہ خان نے بھی جوابی حملہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم اب دونوں نے اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

    اس صلح کو پی ٹی آئی میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور پارٹی قیادت نے دونوں رہنماؤں کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صلح سیاسی ماحول میں بہتری کی علامت ہو سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب پارٹی میں اندرونی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے ملک میں انسانی سمگلنگ کے خلاف حالیہ کارروائیوں اور قانون سازی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی حالیہ تادیبی کارروائیوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ اقدام انتہائی اہم ہے اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیوں کی ضرورت ہے۔”وزیراعظم نے انسانی سمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ان سہولت کاروں کے خلاف مزید سخت تعزیری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس مکروہ کاروبار کا خاتمہ کیا جا سکے۔”انہوں نے تمام انسانی سمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت دی تاکہ ان سمگلرز کو نشان عبرت بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ "انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کے لیے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔”

    وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "وزارت قانون و انصاف سے مشاورت کے بعد اعلیٰ ترین درجے کے وکلا کو تعینات کیا جائے تاکہ اس معاملے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔”وزیراعظم نے دفتر خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک سے انسانی سمگلنگ میں ملوث پاکستانی شہریوں کے حوالے سے متعلقہ ممالک سے رابطہ کرے اور ان کی پاکستان حوالگی کے لیے جلد از جلد اقدامات اٹھائے۔وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ عوام میں بیرون ملک نوکریوں کے لیے صرف قانونی راستوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ غیر قانونی طریقوں سے بچا جا سکے۔وزیراعظم نے ملک میں ایسے تکنیکی تربیتی اداروں کی ترویج کی ضرورت پر زور دیا جو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سرٹیفائیڈ پیشہ ور افراد بیرون ملک بھیج سکیں۔وزیراعظم نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی سکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔

    اجلاس میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور وزیراعظم کو انسانی سمگلنگ کے خلاف حالیہ اقدامات اور قانون سازی کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

  • ڈپلومیٹک انکلیو میں  فلیٹ سے غیر ملکی سفارت کار کی لاش

    ڈپلومیٹک انکلیو میں فلیٹ سے غیر ملکی سفارت کار کی لاش

    اسلام آباد میں ڈپلو میٹک انکلیو کے فلیٹ سے جرمن سیکنڈ سیکرٹری تھامس فلڈر کی لاش برآمد ہوئی ہے

    اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع ایک فلیٹ سے غیر ملکی سفارت کار کی لاش ملی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، لاش کی شناخت جرمن سفارت خانے کے سیکنڈ سیکریٹری، تھامس فلڈر کے نام سے ہوئی ہے۔
    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش کو فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ سفارت کار کی موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔

    پولیس نے بتایا کہ تھامس فلڈر اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ معمولی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو چکے تھے، اور ممکنہ طور پر اس کی موت کا تعلق اس سے ہو سکتا ہے، تاہم اس بات کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق، دو روز قبل جب تھامس فلڈر دفتر نہیں پہنچے تو جرمن سفارت خانے نے ان کے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر جھانکا۔ فلیٹ میں سفارت کار کو مردہ پایا گیا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
    واقعہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پیش آیا، جو کہ غیر ملکی سفارت کاروں کے رہائشی علاقے کے طور پر معروف ہے اور یہاں کی سیکیورٹی اور حفاظت کا انتظام خاص طور پر سخت ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ان کی موت کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔

    پولیس اور متعلقہ حکام اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ جرمن سفارت خانے کے اہلکاروں نے باقاعدہ طور پر واقعے کی اطلاع دینے کے بعد مکمل تعاون فراہم کیا ہے۔ تاحال کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمی یا غیر فطری عنصر کا انکشاف نہیں ہوا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    مریم نواز کے مصافحہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل،تبصرے

    شہید اعتزاز حسن کی بے لوث قربانی مشعل راہ ہے،وزیراعظم

  • سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر  رولنگ  کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سابق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    عدالت نے پرویز الہٰی کو نوٹس حمزہ شہباز نظرثانی کیس میں جاری کیا،دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کیس غیر مؤثر تو نہیں ہو گیا،حمزہ شہباز کے وکیل حارث عظمت نے کہا کہ کیس غیر مؤثر نہیں ہوا، آئینی بینچ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹسز بھی کیے تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز الہٰی کی طرف سے کون پیش ہو گا وہ بھی کیس میں فریق ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے فیصلہ نظرثانی میں چیلنج کیا تھا

    حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ،سپریم کورٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کچی آبادی کیس میں وفاق سے کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے،آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور مقامی حکومتوں کا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ہے کہ صوبائی اختیارپر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے؟ پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کچی آبادی کیا ہوتی ہے؟ بلوچستان میں تو سارے گھر ہی کچے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں۔ عوامی سہولتوں کے پلاٹ پر کچی آبادی او مکانات بن جاتے ہیں۔ حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،وکیل سی ڈی اے نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھاڑی نے 10 کچی آبادیوں کو نوٹیفائی کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کریں۔ غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔ اس پر وکیل سی ڈی اے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت نے ہی قبضہ چھڑانے کے خلاف حکم امتناع دے رکھا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر حکم امتناع ہے، تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں۔ تجاوزات کیسے بن جاتی ہیں۔ سب سے پہلے چھپرا ہوٹل بنتے ہیں اور پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔ تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

  • اسلام آباد: تھانہ آئی 9 کے باہر دھماکے کے بعد  راکٹ برآمد

    اسلام آباد: تھانہ آئی 9 کے باہر دھماکے کے بعد راکٹ برآمد

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ آئی نائن کے باہر سے راکٹ برآمد ہوا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات تھانہ کے اطراف زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی تھی، گزشتہ رات تقریبا ساڑھے گیارہ بجے محرر تھانہ آئی نائن کو دھماکے کی اواز سنائی دی تھی جسے محرر نے ٹائر بلاسٹ کی آواز سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا۔اس کے بعد آئی نائن پولیس نے سرچ آپریشن کیا تھا لیکن وہ کوئی مشتبہ چیز برآمد کرنے میں ناکام رہی تھی۔رپورٹ کے مطابق صبح علاقہ مکینوں نے آکر پولیس کو بتایا کہ تھانے کے باہر راکٹ موجود ہے۔بعد ازاں پولیس نے راکٹ قبضے میں لے کر کارروائی شروع کردی اور معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

    کراچی میں انٹرمیڈیٹ بورڈ کے نتائج متنازع

    پہلا دن، جنوبی افریقا کے 4وکٹوں کے نقصان پر316رنز

    ایم کیو ایم لندن کا ٹارگٹ کلر مقابلے کے بعد گرفتار