Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ورکشاپ میں دعوت دی،کورٹ رپورٹرز کے ذریعے ہی عدالتی کارروائی عوام تک پہنچتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہآئین کا آرٹیکل 17 آزادی صحافت سے متعلق ہے ،بچپن میں میری والدہ کپڑے دھوپ میں ڈالتی تھیں جن سے جراثیم ختم ہوتے تھے، امریکی جج نے کہا تھا کہ سب سے اچھی جراثیم کش روشنی سورج کی ہے، میڈیا کے ذریعے دھوپ اور روشنی عوام تک پہنچتی ہے، دھوپ سے کیڑوں مکوڑوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے ،دھوپ اور روشنی دکھاتے چلے جائیں تو معاشرہ تبدیل ہو سکتا ہے،معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، سپریم کورٹ نے اپنے ہی ادارے سے متعلق معلومات کا بھی حکم دیا، آئین کے آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے، کچھ روز قبل ایک درخواست آئی جس میں شہری نے سپریم کورٹ کے ملازمین کی تفصیلات مانگی تھیں، سپریم کورٹ کا ادارہ آپ کا ہے یہ عوام کا ادارہ ہے یہ آپ کے پیسوں سے چل رہا ہے ،ہم نے فیصلہ لکھا کہ شہریوں کو اگر معلومات تک رسائی ہو گی تو یہ اداروں کے لیے اچھا ہے،معلومات سے ہی اداروں کے احتساب بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس بننے کے بعد اہم مقدمات کو براہ راست دکھانا بھی شروع کیا، سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اسے ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ آرٹیکل 19 کے تابع ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مقدمات نمٹائیں،ہم اہم کیسز کی براہ راست کارروائی دکھا رہے ہیں، لوگ کارروائی کو سمجھنے کے بعد اُس پر بات کریں،لائیو سپریم کورٹ ٹرانسمیشن کا سہرا جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ کے سر ہے۔عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی تجویز کی تمام ججوں نے تائید کی تھی

    اگر کسی قوم کی تقدیر بدلنا ہو تو سب سے اہم چیز ہے تعلیم،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کیا ہے، سپریم کورٹ کچھ دیر بعد اپنی کارکردگی کی سہ ماہی رپورٹ جاری کر رہی ہے یہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کی پہلی کارکردگی رپورٹ ہے، اطہر من اللہ صاحب ہمیشہ کی طرح بہت سمارٹ لگ رہے ہیں،سترہ ستمبر سے سولہ دسمبر تک کی سہ ماہی رپورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے،17 ستمبر کو حلف اٹھایا آج چیف جسٹس بنے 3 ماہ مکمل ہو چکے ہیں،میرے 3 ماہ کے اب تک کے دور میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوا اور کتنے نئے دائر ہوئے، تین ماہ میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے ہیں،رپورٹ میں اہم فیصلوں کے لنک بھی موجود ہیں، رواں ہفتے 504 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 326 نئے دائر ہوئے، بلا مانگے معلومات فراہم کرنے سے شفافیت آتی ہے،

    چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی یادگار بنانے کا اعلان
    سپریم کورٹ کے سامنے سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں،سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی ایک یادگار بھی بنا رہے ہیں، یادگار عوام کیلئے کھلی ہو گی، پہلے لوگ سپریم کورٹ کے سامنے سڑک پر کھڑے ہوکر تصاویر بنواتے تھے،سپریم کورٹ میں پچاس لوگوں کے لیے اضافی پارکنگ بھی بنائی گئی ہے، کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کیلئے سات ایکڑ اراضی ہائیکورٹ کے پاس مختص کی گئی تھی، سیکرٹری ہائوسنگ کو کہا کہ 36 وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کو اس مختص زمین پر منتقل کیا جائے،تمام وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے، عدلیہ کا ہدف ایک ہی ہونا چاہیے، اچھے ججز تعینات کریں، ساتھی ججز کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ سوچیں کہ دیگر ججز بھی آپ کا ہاتھ بٹانے آئے ہیں۔کسی بھی قوم کی تقدیر بدلنا ہو تو میرے خیال میں اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ ہے تعلیم،مجھے کسی نے کہا تھا صحافیوں کو حال دل نہ سنایئے گا،کہاگیا تھا ایک شعر سنا دیتا ہوں
    صحافیوں کو کہاں حال دل سنا بیٹھے
    یہ ایک بات کئی زاویوں سے لکھیں گے
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے حال دل نہیں سنایا،سچائی میں ہی ہماری نجات ہے، ہدف ہر شہری کا سچائی ہونا چاہیے ہم سے اتفاق ہو یا نہ ہو،

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • دھند کے باعث پی آئی اے کا فضائی آپریشن متاثر

    دھند کے باعث پی آئی اے کا فضائی آپریشن متاثر

    ملک کے بالائی علاقوں میں جاری دھند کے باعث پی آئی اے کا فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے

    آج اسلام آباد میں جاری شدید دھند کے باعث پرواز کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے،اسلام آباد میں دن 12 بجے بھی حد نگاہ 150 میٹر سے کم رہی جو کہ ائیربس 320 کی پروازوں کیلئے غیر محفوظ ہے۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق اسلام آباد آمد والی پروازیں، پی کے 182 شارجہ تا اسلام آباد، 162 ابوظہبی تا اسلام آباد اور 168القسیم تا اسلام آباد کا رخ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا ،سکردو کی پرواز پی کے 451/452، دبئی کی پرواز پی کے 211/212، 233 اور کراچی کی پرواز پی کے 308 منسوخ کر دی گئی،دبئی تا لاہور کی پروازیں پی کے 236 منسوخ جبکہ ریاض تا لاہور کی پرواز پی کے 726 کراچی ڈائیورٹ ہوگی۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ پروازوں کے مسافروں کی زحمت کم از کم کرنے کیلئے اقدامات لئے گئے ،موسم میں بہتری نہ ہونے کے باعث مسافروں کو فوری معلومات فراہم کرنے، متبادل کنکشن دینے اور ہوٹل قیام کا بندوبست ان اقدامات میں شامل ہے،مسافروں سے بھی التماس ہے کہ اپنی پروازوں سے متعلق بروقت معلومات کیلئے پی آئی اے کال سینٹر سے رابطے میں رہیں ،پی آئی اے انتظامیہ اپنے تمام مہمانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ائیرہورٹ عملہ ان کہ ہر ممکن خدمات میں مشغول ہے،دھند موسمی عمل ہے اور یہ پی آئی اے کی بساط سے باہر ہے لہذا مسافروں سے درخواست ہے کہ وہ دھند میں پروازیں آپریٹ کرنے پر اصرار نا کریں ،فضائی حفاظت تمام چیزوں پر مقدم ہے، تاخیر یا منسوخی کی کوفت ضرور ہے مگر انسانی جانوں سے اہم نہیں۔

     مساج سروس تلاش کرنیوالے آدمی کو جسم فروشی کی ویب سائٹ پر بیوی اور بہن کی تصویریں نظر آ گئیں

    مساج سینٹر میں کام کرنیوالے کرنے لگے گھناؤنا دھندہ، پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا توپاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے،جسٹس اطہرمن اللہ

    اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا توپاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے،جسٹس اطہرمن اللہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے کورٹ رپورٹرز کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکور ہوں منتظمین کا جنہوں نے سیمینار میں شرکت کا موقع دیا،یہ موضوع انتہائی اہم ہے،کورٹ رپورٹرز اور صحافیوں کیساتھ وکلاء تحریک میں رابطہ رہا،کورٹ رپورٹرز کو علم ہوتا ہے کونسی چیزیں کرنی ہیں یا نہیں کرنی،پروفیشنل اقدار ہر کورٹ رپورٹر کو ادراک ہوتا ہے،میں نے کورٹ رپورٹرز کے زریعے بہت ساری چیزیں سیکھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیاد بھی اظہار رائے کے پہراہے میں اچھی نہیں رہی،قائد اعظم کی تقریر کو ریاست نے سینسر کیا،وہاں سے ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا،بدقسمتی سے ہماری آدھی سے زیادہ تاریخ ڈکٹیٹر شپ سے گزری جہاں میڈیا کی آزادی نہیں ہوتی،آزادی اظہار رائے میں صحافیوں کا کلیدی کردار رہا ہے،صحافیوں نے آزادی اظہار رائے کیلئے کوڑے بھی کھائے،ایک ملزم کے خلاف کتنا ہی بڑا الزام کیوں نہ ہوئے، اسکی معصومیت کا عنصر موجود رہتا ہے،میں جج بنا تو پہلا کیس ایک ضمانت کا سنا,ملزم 16 سال کا لڑکا تھا ،الزام ایک بینر لگانے کا تھا، ٹرائل کورٹ نے ضمانت مسترد اس لیے کی تھی کہ سپریم کورٹ کے جج کا معاملہ تھا،کسی نے یہ پتا چلانے کی کوشش نہیں کہ وہ بینرز لگوائے کس نے تھے،بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے،عدلیہ پر دو طرح کی تنقید ہوتی ہے،الزام لگایا جاتا ہے کہ دانستہ طور پر فیصلے ہو رہے ہیں،ایک وہ تنقید ہوتی ہے جسے میں پسند نہیں کر رہا اسے ریلیف کیوں ملا,وقت کے ساتھ سچائی سامنے آ جاتی ہے،توہین عدالت کے اصول برطانیہ میں جج کے تحفظ کیلئے نہیں بنے,کسی ناپسندیدہ شخص کو ریلیف ملنے پر ججز پر تنقید کی جاتی ہے، جج کو کبھی کسی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئے، تنقید ہر ایک کرے مگر پھر عدلیہ پر اعتماد بھی کرے,ایک خودمختار جج پر جتنی بھی تنقید ہو اس کو اثر نہیں لینا چاہیے، اگر کوئی جج تنقید کا اثر لیتا ہے تو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے،اظہار رائے کو دبانے کی کوشش نہیں کرنی چائیے، کورٹ رپورٹرز کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہے، رپورٹنگ کے ساتھ وی لاگ بھی کیا جاتا ہے، جوڈیشری کو خائف نہیں ہونا چائیے،تمام چیزوں کا حل آئین میں ہے، حل اظہار رائے کا احترام کرنا ہے،فیصلے غلط ہیں یا صحیح وہ سچائی کی صورت میں سامنے آئینگے، کسی جج کو اظہار رائے پر قدغن نہیں لگانی چاہیئے، سچ ہی آخر میں قائم ؤ دائم رہتاہے

    جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ کاکہنا تھا کہ مجھ پر الزامات لگتے رہے کہ وٹس ایپ پر کسی سے رابطے میں ہوں، کبھی کہا جاتا ہے کہ میں نے 2 پلاٹ لے لئے مگر مجھے الزامات سے فرق نہیں پڑتا، سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہئے،اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا تو نہ پاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے، سچ سب کو پتہ تھا، سچ کو دباتے دباتے 75 سال میں ہم یہاں تک پہنچ گئے،1971 میں کورٹ رپورٹنگ اور میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نا ٹوٹتا۔جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے، ذوالفقار علی بھٹو ٹرائل زمانے کے اخبارات دیکھ لیں جرم ثابت ہونے تک بے گناہی کا تصور موجود نہیں تھا،

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کی مخالفت بہت قوتیں تھیں ، سپریم کورٹ سے توقع کی جارہی تھی کہ اٹھارویں ترمیم کالعدم قرار دے گی، مجھ سے پوچھنے پر میں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اٹھارویں ترمیم کالعدم قرار نہیں دینی چاہئیے،میں نے کہا میری رائے ہے کہ سپریم کورٹ کو کسی آئینی ترمیم کو نہیں چھیڑنا چاہیے، میں نے کہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اگر کالعدم ہو گئی تو استعفیٰ دے دوں گا، اگلے روز سرخی لگی کہ اطہر امن اللہ نے عدالت کو دھمکی دی،اظہار رائے سر عام ہونی چاہئیے،مجھے اعتزاز احسن نے کہا کہ اس خبر کا کچھ کرتے ہیں تو میں نے کہا نہیں میں نے یہی کہا تھا، اظہار رائے کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے، بحثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ چار سالوں میں کھبی عدالتی رپورٹنگ پر اثر انداز نہ ہوا، ایک غریب مالی نے پوچھا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ میں نے مالی سے پوچھا کہ تمہارے ارد گرد سچائی ہے؟ مالی نے کہا آج کل سچ کا دور نہیں ہے،سچ سب کو معلوم ہے، میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی کورٹ رپورٹر کو بتاوں کے اس کے اصول کیا ہیں، اگر 1971 میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان دولخت نا ہوتا، ہر ایک کو اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہئے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، کیا ہم آج اصول پر کھڑے ہیں؟ ہم آج بھی اپنی مرضی کے فیصلے اور گفتگو چاہتے ہیں، ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،ججز اس صورتحال میں بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا حل آئین اظہار رائے کی آزادی دے کر دے چکا،

    جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ہیں یا برے یہ ہمارے فیصلے طے کرتے ہیں،کسی جج کو کسی کورٹ رپورٹ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسے بتائے کیا رپورٹ کرنا ہے، جھوٹ جتنا بھی بولا جائے آخر سچ کا ہی بول بالا ہوتا ہے،
    جب کوئی ایدھی امین کی طرح اظہار رائے پر پابندی لگاتا ہے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • عام انتخابات،پوسٹل بیلٹ پیپرزکی فراہمی کا عمل شروع

    عام انتخابات،پوسٹل بیلٹ پیپرزکی فراہمی کا عمل شروع

    عام انتخابات 2024،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے پوسٹل بیلٹ پیپرزکی فراہمی کا عمل شروع کردیا ہے

    پوسٹل بیلٹ پیپر سے اہل افراد 22 جنوری تک اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل مکمل کریں گے جب کہ پوسٹل بیلٹ کے لیے درخواست فارم الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں،پوسٹل بیلٹ حاصل کرنے پر ووٹر اپنے ووٹ کو مقررہ وقت کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسرکو بھجوائے گا

    واضح رہے کہ انتخابات آئندہ ماہ 8 فروری کو شیڈول ہیں جس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے پرنٹنگ پریس آف پاکستان کا دورہ کیا ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن نےبیلٹ پیپرز کی طباعت کا جائزہ لیا، سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپرز کے معیار اور طباعت کے عمل پر اطمینان کا اظہارکیا گیا، تمام حلقوں کی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل 3 فروری تک مکمل ہوگا ،تین فروری تک 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے ،بیلٹ پیپزز خصوصی فیچرز کا حامل ہوگا،کراچی میں پہلے بلوچستان اور پھر سندھ کے حلقوں کے بلیٹ پیپزز چھاپے جارہے ہیں ،اسلام آباد میں سرکاری پرنٹنگ میں خیبرپختونخوا،پنجاب اور اسلام آباد کے حلقوں کے بلیٹ پیپرز کی چھپائی شروع ہے،ووٹ کی چھپائی کے لئے 2 ہزار 70 ٹن خصوصی کاغذ مہیا کیا گیا ہے،قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 17 ہزار 816 امیدواروں نے الیکشن 2024 میں حصہ لیا ہے،

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

  • پارٹی رجسٹریشن کروانے چاہت فتح علی الیکشن کمیشن پہنچ گئے

    پارٹی رجسٹریشن کروانے چاہت فتح علی الیکشن کمیشن پہنچ گئے

    چاہت فتح علی خان الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچ گئے

    چاہت فتح علی نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کا شوق ہے، پارٹی رجسٹریشن کیلئے الیکشن کمیشن آیا ہوں، پارٹی رجسٹر نہ ہوئی توعدالت سے رجوع کروں گا،سبزیاں اور پھل مہنگے نہیں ہونے چاہئے،انتقامی سیاست کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں،اسلام آباد میں پارٹی رجسٹریشن کروانے آیا موسیقی اور سیاست دونوں‌ساتھ ساتھ بڑا مزہ آئے گا، میں آہستہ آہستہ کام کرنے والا ہوں، میرا فوکس اب اگلا الیکشن ہو گا، مجھے شروع سے ہی سیاست کا شوق رہا ہے، درگرز کا مادہ پیدا کرنا ہو گا، مہنگائی بڑی ہو گئی ہے، فروٹ سبزیاں جو ادھر ہی اگتی ہیں مہنگی نہیں ہونی چاہئے، نوجوان بے روزگار ہیں، جو پڑھے لکھے ہیں وہ باہر جا رہے ہیں ہمیں مستقبل کا سوچنا چاہئے، انتقامی سیاست کا خاتمہ کرنا چاہئے،مل جل کر بیٹھ کر ہی ترقی کرنی ہوتی ہے،

    واضح رہے کہ چاہت فتح علی خان نے لاہور سے الیکشن لڑنے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے تاہم دوہری شہریت کی وجہ سے انکے کاغذات نامزدگی مستر د ہو گئے تھے

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

  • کشیدگی کے بعد پاکستان اور ایران میں مثبت پیغامات کا تبادلہ

    ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بادل چھٹنے لگے، دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے کو مثبت پیغامات دے رہے ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے

    پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،پاکستانی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے حالیہ تناؤ ختم کرنے پر اتفاق کیا ، نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی قومی سلامی کمیٹی کو ایرانی ہم منصب سے بات چیت سے آگاہ کریں گے ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ملکی سلامتی و خودمختاری کا دفاع سب سے اہم ہے ،پاکستان کی سلامتی سےتعلق ریڈ لائینز واضح ہیں ، ایران پڑوسی اور برادر ملک ہے ، معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا

    قبل ازیں پاکستان اور ایرانی حکام کے مابین مثبت پیغامات کا یہ تبادلہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہوا ، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نےبھی پیغامات کے تبادلہ پر اپنا رد عمل دے دیا،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کچھ مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہیں،ایرانی سفارتکار اور ایڈیشنل سکریٹری امور خارجہ رسول موسوی نے پہلا پیغام بھیجا ، رسول موسوی نے کہا کہ تناؤ کا کا فائدہ دشمنوں اور دہشت گردوں کو ہوگا، دونوں ملکوں کی قیادت یہ بات جا نتی ہے،آج کا سب سے بڑا مسئلہ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم ہیں،

    ایڈیشنل سکریٹری رحیم حیات قریشی نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ "آپ کے مثبت جذبات کا جواب دیتا ہوں، بھائی رسول موسوی،پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، مثبت بات چیت کے ذریعے آگے بڑھیں گے ، دہشت گردی سمیت مشترکہ چیلنجرز کے کئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے".

    ٹویٹر پر مثبت پیغامات کے علاؤہ ایرانی حکومت اور وزیر خارجہ کی جانب سے ابھی مزید پیش رفت سامنے نہیں آئی

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • بلوچ یکجہتی کونسل  کی  ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    بلوچ یکجہتی کونسل کی ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا ایکسپوز ہوگیا ۔ پاکستانی ریاست کے خلاف بلوچ عسکریت پسندوں کی سازش اپنی موت آپ مر گئی۔ماہ رنگ بلوچ نے فرط جذبات میں خود ہی اپنی پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ اعتراف کیا کہ ایران میں مرنے والوں کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں ۔ دہشت گردوں کو معصوم بنا کر ٹسوے بہانے کی ریاست مخالف سازش خود ہی بے نقاب کر دی۔

    پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جمعرات کی صبح حملہ کیا تھا ۔ اب ماہ رنگ اعتراف کر رہی ہے کہ ان کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں ۔ یہی تو ریاست کہہ رہی تھی کہ دھرنا دینے والے دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔

    امن دشمن بھارت طویل عرصے سے پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے مذموم عزائم کے حصول کے لئے استعمال کر رہا ہے،اسی تناظر میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہ رنگ بلوچ ہے جو کہ بلوچوں کے حقوق اور مظلومیت کالبادہ اوڑھ کر مخالف دھرنے میں شریک ہے،تازہ ترین ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ ایران میں کئے جانے والے سٹرائیک میں ہلاک بلوچ دہشتگردوں کے حوالے سے دھرنے سے خطاب میں اقرار کر رہی ہے کہ ”آپ سب کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ایران میں جولوگ مارے گئے ہیں ان کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں“

    ماہ رنگ بلوچ کا یہ بیان اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد ایران میں روپوش ہیں جہاں سے پاکستان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے ہیں،کچھ عرصہ قبل ہلاک کئے جانے والے دہشتگرد بالاچ اور اس جیسے بہت سے دہشتگردوں کی نمائندگی کرنے والی ماہ رنگ بلوچ بالاخر سچ زبان پر لے ہی آئیں،ریاست کا روز اول سے یہی موقف ہے کہ یہ دہشت گرد عناصر گھروں سے بھاگ کر بیرون ممالک بالخصوص ایران اور افغانستان میں روپوش ہیں،ایسے میں پاکستان دشمن دہشتگردوں کے لئے ”بلوچ یکجہتی کمیٹی“ کا احتجاجی مظاہرہ عام فہم سے بالاتر ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ جو عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہے، جو بی ایل کا سرغنہ اور ریاستی اداروں پر لاتعداد حملوں میں ملوث تھا،ماہ رنگ بلوچ نے نہ صرف ریاستی وظیفے پر تعلیم حاصل کی بلکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سے اب تک وہ سرکاری تنخواہ کے ساتھ ساتھ متعدد مراعات سے بھی استفادہ حاصل کر رہی ہیں،ماہ رنگ بلوچ ملک دُشمن عناصر کی ایما ء پر جو ریاست مخالف پروپیگنڈہ کر رہی ہے آج وہ آشکار ہو گئی ہے،سوال یہ ہے کہ ”مسنگ پرسن کے نام پر جو پروپگینڈا کیا جا رہا ہے وہ تمام افراد براستہ بلوچستان ایران بھاگ کر روپوش ہو گئے ہیں؟“یہ تمام افراد پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو کر پاکستان بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر لوگوں کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے؟

    جھوٹ کا بازار مسنگ پرسنز کے سنجیدہ اور ہم مسئلے پر لگانا بند کر دیجئے،غریدہ فاروقی
    صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ واہ جی، ماہرنگ بلوچ صاحبہ۔۔ واہ ؛ شکریہ ریاست کے ہی بیانیے کو اپنانے کا اور خود ہی ثابت کرنے کا کہ ریاست سچ کہہ رہی تھی اور یہ کہ میرے سوالات اور میرا بیانیہ مبنی برحق تھا۔ “ایران میں جو لوگ مرے ہیں اٗن کے لواحقین یہاں دھرنے میں موجود ہیں” ؛ ماہ رنگ بلوچ،یہی تو ریاست کہہ رہی ہے کہ وہ عسکریت پسند اور شدت پسند ہیں جو گھر سے بھاگ کر باہر ممالک خصوصاً ایران اور افغانستان میں بیٹھے ہیں۔۔۔ اور یہ کہ یہ لوگ مسنگ پرسنز نہیں ہیں—!!! یہی تو کہا تھا، یہی تو بتایا تھا کچھ ہی عرصہ قبل ۔۔ اب ماہرنگ بلوچ صاحبہ کے اس اعتراف کے بعد یہ دھرنا تو برائے مہربانی لپیٹ دیجیے اور جھوٹ کا بازار مسنگ پرسنز کے سنجیدہ اور ہم مسئلے پر لگانا بند کر دیجئیے۔

    ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • الیکشن کمیشن میں صحافیوں کو مشکلات،نوگوایریا بنا دیا گیا

    الیکشن کمیشن میں صحافیوں کو مشکلات،نوگوایریا بنا دیا گیا

    عام انتخابات میں چند روز باقی،انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان ،الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکرٹیریٹ کو صحافیوں کے لیے نو گو ایریا بنا دیا گیا

    اسلام آباد میں الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں صحافیوں کو میڈیا روم کے علاوہ کہیں نہیں جانے دیا جا رہا، ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق خصوصی ہدایات ہیں کہ صحافی الیکشن کمیشن کے کسی ڈیپارٹمنٹ سے خبر حاصل نہ کر سکیں، اعلی حکام الیکشن کمیشن کے افسران اور اہلکاروں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام نےصحافیوں کو انتخابات سے متعلق خبروں سے دور رکھنے کا منصوبہ بنارکھا ہے،الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکرٹیریٹ کی ہر راہداری میں ایف سی اور پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،سیکورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں ہدایات ہیں کہ صحافیوں کو صرف میڈیا روم تک محدود رکھا جائے، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ میں انتخابی نشانات کی زبردستی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت بھی گزشتہ روز خاموشی سے کی گئی،میڈیا کو کورٹ روم اور لاء ونگ تک جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی.اسلام آباد سے صحافی محمد اویس کے مطابق الیکشن کمیشن آفس میں صحافیوں‌کو ترجمان الیکشن کمیشن کے دفتر تک جانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی.

    عام انتخابات 2024 میں سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق جاری
    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکار تمام پولنگ سٹیشن کے ڈیوٹی پر موجود ہوں گے،سکیورٹی اہلکار پر امن ماحول کو یقینی بنائیں گے،سکیورٹی اہلکاروں پر بیلٹ پیپرز کی باحفاظت نقل و حرکت کو پہنچانے کی زمہ داری ہو گی،سکیورٹی اہلکار صاف شفاف اور پر آمن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے،پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کیلئے الگ ضابطہ اخلاق جاری کیا جائے گا۔بیلیٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ کارپوریشنز کی سیکورٹی کیلئے اہلکار تعینات کیے جائیں گے، بیلیٹ پیپرز کی ریٹرننگ افسران تک ترسیل پر بھی سیکورٹی اہلکار تعینات ہونگے، ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے پولنگ اسٹیشنز تک بیلیٹ پیپرز کی ترسیل بھی سیکورٹی کی نگرانی میں ہو گی،انتخابی مواد کی ترسیل، پولنگ، گنتی اور نتائج مرتب ہونے تک سیکورٹی اہلکار تعینات ہونگے،پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن میں قیام امن کی ذمہ داری پریزائڈنگ افسر کی سربراہی میں سیکورٹی اہلکاروں کی ہو گی ،سیکورٹی اہلکار انتخابی عمل کے دوران غیر جانبدار رہیں گے، سیکورٹی اہلکار کسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں کام نہیں کرے گا،سیکورٹی اہلکار کسی ووٹر سے اس کی شناخت کا ثبوت نہیں مانگے گا، کسی ووٹر کے پولنگ اسٹیشن میں داخلے کے حق کو سلب نہیں کیا جا سکتا،
    سیکورٹی اہلکار کسی صورت پولنگ عملہ کے فرائض انجام نہیں دے سکتا،کوئی سیکورٹی اہلکار انتخابی مواد کو اپنی تحویل میں نہیں لے سکتا، پریزائڈنگ افسر کی ہدایت کے بغیر اہلکار کسی شخص کو پولنگ اسٹیشن سے گرفتار نہیں کر سکتا، اہلکار کسی بھی واقعہ پر پریزائڈنگ افسر کی ہدایت کے بغیر کارروائی نہیں کر سکتا، سیکورٹی اہلکار کسی امیدوار، پولنگ ایجنٹ، مبصر یا میڈیا سے بحث نہیں کرے گا،

    لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر1079 امیدوار مدمقابل
    لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کر دی گئی،لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر1079 امیدوار مدمقابل ہیں،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے بعد فہرستیں جاری کردیں ،چودہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر 266 امیدوار مدمقابل ہیں،30 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 813 امیدوار مدمقابل ہیں،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں سب سے زیادہ 27 امیدوار مدمقابل ہیں،این اے 120 سے ن لیگ سردار آیاز صادق میدان میں ہونگے ،این اے 118 میں سب سے کم 18امیدوار مدمقابل ہیں،این اے 118 سے حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ میدان میں ہیں ،صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 161 میں سب سے زیادہ 46 امیدوار مدمقابل ہیں،پی پی 150 میں سب سے کم 13 امیدوار مدمقابل ہیں،

    لاہور کے حلقہ این اے 130 میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کا مقابلہ ہوگا،یاسمین راشد اس سیٹ سے پہلے الیکشن ہار چکی ہیں، نواز شریف کی نااہلی کے بعد اسی حلقے سے بیگم کلثوم نواز ضمنی الیکشن جیتی تھیں،مرکزی مسلم لیگ کے خالد مسعود سندھو بھی اس سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں

    این اے 122 میں خواجہ سعد رفیق اور لطیف کھوسہ کا سخت مقابلہ متوقع ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید اس حلقے سے امیدوار ہیں،حلقہ این اے 127 میں پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری اور ن لیگی امیدوار عطااللہ تارڑ ، تحریک انصاف کے ظہیر عباس کھوکھر امیداور ہیں،حلقہ این اے 129 میں حماد اظہر کے والدمیاں اظہر اور حافظ نعمان آمنے سامنے ہوں گے،این اے 128 سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں۔ تاہم ن لیگ نے اس حلقے سے آئی پی پی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ،عون چودھری اس حلقے سے امیدوار ہیں جنہیں مسلم لیگ ن کی بھی حمایت حاصل ہے،این اے 119 سے مریم نواز، این اے 118 سے حمزہ شہباز اور این اے 123 سے شہباز شریف،این اے 120 سے ایاز صادق، این اے 121 سے شیخ روحیل اصغر، این اے 124 سے رانا مبشر اقبال اور این اے 125 سے افضل کھوکھر ن لیگ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جارہے ہیں

    انتخابی نشان ماچس،کتاب سے مشابہت رکھتی،مخالف کا نشان تبدیل کیا جائے، امیدوار
    علاوہ ازیں جے یو آئی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ این اے 45 سے ایک مخالف امیدوار کو ماچس کا انتخابی نشان دیا ہے جو انکی پارٹی کے نشان کتاب سے مشابہت رکھتا ہے تبدیل کیا جائے ،پہلی درخواست ہے جو مخالف امیدوار کا نشان تبدیل کروانے متعلق ہے اور مشابہت بھی ایسی کہ ریٹرننگ افسر کو یقین ہوجائے.

    قیصر ہ الہیٰ کو انتخابی نشان نہ مل سکا، عدالت میں درخواست دائر
    لاہور ہائیکورٹ،قیصرہ الہی نے این اے 64 اور پی پی 32 میں مور کے انتخابی نشان کے لیے درخواست دائر کردی،قیصرہ الہی نے ایڈووکیٹ فرمان منیس کے توسط سے درخواست دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا حکم جاری کیا،الیکشن کمیشن نے ابھی تک انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا،ریٹرننگ آفیسر نے انتخابی نشان کے لیے درخواست وصول کرنے سے انکار کیا،دونوں حلقہ ایک ہی علاقہ میں واقع ہیں،حلقہ میں کسی امیدوار کو مور کا انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا گیا،عدالت الیکشن کمیشن کو مور بطور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے،

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

    دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں الیکشن میٹیریل کی ترسیل ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرنے کا فیصلہ
    نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت بلوچستان میں عام انتخابات کے پر امن انعقاد سے متعلق اعلٰی سطحی اجلاس ہوا،اجلاس میں صوبائی انتظامی سیکرٹریز ، ڈویژنل کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام نے شرکت کی، صوبے میں انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی تعیناتی،سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور انتخابی سامان کی بروقت ترسیل سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم اور ڈویژنل کمشنرز نے بریفنگ دی، جس میں کہا گیا کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر آٹھ ہزار سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں گے،انتخابات میں حسب الطلب پولیس اور لیویز اہلکاروں کی تعیناتی کے لئے نفری کا انتظام کیا جاررہا ہے، الیکشن ڈیوٹی کے لئے ریٹائرڈ سیکورٹی اہکاروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں الیکشن میٹیریل کی ترسیل ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوگی ، زیارت اور سرد علاقوں میں ممکنہ برف باری کی صورت میں بھاری مشینری متعلقہ ڈسٹرکٹس میں موجود ہوگی ،

    نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کا کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق اب تک اٹھائے گئے اقدامات اطمینان بخش ہیں، قیام امن کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں مزید بہتری لائی جائے، الیکشن سے متعلق امیدواروں اور عوام کے تحفظات کا فوری ازالہ کیا جائے، علاقائی حالات کے مطابق بحالی امن کے لئے کنٹی جنسی پلان تشکیل دئیے جائیں، عوام کو حق رائے دہی کے استعمال کے لئے سازگار فضا قائم کی جائے، امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے، نسیکورٹی اہلکاروں کی کمی سے نمٹنے کیلئے تجویز کردہ اقدامات پر بلا تاخیر کام شروع کیا جائے، لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل اور شکایات فوری طور پر حل کی جائیں تاکہ آنے والے دنوں میں مشکلات پیدا نہ ہوں،

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،آزاد امیدوار کو جرمانہ
    پشاور عام انتخابات 2024،ضابطہ اخلاق کی مانیٹرنگ جاری ہے،مقررہ سائز سے بڑے بل بورڈز لگانے پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر مردان کی کارروائی ،پی کے 58 مردان سے آزاد امیدوار ذوالفقار خان کو 25 ہزار روپے جرمانہ کر دیا، ڈپٹی کمشنر مردان کو جرمانہ وصول کرکے سرکاری خزانہ میں جمع کرکے چالان پیش کرنیکی ہدایت کی گئی ہے،امیدوار کو 16 جنوری کو نوٹس جاری کرکے 17 جنوری کو پیش ہونیکی ہدایت کی گئی،وہ یا ان کی طرف سے کوئی نمائندہ وضاحت کے لئے پیش نہیں ہوا، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر مردان نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے امیدوار کو جرمانہ کردیا،

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نجیب اللہ کاکڑ، زیارت بلوچستان نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مسلم لیگ ن کے صوبائی اسمبلی پی بی 7 کے امیدوار نور محمد دمڑ پر 40 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر مردان نے پی کے 54 مردان سے اے این پی کے امیدوار گوہر علی شاہ پر 10 ہزار روپے اور پی کے 61 مردان سے ن لیگی امیدوار جمشید خان پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ،

  • انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد ہونے کا امکان

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد ہونے کا امکان

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان ہے

    انتخابی مہم اور عام انتخابات میں ہزاروں ٹن پلاسٹک استعمال کیے جانے کا خدشہ ،لاکھوں پینا فلیکس اور بینرز بننے سے فضائی الودگی کا خدشہ ہے،غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے الیکشن کمیشن سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی درخواست جمع کروا دی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ عام انتخابات میں سیاسی امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں لاکھوں ٹن پلاسٹک کا استعمال کیا جائے گا،پلاسٹک کے بنے پینافلکیس,بینرز انتخابی نشان پر پابندی لگائی جائے،الیکشن کمیشن ایسی پالیسی بنائے کہ انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پاپندی لگائی جائے، 8 فروری کو انتخآِبات میں ووٹروں کے لیے کھانے پینے کے انتظامات میں ڈس پیلزبیل میڑیل استعمال کیا جائے گا،الیکشن کمیشن اپنے جاری کردہ ماحول دوست نوٹی فکش پر عمل درآمد کروائے،

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

  • اسلام آباد میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری

    اسلام آباد میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری

    بلوچستان پاکستان ایران بارڈر سیکیورٹی صورتحال،انٹلیجنس رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا ،الرٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم شدت پسند تنظیمیں اور دشمن ایجنسیاں حملہ کرسکتی ہیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج ریڈ زون کے قریب تین ہفتے سے جاری ہے، بلوچستان شہدا فورم کا احتجاجی کیمپ بھی نیشنل پریس کلب کے سامنے لگا ہوا ہے،

    اسلام آباد پریس کلب کے باہر قائم احتجاجی کیمپس میں حفاظتی انتظامات سمیت تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت کر دی گئی، رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ خطرے کی زد میں ہے،بلوچ یکجتی کمیٹی اور بلوچستان شہداء فورم کا احتجاجی کیمپ اگلا نشانہ ہو سکتے ہیں،پاکستان کی سیکورٹی اور سماجی حالات کو سبوتاژ کرنے کے لیئے احتجاجی کیمپ کو نشانا بنایا جا سکتا ہے ،جمال رئیسانی اور سیکورٹی کے اہلکار آسان ہدف ہو سکتے ہیں ،ریاست مخالف عناصر ،دہشت گرد تنظیمیں اور بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیمیں پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپس کو نشانہ بنا سکتی ہیں،اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس گزشتہ تین ہفتوں سے احتجاجی کیمپس کو سیکورٹی فراہم کر رہی ہے،

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ