Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • پاک چین دوستی و تعاون علاقائی امن اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے،اسحاق ڈار

    پاک چین دوستی و تعاون علاقائی امن اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے،اسحاق ڈار

    پاک چین دوستی ایک ہمہ جہت سٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکی ہے, جو نہ صرف دونوں ممالک کے عوام بلکہ پورے خطے کی خوشحالی، فلاح و بہبود اور امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    ان خیالات کا اظہار قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی دعوت پر چینی سفارتخانے کے دورے کے موقع پر کیا۔ دونوں فریقین نے موجودہ اقتصادی اور سٹریٹجک تعاون کو تقویت دینے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے موقعوں کے حوالے سے تفصیلی پر تبادلہ خیال کیا۔ سینیٹر اسحا ق ڈار نے ہر طرح کے مشکل اور بحرانی حالات اور قدرتی آفات کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی اور مالیاتی شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

    چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے سینیٹر اسحاق ڈار کی طرف سے چینی عوام اور حکومت کے لیے خیر سگالی اور دوستی کے جذبات کا خیرمقدم کیا۔دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ پاک چین آہنی بھائی چارہ درحقیقت خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کا محور ہے۔ چینی سفیر نے سینیٹر اسحاق ڈار کی پاکستان کے سابق وزیر خزانہ کی حیثیت سے کثیر سطحی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کیا اور ان کی تعریف کی۔ انہوں نے فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کی اگلی منتخب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے چین کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ باہمی طور پر فائدہ مند منصوبوں بالخصوص سی پیک پر پیش رفت کو تیز کیا جا سکے جس کا مقصد خطے میں مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    جے یو آئی شیرانی گروپ سے اتحاد ختم 

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے 

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل 

    رؤف حسن بانی پی ٹی آئی مخالف صحافیوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

  • ریٹرننگ افسران  انتخابی نشانات کی تبدیلی سے اجتناب کریں۔الیکشن کمیشن

    ریٹرننگ افسران انتخابی نشانات کی تبدیلی سے اجتناب کریں۔الیکشن کمیشن

    عام انتخابات 2024 ،انتخابی نشانات کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز، آر اوز کو ہدایات جاری کر دی ہیں

    الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ افسران اس مرحلے پر انتخابی نشانات کی تبدیلی سے اجتناب کریں۔ انتخابی نشان میں کوئی تبدیلی لازمی ہو تو کمیشن سے پیشگی اجازت لی جائے۔بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ہو سکتا ہے اس مرحلے پر انتخابی نشان کی تبدیلی ممکن نہ ہو سکے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان بھر میں امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کر چکا ہے، کچھ امیدوار انتخابی نشان بدلی کرنا چاہتے ہیں، شہر یار آفریدی سمیت کچھ امیدواروں نے عدالت میں درخواست دے رکھی ہے،جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے آج اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ اب انتخابی نشان بدلی نہیں ہو سکتے

    پاکستان میں الیکشن آٹھ فروری کو ہوں گے، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں،گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے سینیٹ کو جوابی خط میں کہا تھا کہ الیکشن کی تیاریاں ہو چکیں اس مرحلے پر انتخابات ملتوی نہیں کئے جا سکتے،

    رپورٹ ، محمد اویس، اسلام آباد

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

  • الیکشن کمیشن ،عدالت سے انصاف کی امید نہیں،عوام کی عدالت جائینگے،لطیف کھوسہ

    الیکشن کمیشن ،عدالت سے انصاف کی امید نہیں،عوام کی عدالت جائینگے،لطیف کھوسہ

    تحریک انصاف کے رہنما اور قانوندان لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کسی ادارے پر اعتماد نہیں الیکشن کمیشن ہو عدالت ہو ہمیں انصاف کی امید نہیں اب ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے ، اگر ا س ملک کی جمہوریت، عوام کو بچانا چاہتے ہیں تو آرڈر کریں، آپ نے تو ہم سے فیلڈ ہی چھین لی، ہمیں کوئی اعتماد نہیں اس لئے پٹیشن واپس لیتے ہیں، عوام آٹھ فروری کو نکلے گی، پارٹی پر پابندی نہیں لگی، الیکشن کمیشن نے صرف نشان واپس لیا ہے، پارٹی دوبارہ آئے گی،

    لطیف کھوسہ کاکہنا تھا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ کہہ دیا، عدالت نے لائیو نہیں چلایا تو میڈیا چلا دے، صحافیوں کے سامنے بات کی ہے،230 سیٹیں ہم سے چھین لی گئی ہیں، پی ٹی آئی ختم نہیں ہوئی ، جو ہمارے ساتھ ہوا اسکا بیک اپ پلان نہیں ہو سکتا، خواتین اور اقلیتی 230 سیٹیں قومی و صوبائی چھینی گئیں،پی ٹی آئی کا حکومت بنانا ضروری نہیں، ہم عوام کو حقوق دیں گے، ہماری اکثریت ہو گی تو ہم حکومت بنائیں گے،انتخابی نشان جو بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا،امیدواروں ، وکلا کو گرفتار کیا گیا، کاغذات نامزدگی کے وقت لوگ گرفتار ہوئے، جانچ پڑتال کے دوران بھی ہمارے لوگ گرفتار ہوئے، وکلا کو ہم بھیجتے تھے لیکن ایسا ہی ماحول بنایا گیا، کاغذات نامزدگی پھاڑے گئے، عورتوں پر تشدد کیا گیا، لوگوں کو نظر بند کیا گیا،ہر ضلع میں ڈی آر او ڈی سی ہے،آج تک ہمیں جلسے نہیں کرنے دیئے، جو کوشش کرتا ہے اسکا گھر مسمار کروا دیتے ہیں، یہ سب سپریم کورٹ میں لے کر آئے کہ ہمارے ساتھ کیا مذاق کیاجا رہا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ آئی جی ،چیف سیکرٹری کو بلائیں،انہوں نے جو جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں ہوا، اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ میرے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے کہ الیکشن کی وجہ سے گرفتار کیا گیا،بحرکیف چیف صاحب کی عظمتوں‌کو سلام، وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ٹی وی دیکھتے ہی نہیں،

    لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے جمہوریت تباہ ہوئی ہے، میں نے اسی طرح کا انٹرا پارٹی الیکشن پیپلز پارٹی میں بھی کرایا، بلاول بھٹو اور میرے نام پر بھی پیپلز پارٹی میں کوئی امیدوار کھڑا نہ ہوا، پیپلز پارٹی میں ہم نے جب انٹرا پارٹی الیکشن کروائے تو بلامقابلہ ہوئے، انٹرا پارٹی الیکشن کرائے تو کوئی بلاول اور آصف زرداری کے سامنے کھڑا نہ ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی بھی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیریز کے ساتھ انتخابی الائنس کرتی ہے، پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے ہم سے 7 سیٹیں مانگیں تھی، پی ٹی آئی نظریاتی کو سات سیٹیں دینے کا معاہدہ ہوا، ٹکٹوں پر دستخط ہوئے، معاہدے کے بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین کو اٹھا لیا گیا، پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین کو ٹی وی پر لاکر بیان دلایا گیا کہ یہ دستخط جعلی ہیں،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • بیرسٹر گوہر کے پولیس چھاپہ،کاغذات لے گئے، توڑ پھوڑ کی، بیرسٹر گوہر

    بیرسٹر گوہر کے پولیس چھاپہ،کاغذات لے گئے، توڑ پھوڑ کی، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس نے چھاپہ مارا ہے

    بیرسٹر گوہر اس وقت سپریم کورٹ میں موجود تھے جب انکے گھر چھاپہ مارا گیا، بیرسٹر گوہر کو کال گئی تو وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سامنے پیش ہو گئے،اور کہا کہ  میرے بیٹوں اور بھتیجوں کو مارا جا رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بھی ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ابھی خبر آئی ہے میرے گھر چار ڈالے گئے، میرے بھتیجے کو مارا ہے اور سارے کاغذات لے کر چلے گئے ،کوئی بات نہیں ہم اس کاروائی کو جاری رکھیں گے،بیرسٹر گوہر کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ چوہدری صاحب اس طرح ہوا ہے تو نہیں ہونا چاہیے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی جنرل کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے.

    چار ڈالوں میں لوگ میرے گھر آئے، کسی پر اعتماد نہیں ہے عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر علی خان روسٹرم پر دوبارہ آگئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کیا صورتحال ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بہت سیریس صورتحال ہے،حالات بہت سنگین ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ابھی معاملے کو طے کریں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چار ڈالوں میں لوگ میرے گھر آئے، کسی پر اعتماد نہیں ہے عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سے بات ہوئی ہے،سیکرٹری داخلہ اور آئی جی معلوم کر رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بات کرنے سے روک دیاکہا کہ پہلے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بتائیں اگر بات نہ سنی جائے تو عدالت کو آگاہ کریں،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اب تو حد سے بھی تجاوز ہوگیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایس ایچ او تو نہیں ہیں،

    بیرسٹر گوہر اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کمرہ عدالت نمبر 1 کے باہر مکالمہ ہوا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے اٹارنی جنرل سے بات کی ہے وہ آئی جی اور دیگر لوگوں کو فون کر رہے ہیں ، بیرسٹر گوہر نے گھر کی موبائل فوٹیجز ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو دیکھائیں، اور کہا کہ انہوں نے گھر پر مارا ہے کمپیوٹر سب کچھ اٹھا کر لے گئے ہیں ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل دوبارہ اٹارنی جنرل آفس کی طرف روانہ ہو گئے،

    بیرسٹر گوہر سماعت چھوڑ کر گھر روانہ ہوئے اور گھر کی ویڈیو جاری کی،بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو مارا گیا، میری بیوی پر تشدد کیا گیا اور موبائل فون سمیت دستاویزات لیکر چلے گئے

    اشتہاری کی تلاش میں پولیس بیرسٹر گوہر کے گھر پہنچ گئی، تشدد نہیں کیا، ترجمان
    دوسری جانب بیرسٹر گوہر کے فیملی پر تشدد کی خبریں، پولیس ترجمان نے تردید کر دی، پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی اطلاع ملی ہے کہ بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس پہنچی ہے،پولیس ایک اطلاع پر اشتہاریوں کی تلاش میں ایک گھر پہنچی، وہ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے، پولیس واپس آگئی، نہ ہی کسی پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں ہیں، یہ ایک معمول کی کارروائی تھی،مزید تحقیقات عمل میں لائی جارہی ہیں،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر ڈی پی او سٹی بیرسٹر گوہر کے گھر پہنچ گئے،ڈی پی او سٹی نے بیرسٹر گوہر کے بھانجے محمد یوسف سے ملاقات ہوئی ہے اور ابتدائی معلومات حاصل کی،مزید کارروائی بیرسٹر گوہر کے عدالتی کارروائی سے فارغ ہونے کے بعد عمل میں لائی جائے گی ،ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ قانون سب کےلیے برابر ہے اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی ،اگر کسی پولیس افسر کا قصور ہوا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی

    ہمیں پتہ نہیں تھا کہ یہ بیرسٹر گوہر کا گھر ہے، ٹیم واپس آ گئی، کاروائی ہو گی، آئی جی اسلام آباد
    آئی جی اسلام آباد بھی سپریم کورٹ آئے تھے جو واپس روانہ ہو گئے، آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ بیرسٹر صاحب کے گھر جو ٹیم گئی تھی واپس آ گئی،نہ کسی کا سامان لیا ہے نہ کمپیوٹر اٹھایا گیا ہے ،اسکے باوجود بیرسٹر صاحب جو کہیں گے ویسے کریں گے،پولیس کے کسی افسر سے زیادتی یہ ہوئی تو اسکا پورا حساب لیں گے،ہمیں پتا نہیں تھا کہ یہ گھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا ہے،جو انکی شکایت ہو گی ہم تحقیقات کریں گے، پولیس افسر کی زیادتی کا حساب لیں گے اور کاروائی بھی کریں گے.

  • اے این پی کو لالٹین کا انتخابی نشان مل گیا

    اے این پی کو لالٹین کا انتخابی نشان مل گیا

    الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین کا نشان دے دیا

    الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا فیصلہ سنا دیا،عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین دینے کا فیصلہ کر لیا،اے این پی کو بیس ہزار کا جرمانہ کردیا گیا، فیصلے میں کہا گیا کہ عام انتخابات کا شیڈول دیا جاچکا ہے،اے این پی کی درخواست کو مان لیا گیا،عوامی نیشنل پارٹی کو دس مئی تک انتخابات کرانے کا حکم دیا گیا،

    الیکشن کمیشن نے اسفندیارولی کونوٹس جاری کیا تھا،عوامی نیشنل پارٹی نے تاحال انٹراپارٹی الیکشن نہیں کروائے،اے این پی نے الیکشن کمیشن سے مزید مہلت مانگی تھی،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا،

    واضح رہےکہ تحریک انصاف کے انتخابی نشان بلے کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے،گزشتہ روز سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی، آج بھی سماعت ہونی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا

    گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے آل پاکستان مینارٹی الائنس ،آل پاکستان تحریک،عوامی پارٹی پاکستان ایس،بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا گیا، سب کا پاکستان،نیشنل پیس کونسل پارٹی،پاکستان نیشنل مسلم لیگ،پاکستان امن پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا گیا،پاکستان برابری پارٹی،مسیحی عوامی پارٹی،پاکستان قومی یکجہتی پارٹی،سنی تحریک اور نظام مصطفیٰ پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا گیا، فیصلے میں کہا گیا ہک متعدد شوکاز نوٹسز کے باوجود تیرہ سیاسی جماعتوں نے غیرسنجیدہ رویہ اپنائے رکھا،

  • سوشل میڈیا پر ہڑتال کی خبر جھوٹ پر مبنی ، پاکستان بار کونسل کی تردید

    سوشل میڈیا پر ہڑتال کی خبر جھوٹ پر مبنی ، پاکستان بار کونسل کی تردید

    پاکستان بار کونسل نے ہڑتال کی تردیدکر دی

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک پیغام، خبر وائرل ہے کہ پاکستان بار کونسل نے آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ کونسل نے اس حوالے سے نہ تو ہڑتال کی کال دی ہے اور نہ ہی کوئی پریس ریلیز جاری کی ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان بار کونسل ہمیشہ اپنے لیٹر ہیڈ پر ایک پریس ریلیز جاری کرتی ہے اور میڈیا والوں کو مناسب طریقے سے آگاہ کرتی ہے، اس لیے آج کی ہڑتال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ خبر،پیغام سراسر جعلی ہے۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کل سے کہا جا رہا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفیٰ کے بعد ہڑتال کا اعلان کیاہے، تا ہم آج پاکستان بار کونسل نے اعلامیہ جاری کر کے اس خبر کی تردید کر دی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے

  • آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں،چیف جسٹس

    آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں،چیف جسٹس

    پرویزمشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آل پاکستان مسلم لیگ کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ نے اکاونٹس کی تفصیل نہیں دی اس لیے جماعت ڈی لسٹ کی گئی، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا آل پاکستان مسلم لیگ نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے،

    وکیل آل پاکستان مسلم لیگ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی دکھائی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں بتائیں الیکشن کمیشن کے آرڈر میں غلطی کیا ہے بس بد نیتی کا الزام لگا دیا بس۔،دکھائیں کیا غلطی ہے الیکشن کمیشن کے فیصلہ میں،پاکستان میں ایک عادت ہو گئی ہے کہ ہر آدمی کو ڈس کریڈٹ کرو اُس پر الزام لگا دو،

    اے پی ایم ایل کے وکیل نے ماسک ناک کے نیچے پہن کر دلائل دینے کی کوشش کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سن نہیں پا رہا، یا آپ ماسک پہنیں یا اتار دیں،سانس تو ناک سے بھی اندر جا رہی ہے،منہ کور کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،وکیل نے ماسک اتار کر جیب میں ڈال لیا.

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،سپریم کورٹ

    ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،ڈی سی اسلام آباد کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا حکم جاری کیا تھا؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ شہریار آفریدی کی نظربندی کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کہاں ہوئی یہ بتائیں، ابھی تو کوئی کارروائی ہوئی ہی نہیں تو اپیل کس لئے کر دی؟ ہوسکتا ہے ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی بات سے اتفاق کر لے، وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد نے توہین عدالت نہیں کی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ سمجھتی ہے توہین عدالت ہوئی ہے تو کارروائی سے کیسے روکیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائی کورٹ کو روکا تو کسی کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ اگر سزا دے تو اپیل سن سکتے ہیں، ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد پر فردجرم عائد ہوچکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یا تو ہائی کورٹ کا حکم نامہ چیلنج کریں تو دیکھا جا سکتا ہے توہین عدالت کی کارروائی نہیں دیکھیں گے، وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد سپریم کورٹ فرد جرم عائد کرنے سے کیسے روک سکتی ہے؟ ایسا دروازہ کھولا تو ہر قتل کا کیس بھی فرد جرم عائد کرنے سے پہلے سپریم کورٹ آجائے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضوان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانونی بات کر رہے ہیں یا بھیک مانگ رہے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا اختیار ختم کر دیں؟وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی گئی

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • 35 پاکستانی شہریوں کی چین سے ہانگ کانگ اسمگلنگ کے معاملے پر پیشرفت

    35 پاکستانی شہریوں کی چین سے ہانگ کانگ اسمگلنگ کے معاملے پر پیشرفت

    ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کی کاروائی،35 پاکستانی شہریوں کی چین سے ہانگ کانگ اسمگلنگ کے معاملے پر پیشرفت سامنے آئی ہے

    ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد صائم سلطان کی زیر نگرانی چھاپہ مار ٹیم نے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان میں زاہد اقبال اور تبارک حسین شامل ہیں،ملزمان کو دینہ سے گرفتار کیا گیا۔گرفتار ملزمان جعلی دستاویزات کی تیاری میں ملوث تھے۔ملزمان نے چین کا ویزا حاصل کرنے کے لئے جعلی کمپنیوں کے نام سے دستاویزات تیار کیں۔ملزمان چین سے ہانگ کانگ بارڈر پار کرنے میں بھی ملوث تھے۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزمان انسانی سمگلروں کے ساتھ رابطے میں رہے تھے۔گرفتار ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر مزید چھاپہ مار کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

    ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا گیا۔تحقیقاتی ٹیم میں سب انسپیکٹر ہادی پرستان، بلال عباسی، اے ایس آئی نعمان احمد اور ولیم شہزاد شامل ہیں،

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    مسافر طیارے کا پچھلا حصہ زمین سے ٹکرا گیا جس کے بعد کیپٹن کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے

    قطر ایئرویز کے پائلٹ کی دہلی سے دوحہ کی پرواز میں موت

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    کونسل کے ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،جسٹس امیرحسین بھٹی، جسٹس نعیم افغان بلوچ اور جسٹس سردار طارق مسعود شریک ہوئے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کوئی وکیل اجلاس میں پیش نہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں بیٹھنا نہیں چاہتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفیٰ کا متن پڑھ کر سنایا، متن میں کہا گیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے استعفیٰ منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ استعفیٰ سے متعلق آئین کا آرٹیکل 179کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے اجلاس میں آرٹیکل 179بھی پڑھ کر سنایا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ آرٹیکل 209کو بھی استعفیٰ کے تناظر میں پڑھیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کوئی جج مستعفی ہو جائے تو کونسل رولز کے مطابق اس کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کونسل کی کارروائی میں مختصر وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے ایک ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں، ان کے بعد سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں، ہم جسٹس منصور سے انکی دستیابی کا پوچھ لیتے ہیں، اگر وہ دستیاب ہوئے تو کونسل کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

    وقفے کے بعد چیئرمین جوڈیشل کونسل کی سربراہی میں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو جسٹس منصور علی شاہ بطور ممبر کونسل اجلاس میں شریک ہوگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب معاونت کریں کیا معاملہ ختم ہوگیا،یہ استعفی کونسل کارروائی کے آغاز میں نہیں دیا گیا، کونسل کی جانب سے شوکاز جاری کرنے کے بعد استعفی دیا گیا،ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں اور جج نے دباؤ پر استعفیٰ دیا ہو،جج کی جانب سے دباؤ پر استعفی دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا،یقینی طور پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی،استعفی دینا جج کا ذاتی فیصلہ ہے، ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے، جج کی برطرفی کا سوال اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے، ابھی تک کونسل نے صدر مملکت کو صرف رپورٹ بھیجی تھی اگر الزامات ثابت ہوجاتے تو کونسل صدر مملکت کو جج کی برطرفی کیلئے لکھتی.

    ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے،ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟اپنی تباہ شدہ ساکھ کی سرجری کیسے کریں گے؟کیا آئین کی دستاویز صرف ججز یا بیوروکریسی کیلئے ہے؟آئین پاکستان عوام کیلئے ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی اعتماد کا شفافیت سے براہ راست تعلق ہے، کونسل کے سامنے سوال یہ ہے کہ جج کے استعفی کا کاروائی پر اثر کیا ہوگا،جج کو ہٹانے کا طریقہ کار رولز آف پروسجر 2005 میں درج ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثاقب نثار کے معاملے میں تو کاروائی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اب ہو چکی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جس کا سامنا سپریم جوڈیشل کونسل کر رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل رائے نہیں دے سکتی، اگر کونسل میں سے جج کا کوئی دوست کاروائی کے آخری دن بتا دے کہ برطرف کرنے لگے اور وہ استعفی دے جائے تو کیا ہوگا؟اٹارنی جنرل کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کاروائی کے دوران جج کا استعفی دے جانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہاں اپنی خدمت کیلئے نہیں بیٹھے،ہم یہاں اپنی آئینی زمہ داری ادا کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،اگر ایک چیز سب سیکھ لیں تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت عظمٰی سمیت ادارے عوام کو جوابدہ ہیں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جج پر الزام لگے اور استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں اور تمام مراعات لیتے رہیں ؟ نہ کوئی احتساب نہ کوئی جوابدہی ؟ یہ ادارے کی عزت کا سوال بھی ہے، صرف استعفی دینے سے کیا معاملہ ختم ہوگیا لوگوں کا حق ہے کہ وہ جائیں سچ کیا ہے؟ اگر مظاہر نقوی کے وکلاء نے وقت مانگا تو شکایت گزاروں کو سنا جائے گا،جسٹس ر مظاہر نقوی کل خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہو سکتے ہیں،جسٹس مظاہر نقوی کو استفعی کے باوجود بھی حق دفاع بھی دے دیا گیا، جسٹس (ر) سید مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے