Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سپریم کورٹ،مسلم لیگ ق کے سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار دے دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مرنے کے بعد بہتر ہےکہ مقدمہ نہ چلائیں، جعلی ڈگری کا معاملہ درخواست گزار کے مرنے کیساتھ ہی ختم ہوگیا،کیا کیس کا کوئی فوجداری پہلو ہے اگر ہے تو سن لیتے ہیں ، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ لواحقین کا اصرار ہے کہ مقدمہ سن کر جعلی ڈگری کا دھبہ ختم کیا جائے،پوری تعلیم میں نے محمد اختر خادم کے نام پر حاصل کی، سیاست خادم حسین کے نام سے کی شناختی کارڈ بھی اسی نام سے بنوایا،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار زندہ ہوتے تو کچھ ثابت ہو سکتا تھا،مرنے کے بعد لواحقین درست نام کیسے ثابت کرینگے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بیان حلفی یا دستاویزات بطور شواہد دکھا دیں،نام بدلنے کا موقف ہے تو ثبوت پیش کرنا بھی آپکی ذمہ داری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،محمد اختر خادم عرف خادم حسین 2008 میں این اے 188سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ،ہائیکورٹ نے بی اے کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا تھا ،درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی

    جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا،چیف جسٹس
    دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق مشیرخزانہ بلوچستان خالدلانگو کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ خالد لانگو عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، فیصلہ معطل کیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا خالد لانگو کے گھر سے ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے، ان کے گھر سے 2 ارب24 کروڑ 91 لاکھ روپے برآمد ہوئے، صرف 26 ماہ کی کم سزا کیوں دی گئی؟ بلوچستان سے ایسے لوگوں کو انتخابات لڑنے سے دور رکھنا چاہیے، آپ کے موکل کو تو جیل کے دروازے کی طرف جانا چاہیے، کیا بلوچستان کے پیسے مزید چوری کرنے کیلئے الیکشن لڑنا ہے؟ کس دنیا میں رہتے ہیں آپ؟ گھر سے برآمد ملکی اور غیر ملکی کرنسی ٹرکوں پر لاد کرلے جائی گئی، ایسے لوگ بلوچستان کے دشمن ہیں، نیب کی تاریخ میں کسی کو اتنی کم سزا نہیں ہوئی ہوگی، مہربانی فرمائیں، بلوچستان کے لوگوں کو بخش دیں، صوبے میں ایک سڑک تک نہ بن سکی، ایسے لوگ ہی بلوچستان کھاگئے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز نے سوال اٹھایا کہ کیا اس شخص کے اتنے زیادہ تعلقات ہیں جو نیب اپیل دائر نہیں کررہا، کیا نیب آپ کے مؤکل کے کنٹرول میں تھا جواپیل دائرنہیں کی گئی؟ نیب کا کمال دیکھیں، ٹرک بھرکے پیسے پکڑے گئے اورکم سزا کے خلاف اپیل نہیں ہوئی، جوپیسہ پکڑا گیا وہ کاروبار یا جائیداد سے نہیں بنایا گیا، چھوٹے چھوٹے کیسز میں تو نیب فوری اپیل دائر کردیتا ہے، نیب کرپشن کا سہولت کار بنا ہوا ہے،عدالت نے خالد لانگو کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا تیسرا اور آخری دن ہے، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    فہمیدہ مرز کےمخصوص نشستوں پر بھی کاغذات نامزدگی مسترد،نااہل قرار
    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنما ،سابق وفاقی وزیر و سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، الیکشن کمیشن نےفیصلےمیں کہا کہ فہمیدہ مرزا الیکشن کے لیے نا اہل قرار دی جاتی ہیں،فہمیدہ مرزا کے 2 ملین روپے کی نادہندہ ہونے کا اعتراض سعدیہ جاوید نے داخل کیا تھا،اسٹیٹ بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ فہمیدہ مرزا کی کمپنی نادہندہ ہے، وہ ذاتی طور پر نادہندہ نہیں. فہمیدہ مرزا پر آئین کےآرٹیکل 63 ون این کا اطلاق ہوتا ہے

    پیپلز پارٹی کے حلقہ این اے 56 سے امیدوار میاں خرم رسول کی اپیل سماعت کیلئے منظور
    ریٹرننگ آفیسر نے بنک ڈیفالٹر اور نیب کیس سزا کی بنیاد کاغزات نامزدگی مسترد کئے تھے،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی امیدوار کی سزا معطل ضمانت پر رہائی ہوچکی ۔امیدوار کسی مالیاتی ادارہ کا ڈیفالٹر نہیں ہے۔ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ۔الیکشن ٹربیونل نے 6 جنوری کو ریٹرننگ آفیسر سے جواب اور ریکارڈ طلب کر لیا

    تحریک انصاف کے 2620 امیدوار،1996 کاغذات نامزدگی منظور،624 مسترد ہوئے
    تحریک انصاف کا ایک اورجھوٹ بےنقاب، صحافی وقار ستی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور اورصوبائی اسمبلیوں سے تحریک انصاف کےکل 2620امیدوارنےکاغذات نامزدگی جمع کروائےان میں سے1996امیدواروں کےکاغذات نامزدگی منظور جبکہ 624 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔جو76اشاریہ18فیصد ہے۔کئی دنوں سےشورتھاکہ80فیصد لوگوں کےکاغذات مستردکر دیےگئےہیں۔

    تحریک انصاف کے بلوچستان میں قومی اسمبلی کے لئے 39 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے17کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 22 کے منظور کیے گئے،بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے لئے 90 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جس میں سے 37 منظور جبکہ 53 مسترد ہوئے ہیں

    تحریک انصاف کے پنجاب اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے لئے 389 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،جن میں سے 127کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 262 منظور ہوئے،پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے 769 امیدواروں میں سے 601 کے کاغذات منظور جبکہ 168 کے مسترد کئے گئے،تحریک انصاف کے سندھ میں قومی اسمبلی کے لئے 181 امیدواروں میں سے 46 کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 135 کے منظور کیے گئے،سندھ کی صوبائی اسمبلی کے لئے 423 امیدواروں میں‌سے 346 کے منظور اور77 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے، خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے234 میں سے 55 امیدواروں کے کاغذات مسترد اور 179 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،کے پی کی صوبائی اسمبلی کے لئے 495 امیدواروں میں سے 414 کے کاغذات منظور جبکہ 81 کے مسترد ہوئے ہیں.

    عمران خان کے میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل دائرکر دی گئی،اپیل کو 160/24 نمبر لگا دیا گیا۔ اپیل کی سماعت کل جسٹس چوہدری عبدالعزیز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کریں گے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی 1 نشست سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی۔

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری انتخابات کی دوڑ سے باہر
    قاسم سوری کی جانب سے آر اوز کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹربیونل میں درخواست جمع نہیں کرائی گئی،ایپلٹ ٹربیونل میں آج اپیل دائر کرانے کا آخری روز تھا،شام چار بجے تک پی ٹی آئی کی جانب سے قاسم سوری سے متعلق کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی،قاسم سوری نے این اے 263پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے،جانچ پڑتال کے دوران آر اوز کی جانب سے انکے کاغذات مسترد کئے گئے تھے،قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے 2018 کے انتخابات میں قاسم سوری کامیاب ہوئے تھے،سال 2018 کے انتخاب میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ان کے مدمقابل تھے

    مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل ٹریبونل میں دائر
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے کاغذات کی منظوری کے خلاف ندیم شیروانی نے اپیل دائر کی ،اپیل میں این اے 119 کے ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا ،مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ،مریم نواز نے کاغذات میں درست حقائق بیان نہیں کیے ،اپیلیٹ ٹریبونل مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے.

    اشتہاری ملزم نے سرنڈر نہ کیا ہو تو اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟ ہائیکورٹ
    راولپنڈی ۔کاغذات نامزدگی مسترد خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی،ٹی ایل پی،پی پی سمیت کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہم نے آئیں اور قانون کو دیکھنا ہے میرٹ پر چلیں گے۔اشتہاری ملزم ہو اور عدالت میں سرنڈر بھی نا کیا ہو۔اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟کوئی سزا یافتہ ہے یا نہیں؟مگر اشتہاری ہے اور عدالت بھی پیش نہیں ہوا وہ نااہل ہوگا۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 60 سے تحریک لبیک کے اشفاق اور این اے 89 میانوالی سے عامر خان کی اپیلیں خارج کر دیں،،الیکشن ٹربیونل جج چودہری عبدالعزیز نے فیصلہ سنا دیا

    کوئٹہ،آر او کے فیصلے کالعدم، متعدد امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی ملی اجازت
    کوئٹہ؛ اپیلیٹ کورٹ میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 سے آزاد امیدوار سردار خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 42 آزاد امیدوار جمعہ خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 49 سے پی ٹی آئی امیدوار سید عبدالحئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ میپ کے امیدوار علی پراچہ کی اپیل پر سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کے کاغذات پی بی 42 سے مسترد ہوئے تھے،

    ریٹرننگ افیسران کے فیصلوں پر ٹربیونل نے اظہار برہمی کیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت میں ایسے فیصلے نہیں کئے جاتے، سیکوٹنی کے لئے اس ہی لئے وقت دیا جاتا کہ آر اوز چیزیں مکمل کرسکے،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ہدایت کی کہ فوری طور پر متعلقہ آر او کو طلب کریں، حلقہ پی بی 41 سے مولانا محمد ایوب ایوبی کے کاغذات نامزدگی فارم منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،پی بی 42 سے اسلم رند ، پی بی 40 سے دوست محمد ،پی بی 39 سے عالمگیر خان ، پی بی 40 سے آزاد امیدوار خادم حسین کو انتخاب لڑنے کی اجازت مل گئی،جمعیت علماءاسلام کے امیدوار میر ظفر زہری کے 2 اپیلوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دئے گئے،میر ظفر زہری نے بی پی 18 اور پی بی 35 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کی تھی، بی پی 16 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار فائق جمالی کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیئے گئے،بی پی 36 سے بی اے پی کے امیدوار روبینہ عرفان کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیا گیا، این اے 266 سے پی ٹی آئی کے امیدوار عصمت اللہ کی کاغذات نامزدگی منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،این اے 263 سے بی این پی کے امیدوار میر مقبول لہڑی کی کاغذات نامزدگی منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،

    این اے 130، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونےکیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
    این اے 130 ، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،ایپلیٹ ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اشتیاق احمد نے اپیل دائر کی ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جسٹس رسال حسن سید نے اپیل پر سماعت کی.

    عمران خان کے وکیل کے کاغذات مسترد ہونے پر نوٹس جاری
    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کو نوٹس جاری کر دئیے،جسٹس راحیل کامران نے بطور ایپلٹ ٹربیونل سماعت کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،استدعا

    این اے 89،90،بیرسٹر عمیر نیازی کے کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں قائم الیکشن ٹربیونل جسٹس چوہدری عبد العزیز نے ریٹرننگ افسران کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی کے این اے 89 اور 90 میانوالی سے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی آر اوز نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر کاغذات کیوں مسترد کئے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف مقدمہ درج ہے مگر مجھے معلوم نہیں، عدالت نے پیپلز پارٹی امیدوار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مقدمے کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا؟ وکیل نے کہا کہ یہ چوری کا کوئی گمنام مقدمہ ہے جس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف امیدوار محمد امجد کی اپیل پر سماعت ہوئی ،وکیل نے کہا کہ میرے کاغذاتِ نامزدگی انکم ٹیکس کی وجہ سے مسترد ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر کے پاس ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے اختیارات ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس اس طرح کا کوئی اختیار نہیں،ریٹرننگ افسر کا کام صرف کاغذات کی جانچ پڑتال کرنا ہے، وکیل درخواست گزار

    کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف فرزند حسین شاہ کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لینڈ لائن کا 8 ہزار کا بل تھا جو جمع نہیں تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے، عدالت نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس تو یہ اختیار ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو خود کلئیر کریں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف جمشید محبوب کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دو گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے خلاف دو مقدمات درج تھے جن کا ہمیں پتہ نہیں تھا، اس وقت ہم دونوں مقدمات میں ضمانت پر ہیں،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف محمد رفیق کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹیکس ڈیمانڈ اور لینڈ لائن بل کا معاملہ تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے تینوں حلقوں سے یہی اعتراض ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی تینوں حلقوں میں بل اور ٹیکس ڈیمانڈ کا اعتراض ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف چوہدری واجد ایوب کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے پر بجلی بل جمع نہ کرنے کا اعتراض ہے،بجلی بل جمع کرایا، اور ٹیکس بھی جمع ہے، وکیل درخواست گزار

    امیدوار چوہدری آصف کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میری پراپرٹی تھی جو میں فروخت کرچکا ہوں، جس پراپرٹی کو بیچ چکا اسی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،

    ملک نوید اعوان کا کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اعتراض یہ ہے کہ میں متعلقہ حلقے کا ووٹر نہیں،حالانکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے خود مجھے این اے 48 کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،اپلیٹ ٹریبیونل نےا الیکشن کمیشن کو آر آوز سے ریکارڈ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے تمام اپیلوں پر سماعت 5 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی

    شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل پر فیصلہ محفوظ
    اسلام آباد:الیکشن ٹریبونل،پی ٹی آئی رہنما ایڈوکیٹ شعیب شاہین کے نامزدگی فارم مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹربیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ ریٹرنگ افسر نے آپ کو سنا نہیں ؟ شعیب شاہین نے کہا کہ میں نے میڈیا کی موجودگی میں کہا مجھ پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا ریٹرنگ افسر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ امیدوار کو مناسب وقت دے گا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے اپنی پچھلے 3 سال کی ٹیکس ریٹرن میں اپنے آپ کو پراپرٹی کا آنر ظاہر کیا ، عدالت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے ؟؟ جس میں آر او امیدوار کو وقت دے؟کوئی ایسی ججمنٹ ہے آرٹیکل 63 کے حوالے سے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نثار کھوڑو اور عمران نیازی کی ججمنٹ پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ 29 اور 30 دسمبر سکروٹنی کی آخرج تاریخ تھی؟ سیکورٹی کے اس سارے عمل سے کیا تعلق ؟شعیب شاہین نے کہا کہ 30 کو جب سکروٹنی کے لیے گیا تو تینوں آر اوز نے کہا کہ آپ کے خلاف کچھ نہیں ہے، مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس نہیں آیا ،عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا،وکیل الیکشن کمیشن ثمن مامون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر درخواست گزار کو ٹیکس ریٹرن یا دیگر بقایاجات کا نہیں پتہ تو کاغذاتِ نامزدگی مسترد نہیں ہوگی، اگر چھ ماہ سے زائد کے بقایاجات اگر جمع نہیں تو پھر کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کے فارم میں موجود ہیں؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سے متعلق تمام چیزیں فارم 17 میں موجود ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا آپکو پتہ ہے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا مجھے علم ہے مگر میں یہاں اس پر دلائل نہیں دونگی، درخواست گزار نے تین سالوں سے اس پراپرٹی کو اپنی ملکیت ظاہر کردی، درخواست گزار خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے خود چیک کیا اور کہا کہ مجھے پتہ تھا،اب اگر کوئی تین سالوں تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کریں گے تو یہ انکا مسئلہ ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ایسا کوئی قانون ہے کہ ریٹرننگ افسر درخواست گزار کو بقایاجات کلئیر کرنے کے لیے وقت دیں؟ آپ کے پاس آرٹیکل 62 ون ایف کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے؟ یعنی ہم یہ کہیں کہ درخواست گزار کو پتہ تھا کہ وہ ٹیکس نادہندہ ہے؟ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل دینے والے عدالتی فیصلوں کو جمع کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی بقایاجات نہ ہو تو اس پر آپ کے کیا دلائل ہونگے؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کہ مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس آیا اور نہ ہی میں ڈیفالٹر ہوں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ جمعہ کو آپ ججمنٹس کے ساتھ آئیے گا ، شعیب شاہین کے حلقہ این اے 46 47 48 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوں گے یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، جسٹس ارباب محمد طاہر فیصلہ سنائیں گے.

    اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟جسٹس ارباب محمد طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی،سید ظفر علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ خود الیکشن لڑ رہے ہیں ؟سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ جی میں خود لڑ رہا ہوں، پوچھا گیا کس جماعت سے تعلق ہے، واضح لکھا ہے کہ پی ٹی آئی سے ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کے خلاف ایک گاڑی کے حوالے سے اعتراض ہے، سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ گاڑی میں نے 3 سال پہلے بیچ دی تھی ، عدالت نے کہا کہ آپ کوئی ایفیڈیوٹ یا ٹرانسفر لیٹر جمع کروائیں ،جمعہ کے لیے نوٹس کردیتے ہیں،جمعہ کو اس کیس کو میرٹ پر سنیں گے ،جن امیدواروں کے بلز یا دیگر ادائیگیاں نہیں ہوئیں ریٹرننگ افسر اُنہیں اعتراض دور کرنے کیلئے وقت دینے کا مجاز تھا. اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟

    این اے 122، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کی اپیل دائر
    این اے 122 سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،عمران خان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ،اپیل میں‌مؤقف اپنایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ٹریبونل ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے .

    الیکشن ٹریبونل نے این اے 214 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود قریشی اورزین قریشی کی اپیل پر الیکشن کمیشن،آر او اور دیگر سےجواب طلب کرلیا ،ٹریبونل نے این اے 238 سے پی ٹی آئی امیدوارحلیم عادل شیخ، این اے 241 پیپلزپارٹی امیدوارمرزا اختیار بیگ اور این اے 234 سے ایم کیو ایم امیدوار صادق افتخارکی اپیل پربھی ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ،این اے 241 سے پی ٹی آئی امیدوار ارسلان خالد کی اپیل پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے جب کہ الیکشن ٹریبونلز نے الیکشن کمیشن اور دیگر سے 5 جنوری تک جواب طلب کرلیا ،

    ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کرنے کا آج آخری دن،بیشتر امیدواروں کی پہلے ہی سے اپیلیں دائر ہیں جن پر آج اور کئی کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ،شیخ رشید کے این اے 56/57 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کی اپیل پر سماعت آج الیکشن ٹریبونل راولپنڈی میں ہوگی۔اسسٹنٹ ڈاِئریکٹر الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عمیر نیازی سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی آج تک کیلئے مہلت مانگی تھی ۔اٹک سے میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی اپیلوں پر سماعت الیکشن ٹربیونل میں کل 4 جنوری کو ہوگی ۔سابق وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ کے این اے 55 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت کل 4 جنوری کو ہوگی ۔پی ٹی آئی سابق ایم پی اے راجہ راشد حفیظ اور پیپلز پارٹی کے بابر جدون کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ۔پی ٹی آئی کے تین امیدواروں کی اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔اپیلیں دائر کرنے والوں میں این اے 55 اور پی پی 15 سے امیدوار زیاد خلیق، ایرج شاہنواز، انعم زاہد شامل ہیں،چوہدری پرویز الٰہی نے بھی الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کے منظور یا نامنظور ہونے بارے آج فیصلہ ہوگا ۔

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    اسلام آباد: افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وفد کی قیادت سینیئر افغان طالبان رہنما اور گورنر قندھار کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ افغان عبوری حکومت کے وفد میں افغان وزارت دفاع، اطلاعات اور انٹلی جنس حکام شامل ہیں افغان عبوری حکومت کے وفد میں 9 سے 10 اراکین شامل ہیں، وفد دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام سے دو طرفہ مذاکرات کرے گا۔

    واضح رہے کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی افغانستان کا دورہ کر یں گے ،اس حوالے سے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ میرا اپنا تعلق ہے، جسے میں استعمال کروں گا، افغانستان پر اگر میرا اثر ہے، وہ میرے ملک کے مفاد کیلئے ہے، میں افغانستان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے دورے کی دعوت دی، میں اپنے ملک کے وزیرخارجہ اور اپنی حکومت کو اس مسئلے پر اعتماد میں لے کر جا رہا ہوں، پڑوسی دوست ملک ایک دوسرے کی بہتری کا سبب بنیں، پڑوسی ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، افغانستان میں غلط فہمیاں، بدامنی پیدا کی گئیں، ان ساری چیزوں کو حل کرنا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔

  • دوران عدت نکا ح کیس، عدالت کا عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    دوران عدت نکا ح کیس، عدالت کا عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    عدت میں نکاح کا کیس، عدالت نے عمران خان اورو بشری بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ قدرت اللہ نےعمران خان اور بشری بی بی پر 10 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا،عدالت نے آج جیل سماعت میں نقول تقسیم کرنے کے بعد 10 جنوری کی تاریخ مقرر کردی ہے، گزشتہ سماعت میں جیل حکام کی جانب سے عمران خان کو پیش نہ کرنے پر عدالت نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، آج دوران سماعت عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں اڈیالہ جیل کی عدالت میں موجود تھیں،گزشتہ تین سماعتوں پر عدالت میں بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی تھیں اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جو عدالت نے منظور کر لی تھیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے پی کے 91 میں انتخابی عمل میں تعطل کے معاملے پر مذکورہ حلقے کے لیے نظرِ ثانی پروگرام جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے آرڈر 27دسمبر 2023 کی وجہ سے حلقہ PK-91 میں انتخابی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔آج معزز عدالت عظمٰی نے پشاور ہائیکورٹ کے الیکشن کے عمل کی معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے لہذا الیکشن کمیشن نے درج ذیل نظر ثانی شیڈول جاری کیا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کاآخری دن 5جنوری 2024 ہے،کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 9جنوری 2024 ہے، اپیلٹ ٹربیونل کی طرف سے اپیلوں پر فیصلے کی آخری تاریخ 16 جنوری 2024 ہے،امیدواروں کی Revised Listکی اشاعت 17جنوری 2024 ہے، کاغذات نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ 18جنوری2024 ہے، امیدواروں کی انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کی تاریخ 19جنوری 2024 ہے ۔تمام امیدواران حلقہ PK-91 مذکورہ بالا الیکشن پروگرام سے مطع رہیں

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    رپورٹ محمداویس، اسلام آباد

  • درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تاحیات نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں کتنی درخواستیں ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں( جو کہ 5 سال ہے) اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا موقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے،

    میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی،وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ درخواست گزار ثناء اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کی موقف کی تائید کردی،صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قتل اور ملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 میں فرق کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ممبران کی اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 62 کی وہ ذیلی شقیں مشکل پیدا کرتی ہیں جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہیں، کسی کے کردار کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟کیا اٹارنی جنرل اچھے کردار کے مالک ہیں؟ اس سوال کا جواب نا دیجیے گا صرف مثال کے لیے پوچھ رہا ہوں، اٹارنی جنرل کے اسپورٹرز کہیں گے آپ اعلی کردار جبکہ مخالفین بدترین کردار کا مالک کہیں گے، اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھرایا نہیں جا سکتا،ہم تو گنہگار ہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں، آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیریشن اپنی جگہ قائم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہو چکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی،جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا، عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اسلیے نااہلی کم ہے،عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، ایک مسلمان "صادق” اور "امین” کے لفظ آخری نبی کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا،اگر میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے جاوں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا،کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ڈی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اچھے کردار کا مالک ہو اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی نا کرے تو اہل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے؟اگر اچھے کردار والا اصراف نہیں کرسکتا تو پھر وضو کے وقت پانی ضائع کرنے والا بھی نااہل ہے،الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے،ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں،صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا،بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر فوجداری مقدمات میں عدالت کسی شخص کو جھوٹا قرار دے کہ اس نے عدالت کو گمراہ کیا ہے، کیا اس پر آرٹیکل 62 1 ایف لگے گا؟کل وہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا کہ کوئی اعتراض کردے گا تمہیں عدالت نے جھوٹا قرار دیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت صاحب سول کیسز کے ماہر ہیں ان سے رائے لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ شہزاد شوکت صاحب آپ قانون کی حمایت کرہے ہیں یا مخالفت ، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ میں قانون کی حمایت کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کرہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،وکیل درخواست گزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تاحیات نااہلی کے حق میں ہیں یا مخالفت میں ؟ عثمان کریم نے کہا کہ میں تاحیات نااہلی کے تب تک حق میں ہوں جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،

    مسٹر مخدوم علی خان، آپ روسٹرم پر آ جائیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ میں موجودہ کیس میں جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا ، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی جنرل ضیاء الحق نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں ، کیا ضیا الحق کا اپنا کردار اچھا تھا ؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں،جس شخص نے حلف اٹھانے کے بعد آئین توڑا وہ اعلی کردار کا مالک کیسے ہوسکتا؟ایک ڈکٹیٹر نے آرڈیننس کے تحت 1985 میں آئین میں شقیں ڈال دی،ان شقوں کے تحت تو قائد اعظم کو بھی تاحیات نااہل کیا جاسکتا تھا،مخدوم صاحب کیا آپ کسی ایسے فریق کو جانتے ہیں جو تاحیات نا اہلی کا حامی ہو؟شعیب شاہین کہاں گئے شاید ان کے پاس کوئی پوائنٹ ہو،

    عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں،ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے ،بڑے بڑے علما روز آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں ،وکیل درخواستگزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کررہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کیخلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ایک شخص کو کرپشن کے مقدمے میں جیل ہو گئی اور وہ سزا مکمل کر کے پانچ سال بعد الیکشن کے لیے اہل ہو گیا مگر کسی کو عدالت نے کرپٹ قرار دیا مگر جیل نہ ہوئی تو وہ عمر بھر کے لیے نااہل ہو گیا؟

    تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت پرسوں 4 جنوری تک ملتوی کر دی گئی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہوگی یہ تاثر نہ دیا جائے کہ تاحیات نااہلی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کیلئے ہو رہی،کوئی سیاسی جماعت یا انفرادی شخص کی بات نہیں ہم صرف آئینی و قانونی حیثیت دیکھ رہے ہیں

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے،پاکستان اوربھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے

    ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو پاکستان اور بھارت قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں، قیدیوں کی فہرستوں کا بیک وقت تبادلہ 2008 کے قونصلر رسائی کے معاہدے کے تحت ہوا، معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پاکستان میں قید 231 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے، پاکستان میں 47 بھارتی شہری اور 184 ماہی گیر قید ہیں۔ بھارتی حکومت نے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی فہرست پاکستانی ہائی کمیشن، نئی دہلی کے ایک افسر کو فراہم کی بھارت کی جیلوں میں کل 418 پاکستانی قیدی ہیں، ان قیدیوں میں 337 شہری اور 81 ماہی گیر قید ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ سزا مکمل کرنے والے تمام پاکستانی قیدیوں اور ماہی گیروں کو رہا کرکے وطن واپس بھیجے، 1965 اور 1971 کی جنگوں کے لاپتہ دفاعی اہلکاروں کو قونصلر رسائی دینے اور 77 سول قیدیوں تک خصوصی قونصلر رسائی کی درخواست بھی کی گئی ہے.

    واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اپنی جیلوں سے ماہی گیروں کو رہا کرتے ہیں،

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

  • سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا.

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہا کہ آپ سب کو پورے پاکستان کو نئے سال کی مبارک باد، اللہ پاک پاکستان کو کامیاں دے، اللہ پاک ملک کو معاشی خوشحالی دے،

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرار داد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مسلح افواج اور دفاعی ایجنسیوں کےخلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے، پارلیمنٹ کا ایوان بالا فوج اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا ادراک کرتا ہے، دشمن ہمسائیوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے، سینیٹ اس قرارداد کے ذریعے حکومت کو کہتی ہے کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کے اقدامات کرے، ملوث افراد کیلئے عوامی عہدے سے 10 سال تک کی نااہل کی سزا ضروری ہے

    جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،سینیٹر بہرامند تنگی
    سینیٹر بہرامند تنگی نے سینیٹ کے اندر افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والوں کی زبان کاٹنے کا مطالبہ کردیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مسنگ پرسن کی بات ہے، میں کولیگز کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان میں محب وطن ہیں انکو کسی نے مسنگ نہیں، انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی بلوچستان سے ہیں ،آپکے آباؤ اجداد نے بھی سیاست کی، پاکستان کے لئے سیاست کرتے ہیں، ملک کے لئے سیاست کرتے ہیں، آپ کو تو کسی نے لاپتہ نہیں کیا، یہ جو مسنگ پرسن کا مارچ آیا بتا سکتے ہیں کہ مسنگ پرسن کون ہیں،جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،ادارے ہماری،ہمارے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں،ملک کی حفاظت کرتے ہیں، آپکی حفاظت کرتے ہیں، آج اس چیپٹر کو کلوز کرنا چاہئے کہ ٹویٹر پر یا کہیں اور کوئی اداروں پر تنقید کرے.

    سینیٹر اکرم نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کا دھرنا اسلام آباد آیا ہے اسلام آباد میں پولیس کا رویہ غلط تھا ان کو گرفتار کیا گیا ۔مسنگ پرسن کا مسئلہ انسانی المیہ ہے اس سے پورا پاکستان متاثر ہے ان لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے یہ مسنگ نہیں ہیں یہ یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں ،بہرمند تنگی نے کہاکہ آپ کو کیوں نہیں اٹھایا جاتا ہے؟محمد اکرم نے کہاکہ کسی کا بھائی کسی کا والد غائب ہے سینیٹ وفاق کی نمائندگی کرتی ہے اس معاملے پر بات ہونی چاہیے ۔پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کریں ۔یہ پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے بلوچستان میں وقتا فوقتا 5آپریشن ہوئے ہیں۔

    ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری
    سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کل مولانافضل الرحمن کے قافلے پر حملہ ہوا مگر مولانا فضل الرحمن قافلے میں نہیں تھے ہم ان حالات میں الیکشن لڑرہے ہیں. آئے روز اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں الیکشن کے لیے امن ضروری ہے بلوچستان کے شمالی علاقہ جات جنوری فروری میں سردی کی لپیٹ میں ہیں مولانافضل الرحمن پر تین خودکش حملے ہوئے اور درجنوں کارکن شہید ہوئے ہیں ہم اہنے نظریے اور عقیدے پر قائم ہیں ۔ کوئٹہ میں جلسے سے پہلے وزیر داخلہ آئے کہ حملے کا خطرہ ہے ۔ سیکیورٹی نہیں دے سکتے تو ہاتھ کھڑے کرلیں کہ ملک دہشت گردوں حوالے ہے ۔مجھ پر بھی حملے کا خطرہ ہے مجھے جان کا خطرہ ہے بلٹ پروف گاڑی نہیں دے رہے ہیں میں خود کس طرح بلٹ پروف گاڑی لے سکتا ہوں مولانا فضل الرحمان پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، اگر ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ بالاچ بلوچ اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کے مطالبات ٹھیک ہیں۔ ہمیں اطمینان دلایا جائے کہ جو اٹھا کر غائب کئے گئے ہیں وہ کب رہاہوں گے ان کو عدالت میں پیش کیا جائے ٹرائل کیا جائے ۔

    کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا،سینیٹر مشتاق احمد
    سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ ڈیتھ سکواڈ کو ختم کیا جائے لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے بلوچستان سے آئے مظاہرین پر اسلام آباد میں تشدد کیا گیا واٹر کینن استعمال کیا گیا اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولس کو شرم آنی چاہیے ۔ چمن میں 3ماہ سے دھرنا ہے 50ہزار لوگوں کو بے روزگار کیا گیا منظور پشتین کو جانے نہیں دیا گیا گرفتار کیا گیا منظور پشتن کو غدار کہا گیا ،بہرمند تنگی نے کہاکہ منظور پشتین غدار ہے ،مشتاق احمد نے کہاکہ مولانافضل الرحمن پر حملے کی مذمت کرتے ہیں سیکیورٹی کی آڑ میں کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا ۔

    شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں،سینیٹر ہمایوں مہمند
    سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ مبارک باد سے ملک ٹھیک نہیں ہوتا ہے ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں، ان کے تائید کنندہ کو گرفتار کیا جارہاہے صاف شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں ۔اس طریقہ سے ملک میں استحکام نہیں آتا ہے ۔نگران حکومت بہت زیادہ ظلم کررہی ہے ان کو ان کا حساب کتاب دینا ہوگا۔ اس طرح کی مداخلت بڑھتی جارہی ہے. ساری سیاسی جماعتوں کو مذمت سے آگے جاکر کچھ کرنا پڑے گا ۔

    محمد طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد حقیقت ہیں یہ کو ئی قصہ اور کہانی نہیں ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہ کیاتو یہ معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ بنا رہے گا انصاف دو گے تو بلوچستان میں امن و شانتی آئے گی ورنہ بدامنی اور دھرنے چلتے رہیں گے۔

    غلطیاں کرنی ہیں تو نئی کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے،مشاہد حسین سید
    سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 25 ہزار معصوم شہریوں اور بچوں کو شہید کردیا گیا،اسرائیل اس وقت فلسطین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے ،اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، بلوچستان کے مظاہرین اس وقت اسلام آباد میں بیٹھے ہیں،اگر اٹھائے گئے افراد میں سے کوئی شخص قصور وارہے تو اسے سزا دیں ،2018 میں جس طرح الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا وہ اس بار نہیں ہوناچاہئے،غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے.

    فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،سروس ٹربیونلز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا ،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،پاکستان انکوائری کمشنز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپردکر دیا گیا،اسلام کیپیٹل ٹریٹری آبی کناروں کی حفاظت اقدامات بک 2023سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا

    سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کیس میں تاحیات نا اہلی سے متعلق نوٹس پر بینچ تشکیل دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی7رکنی لارجر بینچ کے سربراہ ہوں گے ،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں،کیس پر سماعت کل ہوگی

    گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ نااہلی کی مدت کے سوال والے کیسز جنوری کے آغاز پر مقرر کئے جائیں، کیس کے زیرِ التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم 5 رکنی بنچ ضروری ہے فریقین کے وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے۔

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پانامہ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی فرم سے لی جانے والی ممکنہ تنخواہ ظاہر کرنے میں ناکامی پر آرٹیکل ون ایف کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کیلئے نااہل قرار دیا تھا نواز شریف کی اس نااہلی کو تاحال ختم نہیں کیا گیا ہے۔

  • سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    اسلام آباد : سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، سعودی عرب کی جانب سے ماہ دسمبر کی تنخواہ کی مد میں 300 ملین روپے دیے گئے،گزشتہ اور حالیہ مالی سال میں تنخواہوں کی مد میں سعودی عرب کی جانب سے 818 ملین کی معاونت کی گئی-

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی نے یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سعودی امداد کے ذریعے دسمبر کے مہینے کی جامعہ کے ملازمین کی تنخواہوں کا انتظام سعودی فنانشل سپورٹ فنڈ کے ذریعے کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے ڈاکٹر ھذال کے دور صدارت میں 818 ملین روپے "تنخواہ کی ادائیگی کے لیے تعاون” کی مد میں جامعہ کو سعودی عرب کی جانب سے دیے گئے جبکہ ماہ دسمبر کی ملازمین کی تنخواہوں کا بندوبست 300 ملین پاکستانی روپے مالیت کی امداد سے کیا گیا۔ سعودی عرب کی جانب سے مالی سال 2022- 23 میں کی جانے والی امداد میں بجٹ سپورٹ ، بقایا جات کی ادائیگی، مرمت کے کام، طلبا سہولت مرکز کی تشکیل اور الاؤنسز کی ادائیگی شامل ہے مزید برآں، "یونیورسٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹس سپورٹ” کی مد میں جامعہ کو سعودی عرب کی جانب سے 86 ملین پاکستانی روپے جاری کیے گئے۔

    2020 میں جامعہ میں بطور صدر تعیناتی کے بعد سے ڈاکٹر ھذال حمود نے اسٹریٹجک پلان کی روشنی میں اپنی اصلاحات کے ذریعے یونیورسٹی کو سعودی فنڈنگ کے ذریعے تنخواہوں، بقایا جات اور ترقیاتی منصوبوں کا انتظام کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مزید برآں، ان کے دور میں ایک عظیم الشان مسجد یونیورسٹی کے نئے کیمپس میں پہلے ہی سعودی حکومت (تقریباً 32 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ) کی منظوری دے چکی ہے۔ ڈاکٹر ھذال نے ایک بار پھر یونیورسٹی کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں جامعہ کی بہترین کارکردگی اولین ترجیح رہے گی۔

    یونیورسٹی کی ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک نے یونیورسٹی کی مسلسل معاونت پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط رشتے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خادمین حرمین الشریفین نے ہمیشہ جامعہ کی مدد کے لئے فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری یونیورسٹی کمیونٹی جامعہ کی مالی معاونت پر سعودی عرب کی شکر گزار ہے۔