Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ہتھکڑی لگا کر شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی،ایس ایچ او نے مکے مارے،گالیاں دیں،قریشی

    ہتھکڑی لگا کر شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی،ایس ایچ او نے مکے مارے،گالیاں دیں،قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی کو پولیس اہلکاروں نے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت پیش کیا ،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی پہنچا یا گیا،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے بخشی خانے منتقل کیا گیا،شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کی عدالت میں پیش کیاگیا،جوڈیشل کمپلیکس کے اندر راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری موجودتھی

    شاہ محمود قریشی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اسٹیٹ منٹ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں، مجھے سپریم کورٹ کے قائم مقام جسٹس سمیت تین جسٹس صاحبان نے مجھے ضمانت دی، مچلکہ جمع کرا کر مجھے ضمانت کا حکم دیا گیا، میری رہائی کا روبکار جاری ہوتے ہی تھری ایم پی او جاری کیا گیا،میں کیسے عوام کے لیئے خطرہ ہوں؟میں کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہوں، مجھے رات آکر کہا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں ،شاہ محمود قریشی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے تھری ایم پی او کا آرڈر پیش کر دیا،اور کہا کہ چھبیس تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا ،پھر واپس لے لیا گیا،ہاتھ سے چھبیس تاریخ کاٹ کر 27 کر دیا گیا،مجھے غیرقانونی طور پر رکھا گیا،میں جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی،میں پانچ بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں، ایس ایچ او جمال نے مجھے مکے لاتیں ماریں،ایس ایچ او اشفاق چیمہ نے گالیاں دیں،میری چھاتی میں درد تھا ،کل رات ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا، سونے نہیں دیا، لائٹیں جلا کر بار بار جگایا گیا، شورمچایا گیا، مجھے ذہنی اورجسمانی طورپر ٹارچرکیا گیا، ایک ٹیم آئی کہ 9 مئی کےلئے بیان ریکارڈ کرنا ہے، یہ مجھے 9 مئی واقعات میں ملوث کرنا چاہتے ہیں، اُس دن تو میں کراچی تھا، میری بیگم کی سرجری ہوئی تھی،میں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہر جگہ پاکستان کی صفائیاں دیں، میرے ساتھ اب یہ سلوک کیا جا رہا ہے اور میں کئی ماہ سے جیل میں ہوں، کیا یہ انصاف ہے مجھ پر تشدد ہوا، اوپر اللّٰہ نیچے آپ کا قلم ہے،میں نےپاکستان کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑا،میں پاکستان اور اداروں کی عالمی دنیا میں صفائیاں دیتا رہا ہوں،کیا یہ انصاف ہے،شاہ محمود قریشی عدالت میں آبدیدہ ہوگئے،کہا قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں میں 9 مئی کو راولپنڈی کیا، پنجاب میں بھی نہیں تھا،میری تقریر کا حوالہ دیا مکمل بات نہیں کر رہے میں نے کہا قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا ویڈیو عدالت منگوا لے،کہا پر امن احتجاج عوام کا حق ہے،بہت ذمہ دار شخص نے کہا کہ میں 9 مئی میں صاف ہوں، کہیں گے تو میں آپ کو نام دے دوں گا، علیحدگی میں چاہیں گے تو بتا دونگا،

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے عدالت میں ہتھکڑی لگے ہاتھ لہرا دیئے،تیمور ملک نے جج سے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کی درخواست کی جس کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دے دیا

    پولیس نے عدالت میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،پولیس نے کہا کہ ہمارے پاس بہت ٹھوس شواہد ہیں، پراسیکیوٹر نے شاہ محمود قریشی کا 2 جنوری تک ریمانڈ مانگ لیا ،شاہ محمود قریشی کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی،وکیل علی بخاری نے عدالت میں کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا،مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، جج کو ریمانڈ دینے کی وجوہات دینی ہوں گی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت 12 ملزمان کو ڈسچارج کر چکی ہے،جن کے نام ایف آئی آر میں شامل تھے ان کی ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہوچکی ہے. شاہ محمود قریشی کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے،شاہ محمود کا عدالت میں پیش کردہ بیان 16 ستمبر کا ہے 9 مئی کا نہیں،کیس سے شاہ محمود کو ڈسچارج کرنا بنتا ہے، وجن لوگوں کا جی ایچ کیو حملہ کیس میں نام تھا وہ ڈسچارج ہوئے،

    عدالت نے شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا،عدالت نے پراسیکیوٹر کی شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی.جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے حق میں نعرے بازی کی گئی،پولیس بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو لے کر روانہ ہو گی

    نومئی کے پنڈی میں 12 مقدمات،شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈال دی گئی
    شاہ محمود قریشی کے خلاف سانحہ 9 مئی کے ضلع راولپنڈی میں 12 مقدمات درج،پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ تمام مقدمات میں ایک ساتھ تفتیش کی اجازت دی جائے،تمام 12 مقدمات میں 6 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،جی ایچ کیو، آرمی میوزیم حملہ، حساس ادارہ دفتر حملہ میٹرو بس اسٹیشن جلانے مقدمات میں بھی شاہ محمود قریشی ملزم نامزدکر دیئے گئے،شاہ محمود قریشی کی 12 مقدمات میں گرفتاری ڈال دی گئی

    میڈیا داخلے پر پابندی کے خلاف شاہ محمود قریشی کے وکیل نے درخواست دائر کر دی،بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی کسی صورت قبول نہیں، میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دی جائے، ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دے دی

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل سے گزشتہ روز رہائی کے فوراً بعد راولپنڈی پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمے میں گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کی مقدمہ نمبر 981 اور 708 میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے تھانہ آر اے بازار منتقل کردیا گیا تھا،

    شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    دوسری جانب سابق وزیراعظم ، پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ پولیس گردی کی مزمت کی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی سمیت کسی بھی سیاستدان کے ساتھ ایسا برتاؤ قابل افسوس ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ریاستی جبر کا مقابلہ کیا، ہم کبھی جبر و تشدد پر یقین نہیں رکھتے، شاہ محمود کسی مقدمے میں مطلوب تھے تو گرفتاری اخلاقی اقدار میں رہتے ہوئے کرنی چاہیے تھی.

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات 2024، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل میر کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہو گئی ہے،فیصل میر پی پی 161 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں،این اے 124 سے تحریک انصاف کے رہنما سردار عظیم اللہ خان میو کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں،سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کر دیئے ہیں،مانسہرہ کے حلقہ این اے 15 سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرتے ہوئے اعتراض کنندہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف 5 جج فیصلہ دے چکے ہیں اور سپریم کورٹ انہیں تاحیات نااہل کرچکی ہے، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،حلقہ این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،پی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،ریٹرننگ آفیسر نے جانچ پڑتال کے بعد مسلم لیگ ن کے امیدوار قومی اسمبلی نوازشریف کے کاغذات منظوری دے دی

    فیصل ندیم کے این اے 235سے کاغذات نامزدگی منظور
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدرفیصل ندیم کے این اے 235سے کاغذات نامزدگی منظور۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ندیم نے کہا کہ اسکروٹنی کے مرحلے کے بعد انتخابی مہم میں تیزی لائیں گے ۔سیٹ ایڈجسمنٹ کے لیے مختلف جماعتوں سے بات چیت جاری ہے۔ جو جماعتیں سندھ کی تباہی کی زمہ دار ہیں ان سے انتخابی اتحاد مشکل ہے ۔ عوام نئے چہروں کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔مرکزی مسلم لیگ ملک بھر سے الیکشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہے ۔

    عمران خان ،مراد سعید کئی رہنما نادہندہ نکلے، کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا حکم جاری
    خیبرپختونخواہ سے صوبائی الیکشن کمیشن نے آر اوز کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں نادہندہ سیاستدانوں کی فہرست بھیجی گئی ہے،ماضی میں الیکشن کمیشن کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے سیاستدانوں‌پر جرمانے عائد کئے تھے تاہم انہوں نے جرمانے ادا نہیں‌کیے،جس پر فہرست جاری کی گئی، فہرست میں سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر اعلیٰ محمود خان، مراد سعید، کامران بنگش، تیمور جھگڑا، شوکت یو سفزئی اور اشتیاق ارمڑ کے نام شامل ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری فہرست میں پیپلز پارٹی رہنما امجد آفریدی،جماعت اسلامی کے امیدوار عنایت اللہ کا نام بھی شامل ہے، فہرست کے مطابق عمران خان نے دو لاکھ، مراد سعید نے ایک لاکھ، محمود خان نے ڈیڑھ لاکھ روپے کا جرمانہ ادا نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے مختلف آر اوز کو امیدواروں سے جرمانے وصول کرنے کی ہدایت جاری کی اور کہا کہ جرمانے ادا نہ کرنے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے جائیں

    عام انتخابات کی تیاریوں میں تیزی ،اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شکایات کے حل کے لیے ٹویٹر اکاؤنٹ کا استعمال شروع کردیا ،اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مانیٹرنگ کے لیے ٹویٹر آئی ڈی بنادی،ٹویٹر اکاؤنٹ آئی سی ٹی الیکشنز مانیٹرنگ سیل کے نام سے بنایا گیا،کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات ٹویٹر ہینڈل پر مینشن کی جاسکیں گی ،خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے گی ،آئی سی ٹی کی مانیٹرنگ ٹیم ٹویٹر اکاؤنٹ کو مانیٹر کرے گی،

    ایبٹ آباد پی کے 45 کے بعد این اے سترہ سے بھی سپیکر کے پی اسمبلی مشتاق احمد غنی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، آر او نے مؤقف اپنایا کہ سپیکر کے پی اسمبلی عدالتی مفرور ہیں ،سفری ضمانت کے باوجود واپس نہیں آئے،

    این اے 264 سے اختر مینگل،این اے 262 سے ن لیگ امیدوار کے کاغذات منظور
    این اے 264 سے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی درست قراردے دیئے گئے،پارٹی رہنماء احمد نواز اور وکیل ایڈووکیٹ راجہ جواد جانچ پڑتال کے موقع پر موجود تھے،جانچ پڑتال کے بعد ریٹرننگ افسر خالد شمس نے کاغذات درست قرار دے دیے ،این اے 262 سے بی این پی نوابزادہ اورنگزیب جوگیزئی کے کاغذات نامزدگی درست قراردے دیئے گئے،این اے 262 سے ن لیگ کے رہنماء نواب سلیمان خلجی کے کاغذات نامزدگی درست قراردے دیئے گئے،این اے 263 سے جمعیت علمائے اسلام کے مفتی روزی خان کے کاغذات نامزدگی درست قراردے دیئے گئے،این اے 263 سے پی ٹی آئی کے رحیم کاکڑ کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیئے گئے

    لیول پلیئنگ فیلڈ کی عدم دستیابی کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کی شکایت پر ایکشن لے لیا،الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو مراسلہ لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران امیدواروں اور انکے تائید کنندگان کی حفاظت یقینی بنائی جائے، کوئی سیاسی رہنما یا جماعت بنیادی حق سے محروم نہ کی جائے ،

    فیصل آباد،2018 میں دس میں سے سات قومی اسمبلی کی نشتیں جتنے والی تحریک انصاف کے امیدوار ساتھ چھوڑ چکے
    فیصل آباد میں قومی اسمبلی کے حلقوں کے پی ٹی آئی کے نئے امیدوار سامنے آئیں گے ،2018 میں دس میں سے سات قومی اسمبلی کی نشتیں جتنے والی تحریک انصاف کے اہم امیدوار ساتھ چھوڑ چکے،سات قومی اسمبلی کے حلقوں سے جیتنے والے تحریک انصاف کے سابق ایم اینز پارٹی چھوڑ چکے ہیں ،پارٹی چھوڑنے والوں میں فرخ حبیب ، رضا نصر اللہ گھمن ، شیخ خرم ، عاصم نذیر ، راجہ ریاض ، نواب شیر وسیر اور فیض اللہ کموکا شامل ہیں،فیص اللہ کموکا اور عاصم کے علاوہ تمام پارٹی چھوڑنے والے سابق ایم این ایز آزاد اور استحکام پاکستان کی جانب سے میدان میں اتریں گے ،تحریک انصاف کے سابق ایم پی ایز کی زیادہ تعداد اب قومی اسمبلی کے لیے امیدوار ہے

    پی ٹی آئی کے امیدوارغلام مرتضی ستی کو پولیس نے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ،
    غلام مرتضی ستی ساتھیوں کے ہمراہ این اے 51 کے آر او آفس پہنچے تھے ،ریٹرننگ افسر نے غلام مرتضی ستی کو کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے طلب کیا تھا ،گرفتار ہونے والوں میں غلام مرتضی ستی کے تجویز اور تائید کنندہ بھی شامل ہیں، پولیس نے پی ٹی آئی رہنما اور ساتھیوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا.

    اداکارہ نور الیکشن کمیشن آفس پہنچ گئیں
    اداکارہ نور کی سیاست میں انٹری،اداکارہ نور کاغزات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے صوبائی الیکشن کمیشن کے آفس پہنچی،اداکارہ نور نے استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے مخصوص نشت کے لیے کاغزات نامزدگی کی سکروٹنی کے لیے جانچ پڑتال مکمل کرا لی،ادکارہ نور عون چوہدری کی بیگم ہیں

    بلاول زرداری کے این اے127سے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی ،اعتراضات پر فیصلہ محفوظ
    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری کے این اے127سے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی ، ریٹرننگ افسر نے فیصلہ محفوظ کر لیا،ریٹرننگ آفیسر نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔بلاول بھٹو کے وکیل عرفان قادر کو کل تک تحریری طور پر جواب داخل کرنیکی مہلت مل گئی،علی قاسم گیلانی،پی پی لاہور کے صدر چودھری اسلم گل،عمر صدیق ، عرفان قادر اور فیصل میر ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پہنچ گئے۔اسلم گل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کورنگ امیدوار بھی ہیں۔پیپلز پارٹی کے رھنما شاہدہ جبیں،افتخار شاہد، شاہد عباس ،شکیل پاشا بھی اس موقع پر موجود تھے

    پی پی 114 سے استحکام پاکستان کے فرخ حبیب کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں،کاغذات نامزدگی پر کوئی بھی اعتراض جمع نہیں ہوا،فیصل آباد میں تین روز کے دوران مجموعی طور پر 700 سے زائد امیدواروں کے کاغذات کی سکروٹنی ہوئی،ریٹرننگ افسران نے 100 سے زائد امیدواروں کے کاغذات پر اعتراض عائد کردیئے،سب سے زیادہ امیدواروں کے کاغذات نیب کلیئرنس نہ ہونے کے باعث روکے گئے،پی پی 102 میں 12 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات عائدکئے گئے،پی پی 109 میں 7 امیدواروں کے کاغذات پر اعتراضات لگائے گئے،پی پی 103 میں 20 امیدواروں کے کاغذات پرجانچ پڑتال کے بعد اعتراضات عائدکئے گئے،این اے 104 میں 12، پی پی 105 میں امیدواروں کے کاغذات منظور نہ ہوسکے،پی پی 107 میں 7، پی پی 100 میں 9 امیدواروں کے کاغذات نامکمل تھے،پی پی 118 میں 36 امیدواروں کے کاغذات پر اعتراض لگ گیا،ریٹرننگ افسران نے امیدواروں کو اعتراضات دور کرنے کی مہلت دے دی،قومی اور صوبائی اسمبلی کےلیے 1107 امیدواروں کی سکروٹنی کی جا رہی ہے

    انتخاب کے روز پولنگ کے اوقات کا اعلان
    عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے قومی اورصوبائی اسمبلی کے لئے انتخاب کے روز پولنگ کے اوقات کا اعلان کر دیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آٹھ فروری کو ووٹر صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چار وں صوبائی الیکشن کمشنرز کو ہدایات جاری کردی ہیں،الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سے ریٹرننگ آفیسرز کو بھی آگاہ کردیاہے

    فیاض الحسن چوہان کے مقابلے میں ٹکٹ نہ ملا تو آزاد الیکشن لڑیں گے، ن لیگ پنڈی کا اعلان
    دوسری جانب ٹکٹوں کی تقسیم پر ن لیگ میں اختلافات سامنے آئے ہیں، ن لیگ پنڈی کے رہنما امجد بھٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پی پی 17 پر راجہ حنیف کو ٹکٹ دیا جائے، اگر راجہ حنیف کو ٹکٹ نہ ملا تو وہ آزاد الیکشن لڑیں گے،پی پی 17 پر استحکام پاکستان پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بجائے پارٹی کارکن کو ٹکٹ دیا جائے،فیاض الحسن چوہان اس حلقے سے امیدوار ہیں، ن لیگی کارکن فیاض الحسن چوہان کو ووٹ نہیں دیں گے بلکہ اگر پارٹی نے ٹکٹ نہ دیا تو آزاد امیدوار کے طور پر راجہ حنیف الیکشن لڑیں گے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    این سے 247، مصطفیٰ کمال کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں،این اے55 سے محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،حافظ سعد رضوی کے کاغذات نامزدگی این اے 50 اٹک سے منظورہو گئے ہیں،ن لیگی رہنما عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظوری،میاں طاہر جمیل کے بھی منظورکر لئے گئے ہیں،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا، عدالت نے سائفر کیس میں حکم امتناع دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ یہاں پر مجھے دو سوالات کے جوابات چاہئیں، اس عدالت نے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل ہوناچاہیے تو ان کیمرہ سماعت کیوں شروع ہوئی؟ سیکیورٹی عدالتی دائرہ اختیار نہیں تو اس میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل عارضی طور پر روکا جاتا ہے اور پہلے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیا جائے گا تاکہ ان کا جواب آ سکے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس ٹرائل میں 12 دسمبر کے حکم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے. جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ایک درخواست میں بھی سامنے آیا تھا ،پراسکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا ،عمران خان کے وکیل نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیس درج کرانے کیلئے قانونی طریقہ نہیں اپنایا گیا.

    سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ کا نکتہ کیا ہے؟ اس پر وکیل عثمان گل نے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ فرد جرم سے پہلے قانونی طریقہ کار مکمل نہیں کیا گیا، جج نے جس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا وہ یکم دسمبر کا ہے اور سائفر ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک کتنے گواہان کے بیانات مکمل ہو چکے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ کُل 27 گواہان میں سے 25 کے بیانات اور تین کی جرح مکمل ہوئی ہے،

    دوران سماعت بانی تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نے سائفر ٹرائل پر حکم امتناع کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نوٹس ہوں گے،عدالت نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا اور عمران خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سائفر ٹرائل سے متعلق تمام ضروری دستاویزات جمع کرائیں،

    سائفر کیس ،ان کیمرہ کاروائی کیخلا ف درخواست پر سماعت ملتوی
    دوسری جانب سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، بیرسٹر سلمان اکرم راجا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکلاء سکندر ذولقرنین، عثمان ریاض گل، انتظار پنجوتا و دیگر عدالت پیش ہوئے ،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت پیش ہوئے، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکوشن ٹیم بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئی،سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ تشویش ہے جس طرح کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لینا ہے، ایک دو لوگوں یا خاندان کے افراد کی موجودگی سے بھی یہ کلوزڈ ڈور ٹرائل ہی رہے گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پراسکیوشن کے 25 گواہان کا بیان ریکارڈ کیا جاچکا ہے، 21 دسمبر کے بعد 12 گواہان کے بیانات میڈیا کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے مطابق ٹرائل جیل میں ہو گا تو اوپن ہو گا ، اب صورتحال تبدیل ہوئی ہے کہ جیل ٹرائل ان کیمرہ ٹرائل ڈکلیئر کر دیا گیا ، ان کیمرہ کا سیکشن 14 کا آرڈر فیلڈ میں ہے اس کی موجودگی میں کیا ہوا ، ہم نے اس ججمنٹ میں اوپن ٹرائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کیوں نہیں سمجھتے،سائفر ٹرائل کو جلد بازی میں کیا جا رہا ہے، اوپن سماعت کی اہمیت خصوصی عدالت کے جج پر واضح ہے نہ ہی پراسیکیوٹرز پر،سائفر ٹرائل اپنی نوعیت کا پہلا ٹرائل ہے،دیکھنا ہو گا کہ اس طرح کے کیسز میں آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق ملا یا نہیں؟ 1923 میں انسانی حقوق بنیادی حقوق دنیا کو معلوم نہیں تھے، یہ میرے سامنے فرسٹ ایمپریشن کا کیس ہے ، اسٹیٹ کی سیفٹی کمپرومائز نہیں ہونی چاہیے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھیں وہ کہہ رہے ہے میٹریل ناکافی ہے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اسٹیٹ کا موقف ہے کہ 3 ایسے گواہ تھے جن کا بیان نشر نہیں کیا جانا چاہیے تھا،ان گواہان کے بیانات 15 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 12 دیگر گواہان کے بیانات بھی تو کلوزڈ ڈور ٹرائل میں ہوئے ہیں ناں، آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں ، ہم نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اوپن ٹرائل کیا ہوگا ، ان کیمرہ کرنے کی جج کی وجوہات دیکھ لیں اس میں 3 لائنیں لکھی ہوئی ہیں ، اوپن ٹرائل کیا ہے یہ واضح کر چکے ہیں، تم آ جاؤ اور تم آ جاؤ، یہ اوپن ٹرائل نہیں ہوتا، اوپن ٹرائل میں جو چاہے آ سکتا ہے، میڈیا کو اجازت ہے کہ جو چاہے آ سکتا ہے، ایسے نہیں ہوتا، اس بارے باقاعدہ آرڈر ہونا چاہیے، کیا جرح میڈیا کی موجودگی میں کی گئی؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جن 3 افراد کی جرح ہوئی وہ سائفر کی کوڈ، ڈی کوڈ سے متعلق تھے، سائفر سے متعلق سیکرٹری خارجہ کا بیان بھی ان کیمرہ ہو گا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کو کہنا چاہیے تھا کہ جج صاحب 3 گواہان کے لیے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیں تا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں، کبھی کبھی اچھا بھلا کیس ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے چلایا جاتا ہے،خراب ہو جاتا ہے،پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ سائفر ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سائفر ٹرائل کے لیے 14 دسمبر کو حکم ہوا اور 15 دسمبر کو ٹرائل شروع ہوااگر عدالت چاہتی ہے کہ جرح اوپن ہو تو ہو جائے گی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت نہیں کہہ رہی یہ ضرورت ہے کہ ٹرائل اوپن ہو اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ ان کیمرہ جرح صرف ان 4 گواہان کی ہو گی جو دفتر خارجہ کے سائفر سکیورٹی سے جڑے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں۔چاروں گواہان سائفر ٹرانسکرپٹ کرنے اور سائفر سکیورٹی سسٹم سے جڑے ہیں۔ان ملازمین کا کام پوری دنیا سے سائفر ڈی کوڈ کرنا ہے، سائفر سسٹم کیسے کام کرتا ہے یہ تفصیلات پبلک کے سامنے نہیں لائی جا سکتی۔ 13 میں سے جو باقی 9 گواہان ہیں ان کی جرح دوبارہ کر لیں گےاگر عدالت 13 میں سے 9 گواہان کے بیانات کالعدم قرار دیتی ہے تو دوبارہ ہوں گے،

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اٹارنی جنرل کی اس پیشکش پر کیا کہیں گے کہ گواہان کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کرلیے جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عدالت پہلے ٹرائل کورٹ کے ان کیمرہ پروسیڈنگ کے آرڈر کو دیکھے، میرے پاس پہلے 3 گواہان کے بیانات کے عدالتی آرڈر کی کاپی ہے،ہ سرٹیفائیڈ کاپی تو پبلک دستاویز ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہوگی کہ اسے پبلک نہ کیا جائے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ دستاویزات دیکھنا چاہتا ہوں، آپ یہ مجھے فوری طور پر فراہم کریں، اس معاملے میں اہم آئینی ایشوز سامنے آئے ہیں عدالت ان کو دیکھے گی، سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپنے فیصلے میں بھی مواد کو ناکافی قرار دیا تھا، میرا مائنڈ آج آپ نے بہت کلئیر کردیا ، عدالت نے کیس کی سماعت 11 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی ڈگری تصدیق میں تاخیر ،صدر مملکت برہم

    ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی ڈگری تصدیق میں تاخیر ،صدر مملکت برہم

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی ڈگری تصدیق میں تاخیر پر اظہارِ برہمی کیا ہے

    صدر مملکت نےہدایت کی کہ ایچ ای سی ہدایات پر عمل نہ کرنے والی جامعات کی سرزنش کرے، صدر مملکت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے طالبہ کی ڈگری کی ناقص بنیادوں پر تصدیق نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکیا، وفاقی محتسب کے ایچ ای سی کو طالبہ کی ڈگری کی 7 دن میں تصدیق کرنے کے احکامات برقرار رکھے گئے، صدر مملکت نے کہا کہ طالبہ کے قیمتی مہینے ضائع کرنے کے ذمہ دار اہلکار کے خلاف انکوائری شروع کی جائے ، صدر مملکت نے ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی بی اے کی ڈگری کی تصدیق کرنے کے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی

    سویرا آفریدی (شکایت کنندہ) نے اپنی بی اے کی ڈگری کی تصدیق کے لیے ایچ ای سی کو درخواست دی تھی، ایچ ای سی نے طالبہ کی ڈگری کا سیشن سال 2020 ہونے کی بنیاد پر تصدیق سے انکار کیا تھا ، ایچ ای سی نے دو سالہ روایتی ڈگری ختم کر دی، ایچ ای سی کا موقف ہے کہ جامعات کو 2019 کے بعد روایتی بی اے کی ڈگری میں داخلہ دینے کی اجازت نہیں،طالبہ کے وفاقی محتسب سے رجوع کرنے پر محتسب نے طالبہ کے حق میں احکامات جاری کئے تھے ، بعد ازاں ، ایچ ای سی نے محتسب کو اپیل اور نظرثانی کی درخواست دائر کی، جسے مسترد کر دیا گیا،ایچ ای سی نے صدر مملکت کے پاس محتسب کے احکامات کے خلاف درخواست دائر کی،صدر نے کیس کی ذاتی سماعت کی اور ایچ ای سی کی درخواست کو مسترد کر دیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ کو پشاور یونیورسٹی نے سیشن 2019-2020 کے لیے داخلہ دیا، شکایت کنندہ نے یونیورسٹی کا خط پیش کیا جس میں طالبہ کا بی اے کا سیشن 2019-2020 تھا،طالبہ کو یونیورسٹی نے سیشن 2019-2020 کے لیے داخلہ دیا، اس میں شکایت کنندہ کا کوئی قصور نہیں تھا، اگر یونیورسٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی تو طالبہ کو یونیورسٹی کے اعمال اور کوتاہی کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، وفاقی محتسب نے بجا فیصلہ دیا کہ ایک ریگولیٹر کی حیثیت سے فیصلوں پر جامعات سے عمل درآمد کرانا ایچ ای سی کی ذمے داری ہے ، ایچ ای سی کی طرف سے کوتاہی اپنی قانونی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکامی کے مترادف ہے،ایچ ای سی یا یونیورسٹی کی عدم فعالیت سے طالب علم کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے،ایچ ای سی نے یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے شکایت کنندہ کو بغیر کسی غلطی کے غیر ضروری آزمائش میں ڈالا،ایچ ای سی کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے ، ایچ ای سی ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والی جامعات کی سرزنش کرے ، مستقبل میں طلباءکو ایچ ای سی کی غیر فعالیت کی وجہ سے تکلیف نہیں ہونی چاہیے ،

    لیڈی ہیلتھ ورکرز کو رات کے وقت بلانے پر سپریم کورٹ کے ریمارکس،بیان حلفی میں کیا کہا گیا؟

    جعلی ڈگریوں پرملازمت کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • جعلی شناختی کارڈز بنانے میں نادرا کے ہی افسران ملوث نکلے

    جعلی شناختی کارڈز بنانے میں نادرا کے ہی افسران ملوث نکلے

    شناختی کارڈز کے غیر قانونی اجراء کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے

    جعلی شناختی کارڈز بنانے میں نادرا کے ہی افسران ملوث نکلے،ایف آئی اے کی جانب سے جعلی شناختی کارڈز بنانے میں ملوث 4 رکنی گینگ گرفتار کر لیا گیا،گرفتار ملزمان میں محمد طاہر، عدنان عمار، محمد عامر خان اور محمد طیب شامل ہیں،گرفتار ملزمان نادرا میگا سینٹر اسلام آباد میں بطور ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سنئیر ایگزیکٹیو تعینات رہے،ملزمان نے دوران تعیناتی سال 2019 اور 2020 میں غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کئے۔ملزمان احساس پروگرام کے نام پر مزدور طبقے کا بائیو میٹرک لیکر فیملی ٹری میں افغان شہریوں کا اندراج کرتے رہے،ملزمان مختلف ایجنٹوں کی ملی بھگت سے سادہ لوح شہریوں کو رقوم کا لالچ دے کر اپنے جال میں پھنساتے رہے

    گرفتار ملزمان مزدور طبقے کو چند روپوں کا لالچ دے کر فیملی ٹری کا غیر قانونی استعمال کرتے تھے۔ملزمان نے متعدد مزدورں کی فیملی ٹری میں افغان شہریوں کا اندراج کیا۔ملزمان دیہاڑی دار مزدور اور نشے کے عادی لوگوں کو افغان شہریوں کا والد ظاہر کرتے تھے۔دوران تعیناتی گرفتار ملزمان نے متعدد شناختی کارڈز جاری کئے،ملزمان نے شناختی کارڈ جاری کرنے کی آڑ میں بھاری رقوم وصول کیں،ملزمان کو اسلام آباد سے گرفتار کیاگیاتفتیش جاری ہے

    لیڈی ہیلتھ ورکرز کو رات کے وقت بلانے پر سپریم کورٹ کے ریمارکس،بیان حلفی میں کیا کہا گیا؟

    جعلی ڈگریوں پرملازمت کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • "بلے” کا نشان،الیکشن کمیشن اپیل کرے گا یا نہیں؟ فیصلہ نہ ہو سکا

    "بلے” کا نشان،الیکشن کمیشن اپیل کرے گا یا نہیں؟ فیصلہ نہ ہو سکا

    پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے انتخابی نشان بحالی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنی ہے یا نہیں الیکشن کمیشن فیصلہ نہ کرسکا. کل دوبارہ اجلاس بلالیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایک طویل میٹنگ ہوئی جس میں پشاور ہائی کورٹ کے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان دینے کے فیصلے کے بارے میں غور کیا گیا کمیشن نے اس سلسلے میں کل دوبارہ اہم میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    الیکشن کمیشن ابھی تک تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرست کا کوئی فیصلہ نہ کر سکا ،الیکشن کمیشن کو عدالت کے مصدقہ فیصلے کی کاپی کا انتظارہے،تحریک انصاف کی قومی، صوبائی اور اقلیتی نشستوں پر امیدواروں کی سکروٹنی کب کرنی ہے؟ ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا، الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن حکام کل حتمی فیصلہ کریں گے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی امکان ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.
    رپورٹ،محمد اویس، اسلام آباد

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • بہت کچھ کہنے کو دل کرتا ہے لیکن کہہ نہیں سکتا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    بہت کچھ کہنے کو دل کرتا ہے لیکن کہہ نہیں سکتا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد پیش ہوئے،بلوچ مارچ کے شرکاء کے وکیل وکیل عطاء اللّٰہ کنڈی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ مارچ کے شرکاء جب اسلام آباد پہنچے تو ان کو گرفتار کیا گیا، مارچ کے شرکاء پر واٹر کینن و آنسو گیس کا استعمال اور تشدد کیا گیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کتنے بلوچ مظاہرین گرفتار ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ اب بھی 34 بلوچ مظاہرین پولیس کی تحویل میں ہیں، ریکارڈ کے مطابق 196 بلوچوں کو گرفتار کیا گیا، 162 ضمانت پر ہیں، مظاہرین میں سے ظہیر بلوچ اب تک نہیں ملے، عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے نمٹنے کی پالیسی یکساں ہونی چاہیے، کچھ مظاہرین کو آپ گود میں بٹھا لیتے ہیں، کچھ کے ساتھ یہ حال کرتے ہیں اگر ایس ایس پی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تو سیکریٹری داخلہ کو بلا لیتے ہیں، ہمیں کوئی دشمن نہیں چاہیے، ہم خود ہی اپنے دشمن ہیں

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں مظاہرین کو ریڈ زون میں بھی پیمپر نہیں کیا جاتا؟ کچھ مظاہرین کو احکامات پر پولیس کی جانب سے تحفظ دیا جاتا ہے، کیا بلوچ مظاہرین نے تنصیبات پر حملہ کیا؟ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت میں کہا کہ جو 34 بلوچ گرفتار ہیں ان کی شناخت پریڈ مجسٹریٹ کو کرنی ہے،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کے بیانات میں تضادات ہیں ان بیانات پر رپورٹ طلب کی جائے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ضمانت کے احکامات کے باوجود ضمانت نہیں ہوتی، انگریز نے بلوچ کے بارے میں کیا کہا تھا؟ انگریز نے بلوچ کے بارے میں کہا کہ بلوچ کو عزت دو اور وہ آپ کے لیے کچھ بھی کرے گا، اس ملک میں تب تک کچھ نہیں ہوتا جب تک کچھ ہو نہ جائے مجسٹریٹ کل تک شناخت کا عمل مکمل کریں،ایڈووکیٹ جنرل نےکہا کہ حکومت پر الزامات لگانا آسان ہے، مظاہرین میں سے کوئی بھی بلوچ لا پتہ نہیں،بلوچ مارچ کے شرکاء کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت رپورٹ مانگے کہ مظاہرین میں سے 50 سے زائد خواتین کو کیوں گرفتار کیا گیا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت کچھ کہنے کو دل کرتا ہے لیکن کہہ نہیں سکتا،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ظہیر بلوچ کی ضمانت ہو چکی ہے، مچلکے جمع نہ ہونے پر انہیں رہا نہیں کیا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے 34 بلوچ طلباء کی آج ہی شناخت پریڈ کا حکم دے دیا، اسلام آباد پولیس سے خواتین بلوچ مظاہرین کی رپورٹ طلب کر لی اور کیس کی سماعت 29 دسمبر تک ملتوی کر دی

    وفاقی پولیس نے بلوچ یکجہتی کونسل کیطرف سے پھیلائی جانے والی خبروں کو پراپیگنڈہ قرار دیدیا

    تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے،حکومتی نمائندوں کےبلوچ یکجہتی کونسل کے مظاہرین سے مذاکرات

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی درخواست کے مقرر کرنے کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی اپیل کو چھٹیوں میں مقرر کرنے کی استدعا مسترد کر دی

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ چھٹیوں میں تین رکنی بینچ دستیاب نہیں، چھٹیوں کے بعد تین رکنی بینچ اس کیس کو سنے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے،ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف درخواست تین رکنی بینچ سن سکتا ہے ،توہین عدالت کی درخواست شاید کل لگ جائے،توہین عدالت کی درخواست آئی ہے اس کو مقرر کرنے سے متعلق چیمبر میں جا کر فیصلہ کریں گے

    قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے کیس کی سماعت کے لیے تحریک انصاف کے وکلاء قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کی عدالت پہنچ گئے،تحریک انصاف کے سینئر وائس صدر لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی ہیں،عمران خان کے خلاف فیصلہ معطلی کی استدعا کی گئی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے میں بھی توہین عدالت دائر کر رکھی ہے، قائمقام چیف جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دونوں درخواستوں کی آفس سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر میرے اسٹاف سے فائل چھینی گئی اور دھمکایا گیا،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ معاملہ ایڈمنسٹریٹو سائڈ پر دیکھا جائے گا، اس میں کوئی آئینی ایشو نہیں جو عدالت میں لگایا جائے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو انصاف سے رسائی سے انکار ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر بروقت کیس جمع ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکر رکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نظربندی کا حکم واپس،شاہ محمود قریشی اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    نظربندی کا حکم واپس،شاہ محمود قریشی اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا

    پولیس نے شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے مقدمات میں گرفتار کرلیا ،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کی 15 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے، سائفر کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں رہا ہوئے ، جیل سے نکلتے ہیں راولپنڈی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا، بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا.شاہ محمود قریشی کو پولیس دھکے مارتے ہوئے گاڑی تک لے کر گئی، بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو بٹھایا گیا، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا سامان بھی گاڑی تک پہنچایا گیا.

    اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ظلم ، ناانصافی،سپریم کورٹ کے آرڈر کا مذاق اڑایا گیا، مجھے دوبارہ جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، انتقامی سیاست کی جا رہی، بے گنا ہ ہوں،

    رہائی کے فوراً بعد راولپنڈی پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمے میں گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کی مقدمہ نمبر 981 اور 708 میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے تھانہ آر اے بازار منتقل کردیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی کا جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا،

    میرے والد برصغیر کی سب سے بڑی جماعت کے گدی نشین ،لحاظ نہیں کیا گیا،مہر بانو قریشی
    راولپنڈی: شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی اور وکیل بیرسٹر تیمور ملک جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے ،شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے جوڈیشل کمپلیکس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا، ہمیں بتایا گیا کہ کسی نئے مقدمے میں شاہ محمود کو گرفتار کیا گیا، ہمیں نہیں بتایا جارہا کہ نہیں کہاں لے کر گئے، انہیں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا یا نہیں،میرے والد کی گرفتاری کے وقت نہ رتبے کا لحاظ کیا گیا اور نہ ہی عمر کا، برصغیر کی سب سے بڑی جماعت کے گدی نشین ہیں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا،الیکشن لڑنا شاہ محمود قریشی کا حق ہے ان کو دینا چاہیئے،

    شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

  • کیا چاہتے ہیں توہین عدالت پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو جیل میں ڈال دوں؟عدالت

    کیا چاہتے ہیں توہین عدالت پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو جیل میں ڈال دوں؟عدالت

    خیبرپختونخوا کے ضلع دیر کی حلقہ بندی سے متعلق الیکشن کمیشن کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دوران سماعت الیکشن سے متعلق اہم ریمارکس دیئے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہم کیا کریں،سپریم کورٹ نے واضح طور پر لکھ دیا کہ مردم شماری کے تنازعات کو انتخابات کے بعد دیکھنا ہو گا، سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ ابھی انتخابات مقررہ تاریخ پر ہونے دیں، مردم شماری سے متعلق کیسز عام انتخابات کے بعد دیکھیں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو عزت دینا ہو گی، آپ کیا چاہتے ہیں توہین عدالت پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو جیل میں ڈال دوں؟آپ کی درخواست پر مناسب فیصلہ کریں گے، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

    چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،