Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عمران خان کے الزامات بے بنیاد،کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،امریکہ

    عمران خان کے الزامات بے بنیاد،کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،امریکہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ عمران کے الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا پاکستان میں کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتا

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا صحافی کے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کی قیادت کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے،امریکا پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی کسی ایک امیدوار یا پارٹی کو اہمیت نہیں دیتا، امریکا کی دلچسپی جمہوری عمل میں ہے،عمران خان کے الزامات بے بنیاد ہیں امریکا چاہتا ہے انتخابات پاکستانی قوانین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ ہوں،امریکا پاکستان کو نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات کیسے کروائے، پاکستان میں جمہوری اظہار اور متحرک جمہوریت کی حمایت جاری رکھیں گے

    واضح رہے کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے صحافی نے سوال کیا تھا کہ ایسے ملک میں لوگ حکومت کیسے منتخب کر سکتے ہیں کہ جس کو وہ ووٹ دینا چاہتے ہوں وہ بیلٹ پیپر پر ہی نہ ہو؟

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے‌ حوالہ سے سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے، رپورٹ میں پاکستان کا نام خاص تشویش والے ممالک میں‌شامل کیا گیا ہے،فہرست میں روس، چین، ایران، سعودی عرب، الجزائر، آذربائیجان، وسطی افریقی، کوموروس اور ویتنام بھی شامل ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہےکہ حکومتوں کو مذہبی اقلیتی برادریوں کے ارکان اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کو ختم کرنا چاہیے.

  • تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بینچ کا حصہ ہیں،عدالتی کاروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے، ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آچکا ہو، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا،کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی،کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

    ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں،ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں،آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں،کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے، اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے،اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے،کیا سزا تاحیات ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے،آئین کو آسان کریں،آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں،اگر کوئی سونا چند گرام لکھوایا تو کیا ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہونگے؟
    مدت پانچ سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاون کرسکتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232تین کو اسطرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا پانچ سال ہوگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں، اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا زکر نہیں ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی،

    پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں آپکا کیا خیال ہے ، جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وہاں ڈکلیریشن نہیں تھا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پارلیمنٹ نے نا اہلی کی مدت طے کرائی تو یہ سوال تو اکیڈمک سوال ہوا کہ نا اہلی کی مدت کیا ہو گی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو کالعدم قرار دیں تو سزا کتنی ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5 سال ہو گی ، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا گیا تھا؟ ریکارڈ منگوا لیں , جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 232 دو عدالتی معاون کے مطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے ، سیکشن 232 تین چیلنج ہی نہیں ، امریکہ میں قانون کالعدم ہو تو کانگرس نیا قانون بنا لیتی ہے، امریکی کانگرس اپنی عدالت کو قائل کرتی ہے کہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، سربراہ پی ٹی آئی کو نا اہل نہیں کیا گیا ،شکیل اعوان، خواجہ آصف، شیخ رشید کیسز دیکھیں تو تا حیات نا اہلی کا فیصلہ لکھنے والے جج آہستہ آہستہ مؤقف بدلتے رہے ،

    نواز شریف کا نام لینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لیں،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی فیس نہ ملی ہو
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایسی کوئی مثال ہے سمیع اللہ بلوچ کے بعد کیس کو تا حیات نا اہل کیا گیا ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ڈکلیریشن کو ختم کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ثناء اللہ بلوچ کے لیے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں کچھ کہا گیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لینا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تنخواہ لینے کا سہارا لے کر نا اہلی کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بات نا کریں جو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی اسے فیس نہ ملی ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک ہر شخص کی صادق اور امین ہوگا، ایک دو غلطیوں سے کسی کو بے ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر کوئی غلطی ہو بھی تو پانچ سال کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایسا کوئی ڈیکلریشن آج تک نہیں آیا کہ کوئی صادق اور امین نہ ہو، جرائم پیشہ افراد کو ایماندار اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، نااہلی کا ڈیکلریشن شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتیں،

    تاحیات نااہلی کیس، وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز، اٹارنی جنرل کے دلائل
    دوبارہ وقفے کے بعد سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے 2015 کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا، سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لا کے سوال کا جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگر یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ آف لاء سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پر سوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہو گا،عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے،عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کر چکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کر دیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا،سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے ابھی ہم نے پہلی رکاوٹ ہی عبور نہیں کی، ڈیکلیریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا یہ ہم کیسے طے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے طے کر دی ہے پانچ سال کی مدت، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے صرف نااہلی کی مدت کا تعین کیا ہے،نااہلی کی ڈکلئیریشن اور طریقہ کار کا تعین ابھی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور صاحب اس کا جواب یہ دیں کہ پارلیمنٹ آئندہ یہ بھی طے کر لے گی،عدالتیں قانون نہیں بناتیں، عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتا ہے کہ قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں، آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،جس کو چاہیں نااہل کردیں ،صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں، مبشر حسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا، آج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے

    تاحیات نااہلی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خوش آمدید،کب سے انتظار کر رہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں،تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی، جسٹس مندوخیل نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم تو آج کل دیر ہی کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائیگا،ممکنہ طور پر آج فیصلہ نہیں سنایا جائیگا،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • نو لاکھ میں سے 5لاکھ79 ہزار191 انتخابی  عملے کی ضروری تربیت مکمل

    نو لاکھ میں سے 5لاکھ79 ہزار191 انتخابی عملے کی ضروری تربیت مکمل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2024 کے لیے انتخابی عملے کی ترجیحی بنیادوں پر تربیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تک 5لاکھ79 ہزار191 افراد کی ضروری تربیت مکمل ہو چکی ہے جبکہ بقیہ 4 لاکھ 62 ہزار 222 افراد کی تربیت یکم فروری2024 تک مکمل ہو جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں تعینات ہونے والے 9 لاکھ 854 ہزار 413 نفوس پر مشتمل انتخابی عملہ کی تربیت کا آغاز نومبر2023 کے آخری ہفتہ میں کیا۔انتخابی عملہ میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران، پریذائڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریذائڈنگ افسران اور دیگر انتخابی عملہ شامل ہے۔تربیتی پروگرام کے دوران غیر حاضر رہنے والے عملہ کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے لہذا عام انتخابات کے دوران انتخابی ذمہ داریاں تفویض کیے جانے والے تمام سرکاری ملازمین کو تربیتی نشسستوں میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی خصوصی ہدایات پر مرکزی کنٹرول روم 26 دسمبر 2023 سے مکمل فعال ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر موصولہ شکایات کا ازالہ کر رہا ہے۔مرکزی کنٹرول روم میں اب تک 45 شکایات موصول ہوئیں اور ان تمام کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم مرکزی شکایت سیل میں آنے والی 165 شکایات پر فوری کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور تمام شکایات کا ازالہ ہو چکا ہے۔ مرکزی کنٹرول روم کے ما تحت 180 کنٹرول روم صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر بھی فعال کر دیے گئے ہیں جو انتخابات کی نگرانی اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مرکزی کنٹرول روم کی معاونت کر رہے ہیں۔

    ملک بھر کے تمام اضلاع میں تعینات مانیٹرنگ ٹیمیں بھی متحرک ہو گئی ہیں جو امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے تمام تشہیری مواد کو روزانہ کی بنیادوں پر ہٹانے میں مصروف ہیں۔ مذید برآں اب تک ضابطہ اخلاق کی دیگر خلاف ورزیوں پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز کی جانب سے نوٹسز بھی جاری کیے جارہے ہیں جن پر انکوائری کے بعد قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 18میڈیکل کے اعلی تعلیمی اداروں کے غیر قانونی طور ہر کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا مگر معطلی کے آڈرز پبلک کرنے سے انکار کردی،

    پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ای ای سی کو 18میڈیکل کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم دینے والے اداروں کے معطلی آڈرز شائع کرنے کا حکم دے دیا۔اگر ایچ ای سی نے معطلی کے احکامات دیئے ہیں تو ان کو پبلک کیوں نہیں کیا جارہا،معطلی کے احکامات پبلک کریں تاکہ شفافیت آئے ۔غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 18مختلف یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ میڈیکل کالج ہیں ۔پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں بغیر این او سی کے کام کرنے والی 18 شعبہ صحت کے تعلیمی اداروں کی معطلی کے احکامات کو عوامی طور پر شائع کرے، یہ معلومات کے حق کو برقرار رکھنے اور تعلیمی شعبے میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے ۔

    جمعرات کو پاکستان انفارمیشن کمیشن میں شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی شہری نے این او سی کے بغیر کام کرنے والے اداروں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی طرف سے معطلی کے آڈر کی کاپی دینے کی درخواست کی سماعت کی ۔یہ فیصلہ شہری انور الدین کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس نے متاثرہ اداروں میں نئے طلباء کے داخلے پر پابندی کے معطلی کے احکامات کی کاپیاں مانگی تھیں۔

    ان اداروں میں بشیر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، کام ویو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیکسن انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، نووا انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن اسٹڈیز، پی اے سی ای اور کے ای ڈی جی ای انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، پی ایچ آر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، راول انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، یسرا انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن سائنسز، پرائم انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، این سی ایس انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز، امان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، مارگلہ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز۔ ، میڈکس انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، اور ہیلتھ ایڈ کالج آف نرسنگ اینڈ ہیلتھ سائنسز شامل ہیں جن کے بارے میں ایچ ای سی نے کہاکہ ہے کہ این او سی نہ ہونے کی وجہ سے ان اداروں میں داخلوں کو روکنے کے آڈرز کئے ہیں ۔

    ابتدائی طور پر، ایچ ای سی نے معلومات دینے سے کرنے سے انکار کر دیا اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس سے ان کے موقف پر منفی اثر پڑے گا اور اداروں کی رازداری کی خلاف ورزی ہوگی۔ تاہم، پی آئی سی کی سماعت کے دوران، ایچ ای سی کے نمائندے، حماد بن سیف نے اعتراف کیا کہ معطلی کے احکامات جاری پالیسی کی وجہ سے جاری کیے گئے تھے جس میں داخلوں کو عارضی طور پر روکنا ضروری تھا۔ پی آئی سی نے ایچ ای سی کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’این او سی کے بغیر کام کرنے والے اداروں کو معطل کرنے کا حکم ایچ ای سی کا حکم ہے اس لیے یہ تھرڈ پارٹی کی معلومات نہیں ہے جیسا کہ ایچ ای سی نے استدعا کی ہے۔‘‘ کمیشن نے ایچ ای سی کو 10 کام کے دنوں میں معطلی کے احکامات کی کاپیاں اپیل کنندہ کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، عدم تعمیل پر جرمانے کی کارروائی کا انتباہ دیا۔

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    مزید برآں، پی آئی سی نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مناسب نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے نئی الحاق کی پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ پی آئی سی کا یہ فیصلہ ایچ ای سی کے اندر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے اور معلومات کے عوامی حق کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ معطلی کے احکامات کا انکشاف اداروں کی جانب سے قواعد و ضوابط کی عدم تعمیل پر روشنی ڈالے گا اور طلباء کو غیر منظور شدہ پروگراموں میں داخلہ لینے سے ممکنہ طور پر بچائے گا۔(محمداویس).

  • جے یو پی، نظام مصطفیٰ پارٹی کےانٹرا پارٹی الیکشن، فیصلہ محفوظ

    جے یو پی، نظام مصطفیٰ پارٹی کےانٹرا پارٹی الیکشن، فیصلہ محفوظ

    سیاسی جماعتوں کیلئے انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

    جمیعت علما پاکستان کے وکیل حسن کامران پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹکل فنانس اختر شیروانی نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ ہوسکے،انکے پارٹی آئین کے مطابق تین نشستوں کیلئے انتخابات ہونا تھے لیکن نو پر کرائے گئے،ممبر کمیشن نے ڈی جی پولیٹکل فنانس اختر شیروانی سے استفسار کیا کہ کیا پابندی تھی اگر نہ کرواتے تو جرم تھا ،ڈی جی پولیٹکل فنانس اختر شیروانی نے کہا کہ ہمارے تحفظات پرنظرثانی شدہ جواب جمع کرایا گیا جس میں اکیس نام دیئے گئے ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپکا اعتراض سمجھ آگیا،وکیل جے یو پی نے کہا کہ لاہور میں دھند کے باعث پیر اعجاز احمد ہاشمی آ نہ سکے،ہم نے انتخابات تین نشستوں پر ہی کرائے ہیں باقی نامزد ہوئے ہیں،پارٹی انتخابی نشان کا ایشو ہے انتخابی نشان الاٹ کیا جائے،الیکشن کمیشن نے کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    نظام مصطفی پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے ڈی جی پولیٹکل فنانس مسعود شیروانی پیش ہوئے اور کہا کہ پارٹی 2002 میں رجسٹرڈ ہوئی ،2006 میں انٹراپارٹی انتخابات ہونا تھے ،انہوں نے اس سال کے پارٹی اکاوئنٹس جمع کرائے گزشتہ سال کے نہیں کرائے ،وکیل نے کہا کہ ہم انٹراپارٹی انتخابات کی تفصیلات لے آئے ہیں اور اکاؤنٹس کی بھی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا الیکشن ہوگئے ہیں،وکیل نے کہا کہ جی لے آئے ہیں،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کا وقت ختم ہو چکا، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 72 سے پی ٹی آئی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹربیونل نے این اے 72 سے پی ٹی ائی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،عدالت نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے، کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات خلاف قانون ہیں،عدالت ریٹرنگ افسر کے اعتراضات کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات منظور کرنے کا حکم دے،

    این اے 264، اختر مینگل کی اپیل منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    کوئٹہ کے الیکشن ٹربیونل نے سردار اختر مینگل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، کاغذات نامزدگی منظورکر لئے، سردار اختر مینگل نے این اے 264 کوئٹہ 3 کے آر او کے فیصلے کیخلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا،اس موقع پر اختر مینگل کے وکیل کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی اپیل دائر کی تھی، این اے 264 پر اسکو ٹربیونل نے منظور کر لیا ہے، ہماری ابھی تین درخواستیں پینڈنگ ہیں، بلوچستان کے ایک نامور سیاستدان جو بلوچستان کی پہچان ہے اسکو الیکشن لڑنے کا موقع ملا، بدنیتی کی وجہ سے کاغذات آر او نے مسترد کئے تھے،دوسری جانب این اے 262 پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری سالار خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے.

    این اے 15، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات منظوری کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی گئی، تحریک انصاف کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی نے نواز شریف کے این اے 15 سے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر اپیل دائر کی تھی، الیکشن ٹربیونل نے اعظم سواتی کی اپیل منظور کر لی اور سماعت کے لئے مقرر کر دی، اعظم سواتی کی نواز شریف کیخلاف اپیل پر سماعت کل ہو گی،الیکشن ٹربیونل نے نوٹس جاری کر دیا، اپیل پر سماعت الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس کامران حیات اپیل کریں گے

    پشاور،کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیلوں پر الیکشن ٹریبونل کے جسٹس شکیل احمد نے171 اپیلوں پر سماعت کی،اسد قیصر، شیر افضل مروت،تیمور سلیم جھگڑا، شہرام ترکئی، محمود جان،شیر علی، افتخار مشوانی، عبدالسلام، عاطف خان اور شاندانہ گلزار سمیت 171 اپیلوں پر نوٹسز جاری کر دیئے گئے، 5 سے 9 جنوری تک نوٹسز پر سماعت ہوگی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی اپیل منظور کر لی،ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سبطین خان کو صوبائی حلقہ پی پی 88 میانوالی سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پر تمام اعتراضات ناقص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیئے

    سندھ ہائیکورٹ: ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، فہمیدہ مرزا، کی اپیل پر سماعت ہوئی،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن اور اور رٹرنگ افسران کو 8 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے ،ریٹرنگ افسر نے فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا این اے 223 بدین سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے تھے

    سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتار
    ملتان: سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتارکر لئے گئے،ا شبیر علی قریشی کو انکے وکیل طارق محمود ڈوگر کے چیمبر سے گرفتار کیا گیا ،وکلاء کے موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں بھی چھین لی گئی۔ شبیر علی قریشی الیکشن ٹریبونل میں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر پیش ہوئے تھے

    اعظم نیازی،ایمان طاہر،علی ناصر بھٹی، ناز طاہر ،راجہ راشد حفیظ کےکاغذات منظور
    راولپنڈی،این اے 90 میانوالی سے اعظم خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی،ریٹرنگ افیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، گیا،اعظم خان نیاِزی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،حلقہ این اے 56 اور پی پی 17 سے تحریک انصاف کے راجہ راشد حفیظ کی اپیل منظور کر لی گئی،حلقہ این اے 58 اوع پی پی 20 چکوال سے علی ناصر بھٹی کی اپیل منظور کر لی گئی،میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کی دو بیٹیوں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات مسترد کاغذات نامزدگی منظور ،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افس کے جانب سے عائد کردہ اعتراض مستردکر دیئے ،حلقہ این اے 50 سے ایمان طاہر اور ناز طاہر نے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی تھی

    این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے کاغذات منظور
    الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس خادم حسین تنیو نے این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی اپیل کی سماعت کی،الیکشن ٹریبونل نے فردوس شمیم نقوی کی اپیل منظور کرلی ،الیکشن ٹریبیونل نے ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے نامزدگی فارم بحال کردیے ،فردوس شمیم نقوی کے کاغزات منظور کرلیے ،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کاغذات سیاسی بنیادوں پر مسترد کیے جارہے تھے اسلئے ایک سے زیادہ کاغزات جمع کراۓ، جسٹس خادم حسین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی تقریرنا کریں آپ صرف قانون کی بات کریں ، وکیل نے کہا کہ پارٹی کا نشان نہ ہونے پر کاغزات مسترد کیے گئے ،جسٹس خادم حسین نے کہا کہ یہ تو پارٹی بعد میں فیصلہ کرے گی کون امیدوار ہوگا، جانچ پڑتال کے مرحلے پر کیسے مسترد ہوگئے،قانون بتائیں کس شق کے تحت کاغزات نامزدگی کے وقت انتخابی نشان ہونا ضروری ہے ؟ کیا تحریک انصاف نے امیدوار سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ؟ اعتراض کنندہ نے کہا کہ بیان حلفی میں پارٹی کا تعلق بتانا ضروری ہے جو فردوس شمیم نقوی نے نہیں کیا ، جب بیان حلفی میں ہی غلط معلومات دی گئی ہیں تو کاغزات کیسے منظور ہوں گے ؟الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ آپ کو کیسے پتا ان کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں ہے ؟ فردوس شمیم نقوی این اے 236 سے ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے

    پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
    پرویز الہی، مونس الہی اور قیصرہ الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،جسٹس راحیل کامران نے ریٹرننگ آفیسر سے کل جواب طلب کرلیا ،ٹربیونل نے اپیلوں پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،رجسٹرار آفس نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کی کاپی ساتھ نہ لگانے کا اعتراض لگایا تھا ، پرویز الہی مونس الہی اور قیصرہ الہی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف ایپلٹ ٹریبیونل میں اپیلیں دائر کی، درخواست میں‌مؤقف اپنایا کہ ریٹرننگ افسران نے خلاف قانون کاغذات نامزدگی مسترد کی ہے ، ٹربیونل ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کو کلدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے.

    اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر نوٹسسز جاری
    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبونل ،عام انتخابات کے لیے اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،پی ٹی آئی کے الیاس مہربان، عامر مغل، شیراز کیانی، زبیر فاروق و دیگر کی اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری، کل تک جواب طلب کر لیا گیا،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،الیکشن کمیشن کی جانب سے ضیغم انیس عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شیراز کیانی کی جانب سے رضوان شبیر کیانی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف اعتراض ہے کہ موٹر سائیکل اور گاڑی کا نہیں بتایا،موٹر سائیکل اور گاڑی تین سال پہلے بیچ دی ہیں،عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام کیسسز میں کل کےلئے نوٹسسز کرونگا،

    آپ تو اشتہاری ہیں ناں؟ عدالت کا امیدوار سے مکالمہ
    عامر مغل کی جانب سے عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ اعتراض ہے کہ آپ دو مقدمات میں نامزد ہیں، عدالت نے وکیل عامر مغل سے استفسار کیا کہ آپ تو اشتہاری بھی ہیں ناں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے سامنے سرنڈر کر چکا ہوں، ان دو مقدمات کا علم نہیں تھا،

    عدالت نے الیاس مہربان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے کہ آپ کے خلاف مقدمات درج ہیں، وکیل الیاس مہربان نے کہا کہ کہا گیا کہ میرے خلاف تین مقدمات درج ہیں،تینوں ایف آئی آرز کی کاپیاں میرے پاس ہیں مگر کہیں پر میرا نام نہیں،وکیل زبیر فاروق نے کہا کہ میرے کاغذاتِ پر تین اعتراضات ہیں، مقدمات ، انکم ٹیکس اور اثاثے نہ بتانے کا اعتراض میرے کاغذات پر لگایا گیا ،مقدمات میں 2019 میں بری ہوچکا ہوں، گاڑی کا حوالہ دیا جو بیچ چکا ہوں، انکم ٹیکس جون تک میرا کلئیر ہے اور اثاثے بھی ڈکلیئر ہیں،الیکشن اپلیٹ ٹریبونل نے تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کل تک کےلئے ملتوی کردی

    خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر اعتراض، نوٹس جاری
    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی نایاب علی کے کاغزات منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس معاملے کو ریٹرننگ افسر کے پاس اٹھایا تھا؟ آپکی درخواست ہی مکمل نہیں، اس درخواست کو میں یہاں پر خارج کرسکتاہوں،آپ نے جو اعتراضات اٹھائے تھے کیا وہ تحریری تھے یا زبانی تھے؟ عدالت نےفریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے اورپیر تک کے لئے جواب طلب کر لیا

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے کاغزات نامزدگی منظور
    الیکشن ٹربیونل نے شیخ رشید کی اپیل منظور کر لی ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،حلقہ این اے 56 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔تمام اعتراضات مستردکر دئے گئے،حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔اعتراضات مسترد کر دئے گئے،الیکشن ٹریبونل کے جج مرزا وقاص رئوف نے اپیل پر فیصلہ سنا دیا

    مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی بھی منظور
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ضیاء الحق شہید کے سربراہ اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئیے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اعجاز الحق کے کاغذات پر ریٹرننگ افسر کے اعتراضات کو مسترد کردیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر،موٹروے بند،پروازیں منسوخ

    دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر،موٹروے بند،پروازیں منسوخ

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں شدید دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں

    پنجاب، خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے علاقوں میں دھند کا راج برقرار ہے،راولپنڈی،اسلام آباد میں مسلسل تیسرے روز بھی دھند ریکارڈ کی گئی ہے، دھند کی وجہ سے موٹروے ایم 2 اسلام آباد سے بلکسر تک بند کردی گئی ہے، لاہور سے پنڈی بھٹیاں تک بھی موٹروے بند ہے،پشاور سے اسلام آباد تک موٹر وے پر بھی ٹریفک معطل ہے، سوات ایکسپریس وے اور ہزارہ ایکسپریس وے کے مختلف سیکشن بھی ٹریفک کیلئے بند کردیے گئے ہیں

    دھند کے باعث پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں،کراچی ایرپورٹ سے جانے اور آنے والی 30 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں،جبکہ کئی التوا کا شکار ہوئی ہیں،سیرین ایر کی کراچی سے اسلام آباد کی دو طرفہ پرواز ای آر 500 اور ای آر 501 منسوخ ہوئی ہے،ایرسیال کی کراچی اسلام آباد کی دو طرفہ پرواز پی ایف 121 اور پی ایف 122 منسوخ ہوئی ہے،پی آئی اے کی کراچی سے سکھر کی دو طرفہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں،پی آئی اے کی کراچی سے جدہ کی دوطرفہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں،ایر سیال کی کراچی سے لاہور کی دو پرواز پی ایف 141 اور پی ایف 142 منسوخ ہوئی ہیں،سیرین ایر کی کراچی پشاور کی دو طرفہ پرواز ای آر 550 اور ای آر 551 منسوخ ہوئی ہیں،پی آئی اے کی کراچی اسلام آباد کی پی کے 368 اور پی کے 369 منسوخ ہوئی ہے، سیرین ایر کی کراچی لاہور کی دو طرفہ پرواز ای آر 522 اور ای آر 523 منسوخ ہوئی ہے،پی آئی اے کی کراچی لاہور کی دو طرفہ پرواز پی کے 304 اور پی کے 305 منسوخ ہوئی ہے،ایربلو کی کراچی سے اسلام کی دو طرفہ پرواز پی اے 200 اور پی اے 201 منسوخ ہوئی ہے،ایرسیال کی شام 7 بجے اسلام آباد اور لاہور کی دو طرفہ پروازیں بھی منسوخ ہوئی ہیں،ایربلو کی رات 8 بجے کی کراچی سے لاہور کی دو طرفہ پرواز منسوخ ہوئی ہے، ایوی ایشن حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دھند کے باعث حد نگاہ میں کپتانوں کو مسئلہ ہے، فلائٹ سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرلائنز پروازیں منسوخ کر رہی ہیں،

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔جبکہ اسلام آباد اور گر دو نواح میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے، خیبرپختونخوا صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی اضلاع میں شدید سرد رہے گا۔ چارسدہ ،رشکئی، مردان،نوشہرہ ، صوابی ، پشاور، اور گردونواح میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے،پنجاب صوبہ کےبیشتراضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ مری، گلیات اورگردونواح میں سرد اورمطلع ابر آلودرہےگا ۔ راولپنڈی، اٹک، چکوال،بہا ولپور ،ساہیوال ، اوکاڑہ ،قصور،لاہور ،سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، جہلم، اور گر دو نواح میں شدید دھند / سموگ چھائے رہنے کا امکان ہے،بلوچستان صوبہ کے بیشتر اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کےساتھ چاغی، کوئٹہ، چمن، زیارت، لورالائی،آواران اور مکران کے ساحلی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے،سندھ صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔ جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ ، دادو، گھوٹکی، خیر پور میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید دھند،سموگ چھائے رہنے کا امکان ہے،گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسم شدید سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا ۔

     مساج سروس تلاش کرنیوالے آدمی کو جسم فروشی کی ویب سائٹ پر بیوی اور بہن کی تصویریں نظر آ گئیں

    مساج سینٹر میں کام کرنیوالے کرنے لگے گھناؤنا دھندہ، پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • ایمریٹس ایئر لائن کے اسلام آباد سے  کامیاب آپریشنز کے 25 سال

    ایمریٹس ایئر لائن کے اسلام آباد سے کامیاب آپریشنز کے 25 سال

    ایمریٹس ائیرلائن اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اسلام آباد سے ایئر لائن کے کامیاب آپریشنز کے 25 سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا اہتمام کیا۔

    ہوائی اڈے پر ایک یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خطے میں ایئر لائن کے سفر اور اس میں ہوائی اڈے کے کردار کا اعتراف کیا گیا۔ ایمریٹس کی اعلیٰ انتظامیہ نے شاندار خدمات پر پاکستان سول ایویشن اتھارٹی اور ایئرپورٹ حکام کا شکریہ ادا کیا۔ ہوائی اڈے کے حکام کو پیشہ ورانہ مہارت کے اعتراف اور کامیاب ایئر لائن آپریشنز کو یقینی بنانے کے اعتراف میں عزت مآب شیخ احمد بن سعید المخدوم، چیئرمین ایمریٹس ایئرلائنز اور گروپ کے سی ای او کی جانب سے تعریفی سرٹیفکیٹ دئے گئے۔ اس موقع پر کیک کاٹنے کی تقریب بھی ہوئی جس میں پی سی اے اے اور ایمریٹس کے کامیاب مشترکہ سفر کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا اعادہ کیا گیا۔

    1999 کے بعد سے، ایمریٹس نے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتہ میں چار پروازوں سے بڑھ کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فی ہفتہ دس پروازیں کر دی ہیں، جو علاقائی رابط کو مزید بہتر بنانے کے لئے ائرلائین کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اسلام آباد ہوائی اڈے اور ایئر لائن نے پاکستان کے دارالحکومت کو دنیا سے جوڑنے، بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے اور علاقائی اقتصادی اور ثقافتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایمریٹس کے عالمی معیار کے بہترین ہوائی سفر کی فراہمی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے اور یہ سالگرہ اس مشترکہ عزم کی پائیدار کامیابی کا ثبوت ہے۔

     غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز ای کے 615 چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ملتوی

    پاکستانی ائیرلائنز پر یورپ میں پابندی ختم ہوگی یا نہیں فیصلہ اگلے سال مئی میں 

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

  • وفاقی اردو یونیورسٹی   میں منشیات و جرائم  کے سدباب کے لئے آگاہی سیمینار

    وفاقی اردو یونیورسٹی میں منشیات و جرائم کے سدباب کے لئے آگاہی سیمینار

    وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی جانب سے منشیات و جرائم کے بارے میں ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب کے مہمان خصوصی محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی سیف سٹی و ٹریفک اسلام آباد پویس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔ ڈاکٹر احتشام الحق انچارج اسلام آباد کیمپس، محمد علیم رضا ایڈیشنل رجسٹرار اور ڈاکٹر عظمیٰ سراج صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ تقریب کا انعقاد یونیورسٹی آدیٹوریم میں کیا گیا جس میں طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔  محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی نے طلبہ کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کی طرف سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مختلف تعلیمی اداروں میں اسلام آباد پولیس کی طرف سے طلبہ کو معاشرتی جرائم و منشیات اور ان کی روک تھام کے لیئے اسلام آباد پولیس کے اقدامات کے بارے میں آگاہی دی جائے۔

    اپنے خطاب کے دوران مہمان خصوصی نے جرائم کی مختلف اقسام، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم کی روک تھام کے لئے پولیس کے طریقہ کار، سیف سٹی کیمروں کا استعمال، گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار سمیت کئی اہم معلومات فرہم کی۔ طلباء کی طرف سے موجودہ حالات میں پولیس کا کردار اور اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کے بارے میں مختلف سوالات کئے گئے جن کے مفصل جوابات  محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی نے دیئے۔ تقریب کے آخر میں ڈاکٹر عظمیٰ سراج صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات نے سیمینار میں شرکت کرنے پر معزز مہمان گرامی و دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیا جبکہ طلباء نے گروپ فوٹو بھی بنائے۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

     شارق خان نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی منشیات کا گیٹ وے ہے،

  • سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست  پیر تک ملتوی

    سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست پیر تک ملتوی

    پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ میں الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی سماعت کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے لطیف کھوسہ کے نام کیساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار،نواب اور پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کر دیں،1976 کے بعد سے سرداری نظام ختم ہوچکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھر سرداری نظام،آئین پاکستان کیساتھ اب مذاق کرنا بند کر دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے شناختی کارڈ پر سردار لکھا اس لیے عدالت میں بھی سردار لکھا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سردار اور نوابوں کو چھوڑ دیں اب غلامی سے نکل آئیں،سردار لکھ کر اپنا رتبہ بڑا کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،سرداری نظام ختم ہو چکا ہے یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا ،آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا آپ کے بیٹے بھی سردار ہو گئے ہیں ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھے پریکٹس کرتے ہوئے 55 سال ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں ناں،

    لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ،سپریم کورٹ میں کہا کہ لیول پلینگ فلیڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں،مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا،آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے،الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟ یہ توہین عدالت کا کیس ہے کوئی نئی درخواست نہیں،الیکشن کمیشن نے جو توہین کی آپ کے مطابق وہ بتائیں، آپ کو آرڈر کیا دیا؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو اس میں فریق بنایا،آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں،اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا،آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں،آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں،کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپیل دائر کرنے کے لیے آراو آرڈرز کی نقل تک نہیں دے رہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، لطیف کھوسہ نے کہا کہ 3 دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی،اپیل کہاں کریں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں،آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹرابیونل میں درخواست دیں،ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں،ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں،عدالتیں الیکشن کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج آخری دن ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں اور وہ اس کیس سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا،آپ ہر بات کے جواب میں سیاسی جواب دے رہے ہیں، یہ قانون کی عدالت ہے،آپ اپنی درخواست میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا الزام آئی جی پر لگا رہے ہیں،انتخابات آئی جی،چیف سیکیریٹریز یا سپریم کورٹ نے کرانے ہیں؟ہر ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل بن چکے وہاں جائیں، بارہا کہہ چکے کہ عدالتیں جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ مجھے بھی سن لیں میں 55 سال سے وکالت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 22 دسمبر کے حکم پر 26 دسمبر کو مفصل عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ دیکھنے کے لیے کل تک کا وقت دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا روز آپ کے کیس سنتے رہیں گے،عدالت کوئی اور کام نا کرے؟اکھاڑا نہیں یہ عدالت ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ صوبائی الیکشن کمیشن کا خط بھی تو دیکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے خط 24 دسمبر کو لکھا جبکہ الیکشن کمیشن نے عملدرآمد رپورٹ 26 کو جمع کرائی،الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کے بعد کچھ کیا ہو تو بتائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ویڈیو لگانے کی اجازت دیں، پوری دنیا نے میڈیا پر دیکھا جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کیونکہ میں میڈیا نہیں دیکھتا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا،کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں،یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامہ پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا،الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرامد رپورٹ ہمیں بھیج دی،

    سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں،میں ہائیکورٹ یا دیگر عدالتوں میں جا کر وقت ضائع نہیں کر سکتا جب سپریم کورٹ نے پہلے ہی انتخابات سے متعلق حکم دے رکھا ہے،عدالت لیول پلیئنگ فیلڈ کی فراہمی یقینی بنائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی وہ شکایات دکھا دیں جو الیکشن کمیشن میں دائر کیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ ان کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کر رہے؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل کر رہے ہیں، ان کی 30 شکایات موصول ہوئیں جن کو الیکشن کمیشن نے حل کیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں کے حساب سے درخواستیں ہیں اور الیکشن کمیشن 30 شکایات کی بات کر رہا ہے،جو کچھ ہو رہا ہے یہ کبھی ملکی تاریخ میں نہیں ہوا،ملک میں بدترین صورتحال پر کوئی آنکھیں کیسے بند کر سکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے پچھلی بار بھی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا سپریم کورٹ کا ٹائم ضائع کیا پھر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر ہم نے تو نہیں لگایا ہے آپ نے لگایا ہے،

    پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی کو نوٹس جاری
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کیلئے دائر توہین عدالت کی درخواست،پی ٹی آئی وکلاء نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں،پی ٹی آئی کے 668 ٹاپ لیڈرز کے کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا،اضافی دستاویزات میں کہا گیا کہ 2000 کے قریب حمایت یافتہ اور سیکنڈ فیز کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،پی ٹی آئی رہنماوں کے کاغذات نامزدگی چھیننے کے 56 واقعات پیش آئے،پی ٹی آئی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں