Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • دوران عدت نکا ح کیس، عدالت کا عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    دوران عدت نکا ح کیس، عدالت کا عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    عدت میں نکاح کا کیس، عدالت نے عمران خان اورو بشری بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ قدرت اللہ نےعمران خان اور بشری بی بی پر 10 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا،عدالت نے آج جیل سماعت میں نقول تقسیم کرنے کے بعد 10 جنوری کی تاریخ مقرر کردی ہے، گزشتہ سماعت میں جیل حکام کی جانب سے عمران خان کو پیش نہ کرنے پر عدالت نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، آج دوران سماعت عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں اڈیالہ جیل کی عدالت میں موجود تھیں،گزشتہ تین سماعتوں پر عدالت میں بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی تھیں اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جو عدالت نے منظور کر لی تھیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے پی کے 91 میں انتخابی عمل میں تعطل کے معاملے پر مذکورہ حلقے کے لیے نظرِ ثانی پروگرام جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے آرڈر 27دسمبر 2023 کی وجہ سے حلقہ PK-91 میں انتخابی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔آج معزز عدالت عظمٰی نے پشاور ہائیکورٹ کے الیکشن کے عمل کی معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے لہذا الیکشن کمیشن نے درج ذیل نظر ثانی شیڈول جاری کیا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کاآخری دن 5جنوری 2024 ہے،کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 9جنوری 2024 ہے، اپیلٹ ٹربیونل کی طرف سے اپیلوں پر فیصلے کی آخری تاریخ 16 جنوری 2024 ہے،امیدواروں کی Revised Listکی اشاعت 17جنوری 2024 ہے، کاغذات نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ 18جنوری2024 ہے، امیدواروں کی انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کی تاریخ 19جنوری 2024 ہے ۔تمام امیدواران حلقہ PK-91 مذکورہ بالا الیکشن پروگرام سے مطع رہیں

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    رپورٹ محمداویس، اسلام آباد

  • درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تاحیات نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں کتنی درخواستیں ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں( جو کہ 5 سال ہے) اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا موقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے،

    میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی،وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ درخواست گزار ثناء اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کی موقف کی تائید کردی،صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قتل اور ملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 میں فرق کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ممبران کی اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 62 کی وہ ذیلی شقیں مشکل پیدا کرتی ہیں جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہیں، کسی کے کردار کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟کیا اٹارنی جنرل اچھے کردار کے مالک ہیں؟ اس سوال کا جواب نا دیجیے گا صرف مثال کے لیے پوچھ رہا ہوں، اٹارنی جنرل کے اسپورٹرز کہیں گے آپ اعلی کردار جبکہ مخالفین بدترین کردار کا مالک کہیں گے، اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھرایا نہیں جا سکتا،ہم تو گنہگار ہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں، آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیریشن اپنی جگہ قائم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہو چکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی،جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا، عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اسلیے نااہلی کم ہے،عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، ایک مسلمان "صادق” اور "امین” کے لفظ آخری نبی کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا،اگر میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے جاوں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا،کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ڈی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اچھے کردار کا مالک ہو اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی نا کرے تو اہل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے؟اگر اچھے کردار والا اصراف نہیں کرسکتا تو پھر وضو کے وقت پانی ضائع کرنے والا بھی نااہل ہے،الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے،ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں،صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا،بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر فوجداری مقدمات میں عدالت کسی شخص کو جھوٹا قرار دے کہ اس نے عدالت کو گمراہ کیا ہے، کیا اس پر آرٹیکل 62 1 ایف لگے گا؟کل وہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا کہ کوئی اعتراض کردے گا تمہیں عدالت نے جھوٹا قرار دیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت صاحب سول کیسز کے ماہر ہیں ان سے رائے لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ شہزاد شوکت صاحب آپ قانون کی حمایت کرہے ہیں یا مخالفت ، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ میں قانون کی حمایت کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کرہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،وکیل درخواست گزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تاحیات نااہلی کے حق میں ہیں یا مخالفت میں ؟ عثمان کریم نے کہا کہ میں تاحیات نااہلی کے تب تک حق میں ہوں جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،

    مسٹر مخدوم علی خان، آپ روسٹرم پر آ جائیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ میں موجودہ کیس میں جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا ، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی جنرل ضیاء الحق نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں ، کیا ضیا الحق کا اپنا کردار اچھا تھا ؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں،جس شخص نے حلف اٹھانے کے بعد آئین توڑا وہ اعلی کردار کا مالک کیسے ہوسکتا؟ایک ڈکٹیٹر نے آرڈیننس کے تحت 1985 میں آئین میں شقیں ڈال دی،ان شقوں کے تحت تو قائد اعظم کو بھی تاحیات نااہل کیا جاسکتا تھا،مخدوم صاحب کیا آپ کسی ایسے فریق کو جانتے ہیں جو تاحیات نا اہلی کا حامی ہو؟شعیب شاہین کہاں گئے شاید ان کے پاس کوئی پوائنٹ ہو،

    عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں،ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے ،بڑے بڑے علما روز آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں ،وکیل درخواستگزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کررہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کیخلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ایک شخص کو کرپشن کے مقدمے میں جیل ہو گئی اور وہ سزا مکمل کر کے پانچ سال بعد الیکشن کے لیے اہل ہو گیا مگر کسی کو عدالت نے کرپٹ قرار دیا مگر جیل نہ ہوئی تو وہ عمر بھر کے لیے نااہل ہو گیا؟

    تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت پرسوں 4 جنوری تک ملتوی کر دی گئی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہوگی یہ تاثر نہ دیا جائے کہ تاحیات نااہلی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کیلئے ہو رہی،کوئی سیاسی جماعت یا انفرادی شخص کی بات نہیں ہم صرف آئینی و قانونی حیثیت دیکھ رہے ہیں

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے،پاکستان اوربھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے

    ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو پاکستان اور بھارت قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں، قیدیوں کی فہرستوں کا بیک وقت تبادلہ 2008 کے قونصلر رسائی کے معاہدے کے تحت ہوا، معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پاکستان میں قید 231 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے، پاکستان میں 47 بھارتی شہری اور 184 ماہی گیر قید ہیں۔ بھارتی حکومت نے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی فہرست پاکستانی ہائی کمیشن، نئی دہلی کے ایک افسر کو فراہم کی بھارت کی جیلوں میں کل 418 پاکستانی قیدی ہیں، ان قیدیوں میں 337 شہری اور 81 ماہی گیر قید ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ سزا مکمل کرنے والے تمام پاکستانی قیدیوں اور ماہی گیروں کو رہا کرکے وطن واپس بھیجے، 1965 اور 1971 کی جنگوں کے لاپتہ دفاعی اہلکاروں کو قونصلر رسائی دینے اور 77 سول قیدیوں تک خصوصی قونصلر رسائی کی درخواست بھی کی گئی ہے.

    واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اپنی جیلوں سے ماہی گیروں کو رہا کرتے ہیں،

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

  • سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا.

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہا کہ آپ سب کو پورے پاکستان کو نئے سال کی مبارک باد، اللہ پاک پاکستان کو کامیاں دے، اللہ پاک ملک کو معاشی خوشحالی دے،

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرار داد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مسلح افواج اور دفاعی ایجنسیوں کےخلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے، پارلیمنٹ کا ایوان بالا فوج اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا ادراک کرتا ہے، دشمن ہمسائیوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے، سینیٹ اس قرارداد کے ذریعے حکومت کو کہتی ہے کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کے اقدامات کرے، ملوث افراد کیلئے عوامی عہدے سے 10 سال تک کی نااہل کی سزا ضروری ہے

    جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،سینیٹر بہرامند تنگی
    سینیٹر بہرامند تنگی نے سینیٹ کے اندر افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والوں کی زبان کاٹنے کا مطالبہ کردیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مسنگ پرسن کی بات ہے، میں کولیگز کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان میں محب وطن ہیں انکو کسی نے مسنگ نہیں، انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی بلوچستان سے ہیں ،آپکے آباؤ اجداد نے بھی سیاست کی، پاکستان کے لئے سیاست کرتے ہیں، ملک کے لئے سیاست کرتے ہیں، آپ کو تو کسی نے لاپتہ نہیں کیا، یہ جو مسنگ پرسن کا مارچ آیا بتا سکتے ہیں کہ مسنگ پرسن کون ہیں،جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،ادارے ہماری،ہمارے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں،ملک کی حفاظت کرتے ہیں، آپکی حفاظت کرتے ہیں، آج اس چیپٹر کو کلوز کرنا چاہئے کہ ٹویٹر پر یا کہیں اور کوئی اداروں پر تنقید کرے.

    سینیٹر اکرم نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کا دھرنا اسلام آباد آیا ہے اسلام آباد میں پولیس کا رویہ غلط تھا ان کو گرفتار کیا گیا ۔مسنگ پرسن کا مسئلہ انسانی المیہ ہے اس سے پورا پاکستان متاثر ہے ان لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے یہ مسنگ نہیں ہیں یہ یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں ،بہرمند تنگی نے کہاکہ آپ کو کیوں نہیں اٹھایا جاتا ہے؟محمد اکرم نے کہاکہ کسی کا بھائی کسی کا والد غائب ہے سینیٹ وفاق کی نمائندگی کرتی ہے اس معاملے پر بات ہونی چاہیے ۔پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کریں ۔یہ پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے بلوچستان میں وقتا فوقتا 5آپریشن ہوئے ہیں۔

    ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری
    سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کل مولانافضل الرحمن کے قافلے پر حملہ ہوا مگر مولانا فضل الرحمن قافلے میں نہیں تھے ہم ان حالات میں الیکشن لڑرہے ہیں. آئے روز اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں الیکشن کے لیے امن ضروری ہے بلوچستان کے شمالی علاقہ جات جنوری فروری میں سردی کی لپیٹ میں ہیں مولانافضل الرحمن پر تین خودکش حملے ہوئے اور درجنوں کارکن شہید ہوئے ہیں ہم اہنے نظریے اور عقیدے پر قائم ہیں ۔ کوئٹہ میں جلسے سے پہلے وزیر داخلہ آئے کہ حملے کا خطرہ ہے ۔ سیکیورٹی نہیں دے سکتے تو ہاتھ کھڑے کرلیں کہ ملک دہشت گردوں حوالے ہے ۔مجھ پر بھی حملے کا خطرہ ہے مجھے جان کا خطرہ ہے بلٹ پروف گاڑی نہیں دے رہے ہیں میں خود کس طرح بلٹ پروف گاڑی لے سکتا ہوں مولانا فضل الرحمان پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، اگر ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ بالاچ بلوچ اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کے مطالبات ٹھیک ہیں۔ ہمیں اطمینان دلایا جائے کہ جو اٹھا کر غائب کئے گئے ہیں وہ کب رہاہوں گے ان کو عدالت میں پیش کیا جائے ٹرائل کیا جائے ۔

    کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا،سینیٹر مشتاق احمد
    سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ ڈیتھ سکواڈ کو ختم کیا جائے لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے بلوچستان سے آئے مظاہرین پر اسلام آباد میں تشدد کیا گیا واٹر کینن استعمال کیا گیا اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولس کو شرم آنی چاہیے ۔ چمن میں 3ماہ سے دھرنا ہے 50ہزار لوگوں کو بے روزگار کیا گیا منظور پشتین کو جانے نہیں دیا گیا گرفتار کیا گیا منظور پشتن کو غدار کہا گیا ،بہرمند تنگی نے کہاکہ منظور پشتین غدار ہے ،مشتاق احمد نے کہاکہ مولانافضل الرحمن پر حملے کی مذمت کرتے ہیں سیکیورٹی کی آڑ میں کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا ۔

    شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں،سینیٹر ہمایوں مہمند
    سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ مبارک باد سے ملک ٹھیک نہیں ہوتا ہے ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں، ان کے تائید کنندہ کو گرفتار کیا جارہاہے صاف شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں ۔اس طریقہ سے ملک میں استحکام نہیں آتا ہے ۔نگران حکومت بہت زیادہ ظلم کررہی ہے ان کو ان کا حساب کتاب دینا ہوگا۔ اس طرح کی مداخلت بڑھتی جارہی ہے. ساری سیاسی جماعتوں کو مذمت سے آگے جاکر کچھ کرنا پڑے گا ۔

    محمد طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد حقیقت ہیں یہ کو ئی قصہ اور کہانی نہیں ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہ کیاتو یہ معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ بنا رہے گا انصاف دو گے تو بلوچستان میں امن و شانتی آئے گی ورنہ بدامنی اور دھرنے چلتے رہیں گے۔

    غلطیاں کرنی ہیں تو نئی کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے،مشاہد حسین سید
    سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 25 ہزار معصوم شہریوں اور بچوں کو شہید کردیا گیا،اسرائیل اس وقت فلسطین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے ،اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، بلوچستان کے مظاہرین اس وقت اسلام آباد میں بیٹھے ہیں،اگر اٹھائے گئے افراد میں سے کوئی شخص قصور وارہے تو اسے سزا دیں ،2018 میں جس طرح الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا وہ اس بار نہیں ہوناچاہئے،غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے.

    فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،سروس ٹربیونلز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا ،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،پاکستان انکوائری کمشنز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپردکر دیا گیا،اسلام کیپیٹل ٹریٹری آبی کناروں کی حفاظت اقدامات بک 2023سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا

    سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کیس میں تاحیات نا اہلی سے متعلق نوٹس پر بینچ تشکیل دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی7رکنی لارجر بینچ کے سربراہ ہوں گے ،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں،کیس پر سماعت کل ہوگی

    گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ نااہلی کی مدت کے سوال والے کیسز جنوری کے آغاز پر مقرر کئے جائیں، کیس کے زیرِ التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم 5 رکنی بنچ ضروری ہے فریقین کے وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے۔

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پانامہ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی فرم سے لی جانے والی ممکنہ تنخواہ ظاہر کرنے میں ناکامی پر آرٹیکل ون ایف کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کیلئے نااہل قرار دیا تھا نواز شریف کی اس نااہلی کو تاحال ختم نہیں کیا گیا ہے۔

  • سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    اسلام آباد : سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، سعودی عرب کی جانب سے ماہ دسمبر کی تنخواہ کی مد میں 300 ملین روپے دیے گئے،گزشتہ اور حالیہ مالی سال میں تنخواہوں کی مد میں سعودی عرب کی جانب سے 818 ملین کی معاونت کی گئی-

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی نے یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سعودی امداد کے ذریعے دسمبر کے مہینے کی جامعہ کے ملازمین کی تنخواہوں کا انتظام سعودی فنانشل سپورٹ فنڈ کے ذریعے کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے ڈاکٹر ھذال کے دور صدارت میں 818 ملین روپے "تنخواہ کی ادائیگی کے لیے تعاون” کی مد میں جامعہ کو سعودی عرب کی جانب سے دیے گئے جبکہ ماہ دسمبر کی ملازمین کی تنخواہوں کا بندوبست 300 ملین پاکستانی روپے مالیت کی امداد سے کیا گیا۔ سعودی عرب کی جانب سے مالی سال 2022- 23 میں کی جانے والی امداد میں بجٹ سپورٹ ، بقایا جات کی ادائیگی، مرمت کے کام، طلبا سہولت مرکز کی تشکیل اور الاؤنسز کی ادائیگی شامل ہے مزید برآں، "یونیورسٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹس سپورٹ” کی مد میں جامعہ کو سعودی عرب کی جانب سے 86 ملین پاکستانی روپے جاری کیے گئے۔

    2020 میں جامعہ میں بطور صدر تعیناتی کے بعد سے ڈاکٹر ھذال حمود نے اسٹریٹجک پلان کی روشنی میں اپنی اصلاحات کے ذریعے یونیورسٹی کو سعودی فنڈنگ کے ذریعے تنخواہوں، بقایا جات اور ترقیاتی منصوبوں کا انتظام کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مزید برآں، ان کے دور میں ایک عظیم الشان مسجد یونیورسٹی کے نئے کیمپس میں پہلے ہی سعودی حکومت (تقریباً 32 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ) کی منظوری دے چکی ہے۔ ڈاکٹر ھذال نے ایک بار پھر یونیورسٹی کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں جامعہ کی بہترین کارکردگی اولین ترجیح رہے گی۔

    یونیورسٹی کی ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک نے یونیورسٹی کی مسلسل معاونت پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط رشتے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خادمین حرمین الشریفین نے ہمیشہ جامعہ کی مدد کے لئے فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری یونیورسٹی کمیونٹی جامعہ کی مالی معاونت پر سعودی عرب کی شکر گزار ہے۔

  • منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں منظور پشتین کے خلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی

    پولیس نے منظور پشتین کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے عدالت سے منظور پشتین کے مزیدجسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، ملزم منظور پشتین کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر کی،عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور منظور پشتین کو جوڈیشیل ریمانڈ‌پر بھجوا دیا، ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت پر عدالت نے فریقین کو دو جنوری کے نوٹس جاری کر دیئے

    واضح رہےکہ منظور پشتین پر اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کامقدمہ درج ہےمنظور پشتین کو بلوچستان کے حکام نے گرفتار کر کےاسلام آباد پولیس کے حوالے کیا تھا،وہ مختلف مقدمات میں اسلام آباد پولیس کو مطلوب تھے

    پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بلاول کے بعد مریم نواز بھی بول پڑیں

    ریاست مخالف مہم، پی ٹی ایم کے خلاف پاکستان کے وکلاء نے کاروائی کا مطالبہ کردیا

    پی ٹی ایم کا بیانیہ نیا نہیں ،فواد چودھری

    پی ٹی ایم پاکستان کا نعرہ لگائے تو….وزیر داخلہ کی پی ٹی ایم کو بڑی پیشکش

  • قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور

    قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سرعام پھانسی کے معاملے پر غور کیا گیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور، سرعام پھانسی کی مخالفت کی گئی ، سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ ہمیں سرِعام پھانسی نہیں دینی چاہیے،قومی اور بین الاقوامی اثرات ہیں،دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں،اجلاس میں سرِعام پھانسی کے خلاف زیادہ ووٹ آگئے،اتنی جلدی ووٹنگ کرانے پر مہرتاج روغانی نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، مشاہد حسین سید نے کہا کہ یاد رکھیں آخر میں سیاستدانوں کو سرِعام پھانسی ہو جائے گی،سرِعام پھانسی کی مخالفت پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی قرارداد سینیٹر ولید اقبال نے پڑھی ،قرارداد میں کہا گیا کہ کمیٹی سرِعام پھانسی کی مخالفت کرتی ہے، سینیٹ سے درخواست ہے ایسا کوئی قانون منظور نہ کرے جس میں سرِعام پھانسی ہو،

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ سرعام پھانسی کے معاملے پر ایک بل داخلہ کمیٹی نے منظور کیا تھا مجھے بطور چیئرمین اس کے خلاف بہت کالز آئیں کہ آپ اس کا نوٹس لیں، داخلہ کمیٹی نے اس بل کو انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا تھا. سیکرٹری انسانی حقوق نے قائمہ کمیٹی میں کہا کہ سرعام پھانسی کے قومی اور بین الاقوامی طور پر اثرات ہیں، سر عام پھانسی یہ حساس مسئلہ ہے، بین الاقوامی ڈونرز کے سزائے موت سے متعلق سخت مؤقف ہیں، پاکستان کے قانون میں سزائے موت اور سرعام پھانسی کی اجازت ہے دہشت گردی، ریپ، ہائی جیکنگ، آرمی میں بد اخلاقی اور توہین رسالت پر سزائے موت کی سزا ہے،امریکی ریاستوں میں بھی سزائے موت کی سزا دی جاتی ہے ، یورپ کے اکثر ممالک میں سزائے موت کی سزا نہیں ، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کہتی ہے کہ سزائے موت کو کم کیا جائے، سیکشن 22 انسدادِدہشتگردی کے مطابق حکومت سزائے موت کا طریقہ اور جگہ کا تعین کرسکتی ہے. اس کا مطلب ہے کہیں بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے یعنی سرعام پھانسی انسدادِ دہشت گردی قانون میں موجود ہے

    سیکریٹری انسانی حقوق نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے سرعام پھانسی سے متعلق زینب ریپ کیس میں فیصلہ دیا، فیصلہ ہے کہ جابرانہ جرم پر سرعام پھانسی کی طرح کی جابرانہ سزا نہیں دی جا سکتی پاکستان نے بین الاقوامی سات انسانی حقوق کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں، یورپی یونین نے جی ایس پی اسٹیٹس نظرثانی پر سزائے موت معطل کرنے کا کہا، وزارتِ انسانی حقوق کا کہنا ہے سرعام پھانسی پاکستان کے بین الاقوامی مفاد میں نہیں، سرعام پھانسی سے ملک کا دنیا میں تشخص خراب ہوگا، ہمیں سرعام پھانسی نہیں دینی چاہیے، سرعام پھانسی گلف ممالک میں ہوتی ہیں، لوگ منشیات پر سعودی عرب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ڈرگ لے کر جاتے ہیں،

    اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ضیاء دور میں لاہور میں پپو کی سرعام پھانسی ہوئی تھی، پاکستان میں آخری سرِعام پھانسی کب ہوئی،سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ جیل رولز سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے جیل رولز کہتے ہیں پھانسی دس گیارہ لوگ دیکھیں، ایران میں منشیات پر سرعام پھانسی دی جاتی تھی، ایران نے اب منشیات پر سزائے موت ختم کردی ہے،ہم نے بھی اپنی حکومت کو کہا ہے منشیات سے سزائے موت ختم کریں کوئی شواہد نہیں کہ پھانسی سے منشیات کا جرم رکے،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

    بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں بلکہ..عدالت نے کیا حل بتایا؟

  • سائفر کیس، سماعت بغیر کاروائی تین جنوری تک ملتوی

    سائفر کیس، سماعت بغیر کاروائی تین جنوری تک ملتوی

    سائفر کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 3 جنوری تک ملتوی کردی گئی

    سماعت جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی طبیعت خرابی کے باعث ملتوی کردی گئی،عدالتی عملہ اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت 3 تاریخ ڈال کر روانہ ہوگیا،شاہ محمود قریشی اور بانی پی ٹی آئی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،عمران خان کی بہن علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر کھڑی رہیں تاہم انہیں جیل کے اندر جانے کی اجازت نہ ملی

    عمران خان کے وکیل عمیر نیازی ایڈووکیٹ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کے لئے حاضر ہوئے تھے،22دسمبر کی طرح آج بھی جج صاحب نہیں آئے، اطلاع دی گئی ہے کہ 3جنوری سے ٹرائل ہو گا، جس عجلت سے یہ ٹرائل چلایا جاتا رہا،25گواہ ایک ہی دن میں ریکارڈ کئے گئے، ایسا تاثر دیا گیا کہ کیس میں عدالت نے اپنا ذہن بنا رکھا ہے، اگر بروقت اسلام آباد ہائیکورٹ مداخلت نہ کرتی تو توشہ خانہ پارٹ 2 ہونے جا رہا تھا، جن لوگوں نے پریس کانفرنسسز کیں،ہماری مخالفین کی صف میں شامل ہو گئے، سب پر دباو ہے،شیخ رشید ہمارے اتحادی رہے ہیں، اتحادکے حوالے سے کچھ جماعتیں رابطہ میں ہیں،جن میں جے یو آئی(س) اور مجلس وحدت المسلمین شامل ہیں،الیکشن کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں امیدواروں کا فیصلہ ہو جائے گا،30جنوری کو 1ہزار سے زائد میدواروں کو ڈس کوالیفائی کر دیا جائے گا،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں حکم امتناع جاری کر دیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ یہاں پر مجھے دو سوالات کے جوابات چاہئیں، اس عدالت نے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل ہوناچاہیے تو ان کیمرہ سماعت کیوں شروع ہوئی؟ سیکیورٹی عدالتی دائرہ اختیار نہیں تو اس میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل عارضی طور پر روکا جاتا ہے اور پہلے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیا جائے گا تاکہ ان کا جواب آ سکے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت