Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 18میڈیکل کے اعلی تعلیمی اداروں کے غیر قانونی طور ہر کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا مگر معطلی کے آڈرز پبلک کرنے سے انکار کردی،

    پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ای ای سی کو 18میڈیکل کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم دینے والے اداروں کے معطلی آڈرز شائع کرنے کا حکم دے دیا۔اگر ایچ ای سی نے معطلی کے احکامات دیئے ہیں تو ان کو پبلک کیوں نہیں کیا جارہا،معطلی کے احکامات پبلک کریں تاکہ شفافیت آئے ۔غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 18مختلف یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ میڈیکل کالج ہیں ۔پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں بغیر این او سی کے کام کرنے والی 18 شعبہ صحت کے تعلیمی اداروں کی معطلی کے احکامات کو عوامی طور پر شائع کرے، یہ معلومات کے حق کو برقرار رکھنے اور تعلیمی شعبے میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے ۔

    جمعرات کو پاکستان انفارمیشن کمیشن میں شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی شہری نے این او سی کے بغیر کام کرنے والے اداروں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی طرف سے معطلی کے آڈر کی کاپی دینے کی درخواست کی سماعت کی ۔یہ فیصلہ شہری انور الدین کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس نے متاثرہ اداروں میں نئے طلباء کے داخلے پر پابندی کے معطلی کے احکامات کی کاپیاں مانگی تھیں۔

    ان اداروں میں بشیر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، کام ویو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیکسن انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، نووا انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن اسٹڈیز، پی اے سی ای اور کے ای ڈی جی ای انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، پی ایچ آر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، راول انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، یسرا انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن سائنسز، پرائم انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، این سی ایس انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز، امان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، مارگلہ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز۔ ، میڈکس انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، اور ہیلتھ ایڈ کالج آف نرسنگ اینڈ ہیلتھ سائنسز شامل ہیں جن کے بارے میں ایچ ای سی نے کہاکہ ہے کہ این او سی نہ ہونے کی وجہ سے ان اداروں میں داخلوں کو روکنے کے آڈرز کئے ہیں ۔

    ابتدائی طور پر، ایچ ای سی نے معلومات دینے سے کرنے سے انکار کر دیا اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس سے ان کے موقف پر منفی اثر پڑے گا اور اداروں کی رازداری کی خلاف ورزی ہوگی۔ تاہم، پی آئی سی کی سماعت کے دوران، ایچ ای سی کے نمائندے، حماد بن سیف نے اعتراف کیا کہ معطلی کے احکامات جاری پالیسی کی وجہ سے جاری کیے گئے تھے جس میں داخلوں کو عارضی طور پر روکنا ضروری تھا۔ پی آئی سی نے ایچ ای سی کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’این او سی کے بغیر کام کرنے والے اداروں کو معطل کرنے کا حکم ایچ ای سی کا حکم ہے اس لیے یہ تھرڈ پارٹی کی معلومات نہیں ہے جیسا کہ ایچ ای سی نے استدعا کی ہے۔‘‘ کمیشن نے ایچ ای سی کو 10 کام کے دنوں میں معطلی کے احکامات کی کاپیاں اپیل کنندہ کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، عدم تعمیل پر جرمانے کی کارروائی کا انتباہ دیا۔

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    مزید برآں، پی آئی سی نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مناسب نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے نئی الحاق کی پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ پی آئی سی کا یہ فیصلہ ایچ ای سی کے اندر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے اور معلومات کے عوامی حق کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ معطلی کے احکامات کا انکشاف اداروں کی جانب سے قواعد و ضوابط کی عدم تعمیل پر روشنی ڈالے گا اور طلباء کو غیر منظور شدہ پروگراموں میں داخلہ لینے سے ممکنہ طور پر بچائے گا۔(محمداویس).

  • جے یو پی، نظام مصطفیٰ پارٹی کےانٹرا پارٹی الیکشن، فیصلہ محفوظ

    جے یو پی، نظام مصطفیٰ پارٹی کےانٹرا پارٹی الیکشن، فیصلہ محفوظ

    سیاسی جماعتوں کیلئے انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

    جمیعت علما پاکستان کے وکیل حسن کامران پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹکل فنانس اختر شیروانی نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ ہوسکے،انکے پارٹی آئین کے مطابق تین نشستوں کیلئے انتخابات ہونا تھے لیکن نو پر کرائے گئے،ممبر کمیشن نے ڈی جی پولیٹکل فنانس اختر شیروانی سے استفسار کیا کہ کیا پابندی تھی اگر نہ کرواتے تو جرم تھا ،ڈی جی پولیٹکل فنانس اختر شیروانی نے کہا کہ ہمارے تحفظات پرنظرثانی شدہ جواب جمع کرایا گیا جس میں اکیس نام دیئے گئے ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپکا اعتراض سمجھ آگیا،وکیل جے یو پی نے کہا کہ لاہور میں دھند کے باعث پیر اعجاز احمد ہاشمی آ نہ سکے،ہم نے انتخابات تین نشستوں پر ہی کرائے ہیں باقی نامزد ہوئے ہیں،پارٹی انتخابی نشان کا ایشو ہے انتخابی نشان الاٹ کیا جائے،الیکشن کمیشن نے کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    نظام مصطفی پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے ڈی جی پولیٹکل فنانس مسعود شیروانی پیش ہوئے اور کہا کہ پارٹی 2002 میں رجسٹرڈ ہوئی ،2006 میں انٹراپارٹی انتخابات ہونا تھے ،انہوں نے اس سال کے پارٹی اکاوئنٹس جمع کرائے گزشتہ سال کے نہیں کرائے ،وکیل نے کہا کہ ہم انٹراپارٹی انتخابات کی تفصیلات لے آئے ہیں اور اکاؤنٹس کی بھی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا الیکشن ہوگئے ہیں،وکیل نے کہا کہ جی لے آئے ہیں،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کا وقت ختم ہو چکا، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 72 سے پی ٹی آئی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹربیونل نے این اے 72 سے پی ٹی ائی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،عدالت نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے، کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات خلاف قانون ہیں،عدالت ریٹرنگ افسر کے اعتراضات کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات منظور کرنے کا حکم دے،

    این اے 264، اختر مینگل کی اپیل منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    کوئٹہ کے الیکشن ٹربیونل نے سردار اختر مینگل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، کاغذات نامزدگی منظورکر لئے، سردار اختر مینگل نے این اے 264 کوئٹہ 3 کے آر او کے فیصلے کیخلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا،اس موقع پر اختر مینگل کے وکیل کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی اپیل دائر کی تھی، این اے 264 پر اسکو ٹربیونل نے منظور کر لیا ہے، ہماری ابھی تین درخواستیں پینڈنگ ہیں، بلوچستان کے ایک نامور سیاستدان جو بلوچستان کی پہچان ہے اسکو الیکشن لڑنے کا موقع ملا، بدنیتی کی وجہ سے کاغذات آر او نے مسترد کئے تھے،دوسری جانب این اے 262 پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری سالار خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے.

    این اے 15، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات منظوری کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی گئی، تحریک انصاف کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی نے نواز شریف کے این اے 15 سے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر اپیل دائر کی تھی، الیکشن ٹربیونل نے اعظم سواتی کی اپیل منظور کر لی اور سماعت کے لئے مقرر کر دی، اعظم سواتی کی نواز شریف کیخلاف اپیل پر سماعت کل ہو گی،الیکشن ٹربیونل نے نوٹس جاری کر دیا، اپیل پر سماعت الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس کامران حیات اپیل کریں گے

    پشاور،کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیلوں پر الیکشن ٹریبونل کے جسٹس شکیل احمد نے171 اپیلوں پر سماعت کی،اسد قیصر، شیر افضل مروت،تیمور سلیم جھگڑا، شہرام ترکئی، محمود جان،شیر علی، افتخار مشوانی، عبدالسلام، عاطف خان اور شاندانہ گلزار سمیت 171 اپیلوں پر نوٹسز جاری کر دیئے گئے، 5 سے 9 جنوری تک نوٹسز پر سماعت ہوگی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی اپیل منظور کر لی،ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سبطین خان کو صوبائی حلقہ پی پی 88 میانوالی سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پر تمام اعتراضات ناقص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیئے

    سندھ ہائیکورٹ: ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، فہمیدہ مرزا، کی اپیل پر سماعت ہوئی،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن اور اور رٹرنگ افسران کو 8 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے ،ریٹرنگ افسر نے فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا این اے 223 بدین سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے تھے

    سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتار
    ملتان: سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتارکر لئے گئے،ا شبیر علی قریشی کو انکے وکیل طارق محمود ڈوگر کے چیمبر سے گرفتار کیا گیا ،وکلاء کے موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں بھی چھین لی گئی۔ شبیر علی قریشی الیکشن ٹریبونل میں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر پیش ہوئے تھے

    اعظم نیازی،ایمان طاہر،علی ناصر بھٹی، ناز طاہر ،راجہ راشد حفیظ کےکاغذات منظور
    راولپنڈی،این اے 90 میانوالی سے اعظم خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی،ریٹرنگ افیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، گیا،اعظم خان نیاِزی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،حلقہ این اے 56 اور پی پی 17 سے تحریک انصاف کے راجہ راشد حفیظ کی اپیل منظور کر لی گئی،حلقہ این اے 58 اوع پی پی 20 چکوال سے علی ناصر بھٹی کی اپیل منظور کر لی گئی،میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کی دو بیٹیوں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات مسترد کاغذات نامزدگی منظور ،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افس کے جانب سے عائد کردہ اعتراض مستردکر دیئے ،حلقہ این اے 50 سے ایمان طاہر اور ناز طاہر نے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی تھی

    این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے کاغذات منظور
    الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس خادم حسین تنیو نے این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی اپیل کی سماعت کی،الیکشن ٹریبونل نے فردوس شمیم نقوی کی اپیل منظور کرلی ،الیکشن ٹریبیونل نے ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے نامزدگی فارم بحال کردیے ،فردوس شمیم نقوی کے کاغزات منظور کرلیے ،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کاغذات سیاسی بنیادوں پر مسترد کیے جارہے تھے اسلئے ایک سے زیادہ کاغزات جمع کراۓ، جسٹس خادم حسین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی تقریرنا کریں آپ صرف قانون کی بات کریں ، وکیل نے کہا کہ پارٹی کا نشان نہ ہونے پر کاغزات مسترد کیے گئے ،جسٹس خادم حسین نے کہا کہ یہ تو پارٹی بعد میں فیصلہ کرے گی کون امیدوار ہوگا، جانچ پڑتال کے مرحلے پر کیسے مسترد ہوگئے،قانون بتائیں کس شق کے تحت کاغزات نامزدگی کے وقت انتخابی نشان ہونا ضروری ہے ؟ کیا تحریک انصاف نے امیدوار سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ؟ اعتراض کنندہ نے کہا کہ بیان حلفی میں پارٹی کا تعلق بتانا ضروری ہے جو فردوس شمیم نقوی نے نہیں کیا ، جب بیان حلفی میں ہی غلط معلومات دی گئی ہیں تو کاغزات کیسے منظور ہوں گے ؟الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ آپ کو کیسے پتا ان کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں ہے ؟ فردوس شمیم نقوی این اے 236 سے ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے

    پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
    پرویز الہی، مونس الہی اور قیصرہ الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،جسٹس راحیل کامران نے ریٹرننگ آفیسر سے کل جواب طلب کرلیا ،ٹربیونل نے اپیلوں پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،رجسٹرار آفس نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کی کاپی ساتھ نہ لگانے کا اعتراض لگایا تھا ، پرویز الہی مونس الہی اور قیصرہ الہی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف ایپلٹ ٹریبیونل میں اپیلیں دائر کی، درخواست میں‌مؤقف اپنایا کہ ریٹرننگ افسران نے خلاف قانون کاغذات نامزدگی مسترد کی ہے ، ٹربیونل ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کو کلدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے.

    اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر نوٹسسز جاری
    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبونل ،عام انتخابات کے لیے اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،پی ٹی آئی کے الیاس مہربان، عامر مغل، شیراز کیانی، زبیر فاروق و دیگر کی اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری، کل تک جواب طلب کر لیا گیا،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،الیکشن کمیشن کی جانب سے ضیغم انیس عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شیراز کیانی کی جانب سے رضوان شبیر کیانی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف اعتراض ہے کہ موٹر سائیکل اور گاڑی کا نہیں بتایا،موٹر سائیکل اور گاڑی تین سال پہلے بیچ دی ہیں،عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام کیسسز میں کل کےلئے نوٹسسز کرونگا،

    آپ تو اشتہاری ہیں ناں؟ عدالت کا امیدوار سے مکالمہ
    عامر مغل کی جانب سے عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ اعتراض ہے کہ آپ دو مقدمات میں نامزد ہیں، عدالت نے وکیل عامر مغل سے استفسار کیا کہ آپ تو اشتہاری بھی ہیں ناں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے سامنے سرنڈر کر چکا ہوں، ان دو مقدمات کا علم نہیں تھا،

    عدالت نے الیاس مہربان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے کہ آپ کے خلاف مقدمات درج ہیں، وکیل الیاس مہربان نے کہا کہ کہا گیا کہ میرے خلاف تین مقدمات درج ہیں،تینوں ایف آئی آرز کی کاپیاں میرے پاس ہیں مگر کہیں پر میرا نام نہیں،وکیل زبیر فاروق نے کہا کہ میرے کاغذاتِ پر تین اعتراضات ہیں، مقدمات ، انکم ٹیکس اور اثاثے نہ بتانے کا اعتراض میرے کاغذات پر لگایا گیا ،مقدمات میں 2019 میں بری ہوچکا ہوں، گاڑی کا حوالہ دیا جو بیچ چکا ہوں، انکم ٹیکس جون تک میرا کلئیر ہے اور اثاثے بھی ڈکلیئر ہیں،الیکشن اپلیٹ ٹریبونل نے تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کل تک کےلئے ملتوی کردی

    خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر اعتراض، نوٹس جاری
    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی نایاب علی کے کاغزات منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس معاملے کو ریٹرننگ افسر کے پاس اٹھایا تھا؟ آپکی درخواست ہی مکمل نہیں، اس درخواست کو میں یہاں پر خارج کرسکتاہوں،آپ نے جو اعتراضات اٹھائے تھے کیا وہ تحریری تھے یا زبانی تھے؟ عدالت نےفریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے اورپیر تک کے لئے جواب طلب کر لیا

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے کاغزات نامزدگی منظور
    الیکشن ٹربیونل نے شیخ رشید کی اپیل منظور کر لی ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،حلقہ این اے 56 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔تمام اعتراضات مستردکر دئے گئے،حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔اعتراضات مسترد کر دئے گئے،الیکشن ٹریبونل کے جج مرزا وقاص رئوف نے اپیل پر فیصلہ سنا دیا

    مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی بھی منظور
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ضیاء الحق شہید کے سربراہ اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئیے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اعجاز الحق کے کاغذات پر ریٹرننگ افسر کے اعتراضات کو مسترد کردیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر،موٹروے بند،پروازیں منسوخ

    دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر،موٹروے بند،پروازیں منسوخ

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں شدید دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں

    پنجاب، خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے علاقوں میں دھند کا راج برقرار ہے،راولپنڈی،اسلام آباد میں مسلسل تیسرے روز بھی دھند ریکارڈ کی گئی ہے، دھند کی وجہ سے موٹروے ایم 2 اسلام آباد سے بلکسر تک بند کردی گئی ہے، لاہور سے پنڈی بھٹیاں تک بھی موٹروے بند ہے،پشاور سے اسلام آباد تک موٹر وے پر بھی ٹریفک معطل ہے، سوات ایکسپریس وے اور ہزارہ ایکسپریس وے کے مختلف سیکشن بھی ٹریفک کیلئے بند کردیے گئے ہیں

    دھند کے باعث پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں،کراچی ایرپورٹ سے جانے اور آنے والی 30 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں،جبکہ کئی التوا کا شکار ہوئی ہیں،سیرین ایر کی کراچی سے اسلام آباد کی دو طرفہ پرواز ای آر 500 اور ای آر 501 منسوخ ہوئی ہے،ایرسیال کی کراچی اسلام آباد کی دو طرفہ پرواز پی ایف 121 اور پی ایف 122 منسوخ ہوئی ہے،پی آئی اے کی کراچی سے سکھر کی دو طرفہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں،پی آئی اے کی کراچی سے جدہ کی دوطرفہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں،ایر سیال کی کراچی سے لاہور کی دو پرواز پی ایف 141 اور پی ایف 142 منسوخ ہوئی ہیں،سیرین ایر کی کراچی پشاور کی دو طرفہ پرواز ای آر 550 اور ای آر 551 منسوخ ہوئی ہیں،پی آئی اے کی کراچی اسلام آباد کی پی کے 368 اور پی کے 369 منسوخ ہوئی ہے، سیرین ایر کی کراچی لاہور کی دو طرفہ پرواز ای آر 522 اور ای آر 523 منسوخ ہوئی ہے،پی آئی اے کی کراچی لاہور کی دو طرفہ پرواز پی کے 304 اور پی کے 305 منسوخ ہوئی ہے،ایربلو کی کراچی سے اسلام کی دو طرفہ پرواز پی اے 200 اور پی اے 201 منسوخ ہوئی ہے،ایرسیال کی شام 7 بجے اسلام آباد اور لاہور کی دو طرفہ پروازیں بھی منسوخ ہوئی ہیں،ایربلو کی رات 8 بجے کی کراچی سے لاہور کی دو طرفہ پرواز منسوخ ہوئی ہے، ایوی ایشن حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دھند کے باعث حد نگاہ میں کپتانوں کو مسئلہ ہے، فلائٹ سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرلائنز پروازیں منسوخ کر رہی ہیں،

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔جبکہ اسلام آباد اور گر دو نواح میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے، خیبرپختونخوا صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی اضلاع میں شدید سرد رہے گا۔ چارسدہ ،رشکئی، مردان،نوشہرہ ، صوابی ، پشاور، اور گردونواح میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے،پنجاب صوبہ کےبیشتراضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ مری، گلیات اورگردونواح میں سرد اورمطلع ابر آلودرہےگا ۔ راولپنڈی، اٹک، چکوال،بہا ولپور ،ساہیوال ، اوکاڑہ ،قصور،لاہور ،سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، جہلم، اور گر دو نواح میں شدید دھند / سموگ چھائے رہنے کا امکان ہے،بلوچستان صوبہ کے بیشتر اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کےساتھ چاغی، کوئٹہ، چمن، زیارت، لورالائی،آواران اور مکران کے ساحلی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے،سندھ صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔ جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ ، دادو، گھوٹکی، خیر پور میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید دھند،سموگ چھائے رہنے کا امکان ہے،گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسم شدید سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا ۔

     مساج سروس تلاش کرنیوالے آدمی کو جسم فروشی کی ویب سائٹ پر بیوی اور بہن کی تصویریں نظر آ گئیں

    مساج سینٹر میں کام کرنیوالے کرنے لگے گھناؤنا دھندہ، پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • ایمریٹس ایئر لائن کے اسلام آباد سے  کامیاب آپریشنز کے 25 سال

    ایمریٹس ایئر لائن کے اسلام آباد سے کامیاب آپریشنز کے 25 سال

    ایمریٹس ائیرلائن اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اسلام آباد سے ایئر لائن کے کامیاب آپریشنز کے 25 سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا اہتمام کیا۔

    ہوائی اڈے پر ایک یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خطے میں ایئر لائن کے سفر اور اس میں ہوائی اڈے کے کردار کا اعتراف کیا گیا۔ ایمریٹس کی اعلیٰ انتظامیہ نے شاندار خدمات پر پاکستان سول ایویشن اتھارٹی اور ایئرپورٹ حکام کا شکریہ ادا کیا۔ ہوائی اڈے کے حکام کو پیشہ ورانہ مہارت کے اعتراف اور کامیاب ایئر لائن آپریشنز کو یقینی بنانے کے اعتراف میں عزت مآب شیخ احمد بن سعید المخدوم، چیئرمین ایمریٹس ایئرلائنز اور گروپ کے سی ای او کی جانب سے تعریفی سرٹیفکیٹ دئے گئے۔ اس موقع پر کیک کاٹنے کی تقریب بھی ہوئی جس میں پی سی اے اے اور ایمریٹس کے کامیاب مشترکہ سفر کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا اعادہ کیا گیا۔

    1999 کے بعد سے، ایمریٹس نے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتہ میں چار پروازوں سے بڑھ کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فی ہفتہ دس پروازیں کر دی ہیں، جو علاقائی رابط کو مزید بہتر بنانے کے لئے ائرلائین کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اسلام آباد ہوائی اڈے اور ایئر لائن نے پاکستان کے دارالحکومت کو دنیا سے جوڑنے، بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے اور علاقائی اقتصادی اور ثقافتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایمریٹس کے عالمی معیار کے بہترین ہوائی سفر کی فراہمی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے اور یہ سالگرہ اس مشترکہ عزم کی پائیدار کامیابی کا ثبوت ہے۔

     غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز ای کے 615 چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ملتوی

    پاکستانی ائیرلائنز پر یورپ میں پابندی ختم ہوگی یا نہیں فیصلہ اگلے سال مئی میں 

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

  • وفاقی اردو یونیورسٹی   میں منشیات و جرائم  کے سدباب کے لئے آگاہی سیمینار

    وفاقی اردو یونیورسٹی میں منشیات و جرائم کے سدباب کے لئے آگاہی سیمینار

    وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی جانب سے منشیات و جرائم کے بارے میں ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب کے مہمان خصوصی محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی سیف سٹی و ٹریفک اسلام آباد پویس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔ ڈاکٹر احتشام الحق انچارج اسلام آباد کیمپس، محمد علیم رضا ایڈیشنل رجسٹرار اور ڈاکٹر عظمیٰ سراج صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ تقریب کا انعقاد یونیورسٹی آدیٹوریم میں کیا گیا جس میں طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔  محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی نے طلبہ کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کی طرف سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مختلف تعلیمی اداروں میں اسلام آباد پولیس کی طرف سے طلبہ کو معاشرتی جرائم و منشیات اور ان کی روک تھام کے لیئے اسلام آباد پولیس کے اقدامات کے بارے میں آگاہی دی جائے۔

    اپنے خطاب کے دوران مہمان خصوصی نے جرائم کی مختلف اقسام، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم کی روک تھام کے لئے پولیس کے طریقہ کار، سیف سٹی کیمروں کا استعمال، گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار سمیت کئی اہم معلومات فرہم کی۔ طلباء کی طرف سے موجودہ حالات میں پولیس کا کردار اور اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کے بارے میں مختلف سوالات کئے گئے جن کے مفصل جوابات  محمد شعیب خرم، ڈی آئی جی نے دیئے۔ تقریب کے آخر میں ڈاکٹر عظمیٰ سراج صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات نے سیمینار میں شرکت کرنے پر معزز مہمان گرامی و دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیا جبکہ طلباء نے گروپ فوٹو بھی بنائے۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

     شارق خان نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی منشیات کا گیٹ وے ہے،

  • سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست  پیر تک ملتوی

    سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست پیر تک ملتوی

    پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ میں الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی سماعت کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے لطیف کھوسہ کے نام کیساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار،نواب اور پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کر دیں،1976 کے بعد سے سرداری نظام ختم ہوچکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھر سرداری نظام،آئین پاکستان کیساتھ اب مذاق کرنا بند کر دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے شناختی کارڈ پر سردار لکھا اس لیے عدالت میں بھی سردار لکھا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سردار اور نوابوں کو چھوڑ دیں اب غلامی سے نکل آئیں،سردار لکھ کر اپنا رتبہ بڑا کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،سرداری نظام ختم ہو چکا ہے یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا ،آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا آپ کے بیٹے بھی سردار ہو گئے ہیں ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھے پریکٹس کرتے ہوئے 55 سال ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں ناں،

    لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ،سپریم کورٹ میں کہا کہ لیول پلینگ فلیڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں،مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا،آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے،الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟ یہ توہین عدالت کا کیس ہے کوئی نئی درخواست نہیں،الیکشن کمیشن نے جو توہین کی آپ کے مطابق وہ بتائیں، آپ کو آرڈر کیا دیا؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو اس میں فریق بنایا،آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں،اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا،آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں،آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں،کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپیل دائر کرنے کے لیے آراو آرڈرز کی نقل تک نہیں دے رہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، لطیف کھوسہ نے کہا کہ 3 دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی،اپیل کہاں کریں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں،آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹرابیونل میں درخواست دیں،ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں،ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں،عدالتیں الیکشن کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج آخری دن ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں اور وہ اس کیس سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا،آپ ہر بات کے جواب میں سیاسی جواب دے رہے ہیں، یہ قانون کی عدالت ہے،آپ اپنی درخواست میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا الزام آئی جی پر لگا رہے ہیں،انتخابات آئی جی،چیف سیکیریٹریز یا سپریم کورٹ نے کرانے ہیں؟ہر ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل بن چکے وہاں جائیں، بارہا کہہ چکے کہ عدالتیں جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ مجھے بھی سن لیں میں 55 سال سے وکالت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 22 دسمبر کے حکم پر 26 دسمبر کو مفصل عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ دیکھنے کے لیے کل تک کا وقت دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا روز آپ کے کیس سنتے رہیں گے،عدالت کوئی اور کام نا کرے؟اکھاڑا نہیں یہ عدالت ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ صوبائی الیکشن کمیشن کا خط بھی تو دیکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے خط 24 دسمبر کو لکھا جبکہ الیکشن کمیشن نے عملدرآمد رپورٹ 26 کو جمع کرائی،الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کے بعد کچھ کیا ہو تو بتائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ویڈیو لگانے کی اجازت دیں، پوری دنیا نے میڈیا پر دیکھا جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کیونکہ میں میڈیا نہیں دیکھتا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا،کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں،یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامہ پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا،الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرامد رپورٹ ہمیں بھیج دی،

    سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں،میں ہائیکورٹ یا دیگر عدالتوں میں جا کر وقت ضائع نہیں کر سکتا جب سپریم کورٹ نے پہلے ہی انتخابات سے متعلق حکم دے رکھا ہے،عدالت لیول پلیئنگ فیلڈ کی فراہمی یقینی بنائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی وہ شکایات دکھا دیں جو الیکشن کمیشن میں دائر کیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ ان کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کر رہے؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل کر رہے ہیں، ان کی 30 شکایات موصول ہوئیں جن کو الیکشن کمیشن نے حل کیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں کے حساب سے درخواستیں ہیں اور الیکشن کمیشن 30 شکایات کی بات کر رہا ہے،جو کچھ ہو رہا ہے یہ کبھی ملکی تاریخ میں نہیں ہوا،ملک میں بدترین صورتحال پر کوئی آنکھیں کیسے بند کر سکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے پچھلی بار بھی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا سپریم کورٹ کا ٹائم ضائع کیا پھر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر ہم نے تو نہیں لگایا ہے آپ نے لگایا ہے،

    پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی کو نوٹس جاری
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کیلئے دائر توہین عدالت کی درخواست،پی ٹی آئی وکلاء نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں،پی ٹی آئی کے 668 ٹاپ لیڈرز کے کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا،اضافی دستاویزات میں کہا گیا کہ 2000 کے قریب حمایت یافتہ اور سیکنڈ فیز کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،پی ٹی آئی رہنماوں کے کاغذات نامزدگی چھیننے کے 56 واقعات پیش آئے،پی ٹی آئی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سپریم کورٹ،مسلم لیگ ق کے سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار دے دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مرنے کے بعد بہتر ہےکہ مقدمہ نہ چلائیں، جعلی ڈگری کا معاملہ درخواست گزار کے مرنے کیساتھ ہی ختم ہوگیا،کیا کیس کا کوئی فوجداری پہلو ہے اگر ہے تو سن لیتے ہیں ، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ لواحقین کا اصرار ہے کہ مقدمہ سن کر جعلی ڈگری کا دھبہ ختم کیا جائے،پوری تعلیم میں نے محمد اختر خادم کے نام پر حاصل کی، سیاست خادم حسین کے نام سے کی شناختی کارڈ بھی اسی نام سے بنوایا،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار زندہ ہوتے تو کچھ ثابت ہو سکتا تھا،مرنے کے بعد لواحقین درست نام کیسے ثابت کرینگے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بیان حلفی یا دستاویزات بطور شواہد دکھا دیں،نام بدلنے کا موقف ہے تو ثبوت پیش کرنا بھی آپکی ذمہ داری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،محمد اختر خادم عرف خادم حسین 2008 میں این اے 188سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ،ہائیکورٹ نے بی اے کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا تھا ،درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی

    جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا،چیف جسٹس
    دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق مشیرخزانہ بلوچستان خالدلانگو کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ خالد لانگو عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، فیصلہ معطل کیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا خالد لانگو کے گھر سے ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے، ان کے گھر سے 2 ارب24 کروڑ 91 لاکھ روپے برآمد ہوئے، صرف 26 ماہ کی کم سزا کیوں دی گئی؟ بلوچستان سے ایسے لوگوں کو انتخابات لڑنے سے دور رکھنا چاہیے، آپ کے موکل کو تو جیل کے دروازے کی طرف جانا چاہیے، کیا بلوچستان کے پیسے مزید چوری کرنے کیلئے الیکشن لڑنا ہے؟ کس دنیا میں رہتے ہیں آپ؟ گھر سے برآمد ملکی اور غیر ملکی کرنسی ٹرکوں پر لاد کرلے جائی گئی، ایسے لوگ بلوچستان کے دشمن ہیں، نیب کی تاریخ میں کسی کو اتنی کم سزا نہیں ہوئی ہوگی، مہربانی فرمائیں، بلوچستان کے لوگوں کو بخش دیں، صوبے میں ایک سڑک تک نہ بن سکی، ایسے لوگ ہی بلوچستان کھاگئے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز نے سوال اٹھایا کہ کیا اس شخص کے اتنے زیادہ تعلقات ہیں جو نیب اپیل دائر نہیں کررہا، کیا نیب آپ کے مؤکل کے کنٹرول میں تھا جواپیل دائرنہیں کی گئی؟ نیب کا کمال دیکھیں، ٹرک بھرکے پیسے پکڑے گئے اورکم سزا کے خلاف اپیل نہیں ہوئی، جوپیسہ پکڑا گیا وہ کاروبار یا جائیداد سے نہیں بنایا گیا، چھوٹے چھوٹے کیسز میں تو نیب فوری اپیل دائر کردیتا ہے، نیب کرپشن کا سہولت کار بنا ہوا ہے،عدالت نے خالد لانگو کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا تیسرا اور آخری دن ہے، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    فہمیدہ مرز کےمخصوص نشستوں پر بھی کاغذات نامزدگی مسترد،نااہل قرار
    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنما ،سابق وفاقی وزیر و سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، الیکشن کمیشن نےفیصلےمیں کہا کہ فہمیدہ مرزا الیکشن کے لیے نا اہل قرار دی جاتی ہیں،فہمیدہ مرزا کے 2 ملین روپے کی نادہندہ ہونے کا اعتراض سعدیہ جاوید نے داخل کیا تھا،اسٹیٹ بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ فہمیدہ مرزا کی کمپنی نادہندہ ہے، وہ ذاتی طور پر نادہندہ نہیں. فہمیدہ مرزا پر آئین کےآرٹیکل 63 ون این کا اطلاق ہوتا ہے

    پیپلز پارٹی کے حلقہ این اے 56 سے امیدوار میاں خرم رسول کی اپیل سماعت کیلئے منظور
    ریٹرننگ آفیسر نے بنک ڈیفالٹر اور نیب کیس سزا کی بنیاد کاغزات نامزدگی مسترد کئے تھے،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی امیدوار کی سزا معطل ضمانت پر رہائی ہوچکی ۔امیدوار کسی مالیاتی ادارہ کا ڈیفالٹر نہیں ہے۔ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ۔الیکشن ٹربیونل نے 6 جنوری کو ریٹرننگ آفیسر سے جواب اور ریکارڈ طلب کر لیا

    تحریک انصاف کے 2620 امیدوار،1996 کاغذات نامزدگی منظور،624 مسترد ہوئے
    تحریک انصاف کا ایک اورجھوٹ بےنقاب، صحافی وقار ستی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور اورصوبائی اسمبلیوں سے تحریک انصاف کےکل 2620امیدوارنےکاغذات نامزدگی جمع کروائےان میں سے1996امیدواروں کےکاغذات نامزدگی منظور جبکہ 624 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔جو76اشاریہ18فیصد ہے۔کئی دنوں سےشورتھاکہ80فیصد لوگوں کےکاغذات مستردکر دیےگئےہیں۔

    تحریک انصاف کے بلوچستان میں قومی اسمبلی کے لئے 39 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے17کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 22 کے منظور کیے گئے،بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے لئے 90 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جس میں سے 37 منظور جبکہ 53 مسترد ہوئے ہیں

    تحریک انصاف کے پنجاب اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے لئے 389 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،جن میں سے 127کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 262 منظور ہوئے،پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے 769 امیدواروں میں سے 601 کے کاغذات منظور جبکہ 168 کے مسترد کئے گئے،تحریک انصاف کے سندھ میں قومی اسمبلی کے لئے 181 امیدواروں میں سے 46 کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 135 کے منظور کیے گئے،سندھ کی صوبائی اسمبلی کے لئے 423 امیدواروں میں‌سے 346 کے منظور اور77 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے، خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے234 میں سے 55 امیدواروں کے کاغذات مسترد اور 179 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،کے پی کی صوبائی اسمبلی کے لئے 495 امیدواروں میں سے 414 کے کاغذات منظور جبکہ 81 کے مسترد ہوئے ہیں.

    عمران خان کے میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل دائرکر دی گئی،اپیل کو 160/24 نمبر لگا دیا گیا۔ اپیل کی سماعت کل جسٹس چوہدری عبدالعزیز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کریں گے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی 1 نشست سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی۔

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری انتخابات کی دوڑ سے باہر
    قاسم سوری کی جانب سے آر اوز کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹربیونل میں درخواست جمع نہیں کرائی گئی،ایپلٹ ٹربیونل میں آج اپیل دائر کرانے کا آخری روز تھا،شام چار بجے تک پی ٹی آئی کی جانب سے قاسم سوری سے متعلق کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی،قاسم سوری نے این اے 263پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے،جانچ پڑتال کے دوران آر اوز کی جانب سے انکے کاغذات مسترد کئے گئے تھے،قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے 2018 کے انتخابات میں قاسم سوری کامیاب ہوئے تھے،سال 2018 کے انتخاب میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ان کے مدمقابل تھے

    مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل ٹریبونل میں دائر
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے کاغذات کی منظوری کے خلاف ندیم شیروانی نے اپیل دائر کی ،اپیل میں این اے 119 کے ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا ،مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ،مریم نواز نے کاغذات میں درست حقائق بیان نہیں کیے ،اپیلیٹ ٹریبونل مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے.

    اشتہاری ملزم نے سرنڈر نہ کیا ہو تو اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟ ہائیکورٹ
    راولپنڈی ۔کاغذات نامزدگی مسترد خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی،ٹی ایل پی،پی پی سمیت کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہم نے آئیں اور قانون کو دیکھنا ہے میرٹ پر چلیں گے۔اشتہاری ملزم ہو اور عدالت میں سرنڈر بھی نا کیا ہو۔اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟کوئی سزا یافتہ ہے یا نہیں؟مگر اشتہاری ہے اور عدالت بھی پیش نہیں ہوا وہ نااہل ہوگا۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 60 سے تحریک لبیک کے اشفاق اور این اے 89 میانوالی سے عامر خان کی اپیلیں خارج کر دیں،،الیکشن ٹربیونل جج چودہری عبدالعزیز نے فیصلہ سنا دیا

    کوئٹہ،آر او کے فیصلے کالعدم، متعدد امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی ملی اجازت
    کوئٹہ؛ اپیلیٹ کورٹ میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 سے آزاد امیدوار سردار خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 42 آزاد امیدوار جمعہ خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 49 سے پی ٹی آئی امیدوار سید عبدالحئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ میپ کے امیدوار علی پراچہ کی اپیل پر سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کے کاغذات پی بی 42 سے مسترد ہوئے تھے،

    ریٹرننگ افیسران کے فیصلوں پر ٹربیونل نے اظہار برہمی کیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت میں ایسے فیصلے نہیں کئے جاتے، سیکوٹنی کے لئے اس ہی لئے وقت دیا جاتا کہ آر اوز چیزیں مکمل کرسکے،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ہدایت کی کہ فوری طور پر متعلقہ آر او کو طلب کریں، حلقہ پی بی 41 سے مولانا محمد ایوب ایوبی کے کاغذات نامزدگی فارم منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،پی بی 42 سے اسلم رند ، پی بی 40 سے دوست محمد ،پی بی 39 سے عالمگیر خان ، پی بی 40 سے آزاد امیدوار خادم حسین کو انتخاب لڑنے کی اجازت مل گئی،جمعیت علماءاسلام کے امیدوار میر ظفر زہری کے 2 اپیلوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دئے گئے،میر ظفر زہری نے بی پی 18 اور پی بی 35 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کی تھی، بی پی 16 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار فائق جمالی کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیئے گئے،بی پی 36 سے بی اے پی کے امیدوار روبینہ عرفان کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیا گیا، این اے 266 سے پی ٹی آئی کے امیدوار عصمت اللہ کی کاغذات نامزدگی منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،این اے 263 سے بی این پی کے امیدوار میر مقبول لہڑی کی کاغذات نامزدگی منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،

    این اے 130، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونےکیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
    این اے 130 ، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،ایپلیٹ ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اشتیاق احمد نے اپیل دائر کی ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جسٹس رسال حسن سید نے اپیل پر سماعت کی.

    عمران خان کے وکیل کے کاغذات مسترد ہونے پر نوٹس جاری
    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کو نوٹس جاری کر دئیے،جسٹس راحیل کامران نے بطور ایپلٹ ٹربیونل سماعت کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،استدعا

    این اے 89،90،بیرسٹر عمیر نیازی کے کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں قائم الیکشن ٹربیونل جسٹس چوہدری عبد العزیز نے ریٹرننگ افسران کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی کے این اے 89 اور 90 میانوالی سے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی آر اوز نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر کاغذات کیوں مسترد کئے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف مقدمہ درج ہے مگر مجھے معلوم نہیں، عدالت نے پیپلز پارٹی امیدوار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مقدمے کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا؟ وکیل نے کہا کہ یہ چوری کا کوئی گمنام مقدمہ ہے جس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف امیدوار محمد امجد کی اپیل پر سماعت ہوئی ،وکیل نے کہا کہ میرے کاغذاتِ نامزدگی انکم ٹیکس کی وجہ سے مسترد ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر کے پاس ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے اختیارات ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس اس طرح کا کوئی اختیار نہیں،ریٹرننگ افسر کا کام صرف کاغذات کی جانچ پڑتال کرنا ہے، وکیل درخواست گزار

    کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف فرزند حسین شاہ کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لینڈ لائن کا 8 ہزار کا بل تھا جو جمع نہیں تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے، عدالت نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس تو یہ اختیار ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو خود کلئیر کریں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف جمشید محبوب کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دو گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے خلاف دو مقدمات درج تھے جن کا ہمیں پتہ نہیں تھا، اس وقت ہم دونوں مقدمات میں ضمانت پر ہیں،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف محمد رفیق کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹیکس ڈیمانڈ اور لینڈ لائن بل کا معاملہ تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے تینوں حلقوں سے یہی اعتراض ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی تینوں حلقوں میں بل اور ٹیکس ڈیمانڈ کا اعتراض ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف چوہدری واجد ایوب کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے پر بجلی بل جمع نہ کرنے کا اعتراض ہے،بجلی بل جمع کرایا، اور ٹیکس بھی جمع ہے، وکیل درخواست گزار

    امیدوار چوہدری آصف کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میری پراپرٹی تھی جو میں فروخت کرچکا ہوں، جس پراپرٹی کو بیچ چکا اسی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،

    ملک نوید اعوان کا کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اعتراض یہ ہے کہ میں متعلقہ حلقے کا ووٹر نہیں،حالانکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے خود مجھے این اے 48 کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،اپلیٹ ٹریبیونل نےا الیکشن کمیشن کو آر آوز سے ریکارڈ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے تمام اپیلوں پر سماعت 5 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی

    شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل پر فیصلہ محفوظ
    اسلام آباد:الیکشن ٹریبونل،پی ٹی آئی رہنما ایڈوکیٹ شعیب شاہین کے نامزدگی فارم مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹربیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ ریٹرنگ افسر نے آپ کو سنا نہیں ؟ شعیب شاہین نے کہا کہ میں نے میڈیا کی موجودگی میں کہا مجھ پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا ریٹرنگ افسر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ امیدوار کو مناسب وقت دے گا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے اپنی پچھلے 3 سال کی ٹیکس ریٹرن میں اپنے آپ کو پراپرٹی کا آنر ظاہر کیا ، عدالت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے ؟؟ جس میں آر او امیدوار کو وقت دے؟کوئی ایسی ججمنٹ ہے آرٹیکل 63 کے حوالے سے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نثار کھوڑو اور عمران نیازی کی ججمنٹ پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ 29 اور 30 دسمبر سکروٹنی کی آخرج تاریخ تھی؟ سیکورٹی کے اس سارے عمل سے کیا تعلق ؟شعیب شاہین نے کہا کہ 30 کو جب سکروٹنی کے لیے گیا تو تینوں آر اوز نے کہا کہ آپ کے خلاف کچھ نہیں ہے، مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس نہیں آیا ،عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا،وکیل الیکشن کمیشن ثمن مامون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر درخواست گزار کو ٹیکس ریٹرن یا دیگر بقایاجات کا نہیں پتہ تو کاغذاتِ نامزدگی مسترد نہیں ہوگی، اگر چھ ماہ سے زائد کے بقایاجات اگر جمع نہیں تو پھر کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کے فارم میں موجود ہیں؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سے متعلق تمام چیزیں فارم 17 میں موجود ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا آپکو پتہ ہے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا مجھے علم ہے مگر میں یہاں اس پر دلائل نہیں دونگی، درخواست گزار نے تین سالوں سے اس پراپرٹی کو اپنی ملکیت ظاہر کردی، درخواست گزار خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے خود چیک کیا اور کہا کہ مجھے پتہ تھا،اب اگر کوئی تین سالوں تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کریں گے تو یہ انکا مسئلہ ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ایسا کوئی قانون ہے کہ ریٹرننگ افسر درخواست گزار کو بقایاجات کلئیر کرنے کے لیے وقت دیں؟ آپ کے پاس آرٹیکل 62 ون ایف کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے؟ یعنی ہم یہ کہیں کہ درخواست گزار کو پتہ تھا کہ وہ ٹیکس نادہندہ ہے؟ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل دینے والے عدالتی فیصلوں کو جمع کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی بقایاجات نہ ہو تو اس پر آپ کے کیا دلائل ہونگے؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کہ مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس آیا اور نہ ہی میں ڈیفالٹر ہوں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ جمعہ کو آپ ججمنٹس کے ساتھ آئیے گا ، شعیب شاہین کے حلقہ این اے 46 47 48 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوں گے یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، جسٹس ارباب محمد طاہر فیصلہ سنائیں گے.

    اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟جسٹس ارباب محمد طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی،سید ظفر علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ خود الیکشن لڑ رہے ہیں ؟سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ جی میں خود لڑ رہا ہوں، پوچھا گیا کس جماعت سے تعلق ہے، واضح لکھا ہے کہ پی ٹی آئی سے ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کے خلاف ایک گاڑی کے حوالے سے اعتراض ہے، سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ گاڑی میں نے 3 سال پہلے بیچ دی تھی ، عدالت نے کہا کہ آپ کوئی ایفیڈیوٹ یا ٹرانسفر لیٹر جمع کروائیں ،جمعہ کے لیے نوٹس کردیتے ہیں،جمعہ کو اس کیس کو میرٹ پر سنیں گے ،جن امیدواروں کے بلز یا دیگر ادائیگیاں نہیں ہوئیں ریٹرننگ افسر اُنہیں اعتراض دور کرنے کیلئے وقت دینے کا مجاز تھا. اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟

    این اے 122، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کی اپیل دائر
    این اے 122 سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،عمران خان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ،اپیل میں‌مؤقف اپنایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ٹریبونل ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے .

    الیکشن ٹریبونل نے این اے 214 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود قریشی اورزین قریشی کی اپیل پر الیکشن کمیشن،آر او اور دیگر سےجواب طلب کرلیا ،ٹریبونل نے این اے 238 سے پی ٹی آئی امیدوارحلیم عادل شیخ، این اے 241 پیپلزپارٹی امیدوارمرزا اختیار بیگ اور این اے 234 سے ایم کیو ایم امیدوار صادق افتخارکی اپیل پربھی ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ،این اے 241 سے پی ٹی آئی امیدوار ارسلان خالد کی اپیل پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے جب کہ الیکشن ٹریبونلز نے الیکشن کمیشن اور دیگر سے 5 جنوری تک جواب طلب کرلیا ،

    ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کرنے کا آج آخری دن،بیشتر امیدواروں کی پہلے ہی سے اپیلیں دائر ہیں جن پر آج اور کئی کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ،شیخ رشید کے این اے 56/57 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کی اپیل پر سماعت آج الیکشن ٹریبونل راولپنڈی میں ہوگی۔اسسٹنٹ ڈاِئریکٹر الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عمیر نیازی سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی آج تک کیلئے مہلت مانگی تھی ۔اٹک سے میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی اپیلوں پر سماعت الیکشن ٹربیونل میں کل 4 جنوری کو ہوگی ۔سابق وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ کے این اے 55 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت کل 4 جنوری کو ہوگی ۔پی ٹی آئی سابق ایم پی اے راجہ راشد حفیظ اور پیپلز پارٹی کے بابر جدون کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ۔پی ٹی آئی کے تین امیدواروں کی اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔اپیلیں دائر کرنے والوں میں این اے 55 اور پی پی 15 سے امیدوار زیاد خلیق، ایرج شاہنواز، انعم زاہد شامل ہیں،چوہدری پرویز الٰہی نے بھی الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کے منظور یا نامنظور ہونے بارے آج فیصلہ ہوگا ۔

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    اسلام آباد: افغانستان کی عبوری حکومت کا سینئیر وفد اسلام آباد پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وفد کی قیادت سینیئر افغان طالبان رہنما اور گورنر قندھار کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ افغان عبوری حکومت کے وفد میں افغان وزارت دفاع، اطلاعات اور انٹلی جنس حکام شامل ہیں افغان عبوری حکومت کے وفد میں 9 سے 10 اراکین شامل ہیں، وفد دورہ پاکستان میں پاکستانی حکام سے دو طرفہ مذاکرات کرے گا۔

    واضح رہے کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی افغانستان کا دورہ کر یں گے ،اس حوالے سے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ میرا اپنا تعلق ہے، جسے میں استعمال کروں گا، افغانستان پر اگر میرا اثر ہے، وہ میرے ملک کے مفاد کیلئے ہے، میں افغانستان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے دورے کی دعوت دی، میں اپنے ملک کے وزیرخارجہ اور اپنی حکومت کو اس مسئلے پر اعتماد میں لے کر جا رہا ہوں، پڑوسی دوست ملک ایک دوسرے کی بہتری کا سبب بنیں، پڑوسی ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، افغانستان میں غلط فہمیاں، بدامنی پیدا کی گئیں، ان ساری چیزوں کو حل کرنا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔