Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن کا دوسرا نوٹس،پشاور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے سے روک دیا

    انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن کا دوسرا نوٹس،پشاور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے سے روک دیا

    پشاور ہائی کورٹ ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے دوسرے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے اور درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی سے روک دیا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 8 دسمبر کو نوٹس بھیجا، پی ٹی آئی نے نوٹس کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا عدالت نے 19 دسمبر کی تاریخ دی، الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روکا الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات، انتخابی نشان کا کیس الگ الگ کر دیا، انتخابی نشان کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے دوسرا نوٹس جاری کر کے 18 دسمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا،بیرسٹر گوہر نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سخت فیصلے سے روکا جائے ہم نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور دستاویزات الیکشن کمیشن کو دیں،جسٹس فہیم ولی نے استفسار کیا کہ آپ لوگ 18 دسمبر کو الیکشن کمیشن میں پیش ہو جائیں گے؟بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ جی ہم 18 دسمبر کو الیکشن کمیشن میں پیش ہوں گے۔عدالتِ عالیہ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روک دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کو درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی سے بھی روک دیا اور درخواست کی سماعت 19 تاریخ تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • مونس الہیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ مقدمہ،ایف آئی اے سے مزید ریکارڈ طلب

    مونس الہیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ مقدمہ،ایف آئی اے سے مزید ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ، مونس الٰہی کیخلاف منی لانڈرنگ مقدمہ کالعدم قرار دینے کےخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے مزید ریکارڈ طلب کر لیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مونس الٰہی سمیت گیارہ ملزمان پر جعلی اکائونٹنس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت تفصیلی ہے، نیب سمیت کئی ادارے ان اکائونٹس کی تحقیقات کر چکے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ایک ہی معاملے کی بار بار تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کر رہا تھا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ جن اکائونٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں وہ کب کے ہیں؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ اکائونٹنس 2007 میں بنے کچھ 2010 سے 2014 تک،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ نیب نے 2020 میں تحقیقات ختم کیں احتساب عدالت نے اس کی توثیق کی، کیسے ممکن ہے نیب نے اس معاملے کا جائزہ ہی نہ لیا ہو، ڈپٹی اٹارنی جنرلنے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ سے منی لانڈرنگ کا معاملہ سامنے آیا،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ شوگر کمیشن تو چینی کی قیمت کے حوالے سے تھا،جس رحیم یار خان مل کا کیس بنا رہے ہیں اسکی تو کمیشن نے تحقیقات کی ہی نہیں، ابھی تک ایف آئی اے واضح نہیں کر سکا کہ کہانی شروع کہاں سے ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون 2010 میں بنا، اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا؟ آپکے بقول مقدمہ کی بنیاد ہی 2007 کا اکائونٹ ہے، نیب ریفرنس کی تفصیلات اور ریکارڈ پیش کریں پھر فیصلہ کرینگے مونس الٰہی کو نوٹس جاری کرنا ہے یا نہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مقدمہ ختم کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہائی کورٹ کو مقدمہ پہلی سماعت پر ہی ختم کرنے آئینی اختیار حاصل ہے،سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی.

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    مونس الہی کی منجمد ہونے والی جائیداد اور بینک اکاونٹس کی تفصیلات 

  • چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    چئیرمین پی ٹی آئی کے پریس کانفرنس کے دوران انتخابات ملتوی کرانے کے سلسلے میں کمیشن پر الزامات کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا ھے اور اس کو عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ھے ۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو الیکشن کروانے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کا تقرر کر دیا گیا تھا اور ملک بھر میں ان کی ٹریننگ بھی شروع کر دی تھی جو کہ الیکشن شیڈول سے پہلے ضروری ھے تاکہ شیڈول کا اعلان ہوتے ہی کاغذات نامزدگی کا اجرا کر سکیں اور وصول کر سکیں اور اس سلسلے میں دیگر ذمہ داریاں نبھا سکیں۔پی ٹی آئی کی طرف سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کے تقرر کو چیلنج کرنے اور ان کی تقرری کی معطلی کے بعد کی صورتحال پر کمیشن نے تفصیل سے غور کیا اور جلد ہی اس پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔موجودہ صورتحال کا الیکشن کمیشن کو کسی طور بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کے آر اوز سے متعلق نوٹیفکیشن سے الیکشن ملتوی ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ افسران کو آر او نہیں بنایا جا سکتا اس سے دھاندلی ہو سکتی ہے، ججوں کو ریٹرننگ افسران بنایا جائے جس سے الیکشن شفاف ہوں گے،الیکشن کمیشن نے پہلے بھی انتخابات ملتوی ہونے کا بہانہ بنایا، آج الیکشن کا شیڈول آنا تھا لیکن جاری نہیں ہوا،اسٹے کا بہانہ نہیں بنائے دیں گے،سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کے انعقاد میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے،الیکشن بروقت ہونے چاہیں،اگر تاخیر کی کوشش کی جاتی ہے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے،سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہوسکتا ،

    پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی راہنماء شعیب شاہین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق آر اوز اور ڈی آر اوز کی ٹریننگ روک دی گئی ہے،اس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،اسٹے کا بہانہ نہیں بنائے دیں گے،سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کے انعقاد میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے،صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے دستخط موجود ہیں،الیکشن شیڈیول آج جاری ہونا چاہیے تھا،ہمارا شروع سے موقف ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوں،اسٹے کے میٹر بہت جلد ڈسپوز ہوسکتا ،ہےہمارا شروع سے مطالبہ ہے کہ آر اوز اور ڈی آر اوز عدلیہ سے لیےجائیں، الیکشن میں ایسے افراد کو تعینات کیا جائے جن کا ماضی شفاف ہو،الیکشن بروقت ہونے چاہیں،اگر تاخیر کی کوشش کی جاتی ہے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے،انہوں نے مزید کہا کہ ملٹری کورٹس کے حوالے سے آڈر آیا ہے جس نے پہلے والے 5 ممبر بنچ کے فیصلے کو معطل کیا ہے،ابھی سپریم کورٹ کے سامنے پٹیشن پینڈنگ ہیںکسی بھی فورم میں جس کے پاس دائرہ اختیار نہ ہو وہاں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہوسکتا،کسی بھی سولین کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں نہیں ہونا چاہیے،سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کو جلد چیلنج کریں گے،کہ کل یا پرسوں ہم پنجاب میں کنونشنز سے متعلق شیڈول جاری کریں گے، پنجاب میں ورکرز کنونشن کو خود لیڈ کروں گا،

    اس موقع پر شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری پٹیشن پر 8 فروری کی تاریخ طے ہوئی ہے،جسٹس اطہر من اللہ اپنے آڈر میں بھی لکھ چکے ہیں، الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی، آٹھ فروریپتھر پہ لکیر ہے،شہباز شریف اور ن لیگ پراپیگنڈا کر رہی ہے،پی ٹی آئی انتخابات سے نہیں بھاگتی یہ شروع سے بھاگتے ہیں ،انتخابات سےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پہلے سے ہمارے خلاف ہے،ہمارے راہنماؤں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جارہا ہے،اب اگر انتخابات نہ کرانے گئے تو یہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوگا،یہ بہت بڑا جرم ہوگا اس ہر سپریم کورٹ اور قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی ،ملٹری کورٹس سے متعلق فیصلہ سن کر قوم مایوس ہوئی ہے۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک کی مہلت

    جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک کی مہلت

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کی استدعا منظور کرلی

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کمرہ عدالت پہنچ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی زیر صدارت اجلاس کمرہ عدالت نمبر 1 میں ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم دیکھ لیتے کوئی شکایات میں وزن ہے یا نہیں،ہوسکتا ہے ساری شکایات بے بنیاد ہوں مگر آپ جواب دیں گے تو پتا چلے گا،آپ شوکاز کا جواب نہیں دینا چاہتے کہہ دیں نہیں دینا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ صرف بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی تک جواب کیوں نہیں دیا،میں نے آپ کو دو خطوط لکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کو خط آپ کو خط لگا رکھی ہے؟کیا ہر ایک خط پر ایک چیف جسٹس لاہور ایک کوئٹہ سے آئے؟لاہور اور کوئٹہ سے سفر کر کے آنے کا ٹیکس عوام دے رہی ہے،جو درخواست کرنی ہے سپریم جوڈیشل کونسل سے کریں مجھ سے نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں اگر یہ تاثر گیا کہ میں آپ کو انفرادی طور پر کہہ رہا ہوں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نےا جسٹس مظاہر نقوی کو جواب دینے کیلئے وقت دینے کا فیصلہ کر لیا،چیئرمین جوڈیشل کونسل نے کہا کہ تفصیلی جواب دینے کیلئے وقت دے دیتے ہیں،اپنے ساتھی جج کیخلاف کاروائی کرنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ ساتھی جج کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال و جواب کریں،اپنے ساتھی ممبران سے مشاورت کے بعد واپس آتے ہیں،پاکستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مزید وقت دینے کی مخالفت کر دی، کونسل نے حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ مزید وقت دینے سے آپ کی کیا حق تلفی ہوگی؟آپ کے گواہان کون ہیں؟حسن رضا پاشا نے کہا کہ گواہان میں آڈیو لیکس والے افراد ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آڈیو لیکس میں دیکھنا ہوگا کہ آڈیوز درست ہیں یا نہیں،آج کل تو کوئی بھی آڈیوز توڑ مروڑ کر بنا دیتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی نقوی کیخلاف ریفرنس،سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی 11 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک مہلت دے دی اور کہا کہ یکم جنوری 2024 کے بعد کوئی مہلت نہیں دی جائے گی،اٹارنی جنرل سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کنڈکٹ کرنے کیلئے پراسیکیوٹر مقرر کر دیئے گئے ،خواجہ حارث نے اٹارنی جنرل پر اعتراض کیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل پاکستان بار کے چیئرمین ہیں جو ہمارے خلاف شکایت گزار ہے، سپریم جوڈیشل کونسل نے خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کردیا

    قبل ازیں جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرنے کا مطالبہ کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف کارروائی کے حوالہ سے جوڈیشل کونسل کو خط لکھا ہے، جس میں کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کھلی سماعت کا حق تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ میری درخواست ہے کہ میرے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی کھلی سماعت کی جائے، پاکستان کا آئین مجھے کھلی سماعت کا حق دیتا ہے، میں نے جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے ہیں، کونسل کے ان کیمرا اجلاس کی وجہ سے میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، کونسل کارروائی کی وجہ سے مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، شفاف ٹرائل کا تقاضہ ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے،

    خط میں استدعا کی گئی ہے کہ جب تک میری درخواستوں پر فیصلہ نہیں آتا تب تک جوڈیشل کونسل کی کارروائی روک دی جائے، میری جوڈیشل کونسل کے سامنے متعدد درخواستیں زیرِ التواء ہیں، 13 نومبر کو میں نے نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، میری دونوں درخواستیں 15 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں.

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 دسمبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا ہے اجلاس جمعرات کو ججز بلاک کانفرنس روم میں ڈھائی بجے ہوگا، سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے پانچوں ممبران کو نوٹس بھیج دیا ہے۔

  • سائفر کیس سماعت ان کیمرہ ہو گی،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سائفر کیس سماعت ان کیمرہ ہو گی،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دے دیا ہے۔

    سائفر کیس سماعت ان کیمرہ ہو گی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ فیملی ممبران کو دوران سماعت کمرہ عدالت میں رسائی دی جائے گی،عدالت نے سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی۔

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 14 اے کے تحت ٹرائل خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی۔ رضوان عباسی نے عدالت میں استدعا کی تھی کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 14 اے کے تحت ٹرائل کو خفیہ رکھا جائے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ بنایا گیا اس کی سماعت ان کیمرہ ضروری ہے، موجودہ کیس کے حالات اور واقعات بھی تقاضا کرتے ہیں کہ جیل ٹرائل ان کیمرا ہو،جب سائفر ہی سیکرٹ تھا تو پھر سماعت بھی ان کیمرا ہونی چاہیے، چارج فریم ہو چکا ہے اور اب شہادتیں ہونا باقی ہیں، چاہتے ہیں کہ شہادتیں ریکارڈ کرتے وقت سیکریسی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ان کیمرہ سماعت اور جیل ٹرائل نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہوا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن کو معطل کر کے اوپن ٹرائل کا حکم دیا تھا، ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ فرد جرم عائد کر دی گئی، میڈیا سے علم ہوا،جج ابوالحسنات نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سماعت کے دوران کہاں تھے کہ آپکو پتہ نہیں چل سکا، سب کے سامنے چارج فریم ہوا تھا،

    شاہ محمود قریشی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت سائفر کیس ٹرائل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو نظر انداز نہیں کر سکتی،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست دائر کر دی گئی
    درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،
    سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    قبل ازیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ سے برطرفی کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تبدیلی پر وضاحت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست پر گزشتہ سماعت کب ہوئی تھی؟ حامد خان نے کہا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج کل ہر کوئی فون اٹھا کر صحافی بنا ہوا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا،پہلے اس بینچ میں کون کون سے ججز تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس سنا،بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظہر عالم میاں ، اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہم اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہتے،باقی ججز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ،میں نے بنچ سے کسی کو نہیں ہٹایا، بینچوں کی تشکیل اتفاق رائے یا جمہوری انداز میں ہو رہی ہے، موبائل ہاتھ میں اٹھا کر ہر کوئی صحافی نہیں بن جاتا،صحافی کا بڑا رتبہ ہے،حامد خان نے کہا کہ آج کل جمہوریت کا زمانہ ہے، اس وقت جمہوریت مشکل حالات میں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکی معاونت درکار رہے گی، جمہوریت چلتی رہے گی, آپ نے اسے آگے لے کر چلنا ہے، آج کل فون پکڑ کر صحافی بن جاتے ہیں اور یوٹیوب چینل جاتا ہے، جبکہ صحافی کا رتبہ بہت اونچا ہوتا ہے،اِس کیس کو نئے سرے سے سننا ہو گا،

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس میں بنچ تبدیل ہو گیا ہے، اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجازالاحسن بنچ میں تھے،جسٹس مظہر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی بنچ میں شامل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں بنچ بدل چکا ہے اور اب نئے سرے سے دلائل شروع کرنا ہوں گے،آج کل ہر کوئی موبائل پکڑ کر یوٹیوب پر ویڈیو بنا کر سمجھتا ہے کہ وہ صحافی ہے،اس بنچ کو بنانے کا فیصلہ ججز کمیٹی نے کیا،کوشش یہی ہوتی ہے کہ ججز کمیٹی اتفاق رائے سے فیصلے کرے لیکن فطری طور پر یہ ممکن نہیں،شوکت صدیقی کیس میں نیا بنچ بنانا کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ کو اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض تو نہیں ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آج کل ویسے بھی اعتراض کا زمانہ ہے،

    دوران سماعت ایڈووکیٹ حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر کا متن پڑھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسوقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کون تھے،حامد خان نے کہا کہ اس وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی تھے، شوکت عزیز صدیقی پر 4 ریفرنسز بنائے گئے، ایک ریفرنس یہ بنایا کہ سرکاری رہائش گاہ پر شوکت عزیز صدیقی نے زائد اخراجات کیے،ہم نے کونسل میں درخواست دی کہ ججز کی سرکاری رہائش گاہوں پر ہونے ولے اخراجات کی مکمل تفصیل دیں، کونسل نے جواب دیا جو مانگ رہے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے، ایک ریفرنس 2017 کے دھرنے کی بنیاد پر بنایا گیا، جس میں شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ریمارکس دئیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں عدالتی ریمارکس پر ریفرنس بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت صدیقی کے خلاف شکایات کنندگان کون تھے، حامد خان نے کہا کہ رہائش گاہ پر زائد اخراجات کے شکایت کنندہ سی ڈی اے ملازم انور گوپانگ تھے،ایک ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم اور ایک سابق ایم این اے جمشید دستی نے بھیجا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ جمشید دستی کس سیاسی جماعت کا حصہ تھے؟ حامد خان نے کہا کہ مجھے کنفرم نہیں لیکن شاید آزاد حیثیت میں ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کہ رہے ہیں جمشید دستی مکمل آزاد نہیں تھے، حامد خان نے کہا کہ راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر پر جوڈیشیل کونسل نے خود نوٹس لیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جوڈیشیل کونسل کو کیسے ہتا چلا کہ کسی جج نے تقریر کی ہے؟حامد خان نے کہا کہ ایجینسیوں نے شکایت کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر بتائیں وہاں کیا لکھا ہوا ہے،حامد خان نے کہا کہ ریکارڈ میں 22 جولائی 2018 کا رجسٹرار کا ایک نوٹ موجود ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن دو شخصیات پر الزام لگا رہے ہیں ان کو فریق تو بنائیں، ہم مفروضوں پر کیس نہیں سنیں گے، یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں آپ جو بات یہاں کر رہے ہیں اخباروں کی زینت بنے گی، موبائل اٹھا کر صحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا فیصلہ آچکا ہے،
    سپریم کورٹ میں اب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت بنچز تشکیل دیئے جاتے ہیں،ادارے نہیں بولتے ادارے میں بیٹھی شخصیات ہی بولتی ہیں، میرا ایک اصول ہے کہ جس پر الزام لگاو اس کو بھی سنو ممکن ہے وہ الزامات تسلیم کر لے،کورٹ میں صحافی بیٹھے ہیں اور کل اس شخص کا نام اخبارات کی زینت بن جائے گا، ہم کسی کو کچھ لکھنے سے تو نہیں روک سکتے، آپ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں اسے فریق بنانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے فریق بنانے پر کوئی اعتراض نہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں کیا اس نے کسی فورم پر آپ کو جواب دیا؟کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شخص کو نوٹس کیا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن ادارے برے نہیں ہوتے لوگ برے ہوتے ہیں،ہم شخصیات کو برا نہیں کہتے، اداروں کو برا بھلا بولتے ہیں، اداروں کو لوگ چلاتے ہیں،ملک میں تباہی کی وجہ لوگ شخصیات کی بجائے اداروں کوبدنام کرتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں،حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے کا جوڈیشل کونسل نے موقع نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو آپ کے پاس موقع ہے اب کیوں نہیں فریق بنا رہے؟ کسی کی پیٹھ پیچھے الزام نہیں لگانے دینگے، اس اعتبار سے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے، حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فریق بنا کر ہم پر احسان نہ کریں، اداروں پر الزام نہیں لگانے دینگے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے الزام ہائی کورٹ چیف جسٹس پر لگایا تھا، جسٹس انور کانسی کو بھی فریق نہیں بنایا گیا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فیض حمید کو کسی اور درخواست گزار نے فریق بنایا ہے؟وکیل بار کونسل نے کہا کہ فیض حمید کو نہیں آئی ایس آئی کو فریق بنایا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انور کانسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرایا تھا، حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کروایا تو سماعت کا موقع ہی نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اوپن کورٹ میں ریفرنسز کی سماعت کا حکم دیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف ابتدائی سماعت کی تھی باضابطہ انکوائری ابھی ہونی تھی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر کا متن بیان حلفی پر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں دیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ ہمیں بھی سن لیں،ہم آپ کو کسی کو فریق بنانے پر مجبور نہیں کریں گے ،ہر شعبے میں اچھی اور بری شخصیات ہوتی ہیں، وکلاء میں بھی اچھے اور برے ہیں،

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ کر لیا،سپریم کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کل 10:30 تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے جن پر الزام لگایا اس کو فریق بنائیں ورنہ دوسرے نکتے پر دلائل دیں،کل ہوسکتا ہے جس کو فریق بنائیں ان کو عدالت نوٹس جاری کرے،اگر فریق بنانے کی درخواست آج دائر کرتے ہیں تو کل نوٹس جاری کر دینگے، حامد خان نے آج ہی فیض حمید اور انور کانسی کو فریق بنانے کی درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرا دی ،حامد خان نے کہا کہ جن پر الزام لگایا ہے انہیں فریق بنانے کی درخواست کل تک دائر کر دینگے،عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس پر جیل ٹرائل کے لئے قانونی پراسس پورا نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے عدالت میں کہا کہ چار دسمبر کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی یہ آرڈر میں کیا کہہ رہے ہیں؟ وفاقی حکومت کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کدھر ہے؟عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کیوں نہیں پتہ جیل ٹرائل ہو رہا ہے؟وکیل نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل ٹرائل کے پراسس نہ ہونے کو چیلنج کر رکھا ہے، یہ حکومت کا کام ہے، جج کا نہیں کہ وہ کورٹ کے لیے جگہ کا انتخاب کرے،جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ جج کا ہی اختیار ہے، جج ٹرائل کے لیے جیل کا انتخاب کر سکتا ہے مگر وہ اوپن کورٹ ہونی چاہیے

    وکیل نے کہا کہ جج کے پاس جیل ٹرائل کی منظوری کا نوٹیفکیشن ہی نہیں تھا جب چار دسمبر کو آرڈر پاس کیا، جج نے آرڈر میں لکھا کہ نوٹیفکیشن جمع کرا دیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ایف آئی اے کو 20 دسمبر کے لئے نوٹس جاری کر دیا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا،عمران خان کے وکیل نے استدعاکی کہ عدالت آئندہ سماعت تک ٹرائل روک دے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ آ جائے پھر دیکھتے ہیں،عمران خان کے وکیل کی سائفر ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی گئی

    دوسری جانب ایف آئی اے پراسیکیوٹر رضوان عباسی اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، انکا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے تاہم کسی بھی دستاویز پر ملزمان کے دستخط ضروری نہیں ہیں،فریم چارج کرنے کا ایک طریقہ ہے فرد جرم عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی ہے، عدالت نے ملزمان سے پوچھا کہ یہ الزامات ہیں آپ پر، ملزمان نے فرد جرم میں لگے الزامات کی صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ فرد جرم عائد ہونے کی کارروائی گزشتہ روز مکمل کرلی گئی ہے۔ ہم نے گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے تحت ان کیمرا ٹرائل کی درخواست دی ہے، آج پراسیکیوشن کی جانب سے چار گواہان کو پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    ملک بھر میں عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی جاری ٹریننگ کو روک دیا ہے، الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلے ارسال کردیئے،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو ڈی آر اوز اور آر اوز کی ٹریننگ روکنے کی احکامات دیئے ہیں

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 8 فروری کے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا، ایک رکنی بینچ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا،عدالت نے انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی اور جسٹس علی باقر نجفی نے فائل چیف جسٹس کو ارسال کردی۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کرانے پر غریب قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں ، اگر بڑی سیاسی جماعتیں الیکشن نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہوگا ،الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فئیر الیکشن کرانے ہیں ،شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کےلیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں ۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ:الیکشن کمیشن کی پابندی کےباجود سرکاری ملازمین کے تبادلوں کےخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،عدالت نے کہا کہ آگاہ کیاجائے الیکشن کمیشن کی پابندی کےباوجود تبادلے کیسے ہورہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے زاہد حسین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پابندی کے باجود افسران کو دوردراز اضلاع میں ٹرانسفر کیاجارہاہے۔عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کےبعد الیکشن کمیشن نے تبادلوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔الیکشن کمیشن کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر پابندی کی خلاف ورزی کی جارہی۔عدالت پابندی کےبعد کی جانے والی ٹرانسفرز کو کالعدم قرار دے

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • پی آئی اے ،مشکلات کم نہ ہوئیں،ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پی آئی اے ،مشکلات کم نہ ہوئیں،ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کا معاشی بحران پھر سراٹھانے لگا۔

    قومی ائیرلائن کے سات ہزار سے زائد ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں،تنخواہوں کے بعد فیول کرائسز کا خطرات منڈلانے لگے،فیول کرائسز کیوجہ سے ماضی میں بھی کئی ہفتے قومی ائیرلائنز شیڈول متاثر رہا ،تنخواہوں کی عدم سے ادائیگی سے ملازمین میں بے یقینی بڑھنے لگی۔

    ہدایت اللہ خان سی بی اے یونین صدر کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کی جاتی ہیں۔ملازمین کو جان بوجھ کر خوار کیا جاتا ہے۔آئندہ ماہ اگر تنخواہوں کی ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی تو یونین بھرپور احتجاج کرے گی۔پی آئی اے میں فیول کرائسز کی ذمہ دارموجودہ حکومت ہے۔ جان بوجھ کر ادارے کو مالی مشکلات کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے مالی مشکلات کا شکار ہونے کیوجہ سے تنخواہیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے متبادل زرائع سے فنڈز ارینج کیے جارہے ہیں۔آئندہ چند روز میں تمام ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی جائے گی۔

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی