Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس،سپریم کورٹ نے ٹرائل غیر آئینی قرار دینے پر حکم امتناع دے دیا،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا،سپریم کورٹ کے6رکنی بینچ نےملٹری کورٹس سے متعلق فیصلہ مشروط طورپرمعطل کیا،سپریم کورٹ نےملٹری کورٹس سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا ،سپریم کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ 1-5 سے سنایا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ فوجی عدالتیں ٹرائل شروع کر سکتی ہیں تاہم حتمی فیصلہ اپیل سے مشروط ہو گا،جسٹس مسرت ہلالی نے انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے سے اختلاف کیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراضات پر بنچ سے الگ ہونے سے انکار کردیا ، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وکلا جسٹس جواد ایس خواجہ کا فیصلہ پڑھ لیں، یہ جج کی مرضی ہے کہ بنچ کا حصہ رہے یا سننے سے معذرت کرے، جواد ایس خواجہ کا اپنا فیصلہ ہے کہ کیس سننے سے انکار کا فیصلہ جج کی صوابدید ہے ،میں خود کو بینچ سے الگ نہیں کرتا معذرت،

    دوران سماعت سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں، خواجہ حارث وزارت دفاع کی جانب سے روسٹرم پر آگئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کا آغاز کر دیا ،فریقین کے وکلاء کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی،شہداء فاونڈیشن کے وکیل شمائل بٹ نے اپیل پر دلائل کا آغاز کر دیا.

    سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا،وکیل وزارت دفاع
    جسٹس میاں محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ ملٹری کورٹس میں ہونے والے ٹرائل کو یقینی فئیر ٹرائل کیسے بنائیں گے؟ وکیل وزرات دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، آرمی ایکٹ میں سویلین پر دائرہ اختیار پہلے ہی محدود تھا، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ابھی ہمارے سامنے تفصیلی فیصلہ نہیں آیا،کیا تفصیلی فیصلہ دیکھے بغیر ہم فیصلہ دے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا تفصیلی فیصلے کا انتظار نہ کر لیں؟ وکیل خواجہ حارث نےکہا کہ پھر میری درخواست ہو گی کہ ملٹری کسٹڈی میں جو لوگ ہیں ان کا ٹرائل چلنے دیں، ہر سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو رہا، صرف ان سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ
    فیصلے کی وجوہات آنے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مناسب ہوگا تفصیلی فیصلے کا انتطار کر لیں، جسٹس سردار طارق نے کہا کہ دیکھنا ہوگا ان نکات پر فیصلے میں کیا رائے دی گئی ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہے تو عدالتی حکم معطل کرنا ہوگا، فوج کی تحویل میں 104 افراد سات ماہ سے ہیں،ملزمان کیلئے مناسب ہوگا کہ ان کا ٹرائل مکمل ہوجائے، کچھ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی تھی کچھ پر ہونا تھی،بہت سے ملزمان شاید بری ہو جائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنہیں سزا ہوئی وہ بھی3سال سے زیادہ نہیں ہوگی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ سزا 3سال سے کم ہوگی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ کم سزا میں ملزمان کی حراست کا دورانیہ بھی سزا کا حصہ ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جو بری ہونے والے ہیں انہیں ضمانت کیوں نہیں دے رہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جن ججز نے ملٹری کورٹس فیصلہ دیا وہ بھی اسی سپریم کورٹ کے جج ہیں،ٹرائل کالعدم قرار دینے والا تفصیلی فیصلہ آیا نہیں تو ٹرائل دوبارہ کیسے چلے گا،سویلینز کے ٹرائل کیخلاف فیصلے پر حکم امتناع دینے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل روکنے سے متعلق کچھ دیر تک اپنا فیصلہ سنائیں گے،فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کریں گے،حکمنامے میں 23 اکتوبر کا فیصلہ معطل کرنے یا نہ کرنے کا بتائیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کو زیادہ سنگین سزاؤں والی دفعات سے بھی چارج کیا جا سکتا تھا،سنگین دفعات اس لیے نہیں لگائیں کہ بے شک وہ گمراہ تھے مگر ہمارے شہری ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس فیصلے کی ایک جزو کو معطل کیا جائے تو اٹارنی جنرل کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم فیصل صدیقی سے متفق نہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم غیر آئینی ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جو کرنل صاحب یا میجر صاحب بیٹھ کر کیس سنتے ہیں کیا وہ ضمانت دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کو آئین میں تحفظ دیا گیا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ایک تو بنیادی حقوق پتہ نہیں ہمیں کہان لیکر جائیں گے، ملٹری ٹرائل غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ معطل کیا جائیگا یا نہیں؟سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟جسٹس سردار طارق مسعود
    سپریم کورٹ مین گزشتہ روز 23 فوجیوں کی شہادت کا تذکرہ بھی ہوا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کل جو 23 بچے شہید ہوئے ان پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کیسے ہو گا؟ جو فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں ان کا تو اب ٹرائل نہیں ہو سکے گا کیونکہ قانون کالعدم ہو چکا، جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟ سیکشن 2 ون ڈی کالعدم ہونے کے بعد دہشتگردوں کا ٹرائل کہاں ہو گا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت موقع دے تو اس معاملے پر سیر حاصل دلائل دیں گے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • توہین الیکشن کمیشن ،عمران خان ،فواد چودھری پر فرد جرم کی کاروائی مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن ،عمران خان ،فواد چودھری پر فرد جرم کی کاروائی مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت مکمل ہو گئی

    توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ممبر نثار درانی کی سراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی،بانی پی ٹی ائی کی جانب سے بیرسٹر عمیر نیازی انتظار پنچوتہ اور خالد یوسف چوہدری پیش ہوئے،فواد چوہدری کی جانب سے فیصل چوہدری پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے 2 مرتبہ بانی چئیرمین اور فواد چوہدری کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے بلایا،پی ٹی آئی کے وکلاء نے عمران خان پر فرد جرم عائد نہیں ہونے دی،وکلاء نے کہا کہ ہمارے لیڈ کونسل شعیب شاہین آج موجود نہیں ہیں۔جیل میں میڈیا کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیا جارہا ہے۔میڈیا کی موجودگی میں کیس کی سماعت آگے بڑھائی جائے۔کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہونی چاہیے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم اس حوالے سے آرڈر جاری کریں گے۔کیس کی سماعت مزید کسی کاروائی کے 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    فواد چوہدری کے وکلاء کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کی سماعت کے خلاف درخواست بھی دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی عدالتی اختیار نہیں ہے، فواد چوہدری کے وکلاء کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں بحث کی گئی،فواد چوہدری پر توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم کی کاروائی 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عمران خان اور فواد چوہدری پر فرد جرم کی کاروائی 19 دسمبر تک مؤخر ، وکیل شعیب شاہین کے سپریم کورٹ مصروف ہونے کی بنا پر کاروائی آگے نہ بڑھ سکی ، اب آئندہ سماعت 19 دسمبر کو ہو گی ، الیکشن کمیشن کے ممبران اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے، فواد چوہدری کی اہلیہ حبہ فواد بھی سماعت کے دوران اڈیالہ جیل میں موجود رہیں،کیس کی سماعت ممبر الیکشن کمیشن نثار احمد درانی نے کی،عمران خان اور فواد چودھری کمرہ عدالت میں موجود تھے،توہینِ الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے موقع پر فواد چوہدری کی اہلیہ حبا چوہدری اور وکیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری اڈیالہ جیل موجود تھے،بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں

    فواد چودھری کی اہلیہ حبا فواد نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج الیکشن کمیشن کیس میں 19 دسمبر کی تاریخ دے دی گئی ہے، سارے ججز آج اڈیالہ جیل آئے، فواد چوہدری کو عدالت بھی پیش کیا جاسکتا تھا ،آج دلائل ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آئندہ تاریخ دے دی گئی، آج بھی بہت چل کر اندر جانا پڑا، آئی جی جیل خانہ جات کو اس مسائل کو بھی دیکھنا پڑے گا ، فواد چوہدری کی موجودگی میں فیصل چوہدری کا رویہ ٹھیک نہیں تھا ،فواد چوہدری جہلم سے الیکشن لڑیں گے اور میں کل سے انکی کمپین سٹارٹ کرنے لگی ہوں ،اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن فواد چوہدری کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتا ہے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کالعدم کرنے کی استدعا،وفاقی حکومت کی اپیل

    فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کالعدم کرنے کی استدعا،وفاقی حکومت کی اپیل

    اسلام آباد: سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ،وفاقی حکومت نے بھی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل کر دی

    اپیل میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کو کالعدم کرنے کی استدعا کر دی، وفاقی حکومت نے اپیل میں اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم کو معطل کرنے کی بھی استدعا کی، اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی اور سیکشن 59(4) کو چیلنج کیا گیا تھا ، کیس میں اصل تنازع سپریم کورٹ کے فیصلے میں حقائق اور آرٹیکل 199 کے تحت دستیاب فورم کو مد نظر نہ رکھنا ہے ،سویلین کی تعریف میں تمام شہری آتے ہیں چاہے وہ دہشت گرد ہوں یا دشمن،سپریم کورٹ کی جانب سے 2(1) ڈی اور 59(4) کو کالعدم کرنے سے نان یونیفارم شہریوں کے حوالے سے قانون ختم ہو گیا، وفاقی حکومت کو تمام درخواستوں میں فریق بنایا گیا تھا ،

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بنچ ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا، جسٹس امین الدین خان،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی بینچ کا حصہ ہیں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا اور 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی ٹو کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں، تحریری فیصلے میں آرمی ایکٹ کی سیکشن 59 (4) بھی کالعدم قرار دے دی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ فوج کی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کے ٹرائل آرمی کورٹس میں نہیں ہوں گے، 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تمام ملزمان کے ٹرائل متعلقہ فوجداری عدالتوں میں ہوں گے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ہونے والے کسی ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی خصوصی عدالتوں میں ٹرائل بارے میں فیصلہ پر تمام ججز متفق ہیں، آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا فیصلہ محفوظ ہے۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چوہدری نثار علی خان کے حلقے این اے 53 اور پی پی 10 کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ محفوظ کرلیا ،الیکشن کمیشن اور وکیل درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا،درخواست گزار شیخ ساجد الرحمن کی جانب سے وکیل کاشف ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،وکیل کاشف ملک نے کہا کہ سیکشن 20 کے تحت انتظامی یونٹ کو متاثر نہیں کیا جس سکتا ،عوامی سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے حلقہ بندیاں کی جانی چاہیے ، الیکشن رولز 2017 کے تحت حلقہ بندی شمال کی جانب سے کی جانی چاہیے ، اس کیس میں کی گئی حلقہ بندی قانون کے مطابق نہیں کی گئی گوجر خان چالیس منٹ کی مسافت پر ہے ،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئیں، حلقہ بندی کو اب تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، مجوزہ تجاویز کے مطابق ساتھ والے حلقہ این اے 52 کی آبادی مقررہ حد سے کم ہو جائے گی،

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 کی حلقہ بندی چوہدری نثار کے حلقے سے تعلق رکھنے والے شیخ ساجد الرحمن نے چیلنج کر رکھی ہے،این اے 53 اور پی پی 10 سے سے ساگری کو نکال کر گوجرخان میں شامل کردیا گیا تھا ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ساگری کو دوبارہ حوالہ این اے 53 میں شامل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں ، حلقہ این اے 53 سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار انتخاب لڑتے ہیں

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • تاحیات نااہلی  کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

    تاحیات نااہلی کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ، اراکین اسمبلی کی تاحیات نااہلی کا معاملہ،عدالت عظمیٰ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے انتخابی عذرداری سے متعلق کیس میں نوٹس لیتے ہوئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجوایا تھا،عدالت نے کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2008 کے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن تھی، کچھ امیدواروں نے جعلی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انہیں نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، درخواست گزار کو تاحیات نااہلی کے ساتھ دو سال کی سزا سنائی گئی،دو سال سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں زیر التوا ہے، درخواست گزار کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 (2) کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم 26 جون 2023 کو کی گئی، جب الیکشن ایکٹ سیکشن 232(2) کو چیلنج کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو وکلا کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا، تمام وکلا نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232(2) سے غیر ضروری کنفیوژن پیدا ہوگی، فریقین کے وکلا نے کہا کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے،غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھے گا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت آئین کی تشریح کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ ہونا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وفاقی قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کا معاملہ ہے جو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے،الیکشن کمیشن،اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انگریزی اور اردو کے بڑے اخبارات میں بھی نوٹس شائع کیے جائیں، عدالت نے آئینی و قانونی نکات پر تحریری جواب طلب کر لیے،ان اپیلوں اور ان میں اٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، درخواستوں کو آئندہ سال جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • تھانہ آئی نائن کی حدود میں تین دن میں 26 لاکھ 73700 سے زائد کی مالیت  کی ڈکیتیاں

    تھانہ آئی نائن کی حدود میں تین دن میں 26 لاکھ 73700 سے زائد کی مالیت کی ڈکیتیاں

    اسلام آباد : تھانہ آئی نائن میں وارداتوں کا نہ رکنے کا سلسلہ تیزی سے جاری، تھانہ آئی نائن کی حدود میں تین دن میں 26 لاکھ 73700 سے زائد کی مالیت کی چوری ڈکیتیاں ہوئیں-

    باغی ٹی وی: تھانہ آئی نائن کی حدود میں تین دن میں 26 لاکھ 73700 سے زائد کی مالیت کی چوری ڈکیتیاں تھانہ آئی نائن میں وارداتوں کا نہ رکنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے افسران کو سب اوکے کی رپورٹ دی جانے لگی، آئی نائن آئی ایٹ کے شہریوں نے وزیر داخلہ ۔آئی جی اسلام آباد سے نوٹس لینے کا مطالبہ موجودہ ایس ایچ او آصف خان کی نا اہلی 5 ماہ سے ایک ہی تھانے میں تعیناتی ہزاروں سوال پیدا کر دیتی ہے –

    تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کےتھانہ آئی نائن میں نہ رکنے والا وارداتوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری آئی ایٹ کا رہائشی اسد اللہ سے 3 لاکھ 49000 کی مالیت کا موبائل اور گھڑی سے محروم کر دیا گیا ، اسد اللہ نامی آئی ایٹ کا رہائشی آئی ایٹ ون مغل مارکیٹ کے قریب واک کر رہا تھا کہ گن پوائنٹ پر تین بندوں نے لوٹ لیا

    لاہور ہائیکورٹ بار ‘ وکلا کی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر سخت تنقید

    دوسری طرف کاشف رحمان ہاوس نمبر 934 سیکٹر آئی نائن فور کے رہائشی موٹر سائکیل Rio 608 ہنڈا 70 جسکی مالیت 70000 سے زائد ہے چور لے اڑے سید عون حسنین ولد سید اقبال 3 عدد موبائل 20 ہزار نقدی ڈکیٹ لے اڑے سیکٹر آئی نائن 1 مکان نمبر 407 گلی نمبر 1 سے گھر کا تالا توڑ کر چور گھر کا صفایا کر کے با آسانی فرار ہو گئے-

    پاور ڈویژن کالاکھوں صارفین سے زائد بلنگ کا اعتراف

    آئی ایٹ کے شہریوں نے وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ آئی نائن تھانہ کی حدود میں روزانہ کی بنیاد پر وارداتیں ہو رہی ہیں متعلقہ ایس ایچ او خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں آخر پانچ ماہ کے دوران ریکارڈ واردتیں کیوں ہو رئی ہیں جب تھانے جاتے تو ایس ایچ او تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں اور اسی طرح ملزمان تک نہیں پکڑے جاتے آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ہم آئی ایٹ کے رہائشی تنگ آ گۓ ہیں وزیر داخلہ اور آئی جی فوری نوٹس لیں اور آئی نائن ایس ایچ او کو طلب کیا جاۓ اور پوچھا جاۓ آخر اسی کے تھانے کی حدود میں واردتیں کیوں نہیں رکتیں-

    جسٹس سردار طارق کا خصوصی عدالتوں سےمتعلق اپیلوں کو سننا انصاف کے اصولوں کے منافی …

  • این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا، دوران سماعت بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کچھ حلقے چھوٹے اور کچھ بڑے بنائے ہیں نئی حلقہ بندیوں میں کچھ حلقوں میں آبادی 6 لاکھ اور کچھ کی 13 لاکھ ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں میں ضلعی حدود کا پابند ہے اسی لیے کچھ حلقے بڑے اور کچھ چھوٹے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں درخواست گزار کا مؤقف قانونی طور پر مضبوط ہے الیکشن کمیشن کا مؤقف بھی زمینی حقائق کے مطابق ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پورے ملک میں حلقہ بندیاں قانون کے خلاف ہوئی ہیں؟

    وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پورے ملک کی حلقہ بندیوں میں سیکشن 20 کی خلاف ورزی کی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سیکشن 20 کے تحت چلیں اور تمام حلقوں کی آبادی کو برابر کریں تو نئی حلقہ بندیاں کرنی پڑیں گی نئی حلقہ بندیوں سے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے جس پر کچھ لوگ بہت خوش ہوں گے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا،عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی،احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیا

    نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز جبکہ نیب کی لیگل ٹیم روسٹرم پر موجود تھی،نیب کی جانب سے لیگل ٹیم میں نعیم طارق سنگیڑا، محمد رافع مقصود اور اظہر مقبول شاہ عدالت پیش ہوئے،نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے ، اور کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، امجد پرویز ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مختلف حصے پڑھ رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ ان شواہد کی بنیاد پرثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ میں حسیں نواز کی دائر کردہ متفرق درخواستوں پر انحصار کیا گیا ہے،اگر ان متفرق درخواستوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف اسٹیل مل کے کبھی مالک رہے ہوں ، جن متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے انحصار کیا ہے،ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ،ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پر انحصار کیا،ٹرائل کورٹ نے پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا،تینوں سی ایم اے حسن نواز، مریم نواز اور حسین نواز نے جمع کرائیں،نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی،ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں، ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں، استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوئے تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں ، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا، امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سی ایم ایز کو ریکارڈ پررکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویزکو ریکارڈ پر رکھا گیا،ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی،بلکہ یہ لکھا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،یہ ایک اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا،خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو،حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا،حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا،یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، پراسیکیوشن نے آمدن اور اثاثوں کی قیمت بتانا تھی،پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ جن کے نام اثاثے ہیں وہ تو زیر کفالت ہیں، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ بے نامی جائیداد بنائی گئی،اگر اس متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تو یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا،

    وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سے بری کرنے کی استدعا کر دی ،وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ، نیب کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا،نیب پراسیکوٹر نعیم طارق سنگیڑا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں ریفرنس تیار کرکے دائر کرنے کی ہدایت کی، نیب نے اپنی تفتیش کی،اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے دو تین طریقے ہی ہوتے ہیں،ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں،،نیب ریفرنسز میں تفتیش کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے بے نامی اثاثوں کی تفتیش کی،اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی،اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں،نیب وکیل کی جانب سے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟، یہ بتائیں کہ العزیزیہ سٹیل ملز اور ہل میٹل کب بنی تھیں؟ آپ پراسیکیوٹر تھے، بتائیں آپ کے پاس کیا شواہد تھے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کس بنیاد پر بار ثبوت ملزم پر منتقل کیا؟قانون کو چھوڑیں، قانون ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، آپ سیدھا مدعے پر آئیں، کوئی ریکارڈ پر ثبوت ہوگا؟ کوئی گواہ موجود ہوگا؟ ذرا نشاندہی کریں،

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم زرائع لکھے، نواز شریف پرکرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے، یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں،بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے ، عدالت نےکہا کہ آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ انکا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شواہد میں جانے سے پہلے ایک کنفیوژن دور کرنا چاہوں گا،آخری سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ فیصلہ دوبارہ تحریر کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ ریمانڈ بیک کیا جائے،ہم نے ابھی تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، آپ اس اپیل پر میرٹ پر دلائل دے کر سزا برقرار رکھ سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا کی تھی، جج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے اور اُس کے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد اِس فیصلے کو درست نہیں کہا جا سکتا،العزیزیہ ریفرنس کا احتساب عدالت کا یہ فیصلہ متعصبانہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا،یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے ،نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں،وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب تو آپ پر احسان کر رہا ہے، آپ کیوں لینے سے انکاری ہیں؟،العزیزیہ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا اور آپ کے موکل مجرم نہیں رہیں گے، نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ احسان بھی تو دیکھیں کیسا ہے،اگر یہ معاملہ واپس ٹرائل کورٹ ہی جانا ہے تو بعد میں بھی ہمیں یہیں آنا پڑے گا، نیب پراسیکوٹر نےایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کی ایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے، آپ کو میرٹ پر دلائل دینے میں کتنا وقت چاہیے؟ نیب وکیل نے کہا کہ دلائل میں شواہد بتائیں گے پھر ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں پھر آپ میرٹ پر دلائل دیں، ہم میرٹ پر سن لیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں اپنے دلائل آدھے پونے گھنٹے میں مکمل کر لوں گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ پونے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کریں،اپیل سننے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ جو فیصلہ دیا گیا اس کیلئے شواہد بھی موجود تھے یا نہیں،آپ نے بتانا ہے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے یہ رقم سعودی عرب بھیجی گئی ،نیب کے گواہ واجد ضیا خود مان رہے ہیں کہ کوئی ثبوت نہیں ،اس دستاویز کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف کا العزیزیہ اور ہل میٹل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے analysis کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ واجد ضیا تو خود مان رہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے analysis کی بنیاد پر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں زیادہ تر دستاویزات فوٹو کاپیز ہیں ،عدالت نے کہا کہ فوٹو کاپیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ کیسے بن سکتی ہیں ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں آج تک فوٹو کاپی کی بھی مصدقہ نقل نہیں ملی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ وہ مِلیں لگا لیتے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہی بتا رہا ہوں کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع موجود ہی نہیں تھے،عدالت نے کہا کہ مفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں کہ نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے کہ میاں محمد شریف کا کاروبار تھا،

    نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • اسلام آباد،غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ملتوی

    اسلام آباد،غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ملتوی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز ای کے 615 چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ملتوی کر دی گئی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، پرواز میں سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی بھی سوار تھے، عبدالقیوم صدیقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پرواز کی تاخیر، ملتوی ہونے بارے لکھا ہے

    غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز کو رات 3 بج کر 15 منٹ پر دبئی روانہ ہونا تھا تا ہم پرواز 6 گھنٹے کی تاخیر کے بعد صبح 9 بجے ملتوی کر دی گئی ،عبدالقیوم صدیقی کہتے ہیں کہ امارات ائیر لائن کی پرواز EK615 کو آج صبح تین بج کر پندرہ منٹ پر دوبئی کے لیے روانہ ہونا تھا مقررہ وقت سے پندرہ منٹ کی تاخیر سے جہاز چلنا شروع ہوا اور پھر اچانک رن وے پر رک گیا آدھ گھنٹہ رکے رہنے کے بعد کیپٹن کی جانب سے بتایا گیا کہ کوئی تیکنیکی ایشو آ گیا ہے اور چند منٹ میں درست ہو جائیگا اس اعلان کے آدھ گھنٹے بعد بتایا گیا کہ ہم واپس ائیر پورٹ پر جا رہے ہیں اور پھر گزشتہ دو گھنٹے سے سینکڑوں مسافر جہاز کے اندر قیدیوں کی مانند بیٹھے ہیں مسافر خاتون کی جانب سے پانی مانگنے پر ہوائی میزبان نے کہا کہ ہمارے پاس پانی نہیں کیپٹن نے روک رکھا ہے چھوٹے سے بچے کو گود میں لیے خاتون بیچاری غصے سے دانت پیس کر رہ گئی دائیں بائیں چھوٹے چھوٹے بچے رو رہے ہیں مائیں چپ کرانے کی کوشش کر رہی ہیں جہاز کا اے سی بند ہونے کے باعث گرمی اور گھٹن میں سب بیچارے مسافر منتظر ہیں کہ کب جہاز ٹھیک ہو گا اور کب تمام مسافر اپنی اپنی منزل پر پہنچ پائیں گے فلائٹ تقریبا تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہو چکی ہے بالآخر 20 بعد احتجاج کرنے پر فضائی میزبان ایک ٹرے میں رکھے چند چھوٹے گلاس۔ جن میں ایک تہائی پانی تھا لے آیا ہے اسی دوران جہاز کے کپتان نے گھنٹی بجا کر اعلان کیا کہ انجن بند ہونے کی وجہ سے گرمی اور گھٹن ہے جیسے ہی انجن اسٹارٹ ہوں گے جہاز کا درجہ حرارت معمول پر آ جائے گا یقین مانئیے دسمبر کی اس سرد رات میں ایسے لگ رہا ہے جیسے جون کی دوپہر کی گرمی ہو پسینے سے شرابور ہیں لیجئے اسی دوران جہاز کے کپتان نے مسافروں کے صبر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انشاء اللہ نقص دور ہو رہا ہے جیسے ہی دروازے بند ہوں گے انجن اسٹارٹ کریں گے ہم پرواز کے لیے تیار ہیں دیکھتے ہیں EK615 کب روانہ ہوتی ہے اب فکر یہ کہ اگلی فلائٹ تک ہم دوبئی تو نہیں پہنچ پائیں گے اگلا کیا سرپرائز ملے گا پھر بات ہو گی .

    ایک اور ٹویٹ میں عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ ایمارات ائیر لائن کی فلائٹ EK615 میں مسافروں کو تقریبا سوا چھ گھنٹے تک جہاز میں محبوس رکھنے کے بعد کہا گیا جہاز نہیں اڑ سکتا جہاز سے اتار کر سینکڑوں مسافروں کو لاونج میں بٹھا دیا گیا ہے اور کوئی نہیں بتا رہا کہ اگلا مرحلہ کیا ہے ائیر لائن کا عملہ غائب مسافر کنفیوژڈ لوگوں کے احتجاج پر دو لوگ کاؤنٹر پر آئے تو ہیں.

    ایک اور ٹویٹ میں عبدالقیو م صدیقی کہتے ہیں کہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر آج عجیب واقعہ ہوا لندن کی فلائٹ تھی لیکن چھ گھنٹے جہاز میں بٹھانے کے بعد اعلان ہوا فلائٹ منسوخ ہے سب مسافر آف لوڈ ہوئے میں اپنا بیگ کاؤنٹر پر بھول کر ویسا ہی لندن کے ایک پروفیسر صاحب کا بیگ لیکر باہر آ گیا باہر آیا تو دیکھا بیگ میرا نہیں پھر طویل تگ دو ہوئی اچانک ایک کال موصول ہوئی یہ کال اسلام آباد ائیرپورٹ پر اے ایس ایف کنٹرول روم سے تھی مجھ سے کچھ سوالات پوچھے میں نے بتایا میرا بیگ تبدیل ہوا ہے اے ایس کے افسران اور اسٹاف نے اچھی طرح تسلی کے بعد میرا بیگ مجھے لوٹایا دیا ایک روپیہ تک ویسے ہی موجود تھا اے ایس ایف اسلام آباد ائیر پورٹ کے اہلکار ستائش کے مستحق ہیں ویل ڈن اے ایس ایف اسلام آباد ائیر پورٹ شکریہ

  • بھٹو تو واپس نہیں آئے گا امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا،فیصل کریم کنڈی

    بھٹو تو واپس نہیں آئے گا امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا،فیصل کریم کنڈی

    پیپلز پارٹی کے رہنما، فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ شخص جس نے ملک کو آئین دیا، اس کے ریفرنس پر تیرہ سال بعد سماعت ہو رہی ہے،

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان کے مشکور ہیں،بنچ میں بیٹھے چیف جسٹس نے کہہ دیا تھا کہ ہم سے زبردستی فیصلہ کروایا گیا،ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا،پوری قوم، پیپلزپارٹی اور جیالوں کی دل جوئی ہو گی، بھٹو اسلامی لیڈر اور قوم کا لیڈر تھا، آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے،پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم کے عدالتی قتل کے ریفرنس کی سماعت ہے، سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں یہ سماعت لائیو دکھائی جائے گی،ہمیں امید ہے آج انصاف ملے گا، اور قوم دیکھے گی بھٹو کے عدالتی قتل کا سچ قوم کے سامنے آئے گا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ،بھٹو ریفرنس کی کاروائی براہ راست دکھائی جائے گی،ریفرنس کی کاروائی ویب سائیٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست دکھائی جائے گی، سپریم کورٹ میں آج سماعت ہو گی،گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کاروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون