Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط لکھا گیا ہے۔

    یہ خط شریعت اپیلیٹ بینچ کے جج، قبلہ ایاز کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کی کارکردگی اور بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے دوران ان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے قائم مقام ریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم ان کا بورڈ آف گورننگ کے اجلاس میں رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے معاملات مزید پیچیدہ اور خراب ہوگئے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے میٹنگ مینٹس تیار نہیں کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف ٹرسٹی کا آئندہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی کے نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ تاہم، اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

    قبلہ ایاز نے خط میں یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹی یونیورسٹی کے معاملات کی رپورٹ طلب کرنی چاہیے تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری کارروائی کی جا سکے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔یہ خط اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی بحران اور اس کے اثرات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک سنگین مداخلت کی علامت ہے، جو ادارے کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ
    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق انکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،ڈاکٹر عافیہ کے امریکہ میں وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کا ڈیکلریشن عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائی کورٹ نےوزارت خارجہ سے عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کے ڈیکلریشن پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کی ڈیکلریشن کی تعریف کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو معاملات کو سفارتی سطح پر دیکھنے کی ہدایت کی،

    عدالت نے کہا کہ امریکہ خود مختار ملک ہے ، وہ ڈاکٹر فوزیہ کا ویزہ ریجیکٹ کرسکتا ہے،امریکہ وزیراعظم کا ویزہ بھی ریجیکٹ کرسکتا ہے مگر معاملات کو سفارتی سطح پر لے جانا ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمران شفیق اور سابق سینیٹر مشتاق عدالت پیش ہوئے،درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ بھی عدالت پیش ہوئے، ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ جب ایک ملک کے چیف ایگزیکٹو دوسرے ملک کے ایگزیکٹو کو خط لکھے تو جواب لازمی آتا ہے، نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا امریکی صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں آیا، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی مشن نے وفد کے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے انتظامات مکمل کرلئے تھے،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ دستاویزات کے مطابق وفد تاخیر سے پہنچا مگر آپکا سفیر کہاں تھا؟ ایسے معاملات کو ہمیشہ سفیر دیکھتے ہیں، ملک کے ایگزیکٹو نے خط لکھا اور اسکا جواب نہیں آیا، اس کو کیا سمجھیں، امریکہ میں پاکستانی سفیر کو وفد کے جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کرنی چاہیے تھی،

    عدالت نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے امریکی دوروں کی تفصیلات طلب کرلیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات بارے احکامات واپس لینے کی استدعا کی،جو عدالت نے مسترد کر دی،عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،عدالت نے کیس کی سماعت 13 جنوری تک کیلئے ملتوی کر دی

    عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع
    دوسری جانب امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع کرادی گئی ہے،واشنگٹن کے ذرائع کے مطابق وکلاء نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ 20 جنوری کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے انہیں رہا کریں،سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی وکالت کیلئے امریکا کا دورہ کیا ہے،وفد نے امریکی قانون سازوں ، کانگریس مین جم میک گورن،جو کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں کانگریس کی خاتون الہان عمر، ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ الزبتھ ہورسٹ سے ملاقاتیں کی ہیں،ملاقاتوں میں پاکستانی وفد نے عافیہ صدیقی کیلئے رہائی کی فوری ضرورت پر زور دیا، پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ارکان نے تصدیق کی ہے کہ معافی کی درخواست وائٹ ہاؤس کو پہنچا دی گئی ہے،کمیونٹی کے ایک رکن نے کہا امید ہے کہ صدر بائیڈن 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار منتقل کرنے سے پہلے کوئی فیصلہ کریں گے۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

  • دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بدنام زمانہ دو بھگوڑوں کے دفاع میں ایک بار پھر مہم چل رہی ہے۔ وہی گالم گلوچ، رگ و پے میں خون کے وہی عکس، وہی گندگی، پی ٹی آئی کے ہمدرد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے۔ کچھ نے دعویٰ کیا ہے کہ میری اچھی امیج کو پیش کرنے اور مجھے ہیرو بنانے میں ان کا کردار ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے کتنے ہیرو بنائے ہیں۔ مجھے ایک نام بتائیں؟ درحقیقت مجھے ایسے عناصر نے ہمیشہ ٹرول کیا ہے اور فرضی کہانیوں کے ذریعے میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ میں اب تک ان تمام اکاونٹس کو کھل کر جواب دوں گا جو ان دو برطرف دغابازوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ اگر خوف کے اندھیرے کے دوران مجھے کوئی چیز خوفزدہ نہیں کر سکتی تھی تو پھر چند دھوکے باز مجھے بلیک میل کیسے کر سکتے ہیں۔

    شیر افضل مروت نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ ایسے گندے انڈوں سے ہر پلیٹ فارم پر لڑوں گا جو پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے لیے بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ وہ بے شرم چوہے ہیں جو صرف پادنا ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی اخلاقیات ان کی رگوں میں دوڑتے ہوئے گندے خون کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پاکستان آنے کی ہمت کریں اور پھر لوگوں کو گالی دینے کی جرات کریں۔ ظالم کی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت نہیں تو معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔ آپ کے دن گنے جا چکے ہیں اور جلد ہی آپ کو سوشل میڈیا پر اپنا حق مل جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کپڑے بدلنے کے دوران سوشل میڈیا انفلوائنسر کا قیمتی بیگ چوری

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کون؟

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

  • 26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    26 نومبر کو پی ٹی آئی کے خونی احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا رینجرز کا ایک اور اہلکار جان کی بازی ہار گیا، 37 سالہ لانس نائیک محمد تنویر کوما میں تھا

    25 اور 26 نومبر کواحتجاج کی آڑ میں پرتشدد کاروائیوں میں شدید زخمی پاکستان رینجرز پنجاب کے لانس نائیک محمد تنویر (عمر 37 سال، ساکن ضلع نارووال) کومہ کی حالت میں تھے ،لانس نائیک محمد تنویر شہید نے 17سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سر انجام دیا ،لانس نائیک محمد تنویر شہید کے سوگواران میں اہلیہ، 2 بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں

    25/26 نومبر کواحتجاج کی آڑمیں پی ٹی آئی کارکنان نے پرتشدد حملے کیے،پی ٹی آئی کارکنان نے سرکاری املاک پہ حملے کیے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،پی ٹی آئی کے شرپسند وں کے حملوں سے رینجرز کے شہید اہلکاروں کی تعداد اب 4 ہو گئی جبکہ متعدد زخمی ہیں،اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے دو اہلکار شہید جبکہ تقریباً 119 اہلکار زخمی ہوئے، پرتشدد کاروائیوں کے باعث اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے، پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کی متعددویڈیوز منظرعام پرآ چکی ہیں، پی ٹی آئی کارکنان نے مختلف مقامات پر آگ بھی لگائی ، پرتشدد عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    رینجرز اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ عمران خان کے حکم پر ہوا، ایف آئی آر

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے جناح ایونیوخالی کرا لیا، مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع

    رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا،وزیراعظم،آرمی چیف کی شرکت

    رینجرز اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ،عینی شاہدین کا بیان

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

  • وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان قاہرہ میں D-8 سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی، جو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ خیر سگالی اور برادرانہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت، عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی ، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی سیکٹر جیسے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سفر کی سہولت کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ جس میں پاکستان سے آنے والے سامان کے 100% فزیکل معائنہ کی شرط کو ختم کرنا اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے خصوصی سیکیورٹی ڈیسک کو ختم کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے پر بنگلہ دیش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شعیب شاہین کی درخواست پرحکم امتناع جاری

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

  • مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    18ویں 2روزہ سپیکرز کانفرنس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آبادمیں جاری ہے

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں.اپنے خطاب میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام سپیکرزکوکانفرنس میں خوش آمدیدکہتا ہوں.ہماری ہر کانفرنس اور فورم پر کشمیرایجنڈے کاحصہ ہوگا.سپیکرکانفرنس میں مستقبل کے لائحہ عمل کو بہتربنانے کیلئے تجاویزپر غور ہو گا.سپیکرکاکام ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی متوازن اندا ز میں چلائے.سپیکرکی نگاہ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان برابرہیں.بغیرکسی دباؤ کے ایوان کو چلانا سپیکرکی ذمہ داری ہے .سپیکرز کانفرنس سے اتحاد کا پیغام جا رہاہے.2013ء میں اسمبلی کے دروازے طلبہ کیلئے کھولے اور مہمان گیلری میں بٹھایا.یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کے طلبہ کیلئے ایوان کی کارروائی دکھانا ضروری ہے. نوجوانوں کے لیے اسمبلی میں انٹرن شپ ضروری ہے.قومی اسمبلی میں وہپ کا کردار وزراء سے بھی زیادہ مضبوط ہے.اسمبلی میں احتجاج اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے.پارلیمانی عمل میں قائمہ کمیٹیوں کا کردارانتہائی اہمیت رکھتاہے.پارلیمنٹرینزکی تربیت اور آگاہی کیلئے پپس فورم کاکردار اہم ہے. مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا.تمام مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے. اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ،مذاکرات تلخیاں مٹانے کا ذریعہ ہیں،

    کانفرنس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز شریک ہیں،سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمدخان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سپیکرزکانفرنس کا انعقادخوش آئندہے. کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سپیکر ایاز صادق کومبارکبادپیش کرتاہوں.سپیکرزکانفرنس کاانعقادہرسال ہوناچاہئے.تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرزکی قربانیاں ملک میں جمہوری استحکام کیلئے ہیں.پنجاب ایک بڑاصوبہ ہے.تمام صوبائی اکائیاں مرکزکی مضبوطی میں اہم کرداراداکرتی ہیں.صوبائی وزراء اداروں کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں،

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • عمران خان کو ویڈیو لنک سے عدالت پیش کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار

    عمران خان کو ویڈیو لنک سے عدالت پیش کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جاتا، دہشتگردی قوانین کے تحت انفرادی طور پر اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاسکتا، ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت پیش کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، اے ٹی اے کے تحت جرائم انتہائی خطرناک ہوتے ہیں،آئین ملزمان کے بنیادی حقوق کی بات کرتا ہے، جسمانی ریمانڈ میں ملزمان کو ویڈیو لنک پر پیش کرنے سے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں،اے ٹی اے کے قانون میں کئی ترامیم ہو چکی ہیں، جسمانی ریمانڈ کے سیکشن 21 ای میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ٹرائل کے دوران عدالت میں ملزم کو ویڈیو لنک پر پیش کیا جاسکتا ہے، جسمانی ریمانڈ پر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کیا جا سکتا، عدالت 15 جولائی 2024 کو بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک پر عدالت پیش کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتی ہے، بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کیا جاتا ہے۔

    بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اے ٹی سی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے محکمہ داخلہ کے ویڈیو لنک پرعدالت پیشی کے نوٹیفکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا

    یاد رہے کہ عمران خان نے لاہور میں 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ویڈیو لنک پیشی کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا تھا

  • میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    امریکا نے پاکستان کے چار اہم اداروں پر پابندی عائد کردی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کے مطابق، ان اداروں کی سرگرمیاں پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کو مزید تقویت دینے کے لیے اہم رہی ہیں۔امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ان چار اداروں پر پابندیاں اس بات کی بنیاد پر عائد کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان میں وہ خصوصی وہیکل چیسز (گھومنے والی گاڑیاں) شامل ہیں جو بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

    ان اداروں میں شامل ہیں:
    نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) – اسلام آباد میں واقع یہ ادارہ پاکستان کے دفاعی پروگراموں کا اہم حصہ ہے۔
    اختر اینڈ سنز – کراچی میں قائم ایک دفاعی ادارہ۔
    ایفیلیٹس انٹرنیشنل – کراچی میں قائم ایک اور دفاعی ادارہ۔
    روک سائیڈ اینٹرپرائزز – کراچی کا ایک اور ادارہ جس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کے ترسیلی ذرائع کی ترقی میں معاونت کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں لگائی جا رہی ہیں۔

    پاکستان کا شدید ردعمل
    پاکستان نے امریکا کی جانب سے ان چار اداروں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو شدید طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس اقدام کو متعصبانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ اقدام خطے میں فوجی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کے خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندیاں پاکستان کے اسٹریٹجک اعتماد کو نظرانداز کرتی ہیں، جو 24 کروڑ عوام کی حمایت پر مبنی ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک مقدس امانت ہے، جس کی حفاظت اور اس کے تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی پالیسیوں میں یہ امتیازی سلوک عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

    پاکستان کا موقف ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل اور دیگر اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد نہ صرف قومی دفاع کو مضبوط بنانا ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس نوع کی پالیسیاں خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں اور عالمی سطح پر اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر عالمی سطح پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو دور کیا جا سکے۔

  • قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    18 دسمبر 1987، ایک ایسی تاریخ ہے جسے میں کبھی نہیں بھول سکتی،یہ وہ دن تھا جب میری قائد، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر، صدر آصف علی زرداری کے درمیان شادی ہوئی تھی۔
    پیپلز پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی،سحر کامران نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی، یہ وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک کہانی چھوڑ جاتی ہے”۔سحر کامران نے اس دن کی اہمیت اور اس لمحے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں کہ انہوں نے اس خوبصورت جوڑے کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شادی صرف ایک رشتہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی محبت کی علامت تھی جو وقت کی قید سے آزاد تھی اور جس نے دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔

    سحر کامران نے مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی جوڑی نہ صرف محبت کی مثال تھی بلکہ ان کی شخصیتوں میں وہ وقار، عزت اور وقار تھا جو کہ ایک کامیاب زندگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سحر کامران نے اس یادگار دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف سیاسی تاریخ کا ایک سنگ میل تھا بلکہ اس نے محبت کی طاقت کو بھی اجاگر کیا۔

    سحر کامران نے اس موقع پر مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی کہانی ہمیشہ کے لیے ایک مثال بن گئی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ محبت صرف دلوں میں نہیں بلکہ پورے معاشرتی اور سیاسی منظرنامے میں بھی ایک قوی طاقت بن سکتی ہے۔

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر