Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

  • سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے مقدمے میں ملزم عثمان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ملزم عثمان نے جیل میں اپنی عمر قید کی سزا مکمل کی اور بعد ازاں جیل سے رہائی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسکی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی

    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عثمان نے عمر قید کی سزا مکمل کر لی ہے اور جیل سے رہائی پا چکا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا 2017 سے اب تک مقرر نہ ہونا تمام چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر درخواست کے مقرر نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، اور وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فوجداری کیسز میں تفتیشی عمل کی مالی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجداری تفتیش کے لیے صرف 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججز تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے،ججز کی تعداد بڑھانے کیساتھ انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، خیبر پختونخوا ہاوس پر اسلام آباد میں حملہ ہوا،سپریم کورٹ نے کیا کیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے خیبرپختونخوا ہاوس کے معاملہ پر آئینی درخواست دائر کی،عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں،یہ عام لوگوں کے مقدمات ہیں،فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے،جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں چار لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں،

    ملزم کو 2007 شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید سزا ہوئی،عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا کرکے جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ کی انتظامی خامیوں اور فوجداری تفتیش کے نظام میں موجود مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ملزم عثمان کی عمر قید کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2017 سے اب تک ملزم کی درخواست مقرر نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کے ذریعے عدلیہ کی انتظامی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے، فوجداری نظام میں وسائل کی کمی اور تفتیشی عمل میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس سے متعلق عدالتی ریفرنس پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پرکسی حد تک بات کی گئی ہے، سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف 186 سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے،جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹر ویو کےکچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا،ان ججزکا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیرجانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، اس نتیجے پرپہنچاکہ ذوالفقاربھٹو کیس میں ٹرائل اوراپیل میں فیئرٹرائل کے تقاضوں کوپورا نہیں کیا گیا۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری کی دبئی میں گلوبل ویمنز فورم میں شرکت

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم

  • انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی سخت کاروائی کی ہدایت،رپورٹ طلب

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی سخت کاروائی کی ہدایت،رپورٹ طلب

    وزیر اعظم شہباز شریف نے یونان میں کشتی الٹنے کے حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی،

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، سید محسن رضا نقوی، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں انسانی سمگلنگ اور اسکی روک تھام کے حوالے سے لئے گئے اقدامات پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی.وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 174 کیسز کو عدالت میں پیش کیا جا چکا، جن میں سے 4 کو سزا ہوئی. وزیرِ اعظم نے اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی میں سست روی پر اظہار برہمی کیا، وزیر اعظم نے اس حوالے سے عوامی آگاہی کے لئے چلائی گئی مہم کی تفصیلات طلب کر لیں.وزیر اعظم نے ایف آئی اے اور وزارت خارجہ کو پچھلے ایک سال میں ہونے والے ایسے تمام واقعات جن میں پاکستانی شامل تھے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی.وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ اور معصوم پاکستانیوں کو بیرون ملک جانے کے غیر قانونی طریقوں کا جھانسہ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کر دی ہے،وزیرِ اعظم نے گزشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں ایسے تمام واقعات جن میں پاکستانی ملوث پائے گئے کی رپورٹ طلب کر لی. وزیرِ اعظم نے 2023 کے کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد ایسے عناصر کے خلاف کاروائی میں سست روی پر اظہار برہمی کیا،وزیرِ اعظم نے انسانی اسمگلنگ اور معصوم لوگوں کو غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک پہنچانے کا جھانسہ دینے والوں کے خلاف کاروائی کے حوالے سے سست روی میں ملوث افسران کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2023 میں یونان کے اسی علاقے میں ایک دردناک واقع ہوا جس میں 262 پاکستانی جان سے گئے.انسانی سمگلنگ پاکستان کے لئے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ھے اور اسکو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے.سست روی سے لئے گئے اقدامات کی بدولت اس قسم کے واقعات کا دوبارہ رونما ہونا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے.

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    انسانی سمگلنگ مجرموں کے خلاف کاروائی،اداروں کو بااختیار بنایا، وزیر داخلہ

    انسانی سمگلنگ میں ملوث مجرم کو سزا

  • قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین  کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس میں ایکس سمیت سوشل میڈیا ایپس، انٹرنیٹ کی سست روی پر آج بحث کی گئی

    قومی فرانزک ایجنسی بل 2024 پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے۔ بل کے تحت ایک ایسی سزا تجویز کی گئی ہے جو قابل اعتراض ہے۔شق 25 میں ایجنسی کے ماہر کو غلطی پر جرمانہ محض ایک لاکھ روپے تجویز کیا گیا۔ شازیہ مری نے جرمانے میں اضافے کی تجویز دے دی۔شازیہ مری نے فرانزک ایجنسی بل 2024 میں ترامیم کی تجویز دے دی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج اگر بل منظور کر دیا جائے تو ترامیم کو بعد میں منظور کر لیا جائے گا۔ شازیہ مری نے اپنی تجویز کردہ ترامیم واپس لے لیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کی قومی اسمبلی میں گونج دکھائی دی، زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ کیاایکس کو دوبارہ کھولنے کی کوئی امید ہے؟ سید نوید قمر نے کہا کہ وزیر مملکت کی موجودگی میں پارلیمانی سیکریٹری جواب نہیں دے سکتا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی کو جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کابینہ ڈویژن کا چارج وزیراعظم کے پاس ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ریگولیٹری باڈیز کی اکثریت کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام ہیں۔

    وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ،عبدالقادر پٹیل
    سست انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش پر حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔پیپلز پارٹی اراکین نےسست انٹرنیٹ اور فائروال پر حکومت پر سخت تنقید کی، شازیہ مری نے کہا کہ یہ کونسی فائروال ہے ہم کس سے جواب لیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کا ستیاناس کر دیا گیا۔ وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ہے۔ آئی ٹی سے جڑے لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔اتنی بدحالی کبھی کسی وزارت کی نہیں دیکھی جتنی اب ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے کابینہ ڈویژن نے کہا کہ وزارت داخلہ جونہی کہے گی حالات ٹھیک ہیں ہم ایکس کھول دیں گے۔

    اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے،شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ برائے سوالات میں سوشل میڈیا ایپ کی بندش سے متعلق جواب دیا اور کہا کہ پاکستان میں جتنی آزادی رائے ہے کسی اور ملک میں نہیں ہے.اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے.پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں.ہمارے متعلق نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے.پی ٹی اے ایک خودمختار ادارہ ہے. پی ٹی اے ریگولیٹر کے طور پر کانٹینٹ کاذمہ دار ہے.ایکس کی بندش کے حوالے سے وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو سفارشات ارسال کی تھیں.قومی سلامتی کیلئے ڈیجیٹل حملوں سے بچنا ہوگا.دشمن ہروقت سوشل میڈیا کےذریعے سائبر حملوں کیلئے تیارب یٹھاہوتاہے.قومی سلامتی سے آگے کچھ نہیں ہونا چاہیے.ملک کی معیشت سنبھل چکی ہے.حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہے.مسلم لیگ ن نے چھ سالوں میں 10لاکھ سےزائد لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے،

    ڈیجیٹل نیشن پاکستان پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ سیخ پا ہو گئیں، بولیں، اگر یہ بل نہیں پاس کرانا چاہتے تو واپس پتھر کے زمانے میں چلے جاتے ہیں اپنی گاڑیاں اور ٹی وی بند کریں،

    معروف کبڈی پلئیرسمیت چارنوجوان انسانی سمگلرزکے ہتھے چڑھ گئے

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

  • وزیراعظم تین روزہ دورے پر مصر روانہ

    وزیراعظم تین روزہ دورے پر مصر روانہ

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد سے مصر روانہ ہو گئے

    وزیرِ اعظم قاہرہ میں "آئندہ کل کی معیشت کیلئے نوجوانوں، چھوٹے و درمیانے طبقےکے کاروبار میں سرمایہ کاری کے موضوع پر منعقدہ ترقی پذیر ممالک کے 11 ویں سربراہی اجلاس (D-8) میں شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے روزگار کی فراہمی، جدت کے فروغ اور مقامی کاروبار کی ترویج کی بنیادوں پر مضبوط اور شراکت داری پر مبنی معیشت کیلئے نواجوانوں، چھوٹے و درمیانے طبقے کے کاروبار (SMEs) میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کریں گے.

    وزیرِ اعظم ترقی پذیر ممالک کی تنظیم D-8 کے وضع کردہ بنیادی اصولوں پر تعاون و عملدرآمد کے حوالے سے پاکستان کے عزم کے مضبوط عزم کا اظہار کریں گے. وزیرِاعظم کانفرنس میں شریک ممالک کے مابین باہمی استفادے و ترقی کیلئے شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ زراعت، غذائی تحفظ اور سیاحت میں تعاون کی اہمیت پر زور دینگے. وزیرِ اعظم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انکی معاشی ترقی کیلئے حکومت پاکستان کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالیں گے.

    وزیرِ اعظم اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ بربریت کے نتیجے مشرق وسطی کی صورتحال، انسانی بحران اور غزہ و لبنان میں تعمیر نو و بحالی کے مسائل پر منعقدہ D-8 کے خصوصی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف سے آگاہی دیتے ہوئے مشرق وسطی میں امن کے قیام پر زور دینگے.وزیرِ اعظم اس موقع پر سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے آئے مختلف ممالک کے سربراہاں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے.نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت کریں.

    زراعت، مویشی بانی، دیہی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ سندھ کا کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان

    لڑکے کا لڑکی کا لباس پہن کر رقص،یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

  • مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    پاکستان کی سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی، ایاز صادق نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے ان کا دفتر اور گھر دونوں ہر وقت کھلے ہیں۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ "سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، اور کل ایوان میں ہونے والی بحث بھی خوش آئند تھی۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر بات چیت سے ہی ملک کے سیاسی مسائل کا حل ممکن ہے۔میں کچھ مصروف تھا ،کل بھی ہاؤس نہیں جا سکا، مختصر وقت کے لئے گیا تھا، کل شیر افضل مروت،رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف نے جو بات چیت کی وہ میں نے دیکھی، سپیکر کا دفتر سب کا گھر ہوتا ہے، سپیکر کے دروازے ہر وقت ممبران کے لیے کھلے ہوتے ہیں،اپوزیشن و حکومت دونوں کے لئے چوبیس گھنٹے میرا دفتر ،گھر کھلا ہے اگر مذاکرات کی بات کرنا چاہیں، مل بیٹھ کر تلخی ختم کرنا چاہیں، ملکی مفاد پر مبنی چیزوں کو سامنے رکھ کر بات کرنا چاہیں، بے شمار اور چیزیں ہیں، موسمیاتی تبدیلی، امن و امان، صوبوں کی خود مختاری ان پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے، میرے لئے حکومت و اپوزیشن کے تمام اراکین قابل احترام ہیں.

    اس سے قبل، مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کی تھی۔ ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر اسپیکر آفس کا رستہ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سنجیدہ ہیں تو کم از کم حکومت کو مذاکرات کا پیغام تو بھیجیں۔” رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے امکانات کو مزید بڑھاتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بھی اس موقع پر کہا کہ "سیاسی قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے، کیونکہ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک ہو کر نہیں بیٹھیں گی، مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔” ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر آ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر ایاز صادق نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    پاکستان کی سیاست میں اس وقت تناؤ کی صورتحال ہے اور ایسے میں مذاکرات کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر اپنی اپنی تجاویز دی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی اس پیشکش پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرتی ہیں اور کیا ایاز صادق کی کوششیں اس بات چیت کے لیے زمین ہموار کر سکیں گی۔

  • محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو  دورہ پاکستان کی دعوت

    محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو دورہ پاکستان کی دعوت

    ریاض: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے سعودی عربیہ کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود سے ریاض میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے کرکٹ کے فروغ اور اسٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے قریبی تعاون کی ضرورت پر بات چیت کی۔

    ملاقات میں محسن نقوی نے سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی اور خاص طور پر کھلاڑیوں کی ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی دنیا میں سعودی عرب ایک ابھرتا ہوا نام بن رہا ہے، اور پی سی بی اس عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔محسن نقوی نے سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تاکہ وہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز کا مشاہدہ کر سکیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے فروغ کے لیے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پلیئرز ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی دی، جس کے تحت سعودی عرب اپنے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیج سکتا ہے تاکہ وہ پاکستان کے کرکٹ ماحول میں تربیت حاصل کر سکیں۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سعودی عرب کے ساتھ کرکٹ کی ترقی کے لیے اپنے تمام وسائل فراہم کرے گا، چاہے وہ کھلاڑیوں کی تربیت ہو، اسٹیڈیمز کی تعمیر ہو یا کرکٹ کے فروغ کے دیگر پہلو۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سعودی عرب کے کرکٹ اسٹرکچر میں مضبوطی لانے کے لیے پاکستان کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف، سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود نے کہا کہ سعودی عرب کرکٹ کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کرکٹ کی عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت رکھتا ہے اور سعودی عرب اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کرکٹ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔محسن نقوی
    علاوہ ازیں چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی سعودی عرب کے نائب وزیر کھیل بدر بن عبدالرحمن ال قادی سے ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں کرکٹ کے فروغ۔ پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی سعودیہ کے نائب وزیر کھیل کو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز دیکھنے کے لیے پاکستان کے دورے کی دعوت دی،چئیرمین پی سی بی نے پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی،پاکستان اور سعودیہ کا ایمپائرز،کوچز اور کھلاڑیوں کے ایکسچینج پروگرام متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے وویمنز کرکٹ کے فروغ کیلئے مکمل سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ سعودی عرب میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ کے لئے ہر سطح پر معاونت فراہم کریں گے۔وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔ پی ایس ایل سے کھلاڑیوں کے پول میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے نائب وزیر کھیل کو پی ایس ایل دیکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی،سعودیہ کے نائب وزیر کھیل نے چیمپئنز ٹرافی اور پی ایس ایل کے پاکستان دورے کی دعوت پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا

  • وفاقی وزرا کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

    وفاقی وزرا کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ پولیو کا دنیا بھر سے خاتمہ ہو چکا ہے،صدیق الفاروق مرحوم نوازشریف کےقریبی ساتھی تھے ،صدیق الفاروق مرحوم ایک وفادار شخص تھے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں رکا وٹیں قابل افسوس ہیں ،بدقسمتی ہے کہ پولیو کا دنیا سے ہر جگہ سے خاتمہ ہو گیا ماسوائے پاکستان اور افغانستان کے ، سیکورٹی کا عملہ پولیس کے سپاہی، افسر،پولیوورکرز انتہائی دلیری کے ساتھ مہم میں شریک ہیں، پولیس کا جو سپاہی شہید ہوا اسکے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، یونان میں کشتی ڈوبی، جس میں پانچ پاکستانی بھی ڈوبے اور اللہ کو پیارے ہوئے، چالیس سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، بدقسمتی سے ایسا واقعہ جولائی 2023 میں بھی ہوا تھا جس میں 260 پاکستانی کشتی میں ڈوب گئے تھے اور سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی، اس وقت بڑی گہرائی میں جا کر فیصلے کئے تھے،میں سمجھتا ہوں‌کہ یہ ایک سیریس چیلنج ہے، چند دن میں متعلقہ وزرا اور سیکرٹریز کی میٹنگ بلا رہا ہوں، 2023 میں جو واقعہ ہوا تھا اسکو ریویو کریں گے اور پالیسی بنائیں گے

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ شرح سود میں دو فیصد کمی ہوئی ہے یہ پاکستانی معیشت کے لیے خوش آئند بات ہے، ہمیں امید ہے کہ پیداواری قابلیت، سرمایہ کاری بڑھے گی، اس سے پاکستانی اکانومی کو فائدہ ہو گا، مہنگائی 2018 کے بعد کم ترین سطح پر ہے، یہ ہم سب کے لئے اللہ کا فضل و کرم ہے، موقع ہے کہ پاکستانی معیشت کے پہیے کو تیزی سے گھمائیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، اندرون ملک سرمایہ کاری کو فروغ دیں،

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراء کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری کا نوٹس لے لیا ،وزیراعظم کی ہدایت پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر نےکابینہ ارکان کو خط لکھ دیا ،وزیراعظم نے تمام وزراء کو پارلیمانی کارروائی میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، خط میں کہا گیا کہ وزراء کی ایوان میں غیر حاضری سے احتساب کے اصولوں اور شفافیت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے،وزرا کی ایوان میں حاضر نہ ہونے سےعوام کی جمہوری اداروں پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچے کا خدشہ ہے،وزرا کا اپنے ماتحت افسران کو آئینی ذمہ داریاں دینا قابل قبول نہیں،یہ عمل وزرا کی جانب سے گورننس میں غیر سنجیدگی بھی ظاہر کرتی ہے،وزیراعظم کی وفاقی وزرا کو ایوان کی کارروائیوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت، وزیراعظم نے وزراء کو وقفہ سوالات اور ایوان میں بحث کے دوران دیگر میٹنگز میں شرکت کی ہدایت کی،

    سیالکوٹ: مریم نواز کا 300 ارب کا کسان دوست پیکج، زرعی انقلاب کی امید

    ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز میں چھپ کرسفر کرنے والی روسی خاتون دوبارہ گرفتار