Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • 26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    26 نومبر کو پی ٹی آئی کے خونی احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا رینجرز کا ایک اور اہلکار جان کی بازی ہار گیا، 37 سالہ لانس نائیک محمد تنویر کوما میں تھا

    25 اور 26 نومبر کواحتجاج کی آڑ میں پرتشدد کاروائیوں میں شدید زخمی پاکستان رینجرز پنجاب کے لانس نائیک محمد تنویر (عمر 37 سال، ساکن ضلع نارووال) کومہ کی حالت میں تھے ،لانس نائیک محمد تنویر شہید نے 17سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سر انجام دیا ،لانس نائیک محمد تنویر شہید کے سوگواران میں اہلیہ، 2 بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں

    25/26 نومبر کواحتجاج کی آڑمیں پی ٹی آئی کارکنان نے پرتشدد حملے کیے،پی ٹی آئی کارکنان نے سرکاری املاک پہ حملے کیے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،پی ٹی آئی کے شرپسند وں کے حملوں سے رینجرز کے شہید اہلکاروں کی تعداد اب 4 ہو گئی جبکہ متعدد زخمی ہیں،اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے دو اہلکار شہید جبکہ تقریباً 119 اہلکار زخمی ہوئے، پرتشدد کاروائیوں کے باعث اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے، پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کی متعددویڈیوز منظرعام پرآ چکی ہیں، پی ٹی آئی کارکنان نے مختلف مقامات پر آگ بھی لگائی ، پرتشدد عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    رینجرز اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ عمران خان کے حکم پر ہوا، ایف آئی آر

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے جناح ایونیوخالی کرا لیا، مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع

    رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا،وزیراعظم،آرمی چیف کی شرکت

    رینجرز اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ،عینی شاہدین کا بیان

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

  • وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان قاہرہ میں D-8 سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی، جو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ خیر سگالی اور برادرانہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت، عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی ، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی سیکٹر جیسے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سفر کی سہولت کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ جس میں پاکستان سے آنے والے سامان کے 100% فزیکل معائنہ کی شرط کو ختم کرنا اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے خصوصی سیکیورٹی ڈیسک کو ختم کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے پر بنگلہ دیش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شعیب شاہین کی درخواست پرحکم امتناع جاری

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

  • مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    18ویں 2روزہ سپیکرز کانفرنس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آبادمیں جاری ہے

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں.اپنے خطاب میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام سپیکرزکوکانفرنس میں خوش آمدیدکہتا ہوں.ہماری ہر کانفرنس اور فورم پر کشمیرایجنڈے کاحصہ ہوگا.سپیکرکانفرنس میں مستقبل کے لائحہ عمل کو بہتربنانے کیلئے تجاویزپر غور ہو گا.سپیکرکاکام ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی متوازن اندا ز میں چلائے.سپیکرکی نگاہ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان برابرہیں.بغیرکسی دباؤ کے ایوان کو چلانا سپیکرکی ذمہ داری ہے .سپیکرز کانفرنس سے اتحاد کا پیغام جا رہاہے.2013ء میں اسمبلی کے دروازے طلبہ کیلئے کھولے اور مہمان گیلری میں بٹھایا.یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کے طلبہ کیلئے ایوان کی کارروائی دکھانا ضروری ہے. نوجوانوں کے لیے اسمبلی میں انٹرن شپ ضروری ہے.قومی اسمبلی میں وہپ کا کردار وزراء سے بھی زیادہ مضبوط ہے.اسمبلی میں احتجاج اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے.پارلیمانی عمل میں قائمہ کمیٹیوں کا کردارانتہائی اہمیت رکھتاہے.پارلیمنٹرینزکی تربیت اور آگاہی کیلئے پپس فورم کاکردار اہم ہے. مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا.تمام مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے. اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ،مذاکرات تلخیاں مٹانے کا ذریعہ ہیں،

    کانفرنس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز شریک ہیں،سپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمدخان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سپیکرزکانفرنس کا انعقادخوش آئندہے. کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سپیکر ایاز صادق کومبارکبادپیش کرتاہوں.سپیکرزکانفرنس کاانعقادہرسال ہوناچاہئے.تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرزکی قربانیاں ملک میں جمہوری استحکام کیلئے ہیں.پنجاب ایک بڑاصوبہ ہے.تمام صوبائی اکائیاں مرکزکی مضبوطی میں اہم کرداراداکرتی ہیں.صوبائی وزراء اداروں کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں،

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • عمران خان کو ویڈیو لنک سے عدالت پیش کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار

    عمران خان کو ویڈیو لنک سے عدالت پیش کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جاتا، دہشتگردی قوانین کے تحت انفرادی طور پر اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاسکتا، ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت پیش کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، اے ٹی اے کے تحت جرائم انتہائی خطرناک ہوتے ہیں،آئین ملزمان کے بنیادی حقوق کی بات کرتا ہے، جسمانی ریمانڈ میں ملزمان کو ویڈیو لنک پر پیش کرنے سے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں،اے ٹی اے کے قانون میں کئی ترامیم ہو چکی ہیں، جسمانی ریمانڈ کے سیکشن 21 ای میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ٹرائل کے دوران عدالت میں ملزم کو ویڈیو لنک پر پیش کیا جاسکتا ہے، جسمانی ریمانڈ پر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کیا جا سکتا، عدالت 15 جولائی 2024 کو بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک پر عدالت پیش کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتی ہے، بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کیا جاتا ہے۔

    بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اے ٹی سی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے محکمہ داخلہ کے ویڈیو لنک پرعدالت پیشی کے نوٹیفکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا

    یاد رہے کہ عمران خان نے لاہور میں 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ویڈیو لنک پیشی کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا تھا

  • میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    امریکا نے پاکستان کے چار اہم اداروں پر پابندی عائد کردی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کے مطابق، ان اداروں کی سرگرمیاں پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کو مزید تقویت دینے کے لیے اہم رہی ہیں۔امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ان چار اداروں پر پابندیاں اس بات کی بنیاد پر عائد کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان میں وہ خصوصی وہیکل چیسز (گھومنے والی گاڑیاں) شامل ہیں جو بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

    ان اداروں میں شامل ہیں:
    نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) – اسلام آباد میں واقع یہ ادارہ پاکستان کے دفاعی پروگراموں کا اہم حصہ ہے۔
    اختر اینڈ سنز – کراچی میں قائم ایک دفاعی ادارہ۔
    ایفیلیٹس انٹرنیشنل – کراچی میں قائم ایک اور دفاعی ادارہ۔
    روک سائیڈ اینٹرپرائزز – کراچی کا ایک اور ادارہ جس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کے ترسیلی ذرائع کی ترقی میں معاونت کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں لگائی جا رہی ہیں۔

    پاکستان کا شدید ردعمل
    پاکستان نے امریکا کی جانب سے ان چار اداروں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو شدید طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس اقدام کو متعصبانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ اقدام خطے میں فوجی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کے خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندیاں پاکستان کے اسٹریٹجک اعتماد کو نظرانداز کرتی ہیں، جو 24 کروڑ عوام کی حمایت پر مبنی ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک مقدس امانت ہے، جس کی حفاظت اور اس کے تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی پالیسیوں میں یہ امتیازی سلوک عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

    پاکستان کا موقف ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل اور دیگر اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد نہ صرف قومی دفاع کو مضبوط بنانا ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس نوع کی پالیسیاں خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں اور عالمی سطح پر اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر عالمی سطح پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو دور کیا جا سکے۔

  • قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    18 دسمبر 1987، ایک ایسی تاریخ ہے جسے میں کبھی نہیں بھول سکتی،یہ وہ دن تھا جب میری قائد، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر، صدر آصف علی زرداری کے درمیان شادی ہوئی تھی۔
    پیپلز پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی،سحر کامران نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی، یہ وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک کہانی چھوڑ جاتی ہے”۔سحر کامران نے اس دن کی اہمیت اور اس لمحے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں کہ انہوں نے اس خوبصورت جوڑے کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شادی صرف ایک رشتہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی محبت کی علامت تھی جو وقت کی قید سے آزاد تھی اور جس نے دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔

    سحر کامران نے مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی جوڑی نہ صرف محبت کی مثال تھی بلکہ ان کی شخصیتوں میں وہ وقار، عزت اور وقار تھا جو کہ ایک کامیاب زندگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سحر کامران نے اس یادگار دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف سیاسی تاریخ کا ایک سنگ میل تھا بلکہ اس نے محبت کی طاقت کو بھی اجاگر کیا۔

    سحر کامران نے اس موقع پر مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی کہانی ہمیشہ کے لیے ایک مثال بن گئی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ محبت صرف دلوں میں نہیں بلکہ پورے معاشرتی اور سیاسی منظرنامے میں بھی ایک قوی طاقت بن سکتی ہے۔

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

  • سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے مقدمے میں ملزم عثمان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ملزم عثمان نے جیل میں اپنی عمر قید کی سزا مکمل کی اور بعد ازاں جیل سے رہائی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسکی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی

    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عثمان نے عمر قید کی سزا مکمل کر لی ہے اور جیل سے رہائی پا چکا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا 2017 سے اب تک مقرر نہ ہونا تمام چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر درخواست کے مقرر نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، اور وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فوجداری کیسز میں تفتیشی عمل کی مالی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجداری تفتیش کے لیے صرف 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججز تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے،ججز کی تعداد بڑھانے کیساتھ انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، خیبر پختونخوا ہاوس پر اسلام آباد میں حملہ ہوا،سپریم کورٹ نے کیا کیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے خیبرپختونخوا ہاوس کے معاملہ پر آئینی درخواست دائر کی،عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں،یہ عام لوگوں کے مقدمات ہیں،فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے،جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں چار لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں،

    ملزم کو 2007 شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید سزا ہوئی،عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا کرکے جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ کی انتظامی خامیوں اور فوجداری تفتیش کے نظام میں موجود مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ملزم عثمان کی عمر قید کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2017 سے اب تک ملزم کی درخواست مقرر نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کے ذریعے عدلیہ کی انتظامی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے، فوجداری نظام میں وسائل کی کمی اور تفتیشی عمل میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس سے متعلق عدالتی ریفرنس پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پرکسی حد تک بات کی گئی ہے، سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف 186 سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے،جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹر ویو کےکچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا،ان ججزکا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیرجانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، اس نتیجے پرپہنچاکہ ذوالفقاربھٹو کیس میں ٹرائل اوراپیل میں فیئرٹرائل کے تقاضوں کوپورا نہیں کیا گیا۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری کی دبئی میں گلوبل ویمنز فورم میں شرکت

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم