Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نائف سے اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیل سے گفتگو کی، جن میں خاص طور پر منشیات سمگلنگ کی روک تھام اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہر پاکستانی کا سعودی عرب کے ساتھ ایک خاص مذہبی عقیدت اور احترام کا رشتہ ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کی طرف سے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں فراہم کی جانے والی حمایت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے منشیات سمگلنگ کی بڑھتی ہوئی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر داخلہ نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی سکیورٹی ایجنسیز کے درمیان تعاون میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک میں امن و امان کی صورت حال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔وزیر داخلہ نے سعودی عرب کے عوام اور قیادت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اس اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، اور سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر بات چیت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کے لئے کی جانے والی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر کام کرنا ضروری ہے تاکہ خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    ڈور ٹو ڈور پولیو مہم، وزیراعلیٰ سندھ نے دروازے کھٹکھٹا دیئے

    چیمپئینز ٹرافی کے حتمی شیڈول کا اعلان آج کئے جانے کا امکان

    یونان کشتی حادثہ،مقدمہ درج،دو سہولت کار گرفتار

  • سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک کے عام آدمی کا مسئلہ غربت اور مہنگائی ہے، اسے حل کرنا ہمارا فرض ہے،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اس ملک کے مفاد کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، نواز شریف کے اس اچھے پیغام کو بھی کمزوری سمجھا گیا، ہماری سیاسی روایت ہے کہ ہم سیاسی مخالفین کی خوشی غمی میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے سیاسی قائدین نے ہمیں اخلاق کے دائرہ میں رہ کر تنقید کرنے کی تلقین کی، مگر کنٹینر سے روزانہ گالم گلوچ کی سیاست کی جاتی تھی، نواز شریف نے ملک میں ٹرین مارچ بھی کیا، بڑے جلسے بھی کئے لیکن کبھی کسی کو تو کر کے نہیں بلایا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی خان صاحب کہہ کر پکارتے تھے، نواز شریف نے سیاست میں ہمیشہ دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، یہ اپنے سیاسی مفاد کو تعصب کی نظر سے سوچتے ہیں، ملتان میں قاسم باغ کے جلسے میں بھگدڑ مچنے سے تحریک انصاف کے آٹھ سے دس کارکن ہلاک ہوئے، کیا یہ ان کے گھر تعزیت کے لئے گئے؟ پی ٹی آئی نے اموات کا جھوٹا بیانیہ بنایا، انہوں نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسلام آباد کی پوری سڑک کو خون میں لت پت دکھایا،اگر یہ سچے ہیں تو ان کے اعداد و شمار کیوں مختلف ہیں،اگر ان کا بیانیہ سچ پر مبنی تھا تو پوری پارٹی ایک بات کرتی، مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

  • خواجہ آصف کا بہت احترام  لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رکن شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ یہاں ہر وقت ایسا ماحول ہوتا جیسے سوتنیں لڑ رہی ہیں ،

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کیلئے کبھی کوئی مثبت بات نہیں کی ،میڈیا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہورہے ،قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے،سیاستدانوں میں ٹی او آرز طے ہی نہیں کیے جاتے ،خواجہ آصف کا بہت احترام ہے لیکن ان کی زبان بھی آگ اگلتی ہے ،میں گلہ کرتا ہوں لوگ مرے لیکن وزیر اطلاعات نے غلط بیانی کی ،کیا ممکن نہیں کہ ٹی او آرز اور مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی بنائیں ،عوام کے مسائل کے ادراک کیلئے یہاں بھیجا ہے،ہمارے علاقوں میں طالبان نے قبضہ کیا ہے
    کل خواجہ صاحب نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہل کرنا پڑے گی ،کیا رانا ثناء اللہ حکومت کے باضابطہ موقف سے ہمیں آگاہ کریں گے ،اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات ہوسکتی ہے

    جب تک حکومت اور اپوزیشن میں ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،رانا ثناء اللہ
    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پانچ چھ ہفتے قبل وزیر اعظم ایوان میں آئے تو اپوزیشن سے ہاتھ ملایا،وزیر اعظم نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،اس کے بعد عمر ایوب نے جو جواب دیا وہ شیر افضل مروت کو معلوم ہوگا ،پچیس نومبر کی رات بھی مذاکرات جیل میں رسائی دی گئی ،اس وقت بھی نہیں تسلیم کیا گیا ،جن کی بھی جان گئی دونوں طرف سے افسوس ہونا چاہیے تھا ،جب تک حکومت اور اپوزیشن ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،یہ بات اس وقت بھی کہتے تھے جب کہا گیا چھوڑیں گے نہیں ،کہا گیا کمیٹی بنائی ہے جس کا دل چاہے بات کر لے ،سپیکر نے ہمیشہ غیر جانبداری کو برقرار رکھا ،پی ٹی آئی کی کمیٹی حکومت کو پیغام دینے کیلئے بتائیں کہ یہ کمیٹی ہے اور ہم سیاسی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ،ہم بھی اس کیلئے کوشش کریں گے ،مجھے امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا

    رکن قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ آج تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ،ایک وزیر اعظم کو شہید کیا گیا دوسرا پانچ سو دنوں سے قید میں ہے ،سیاستدان بات کرتا ہے گولی نہیں مارتا ،پاکستان ایک سیاستدان نے بغیر بندوق کے حاصل کیا تھا ،غفار خان اور ولی خان کو عزت دیتا ہوں،
    ہمیں سلیکٹڈ کہا گیا لیکن ہاتھوں پر کسی کا خون نہیں ہے ،وزیر اطلاعات ہمارے کارکنان کے گھروں پر میرے ساتھ جائیں ،رینجرز اور پولیس کے گھروں پر آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوں ،ہمارا ایک مطالبہ ہے ڈی چوک کا انصاف چاہیے ،ایک دن عمران خان بھی جیل سے نکل آئے گا ،آپ نے مجھ پر غداری اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،وزیر قانون
    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت پر تیار ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،مولانا فضل الرحمٰن سے میرا اور میرے قائد کا احترام کا رشتہ ہے، 26 ویں ترمیم کے ساتھ اس بل کو دونوں ایوانوں نے پاس کیا، آئین کا آرٹیکل پچاس پارلیمنٹ کی تعریف کرتا ہے، صدرِ مملکت اس ایوان کا حصہ ہیں، کوئی بھی قانون سازی صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، آرٹیکل 75 کہتا ہے کہ صدر 10دن کے اندر منظوری دیتا ہے یا پھر مجلس شوریٰ کو واپس بھیجتے ہیں، جب صدر بل واپس کرتا ہے تو آئین کے مطابق بل کو مشترکہ اجلاس میں رکھا جاتا ہے، مشترکہ اجلاس میں بل ترامیم کے ساتھ یا ترامیم کے بغیر پاس ہو جاتا ہے، بل کو اسی شکل میں یا ترمیم کے ساتھ جو بھی صورت ہو مشترکہ اجلاس سے منظور کرنا ہو گا۔

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف اور شیر افضل مروت کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات ہوئی ہے

    خواجہ آصف نے شیر افضل مروت کی نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا،بعد ازاں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ابھی تک تحریک انتشار کی ڈالی مشکلات دور کررہی ہے ،تحریک انصاف کے وزیرہوابازی کے ایک بیان نے پی آئی اے کا جو برا حشر کردیا تھا، وہ اب یورپین یونین کی جانب سے بحالی کے بعد پی آئی اے میں بہتری ہونے جارہی ہے، سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔میں تسلیم کرتا ہوں، میری زبان زہر اور آگ اُگلتی ہے، آپ بتائیں آپ کی طرف سے کون سے پھول جھڑتے ہیں،دھمکی سے مذاکرات نہیں ہوتے، میرے منہ سے آگ نکلنا چاہتی ہے مگر میں بریک لگا رہا ہوں،شیر افضل مروت کی باتوں سے پہلی بار خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے،اچھی بات ہے،یہ شروعات کم از کم اس ایوان میں اگر ایسی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زہر گھولنے والے کو ہمدرد نہیں سمجھا جاتا نا ہی گلے لگایا جاتا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے، اسکے بعد بات چیت کر لیں گے، آپ بالکل سول نافرمانی کریں، دھمکی سے معاملات حل نہیں ہوتے، سیاستدان سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں، بہت سی تلخیوں کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں، اسد قیصر یہاں بیٹھے ہیں وہ بتا دیں.آج بات ہوتی ہے جیل میں یہ سہولت نہیں، جیل میں 6 ٹمپریچر تھا مجھے کمبل دیدیا گیا، میں جنوری کی 12 راتیں جیل میں سویا، 2018 سے اب تک اس ہاؤس نے بہت تلخی دیکھی، کل بھی تصدیق کی تھی باضابطہ مذاکرات کی شروعات نہیں کی گئی، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔لیکن سیاسی ذمہ داری آئینی ذمہ داری کے بعد آتی ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار میں امن اومان کی صورتحال مخدوش ہے، دونوں سائیڈز سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں، مجھے بتایا گیا کہ کرم میں زمین کا جھگڑا ہے جو شیعہ سنی فساد میں تبدیل ہوگیا، آئین کہتا ہے یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، پارا چنار میں پوری طرح آگ نہیں بجھی، ہم نے حلف لیا ہے پہلی ذمہ داری آئین کی ہے،اسلام آباد پر ضرور حملہ کریں لیکن صوبے کے حالات پر بھی غور کریں،

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف 18 دسمبر 2024 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ قاہرہ میں منعقد ہونے والی ترقی پذیر آٹھ ممالک (D-8) کی گیارہویں سمٹ میں شرکت کریں گے۔

    اس سمٹ سے قبل، وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار 18 دسمبر 2024 کو D-8 وزرائے خارجہ کونسل کے 21ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس گیارہویں D-8 سمٹ کا تھیم "نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ایز کی حمایت: کل کی معیشت کی تشکیل” ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اس سمٹ کے دوران نوجوانوں اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کریں گے تاکہ ایک مضبوط اور جامع معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ان کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت کو فروغ دینا اور مقامی کاروباری سرپرستی کو بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان D-8 کے مقاصد کے لیے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کریں گے اور دوطرفہ فائدے اور خوشحالی کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ زراعت، خوراک کی سیکیورٹی اور سیاحت میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے عزم کا اظہار کریں گے۔ وزیرِ اعظم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مالی ترقی کے لیے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی مراعات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان D-8 سمٹ کے دوران غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور تعمیر نو کے چیلنجز پر D-8 کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیں گے۔سمٹ کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف مختلف شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں اہم اقتصادی، تجارتی اور سیاسی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

    یہ دورہ پاکستان اور D-8 ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

  • سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر دس سال قبل ہونے والے خون آلود حملے کی یادیں آج بھی قوم کے دلوں میں ایک گھاؤ کی طرح تازہ ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن ،پپپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اس سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر کہا کہ اس سانحے کے اثرات اور زخم آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر کا یہ واقعہ قوم کے دل میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا اور ہمیشہ کے لیے چبھتا رہے گا۔ اس وحشیانہ حملے میں 150 سے زائد بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے، اور یہ واقعہ انسانیت کو جڑ سے ہلا دینے والا تھا۔

    اپنے پیغام میں سحر کامران نے کہا، "قوم یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان بدصورت عناصر کے خلاف اپنی آخری سانس تک لڑے گی۔” انہوں نے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم بہتری کو سراہا، جسے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تندہی اور جانفشانی کی بدولت ہی ہم دہشت گردی کے ناسور کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔تاہم سحر کامران نے اس عزم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کی مکمل روح کے ساتھ عملداری ضروری ہے تاکہ ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکیں۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور محفوظ مستقبل یقینی بنائیں گے۔”

    یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 132 بچے شامل تھے، جو اس سانحے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک دردناک باب بنا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں  تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ وی پی این (ویئرچل پرائیویٹ نیٹ ورک) کو بلاک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے ماضی میں بھی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وی پی این کو بلاک نہیں کریں گے اور آج تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    یہ بات انہوں نے پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ "ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب قومی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا، تو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔” انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے کو نیشنل سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا اختیار نہیں ہے اور یہ سوالات پالیسی سازوں سے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیشنل سیکیورٹی کے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ پالیسی ساز اداروں کی طرف سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ پی ٹی اے کا کام صرف ٹیلی کمیونیکیشن کی نگرانی اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی تک محدود ہے۔

    پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 میں پی ٹی اے کی کارکردگی، انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی سروسز، اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ پی ٹی اے مستقبل میں انٹرنیٹ کی سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دے گا۔

    یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں وی پی این کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور کچھ حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو انٹرنیٹ کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اس پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ تاہم، پی ٹی اے کا موقف واضح ہے کہ وہ صارفین کی آزادی اور انٹرنیٹ کی سہولت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب