Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ ایمل ولی خان

    ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ ایمل ولی خان

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ ماحول انتخابات میں تاخیر کا نظر آرہا ہے، غیرسیاسی عناصر انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں، ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحول اور بات چیت انتخابات کے ڈیلے (تاخیر) کی چل رہی ہے، ہم کوشش کریں گے کہ انتخابات ڈیلے نہ ہوں، جو میں دیکھ رہا ہوں، جو پاکستان کی قوتیں ہیں وہ کوشش میں ہیں کہ انتخابات کسی طرح ڈیلے ہوجائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ آج کی بات نہیں 1947 سے لے کر ابھی تک ، یہ اس ایک اختیار پر بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ اختیار جو عوام کا ہے، ایک طرف ایک فورس (طاقت) ہے جو چاہتی ہے کہ یہ اختیار عوام کا ہو، عوام اسے استعمال کرے، پاکستان میں ایک جمہوری نظام ہو جہاں پر پارلیمنٹ سب سے بالا ہو۔ اس کے اگینسٹ (مخالف) ایک لابی ہے جو ڈے ون (روزِ اول) سے جو قیوم خان صاحب سے شروع ہے وہ اب تک اسی میں کہ نہیں پاور کا محور عوام نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    جبکہ انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے علاوہ ازیں‌انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز جیسی پارٹیاں کون بنا رہا ہے جبکہ ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کوئی نیوٹرل نہیں ہے، لگتا ہے ہم نے استحکام پاکستان سے لے کر سایہ خدائے ذوالجلال تک پارٹیاں بنانی ہیں۔ الیکٹیبلز کو فون کرکے کہا گیا کہ پرویز خٹک کی پارٹی جوائن کریں، ایسے میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔

  • اشیائے ضروریہ کی سرحد پار اسمگلنگ برداشت نہیں کریں گے. وزیر داخلہ

    اشیائے ضروریہ کی سرحد پار اسمگلنگ برداشت نہیں کریں گے. وزیر داخلہ

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے چینی اور کھاد کی اسمگلنگ روکنے کے لئے جوائنٹ چیک پوسٹس اورجوائنٹ پٹرولنگ پر عملدرآمد کو مکمل طور پر فعال بنانے کا حکم دے دیا ہے جبکہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی ہدایت پر نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت چینی اور کھاد کی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس ہوا ہے.

    جبکہ اجلاس میں سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ چینی اورکھاد سمیت اشیائے ضروریہ کی ملک سے باہر اسمگلنگ ہماری معیشت پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے ، اسمگلنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ عوام کی مشکلات کو بھی بڑھا رہاہے لہذا اس کی روک تھام کیلئے اقدامات جاری ہیں اور مزید بھی کیئے جائیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ چینی اور یوریا سمیت اشیائے ضروریہ کی سرحد پار اسمگلنگ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ، جو لوگ اس غیرقانونی کام سے منسلک ہیں اور اس میں سہولت کار ہیں ان کے خلاف سب سے پہلے کارروائی عمل میں لانا ہو گی ، وفاقی اداروں اور صوبائی حکومت کو اس ضمن میں مل کر کام کرنا ہوگا ۔ وفاق اور صوبے مل کر اس بدنما دھبے اور کا سدباب کریں گے جبکہ سرفراز احمد بگٹی نے یہ بھی ہدایت کیًں کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومتیں اسمگلنگ کے سدباب کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جمع کرائیں جو وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔

  • پاکستان بار کونسل نے وکلا کنونشن کا اعلان کر دیا

    پاکستان بار کونسل نے وکلا کنونشن کا اعلان کر دیا

    اکستان بار کونسل نے وکلا کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا کنونشن 5 ستمبر کو اسلام آباد میں ہو گا اور لائرز کنونشن میں چار نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا جبکہ
    کنونشن کے انعقاد بارے پاکستان بار کونسل نے تمام صوبائی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کو آگاہ کر دیا ہے.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازدوسری جانب خیال رہے کہ گزشتہ دنوں جمیل مرغز نے لکھا تھا کہ پراجیکٹ عمران خان کو بنانے سنوارنے میں ہر قسم کے وسائل اور میٹریل استعمال کیا گیا تھا نہ صرف ان کو حکومت دی گئی بلکہ ایسا سبق پڑھایا گیا کہ عمران خان ایماندار ہے ، باقی سب چور ہیں ‘ یوں سیاست اور معاشرت تقسیم ہو گئے ایک طرف عاشقان عمران تھے اور دوسری طرف مخالفین عمران تھے۔ جبکہ اس کشمکش میں وکلاء برادری میں بھی تقسیم نظر آئی تھی ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء برادری کا ایک چھوٹا حصہ پراجیکٹ عمران کا حصہ بن گیا تھا جس میں سندھ پنجاب بلوچستان ‘خیبر پختونخوا کے بارکونسلز اور پاکستان بارکونسل پر مشتمل وکلاء برادری اس پراجیکٹ اور اس کے پروگرام کے خلاف رہے وکلاء تو ایک طرف عدلیہ کے بعض محترم جج صاحبان اور ان کے خاندان بھی عمران خان کے سحر میںمبتلا ہوگئے تھے۔

  • حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل ہوں گی. چیف الیکشن کمشنر

    حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل ہوں گی. چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل اس سال چودہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا آئندہ عام انتخابات سے متعلق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کاسلسلہ جاری ہے اور آج چیف الیکشن کمشنر سے مسلم لیگ ق ، تحریک لبیک پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود نے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔

    جبکہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود سے ملاتوں کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے عمل کا دورانیہ مزید کم کرنے کا خواہاں ہے ، حلقہ بندیوں کا عمل اس سال چودہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا،اور اس کے فوراً بعد انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں تحریک لبیک پاکستان کے وفد نے کہا کہ ریٹرننگ افسرعدلیہ سے نہ لئےجائیں،وہ الیکشن بہترطریقے سےنہیں کراسکتے اورحلقہ بندیاں جلد مکمل کرنے کیلئے عملہ بڑھانے کا مطالبہ کیاہے۔

    علاوہ ازیں تحریک لبیک پاکستان کے رہنما چودھری رضوان سیفی کا کہنا تھا کہ جو آئین ہے آئین پہ عمل درآمد کرتے ہوئے الیکشن ان ٹائم ہونا چاہیے جبکہ ق لیگ کے وفد نے الیکشن کمیشن کے نئی حلقہ بندیوں کےفیصلےکی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ ملکی مسائل کا حل معیشت کی بہتری ہے انتخابات نہیں اور رہنما ق لیگ غلام مصطفی ملک نے کہا کہ الیکشن90 روز کے اندر ہوں یا 190 روز کے اندر ، لیکن صاف اور شفاف ہونے چاہیے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور انداز میں اپنا لائحہ عمل اور منشور عوام کے سامنے رکھنے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں کے عمل کا دورانیہ کم کرنا زیرغورہے،حلقہ بندیوں کے فوری بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے گا، ضابطہ اخلاق پر سیاسی جماعتوں سے الگ مشاورت ہوگی جبکہ اعلامیہ کے مطابق نادراکےساتھ مل کرفوت شدگان کوانتخابی فہرستوں سےنکالا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی مہم اوراخراجات کی باقاعدہ مانیٹرننگ بھی ہوگی ۔

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر بے قابو ہوگی ہے روپے کی بے قدری کا نیا ریکارڈ بن گیا، اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح کو چھوگیا۔ انٹربینک میں بھی ڈالر 305 پانچ روپے سے تجاوز کرگیا جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مزید ایک روپے 30 پیسے اضافے کے بعد ڈالر تاریخ میں پہلی بار 305 روپے سے بھی تجاوز کرگیا، انٹر بینک میں ڈالر 305.54 روپے پر بند ہوا۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر آج پھر مزید 3 روپے مہنگا ہوگیا، جس کے بعد امریکی کرنسی کے نرخ 325 روپے کی تاریخی سطح کو چھو گئے تاہم یاد رہے کہ نگران حکومت کے 3 ہفتے میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 روپے جبکہ انٹربینک میں 17.50 روپے سے بھی زائد مہنگا ہوچکا ہے۔

    علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 2100 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

  • ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کیخلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں، سماعت کا آغاز ہوتے ہی سرکاری وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گٸے،حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کردیا،وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے آغاز میں حمیدالرحمٰن چوہدری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حمید الرحمٰن مشرقی پاکستان کے سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے ٹرائل کی کہانی لکھی، انہیں اس بات پرسزا دی گئی تھی کہ پبلک آفس سے پرائیویٹ کال کیوں کی؟ مغربی پاکستان سے تفتیشی افسران اورجج لے کرجاتے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جومشرقی اورمغربی پاکستان کوآمنے سامنے لائے۔ آئین قانون سازوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آج ایسے قوانین کونہ پنپنے دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ہمارے لیے ایجوکیشنل بھی ہے

    مخدوم علی خان نے ججز کو تین مختلف ملکی و غیرملکی کتابیں مطالعہ کیلئے پیش کر دیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نیب ترمیمی کیس ہمارے علم میں کافی اضافے کا باعث بنے گا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کا کہا تھا، احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہی ماضی سے کیا جاتا رہا ہے،سال 1996 میں احتساب آرڈیننس آیا اطلاق 1985 سے کیا گیا،1997 میں دو احتساب آرڈیننس آئے انکا اطلاق بھی 1985 سے ہوا، نیب قانون 1999 میں بنا اس کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا، چیلنج کی گئی 2022 کی دونوں ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا تھا،

    مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم اور ان کا ماضی سے اطلاق غیر آئینی نہیں ،بے نامی دار کے کیس میں معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوتا ہے اب کہا گیا ہے آپ پہلے ثابت کریں کہ وہ اثاثے کرپشن سے بنائے ،یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ،اب نئے قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں ،اب مسئلہ اس رقم کا بن گیا ہے کہ وہ کرپشن سے آئی یا نہیں ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹگری سے نکال دیں ،یہ احتساب کی تو ریڑھ کی ہڈی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے لاکرز توڑے گھروں میں گھسے اور پھر ملا بھی کچھ نہیں ،مخدوم علی خان کی جانب سے جسٹس منصور شاہ کے لکھے خورشید شاہ کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا،اورکہا گیا کہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا پراپرٹی کسی کے قبضے میں ہے اور اس کا منافع کون لے رہا ہے دونوں چیزوں کا تعین ضروری ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر پہلے ثابت کیا جائے وہ کرپشن سے بنے ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پراسیکیوشن اگر الزام لگا رہی ہے تو اس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے ہر بے نامی ٹرانزیکشن یا پراپرٹی کرپشن نہیں ہوتی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذرائع آمدن ملزم نے نہیں بتائے تو جرم ثابت نہیں ہو گا ، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ نیب ترمیم سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے
    .وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سیریس جرم رہ نہیں گیا ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت آخری دو جرائم پر بھی ختم کی جا چکی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے مختلف ادوار میں جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ اپنایا جا سکتا ہےن

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ایمان مزاری کیس،خدشہ ہے کہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،وکیل

    ایمان مزاری کیس،خدشہ ہے کہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ایمان مزاری کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، وزارت داخلہ حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایمان مزاری کے خلاف صوبوں میں درج مقدمات کی تفصیلات منگوائی ہیں ؟ وزارت داخلہ حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے ، وفاقی حکومت ایسے معاملات میں صوبوں کو حکم نہیں دے سکتی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ؟ ہم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا ہے ، اسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈر دیر سے ملا ہے کچھ وقت دے دیا جائے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،

    اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع
    اسلام آباد ہائیکورٹ: اڈیالہ جیل کے باہر سے دوسری بار گرفتار ایمان مزاری نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،ایمان مزاری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ دو مقدمات میں ضمانت کے بعد ایمان مزاری کو تیسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا، ایمان مزاری کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہے، ایمان مزاری کو حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکیں، ایمان مزاری مقدمات کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،عدالت ایف آئی اے اور صوبائی اداروں کو بھی ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روکے،عدالت ایمان مزاری کیخلاف ملک بھر میں مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری کو ایک اور مقدمہ میں جیل کے باہر سے گرفتارکیا گیا،ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا اسلام آباد پولیس ایمان مزاری کو لے کر روانہ ہو گئی

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سائفر کیس وزارت قانون کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت منتقلی کے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری درخواست پر رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کئے ہیں، اعتراض ہے کہ ہم نے ایک ہی درخواست میں ایک سے زیادہ استدعا کی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں اعتراضات دور کر دیتا ہوں، آپ میرٹ پر دلائل دیں، کیا عدالت کا وینیو تبدیل کیا گیا ہے؟

    وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیسز کی متعلقہ عدالت مجسٹریٹ کی ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کا اختیار دینا غلط ہے، استدعا ہے کہ نوٹس جاری کر کے اس پر بھی جواب طلب کر لیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپکی درخواست پر نوٹس جاری کر دیتا ہوں، وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ یہ جلدی والا معاملہ ہے تو کیس آئندہ ہفتے دوبارہ مقرر کر دیا جائے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے ہی کر لیں گے، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ کی والدہ کا انتقال؛ اسپیکر قومی اسمبلی کا اظہار تعزیت

    ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ کی والدہ کا انتقال؛ اسپیکر قومی اسمبلی کا اظہار تعزیت

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ قومی اسمبلی محمد الیاس کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے محمد الیاس کے نام اپنے جاری تعزیتی پیغام میں ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ والدین قدرت کا انمول تحفہ ہیں ان کا بچھڑ جانا بڑا صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے جسے مدتوں پورا نہیں کیا جا سکتا۔اسپیکر نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    دارین اثنا سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین،قائم مقام سیکرٹری مبارک علی چوہدری، ایڈیشنل سیکرٹری سید شمعون ہاشمی، ایڈیشنل سیکرٹری محمد مشتاق اور ڈی جی میڈیا قومی اسمبلی ظفر سلطان خان نے بھی ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ محمد الیاس سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے محمد الیاس اور ان کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی والدہ کی وفات کو بڑا سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی۔

  • مارشل لاء کے خطرات، اصل حقیقت کیا؟

    مارشل لاء کے خطرات، اصل حقیقت کیا؟

    سینئر صحافی اور اینکر پرسن پروگرام کھرا سچ مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اگر ملک میں انارکی والی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے تو ایسی صورتحال میں مارشل لاء لگ گیا جو ممکن نہیں تو عالمی سطح پر کوئی ردعمل آسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں علی سرور نقوی نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ مارشل لاء لگتے دیکھا ہے، لہذا میرا خیال ہے کہ عالمی ردعمل فوری طور پر اس چیز کے خلاف ہوتا ہے.

    علی سرور نقوی نے کہا کہ بظاہر تو ردعمل دیئے جاتے مگر پس پردہ اور معاملات ہوتے ہیں اور بڑی طاقتیں تو اس میں ملوث بھی رہتی ہیں، مثال کے طور پر مصر، ارجنٹینا، سری لنکا جیسے ممالک میں بھی معاشی مسائل ہیں لیکن وہاں ملٹری کا اتنا زور نہیں ہے لہذا میں نہیں جانتا کہ اس وقت کیا ہوگا تاہم ابھی بھی صورت حال کو کنٹرول کیا جائے تو حال بہتر ہوسکتا ہے.

    علی نقوی نے بجلی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا وزرا اور اہلکاران کی بجلی فوری طور پر ختم کی جائے جن جن کو مفت میں بجلی مل رہی جبکہ ٹیکس بھی کم کیئے جائیں تاکہ عام عوام کو ریلیف دیا جاسکے، لیکن اس کو فوری اور ہوشیاری سے کرنا ہوگا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    واپڈا نے احتجاجا کام کرنا چھوڑ دیا تو ہم کیا کریں گے کے جواب ممیں ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو ان کو ایک قانونی دفعہ کے تحت دباؤ ڈال کر کام کروا سکتے ہیں اس پر معروف اینکر نے کہا کہ وہ تو ساڑھے پانچ لاکھ ملازمین ہیں واپڈا کے ہم تو پی آئی اے کے 16 ہزار ملازمیں کو نہیں سنبھال سکتے.