Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • بزدلانہ حملے  ہمارے عزم کمزورنہیں کرسکتے. آرمی چیف

    بزدلانہ حملے ہمارے عزم کمزورنہیں کرسکتے. آرمی چیف

    پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیرنے کہا ہے بزدلانہ حملےدہشتگردی کےخاتمے کیلئے ہمارے عزم کوکمزورنہیں کرسکتے ہیں جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا، جہاں ان کوخیبرپختونخوا کےعلاقے جانی خیل میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملےاورسکیورٹی اقدامات پربریفنگ دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں آرمی چیف نے سی ایم ایچ کا بھی دورہ کیا اورخود کش حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کی عیادت کی، اوردہشتگردی کیخلاف ان کے عزم کو سراہا اور جنرل عاصم منیر نے کہاقوم دکھ کی گھڑی میں شہید جوانوں کےاہلخانہ کےساتھ کھڑی ہے، اور مسلح افواج دہشتگردی کےناسورکوختم کرنے کیلئےپُرعزم ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان ہاکی فیڈریشن ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 5 ستمبر کو ہو گا
    اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر
    مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگیا
    سی پیک مکمل ہونے کے بعد ملک میں ترقی اور خوشحالی کا دور آئے گا،پرویز خٹک
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیں مہنگائی کا احساس ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیں۔ کے پی کے نگران وزیر اطلاعات
    آرمی چیف نے کہا کہ بزدلانہ حملےدہشتگردی کےخاتمےکیلئےہمارےعزم کوکمزورنہیں کر سکتے، پاکستان میں امن واستحکام ہمارےشہداءکی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ؛ 29 اگست سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ؛ 29 اگست سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف کیس میں 29اگست کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا ہے جبکہ تحریری حکمنامہ میں جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسییجر ایکٹ درست ہونے کی صورت میں موجودہ کیس کا فیصلہ غیرمؤثرہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میں نے نیب ترامیم کیخلاف کیس سننے کیلٸے فل کورٹ تشکیل دینے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فیصلے تک کارروائی روکنے کی رائے دی،، جس پر میرے دونوں ساتھی ججز نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا، میں اپنے دونوں ججز سے اختلاف کرتے ہوئے یہ نوٹ تحریر کر رہا ہوں انہوں نے مزید اختلافی نوٹ میں لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کے تحت آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت مقدمات سننے کیلئے تین رکنی کمیٹی اور پانچ رکنی بینچ تشکیل دینے کا ذکر ہے، بادی النظر میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا اطلاق نیب کیس تمام زیر التواء مقدمات پر بھی ہوتا ہے۔

    اختلافی نوٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو درست قانون قرار دیا گیا تو اس کا اطلاق عدالتی فیصلے کے بجائے قانون کی منظوری سے ہوگا، اور درست قرار دینے کی صورت میں نیب ترامیم کیس کا فیصلہ خود بخود غیر موثر ہو جائے گا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ میری رائے میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا فیصلہ تین رکنی بینچ کے بجائے 8 رکنی بینچ نے کرنا ہے، وفاقی حکومت کا یہ کہنا کہ قانون کو معطل نہیں کیا جا سکتا یہ طے کرنا بھی 8 رکنی بینچ کا کام ہے، جسٹس کے مطابق میری نظرمیں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو معطل کرنے کی جو وجوہات تھیں یہ فیصلہ بھی 8 رکنی بینچ نے کرنا ہے، ہمارا یہ تین رکنی بینچ کسی دوسرے عدالتی بینچ کے فیصلے کا دفاع نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اطلاق ماضی سے ہوگا یا نہیں یہ فیصلہ بھی 8 رکنی بینچ نے ہی کرنا ہے، اگر ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے فیصلے کا انتظار کریں تو اس کیس پر لٹکتی ہوئی تلوار ہٹ جائے گی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو 13 اپریل کو معطل کیا گیا، چار ماہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکا، براہ راست عدلیہ کے امور سے متعلق قانون پر غیر ضروری تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان ہاکی فیڈریشن ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 5 ستمبر کو ہو گا
    اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر
    مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگیا
    سی پیک مکمل ہونے کے بعد ملک میں ترقی اور خوشحالی کا دور آئے گا،پرویز خٹک
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیں مہنگائی کا احساس ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیں۔ کے پی کے نگران وزیر اطلاعات
    اختلافی نوٹ کے نیب ترامیم کے خلاف تقریباً 50 سماعتیں ہو چکی ہیں، اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا پہلے ہی فیصلہ کر دیا جاتا توعدالت آسانی کے ساتھ قانون کے مطابق اپنے امور کو جاری رکھتی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر حکم امتناع جاری کرنے کی بجائے جلد فیصلہ کر لیا جاتا توغیر یقینی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی، میں فوجی عدالتوں کے خلاف کیس میں بھی اسی نوعیت کی رائے دے چکا ہوں اور میں اپنی رائے کو پھر دہراتا ہوں کہ نیب ترامیم کیس کے فیصلے سے پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا فیصلہ کیا جائے یا فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

  • مہنگائی کیخلاف شاہراہ فیصل تا کراچی پریس کل ریلی نکالی جائے گی

    مہنگائی کیخلاف شاہراہ فیصل تا کراچی پریس کل ریلی نکالی جائے گی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کراچی کامہنگائی وبجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اینٹی مہنگائی مارچ کا اعلان کردیا ہے۔ اینٹی مہنگائی مارچ 3ستمبر بروز اتوار دن 3بجےنرسری شاہراہ فیصل تا کراچی پریس کلب تک نکالا جائے گا۔جس کی قیادت مرکزی قائدین کریں گے۔ اس بات کا فیصلہ شاہراہ فیصل پر واقع پارٹی کے صوبائی سیکٹریٹ مسلم لیگ ہاوس میں اہم پارٹی اجلاس کے دوران کیا گیا ہے.

    جس کی صدارت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر فیصل ندیم کررہے تھے اس موقع پر کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان، رہنما انجینئر محمد نعمان کراچی کے ٹاؤن صدور و دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ قائدین کا کہنا تھا کہبجلی کےبلوں میں ظالمانہ ٹیکسز قابل قبول نہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافے نے غریب عوام کو جیتے جی مار دیا ہے۔مصنوعی مہنگائی ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان ہاکی فیڈریشن ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 5 ستمبر کو ہو گا
    اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر
    مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگیا
    سی پیک مکمل ہونے کے بعد ملک میں ترقی اور خوشحالی کا دور آئے گا،پرویز خٹک
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیں مہنگائی کا احساس ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیں۔ کے پی کے نگران وزیر اطلاعات
    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عوام اب اس ناسور کو مزید برداشت نہیں کرسکتی ۔قائدین نے اس موقع پر گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی شدید مذمت بھی کی ۔قائدین کا کہنا تھا کہ موجودہ نگران حکومت نے عوام دوستی کا نہیں بلکہ عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔حکمرانوں کے موجودہ حکومتی اقدامات سے مہنگائی کا سونامی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ حکومت آہستہ آہستہ عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ عوام کے ساتھ یہ ظلم نہیں ہونے دے گی۔ہم نے گزشتہ دنوں مہنگائی مخالف مظاہرے کرکے عوام کی آواز بنے ہیں ۔اتوار کے روز اینٹی مہنگائی مارچ سے عوام کی آواز حکام بالا تک پہنچائیں گے۔اس موقع پر قائدین کے عوام سے درخواست کی کہ اس اینٹی مہنگائی مارچ میں شریک ہوکر مہنگائی مخالف مہم کا حصہ بنیں ۔اور اینٹی مہنگائی مارچ کو کامیاب بنائیں۔

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ڈالر کی مسلسل بڑھتی قیمت کو تین ہفتوں کے بعد آج انٹر بینک میں بریک لگ گیا تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ سلسلہ تھم نہ سکا اور قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹربینک میں ڈالر 7 پیسے سستا ہو کر 305.47 روپے پر بند ہوا۔

    تاہم دوسری جانب کرنسی ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور ڈالر مزید 3 روپے مہنگا ہوا جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں میں ڈالر 328 روپے کی تاریخی سطح پر جا پہنچا، علاوہ ازیں یاد رہے کہ نگران حکومت کے 3 ہفتے میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 روپے جبکہ انٹربینک میں 17.50 روپے سے بھی زائد مہنگا ہوچکا ہے۔

    تاہم رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 2100 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

  • ایمان مزاری جوڈیشل ریمانڈ پر،درخواست ضمانت پرکل دلائل طلب

    ایمان مزاری جوڈیشل ریمانڈ پر،درخواست ضمانت پرکل دلائل طلب

    انسداد دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری کو 14 روز جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،

    ایمان مزاری کی درخواست ضمانت پر پیر کے لیے پولیس کو نوٹس جاری کر دیئے گئے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی،اسلام آباد بار کے صدر قیصر امام اور سیکرٹری اسد نوید بھٹی کی استدعا پر انسداد دہشت گردی عدالت نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، عدالت کی جانب سے تاریخ پیر سے تبدیل کرکے کل ہفتہ کے روز کر دی گئی،عدالت نے پولیس سے کل دلائل طلب کر لئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ” خاتون ہونے کی بنا پر ایمان مزاری کی درخواست ضمانت کل کے لیے رکھ رہے ہیں انکو تھانہ ویمن میں ہی رکھا جائے ”

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری کو دیگر مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک رکھا ہے ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو 4 ستمبر تک صوبوں میں درج ایمان مزاری کے خلاف مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ،

    اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع
    اسلام آباد ہائیکورٹ: اڈیالہ جیل کے باہر سے دوسری بار گرفتار ایمان مزاری نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،ایمان مزاری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ دو مقدمات میں ضمانت کے بعد ایمان مزاری کو تیسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا، ایمان مزاری کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہے، ایمان مزاری کو حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکیں، ایمان مزاری مقدمات کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،عدالت ایف آئی اے اور صوبائی اداروں کو بھی ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روکے،عدالت ایمان مزاری کیخلاف ملک بھر میں مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری کو ایک اور مقدمہ میں جیل کے باہر سے گرفتارکیا گیا،ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا اسلام آباد پولیس ایمان مزاری کو لے کر روانہ ہو گئی

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • 9 ہزار  ارب روپے بینکوں سے باہر  پڑے ہیں. پاکستان بزنس کونسل

    9 ہزار ارب روپے بینکوں سے باہر پڑے ہیں. پاکستان بزنس کونسل

    پاکستان بزنس کونسل نے دعویٰ کیا ہےکہ ملک میں لوگوں کے 9 ہزار ارب روپے بینکوں سے باہر پڑے ہیں جس کی وجہ سے ڈالر اور سونے پر سٹے بازی ہو رہی ہے جبکہ ایک بیان میں پاکستان بزنس کونسل نےکہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں میں حوالے کے ذریعے کرنسی پاکستان بھجوانےکا رجحان بڑھا ہے، درآمدات پر پابندیوں کو بھی قبل از وقت ختم کیا گیا، اس لیے بھی پاکستانی کرنسی پر دباؤ بڑھا ہے۔

    پاکستان بزنس کونسل نےکہا ہے کہ ملک میں کپاس کی فصل اچھی ہوئی ہے، بھارت کی طرف سے اپنے چاول کی برآمد پر پابندی کے بعد پاکستانی چاول کی طلب بڑھی ہے، اسے برآمد کرکے تین ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر سری لنکا کی کرنسی سے بھی نیچے آگئی۔

    جبکہ جس طرح پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے اسی طرح سری لنکا کی معیشت بھی ہچکولے کھا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود ڈالر کے مقابلے میں سری لنکن روپے پاکستانی روپیہ سے اوپر آگیا اور رواں سال مئی کے بعد ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ سری لنکا کے روپے سے نیچے آگیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم جمعرات کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے 50 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 323 روپے پر آیا، جبکہ ایک ڈالر 320 سری لنکن روپے کے برابر ہے۔، یاد رہے کہ مئی میں ایک ڈالر 305 پاکستانی روپے اور 304 سری لنکن روپے کے برابر تھا۔

  • صدر مملکت کا وزارت خزانہ کو خط، تنخواہ بڑھانے بارے مطالبہ کی تصدیق

    صدر مملکت کا وزارت خزانہ کو خط، تنخواہ بڑھانے بارے مطالبہ کی تصدیق

    صدر مملکت عارف علوی نے ایک خط میں وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کی تنخواہ بڑھائی جائے جبکہ عارف علوی کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان کی تنخواہ ملک کے چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہونی چاہیے جبکہ اس خط لکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ایوانِ صدر کے ایک اہلکار نے عالمی ادارے کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صدر کی خواہش نہیں ہے، بلکہ قانون یہ کہتا ہے کہ ان کی تنخواہ چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہو۔ جس کی بنیادی وجہ فیڈریشن میں ان کا عہدہ سب سے بڑا ہونا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے جس میں وہ دو مراحل کا اضافہ چاہتے ہیں، یعنی جولائی 2021 سے صدر کی تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار روپے اور جولائی 2023 سے ان کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار روپے ہونی چاہیے اور صدر مملکت کی تنخواہ پریذیڈنٹ سیلری، الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975 کے تحت دی جاتی ہیں جس میں 2018 میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی۔

    جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کے نوٹی فکیشن کے ذریعے ایکٹ کے شیڈول فور میں کیا جاتا ہے اور یہ کہ صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر ایک روپیہ زیادہ ہو گی اور ایوان صدر کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران دو مرتبہ چیف جسٹس کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اُن کی تنخواہ صدر سے بڑھ گئی ہے، جو خود قانون کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عارف علوی کی صدارتی مدت پوری ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں۔ ان کا مطالبہ پورا ہونے کی صورت میں صدر عارف علوی کو جولائی 2021 سے بقایاجات بھی ملنے کا امکان ہے جبکہ ایوان صدر کے افسر نے مزید بتایا کہ ’یہ وفاقی کابینہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ جب چیف جسٹس کی تنخواہ بڑھا رہے تھے تو آئین کے مطابق صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافہ کرتے تاکہ ان کی تنخواہ عہدے کے مطابق ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اسی قانونی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ خط لکھا گیا ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    نگراں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرُبا اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 91 پیسے اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 305 روپے 36 پیسے روپے ہوگئی ہے اور اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے 44 پیسے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد قیمت فی لیٹر 311 روپے 84 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔


    اس سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک جعلی نوٹیفکیشن بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی لاہور میں متعدد پٹرول پمپس نے فروخت روک دی تھی اور پٹرول پمپ مالکان نے نئی قیمت پر پٹرول فروخت کرنے کیلئے فلنگ اسٹیشنز بند کر دیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم خیال رہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث روپے پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں یکم سے 15 ستمبر تک بڑا اضافہ پہلے ہی متوقع تھا۔ ادھر دوسری جانب بوظبی: متحدہ عرب امارات (یواے ای) نے مسلسل تیسرے ماہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافےکا اعلان کردیا ہے

    جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ یکم ستمبر سے ہوگا، نئی قیمتوں میں 5 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات میں سپرپیٹرول 98 کی قیمت 3.14 درہم سے بڑھا کر 3.42 درہم لیٹر کردی گئی ہے اور اس کے علاوہ پیٹرول95 کی قیمت 3.02 درہم سے بڑھا کر 3.31 درہم لیٹر کردی گئی ہے۔

  • 40 افراد غیر قانونی طور پر باہر جانے کے جرم میں گرفتار

    40 افراد غیر قانونی طور پر باہر جانے کے جرم میں گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے نے غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 40 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایف آئی اے نے انسانی اسمگلروں کےخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سہولت کاروں سمیت غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 40 افراد کو حراست میں لے لیا۔

    جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے گوادر آصف نسیم بلوچ نے بتایا کہ ایف آئی اے نے ساحلی علاقے جیونی میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے ٹھکانوں پرچھاپے کے دوران سمندرکے راستے غیرقانونی طور بیرونی ممالک جانے والے 40 افراد کو حراست میں لیا جن میں سہولت کار بھی شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    آصف نسیم بلوچ کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد بغیر سفری دستاویز کے سفر کر رہے تھے جن کا تعلق پنجاب، کشمیر اور کے پی کے کے مختلف علاقوں سے ہے جبکہ ملزمان کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اور اب ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی.

    ایک شخص نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایسے بہت سارے لوگ موجود ہیں ایسے دستاویزات بناتے ہیں جو بالکل صحیح لگتے ہیں اور لیکن حکومت کو چاہئے ایسے ماہرین کو سزا دینے کے بجائے روزگار دے اور ان کی صلاحتیوں مثبت کاموں میں استعمال کرے.

  • احتجاج کی  پاداش میں سزائے موت پانے والا  جیل میں چل بسا

    احتجاج کی پاداش میں سزائے موت پانے والا جیل میں چل بسا

    ایران میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائے موت پانے والا ایک شخص جمعرات کے روز جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا ہے جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس شخص کو گذشتہ سال ستمبر میں بائیس سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے ردِّعمل میں مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ایرانی عدلیہ کی میزان نیوز ویب سائٹ کے مطابق جواد روحی کو جمعرات کو علی الصباح جیل میں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انھیں شمالی شہر نوشہر کے ایک اسپتال لے جایا گیا جہاں طبّی عملہ نے ان کی جان بچانے کی کوشش کی لیکن وہ دم توڑ گئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق میزان نے بتایا کہ متوفیٰ روحی کی نعش کو موت کی وجوہ کی تحقیقات کے لیے فارنسک میڈیکل ایگزامینر کے پاس بھیج دیا گیا ہے، جس میں زہریلے ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔ پوسٹ مارٹم اور نمونے جمع کرنے کے لیے کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔

    جبکہ رپورٹ کے مطابق جواد روحی کو جس جیل میں رکھا گیا تھا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا اور نوٹ اور ادویہ سمیت ان کے ذاتی سامان کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔روحی کو جنوری میں ایک ایرانی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ان پر زمین پر فساد پھیلانے کے الزام میں فردِجُرم عاید کی گئی تھی۔ اور نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق متوفیٰ نوشہر شہر میں ہونے والے مظاہروں کے ایک ’رہ نما‘ کے طور پر سامنے آیاتھا جہاں اس نے’اہم مجرمانہ اقدامات‘ کیے تھے۔روحی پر متعدد جرائم میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ان میں عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور قرآن کو جلانے کے ذریعے ارتداد کا فعل بھی شامل تھا۔

    جبکہ مہسا امینی کو تہران کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیاتھا اور تین روز بعد ان کی پولیس کے زیرحراست موت واقع ہوگئی تھی۔ان کی موت کے بعد ایران میں کئی ماہ تک مظاہرے جاری رہے تھے جو تیزی سے ایرانی نظام کا تختہ الٹنے کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے تھے جبکہ واضح رہے کہ ایرانی حکام مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کو غیر ملکی طاقتوں کے بھڑکائے گئے ’فسادات‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں میں حصہ لینے والوں کوحکام کی جانب سے پُرتشدد کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے خلاف مختلف جرائم کے الزامات میں مقدمات چلائے گئے ہیں یا چلائے جارہے ہیں۔