Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر بے قابو ہوگی ہے روپے کی بے قدری کا نیا ریکارڈ بن گیا، اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح کو چھوگیا۔ انٹربینک میں بھی ڈالر 305 پانچ روپے سے تجاوز کرگیا جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مزید ایک روپے 30 پیسے اضافے کے بعد ڈالر تاریخ میں پہلی بار 305 روپے سے بھی تجاوز کرگیا، انٹر بینک میں ڈالر 305.54 روپے پر بند ہوا۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر آج پھر مزید 3 روپے مہنگا ہوگیا، جس کے بعد امریکی کرنسی کے نرخ 325 روپے کی تاریخی سطح کو چھو گئے تاہم یاد رہے کہ نگران حکومت کے 3 ہفتے میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 روپے جبکہ انٹربینک میں 17.50 روپے سے بھی زائد مہنگا ہوچکا ہے۔

    علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 2100 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

  • ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کیخلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں، سماعت کا آغاز ہوتے ہی سرکاری وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گٸے،حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کردیا،وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے آغاز میں حمیدالرحمٰن چوہدری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حمید الرحمٰن مشرقی پاکستان کے سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے ٹرائل کی کہانی لکھی، انہیں اس بات پرسزا دی گئی تھی کہ پبلک آفس سے پرائیویٹ کال کیوں کی؟ مغربی پاکستان سے تفتیشی افسران اورجج لے کرجاتے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جومشرقی اورمغربی پاکستان کوآمنے سامنے لائے۔ آئین قانون سازوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آج ایسے قوانین کونہ پنپنے دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ہمارے لیے ایجوکیشنل بھی ہے

    مخدوم علی خان نے ججز کو تین مختلف ملکی و غیرملکی کتابیں مطالعہ کیلئے پیش کر دیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نیب ترمیمی کیس ہمارے علم میں کافی اضافے کا باعث بنے گا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کا کہا تھا، احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہی ماضی سے کیا جاتا رہا ہے،سال 1996 میں احتساب آرڈیننس آیا اطلاق 1985 سے کیا گیا،1997 میں دو احتساب آرڈیننس آئے انکا اطلاق بھی 1985 سے ہوا، نیب قانون 1999 میں بنا اس کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا، چیلنج کی گئی 2022 کی دونوں ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا تھا،

    مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم اور ان کا ماضی سے اطلاق غیر آئینی نہیں ،بے نامی دار کے کیس میں معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوتا ہے اب کہا گیا ہے آپ پہلے ثابت کریں کہ وہ اثاثے کرپشن سے بنائے ،یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ،اب نئے قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں ،اب مسئلہ اس رقم کا بن گیا ہے کہ وہ کرپشن سے آئی یا نہیں ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹگری سے نکال دیں ،یہ احتساب کی تو ریڑھ کی ہڈی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے لاکرز توڑے گھروں میں گھسے اور پھر ملا بھی کچھ نہیں ،مخدوم علی خان کی جانب سے جسٹس منصور شاہ کے لکھے خورشید شاہ کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا،اورکہا گیا کہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا پراپرٹی کسی کے قبضے میں ہے اور اس کا منافع کون لے رہا ہے دونوں چیزوں کا تعین ضروری ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر پہلے ثابت کیا جائے وہ کرپشن سے بنے ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پراسیکیوشن اگر الزام لگا رہی ہے تو اس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے ہر بے نامی ٹرانزیکشن یا پراپرٹی کرپشن نہیں ہوتی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذرائع آمدن ملزم نے نہیں بتائے تو جرم ثابت نہیں ہو گا ، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ نیب ترمیم سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے
    .وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سیریس جرم رہ نہیں گیا ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت آخری دو جرائم پر بھی ختم کی جا چکی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے مختلف ادوار میں جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ اپنایا جا سکتا ہےن

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ایمان مزاری کیس،خدشہ ہے کہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،وکیل

    ایمان مزاری کیس،خدشہ ہے کہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ایمان مزاری کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، وزارت داخلہ حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایمان مزاری کے خلاف صوبوں میں درج مقدمات کی تفصیلات منگوائی ہیں ؟ وزارت داخلہ حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے ، وفاقی حکومت ایسے معاملات میں صوبوں کو حکم نہیں دے سکتی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ؟ ہم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا ہے ، اسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈر دیر سے ملا ہے کچھ وقت دے دیا جائے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،

    اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع
    اسلام آباد ہائیکورٹ: اڈیالہ جیل کے باہر سے دوسری بار گرفتار ایمان مزاری نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،ایمان مزاری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ دو مقدمات میں ضمانت کے بعد ایمان مزاری کو تیسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا، ایمان مزاری کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہے، ایمان مزاری کو حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکیں، ایمان مزاری مقدمات کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،عدالت ایف آئی اے اور صوبائی اداروں کو بھی ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روکے،عدالت ایمان مزاری کیخلاف ملک بھر میں مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری کو ایک اور مقدمہ میں جیل کے باہر سے گرفتارکیا گیا،ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا اسلام آباد پولیس ایمان مزاری کو لے کر روانہ ہو گئی

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سائفر کیس وزارت قانون کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت منتقلی کے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری درخواست پر رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کئے ہیں، اعتراض ہے کہ ہم نے ایک ہی درخواست میں ایک سے زیادہ استدعا کی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں اعتراضات دور کر دیتا ہوں، آپ میرٹ پر دلائل دیں، کیا عدالت کا وینیو تبدیل کیا گیا ہے؟

    وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیسز کی متعلقہ عدالت مجسٹریٹ کی ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کا اختیار دینا غلط ہے، استدعا ہے کہ نوٹس جاری کر کے اس پر بھی جواب طلب کر لیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپکی درخواست پر نوٹس جاری کر دیتا ہوں، وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ یہ جلدی والا معاملہ ہے تو کیس آئندہ ہفتے دوبارہ مقرر کر دیا جائے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے ہی کر لیں گے، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ کی والدہ کا انتقال؛ اسپیکر قومی اسمبلی کا اظہار تعزیت

    ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ کی والدہ کا انتقال؛ اسپیکر قومی اسمبلی کا اظہار تعزیت

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ قومی اسمبلی محمد الیاس کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے محمد الیاس کے نام اپنے جاری تعزیتی پیغام میں ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ والدین قدرت کا انمول تحفہ ہیں ان کا بچھڑ جانا بڑا صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے جسے مدتوں پورا نہیں کیا جا سکتا۔اسپیکر نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    دارین اثنا سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین،قائم مقام سیکرٹری مبارک علی چوہدری، ایڈیشنل سیکرٹری سید شمعون ہاشمی، ایڈیشنل سیکرٹری محمد مشتاق اور ڈی جی میڈیا قومی اسمبلی ظفر سلطان خان نے بھی ڈائریکٹر ٹیلی کاسٹنگ محمد الیاس سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے محمد الیاس اور ان کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی والدہ کی وفات کو بڑا سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی۔

  • مارشل لاء کے خطرات، اصل حقیقت کیا؟

    مارشل لاء کے خطرات، اصل حقیقت کیا؟

    سینئر صحافی اور اینکر پرسن پروگرام کھرا سچ مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اگر ملک میں انارکی والی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے تو ایسی صورتحال میں مارشل لاء لگ گیا جو ممکن نہیں تو عالمی سطح پر کوئی ردعمل آسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں علی سرور نقوی نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ مارشل لاء لگتے دیکھا ہے، لہذا میرا خیال ہے کہ عالمی ردعمل فوری طور پر اس چیز کے خلاف ہوتا ہے.

    علی سرور نقوی نے کہا کہ بظاہر تو ردعمل دیئے جاتے مگر پس پردہ اور معاملات ہوتے ہیں اور بڑی طاقتیں تو اس میں ملوث بھی رہتی ہیں، مثال کے طور پر مصر، ارجنٹینا، سری لنکا جیسے ممالک میں بھی معاشی مسائل ہیں لیکن وہاں ملٹری کا اتنا زور نہیں ہے لہذا میں نہیں جانتا کہ اس وقت کیا ہوگا تاہم ابھی بھی صورت حال کو کنٹرول کیا جائے تو حال بہتر ہوسکتا ہے.

    علی نقوی نے بجلی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا وزرا اور اہلکاران کی بجلی فوری طور پر ختم کی جائے جن جن کو مفت میں بجلی مل رہی جبکہ ٹیکس بھی کم کیئے جائیں تاکہ عام عوام کو ریلیف دیا جاسکے، لیکن اس کو فوری اور ہوشیاری سے کرنا ہوگا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    واپڈا نے احتجاجا کام کرنا چھوڑ دیا تو ہم کیا کریں گے کے جواب ممیں ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو ان کو ایک قانونی دفعہ کے تحت دباؤ ڈال کر کام کروا سکتے ہیں اس پر معروف اینکر نے کہا کہ وہ تو ساڑھے پانچ لاکھ ملازمین ہیں واپڈا کے ہم تو پی آئی اے کے 16 ہزار ملازمیں کو نہیں سنبھال سکتے.

  • مفتاح اسماعیل نے  ملک ڈیفالٹ کی طرف جانے کا ذمہ دار اسحاق ڈار کو  قرار دے دیا

    مفتاح اسماعیل نے ملک ڈیفالٹ کی طرف جانے کا ذمہ دار اسحاق ڈار کو قرار دے دیا

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اسحاق ڈار کی غلط پالیسی کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف گیا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پچھلے یا اس دور میں بجلی کے بل نہیں بڑھے، حکومتیں 20 سے 25 سال سے غلطیاں کر رہی ہیں، وزیر خزانہ ہوتے ہوئے مئی، جون میں کہا تھا مہنگی ایل این جی منگوا کربجلی نہ بناؤ، میں اس وقت کہہ رہا تھا کہ 5 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرو، اس کے بعد کچھ نہ ہوا تو ہم نے بجلی دینے کی کوشش کی پھراگست میں زیادہ بل آئے۔

    خیال رہے کہ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی کاسٹ کم کرنے کیلئے نجکاری کرنے کی ضرورت ہے، بجلی کے شعبے میں نجکاری ہونے تک یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا، آئی ایم ایف نے کبھی سبسڈی دینے یا بجلی مہنگی کرنے کا نہیں کہا، وزارت خزانہ 500 ارب روپے تک دے تو بجلی سستی ہوسکتی ہے، آئی ایم ایف سے بات کر کے بجلی کے بڑھتے ریٹ کو کچھ عرصے کیلئے مؤخر کرسکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی غلط پالیسی کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف گیا ہے جبکہ شہبازشریف نے آئی ایم ایف سے ڈیل کی ورنہ پتہ نہیں ہم کہاں کھڑے ہوتے اور آئی ایم ایف سے بات کر کے ابھی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز نہیں لینے چاہئیں، ایف بی آر کو مجبوراً ٹیکس لینا ہوتے ہیں وہ بھی مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    مفتاح اسماعیل کے مطابق وفاق کو کنگال کردیا گیا ایسے ملک کس طرح چل سکتاہے؟ ، این ایف سی ایوارڈ کم کرنے کے بعد صوبوں کی ذمہ داری بڑھے گی، صوبوں کو پراپرٹی پر ٹیکس لگانے کی ذمہ داری دینی چاہیے، صوبوں کے پاس وافر پیسے ہوتے ہیں انہیں خرچ کرنے کا نہیں پتا ہوتا، این ایف سی ایوارڈ کے بعد سے وفاق کی 62 فیصد آمدن صوبوں کوچلی جاتی ہے جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ساری حکومت قرض پر چل رہی ہے، گردشی قرضہ مزید بڑھانے کی گنجائش نہیں، گردشی قرضہ مزید بڑھایا تو نظام بیٹھ جائے گا۔

  • فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد کی  چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو ایوان بالاء کے کام کے طریقہ کار اور قانون سازی میں کردار سے متعلق آگاہ کیا۔ریجنل ڈائریکٹر فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فارفریڈم کارسٹن کلین نے چیئرمین سینیٹ کو فاؤنڈیشن کے پاکستان میں کام کے حوالے سے بریف کیا۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ دنیا بھر کے60 ممالک میں خدما ت سرانجام دے رہا ہے۔پاکستان میں 1986 سے دونوں ممالک کی عوام کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے فاؤنڈیشن نے بہت محنت کی ہے۔تاجر برادری کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لئے موثرحکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں توانائی کی حفاظت اور قابل تجدید توانائیوں کی طرف منتقلی کے بارے میں بھی موثر کام کیا گیا ہے۔ پاکستان اور جرمنی دونوں ممالک نے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ مل کر خواتین کی ترقی اور ان کی پائیدار کاروباری صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے موثر کام کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ادارہ علاقائی اقتصادی تعاون، موثرحکمرانی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی جامع حکمت عملی سے کام اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ فنی تعلیم و تربیت، ڈیجیٹلائزیشن، سائنس و ٹیکنالوجی، پبلک مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن و دیگر شعبوں میں مثبت تبدیلی کو فروغ دینے میں فاؤنڈیشن کا کلیدی کردار رہا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جرمنی اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے FNF کے کردار کو سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جمہوری اقدار کے فروغ اور پائیدار ترقی میں فاؤنڈیشن کی گراں قدر خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے موثر حکمت عملی اختیار کریں۔ جرمنی پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے مستفید ہو۔ چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان بالا ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور استعداد کار بہتر بنانے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اداروں کی ترقی اور معاونت لازمی ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کو پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے وفد نے برلن دیوار کا ٹکڑا بطور تحفہ پیش کیا جس کو چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالاء کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھنے کی ہدایت کی۔ملاقات کے دوران سینیٹرز منظور احمدکاکڑ، نصیب اللہ بازئی،پلوشہ محمد زئی خان، سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمدخان اور ڈی جی کوارڈینیشن میر شے مزار بلوچ بھی موجود تھے۔

    دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات جبکہ ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال اور صوبہ بلوچستان کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر منظور احمد کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کرتے ہوئے سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا بی اے پی ایوان بالا میں جمہوری روایات کے فروغ کے فلسفے پر کارفرما ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    علاوہ ازیں بی اے پی رہنما نے کہا کہ جمہوری پارلیمانی روایات کے فروغ اور وفاق و صوبے کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھاتے رہیں گے ۔آزاد ، شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ بی اے پی رہنماؤں کا ملاقات میں موقف اپنایا گیا کہ بی اے پی بلوچستان کے عوام کی آواز بن چکی ہے ۔ بی اے پی کے رہنماؤں کا حلقہ بندیوں پر بھی تبادلہ خیال کریں.

    علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے سیاسی قوتوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا اور چیئرمین سینیٹ نے کہا ملک کو مسائل سے نکالنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے سب کو آگے بڑھنا ہوگا ۔

  • 30؍اگست  یوم پیدائش شیلیندر

    30؍اگست یوم پیدائش شیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    شیلیندر

    30؍اگست 1923: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔
    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں۔
    انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
    شیلیندر 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند.

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند.

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • بلوچستان کے نوجوان نگران وزیر نے گھر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے

    بلوچستان کے نوجوان نگران وزیر نے گھر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے

    بلوچستان کے نگران صوبائی وزیر نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ صوبے میں اب حقیقی تبدیلی کا وقت آچکا ہے جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں نگران صوبائی وزیر جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ نگران حکومت میں مجھے اسپورٹس اور یوتھ افیئرز کی وزارتیں دی گئی ہیں، ان وزارتوں کو خوش قسمتی نہیں بلکہ ذمےداری سمجھتا ہوں۔


    جمال رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ وزارت کا سہرا میرے شہید والد اور بلوچستان کے تمام شہدا کے سر جاتا ہے، جو زمہ داریاں دی گئی ہیں اُنہیں فرض سمجھ کر پورا کروں گا اور اپنے اختیارات کے مطابق بلوچستان کے عوام کی بھرپور خدمت کروں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے گھر اور آفس کے دروازے عوام کیلئے ہر وقت کھلے ہیں، پاکستان زندہ باد۔ تاہم خیال رہے کہ یہ نوجوان شہید شہید نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے صاحبزادے ہیں‌اور انہوں باپ کی شہادت کے وقت کہا تھا کہ نمیرے والد اور بھائی کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی ملک اور صوبے کے لئے مزید قربانیوں کی ضرورت پڑی توہم دریغ نہیں کرینگے ہم نے ہمیشہ لہو سے ملک کی حفاظت کی ہے اور کر تے رہیں گے بلوچستان کو محفوظ بنانے اور روزگار دینے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے.