Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • مفتاح اسماعیل نے  ملک ڈیفالٹ کی طرف جانے کا ذمہ دار اسحاق ڈار کو  قرار دے دیا

    مفتاح اسماعیل نے ملک ڈیفالٹ کی طرف جانے کا ذمہ دار اسحاق ڈار کو قرار دے دیا

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اسحاق ڈار کی غلط پالیسی کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف گیا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پچھلے یا اس دور میں بجلی کے بل نہیں بڑھے، حکومتیں 20 سے 25 سال سے غلطیاں کر رہی ہیں، وزیر خزانہ ہوتے ہوئے مئی، جون میں کہا تھا مہنگی ایل این جی منگوا کربجلی نہ بناؤ، میں اس وقت کہہ رہا تھا کہ 5 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرو، اس کے بعد کچھ نہ ہوا تو ہم نے بجلی دینے کی کوشش کی پھراگست میں زیادہ بل آئے۔

    خیال رہے کہ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی کاسٹ کم کرنے کیلئے نجکاری کرنے کی ضرورت ہے، بجلی کے شعبے میں نجکاری ہونے تک یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا، آئی ایم ایف نے کبھی سبسڈی دینے یا بجلی مہنگی کرنے کا نہیں کہا، وزارت خزانہ 500 ارب روپے تک دے تو بجلی سستی ہوسکتی ہے، آئی ایم ایف سے بات کر کے بجلی کے بڑھتے ریٹ کو کچھ عرصے کیلئے مؤخر کرسکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی غلط پالیسی کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف گیا ہے جبکہ شہبازشریف نے آئی ایم ایف سے ڈیل کی ورنہ پتہ نہیں ہم کہاں کھڑے ہوتے اور آئی ایم ایف سے بات کر کے ابھی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز نہیں لینے چاہئیں، ایف بی آر کو مجبوراً ٹیکس لینا ہوتے ہیں وہ بھی مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    مفتاح اسماعیل کے مطابق وفاق کو کنگال کردیا گیا ایسے ملک کس طرح چل سکتاہے؟ ، این ایف سی ایوارڈ کم کرنے کے بعد صوبوں کی ذمہ داری بڑھے گی، صوبوں کو پراپرٹی پر ٹیکس لگانے کی ذمہ داری دینی چاہیے، صوبوں کے پاس وافر پیسے ہوتے ہیں انہیں خرچ کرنے کا نہیں پتا ہوتا، این ایف سی ایوارڈ کے بعد سے وفاق کی 62 فیصد آمدن صوبوں کوچلی جاتی ہے جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ساری حکومت قرض پر چل رہی ہے، گردشی قرضہ مزید بڑھانے کی گنجائش نہیں، گردشی قرضہ مزید بڑھایا تو نظام بیٹھ جائے گا۔

  • فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد کی  چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو ایوان بالاء کے کام کے طریقہ کار اور قانون سازی میں کردار سے متعلق آگاہ کیا۔ریجنل ڈائریکٹر فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فارفریڈم کارسٹن کلین نے چیئرمین سینیٹ کو فاؤنڈیشن کے پاکستان میں کام کے حوالے سے بریف کیا۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ دنیا بھر کے60 ممالک میں خدما ت سرانجام دے رہا ہے۔پاکستان میں 1986 سے دونوں ممالک کی عوام کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے فاؤنڈیشن نے بہت محنت کی ہے۔تاجر برادری کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لئے موثرحکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں توانائی کی حفاظت اور قابل تجدید توانائیوں کی طرف منتقلی کے بارے میں بھی موثر کام کیا گیا ہے۔ پاکستان اور جرمنی دونوں ممالک نے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ مل کر خواتین کی ترقی اور ان کی پائیدار کاروباری صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے موثر کام کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ادارہ علاقائی اقتصادی تعاون، موثرحکمرانی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی جامع حکمت عملی سے کام اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ فنی تعلیم و تربیت، ڈیجیٹلائزیشن، سائنس و ٹیکنالوجی، پبلک مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن و دیگر شعبوں میں مثبت تبدیلی کو فروغ دینے میں فاؤنڈیشن کا کلیدی کردار رہا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جرمنی اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے FNF کے کردار کو سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جمہوری اقدار کے فروغ اور پائیدار ترقی میں فاؤنڈیشن کی گراں قدر خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے موثر حکمت عملی اختیار کریں۔ جرمنی پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے مستفید ہو۔ چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان بالا ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور استعداد کار بہتر بنانے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اداروں کی ترقی اور معاونت لازمی ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کو پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے وفد نے برلن دیوار کا ٹکڑا بطور تحفہ پیش کیا جس کو چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالاء کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھنے کی ہدایت کی۔ملاقات کے دوران سینیٹرز منظور احمدکاکڑ، نصیب اللہ بازئی،پلوشہ محمد زئی خان، سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمدخان اور ڈی جی کوارڈینیشن میر شے مزار بلوچ بھی موجود تھے۔

    دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات جبکہ ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال اور صوبہ بلوچستان کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر منظور احمد کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کرتے ہوئے سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا بی اے پی ایوان بالا میں جمہوری روایات کے فروغ کے فلسفے پر کارفرما ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    علاوہ ازیں بی اے پی رہنما نے کہا کہ جمہوری پارلیمانی روایات کے فروغ اور وفاق و صوبے کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھاتے رہیں گے ۔آزاد ، شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ بی اے پی رہنماؤں کا ملاقات میں موقف اپنایا گیا کہ بی اے پی بلوچستان کے عوام کی آواز بن چکی ہے ۔ بی اے پی کے رہنماؤں کا حلقہ بندیوں پر بھی تبادلہ خیال کریں.

    علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے سیاسی قوتوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا اور چیئرمین سینیٹ نے کہا ملک کو مسائل سے نکالنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے سب کو آگے بڑھنا ہوگا ۔

  • 30؍اگست  یوم پیدائش شیلیندر

    30؍اگست یوم پیدائش شیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    شیلیندر

    30؍اگست 1923: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔
    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں۔
    انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
    شیلیندر 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند.

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند.

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • بلوچستان کے نوجوان نگران وزیر نے گھر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے

    بلوچستان کے نوجوان نگران وزیر نے گھر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے

    بلوچستان کے نگران صوبائی وزیر نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ صوبے میں اب حقیقی تبدیلی کا وقت آچکا ہے جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں نگران صوبائی وزیر جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ نگران حکومت میں مجھے اسپورٹس اور یوتھ افیئرز کی وزارتیں دی گئی ہیں، ان وزارتوں کو خوش قسمتی نہیں بلکہ ذمےداری سمجھتا ہوں۔


    جمال رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ وزارت کا سہرا میرے شہید والد اور بلوچستان کے تمام شہدا کے سر جاتا ہے، جو زمہ داریاں دی گئی ہیں اُنہیں فرض سمجھ کر پورا کروں گا اور اپنے اختیارات کے مطابق بلوچستان کے عوام کی بھرپور خدمت کروں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے گھر اور آفس کے دروازے عوام کیلئے ہر وقت کھلے ہیں، پاکستان زندہ باد۔ تاہم خیال رہے کہ یہ نوجوان شہید شہید نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے صاحبزادے ہیں‌اور انہوں باپ کی شہادت کے وقت کہا تھا کہ نمیرے والد اور بھائی کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی ملک اور صوبے کے لئے مزید قربانیوں کی ضرورت پڑی توہم دریغ نہیں کرینگے ہم نے ہمیشہ لہو سے ملک کی حفاظت کی ہے اور کر تے رہیں گے بلوچستان کو محفوظ بنانے اور روزگار دینے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے.

  • انتخابات آئینی مدت کے اندر ہی ہوں گے. نگران وزیر خارجہ

    انتخابات آئینی مدت کے اندر ہی ہوں گے. نگران وزیر خارجہ

    نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا ہے کہ انتخابات آئینی مدت کے اندر ہی ہوں گے اور ہم غیر سیاسی ہیں لہذا سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے اور ہم عالمی سطح پر پاور پالیٹکس کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ نگراں وزیر خارجہ کا میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکشن کرانا نگراں حکومت کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے اور کوئی شک نہیں یہ مختصر مدت کی نگراں حکومت ہے، ہم اپنے دائرہ میں رہ کر بہت سے کام کر سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے پاکستان میں دہشت گردی کے بعض ذمہ داروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی انڈر سکرٹری سے انتخابات بروقت کرانے پر بات ہوئی تھی اور امریکا نے کسی ملک سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ نہیں کیا لہذا امریکا کے ساتھ تعلقات اور تعاون بہت مضبوط ہے۔

    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات صرف اصولوں کی بنیاد پر ہوسکتے ہیں، بھارتی دہشت گردی کے ہمارے پاس مضبوط شواہد ہیں۔ امید ہے بھارت پاکستان ٹیم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گا، بھارت نے کوئی منفی فیصلہ کیا تو عالمی برادری کو مایوسی ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    خیال رہے کہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ کرکٹ ورلڈ کپ ایک عالمی ایونٹ ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل نہیں ہوئی پے لہذا مسئلہ کشمیر یو این قرار دادوں کے مطابق حل طلب ہے، 5 اگست 2019 کو بھارت نے غیرقانونی اقدامات کئے، بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کرچکا ہے۔

  • گرفتار افراد کے خلاف کارروائی نئے ایکٹ کے تحت ہورہی. وزیر داخلہ

    گرفتار افراد کے خلاف کارروائی نئے ایکٹ کے تحت ہورہی. وزیر داخلہ

    نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائفر معاملے کی تحقیقات کررہی ہے، معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے جبکہ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ ایک حساس معاملہ ہے، یہ نہیں معلوم کہ سائفر معاملے میں گرفتار افراد کے خلاف کارروائی نئے ایکٹ کے تحت ہورہی ہے یا پرانے جبکہ نگراں وزیر داخلہ نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت جیل میں ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال دیکھ کر جیل میں ٹرائل کا فیصلہ کیا، ماضی میں بھی جیل میں ٹرائل ہوتے رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ کی قانونی حیثیت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ صدرمملکت کے ٹویٹ کے باوجود ایکٹ قانون بن چکا ہے، اس قانون کا مقصد پاکستان کے خلاف منظم سازش کو روکنا ہے، عمران خان کی سزا معطلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اب تک ملزم ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر کیسز کا فیصلہ جلدی نہیں ہوتا، ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، عدالت پراپیگنڈے پر نہیں قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ غداری کے مقدمے کو تمغہ نہیں سمجھنا چاہئے، کسی پرغداری کا الزام عائد ہونا مناسب نہیں۔

  • وزیر خزانہ کا بجلی بلوں میں سبسڈی دینے سے انکار

    وزیر خزانہ کا بجلی بلوں میں سبسڈی دینے سے انکار

    نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا ہے کہ مالی گنجائش موجود نہیں،بجلی بلوں میںکسی قسم کی سبسڈی نہیں دے سکتے ہیں جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں واضح کرتے ہوئے شمشاد اختر نے مزید کہا کہ مالی گنجائش موجود نہیں،کسی قسم کی اضافی سبسڈی نہیں دے سکتے، بجلی ٹیرف کی ایڈجسٹمنٹ سمیت آئی ایم ایف کے ساتھ سابق اتحادی حکومت کی جانب سے کئے گئے معاہدے پر مکمل عمل کیا جائے گا ۔

    جبکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شمشاد اختر نے غریب طبقے اور ایس ایم ایز کو بہتری کی نوید بھی سنا دی ہے اور یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے پر عمل نہ کیا تو ڈالر کی آمد رک جائے گی جبکہ بجلی ٹیرف پر آئی ایم ایف معاہدے پر مکمل عمل کیا جائےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ میرا تعلق بہت آرڈنری بیگ گرائونڈ سے ہے،غریبوں کی تکلیف دیکھتی ہوں تو بہت دکھ ہوتا ہے ،سوشل سیفٹی نیٹ میں گنجائش ہے،غریب لوگوں کو سپورٹ کرناہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے حوالے سے ہم اپنی ذمہ داری نبھائیں گے،یہ نہیں ہوسکتا ہے،سابق حکومت کےمعاہدے نظرانداز کردیں جبکہ شمشاداخترنے کہا کہ میرے لئے آئی ایم ایف سے زیادہ پاکستان اہم ہے، بہتری کیلئے پاکستان میں استحکام لانا ضروری ہے۔

  • ہراسگی شکایات کیلئے ایپلی کیشن لانچ کر دی گئی

    ہراسگی شکایات کیلئے ایپلی کیشن لانچ کر دی گئی

    وفاقی محتسب انسداد ہراسگی نے شکایات کیلئے ایپلی کیشن لانچ کر دی ہے، جس کے ذریعے کسی بھی علاقے سے شکایت درج کرائی جاسکے گی جبکہ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی فوزیہ وقار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہراسگی کا مسئلہ پوری دنیا میں ہے، جامعات میں ہراسگی کی شکایات آئی ہیں ، 2019 میں 56 فیصد طلبہ کو ہراسگی کا سامنا رہا، رپورٹ کے مطابق تعلیی اداروں میں 26فیصد طالبات ہراساں ہوئیں۔

    جبکہ فوزیہ وقار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بہاولپور اور اقراء یونیورسٹیز سے شکایات آئی ہیں، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی میں جو واقعہ ہوا افسوسناک ہے علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ 2022 میں 857 ہراسگی کے کیسز آئے باقی پراپرٹی کے کیسز تھے، خواتین کو ترقی کے مواقع نہ دینا اور تنخواہ کم دینا بھی ہراسگی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کے کیسز ہمارے ادارے کی حدود میں نہیں آتے، گھریلو ملازم یا ملازمہ کے ساتھ ہراسگی ہوئی ہے تو وہ ہم کیس سن سکتے ہیں، مردوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تفریق کرنے کے کیسز آتے ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کے ذریعے بھی طلباء میں آگاہی دینا ہے۔

  • ایف آئی اے نے  حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان گرفتار کرلئے

    ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان گرفتار کرلئے

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایف آئی اے ترجمان کے مطابق پشاور میں حوالہ ہنڈی کے خلاف کریک ڈاون کے دوران دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے ایک کروڑ 41 لاکھ روپے کی رقم بھی برآمد کی گئی ہے.

    جبکہ ترجمان نے بتایا ہے کہ گرفتار کئے جانے والے ملزمان کی شناخت محمد قاسم اور محمد سجاد کے ناموں سے ہوئی ہے جو کہ بغیر لائسنس کے منی چینجر کا کاروبار کر رہے تھے اور ترجمان نے مزید یہ بھی بتایا کہ ملزموں کے خلاف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دوسری جانب عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزرتے وقت کے ساتھ پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ایف آئی اے کے ذیلی ادارے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم کی جانب سے سائبر جرائم کے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کوئی جرم جو کمپیوٹر یا کسی اور ڈیجیٹل ڈیوائس سے انٹرنیٹ کے ذریعے کیا گیا ہو وہ سائبر جرم سمجھا جاتا ہے اور ان سائبر جرائم کی ایک لمبی فہرست بھی دی گئی ہے جن کے تحت ہیکنگ یعنی کسی کے کمپیوٹر یا ڈیجیٹل ڈیوائس میں مالک کی مرضی کے بغیر داخل ہونا، ڈیوائس کو نقصان پہچانا، وہاں سے معلومات چوری کرنا، کسی ویب سائیٹ کو ہیک کرنا اور کریک کرکے اس کی شکل تبدیل کرنا یا پھر کسی کو آن لائن ہراساں کرنا، دھمکی دینا یا ان کی معلومات چوری کرنا سائبر جرائم میں آتا ہے۔

    علاوہ ازیں چائلڈ پورنوگرافی، کسی کو انعام نکلنے جیسے دھوکے بازی کی ای میل یا سپیم ای میل، یا ای میل کے ساتھ کوئی خطرناک وائرس بھیجنا، کسی فرد کی معلومات، پاس ورڈ چوری کرنا یا کسی فرد کی شناخت چوری کرکے استعمال کرنا بھی سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی فرد کو آن لائین بدنام کرنا، مالی فراڈ سمیت کئی جرائم سائبر کرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاکستان میں ان جرائم پر کئی قوانین بھی موجود ہیں، جن میں بھاری جرمانے کے ساتھ سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔

  • ڈالر  322 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر 322 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق کاروباری ہفتے کے تیسرے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 1 روپے 4 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    جبکہ مرکزی بینک کے مطابق بدھ کے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 303.05 روپے سے بڑھ کر 304.45 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے تاہم دوسری جانب کرنسی ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 322 روپے کی تاریخی سطح پر جا پہنچا اور امریکی کرنسی کے علاوہ یورو کی قیمت 330 روپے، ملائیشین رنگٹ 65 روپے اور سعودی ریال کی قیمت 81 روپے ریکارڈ کی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    دوسری جانب عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت 21 ڈالر کے اضافے سے فی اونس 1938 ڈالر ہوگئی، جس کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی دیکھے گئے ہیں۔

    علاوہ ازیں عالمی مارکیٹ میں بڑے اضافے کے بعدمقامی سطح پر کراچی، لاہور، اسلام آباد ،پشاوراور کوئٹہ سمیت ملک کی چھوٹی بڑی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت 2900روپے کےاضافےسے2 لاکھ36 ہزار400 روپےپر پہنچ گئی جبکہ اسی طرح10گرام سونےکی قیمت 2486روپےاضافےسے 2 لاکھ 2ہزار675 روپے ہوگئی۔