Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ لاپتہ،سپریم کورٹ بار کا اظہار تشویش

    ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ لاپتہ،سپریم کورٹ بار کا اظہار تشویش

    آڈیولیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی لاپتہ ہوگئے،

    سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے گمشدگی پرتشویش کا اظہارکردیا ، سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ریاض حنیف راہی کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ، ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ بار کے رکن ہیں سپریم کورٹ بار کے ایک رکن کے لاپتہ ہونے پر ایسوسی ایشن آنکھیں بند نہیں کرسکتی وکلاء کے تحفظ اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہیں، یہ ایسوسی ایشن مزید زور دے کر کہتی ہے کہ ملک کا ہر شہری قانون کے یکساں تحفظ کا حقدار ہے، سب کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے پیشے کو بغیر کسی خوف، احسان اور ایذاء کے انجام دیں،

    سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت ہر شہری کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں اور کسی کو ان کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہے، اس طرح کی گمشدگی بنیادی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے، متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کریں

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    چھ جون کو ریاض حنیب راہی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے،دوران سماعت درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے

  • اگر آپ نے تفتیش جوائن کی ہوتی تو ہم آج ہی 8 کیسز کو سن لیتے،عدالت

    اگر آپ نے تفتیش جوائن کی ہوتی تو ہم آج ہی 8 کیسز کو سن لیتے،عدالت

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    وکیل سلمان صفدر ،بیرسٹر گوہر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد غباس حسن نے کی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ شامل تفتیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ ایک کیس ختم کرتے ہیں تین مزید ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے تفتیش جوائن کی ہوتی تو ہم آج ہی 8 کیسز کو سن لیتے ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں آج تیاری کے ساتھ آیا ہوں کہتے ہیں تو میں دلائل دے دیتا ہوں،یہ مقدمات درج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تفتیش جوائن کریں ایسا نہیں ہو سکتا ،ہائیکورٹ میں بھی کہا کہ ویڈیو لنک کے زریعے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہیں ،سیکیورٹی کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم کو کہا کہ آکے شامل تفتیش کر لیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی سے کون ہے،ان کی جانب سے کیا کہا گیا تھا،پراسیکیوٹر عدنان نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے پولیس لائن آنے کا کہا گیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے اپنے اپنے پوائنٹ دیے ہیں، کوئی لچک نہیں دکھا رہا،تفتیشی افسر اپنے اصولوں پر شامل تفتیش جوائن کروانا چاہتے ہیں،پراسیکیوٹر عدنان نے کہا کہ قانون کے مطابق سابق وزیراعظم نے شامل تفتیش ہونا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نقاط دیھا دیں ہم قانون کے تابع ہیں،

    اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ پولیس نے سوال نامہ کیا سابق وزیراعظم کو مہیا کیا ہے؟ چار تفتیشی افسر موجود ہیں، ان کی حد تک تو معاملہ نپٹا لیتے ہیں،سابق وزیراعظم اور تفتیشی افسر بیان دے دیں کہ کتنے بجے شامل تفتیش ہونا،جے آئی ٹی لاہور بیٹھتی ہے، اسلام آباد میں موجود نہیں، وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو شامل تفتیش کرلیں، فیصلہ کل کے لیے محفوظ کرلیں،اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی سے کون آیا ہے؟ پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی کا ریکارڈ موجود ہے آپ کے پاس؟ جے آئی ٹی موجود نہیں، جے آئی ٹی نے کرنا کیا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پولیس کو سابق وزیراعظم کی گرفتاری ہی کیوں چاہیے، عدالت نے کہا کہ دونوں نے مسئلہ بنایاہوا ہے، ایک بندہ کہتا ہے میرے پاس آؤ، دوسرا کہتا ہے میرے پاس آؤ، جس میں چاہتے ہیں اس میں زمان پارک میں بھی جا کر تفتیش کرلی جاتی ہے، پراسیکوٹر عدنان علی نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی صوابدید پر تو شاملِ تفتیش نہیں ہونا نا،سابق وزیراعظم کے عمل سے ظاہر ہورہا شاملِ تفتیش نہیں ہونا چاہتے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم آج شاملِ تفتیش ہو کر ہی واپس جائیں گے،اے ٹی سی جج نے کہا کہ پولیس لائینز جوڈیشل کمپلیکس سے دس منٹ کی دوری پر ہے، عدالت نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ واپس جاتے ہوئے پولیس لائینز میں جا کر شاملِ تفتیش ہو جائیں، وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ
    جوڈیشل کمپلیکس بہترین جگہ ہے شاملِ تفتیش ہونے کے لیے ،سیکیورٹی خدشات کے باعث پولیس لائینز میں شاملِ تفتیش ہونا ممکن نہیں،

    اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ تحریری جواب ریکارڈ پر کیوں نہیں لے رہے؟ کیس لگاہوا ہے، جے آئی ٹی کو عدالت آنا نہیں چاہئے کیا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق وزیراعظم شامل تفتیش ہونا نہیں چاہتے،عدالت نے کہا کہ سابق وزیراعظم تو آ رہے، جے آئی ٹی موجود نہیں، آپ کہہ رہے شامل تفتیش نہیں ہونا چاہ رہے،جے آئی ٹی کو بلا لیتے ہیں، وکیل گوہرعلی نے کہا کہ 150 سے زائد مقدمات درج ہیں، ایک ساتھ کیسے شاملِ تفتیش ہوں،عدالت نے کہا کہ کیا عدالت نے کہا ہے کہ فلاں جگہ شامل تفتیش ہوجائیں؟ وکیل گوہرعلی خان نے کہا کہ عدالت نے نہیں کہاکہ مخصوص جگہ ہی شامل تفتیش ہونا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم ہیں، جان کو خطرہ ہے،اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قتل کے ملزم آتے ہیں، زندگی تو سب کی اہم ہے، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ سابق وزیراعظم کے آنے پر حکومت کے لاکھوں روپے لگتے ہیں، روزمرہ کی بنیاد پر سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمات درج ہورہے، مدعی بھی یہی، غصہ بھی انہیں، تفتیش بھی پولیس نے ہی کرنی، چند دن قبل رات 10 بجے تک اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم کو بٹھائے رکھا، اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب جوڈیشل کمپلیکس ہے، دوسری جانب پولیس لائینز ہیں،پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق وزیراعظم پر ہم مقدمات نہیں کررہے، یہ اپنے اوپر خود کروا رہے ہیں جوڈیشل کمپلیکس پیشیوں پر گاڑیاں جلا رہے ہیں،وکیل گوہرعلی خان نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ہی شاملِ تفتیش ہونے کو تیار ہیں، پراسیکیوشن کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرنا ہے، اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کا جواب اب تک ہمارے پاس موجود نہیں، اے ٹی سی جج نے چیرمین پی ٹی آئی کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا

    قبل ازیں سابق وزیراعظم کے وکیل نعیم پنجوتھا اور علی اعجاز بٹر عدالت پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے وکیل سلمان صفدر ایک گھنٹے تک آرہے ہیں،سابق وزیراعظم لاہور سے اسلام آباد آ رہے، سابق وزیراعظم کے ایک اور کیس میں سلمان صفدر اس وقت کچہری میں مصروف ہیں،سابق وزیراعظم کے خلاف آج 18 کیسز ہیں، اے ٹی سی جج نے ہدایت کی کہ آپ لوگ اپنی مینجمنٹ کے حساب سے عدالت پیش ہو جائیں، کیا چیرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا دیاہے جو وصول بھی کرلیا گیا ہے، اےٹی سی نے زاتی حیثیت میں شاملِ تفتیش کے حوالے سے قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے سماعت میں وقفہ کردیا

    واضح رہے کہ عمران خان اسلام آباد میں مختلف مقدمات میں پیش ہوں گے،9 ضمانتیں جوڈیشل کمپلیکس لگی ہوئی ہیں ،8 پہلے والی عبوری ضمانتیں اور ایک نئی دائر کی گئی، 2 عبوری ضمانتیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس لگی ہوئی ہیں،ہائی کورٹ میں نئی 6 عبوریں ضمانتیں دائر کی جائیں گی ،1 کوئٹہ والی ایف آئی آر حفاظتی ضمانت دائر ہو گئی ہے اور 1 توشہ خانہ معاملہ پر نئی درج ہونے والی ایف آئی آر جس میں کل لاہور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لی تھی اس میں عبوری ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی ہے اور نیب کی طرف سے آج کے لیے عمران خان کو پیش ہونے کا نوٹس موصول ہوا تھا جس میں عمران خان نیب بھی پیش ہونگے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد کردئیے

    عائد اعتراض میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت کو فریق نہیں بنایا جا سکتا، درخواست میں عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے سوال کے بارے میں نہیں بتایا گیا،آرٹیکل 184(3) کے استعمال کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات تسلی بخش نہیں، درخواست گزار نے کسی دوسرے متعلقہ فورم سے نہ رابطہ کیا اور نہ ہی رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتائی، درخواست تحریر کرنے والے وکیل کا نام نہیں بتایا گیا،

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد: عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکررکھی ہے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز پیش ہوئے۔سابق وزیر اعظم نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کررکھا ہے گزشتہ سماعت پر عدالت نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روک دیا تھا

    خواجہ حارث نے آئندہ ہفتے تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لینے کی استدعا کردی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کاروائی کو روک رکھا ہے ،اگر یہ وقت مانگ رہے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لے لے ، عدالت اسٹے ختم کرکے ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روک سکتی ہے ،عدالت سے اسٹے ختم کرنے کی استدعا ہے ،میں نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق بھی درخواست دائر کر رکھی ہے ،چھ ہفتے تک کا وقت دیا گیا تھا ابھی تک ٹرائل کورٹ کی کاروائی رکی ہوئی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی ٹرائل کورٹ کاروائی روکنے کے حکم میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 جون تک توسیع کردی

    دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آبادمسابق وزیراعظم کے وکیل نعیم پنجوتھا اور علی اعجاز بٹر عدالت پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے وکیل سلمان صفدر ایک گھنٹے تک آرہے ہیں،سابق وزیراعظم لاہور سے اسلام آباد آ رہے، سابق وزیراعظم کے ایک اور کیس میں سلمان صفدر اس وقت کچہری میں مصروف ہیں،سابق وزیراعظم کے خلاف آج 18 کیسز ہیں، اے ٹی سی جج نے ہدایت کی کہ آپ لوگ اپنی مینجمنٹ کے حساب سے عدالت پیش ہو جائیں، کیا چیرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا دیاہے جو وصول بھی کرلیا گیا ہے، اےٹی سی نے زاتی حیثیت میں شاملِ تفتیش کے حوالے سے قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے سماعت میں وقفہ کردیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • ایک اور اوورسیز پاکستانی جعلی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں لٹ گیا

    ایک اور اوورسیز پاکستانی جعلی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں لٹ گیا

    اسلام آباد بارہ کہو تھانہ کی حدود میں ایک اور اوورسیز پاکستانی جعلی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں لٹ گیا۔

    سفید کلٹس گاڑی میں سوار وائرلیس سیٹ اٹھائے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے 3 نامعلوم ملزمان دیول مری کے رہائشی سعودی عرب پلٹ خلیل الرحمٰن عباسی سے تلاشی لیتے ہوئے "14 ہزار سعودی ریال” پاسپورٹ چھین کر فرار ہوگئے۔ہفتہ 15 اپریل کو علی الصبح "سفید کلٹس گاڑی نمبر AGH-998” میں سوار وائرلیس سیٹ اٹھائے 03 نامعلوم ملزمان نے ائیر پورٹ سے گاؤں جاتے شہری خلیل الرحمٰن عباسی کی گاڑی کو ڈونگی کسی تھانہ بارہ کہو کے قریب اشارہ دے کر روک لیا،

    وائرلیس سیٹ اٹھائے03 ملزمان نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایجنٹ لگ رہے ہیں، ہمیں تلاشی دیں،شہرئ خلیل الرحمٰن عباسی نے تلاشی دی تو ملزمان خلیل الرحمٰن  سے 14 ہزار سعودی ریال  سمیت پاسپورٹ لے کر موقع سے فرار ہو گئے ۔متاثرہ شہری خلیل الرحمٰن عباسی کے مطابق ملزمان میں سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے کا ظاہری حلیہ عمر 27/28 سال ملیشیا رنگ کے کپڑوں میں ملبوس واسکٹ پہنے۔ دوسرا عمر 25/26 سال پینٹ شرٹ،جبکہ پیچھے بیٹھا تیسرا ملزم پینٹ شرٹ میں ملبوس 24/25 سال کی عمر کا نظر آرہا تھا۔بارہ کہو پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا۔

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    معذور لڑکی کی نعش قبر سے نکال کر بیحرمتی،ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    سات سالہ بچی سے زیادتی کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

  • شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،شہباز گل پر سرکاری اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا معاملہ ،شہباز گل کے وکیل کی آمد پر سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا

    عدالت نے شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے پاس دو آپشن ہیں ،یا تو عدالت کے روبرو پیش ہو جائے تو وارنٹ منسوخ ہو جائیں گے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ یا ملزم کی جانب سے اگر آڈر کو چیلنج کیا جاتا ہے ،عدالت نے استفسارکیا کہ گل صاحب کب آ رہے ہیں ،وکیل شہباز گل نے کہا کہ شہباز گل کی اہلیہ کی سرجری ہونی ہے ابھی کنفرم نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت 26 جون تک سماعت ملتوی کردی

    قبل ازیں عدالت نے شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ کی رپورٹ طلب کر لی . پراسیکیوشن کی جانب سے شہباز گل کی شورٹی کینسل کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوشن نے کاہ کہ لاسٹ ڈیٹ پر شہباز گل کےناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے تھے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کی حد تک ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے اس کی رپورٹ لینی ہے،عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا تھا

    شہباز گل نے پلیڈر مقرر کرنے کی درخواست دائر کر دی .جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ گزشتہ سماعت کے ڈیوٹی جج کے آڈر پر بھی معاونت لے لیتے ہیں ،آڈر میں کچھ واضح نہیں کہ وانٹ جاری ہوئے یا نہیں،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    عابدہ تقی ( ادیبہ و شاعرہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و تبصرہ : آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، نقاد، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار سیدہ عابدہ تقی صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے لیکن ان کی ولادت 11 نومبر 1969 میں ان کے ننہیال کے گھر راولپنڈی میں ہوئی ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید تقی حسین اور والدہ محترمہ کا نام رابعہ خاتون ہے ۔ عابدہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ان کا تعلق سادات نقوی البھاکری اور علمی و ادبی خاندان سے ہے ۔

    عابدہ کے والد نے اردو میں نعت، منقبت اور سلام پر مبنی شاعری کی ہے پیشے کے لحاظ سے وہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ ونگ سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کے دادا جان سید باغ حسین شاہ نقوی کربلائی نے فارسی اور پنجابی میں مدحت رسول، سلام اور منقبت پر مبنی شاعری کی ہے۔ عابدہ تقی صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ انہیں اردو اور انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے جبکہ وہ عربی اور فارسی زبانیں بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی و میٹرک اور سیکنڈری تعلیمات کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے Msc Geography کیا ہے۔ عابدہ نے اپنے کالج لائف کے زمانے سے شاعری شروع کی۔

    معروف شاعر نیساں اکبر آبادی شاعری میں ان کے استاد رہے ہیں ۔ عابدہ تقی کی شاعری حمد، نعت، سلام ، منقبت ، غزل اور نظمیہ اصناف پر مبنی ہے ان کی شاعری میں سماجی ، معاشی و معاشرتی مسائل پر نظر ہے اور قلبی واردات بھی شامل ہے ان کو اپنی ذات کا دکھ بھی ہے تو زمانے کا غم بھی ہے ان کی شاعری میں خوف، مایوسی، ہجر و فراق، احساس محرومی، کسی انہونی کا خوف اور شکوہ شامل ہے تو کہیں وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کی شاعری میں وصل کا احوال نہیں ملتا، مجموعی طور پر ان کی شاعری متاثر کن اور دلپذیر ہے جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

    عابدہ تقی ایک بھرپور اور فعال علمی و ادبی زندگی گزار رہی ہیں ۔ انہیں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی پہلی خاتون سیکریٹری مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے وہ 2011 سے 2013 تک اس عہدے پر فائز رہی ہیں وہ اسلام آباد ادبی فورم کی بھی 2 سال سیکریٹری رہی ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ایم فل کی ایک طالبہ مدیحہ فاطمہ نے ” عابدہ تقی کی ادبی خدمات” کے عنوان سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں تھیسس مکمل کیا ہے۔

    پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نجی ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تنقید و افسانہ نگاری کے علاہ ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو کہ ایران ، عراق اور شام کے مقامات مقدسہ کی زیارت و روداد اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ عابدہ نے ایران ، عراق اور شام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور کویت کی بھی سیاحت کی ہے۔ عابدہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دوسرا فرشتہ-2005
    ۔ (2)فصیل خواب سے آگے-2003
    ۔ (3)دستک باب ِعلم پر-2002
    ۔ (4)منبر سلونی کی اذاں-1999

    عابدہ تقی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
    تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

    کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
    ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

    الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
    گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

    یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
    ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

    جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
    تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

    یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
    سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
    دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں

    اسی کا متن تب و جاں کا کر رہا ہے حصار
    وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں

    ابھی چاند کی خاطر دریچے کھولنا کیا
    ابھی تو شام ہے ، ماہِ تمام آیا نہیں

    ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا چاہتے ہیں
    جو انتخاب ہو دل کا وہ باب آیا نہیں

    دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
    شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کی کھوئی رونق پلٹ آئی ہے تو اب
    غم ستانے لگا ہے شہر کی ویرانی کا

    ان دنوں زیست کا اطراف میں ہے ایک ہی ڈھب
    خوف انہونی کا دھڑکا کسی انجانی کا

    ایک خطبے سے بدل آئی ہوں طاقت کا نصاب
    تخت کو جیت کے زندان سے آئی ہوں

    مرا ہم قدم کسی چاندنی کی جلو میں تھا
    اسے کیا خبر کہ میں چل رہی تھی غبار میں

    دشت احساس میں اڑتی ہے اسی درد کی دھول
    جانے والے نے پلٹ کے بھی نہ دیکھا ہم کو

    یک بہ یک رونق کدوں کے درمیاں سے کٹ گئے
    ایک اس سے کٹ کے ہم سارے جہاں سے کٹ گئے

    یاد رکھتا کون ایسے میں کسی عنوان کو
    مرکزی کردار ہی جب داستاں سے کٹ گئے

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

  • قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس،جعلی ڈگری والے ملازمین کو بحال نہ کرنے کی ہدایت

    قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس،جعلی ڈگری والے ملازمین کو بحال نہ کرنے کی ہدایت

    سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس ہوا

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پر نیا ٹرمینل بنانے کا معاملہ زیر بحث آیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر ہم تین ایئرپورٹ کسی کو دے رہے ہیں تو انہوں نے ہی ڈویلپ کرنا ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ آؤٹ سورسںنگ کوئی جی ٹو جی نہیں کر رہے،اوپن ٹرانسپیرنٹ بڈنگ ہوگی تینوں ایئرپورٹس کے لئے رسپانس آرہے ہیں، ٹرمینل کے لئے بڈنگ پراسس کیا تو تین بڈز آئیں،ٹرمینل ہم خود بنائیں گے تو دو اڑھائی سال لگیں گےابھی تک کسی کو کام ایوارڈ نہیں کیا،ہم بھی اپنے ادارے کا مفاد دیکھ رہے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تین ایئرپورٹ آؤٹ سورس کر رہے ہیں تو کیوں اس پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں،کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا

    پی آئی اے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا، پی آئی اے حکام نے کہا کہ ہمارے پاس تین ہزار دس ڈیلی ویجز ملازمین ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی آئی اے کو چلانا مکمل کاروباری کام ہے،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ کاروبار نہیں، قومی ایئرلائن ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایئرلائن ہر جگہ پر کاروبار ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹشو پیپر لینے کے لئے ان کو چھ مہینے لگتے ہیں، سیکرٹری ایوی ایشن نے کہا کہ تاثر ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین زیادہ ہیں، وقت کے ساتھ پی آئی اے کے جہاز کم ہونا شروع ہوئے، حکومت کے پاس دو آپشن ہیں یا زیادہ پیسے لگائے یا پرائیویٹ سیکٹر کو بلائے، سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا کہ جو جہاز ہیں ان کو ٹھیک کردیں،کمیٹی نے پی آئی آئی اے کے اربوں کے خسارے پر تشویش کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتنے عرصے سے پی آئی اے نقصان میں جارہا ہے، یہ قوم کا پیسہ ہے،کسی ملک میں ہمارے جہاز کو روک بھی دیا جاتا ہے، یہ بھی ہمارے لئے بدنامی ہے، سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ کوئٹہ کی فلائیٹس سے متعلق تفصیلات دی جائیں،

    پی آئی اے کے جعلی ڈگریوں والے ملازمین سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی نے ہدایات تھیں اگر کسی کی بھی جعلی ڈگری ہے اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا،سول ایوی ایشن حکام نے کہا کہ متاثرہ ملازمین کمیٹی نے کچھ ہدایات دیں کہ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائے، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ متاثرہ ملازمین کمیٹی نے ہمیں مزید ایکشن سے روکے رکھا تھا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی اے سی کی میٹنگ میں کہا گیا تھا ان کو ایک دفعہ چانس دیا جائے، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے کوئی ہدایات نہیں آئیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ کمیٹی ایوی ایشن سے متعلقہ ہے،ڈی جی ایف آئی اے کو بریفنگ کے لئے بلائیں،کمیٹی نے معاملے پر بریفنگ کے لئے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر لیا

    ایئرپورٹس پر نئے سکینرز لگانے اور پرانے سکینرز کی اپگریڈیشن کا معاملہ زیر بحث آیا،آئس جدید مشینوں سے بھی ڈیٹیکٹ نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ،ڈی جی سول ایوی ایشن نے اجلاس میں کہا کہ آئس جدید مشینوں سے بھی ڈیٹیکٹ نہیں ہوتی،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئس پتہ نہیں آرہا ہے یا جا رہا ہے؟ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ آ بھی رہا ہےاور جا بھی رہا ہے، سول ایوی ایشن حکام نے کہا کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کی شکایات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دیئے ہیں، نارکوٹس حکام کی جانب سے مسافروں کو تنگ کرنے کی شکایات آتی ہیں،مجبور مسافر رشوت دے کر جان چھڑاتے ہیں،

    کمیٹی اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے کی جگہ ڈائریکٹر ایف آئی اے پہنچ گئے مڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہمیں پی اے سی اور متاثرہ ملازمین کمیٹی کی ہدایات ملیں تھیں ہم نے وزارت داخلہ کو کیس بھجوا دیا ہے، کمیٹی نے جعلی ڈگری والے ملازمین کو بحال نہ کرنے کی ہدایت کر دی ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جعلی ڈگری والوں کو بحال کرنے اور کیسز ختم کرنے سے غلط روایت قائم ہو گی، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں پی اے سی اور متاثرہ ملازمین کمیٹی کی ہدایات ملیں تھیں ہم نے داخلہ منسٹری کو کیس بھجوا دیا ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ آن لائن انسپکشن کے وقت یورپی یونین نے ہم سے سرٹیفیکشن مانگی تھی،

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • سپریم کورٹ کےمخصوص ججز اپنی انا کوپسِ پشت ڈالیں، آئین کی تعظیم کریں،عرفان قادر

    سپریم کورٹ کےمخصوص ججز اپنی انا کوپسِ پشت ڈالیں، آئین کی تعظیم کریں،عرفان قادر

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے مخصوص ججز اپنی انا کو پسِ پشت ڈالیں، آئین کی تعظیم کریں ریاست ججز کو جواب دہ نہیں ، عدلیہ قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔

    باغی ٹی وی : عرفان قادر نے کہا کہ چاہتے ہیں عدلیہ میں تقسیم ختم ہو ، فردِ واحد کسی بھی ادارے پر حاوی نہ ہو کہا جاتا ہے پارلیمنٹ قانون بنانے سے پہلے ہم سے مشورہ کرے ، کل کو حکومت اور پارلیمنٹ بھی کہہ سکتی ہےکہ فیصلہ دینے سے پہلے ہم سے پوچھ لیا کریں۔

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن اور مریم نواز کےخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عرفان قادر نے کہا کہ لگتا ہے یہ لوگ کسی خاص سیاسی گروپ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، مقدمات کی سماعت کے دوران سوال کیا جاتا ہے حکومت کیا کررہی ہے؟ قانون سازی سے پہلے ہم سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟ آپ یہ نہیں کہہ سکتے اسی طرح پارلیمنٹ یہ نہیں کہہ سکتی کہ سپریم کورٹ کیا کررہی ہے؟ ایک سیاسی دھڑا ریاست اور اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔

    یاسمین راشد کی قیادت میں کورکمانڈرہاؤس لاہورپہنچا اور توڑ پھوڑ کی،ملزم کا اعترافی بیان

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مخصوص ججز اپنی انا کو پسِ پشت ڈالیں، آئین کی تعظیم کریں، ہم نے بھی دل بڑا کیا ہے، مل کر قوم اور ملک کے لیے کام کریں۔

  • کوالالمپور میں روکا گیا پی آئی اے کا جہاز اسلام آباد پہنچ گیا

    کوالالمپور میں روکا گیا پی آئی اے کا جہاز اسلام آباد پہنچ گیا

    اسلام آباد: ملائیشیا کی عدالت نے کوالالمپور میں پی آئی اے کے طیارے کو وطن واپسی کی اجازت دے دی جس کے بعد طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملائیشیا کی عدالت سے احکامات جاری ہوتے ہی کوالالمپور سے روانہ ہونے والا پی آئی اے کا طیارہ پاکستان پہنچ گیا۔ بوئنگ 777 طیارے نے اسلام آباد میں لینڈنگ کی،پرواز پی کے 6893 نے ہفتہ کی رات 11 بجے اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی رجسٹریشن APBMH کا بوئنگ 777 طیارہ لیزنگ کمپنی سے ادائیگی کے تنازع پر عدالتی حکم پر کوالالمپور میں روک لیا گیا تھا۔

    پی آئی اے کے طیارے کو واپسی کی اجازت مل گئی

    پی ائی اے کے ملکیتی بوئنگ 777 طیارہ ملائیشیا کی مقامی عدالت کے حکم امتناع پر روکا گیا تھا ،عدالت نے طیارہ روکنے والے حکم کو معطل کر دیا پی آئی اے لیگل ٹیم نے3 دن میں عدالتی حکم کو معطل کروا کے طیارہ واگزار کروا لیا ،26 مئی کو ملائیشیا کی مقامی عدالت نے بغیر پی آئی اے کو طلب یا نوٹس کئے طیارہ روکنے کے احکامات جاری کئے تھے ،طیارہ روکنے کے احکامات 29 مئی کو طیارے کی روانگی سے چند منٹ قبل پی آئی اے اور ائیرپورٹ حکام کو وصول کروائے گئے-

    علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر مقرر

    ذرائع کے مطابق مقامی عدالت نےجمعے کو طیارہ روکنے کے حکم کو پی آئی اے کے حق میں ختم کردیا تھا تاہم بھارتی ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے بھارتی فضائی حدود میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر پی آئی اے کے طیارہ روانگی میں تاخیر ہوئی۔