Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • مشکلات کے باوجود معیشت کے استحکام کیلئے محنت جاری رکھی،وزیرِ اعظم

    مشکلات کے باوجود معیشت کے استحکام کیلئے محنت جاری رکھی،وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیرِ مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے وزیرِ اعظم کو آئندہ بجٹ پر پیش رفت، عوامی ریلیف اور ملکی مجموعی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا. وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں عوامی ریلیف کیلئے اقدامات یقینی بنا رہے ہیں. ملکی معیشت کو مشکل حالات سے استحکام کی طرف لے کر آئے. مشکلات کے باوجود معاشی ٹیم نے معیشت کے استحکام کیلئے محنت جاری رکھی جو لائقِ تحسین ہے.ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب میں متاثرین کو مالی مدد و بحالی کی مد میں بڑا ریلیف پیکیج دیا. تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو عام آدمی تک پہنچانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں.

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف سے ماڈل ٹاؤن میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض اور رکن قومی اسمبلی نواب شیر وسیر کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • پہلے بتا دیتے شیریں مزاری کی گرفتاری کا ایم پی او کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،عدالت

    پہلے بتا دیتے شیریں مزاری کی گرفتاری کا ایم پی او کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی ،ایڈوکیٹ ایمان مزاری اپنے وکیل زینب جنجوعہ کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں،آئی جی اسلام آباد کی عدم موجودگی پر عدالت نے حیرت کا اظہارکیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئی جی نہیں آئے ؟ یہ توہین عدالت کا کیس ہے ، آئی جی کو یہاں ہونا چاہیے تھا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی جی صاحب بنچ ون کے سامنے ہیں کچھ دیر تک آجائیں گے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دن بتا دیتے ریاست کی پوری مشنری کیوں ایکٹیو ہے ،پہلے بتا دیتے شیریں مزاری کی گرفتاری کا ایم پی او کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،یہ بھی بتا دیتے جو کچھ ہو ریا ہے ان کا مقدمات سے کوئی تعلق نہیں تھا ، عدالت کو بتا دیتے یہ سب کچھ سیاست ہو رہی ہے ان کا مقدمات سے کوئی تعلق نہیں ، ریاست پہلے دن بتا دیتی شیریں مزاری کی گرفتاری کا نقص امن کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں ، پوری ریاستی مشنری سیاست میں لگی رہی ہمیں بتا دیتے ، بتا دیتے ہم کوئی اور کیسز سن لیتے کوئی رینٹ کیس کوئی اور کیس سن لیتے ،بادی النظر میں آئی جی نے ڈی سی پنڈی کے آرڈر کو اس عدالت کے آرڈرز پر ترجیع دی ،

    آئی جی اسلام آباد آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لئے گئے، عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کروائیں ،کیس کی مزید سماعت 31 مئی تک ملتوی کر دی گئی

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • اعجاز چوہدری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چوہدری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کو کالعدم قرار دی-

    باغی ٹی وی :اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کی گرفتاری کے خلاف درخو است پر سماعت کی عدالت نے سینیٹر اعجاز چوہدری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا-

    ملک بھر میں آج یوم تکریم شہدائے پاکستان منایا جارہا ہے

    دوسری جانب ملیکہ بخاری اور علی محمد کی نظر بندی کے خلاف اور دوبارہ گرفتاری پر توہین عدالت کیس کی سماعت بھی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی وکیل درخواست گزار تیمور ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کو ڈی سی پنڈی کے احکامات پر دوبارہ گرفتار کیا گیا، دونوں رہنماؤں کو تھری ایم پی او کے تحت ڈی سی پنڈی کے حکم پر گرفتارکیا گیا۔

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    جس پر عدالت نے کہا کہ پنڈی کا کیس ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، آپ اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ سے رجوع کریں بعدازاں عدالت عالیہ نے ہدایت کے ساتھ درخواستیں نمٹا دیں۔

  • بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسد عمر سیاسی کیریئر بھول جائیں،عدالت

    بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسد عمر سیاسی کیریئر بھول جائیں،عدالت

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کی گرفتاری اور تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ، اسد عمر کی جانب سے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے دونوں جانب سے وکلا کے دلائل سننے کے بعد تھری ایم پی او کے تحت اسد عمر کی گرفتاری کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے اسد عمر کو ہدایت کی کہ پرتشدد احتجاج کا حصہ نہ بننے سے متعلق بیان حلفی جمع کرائیں، بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسد عمر سیاسی کیریئر بھول جائیں، عدالت نے اسد عمر کو ٹویٹس بھی ڈیلیٹ کرنے کی ہدایت کی

    عدالت نے اسد عمر کو رہائی کا حکم سناتے ہوئے ہدایت کی کہ رہا ہونے پر پریس کانفرنس کریں جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو آپ کو نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ پریس کانفرنس نہیں کریں گے اس پر اسد عمر کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پریس کانفرنس تو ہم بالکل نہیں کریں گے ، عدالت نے کہا کہ آپ کی کچھ ٹویٹس ہیں انہیں ڈیلیٹ کریں اور جو بیان حلفی عدالت میں جمع کروا رہے ہیں اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو سخت نتائج ہوں گے اسد عمر کا سیاسی کیریئر بھی داؤ پر ہو گا

    اسد عمر کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ سیاست دان ہمیشہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور قانون پر عمل کرانے کیلئے جدوجہد بھی کرتے ہیں پی ٹی آئی رہنما کی کچھ دیگر مقدمات میں ضمانت کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر عدالت نے دونوں جانب سے وکلا کا موقف سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • گزشتہ 10 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 118 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ

    گزشتہ 10 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 118 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر محمدہمایوں مہمند کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-

    جوائنٹ سیکریٹری وزارت صحت نے ملیریا، ایچ آئی وی ایڈز اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے علاوہ گلوبل فنڈ سے ملنے والی امداد اور اس کی تقسیم پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی-سینیٹرز نے حکام سے فنڈز اور کنٹرول پروگرام کے حوالے سے کافی سوال و جواب کئے-انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان کو گلوبل فنڈ کی جانب سے کل 1100 ملین ڈالرز موصول ہوئے ہیں -ان کا کہنا تھا کہ ہوسٹ ملک کو ڈرائیونگ سیٹ پر ہونا چاہئے-کمیٹی نے حکام سے کہا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے گلوبل فنڈ سے جو گزارشات ہیں اس حوالے سے نوٹ کمیٹی کو دے دیں جس کی کمیٹی توثیق کرے گی اور تجاویز بھی نوٹ کے ہمراہ گلوبل فنڈ کو بھیجے گی-حکام کا کہنا تھا کہ ہوسٹ ملک ہونے کے باوجود“اے ایس پی(ایڈیشنل سیفگارڈ پالیسی)”منسوخی کے بعد پاکستان ایچ آئی وی/ایڈز اور ٹی بی کے خلاف مہم نہیں چلا سکتا-کوشش کر رہے ہیں کہ“اے ایس پی”کو بحال کیا جائے-ریڈیو میں بہت موثر آگاہی مہم چلا رہے ہیں اور پہلی دفعہ 150 ملین لوگوں تک ہماری آواز پہنچی ہے-

    حکام کا مزید کہنا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز والوں کیلئے کمیونٹی کئیر سنٹر بنا رہے ہیں تاکہ یہ لوگ ایک ہی کمیونٹی میں رہیں – اسپیشل سیکریٹری وزارت صحت نے بتایا کہ“بلڈ ٹرانسفیوژن کے دوران ایچ آئی وی کی اسکریننگ نہیں کی جاتی اس کے علاوہ جو پاکستانی ڈپورٹ ہو کر وطن واپس آرہے ہیں ان کی میڈیکل کنڈیشن بھی نہیں دیکھی جاتی”-گزشتہ سال تقریباً 26000 پاکستانی جلا وطن ہو کر پاکستان آئے جن میں کسی کی اسکریننگ نہیں ہوئی انہوں نے تجویز دی کہ“بغیر میڈیکل کنڈیشن ,اسکریننگ کے کسی بھی جلا وطن شخص کو پاکستان قبول نا کرے-بہت سے جلا وطن ایچ آئی وی مثبت ہوتے ہیں -“وزارت صحت کے حکام نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں گلوبل فنڈ کی جانب سے 460 ملین ڈالرز پاکستان کو دئیے گئے ہیں -فنڈ کا زیادہ حصہ ٹی بی کیلئے مختص ہے-کمیٹی نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنڈ اتنے ذیادہ مل رہے ہیں لیکن کیسز میں کمی نہیں آرہی بلکہ بڑھ رہے ہیں -جوائنٹ سیکریٹری وزارت صحت نے بتایا کہ“بلوچستان کیلئے گلوبل فنڈ کی جانب سے 26 گاڑیاں دی گئی لیکن پتہ نہیں کہ وہ گاڑیاں کہاں ہیں -چیف سیکریٹری بلوچستان کے ساتھ معاملے کو اٹھایا ہوا ہے-“سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کے سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ“گزشتہ 10 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 118 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں  -انہوں نے بتایا کہ علاج معالجے کی مشین جو پمز میں ہے اس پر راولپنڈی، جہلم، اٹک سے بھی لوگوں کا کافی لوڈ ہے-بدقسمی سے ماضی میں ایچ آئی وی کیسز کے حوالے سے اسلام آباد کیلئے اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے گئے-جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ بہت جلد ڈبلیو ایچ او کی طرز پر ایپ لانچ کر رہے ہیں جس کے بعد ادارے کی کارکردگی کی رپورٹ بھی ڈبلیو ایچ او کے ڈیش بورڈ میں دیکھی جاسکے گی-

    کمیٹی نے سینیٹر نصیب اللّہ بازئی کی جانب سے پیش کیا گیا“دی پرائم یونیورسٹی آف نرسنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد بل 2022”کو موور نہ ہونے کی وجہ سے خارج کردیا گیا-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ 500 دن ہوگئے ہیں یونیورسٹی بل پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی جبکہ سینیٹر نصیب اللّہ بازئی نے بھی بتایا کہ وہ اس معاملے کی نمائندگی نہیں کرتے-چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو اس بل کو دوبارہ ایجنڈے پر رکھ دیں گے-کمیٹی میں سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے پیش کیاگیا“دی پاکستان فارمیسی(ترمیمی) بل 2022”طویل بحث کے بعد متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا-کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فارمیسی کونسل کی جانب سے جس شق پر خدشات کا اظہار کیا گیا کمیٹی اس کو خود دیکھے گی-

    شہری حاجی عبدالوہاب کی خیبرپختونخواہ صوبے کو تعلیم اور صحت کیلئے فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے عوامی عرضی نمبر 5226 کو بحث کے بعد خارج کردیاگیا-چئیرمین کمیٹی نے بتایا کہ فنڈز کا معاملہ صوبوں کا اختیار ہے لیکن اپنے دائر اختیار میں رہتے ہوئے کمیٹی محکمہ صحت خیبرپختونخواہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کو معاملے کے حوالے سے خط ضرور لکھے گی-سینیٹرفوزیہ ارشد کی جانب سے اسلام آباد کے دیہی اور شہری علاقوں میں ڈینگی کے پھیلاو اور سینیٹر مہرتاج روغانی کی جانب خیبرانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال پشاور کو فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملات موور نہ ہونے کی وجہ سے موخر کردئے گئے-

    صدر پی ایم ڈی سی نے کونسل ممبرز کی تقرریوں کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا-صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ چارج سنبھالنے کے بعد کونسل کی ابتدائی ایک میٹنگ ہو چکی ہے اگلی میٹنگ چند روز میں متوقع ہے-کمیٹی ممبران کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کونسل ممبران کی تقرریاں میرٹ پر ہوئی ہیں جبکہ تقرری بھی وزیراعظم خود کرتے ہیں -سینیٹر سردار شفیق ترین نے کونسل ممبران کی تقرریوں کے حوالے سے چند تحفظات کا اظہار کیا اور کونسل ممبران کے کوائف دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد چئیرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں کونسل ممبران کی تقرریوں بارے پی ایم ڈی سی حکام سے دوبارہ بریفنگ طلب کرلی-وزارت صحت نے میڈیا میں کونسل ممبران کی میرٹ اور قانون کے برخلاف تقرریوں کے حوالے سے خبروں کی تردید کردی-

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

  • گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    احتساب عدالت کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    باغی ٹی وی: عدالت نے 8 جون تک عمران خان کی 8 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی اے ٹی سی کے جج راجہ جواد عباس نے سماعت کی جس کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عمران خان کے خلاف 8 کیسز ہیں۔

    احتساب عدالت ،بشری بی بی کی عبوری ضمانت منظور

    اے ٹی سی کے جج نے عمران خان کو کمرہ عدالت میں بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صرف ایک کیس میں عمران خان کا اسٹیٹمنٹ نہیں لیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو شدید سیکیورٹی خدشات ہیں، ان پر صرف دفعہ 109 کا الزام ہے، تمام مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی ہے، جےآئی ٹی بنی اور عمران خان شاملِ تفتیش ہو گئے، ان کو کوئی انا کا مسئلہ نہیں، ان کے خلاف کیسز کی بڑی تعداد ہے-

    وکیل نے کہا کہ اگر کوئی دیگر تفتیش چاہیے تو عمران خان اس میں بھی شاملِ تفتیش ہونے کے لیے تیار ہیں، اےٹی سی میں کیس لگا ہو تو یہ عدالت پہنچ نہیں پاتے، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ان کے خلاف بے شمار کیسز ہیں، تفتیشی افسر نے عمران خان سے کوئی سوال کرنا ہے تو آج کر لیں، 8 کیسز میں آئندہ تاریخ پر معاونت کرنے کو تیار ہوں۔

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے انہیں ہدایت کی کہ آج دلائل مکمل کر لیں وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے نیب راولپنڈی بھی جانا ہے۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    وکیل سلمان صفدر نے عمران خان کی 8 مقدمات میں ضمانت منظور کرنے کی استدعا کر تے ہوئے کہا کہ ہماری استدعا یہی ہے کہ کمرۂ عدالت میں ہی شاملِ تفتیش کیا جائے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے ہدایت کی کہ آپ تو ایک کیس میں شاملِ تفتیش ہو چکے اسی پر دلائل دے دیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں ایک ساتھ ہی دلائل دینا چاہتا ہوں۔

    پراسیکیوٹر عدنان علی نے عدالت کو بتایا کہ 4 مقدمات میں جے آئی ٹی بنی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا عدالتی حکم نامہ پیش کیا، 27 مارچ کو ایک ہی حکم نامہ ہوا، نوٹسز ہوتے رہے، 6 اپریل، 18 اپریل کو پیش ہوں، لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے، 3 مئی کو کہا کہ اگلی تاریخ پر لازمی پیش ہوں لیکن یہ شاملِ تفتیش نہیں ہوئے۔

    اے ٹی سی کے جج نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے سوالنامہ ان کو دیا ہے؟ پراسیکیوٹر عدنان علی نے بتایا کہ 4 مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنی لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے، پھر کہا گیا کہ ٹانگ خراب ہے، عمران خان پیش نہیں ہو سکتے، عدالت سے استدعا ہے کہ ہدایت دیں کہ عمران خان مقدمات میں شاملِ تفتیش ہوں۔

    کراچی کے لوگوں کی محبت اور زندہ دلی وطن اور گھر سے دوری کا احساس …

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جے آئی ٹی سے سوالنامہ دینے یا ویڈیو لنک پر شاملِ تفتیش ہونے کا کہا گیا، عمران خان کی عدالت میں پیشیوں پر پیسے لگتے ہیں کیونکہ کیسز بے انتہا ہیں جج نے استفسار کیا کہ پنجاب کے جو مقدمات تھے ان میں جے آئی ٹی نے کیسے کام کیا؟

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی بنائی گئی اور پوری جے آئی ٹی زمان پارک میں آئی اور شاملِ تفتیش کیا گیا، عمران خان کو جان کا خطرہ ہےاس موقع پر پراسیکیوٹر کی جانب سے عمران خان کو جے آئی ٹی میں شاملِ تفتیش کرنے کی استدعا کی گئی۔

    جج نے سوال کیا کہ جب عمران خان پولیس لائنز میں موجود تھے تو کیوں انہیں شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا؟ عدالت سے فیصلہ لیتے اور پولیس لائنز میں عمران خان کو شاملِ تفتیش کر لیتے، لاہور کی جے آئی ٹی ان کے گھر چلی جاتی، اسلام آباد کی جے آئی ٹی نے شاملِ تفتیش کیوں نہیں کیا؟

    اے ٹی سی کے جج نے کہا کہ جے آئی ٹی اسلام آباد عدالت کو بتائے کہ کیسے شاملِ تفتیش کرنا چاہتے ہیں؟ جے آئی ٹی اسلام آباد کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ عدالت میں ہی موجود نہیں، اگر جے آئی ٹی سنجیدہ ہوتی تو آج عدالت میں موجود ہوتی اے ٹی سی کے جج نے آدھے گھنٹے میں جے آئی ٹی اسلام آباد کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    نیب پیشی عمران خان بشریٰ بی بی کے ہمراہ روانہ،گرفتاری کا بھی خوف

    سابق وزیراعظم عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور موقف اپنایا کہ ایک قاتلانہ حملہ ہوا، دوسرا ہوا، وزیر داخلہ کا بیان آیا میری جان کو شدید خطرہ ہے۔ گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں وزیر داخلہ میرا مخالف ہے وہ کہہ رہا ہے جان کو خطرہ ہے۔ مجھے بھی معلوم ہوا جان کو خطرہ ہے۔میں شاملِ تفتیش ہونا چاہتا ہوں میرے گھر آجائیں، میں شامل تفتیش ہو جاؤں گا۔

    انسداد دہشتگردی کے جج نے کہا کہ آپ کی درخواست آگئی ہے میں اس پر حکم نامہ جاری کروں گا انسداد دہشتگردی کی عدالت نے آٹھ مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں آٹھ جون تک توسیع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات درج ہیں جن میں وہ آج انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    ایران نے علی رضا عنایتی کوسعودی عرب میں سفیر مقرر کردیا

  • ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پراسلام آباد پولیس کا لاعلمی کا اظہار

    ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پراسلام آباد پولیس کا لاعلمی کا اظہار

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پر اسلام آباد پولیس نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی رہنماؤں ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کی-

    نیب پاکستانی ہائی کمیشن لندن کا تقریباً 57 کروڑ روپے کا نادہندہ نکلا

    اسلام آباد پولیس نے عدالتی استفسار پر پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کہ ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کس کی تحویل میں ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دونوں پی ٹی آئی رہنما ایم پی او کے تحت تحویل میں تھے، اسلام آباد پولیس سے جواب طلب کیا جائے کہ دونوں کو رہائی کے بعد کس نے گرفتار کیا؟ دونوں کو اگر اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے تو ملاقات کا موقع دیا جائے۔

    کرپشن چارجز پرسزائے موت رکھی جائے ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

    بعدازاں عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

  • شیریں مزاری کی رہائی بعد دوبارہ گرفتاری،مناسب حکم جاری کرینگے،عدالت

    شیریں مزاری کی رہائی بعد دوبارہ گرفتاری،مناسب حکم جاری کرینگے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں کیسوں کی باقاعدہ سماعت کا آغاز کردیا گیا

    ڈاکٹر شیریں مزاری کی رہائی بعد دوبارہ گرفتاری پر دائر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل ، پولیس حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوئے، جیل حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے، آئی جی اسلام آباد روسٹرم پر موجود تھے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مناسب حکم نامہ جاری کرینگے ، توہین عدالت کی درخواست میں آئی جی اسلام آباد کو فریق نہیں بنایا گیا، اس درخواست پر آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کیا جا سکتا، وکیل شیریں مزاری نے کہا کہ ہم اپنی درخواست میں ترمیم کر دیتے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ فواد چوہدری کیس میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی تھی، عدالت نے حکومت کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا، اس پر حکم نامہ جاری کرینگے ،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے اختتام پر نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی مہمان خصوصی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    راولپنڈی، لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے باہر ایمان مزاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری والدہ کو ایک ہفتے میں تین دفعہ گرفتار کیا گیا، آج عدالت نے میری والدہ کا دوسرا ایم پی او آرڈر کلعدم قرار دیاحکومت کو سوچنا چاہئیے گھروں کو اسطرح برباد نہ کرے،میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، افسوس کی بات ہے عمران خان کارکنوں اور لیڈر شپ کو بھول گئے،

  • یہ وقت گزر جائے گا، لیکن یہ دھبہ ہمیشہ رہے گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ

    یہ وقت گزر جائے گا، لیکن یہ دھبہ ہمیشہ رہے گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ

    تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف فریقین کے خلاف توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز ٹاک شو میں نہیں جا سکتے،عدالت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے،کیا وجہ ہے آئینی ادارے کے آڈرز کو ہوا میں اڑایا جا رہا ہے، اس سنگین معاملے کو اٹارنی جنرل ہائیر اتھارٹی کے ساتھ مشورہ کر لے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے،اور کہا کہ یہ وقت گزر جائے گا، لیکن یہ دھبہ ہمیشہ رہے گا، ہم یہاں خدمت کے لئے بیٹھے ہیں، ہم جمہوریت میں رہ رہے ہیں، ہم اس کمپین سے بھی واقف ہیں جو آئینی عدالتوں کے خلاف جاری ہے، جو بھی ہوا وہ پاکستان کے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ہم ٹاک شو میں بیٹھ کر خود کو ڈیفنڈ نہیں کر سکتے، عدالتی رٹ کیسے قائم رہ سکتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے شیریں مزاری کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری پر بیان دیا اور کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا ، روسٹرم پر کھڑے وکلا بول پڑے اور کہا کہ ہم عدالت کے ساتھ ہیں،عدالت نے کہا کہ پنجاب پولیس ڈائریکٹ اسلام آباد سے کسی کو گرفتار نہیں کر سکتی ، ہادی النظر میں اسلام آباد پولیس خود کو اس سے الگ نہیں کر سکتی ، کیا پنجاب پولیس کو اسلام آباد نے بتایا تھا کہ عدالت نے گرفتاری سے روکا ہوا ہے ؟

    توہین عدالت کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کو پنجاب پولیس کے حوالے کیوں کیا ؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر تک آئی جی اسلام آباد سے جواب طلب کرلیا

    پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کا نظر بندی کیس ،جسٹس چودھری عبدالعزیز نے سماعت 22 مئی تک سماعت ملتوی کردی عدالت نے حکومت پنجاب سے پی ٹی آئی کے نظر بند تمام رہنماؤں اور کارکنوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر مقدمات کے رہنماؤں و کارکنوں کو ڈیٹینشن میں کیوں رکھا گیا ہے،جن کارکنوں و رہنماؤں پر مقدمات نہیں انکی تفصیل عدالت میں پیش کریں، ڈاکٹر شیریں مزاری کے وکلاء نے شیریں مزاری سے جیل میں ملاقات کی درخواست دائر کر دی، وکلا نے کہا کہ جیل حکام اور ڈپٹی کمشنر نے ملاقات کرانے سے انکار کردیا ہےڈاکٹر شیریں مزاری کی حالت درست نہیں ہے انہیں ادویات کی فوری ضرورت ہے، وکلاء انیق کھٹانہ،بیرسٹر شعیب نے درخواست دائر کی ،عدالت نے شیریں مزاری کے وکلاء کو شیریں مزاری سے ملاقات کی اجازت دے دی ،شیریں مزاری سے ملاقات کیلئے انکے وکلاء کو عدالت کے تحریری حکم نامے کا انتظار ہے.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو حالیہ دنوں میں تیسری بار گرفتار کیا گیا ہے، دو بار عدالت انہیں رہا کر چکی ہے،تیسری بار پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے اختتام پر نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی مہمان خصوصی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔