Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

  • گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    احتساب عدالت کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    باغی ٹی وی: عدالت نے 8 جون تک عمران خان کی 8 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی اے ٹی سی کے جج راجہ جواد عباس نے سماعت کی جس کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عمران خان کے خلاف 8 کیسز ہیں۔

    احتساب عدالت ،بشری بی بی کی عبوری ضمانت منظور

    اے ٹی سی کے جج نے عمران خان کو کمرہ عدالت میں بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صرف ایک کیس میں عمران خان کا اسٹیٹمنٹ نہیں لیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو شدید سیکیورٹی خدشات ہیں، ان پر صرف دفعہ 109 کا الزام ہے، تمام مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی ہے، جےآئی ٹی بنی اور عمران خان شاملِ تفتیش ہو گئے، ان کو کوئی انا کا مسئلہ نہیں، ان کے خلاف کیسز کی بڑی تعداد ہے-

    وکیل نے کہا کہ اگر کوئی دیگر تفتیش چاہیے تو عمران خان اس میں بھی شاملِ تفتیش ہونے کے لیے تیار ہیں، اےٹی سی میں کیس لگا ہو تو یہ عدالت پہنچ نہیں پاتے، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ان کے خلاف بے شمار کیسز ہیں، تفتیشی افسر نے عمران خان سے کوئی سوال کرنا ہے تو آج کر لیں، 8 کیسز میں آئندہ تاریخ پر معاونت کرنے کو تیار ہوں۔

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے انہیں ہدایت کی کہ آج دلائل مکمل کر لیں وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے نیب راولپنڈی بھی جانا ہے۔

    جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    وکیل سلمان صفدر نے عمران خان کی 8 مقدمات میں ضمانت منظور کرنے کی استدعا کر تے ہوئے کہا کہ ہماری استدعا یہی ہے کہ کمرۂ عدالت میں ہی شاملِ تفتیش کیا جائے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے ہدایت کی کہ آپ تو ایک کیس میں شاملِ تفتیش ہو چکے اسی پر دلائل دے دیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں ایک ساتھ ہی دلائل دینا چاہتا ہوں۔

    پراسیکیوٹر عدنان علی نے عدالت کو بتایا کہ 4 مقدمات میں جے آئی ٹی بنی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا عدالتی حکم نامہ پیش کیا، 27 مارچ کو ایک ہی حکم نامہ ہوا، نوٹسز ہوتے رہے، 6 اپریل، 18 اپریل کو پیش ہوں، لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے، 3 مئی کو کہا کہ اگلی تاریخ پر لازمی پیش ہوں لیکن یہ شاملِ تفتیش نہیں ہوئے۔

    اے ٹی سی کے جج نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے سوالنامہ ان کو دیا ہے؟ پراسیکیوٹر عدنان علی نے بتایا کہ 4 مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنی لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے، پھر کہا گیا کہ ٹانگ خراب ہے، عمران خان پیش نہیں ہو سکتے، عدالت سے استدعا ہے کہ ہدایت دیں کہ عمران خان مقدمات میں شاملِ تفتیش ہوں۔

    کراچی کے لوگوں کی محبت اور زندہ دلی وطن اور گھر سے دوری کا احساس …

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جے آئی ٹی سے سوالنامہ دینے یا ویڈیو لنک پر شاملِ تفتیش ہونے کا کہا گیا، عمران خان کی عدالت میں پیشیوں پر پیسے لگتے ہیں کیونکہ کیسز بے انتہا ہیں جج نے استفسار کیا کہ پنجاب کے جو مقدمات تھے ان میں جے آئی ٹی نے کیسے کام کیا؟

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی بنائی گئی اور پوری جے آئی ٹی زمان پارک میں آئی اور شاملِ تفتیش کیا گیا، عمران خان کو جان کا خطرہ ہےاس موقع پر پراسیکیوٹر کی جانب سے عمران خان کو جے آئی ٹی میں شاملِ تفتیش کرنے کی استدعا کی گئی۔

    جج نے سوال کیا کہ جب عمران خان پولیس لائنز میں موجود تھے تو کیوں انہیں شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا؟ عدالت سے فیصلہ لیتے اور پولیس لائنز میں عمران خان کو شاملِ تفتیش کر لیتے، لاہور کی جے آئی ٹی ان کے گھر چلی جاتی، اسلام آباد کی جے آئی ٹی نے شاملِ تفتیش کیوں نہیں کیا؟

    اے ٹی سی کے جج نے کہا کہ جے آئی ٹی اسلام آباد عدالت کو بتائے کہ کیسے شاملِ تفتیش کرنا چاہتے ہیں؟ جے آئی ٹی اسلام آباد کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ عدالت میں ہی موجود نہیں، اگر جے آئی ٹی سنجیدہ ہوتی تو آج عدالت میں موجود ہوتی اے ٹی سی کے جج نے آدھے گھنٹے میں جے آئی ٹی اسلام آباد کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    نیب پیشی عمران خان بشریٰ بی بی کے ہمراہ روانہ،گرفتاری کا بھی خوف

    سابق وزیراعظم عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور موقف اپنایا کہ ایک قاتلانہ حملہ ہوا، دوسرا ہوا، وزیر داخلہ کا بیان آیا میری جان کو شدید خطرہ ہے۔ گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہوں وزیر داخلہ میرا مخالف ہے وہ کہہ رہا ہے جان کو خطرہ ہے۔ مجھے بھی معلوم ہوا جان کو خطرہ ہے۔میں شاملِ تفتیش ہونا چاہتا ہوں میرے گھر آجائیں، میں شامل تفتیش ہو جاؤں گا۔

    انسداد دہشتگردی کے جج نے کہا کہ آپ کی درخواست آگئی ہے میں اس پر حکم نامہ جاری کروں گا انسداد دہشتگردی کی عدالت نے آٹھ مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں آٹھ جون تک توسیع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات درج ہیں جن میں وہ آج انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    ایران نے علی رضا عنایتی کوسعودی عرب میں سفیر مقرر کردیا

  • ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پراسلام آباد پولیس کا لاعلمی کا اظہار

    ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پراسلام آباد پولیس کا لاعلمی کا اظہار

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری پر اسلام آباد پولیس نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی رہنماؤں ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کی دوبارہ گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کی-

    نیب پاکستانی ہائی کمیشن لندن کا تقریباً 57 کروڑ روپے کا نادہندہ نکلا

    اسلام آباد پولیس نے عدالتی استفسار پر پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کہ ملیکہ بخاری اور علی محمد خان کس کی تحویل میں ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دونوں پی ٹی آئی رہنما ایم پی او کے تحت تحویل میں تھے، اسلام آباد پولیس سے جواب طلب کیا جائے کہ دونوں کو رہائی کے بعد کس نے گرفتار کیا؟ دونوں کو اگر اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے تو ملاقات کا موقع دیا جائے۔

    کرپشن چارجز پرسزائے موت رکھی جائے ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

    بعدازاں عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

  • شیریں مزاری کی رہائی بعد دوبارہ گرفتاری،مناسب حکم جاری کرینگے،عدالت

    شیریں مزاری کی رہائی بعد دوبارہ گرفتاری،مناسب حکم جاری کرینگے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں کیسوں کی باقاعدہ سماعت کا آغاز کردیا گیا

    ڈاکٹر شیریں مزاری کی رہائی بعد دوبارہ گرفتاری پر دائر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل ، پولیس حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوئے، جیل حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے، آئی جی اسلام آباد روسٹرم پر موجود تھے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مناسب حکم نامہ جاری کرینگے ، توہین عدالت کی درخواست میں آئی جی اسلام آباد کو فریق نہیں بنایا گیا، اس درخواست پر آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کیا جا سکتا، وکیل شیریں مزاری نے کہا کہ ہم اپنی درخواست میں ترمیم کر دیتے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ فواد چوہدری کیس میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی تھی، عدالت نے حکومت کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا، اس پر حکم نامہ جاری کرینگے ،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے اختتام پر نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی مہمان خصوصی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    راولپنڈی، لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے باہر ایمان مزاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری والدہ کو ایک ہفتے میں تین دفعہ گرفتار کیا گیا، آج عدالت نے میری والدہ کا دوسرا ایم پی او آرڈر کلعدم قرار دیاحکومت کو سوچنا چاہئیے گھروں کو اسطرح برباد نہ کرے،میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، افسوس کی بات ہے عمران خان کارکنوں اور لیڈر شپ کو بھول گئے،

  • یہ وقت گزر جائے گا، لیکن یہ دھبہ ہمیشہ رہے گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ

    یہ وقت گزر جائے گا، لیکن یہ دھبہ ہمیشہ رہے گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ

    تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف فریقین کے خلاف توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز ٹاک شو میں نہیں جا سکتے،عدالت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے،کیا وجہ ہے آئینی ادارے کے آڈرز کو ہوا میں اڑایا جا رہا ہے، اس سنگین معاملے کو اٹارنی جنرل ہائیر اتھارٹی کے ساتھ مشورہ کر لے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے،اور کہا کہ یہ وقت گزر جائے گا، لیکن یہ دھبہ ہمیشہ رہے گا، ہم یہاں خدمت کے لئے بیٹھے ہیں، ہم جمہوریت میں رہ رہے ہیں، ہم اس کمپین سے بھی واقف ہیں جو آئینی عدالتوں کے خلاف جاری ہے، جو بھی ہوا وہ پاکستان کے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ہم ٹاک شو میں بیٹھ کر خود کو ڈیفنڈ نہیں کر سکتے، عدالتی رٹ کیسے قائم رہ سکتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے شیریں مزاری کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری پر بیان دیا اور کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا ، روسٹرم پر کھڑے وکلا بول پڑے اور کہا کہ ہم عدالت کے ساتھ ہیں،عدالت نے کہا کہ پنجاب پولیس ڈائریکٹ اسلام آباد سے کسی کو گرفتار نہیں کر سکتی ، ہادی النظر میں اسلام آباد پولیس خود کو اس سے الگ نہیں کر سکتی ، کیا پنجاب پولیس کو اسلام آباد نے بتایا تھا کہ عدالت نے گرفتاری سے روکا ہوا ہے ؟

    توہین عدالت کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کو پنجاب پولیس کے حوالے کیوں کیا ؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر تک آئی جی اسلام آباد سے جواب طلب کرلیا

    پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کا نظر بندی کیس ،جسٹس چودھری عبدالعزیز نے سماعت 22 مئی تک سماعت ملتوی کردی عدالت نے حکومت پنجاب سے پی ٹی آئی کے نظر بند تمام رہنماؤں اور کارکنوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر مقدمات کے رہنماؤں و کارکنوں کو ڈیٹینشن میں کیوں رکھا گیا ہے،جن کارکنوں و رہنماؤں پر مقدمات نہیں انکی تفصیل عدالت میں پیش کریں، ڈاکٹر شیریں مزاری کے وکلاء نے شیریں مزاری سے جیل میں ملاقات کی درخواست دائر کر دی، وکلا نے کہا کہ جیل حکام اور ڈپٹی کمشنر نے ملاقات کرانے سے انکار کردیا ہےڈاکٹر شیریں مزاری کی حالت درست نہیں ہے انہیں ادویات کی فوری ضرورت ہے، وکلاء انیق کھٹانہ،بیرسٹر شعیب نے درخواست دائر کی ،عدالت نے شیریں مزاری کے وکلاء کو شیریں مزاری سے ملاقات کی اجازت دے دی ،شیریں مزاری سے ملاقات کیلئے انکے وکلاء کو عدالت کے تحریری حکم نامے کا انتظار ہے.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو حالیہ دنوں میں تیسری بار گرفتار کیا گیا ہے، دو بار عدالت انہیں رہا کر چکی ہے،تیسری بار پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے اختتام پر نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی مہمان خصوصی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

  • اسلام آباد میں ملازمت پیشہ خواتین بھی غیر محفوظ

    اسلام آباد میں ملازمت پیشہ خواتین بھی غیر محفوظ

    اسلام آباد میں ملازمت پیشہ خواتین بھی غیر محفوظ ہو ئیں
    تھانہ بنی گالہ کے علاقے میں خاتون کو جنسی طور پر حراساں کرنے کا کیس سامنے آ گیا۔ بنی گالہ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ خاتون کے مطابق نجی کمپنی میں بطور منیجر کام کر رہی ہوں .تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے، خاتون کا کہنا ہے کہ کمپنی کے سی ای او محمد رفیع نے مجھے پکڑ لیا اور حراساں کیا۔ میری دو ماہ کی تنخواہ بھی ادا نہیں کی مطالبہ کیا تو ملزم نے حراساں کرنا شروع کر دیا۔ملزم حراساں کے ساتھ ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف ضابطے کی کارروائی شروع کر دی ہے

    درج ایف آئی آر میں خاتون کا کہنا ہے کہ پنڈی کی رہائشی ہوں اور الرحمان ایسوسی ایٹ میں ڈیوٹی سرانجام دیتی ہوں،کمپنی کے سی ای او نے مجھے دفتر میں پکڑ کر جسمانی ہراسمنٹ شروع کر دی،راجہ رفیع نے دو ماہ کی تنخواہ بھی نہیں دی،جب تنخواہ کا مطالبہ کیا تو کہتا ہے کہ ریٹائر کرنل ہوں جس کو بتانا ہے بتا لو،اقصیٰ جلیل کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • اسلام آباد میں صحافیوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا

    اسلام آباد میں صحافیوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا
    تین نامعلوم مسلح افراد نے صحافیوں عمر چیمہ اور⁩ اعزاز سید کو 14 مئی کو دوران واک فضل حق روڈ پر گن پوائنٹ پر لوٹ لیا دو موبائل فونز و نقدی چھین لیں۔ عمر چیمہ سے انکے IPhone 14 کا پاس ورڈ بھی لے لیا گیا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے

    تھانہ کوہسار میں اعزاز سید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اپنے دوست عمر چیمہ کے ہمراہ تقریبا رات ساڑھے آٹھ بجے فضل حق روڈ پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ تین موٹر سائیکل سواروں نے ہمیں پستول دکھا کر روک لیا اور مجھ سے میرا اوپو فون،اور 15، بیس ہزار روپے چھین لئے،عمر چیمہ سے اسکا آئی فون چھین لیا، یہ تین افراد موٹر سائیکل 125 پر سوار تھے،انہوں نے عمر چیمہ سے موبائل فون کا کوڈ پوچھا اور پھر پولی کلینک کی جانب چلے گئے،تین میں سے دو افراد کی عمریں 25 سے 35 برس کے درمیان تھیں، موٹر سائیکل سوار گورے رنگ کا حامل تھا جبکہ پستول تاننے والا گندمی رنگ کا تھا اور اس نے ہلکی داڑھی بھی رکھی تھی اور منہ پر ماسک تھا، تیسرے شخص کے بارے میں غور نہ کر سکے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی 70 سے زائد وارداتیں،ملزم گرفتار

    ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی 70 سے زائد وارداتیں،ملزم گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) اورپو لیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان ابوطالب اور توصیف شاہ کو گرفتار کر لیا۔

    ملزمان نے 6 مئی 2023 کو بنگلہ بازار اورنگی ٹاؤن میں گھر کے باہر کھڑے شہری سے گن پوائنٹ پر ڈکیتی کی جس میں مو بائل فون اور نقدی لو ٹی تھی۔ وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سو شل میڈ یا پر وائر ل ہوئی جس میں ملزمان کو واردات کر تے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملز مان نے اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد سائیٹ اور گردونواح کے علاقوں میں ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی 70 سے زائد وارداتوں میں 200 موبائل فونزاور10 لاکھ روپے سے زائد نقدی لوٹنے کا اعتراف کیا ہے۔ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    گرفتارملزمان کو مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    پنجاب انتخابات کے لئے مبینہ طور پر ٹارگٹ کلر کو ٹکٹ جاری

  • آئی جی صاحب ” گڈ ٹو سی یو“جج کے آئی جی سے مکالمہ پر کمرہ عدالت میں قہقہے

    آئی جی صاحب ” گڈ ٹو سی یو“جج کے آئی جی سے مکالمہ پر کمرہ عدالت میں قہقہے

    تحریک انصاف کے رہنما فوادچودھری کی گرفتاری کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

    آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آئی جی صاحب ” گڈ ٹو سی یو“جج کے آئی جی سے مکالمہ پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے ،

    چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی پیشی پر ”گڈ ٹو سی یو“ کہا تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے گزشتہ روز عمران خان کو کہے گئے جملے کی وضاحت بھی کی ،

    آئی جی اسلام آباد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں موقف اپنایا کہ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری پر 2 مقدمات ہیں، ان کو گرفتار نہیں کیا گیا، فواد چوہدری کو گرفتار نہ کرنے کا ہائیکورٹ کا آرڈر نہیں پہنچا تھا۔عدالت نے آئی جی اکبر ناصر خان کے بیان کے بعد فواد چوہدری کی درخواست نمٹا دی ،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تمام مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد فواد چوہدری اسلام آباد ہائیکورٹ سے گھر کے لیے روانہ ہوئے تھے،روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میرا تعلق ضلع جہلم سے ہے ، ہمارے ضلع کا کوئی قبرستان ایسا نہیں ہے جس میں شہداء کی قبریں موجود نہ ہوں فوج سے ہمارا تعلق خون کا ہے جو کچھ 9 مئی کو ہوا وہ انتہائی قابل شرم تھا ان واقعات پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے ان واقعات میں جو افراد بھی ملوث ہیں ان کا تعلق چاہے پی ٹی آئی سے ہو یا کسی اورجماعت سے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے

    منگل کے روز دوپہر کے وقت سابق وفاقی وزیر کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کی تھی جس پر ہ عدالت سے باہر نکل کر جیسے ہی گھر جانے کیلئے گاڑی میں بیٹھے تو اسلام آباد پولیس کا ایک دستہ ان کی جانب بڑھا فواد چوہدری خطرہ بھانپتے ہی گاڑی سے فوری نکلے اور بھاگتے ہوئے عدالتی احاطے میں پناہ لے لی بھاگنے کے دوران فواد چوہدری کا سانس پھول گیا مگرانہوں نے پرواہ نہیں کی اورجسٹس گل حسن اورنگزیب کے کمرہ عدالت میں پہنچ گئے جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ فواد چوہدری کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • اچھا ہوتا عمران خان پر آن لائن فرد جرم عائد ہو جاتی،پراسیکیوٹر جنرل

    اچھا ہوتا عمران خان پر آن لائن فرد جرم عائد ہو جاتی،پراسیکیوٹر جنرل

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت کا کیس ،سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی،

    عمران خان کی لیگل ٹیم کے رکن بیرسٹر گوہر نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا گیا ہے، عمران خان کی پیشی کے موقع پر امن و امان کا مسئلہ ہوسکتا ہے ،عدالتی حکم پر ضمانتوں کیلئے عمران خان متعلقہ فورمز سے رجوع کررہے ہیں ،آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے ، عمران خان نے تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کررکھی ہے

    دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنماﺅں کیخلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمہ پر سماعت ہوئی،جج راجہ جواد عباس نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہیں ،جج اے ٹی سی نے کہا کہ لسٹ بتا دیں جو پی ٹی آئی رہنما گرفتار ہیں ،پراسیکیوٹر جنرل نے کہاکہ ضمانت قبل ازگرفتاری کے بعد بھی ایک ہی طرح کے جرم کررہے ہیں ،جج اے ٹی سی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا کارانہ طور پر کوئی گرفتاری نہیں دیتا،جو گرفتار نہیں ان کیلئے ساڑھے 3 بجے تک فیصلہ کر لیں گے ،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ لاہور میں موجود پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش نہیں ہو سکتے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اچھا ہوتا عمران خان پر آن لائن فرد جرم عائد ہو جاتی ،جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی میں آن لائن کی سہولت موجود ہے ، اے ٹی سی میں ایسی صورتحال آئی تو آن لائن فرد جرد عائد کر دیں گے

    وکیل درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ تمام پی ٹی آئی رہنماﺅں کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے عدالت نے استثنیٰ کی درخواستوں پر دلائل کیلئے ساڑھے 11 بجے کا وقت مقرر کردیا ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ساڑھے 11 بجے دیکھ لیتے ہیں، کچھ رہنما مقصود ہیں اور کچھ مطلوب،وکیل درخواست گزارنے کہا کہ سب کی ایک ہی صورتحال ہے، فی الحال شہید ہونے سے بچایا جائے ،اے ٹی سی جج راجہ جواد عباس نے سماعت میں وقفہ کر دیا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل نعیم حیدر کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ نعیم حیدر کہاں ہیں ؟وکیل نے کہا کہ عمران خان کی پیشی پر نعیم حیدر زخمی ہوئے تھے،نعیم حیدر کا سی ٹی سکین کرانا ہے، آج نہیں آ سکتے ،عدالت نے کہا کہ نعیم حیدر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہیں ،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ