Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کو ان کے اہل خانہ کے پاس رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "میرے اپنوں نے میرا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے، مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حکومت پاکستان نے جو خط امریکا کو لکھا ہے، اس میں وزیرِ اعظم کا پیغام شامل ہے۔ اگر وزیرِ اعظم خود یہ خط بھیج سکتے ہیں تو کم از کم ڈپٹی وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو بھی اس خط کے ساتھ امریکا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ خط کو عزت ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر چیئرمین سینیٹ یا وزیرِ خارجہ خود یہ خط لے کر جاتے تو امریکی حکومت پر اس کا زیادہ اثر پڑتا۔ بدقسمتی سے مجھے امریکا جانے سے روکا گیا اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔”ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 1500 افراد کو ایک ہی دن میں معافی دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ، "صدر بائیڈن نے ایک دن میں 1500 افراد کو معافی دی، جبکہ ہمارے وفد کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکا اور وہ بغیر کسی نتیجے کے واپس آ رہا ہے۔ عافیہ کی رہائی کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ ایک نیکی ہے لیکن ان کے حق میں نہیں کی جا رہی۔”انہوں نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا جو ان کی اور عافیہ کی آواز بنے ہیں، اور ان کے لیے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آج کی عدالتی کارروائی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا جانے کے لیے ایک وفد بھیجا تھا لیکن یہ وفد محض تین دن کے لیے امریکا پہنچ سکا جبکہ کم از کم اس وفد کا دورہ آٹھ دن کا ہونا چاہیے تھا۔عمران شفیق کا کہنا تھا کہ، "وفد پانچ دن کی تاخیر سے پہنچا اور ان کی ملاقاتیں اور اہم میٹنگز جو طے کی گئی تھیں، وہ نہیں ہو سکیں۔ امریکی وکیل اسمتھ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک ڈیکلریشن عدالت میں جمع کرایا، جسے عدالت میں پڑھا گیا، اور یہ ایک دل توڑنے والی داستان ہے۔”وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جو وفد امریکا بھیجا تھا، وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ "جو اہم ترین میٹنگز ہونی تھیں، ان میں بھی وفد تاخیر کا شکار ہو گیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

  • 24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی نےوزیر اعظم سمیت و دیگر کے خلاف کاروائی کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا

    بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کر دی،بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، خواجہ آصف ، عطا تارڑ کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں آئی جی ، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے،سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے کمپلینٹ دائر کی،جس میں کہا گیا کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے فریقین کو طلب کیا جائے ،38 زخمیوں کی فہرست بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے،درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

  • مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس ضمن میں عمران خان نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے تا ہم حکومت کی جانب سے ابھی تک پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، مذاکرات کے حوالہ سے پی ٹی آئی قیادت میں بھی اختلافات دیکھنے کو ملے ہیں

    مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مذاکرات کا طریقہ غلط ہے اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں کہ مذاکرات کریں،میں نے عمران خان سے بات کی انہوں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات چیت کا ،اس طریقہ کار سے عمران خان بہت غصے میں ہیں،ہم پر الزام تھا کہ بات چیت کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ہم نے صرف مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،ہم نے مذاکرات بھی شرائط کے ساتھ رکھے ہیں،میری خواہش ہے کہ اگر مزاکرات ہوتے ہیں تو اس کا آغاز پارلیمنٹ سے ہو ،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اندر بات چیت کا آغاز کیا جائے،ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ مزاکرات ان سے ہونے چاہیے جو بااختیار ہو ،حکومت کو شاید ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا اس لیے وہ مزاکرات شروع نہیں کر رہے ۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، ابھی تو صرف سلام دعا ہوئی ہے، 15 دسمبر سے پہلے پہلے بات ہو جائے تو ملک کے لیے اچھا ہے، 15 دسمبر کو بانی نے ترسیلات زر سے متعلق کال دی ہوئی ہے، حالات جوں کے توں رہے تو کال پر عمل درآمد ہو گا۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و تحریکِ انصاف کے رہنما احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ بااختیار لوگوں سے مذاکرات چاہتے ہیں، بااختیار حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ ہے، جب اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ہو گی تب مذاکرات ہوں گے، 26 نومبر کو جو ہوا اس کے ذمے دار شہباز شریف ہیں ،24 سے 26 نومبر تک جو کچھ ہوا اس کی ذمے دار پنجاب حکومت ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی حکومت کی نیت پر منحصر ہے، کیا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو، آئین کی سپرمیسی ہو، عوام کی بات سنی جائے، عوام کو حقوق ملیں ،اختیار حکومت کے پاس ہے، ہم تو اپوزیشن میں ہیں احتجاج کر رہے ہیں، ہم پر دہشت گردی کے پرچے کاٹے جا رہے ہیں.

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اے ویزا منظور نہ کروا سکی جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نےسیکرٹری وزارت خارجہ کو فوزیہ صدیقی کو بی ویزا فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عافیہ صدیقی کے امریکہ میں وکیل مسٹر سمتھ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق پاکستان سے امریکہ بھیجا گیا وفد 8 روز کے لیے تھا جو پانچ روز تاخیر سے پہنچا ، پاکستانی وفد کا وقت آج ختم ہوگیا وفد کی واپسی کا وقت آگیا ہے ،ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ بھیجا گیا وفد ناکام ثابت ہوا حکومت کی جانب سے معاملے میں وقت ضائع کیا گیا وفد امریکہ میں اہم میٹنگز میں بھی دیر سے پہنچا ۔ فوزیہ صدیقی کا ویزا بھی امریکی ایمبیسی نے منظور نہ کیا ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر عدالت برہم ہو گئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ یہاں ہیں،وفد نے کتنے دن وہاں رکنا،مسٹر سمتھ وہاں اکیلے ہیں، سفیر نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کی طرف سے سستی ہے اور وقت پر معاملات درست نہیں،وزارت خارجہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے اور مکمل رپورٹ دے،کیوں ایسا ہوا اور سفارتخانے نے کیا کیا،

    دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ میری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عافیہ بچوں، والدہ، بہن کو یاد کر رہی تھیں ، انکا کہنا تھا کہ عافیہ نے کہا کہ مجھے رہا کروا جائے، سینیٹر طلحہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں، لوکل کمیونٹی کو بھی ساتھ ملایا ہےتا کہ کیس میں مدد کریں، ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جانے والا صدر بہت سے لوگوں کو رہا کر دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی درخواست بھی امریکی صدر کی ٹیبل پر آئے،

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    سندھ اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی

    حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی 66 فیصد آبادی غربت اور مالی مشکلات کے سبب وٹامنز، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ عالمی ادارہ برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی اس رپورٹ میں ملک بھر کے مختلف صوبوں میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں غذائی تحفظ اور غذائیت کے مسائل کو اجاگر کیا جائے اور سماجی تحفظ کے پروگرامز جیسے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی میں درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے۔ اس رپورٹ نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ کیسے یہ پروگرام غذائیت کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی اوسطاً 66 فیصد آبادی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے والی خوراک کی خریداری کے لئے مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں دیہی علاقوں میں 84 فیصد اور شہری علاقوں میں 78 فیصد افراد غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اسی طرح، سندھ کے دیہی علاقوں میں 76 فیصد، شہری علاقوں میں 60 فیصد، پنجاب کے دیہی علاقوں میں 68 فیصد، شہری علاقوں میں 63 فیصد، اور خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں 59 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 67 فیصد افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسانی جسم کی بنیادی ضروریات پوری کرنے والی اور بھرپور غذائیت والی خوراک کے یومیہ اخراجات فی کس 18 سے 32 روپے ہیں۔ اگرچہ قومی سطح پر 5 فیصد افراد ہی اس سطح کے اخراجات کرنے سے قاصر ہیں، تاہم غذائیت سے بھرپور خوراک کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں، جو کہ 67 سے 78 روپے فی کس روزانہ تک پہنچ جاتی ہیں۔ایک خاندان جس میں 6 افراد شامل ہوں، کم از کم 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرنے کے قابل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس کے علاوہ، اگر خاندان میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، یا بڑھتے ہوئے بچے شامل ہوں، تو ان کی غذائیت کی ضروریات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات کو خواتین اور بچوں میں غذائیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں خوراک کی بہتر خریداری کی سہولت مل سکتی ہے۔یہ رپورٹ پاکستان میں غذائیت کی کمی کے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے پروگرامز کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ ملک کی بڑی تعداد کو ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور عالمی ادارے مشترکہ طور پر اقدامات کریں تو غربت اور غذائیت کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور پاکستان میں صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر مقدمات کی سماعت موخر

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • شہداء  کے لواحقین کی  بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    پاکستانی فوج کے سربراہ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، کی خصوصی ہدایت پر شہداء اور ان کے لواحقین کی بہبود کے لیے "مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے ورثاء کے ساتھ فوری اور براہ راست رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ ان کی فلاح و بہبود کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

    گریف کونسلنگ سیل میں خصوصی مددگار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو پاکستان فوج کے افسران اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ہیں۔ یہ ٹیمیں شہادت کے بعد شہید کے خاندان کے افراد سے تعزیت کے لیے ان کے آبائی علاقے میں جاتی ہیں۔ اس دوران ماہر نفسیات شہید کے لواحقین سے تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے ان کے ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کی تشخیص کرتے ہیں۔گریف کونسلنگ سیل کی ٹیم شہداء کے ورثاء کی معاشی، سماجی، رہائشی اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتی ہے اور ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، شہداء کے ورثاء کو ان کی مراعات اور سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ان کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے خاندان کو مراعات اور سہولیات کے حصول میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

    آرمی چیف کی جانب سے شہداء کی قبروں پر پھولوں کے گلدستے رکھے جاتے ہیں اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مددگار ٹیم میں شامل ماہر نفسیات، شہداء کے غمزدہ خاندانوں میں موجود ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے علاج میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ صرف شہداء کے ورثاء کی فلاح کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے نئی امید اور حوصلہ بھی دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ شہید کی زندگی کا کوئی مداوا نہیں، تاہم گریف کونسلنگ سیل کی مددگار ٹیمیں شہداء کے لواحقین کے لیے زندگی گزارنے میں نئی امید پیدا کرتی ہیں۔ یہ اقدام ایک عملی مظاہرہ ہے کہ شہداء کے ورثاء کی فلاح و بہبود کے لیے فوج اپنے فرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہے۔ شہداء نہ صرف قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں بلکہ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام شہداء کے لواحقین کی مدد کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ پاکستانی فوج کی شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک اور عظیم پیشکش ہے۔

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

  • پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی زرعی آلات کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے پر پنجاب حکومت اور چین کی معروف کمپنی "اے آئی فورس ٹیک” کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے ہیں۔

    ایس آئی ایف سی کے تعاون سے اس معاہدے کا مقصد پاکستان کی زرعی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانا ہے۔ پاکستان چین کی زرعی مہارت سے فائدہ اٹھا کر اپنے زرعی شعبے میں پیداوار میں اضافہ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے چین کی "اے آئی فورس ٹیک” کمپنی کے ساتھ کئے جانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی زرعی ترقی کو ایک نیا رخ دینا ہے اور اقتصادی ترقی کے عمل میں انقلاب لانا ہے۔پنجاب حکومت کا یہ عزم ہے کہ زرعی ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں کو متعارف کرا کے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جائے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا، بلکہ کسانوں کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس معاہدے کے موقع پر زرعی شعبے میں جدید کاری کے لیے ایک اور اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا اور زرعی شعبے کے 1,000 ماہرین کو چین بھیجا جائے گا تاکہ وہ وہاں زرعی ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کی تعلیم حاصل کریں۔

    چین کے شہر ژیآن میں زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی معیار کی سہولتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کو وہاں کی جدید زرعی ترقی سے استفادہ حاصل ہو سکے۔ یہ تعاون پاکستان کو عالمی سطح پر زرعی ٹیکنالوجی کے بہترین طریقوں سے آشنا کرے گا اور پاکستان کے کسانوں کو جدید آلات اور طریقوں کا استعمال سکھایا جائے گا۔

    اس معاہدے میں ایس آئی ایف سی کی اہمیت بھی نمایاں ہے کیونکہ اس کے تعاون سے پاکستان اور چین کی زرعی شراکت داری میں ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ ایس آئی ایف سی کی مدد سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو گا، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب آ سکتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان اس معاہدے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

  • شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے،چارٹرڈ طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، پاکستان پہنچنے پر وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستانی شہریوں کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو خیریت سے ملک واپس آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی پر لبنان کے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لایا جائے.شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا.شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں. شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی.حکومت نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے میں معلوماتی ڈیسک اور رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کیا.وطن واپسی پر تمام شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے.امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے تک کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانے کا معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہے گا.اللہ کا شکر ہے کہ شام سے طیارہ باحفاظت پاکستان پہنچ چکا ہے.حکومت کا یہ انتظام اس جذبہ کی علامت ہے کہ پاکستانی جہاں بھی مشکل میں ہوں وہ تنہا نہیں.پاکستانی قوم کی خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں.این ڈی ایم اے اور پاکستان کے سفارتخانوں نے انتھک کام کیا،

    شام میں پھنسے تین سو اٹھارہ پاکستانیوں کو بیروت سے چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیراعظم سے رابطہ کرکے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کی اپیل کی تھی جس پر لبنان نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کیے ،ذرائع کے مطابق ان شہریوں کو بذریعہ سڑک شام سے لبنان پہنچایا گیا، جہاں سے آج انہيں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے باحفاظت انخلاء پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے پرعزم ہے۔