Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے مذاکرات کی انہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے لیکن نکلنا کچھ نہیں کیونکہ قبر ایک اور بندے دو ہیں اور صرف ایک نے اندر جانا ہے،اگر مذاکراتوں سے کچھ نہ نکلا تو پھر جوڈو کراٹے اور بنکاک کے شعلے ہیں، اور بغداد کی راتیں ہیں اس ملک میں،26 تاریخ ایک خوفناک،وحشت ناک اور دہشت ناک ظلم و ستم کا دن تھا، جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پہلے ہی کہا تھا 30 دسمبر تک عدم استحکام ہو گا،خونی 26 نومبر گزری ہے، سیاسی طور پر انتہائی عدم استحکام ہے، حالات بہتری کی طرف جانے چاہئے، تحریک انصاف جانے اور حکومت جانے،مذاکرات کا حامی تھا اور رہوں گا

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے آیا ہوں ہر بندہ کہتا ہے خدا پاکستان کو محفوظ رکھے،عمران خان سے لمبی ملاقات ہوئی، باہر آ کر میں نے سوچا شارٹ ہی رکھو تو بہتر ہے،عمران خان نے ملاقات میں کہا کہ میں اور آپ ایک ہیں اور ہمارا مقصد ایک اور ایک 11 ہے جو بہتری کا نمبر ہے،بہتری کے‌حالات نکلنے چاہئے. حالات سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں، میں مذاکرات کا حامی تھا اور حامی ہوں، مذاکرات بہت اچھی چیز ہے، دنیا میں جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، میرا صرف ایک آدمی سے تعلق ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی ہے باقی میں کسی کو نہیں جانتا،

  • سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں  توسیع

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی شہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں 29 جنوری تک توسیع کر دی ہے

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہزاد سلیم کی نیب انکوائری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ نیب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی انکوائری شروع کی ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ جی انکوائری شروع کی گئی ہے۔ جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ چارج شیٹ کیا ہے کہ شہزاد سلیم غلط طریقے سے نیب میں بھرتی ہوئے،اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ وہ آرمڈ فورسز میں سرونگ افسر تھے اور ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئے، شہزاد سلیم نیب میں ڈیپوٹیشن پر آئے اور مستقل ملازمت کر لی جبکہ شہزاد سلیم کا تجربہ ناکافی تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ تجربے کی کمی نیب کے علم میں کب آئی؟ نیب کو اب احساس ہوا ہے کہ شہزاد سلیم کا تجربہ پورا نہیں ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سابق ڈی جی شہزاد سلیم 25 سال سے نیب میں تھے۔

  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    آج، 16 دسمبر 2024ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس بیت گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش الگ ہو گیا تھا۔ اس سانحے کو تاریخ میں "سقوط ڈھاکا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے 24 سال بعد، پاکستان کے مشرقی بازو کا علیحدہ ہونا ایک دردناک اور اہم واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کو بدل دیا۔

    سقوط ڈھاکا ایک سنگین سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد کی جانیں گئیں، لاکھوں خاندان برباد ہوئے اور پاکستان کا جغرافیائی وجود متاثر ہوا۔ اس دن کا دلی غم آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں تازہ ہے، اور یہ دن ہمیں اپنے ماضی کے جمہوری، سیاسی اور سماجی تنازعات سے سبق سکھاتا ہے۔سقوط ڈھاکا کے موقع پر بھارتی فوج نے بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت میں بھرپور مداخلت کی تھی۔ بھارتی فوج نے اس دوران نہ صرف بنگلادیش کی آزادی کے لیے لڑائی کی بلکہ ڈھاکا ٹیلی ویژن کی عمارت سے جدید مشینری بھی چرا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی،

    اگرچہ بنگلہ دیش آج ایک آزاد ملک کے طور پر موجود ہے، لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور تقسیم کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت کے ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم سقوط ڈھاکا کی تلخ یادیں اور وہ دور کی سیاسی حقیقتیں دونوں قوموں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

    آج جب ہم 1971ء کی اس قومی سانحے کو یاد کرتے ہیں تو یہ وقت ہمیں اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایسی خامیوں کو دور کریں جو ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی تقدیر کے فیصلے میں ذمہ داری اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے۔سقوط ڈھاکا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو گہرے سیاسی اور سماجی زخم دیے، مگر اس دن کی یادیں ہمیں ایک مضبوط اور یکجا پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

  • مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری لوئر ٹوپہ کے مقام پر متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عوامی گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا،

    جرگے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اراکین اسمبلی، مرکزی انجمن تاجران، پیپلزپارٹی ،جے یو آئی ف اور دیگر سیاسی رہنما، اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔لوئر ٹوپہ میں منعقدہ عوامی گرینڈ جرگے میں شرکاء نے مال روڈ سے سیکشن فور کے خاتمے اور جھیکا گلی بازار سمیت ایکسپریس وے پر جاری آپریشن کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ تاجروں پر دہشت گردی کے مقدمات کو خارج کرنے اور مری کی تعمیر و ترقی کے لیے دی جانے والی رقم کو تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر خرچ کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ جرگے کے دوران مرکزی انجمن تاجران کی کال پر علامتی شٹر ڈاؤن بھی کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز دفعہ 144 نافذکیا گیا تھا جس کے باوجود جرگے کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات رہی شرکاء کا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    حکومت پنجاب کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کے خلاف مری لوئر ٹوپہ میں ہونے والے احتجاج میں سیاستدانوں، تاجروں اور عوام نے یک آواز ہو کر اس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ احتجاج میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، صداقت عباسی، پی ٹی آئی، پی پی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس احتجاج میں مری کے عوام، تاجر اور سیاسی رہنما حکومت کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی کیونکہ مری میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوام کو کسی بھی قسم کے غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات میں خاص طور پر جھیکا گلی بازار کی ری ماڈلنگ اور مال روڈ پر سیکشن فور کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو اربوں روپے کا فنڈ صرف 3 کلو میٹر پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری اور کوٹلی ستیاں کے علاقے اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں اور ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری فنڈز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور مری و کوٹلی ستیاں کے عوام کی بہتری کے لیے وسائل مختص کرے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا یہ منصوبہ عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کا حامل ہے اور اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مری کے عوام ترقی کے حق میں ہیں، مگر ان کی ترقی کے لیے حکومت کو عوام کی آواز سننی ہوگی اور انہیں ترجیح دینی ہوگی۔مری گرینڈ جرگے میں حکومت کے سوا تمام جماعتیں موجود ہیں، یہاں کے عوام اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ آپ کس قانون کے تحت لوگوں کی عمارتیں گرا رہے ہیں، کیا آپ نے جنگل کا قانون نافذ کر دیا ہے، میری سیاسی تاریخ میں کبھی مری میں دفعہ 144 نافذ نہیں کیا گیا، عوام کے نمائندے عوام میں ہوتے ہیں، آپ عوام کی بات سننے کو تیار نہیں،ہ مری کی انتظامیہ سے سوال کریں تو کہتے ہیں ہمیں اوپر سے آرڈر ہے جبکہ ہم نے کبھی 37 سالوں میں اوپر والوں کا حکم نہیں مانا،حکومت اپنا پلان ہماری عمارتیں گرا کر حاصل نہیں کرسکتی، ہمارے حقوق کا تخفظ نہیں ہوگا تو پھر حق لینا بھی جانتے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے یہ حکومت آئینی ترمیم بھی رات کے اندھیروں میں کر رہی ہے۔

    مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کو مری اور کوٹلی ستیاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس احتجاج نے علاقے میں ایک نئی سیاسی گرمجوشی پیدا کر دی ہے، اور حکومت کو سخت پیغام دیا ہے کہ عوامی مفاد کو نظر انداز کر کے کسی بھی منصوبے کو منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ضلع لاہورکی باڈی کا اعلان

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

  • سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 دسمبر سے شروع کرنے والی سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا ملک کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے تو یہ سب سے بہترین حل ہوگا، لیکن اگر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑے گی۔

    اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تنقید
    ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے محض احتجاج کرنا یا کسی تحریک کا آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر احتجاج کرنا زیادہ موثر اور دانشمندانہ عمل ہو گا، کیونکہ اس طرح عوام میں زیادہ بیداری پھیلائی جا سکتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے نرم رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے فیصلوں میں ابہام اور اختلافات نے پی ٹی آئی کے موقف کو کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات اور حکمت عملی کی کمی سے پارٹی کے حامیوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بانی کی رہائی کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی، جس کی وجہ سے ان کی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت سے صرف وقتی فائدہ ہوگا، لیکن اگر حکومت اپنی پوزیشن پر قائم رہتی ہے تو پھر تحریک کا آغاز ضروری ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اگر مذاکرات میں کامیابی نہیں ملتی تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ایک ناگزیر عمل بن جائے گا، اور اس تحریک کے ذریعے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

    محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر چار ماہ کے اندر انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے کہ حکومت کب اپنی مدت مکمل کرے گی اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا۔ اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنے کی صورت میں ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس کے نتیجے میں عوام کو فائدہ ہوگا۔

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کے اہم کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، پولیس نے ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا ہے۔

    بدھ 10 دسمبر 2024 کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے 23 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، لڑکی کے ساتھ ایک لڑکا دو دن پہلے ہوٹل آیا تھا اور اُس نے کمرہ بک کیا تھا۔ لڑکا 9 دسمبر کی رات ہوٹل سے فرار ہوگیا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ کو شک ہونے پر کمرہ کھولا گیا، جہاں لڑکی کی لاش ملی،پولیس نے فوراً تحقیقات شروع کی اور لڑکی کی لاش پمز ہسپتال منتقل کر دی۔ بعد ازاں، پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی اور 14 دسمبر 2024 کو ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق، ملزم نے ابتدائی طور پر اعتراف کیا ہے کہ اُس نے لڑکی کو قتل کیا۔ پولیس نے بتایا کہ لاش کے گلے پر ازار بند کے نشان موجود ہیں، جب کہ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے لڑکی کو اپنے مفلر سے پھندا دے کر قتل کیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس کیس میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کے پیچھے محرکات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    خالد مقبول صدیقی کا حکومت چھوڑنے کا عندیہ

  • پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم  نے ایڈوائس صدر  کو بھجوا دی

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایڈوائس ارسال کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یہ ایڈوائس 17 دسمبر کو دن 11 بجے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز کے حوالے سے بھیجی ہے۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جائے گی، جن میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نیا بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اجلاس میں 8 دیگر بلز کی منظوری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نئے بل پر حکومت اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مشاورت ابھی جاری ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے مدارس بل پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس کے باعث صدر آصف زرداری نے اس بل کو اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت اور دینی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مدارس کے نظام میں اصلاحات لانے کے لیے نئے بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا، جس پر مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،اختلاف اس بات پر ہے کہ جو مدارس وزارتِ تعلیم سے منسلک ہو گئے ان سے متعلق منفی قانون سازی نہ ہو، مدارس اپنا آڈٹ بھی کرواتے ہیں، حسابات سب کے لیے کھلے ہیں، کوئی مدارس کے حسابات چیک کرنا چاہتا ہے تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، کسی عالمی قوت کو پاکستان کے نظام میں مداخلت کا حق نہیں، فیٹف سے متعلق ماضی میں بھی مدارس کی کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی اب ہے،گالی گلوچ اور الزام تراشی سے مدارس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

  • پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں.12 دسمبر 2024 کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا. کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا.کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالر نے آن لائن شرکت کی،

    1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی. بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا. پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم، نوجوان رہنما، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے. تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا.شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنےاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا .شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران ہمارے فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا . تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور یتیم خانوں کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت. کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئےمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا. کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

  • رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    سی ڈی اے نے انٹر نیشنل میڈیا سے وابستہ ادارے وائس آف امریکہ کو رہائشی ایریا میں آفس رکھنے پر نوٹس جاری کر دیا۔

    سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/3 میں واقع ایک رہائشی گھر پر غیر قانونی تجارتی استعمال کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ڈائریکٹریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گھر نمبر 1، گلی نمبر 89، سیکٹر جی-6/3 میں رہائش پذیر شخص، مس شمیم غلام، نے اپنے رہائشی مکان کو غیر قانونی طور پر دفتر یا میڈیا ہاؤس کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اوپر ذکر کردہ غیر متناسب استعمال کو اس نوٹس کی تاریخ سے 15 دن کے اندر ختم کر دیا جائے، ورنہ سی ڈی اے مذکورہ خلاف ورزی کو ختم کرنے کے لئے قانونی کارروائی کرے گی۔

    اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے مطابق، رہائشی مقامات پر غیر تجارتی یا غیر متعلقہ استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں صرف رہائشی سرگرمیاں کی جائیں اور تجارتی یا دفاتر کی تعمیرات نہ ہوں، تاکہ شہری سہولتوں اور ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ اگر نوٹس میں درج ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو اتھارٹی اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی، جن میں عمارت کی سیلنگ اور الاٹمنٹ کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔

    سی ڈی اے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری مکمل طور پر متعلقہ فرد پر ہوگی، اور اس کے اخراجات بھی اسی کے ذمہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی خلاف ورزیاں مقامی انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں، اور اس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی ترقی اور رہائشی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مکانات اور جائیدادوں کے استعمال کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کا احترام کریں تاکہ شہر میں قانون کی حکمرانی قائم رہے اور شہریوں کو بہتر رہائشی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    notice