Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    قومی ادارہ برائے صحت (این ایچ آئی ) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور کیسز یومیہ 400 سے تجاوز کرگئے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران کوروناکے13 ہزار644 ٹیسٹ کیےگئے جس میں سے 435 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور شرح 3.19 فیصد رہی جب کہ اس دوران کورونا سے ایک ہلاکت بھی سامنے آئی۔


    قومی ادارہ برائے صحت کےمطابق کورونا میں مبتلا 87 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہیں، بریفنگ

    بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہیں، بریفنگ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر سردار محمد شفیق ترین کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    اجلاس کے آغاز میں مرحوم سینیٹر سکندر میندھرو کے انتقال پر اْنکی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔سینیٹر ثمینہ ممتاز کی بطور رکن نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی، کراچی کے بورڈ آف گورنرز میں نامزدگی کی توثیق کے حوالے سے کمیٹی اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔ سینیٹر محمد ہمایوں مہمند کا موقف تھا کہ آئین پاکستان کے مطابق پارلیمنٹرین کسی بھی طرح سے حکومت کے کسی بھی ادارے سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ نامزدگی سینیٹر ثمینہ ممتاز کے لیے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔مناسب غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اکثریتی رائے کے مطابق سینیٹر ثمینہ ممتاز کی نامزدگی کی توثیق کر دی۔

    پی ایس ڈی پی کے تحت STEM تعلیمی نظام کے منصوبے کے بارے میں سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ اس منصوبے کے تحت پورے پاکستان سے پچاس اسکول کو سلیکٹ کیا گیا ہے جن میں اعلیٰ درجے کی سائنس لیبز بنائی جائیں گی اور طالب علموں کو مختلف سائنس پروگرامز میں عملی تربیت دی جائیگی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت پسماندہ علاقوں کے اسکولز کو بھی شامل کیا جائے۔ سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا کہ یہ منصوبہ اْنکے دور میں شروع کیا گیا تھا اور اس کے مطابق پہلے پچاس سکولوں میں اس کو نافذ کیا جائیگا اور مستقبل میں اس کو مزید چار سو سکولوں تک پھیلایا جا سکے گا۔ اس منصوبے کے پروجیکٹ منیجمنٹ یونٹ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر آسامیوں پر تقرریوں کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ یہ آسامیاں اوپن میرٹ کے تحت مشتہر کی گئیں تھی اور اس پر تمام تر کام مکمل کر لیا گیا تھا۔ اسی پروسیس کو آگے بڑھاتے ہوئے تقرری کی جانی چاہیے۔ وزارت کے حکام نے بتایا کہ ایسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے خط موصول ہوا تھا کہ پروجیکٹ کی تقرریاں بھی صوبائی کوٹہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائیں۔ جس کے باعث تقرری کے عمل کو روک دیا گیا ہے اور نئے سرے سے کوٹہ کے مطابق اشتہار دیا جائے گا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کوٹہ سسٹم کو متعارف کرنے والا بنیادی قانون بھی لیپس ہو چکا ہے۔ اسی لیے اب اس کوٹہ کے مطابق تقرری کرنے کی کوئی قدغن نہیں رہی۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت میں حکام کو ہدایت دی کہ معاملے کہ دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ایسٹبلشمنٹ ڈویژن کو خط کے ذریعے کمیٹی کے موقف اور قانونی صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔

    سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے NEECA کے انتظامی کنٹرول کو پاور ڈویژن سے وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بریفنگ کے ساتھ ساتھ ایم ڈی NEECA نے ادارے کے کام اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی کمیٹی کو بریف کیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ NEECA کے انتظامی کنٹرول کو پاور ڈویژن سے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی: فواد چوہدری کا اعلان 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    لاہور کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کیا صورتحال؟ تشویشناک خبر آ گئی

    پاکستان اسٹیل کا پلانٹ شاید ایمرجنسی میں نہ چلایا جا سکے،وفاقی وزیر سائنس

    بھنگ سے ادویات بنائیں گے،اطلاعات سے ہٹنے پر اللہ کا شکر ادا کیا، وزیر سائنس شبلی فراز

    سپریم کورٹ میں ججز بھی "بھنگ” کے فائدے بتانے لگے

    ایم پی سکیل میں ڈی جی (PSQCA) کی تقرری کے بارے میں بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت کی جانب سے تقرری کا عمل مکمل کرتے ہوئے تین نام کابینہ کو بھیجے گئے تھے اور اجلاس نہ ہونے اور حکومت کی تبدیلی کے باعث معاملہ تعطل کا شکار ہوا تھا۔ اب دوبارہ متعلقہ وزیر سے منظورِی کے بعد لسٹ کابینہ کو بھجوائی جائیگی۔بھنگ کی پالیسی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی بھنگ پالیسی منظور کر لی گئی ہے۔ بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہے۔ اس وقت یہ چالیس بلین ڈالر کی مارکیٹ ہے جو اگلے چار سالوں میں سو بلین ڈالر تک پہنچ جائیگی۔ حکام نے بتایا کہ وزارت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع پالیسی بنائی ہے اور جلد از جلد اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، محمد ہمایوں مہمند، فوزیہ ارشد، کامران مرتضیٰ، سید شبلی فراز، محمد اسد علی خان جونیجو، ثناجمالی، افنان اللہ خان اور متعلقہ وزارت کے حکام نے شرکت کی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • دورحاضرجوڈیشل اکٹیوزم کا نہیں لہذا اب فیصلےآئین کے مطابق   ہونگے۔ جسٹس عمرعطاء بندیال

    دورحاضرجوڈیشل اکٹیوزم کا نہیں لہذا اب فیصلےآئین کے مطابق ہونگے۔ جسٹس عمرعطاء بندیال

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ : اب جوڈیشل ایکٹوازم کا دور نہیں رہا، لہذا ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔
    چیف جسٹس کے ریمارکس کے مطابق: ایسا حکم دیں گے کہ ٹرائل بھی نہ رکے اور توہین عدالت کرنیوالوں کیخلاف کاروائی بھی چلتی رہے۔
    عدالت عالیہ نے نیب سے ملزمان کی فہرست اور ٹرائل کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
    گزشتہ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ای او بی آئی غیر قانونی بھرتیوں اور کرپشن کیس میں توہین عدالت کے معاملہ کی سماعت کی ۔
    ایک رپورٹ کے مطابق: سماعت کے دوران جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ : عدالت کو دی گئی رپورٹ میں ملزمان کی مکمل فہرست شامل نہیں۔
    تاہم اسی دوران جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا: نیب ریفرنس کی کیا صورتحال ہے؟ تقرریاں تو 2009 ءسے شروع ہوئی تھیں۔

    اس موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا: سپریم کورٹ نے جنوری 2011 میں ای او بی آئی میں بھرتیاں روکنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ستمبر 2011ء سے مئی 2012 ء کے درمیان ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کی گئیں.

    اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جن افراد نے بھرتیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ان کا نام نیب رپورٹ میں موجود ہے۔

  • اسلام آباد پولیس کا شہریوں کے تحفظ کیلئے گھڑسوار دستے تعینات کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد پولیس کا شہریوں کے تحفظ کیلئے گھڑسوار دستے تعینات کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد پولیس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق: وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور پیٹرولنگ کے نظام کو مزید موثر، بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کیلئے اسلام آباد پولیس کی جانب سے چاق و چوبند گھڑ سوار دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس ذرائع کے مطابق: گھڑ سوار دستوں کو پارکس، ہائیکنگ ٹریلز سمیت کچے راستوں اور پہاڑی علاقوں و دشوار گزار جگہوں پر جہاں پیٹرولنگ گاڑیاں ایگل اور فالکن کارآمد نہیں وہاں انسپکٹر جنرل پولیس کی ہدایت پر وہاں انہیں تعینات کیا جائے گا۔

    (تصاویر بشکریہ اسلام آباد پولیس)

    یہ گھڑ سوار دستے پیٹرولنگ کے ساتھ ساتھ پولیس کا عوام الناس میں بہتر تصور اجاگر کرنے میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔

    وفاقی پولیس کے اس اقدام کو جہاں بیشتر شہریوں نے سراہا وہی کچھ شہریوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ: یہ ‏فیصلہ سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اس دور میں اسلام آباد جیسے شہر میں گھوڑے پالنا آسان ہے؟

    ایک شہری کا مزید کہنا تھا کہ: اسلام آباد شہر کی وہ کون سی جگہ ہے جہاں بائیک نہیں جا سکتی لیکن گھوڑا جا سکتا ہے؟
    لیکن کرائم رپورٹر علی عمران عباسی نے اسلام آباد پولیس کے اس اقدام کو ایک اچھا عمل قرار دیا۔

  • آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی ٹریفک کا شہریوں کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک پر ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی۔

    آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی ٹریفک کا شہریوں کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک پر ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی۔

    آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی ٹریفک کا شہریوں کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک پر ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی ماڈل پولیس کے کرتوت اصلاحات در اصلاحات کے باوجود بدل نہ سکے۔ساتھ ساتھ ماڈل ٹریفک پولیس اہلکاروں کی شہریوں سے گالم گلوچ کہ ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا جاتا ہے کہ آئی ایٹ بیٹ انچارج انسپکٹر کہ موجودگی میں نشے میں دھت ٹریفک پولیس کا لفٹر آپریٹر اور ڈیوٹی پر موجود ٹریفک اہلکار شہریوں کو گالیاں نکال رہے ہیں۔
    اور یہ بھی کہ لفٹر آپریٹر اور گالم گلوچ میں ملوث ملازم کو آج کے بعد کسی آپریشن میں نہیں لائیں گے یہ ہر بار اپنے کام پر توجہ دینے کے بجائے عوام سے گالم گلوج کرتا ہے۔بیٹ انچارج نے اس حوالے سے کہا اور آئندہ کا بھی انکشاف کر دیا تا کہ لوگ پریشان نا ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اعلی افسران کو بھی بارہا کہہ چکے لیکن ڈیوٹی تبدیل نہیں کی جاتی ہے۔

    مزید برآں یہ کہ آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکاروں نے گاڑی میں ڈرائیور اور فیملی کی موجودگی کے لفٹر سے گاڑی اٹھا کر فٹ پاتھ پر رکھ دی ۔
    ٹریفک پولیس اہلکار آئی ایٹ مرکز میں مختلف شو رومز سے پارکنگ کے نام پر ماہانہ بھاری منتھلی وصول کرتے ہیں جبکہ عام شہریوں کی گاڑیاں بند کرنے کے ساتھ ساتھ گالم گلوج سے بھی نوازا جاتا ہے

    آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی ٹریفک شہریوں سے ناروا سلوک اور گالم گلوج میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

  • اسلام آباد میں پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق فیصلہ موجودہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال اوردہشت گردی کے خدشات کے پیش نظرکیا گیا ہے نافذ کیے جانے والے سسٹم کو نادرا اورایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ لنک کیا جائے گا جب کہ آنے والے افراد اور گاڑیوں کا ڈیٹا سسٹم کی مدد سے چیک ہو گا۔

    پنجاب میں سرکاری افسران کے تقرر و تبادلے

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق سسٹم کی وجہ سے تمام غیر رجسٹرڈ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی شناخت ہو سکے گی، یکم جولائی سے آنے والے متعلقہ افراد کو کیو آر کوڈ سے منسلک کارڈز بھی جاری کیے جائیں گے۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نافذ کیے جانے والے سسٹم کو دیگر صوبوں کے ساتھ بھی منسلک کیا جائے گا آئی جی اسلام آباد نے 23 جون سے سسٹم نافذ کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

    وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع

    قبل ازیں گزشتہ روز سے اسلام آباد میں آج سے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا گیا ہے آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پرنہ صرف شہر میں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کا داخلہ بند کیا گیا ہے بلکہ وفاقی دارالحکومت میں پریشرہارن والی گاڑیوں کا بھی داخلہ ممنوع ہوگا۔

    آئی جی اسلام آباد نے ہدایت کی تھی کہ کسی ان فٹ گاڑی کوفٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا جائے دوسری جانب ٹریفک پولیس اور انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے بھی مشترکہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔

    کالے شیشوں، فینسی و بوگس اور بغیر نمبر پلیٹس گاڑیوں کےخلاف کریک ڈاؤن

  • مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط

    مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط

    اسلام آباد:مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط ،اطلاعات کے مطابق جیو کے نیوزرپورٹر وقار ستی نے سابق وزیراعظم سے شکوہ کرتے ہوئے خط لکھاہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پریس کانفرنس میں صرف پسندیدہ اور چاپلوس صحافیوں کوبلاتے ہیں

    وقار ستی کہتےہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، اپنے پسندیدہ صحافیوں کو کیوں ہی بلایا جاتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرٹ پر سوالات کرنےوالوں کونظر انداز کرنےکےخلاف پاکستان کے 15سے زائد TVچینلزکے پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز نے پی ٹی آئی کی کوریج کےبائیکاٹ کااعلان کردیااوراس بارےعمران خان کوخط بھی لکھ دیاہے۔

     

    ادھراس سے پہلے وقار ستی نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے خطاب کے حوالے سے اپنے جزبات کا اظہار کیا اورکہا کہ بلاول بھٹو کاانتہائی پر اعتماد خطاب واضع پیغام ہے کہ حکومت عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیےپرامید ہےاور مصمم ارادہ رکھتی ہےکہ مہنگائی کے جن کو جلد از جلد بوتل میں بند کیا جائے ۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ خان صاحب جلدانتخابات کو اب بھول جائیں۔

    وقار ستی نے بلاول کی تقریرپرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے خطاب سے ایسا کیوں محسوس ہو رہا کہ عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائے جانے والی ہے ؟

    کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ وقار ستی مزید کہتے خطاب میں بلاول بھٹو کا زور تو نشہ خانہ کے حوالے سے تھا اس کے بعد ان کا اشارہ گوگی ، پنکی اور پنجاب کے معاملات بھی تھے۔

  • راولپنڈی اسلام آباد میں بارشیں،نالہ لئی میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا خطرہ:کراچی میں بھی وارننگ

    راولپنڈی اسلام آباد میں بارشیں،نالہ لئی میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا خطرہ:کراچی میں بھی وارننگ

    اسلام آباد:مون سون کی بارشوں نے بڑے بڑے شہروں میں انتظامیہ کی کوششوں کو تہس نہس کردیا ،ابھی مون سون کا موسم شروع ہی ہوا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے مضافات میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی ہیں ، ادھر اطلاعات ہیں کہ جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش سے نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی مزید بلند ہونے پر خطرے کے سائرن بجائے جا ئیں گے۔

    راولپنڈی اسلام آباد میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے ،موسلادھار بارش سے نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 8 فٹ تک بلند ہوگئی پانی کی سطح 11.4 فٹ ہونے کی صورت میں پری الرٹ جاری کردیا جا ئے گا۔

    حکام کے کے مطابق گوالمنڈی کے قریب نالہ لئی کی سطح 8 فٹ تک بلند ہے 8.3 فٹ ہونے پر پری الرٹ جاری کردیا جا ئے گا، حفاظتی اقدام کے پیش نظر سائرن بجائے جائیں گے، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کیلئے واسا اور دیگر اداروں کو مکمل طور پر الرٹ کردیا گیا ہے۔

    ادھر کراچی سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ موسم کے خراب ہونے سے بڑے پیمانے پربارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اسی سلسلے میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں میں کراچی سمیت بڑے شہروں میں سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے بارشوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کو اقدامات کی ہدایت کردی۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں اگست تک مون سون کی بارشیں ہوں گی، پنجاب اور سندھ میں بارش معمول سے زیادہ ہونےکی توقع ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مون سون کےآغازنےپہلےہی بھارت،بنگلہ دیش میں ہنگامی صورتحال پیداکی ہے، رواں موسم برسات میں ملک میں معمول سےزیادہ بارشوں کارجحان رہے گا۔شیری رحمان نے خبردار کیا کہ کراچی،لاہور سمیت بڑے شہروں میں سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے، پاکستان کو 2010 والی سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، وفاقی، صوبائی حکام احتیاطی تدابیر سمیت مربوط حکمت عملی اپنائیں۔

    انھوں نے کہا کہ بارشوں کے دوران دریاؤں اورندی نالوں میں طغیانی کابھی بہت زیادہ امکان ہے، اس لئے تمام احتیاطی تدابیراختیارکرنےکی ضرورت ہے، تمام متعلقہ اداروں سےگزارش ہےکہ وہ بروقت احتیاتی اقدامات لیں۔

  • اسلام آباد: میٹرو بسوں میں دکھم پیل روکنے میں عملہ ناکام جبکہ مسافر پریشان

    اسلام آباد: میٹرو بسوں میں دکھم پیل روکنے میں عملہ ناکام جبکہ مسافر پریشان

    جڑواں شہروں میں آمدورفت کیلئے میٹرو بس ایک بہترین سروس ہے لیکن متعدد مسافروں نے شکایت کی ہے کہ میٹرو بس اسٹیشنوں پر موجود عملہ دن بدن بڑھتی دھکم پیل کو روکنے میں ناکام نظر آتا ہے راولپنڈی کے ایک شہری ذوالقرنین چودھری نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شکایت کی کہ اکثراوقات دفاتر، کالجز اور جامعات میں حاضری اور چھٹی کے وقت زیادہ رش کی وجہ سے میٹرو بسوں میں دھکم پیل نظر آتی ہے اور اس رش میں بعض اوقات قیمتی سامان جیسے موبائل فون وغیرہ چوری ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے

    میٹرو بس اسٹیشن پر موجود ایک سیکورٹی اہلکار نے باغی ٹی وی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ: اس دھکم پیل کے ذمہ دار مسافر خود ہیں کیونکہ ہم تو انہیں کہتے رہتے ہیں کہ بس بھری ہوئی ہے اور اترنے والی سواریوں کو اترنے دو جبکہ آپ اگلی بس جس میں جگہ ہو بیٹھ جانا لیکن متعدد لوگ ہماری اس بات کو نظرانداز کرتے ہوئے زبردستی بس میں گھس جاتے ہیں۔ اب اگر کوئی زبردستی بس میں گھس جاتا ہے تو ہم اس کا کیا کرسکتے ہیں؟

    ایک اور شہری نے بتایا کہ میں اسلام آباد کا رہائشی ہوں اور ایک محکمے میں ملازمت کرتا ہوں اور آنے جانے کیلئے اکثر اوقات میٹرو بس استعمال کرتا ہوں اور یقینا بدنظمی کے ذمہ دار مسافر ہیں لیکن کیا انتظامیہ کا کام انہیں بدنظمی اور دھکم پیل سے روکنا نہیں ہے؟
    نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد کی طالبہ ماہ نور نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ: بطور خاتون مجھے میٹرو میں خاص کر صبح جامع میں جاتے وقت اور پھر واپسی پر تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یہ وقت جامعات کی چھٹی کا ہوتا یے اور اس میں کوئی شک نہیں ہمارے ہاں دھکم پیل پڑھے لکھے جاہل ہی کرتے ہیں، لیکن جو عملہ ان چیزوں کو قابو کرنے کیلئے میٹرو اسٹیشنوں پر تعینات ہے وہ صرف تماشائی بنا رہتا ہے۔
    انہوں نے میٹرو انتظامیہ کو مشورہ دیاکہ: اس بارے میں انتظامیہ کو ایک لائحہ عمل بنانا چاہئے اور جو سواری اسکی خلاف ورزی کرے اسے جرمانہ کیا جائے.

  • اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    بجلی کی بچت کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں اور تجارتی مراکز سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق ہوگیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :گورنر پنجاب نے کا روباری مراکز جلد بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ہول سیل اور پرچون کی دکانیں، شاپنگ مالز، بیکریاں، دفاتر، اسٹور رومز، گودام، ویئرہاؤسز رات 9 بجے بند ہوجائیں گے شادی ہالز، شادی کی تقریبات، لائٹنگ 10 بجےتک بند کی جائیں گی-

    پنجاب بھر میں مارکیٹیں، بازاررات 9 بجے بند کرنا ہوں گے،حمزہ شہباز

    نوٹیفکیشن کے مطابق سینما ہالزاورتھیٹر بھی رات ساڑھے گیارہ بجےکے بعد نہیں کھولے جاسکتے کمرشل اور انڈسٹریل عمارتیں، ریسٹو رنٹس، کلب، تندور، کیفے بھی رات ساڑھے گیارہ بجے بند کرنا ہوں گے۔ سیرو تفریح کے تمام مقامات بھی ساڑھے گیارہ بجے کے بعد نہیں کھولے جاسکتے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ہفتے کو کاروباری مراکز ساری رات کھولے جاسکیں گے۔ جمعہ یا اتوار میں سے ایک دن کاروبار مکمل بند رکھنا ہوگا ایمبولینس سروس، طبی مراکز، پیٹرول پمپ اور بس اڈے پابندی سےمستثنیٰ ہوں گے، تندور، دودھ دہی کی دکان اور سبزی منڈی کو بھی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    دوسر جانب تاجروں نے مارکیٹوں کی جلد بندش کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ صدر انجمن تاجران پاکستان خالد پرویز نے کہا کہ دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ عوام دشمن ہے کاروبار پہلے ہی تباہ حالی کا شکار ہیں، بازارجلد بند کرنے کا فیصلہ عید تک مؤخر کیا جائےعید تک دکانیں رات دیر تک کھولنے کی اجازت دی جائےعید کے بعد جلد دکانیں بند کرنے کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

    اس حوالے سے تاجر رہنما اجمل بلوچ نے کہا کہ شام 8 بجے دکانیں بند کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں، تاجر کسی صورت اپنا کاروبار شام 8 بجے بند نہیں کریں گے، حکومت تاجر برادری کیلئے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ مشکلات، ہر اس سیکٹر کی بجلی بند کریں جو مفت دی جارہی ہےحکمران اپنے اے سی بند کریں گے تو غریب کا پنکھا چلے گا، حکومت بجلی نہیں دےسکتی تو جنریٹیر چلا کر کام کرنے دے، اتنی شدید گرمی میں دن میں خریدار کا گھر سے نکلنا ممکن ہی نہیں، خریدار شام سے پہلے گھر سے خریداری کیلئے نہیں نکلتا،صبح دکانیں کھولنے کی تجویز بھی نا قابل عمل ہے۔

    سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر کا کہنا ہے کہ حکومت فیصلے تھوپنے کے بجائے ہم سے مشاورت کرے، حکومت تاجر نمائندوں، پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مشترکہ کمیٹیاں بنائے، حکومت کےساتھ مشروط تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

    ملک بھر کے مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے تیز بارش،بلوچستان میں سیلابی صورتحال