Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وزیراعظم اور بیلاروس کے صدر کے درمیان دو طرفہ ملاقات

    وزیراعظم اور بیلاروس کے صدر کے درمیان دو طرفہ ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور بیلاروس کے صدر عزت مآب الیگزینڈر لوکاشینکو کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر صدر لوکا شینکو کو خوش آمدید کہا،صدر لوکا شینکو نے پاکستان میں پر تپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان بیلاروس کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،آپ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھولنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا

    ملاقات میں سیاسی تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی مسائل سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہء خیال کیا گیا ، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان اور بیلاروس تعلقات کے تمام پہلوؤں میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا، دونوں رہنماؤں نے باہمی فائدہ مند تعاون اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، وزیراعظم نے بیلا روس کے صدر کو حکومت پاکستان کی برآمدات پر مبنی نمو اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی بحالی کی پالیسی کے بارے آگاہ کیا ، دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہء خیال کیا۔

    بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے اعزاز میں منگل کو وزیر اعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بیلاروس کے صدر کا وزیر اعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پرجوش انداز میں مصافحہ کیا، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ بیلاروس کے صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بیلاروس کے صدر سے کابینہ ارکان کا تعارف کرایا جبکہ معزز مہمان نے بھی وزیر اعظم کو اپنے وفد کے ارکان سے ملوایا۔ بیلاروس کے صدر نے وزیر اعظم ہاؤس کے سبزہ زار میں پودا بھی لگایا۔

    وزیراعظم شہباز اور بیلاروس صدر کا پاکستان بیلاروس تعلقات کی موجودہ مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار
    بیلاروس اور پاکستان کے درمیان آج وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔بیلا روس کے صدر اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد آئے ہوئے ہیں.جمہوریہ بیلاروس کے صدر عزت مآب الیگزینڈر لوکاشینکو، اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت کا یہ مرحلہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان بہترین دوطرفہ تعلقات کی عکاس ہے۔دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کے مکمل اسپیکٹرم کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہء خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، بین الپارلیمانی تبادلوں کو مضبوط بنانے اور خاص طور پر دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز اور صدر لوکاشینکو نے پاکستان بیلاروس تعلقات کی موجودہ مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنمائوں نے باقاعدہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
    دونوں رہنماؤں نے کئی اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کا بھی مشاہدہ کیا جس کا مقصد پاکستان اور بیلاروس کے درمیان اہم شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدے اور ایم او یوز ماحولیاتی تحفظ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، حلال تجارت، آڈٹ اداروں، مالیاتی انٹیلی جنس شیئرنگ، ووکیشنل ایجوکیشن اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تعاون پر مشتمل ہیں۔

    ملاقات میں "پاکستان اور بیلاروس کے درمیان 2025-2027 کے لیے جامع تعاون کے روڈ میپ” پر اتفاق ہوا، جس کے تحت اعلیٰ سطحی اجلاسوں، بین الحکومتی کمیشنوں اور اہداف کے ذریعے اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے ذریعے باہمی تعاون کے اقدامات، علاقائی اقتصادی روابط کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، دونوں فریقوں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون میں تیزی لانے کے لیے درکار قانونی فریم ورک کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔بیلا روس کے صدر نے وزیر اعظم پاکستان کے تعلقات کو نئی جہتوں پر لے جانے کے عزم کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنے اور اپنی حکومت کے اپنے بھرپور تعاون کا اظہار کیا. انھوں نے شہباز شریف کو بیلا روس کے دورے کی دعوت بھی دی، جس سے تعلقات میں مزید وسعت آئے گی.وزیر اعظم نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس دورے کے دوران مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں کی شکل دی جائے گی. وزیر اعظم نے متعلقہ وزراء کو ھدایات جاری کیں کہ وہ اس سلسلے میں جلد ازجلد ضروری اقدامات اٹھائیں.

    پاکستان اور بیلا روس کا سرمایہ کاری ، زراعت، تجارت، دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور
    پاکستان اور بیلا روس نے سرمایہ کاری ، زراعت، تجارت، دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باہمی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کو جلد عملی جامہ پہنانے پر اتفاق کیا ہے، دوطرفہ حتمی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر فروری 2025 میں دستخط کئے جائیں گے۔ منگل کو مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیلا روس کے صدرالیگزینڈر لوکاشینکو اور ان کے وفد کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیلا روس کے صدر 8 سال کے بعد پھر سے پاکستان کا دورہ کررہے ہیں ، وہ پاکستان کے عظیم دوست، مدبر اور بصیرت افروز رہنما ہیں، پاکستان کے عوام بیلا روس کو اپنا قریبی دوست سمجھتے ہیں اور ان کے تعاون پر مشکور اور قیادت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،پاکستان بیلا روس کے صدر کا دوسرا گھر ہے، ان کے دورہ کے دوران ون آن ون اور وفود کی سطح پر مفید بات چیت ہوئی ہے، بیلا روس کے صدر کے خیالات اور مل کر کام کرنے کے عزم اور معاہدے ہمارے لئے حوصلہ افزاء ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں سرمایہ کاری ، تجارت ، سیاحت، دفاع سمیت دیگر اہم شعبوں میں تعاون اور اہم ایشوز کا مکمل احاطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیلا روس کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو فوری عملی جامہ پہنایا جائے گا جبکہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف مل بیٹھ کر روڈ میپ کو حتمی شکل دیں گے، زرعی مشینری اور آئی ٹی ،معدنیات میں تعاون بڑھانے اور جائنٹ ونچر کو فروغ دیا جائےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دو ہفتوں کے بعد دوبارہ دونوں اطراف کی ٹیموں کی ملاقات ہوگی اور اس بات چیت کو عملی جامہ پہنانے کےلئے حتمی اقدامات اٹھائے جائیں گے جس کے بعد فروری 2025 میں بیلا روس میں صدر بیلا روس اور میں ان معاہدوں پر دستخط کریں گے اور انہیں دونوں ممالک کے مفاد میں عملی جامہ پہنائیں گے۔ ہم ایک دوسرے کی استعداد کار اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں ، غزہ میں خواتین، بچوں سمیت 45 ہزار افراد شہید کئے جاچکے ہیں، شہر کے شہر تباہ کئے جا رہے ہیں، اقوام متحدہ کی قرارداد اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے باوجود سیزفائر نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ بیلا روس سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کےلئے ان کی جدوجہد کی حمایت کے متمنی ہیں۔ 75 سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق نہیں دیا گیا، اس خطے کے امن کےلئے کشمیر کے تنازعے کا حل ناگزیر ہے۔ بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے وزیراعظم اور حکومت پاکستان کی جانب سے ان کے پرتپاک استقبال اور میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بیلا روس کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہیں ، دونوں اطراف نے بات چیت کے دوران مستقبل کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کے علاوہ کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے۔ شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انہیں عملی اور بہترین انسان پایا،وزیراعظم شہباز شریف کی مثبت سوچ کے ہم معترف ہیں ، وزیراعظم نے ملاقات کے دوران معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کو جلد عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ فروری میں ان معاہدوں پر باقاعدہ دستخط ہوں گے۔ صدر بیلا روس نے کہا کہ ہمیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق جدید منصوبوں پر عمل پیرا ہونا ہو گا ، ہم ایک نئے روڈ میپ پر کام کر رہے ہیں،اس میں ہم جدید ضرورتوں پر غور کر رہے ہیں، پاکستان اور بیلا روس کے درمیان 30 سال سے سفارتی تعلقات قائم ہیں، ہمیں سفاتکاری میں تعمیری اقدامات کو آگے بڑھانا ہوگا، حالیہ دورہ کے دوران ٹرانسپورٹ و لاجسٹک کوریڈور میں شرکت سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے، عوامی بہتری کے منصوبوں پر عمل کرنا ہوگا، پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدات سے بیلا روس فائدہ اٹھائے گا، ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک دوسرے کےلئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں، زراعت اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانا ہوگا۔

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    پی ٹی آئی کے شرپسند کارکنان کے حملوں سے رینجرز کے تین اہلکار شہید ہو گئے

    شہید ہونے والے رینجرز کے اہلکاروں میں نائیک محمد رمضان شہید(عمر 47 سال، ساکن ضلع کرک)، سپاہی گلفام خان شہید (عمر 29سال، ساکن ضلع راولپنڈی ) اور سپاہی شاہنواز شہید (عمر 33سال، ساکن ضلع سبی) شامل ہیں،رینجرز کے شدید زخمی اہلکاروں میں نائیک عارف ، لانس نائیک آصف اور سپاہی اشرف علی شامل ہیں،شرپسند عناصر کی شناخت کاعمل تیزی سے جاری ہے، پرتشدد عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، شرپسندوں کے سرکاری املاک پر حملے،پولیس کی 22 گاڑیوں کو نقصان
    احتجاج کی آڑمیں پرتشددکارروائیوں میں رینجرز کے3اہلکارشہید ہوئے،مظاہرین نے سرکاری املاک پرحملے کیے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مظاہرین کے حملوں سےمتعدداہلکار زخمی بھی ہوئے، پنجاب پولیس کے 2اہلکار شہید،119 کےقریب زخمی ہوئے،مظاہرین کے حملوں سے پنجاب پولیس کی 22 گاڑیوں کو نقصان پہنچا، پرتشدد کارروائیوں میں اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے،شہید رینجراہلکار نائیک محمد رمضان عمر 47 سال تعلق کرک سے تھا، سپاہی گلفام خان عمر 29سال اورتعلق راولپنڈی سے تھا،شہیدسپاہی شاہنواز عمر 33سال،تعلق سبی سے تھا،زخمیوں میں نائیک عارف،لانس نائیک آصف اورسپاہی اشرف علی شامل ہیں،مظاہرین نے مختلف مقامات پر آگ لگائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا،پولیس کی جانب سے متعدد پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ،شرپسند عناصر کی شناخت کاعمل تیزی سے جاری ہے، پرتشدد عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ رینجرز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ رینجرز اہلکار سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کی تیز رفتاری سے شہید ہوئے، حادثے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید ہوئے جبکہ چوتھے کی حالت تشویشناک ہے،شہید ہونے والوں میں نائیک محمد رمضان، سپاہی گلفام خان، سپاہی شاہنواز شامل ہیں،اوکاڑا کے سپاہی آصف کی حالت تشویشناک اللہ سے دعا ہے کہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے،سیکیورٹی فورسز بشمول رینجرز ملک کا امن برقرار رکھنے کوئی کوتاہی نہیں کریں گے،

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مابین تصادم میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے،صدر مملکت نےپولیس اور رینجرز پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،صدر مملکت نےجانبحق سیکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے،صدر مملکت نے جانبحق اہلکاروں کیلئے بلندی درجات، اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

    امن و امان کے قیام کے لیے موجود پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے،بلاول
    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شاہراہ سرینگر پر رینجرز اہلکاروں پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے موجود پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے،اسلام آباد میں رینجرز اور پولیس پر حملوں میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے،جام شہادت نوش کرنے والے رینجرز اور پولیس اہلکار قوم کےبہادر بیٹے تھے،شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے،شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں، پرامن احتجاج کے حق اور شرپسندی و دہشتگردی کے متعلق پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے

    دوسری جانب سری نگر ہائی وے پر رینجرز کے تین جوان شہید ہونے کا معاملہ، وفاقی پولیس نے رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والے شخص کو گرفتار کر لیا،گرفتار شخص کی شناخت ہاشم ولد عاصم کے نام سے ہوئی،ملزم ہاشم نے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ مجھے رات کے وقت فورس کے اہلکار نظر نہیں آئے ،ملزم کو مارگلہ تھانے منتقل کردیا گیا ہے،ملزم اسلام آباد کا رہائشی ہے،ملزم سے مزید تحقیقات جاری ہیں،

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران شدید تشویشناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ نصف شب کے بعد سری نگر ہائی وے پر رینجرز کے اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی گئی، جس کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار شہید ہوگئے۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہرین جی نائن تک پہنچ چکے ہیں، بشریٰ بی بی قافلے کی قیادت کر رہی ہیں، مظاہرین ڈی چوک جانا چاہتے ہیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکا جائے گا،اسد قیصر، عالیہ حمزہ و دیگر رہنما بھی بشریٰ بی بی کے احتجاجی قافلے میں شریک ہیں،

    پاک آرمی لورز موومنٹ نے 3رینجرز اہلکاروں کو کچل کر شہید کرنے پر شدید دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے، پاک آرمی لورز موومنٹ کے چیئرمین جان محمد رمضان کا کہنا ہے کہ سیاسی جتھے کے مقاصد و عزائم سب جان چکے ہیں خدارا ملک و ملت کے حال پر رحم کرو اور اپنے سربراہ کی رہائی کے لئے قانونی راستہ اختیار کرو ۔شہید ہونے والے کسی کے باپ ۔ بیٹے اور بھائی تھے،ظلم کیا گیا ۔قانون سازی کرکے پاکستان بھر میں ضلعی سطح پر احتجاج وغیرہ کی جگہ متعین کی جائے تاکہ ان سے چھٹکارا حاصل ہو ۔قانون کی خلاف ورزی پر عوام کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کے بعد عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیئے نہ کہ احتجاج ریلیوں کے ذریعے ملک میں انتشار و فساد برپا کیا جائے ۔ عوام کسی ایسے فساد و انتشار کا حصہ نہ بنیں جس سے قیمتی جانوں کا ضیا و ملکی استحکام کا خدشہ ہو ۔

    اسلام آباد،رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والا شخص گرفتار

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • پی ٹی آئی احتجاج،راولپنڈی اسلام آباد سڑکوں کی بندش کی صورت حال

    پی ٹی آئی احتجاج،راولپنڈی اسلام آباد سڑکوں کی بندش کی صورت حال

    تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور اسلام آباد پولیس کے درمیان منگل کی صبح اسلام آباد میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مظاہرین اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی نائن میں موجود ہیں جن کی اگلی منزل ڈی چوک ہے۔ اسلام آباد میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث منگل کو بھی تعلیمی ادارے بند ہیں ، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کارکنان ریڈ زون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری رہا کیا جائے اور وہ پارٹی کے بانی کی رہائی تک ڈی چوک میں رہیں گے

    راولپنڈی اسلام آباد سڑکوں کی بندش کی صورت حال

    1. مری روڈ: صدر سے فیض آباد تک مختلف مقامات پر بند، جن میں صدر، مریڑ چوک، لیاقت باغ، کمیٹی چوک، ناز سنیما، اور ملحقہ گلیاں شامل ہیں۔
    2. شمس آباد: بند۔
    3. فیض آباد: مکمل بند، ایکسپریس وے کے داخلی و خارجی راستے بھی بند ہیں۔
    4. آئی جے پی روڈ سے ایکسپریس وے: بند۔
    5. کھنہ پل: بند۔
    6. شکرپڑیاں سے آئی 8: بند۔
    7. سرینگر ہائی وے: زیرو پوائنٹ چیک پوسٹ پر دونوں سمتوں سے بند، ایکسپریس وے کی طرف جانے والا راستہ بھی بند۔
    8. ریڈ زون تک رسائی: ریڈ زون کی تمام داخلی سڑکیں بند۔
    9. ایران ایونیو اور مارگلہ روڈ: بند۔
    10. 26 نمبر اور گولڑہ موڑ: بند۔
    11. بھارہ کہو سے اسلام آباد: دونوں سمتوں سے بند، بائی پاس سمیت۔
    12. پشاور موڑ فلائی اوور: بند۔
    13. ٹی چوک: بند۔
    14. ٹیکسلا سے اسلام آباد کے راستے: مکمل طور پر بند، جس میں پھاٹک ریلوے ٹریک اور آہتہ پل شامل ہیں۔
    15. ترنول پھاٹک: بند۔
    ٹریفک پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ براہ کرم سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں اور صورتحال کے معمول پر آنے تک غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں

    دوسری جانب ، پی ٹی آئی احتجاج اور ریڈ زون میں رستوں کی بندش کے باعث عدالتوں میں کیسز التواء کا شکار ہو گئے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق آج بھی دستیاب نہیں ہونگے انکی کاز لسٹ چیف جسٹس نے عمران خان کا خواجہ آصف کے خلاف دس ارب ہرجانہ کیس کی سماعت کرنا تھی،سیشن کورٹ کے فیصلے کے کو بانی پی ٹی آئی نے چیلنج کر رکھا ہے۔

    پی ٹی آئی احتجاج سے گرفتار ورکرز کی پیشی مشکل بن گئی،احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی ورکرز کو عدالتوں میں پیش کرنے میں پولیس کو مشکلات کا سامنا ، سری نگر ہائی وے ،جی ٹین اور جی نائن میں کشیدہ صورتحال کے باعث ملزمان کو تاحال عدالتوں میں پیش نہ کیا جا سکا ۔عدالتوں کے باہر بھی سیکورٹی سخت کی گئی ہے،

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • انتشاری ٹولہ انقلاب نہیں، خونریزی چاہتا ہے،وزیراعظم

    انتشاری ٹولہ انقلاب نہیں، خونریزی چاہتا ہے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےسری نگر ہائی وے پر احتجاجیوں کی جانب سے رینجرز اور پولیس اہلکاروں پر گاڑی سے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے

    وزیرِاعظم نےحملے میں گاڑی سے کچلے گئے رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے، وزیرِاعظم نے شہید اہلکاروں کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے،وزیرِ اعظم نےواقعے میں ملوث افراد کی فوری نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حملے میں زخمی ہونے والے رینجرز و پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ نام نہاد پر امن احتجاج کی آڑ میں پولیس و رینجرز کے اہلکاروں پر حملے قابل مزمت ہیں. انتشاری ٹولہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے. پولیس و رینجرز کے اہلکار شہر میں امن و امان کے نفاذ کیلئے مامور ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ملک گیر فسادات برپا کرنے والے ایک مرتبہ پھر سے پر تشدد کارروائیاں کر رہے ہیں، جب جب ملک ترقی کی منازل طے کرنے لگتا ہے، شرپسند عناصر جلائو گھیرائو شروع کر دیتے ہیں،انتشاری ٹولے کے ہاتھوں سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں،انتشاری ٹولہ گزشتہ روز پولیس اہلکار اور آج شہید کئے گئے رینجرز اہلکاروں کے معصوم بچوں و اہلِ خانہ کو جوابدہ ہے. انتشاری ٹولہ انقلاب نہیں، خونریزی چاہتا ہے.یہ پُر امن احتجاج نہیں، شدّت پسندی ہے۔پاکستان کسی بھی انتشار اور خوں ریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مذموم سیاسی مقاصد کے لئے خون ریزی نا قابل قبول اور انتہائی قابل مذمت ہے۔مجھ سمیت پوری قوم شہید ہونے والے رینجرز و پولیس کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے.

    اسلام آباد،رینجرز اہلکاروں کو کچلنے والا شخص گرفتار

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی خیبر پختونخوا سے آنے والے احتجاجی مارچ کی اسلام آباد میں قیادت کر رہی ہیں،

    بشریٰ بی بی نے کارکنان سے کینٹینر پر چڑھ کر ایک بار پھر خطاب کیا ہے، بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ جب تک کہ خان ہمیں خود باہر آکر نہ بتائے، ہم نہیں رُکیں گے۔ ڈی چوک پہنچ کر ہم آپ کو خان کا اگلا لائحہ عمل بتائیں گے۔ آپ سب نے پُرامن رہنا ہے،کوئی کچھ بھی کہے تم لوگوں نے نہیں ماننا، ڈی چوک پر اگلا لائحہ عمل دیں گے،ریڈ زون ، ڈی چوک جائیں گے اور وہاں دھرنا دیں گے، پرامن طریقے سے جائیں، انتظامیہ پر امن رہے، ہمارے بچوں، بھائیوں کو کچھ نہ کہے ، انکا خیال کرے،

    بشریٰ بی بی قافلے کے ہمراہ جی الیون میں ہیں، یہاں سے ڈی چوک 14 کلو میٹر دور ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور 26 نمبر چونگی پر ہیں، وہ بھی کارکنان کے ہمراہ ہیں تا ہم بشریٰ بی بی آگے بّڑھ چکی ہیں،

    دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی سامنے آ گئیں، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے پشاور سے لیڈ کیا بہت اچھی بات ہے، جب تک ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ، ہم ڈی چوک رہیں گے،

    پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ اسلام آبادپہنچ چکا ہے، ایک طرف مذاکرات بھی جاری ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے مظاہرین کی پیش قدمی بھی جاری ہے، مظاہرین کی جانب سے رینجرز پر گاڑی چڑھانے سے چار اہلکار شہید ہو گئے، گزشتہ روز ایک پولیس اہلکار بھی شہید ہوا، 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہیں،

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا، بشریٰ بی بی کھل کر سامنے آ گئیں، قیادت سنبھال لی، بشریٰ بی بی کارکنان کو لے کر 26 نمبر چونگی سے ریڈ زون کی طرف روانہ ہو گئیں

    بلیو ایریا اسلام آباد میں بشریٰ بی بی نے مظاہرین سے حلف لیا کہ جب تک خان باہر نہیں آتے کوئی بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر اسلام آباد سے نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کینٹینر پر آئیں اور کارکنان سے کہا کہ مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا، میرے ساتھ رہنا ہے، کوئی مجھے چھوڑ کر نہیں جائے جب تک ہمارے خان ہمارے پاس نہیں آ جاتے کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی نے کارکنا ن سے حلف لیا،بشریٰ بی بی نے اس موقع پر وکٹری کا نشان بھی بنایا.

    بشری بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ اسلام آباد کے زیروپوائنٹ پہنچ گیا ہے، احتجاجی قافلہ کی منزل ڈی چوک ہے، تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ جی 11 اور جی 9 سے گزرا وہاں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم ہوا، اس وقت بھی دونوں جانب سے ایک دوسرے پر آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے اور پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جارہا ہے۔قافلے کے شرکا نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، انقلاب ، انقلاب کے نعرے لگائے جا رہےہیں،کئی مقامات پر پولیس پیچھے ہٹ گئی اور قافلے کو آسانی سے آگے بڑھنے کا موقع ملا،پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے میں نوجوان،بزرگ، خواتین بھی شامل ہیں، پی ٹی آئی نے اپیل کی ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے راستوں پر رہنے والوں سے گزارش ہے اپنے وائی فائی کے پاسورڈ ہٹا دیں تاکہ احتجاج کے شرکاء انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے احتجاج کے مناظر اور عوام کے خلاف بدترین جبر کے ثبوت دنیا بھر تک پہنچا سکیں۔

    پی ٹی آئی احتجاج، شرکاء ڈی چوک کے قریب،زیروپوائنٹ کراس کر گئے

    بلیو ایریا میں شہید ملت اسٹیشن کے قریب میبنہ طور پرپی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے درختوں کو آگ لگائی جارہی ہے،پولیس کی شیلنگ اور کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے

    قبل ازیں عمران خان کے احتجاج کیلئے متبادل جگہ کی حامی بھرنے کے باوجود بشریٰ بی بی نے ماننے سے انکار کردیا تھا، بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ چند سازشی عناصر ڈی چوک کے بجائے دوسرے مقام پر ہمیں روکنا چاہتے ہیں، عمران خان نے مجھے ہر صورت ڈی چوک جانے کا کہا ہے، ڈی چوک سے کم کسی بھی مذاکراتی فیصلے پر کارکنان راضی نہیں ہیں

    ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکے،پی ٹی آئی کےذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت دھرنے کیلئے حتمی مقام کا تعین کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، مرکزی قیادت میں کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں،پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق علی امین نے کہا کہ کارکنان کو اسلام آباد حتمی مقام تک لے جانے کیلئے رابطہ کاری میں مشکل ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان سے دوسری ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئے تھے،بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان کیساتھ 40 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت میں بیرسٹر گوہر نے احتجاج اور حکومت کی طرف سے آپشنز سےبانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا،دوسری ملاقات میں عمران خان نےبشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور کارکنوں کیلئے اہم پیغام ریکارڈ کروایا تھا، بیرسٹر گوہر بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام دکھانے کیلئے روانہ ہوئے تھے، عمران خان کے ویڈیو پیغام سننےکےبعد بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے آئندہ کےلائحہ عمل کے اعلان کا امکان تھامیڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کے ویڈیو پیغام میں حکومتی تجاویز میں سے ایک پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ہم نے مظاہرین سے کہا تھا ڈی چوک پر جس نے بھی جلسہ کیا کبھی اجازت نہیں ملی، درخواست دیں اور سنجانی چلے جائیں،پی ٹی آئی قیادت ملاقات کیلئے دو مرتبہ اڈیالہ گئی، انہیں وہاں سے بھی اپروول مل گئی ہے،چاہےدفعہ 144 نافذ کرنی ہو یا ہمیں انتہائی اقدام تک جانا پڑے، پہلے ہی بتارہےہیں، نقصان ہوا تو ہم ذمے دار نہیں ہوں گے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کانسیٹبل کے قتل کی ایف آئی آر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہدا کی فیملی سے وعدہ ہے ان کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، جن لوگوں نے احتجاج کی کال دی، جنہوں نے لوگوں کو بلایا ان سب کو نہیں چھوڑیں گے۔

    قبل ازیں مظاہرین کے مبینہ تشدد سے جاں بحق پولیس کانسٹیبل مبشر کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کردی گئی،نمازجنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی آئی جی پنجاب سمیت اعلیٰ پولیس قیادت بھی شریک ہوئی جبکہ وزیراعظم نے بھی مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکار کو شہید کرنے کی مذمت کی۔

    تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران انتشار سے نمٹنے کیلئے وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کرلی گئی، وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بلایا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، آرمی کو کسی بھی علاقے میں امن امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کرفیو لگانے کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں، سکیورٹی اداروں کو انتشار پھیلانے والوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس سے 4 رینجرز اہلکار شہید جب کہ 5 رینجرز اور 2 پولیس کے جوان بھی شدید زخمی ہوگئے،سکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اب تک رینجرز کے 4 اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ہمارے 119 بندے زخمی ہوئے، پولیس بھی اسلحہ چلا سکتی ہے لیکن ہمارے اہلکار مسلح نہیں ہیں، پنجاب پولیس کے 22 ہزار اہلکار یہاں موجود ہیں، پاکستان اور اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لئے ہم یہاں موجود رہیں گے،

    26 نمبر چنگی،پی ٹی آئی کارکنوں نے میڈیا ڈی ایس این جیز پر حملہ کیا،جیو نیوز،سما ٹی وی، سنو نیوز ، آج ٹی وی، اے آر وائی نیوز،92 نیوز کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے ،گاڑیوں پر کارکنان نے پتھر مارے، لوہے کے راڈوں سے حملہ کیا،میڈیا سٹاف بمشکل ہجوم سے جان بچا کر نکلے،

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کارکنان کی سنگجانی ٹول پلازہ میں سرکاری سامان چوری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی،پی ٹی آئی کارکنان کمپیوٹرز اور دیگر قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے،پرتشدد مظاہرین کی جانب سے پولیس کی گاڑی بھی جلا دی گئی، پرتشدد کارکنان کے حملوں سے سرکاری املاک کوبھی نقصان پہنچا ،پرتشدد کارروائیوں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی متعدد ویڈیوز منظرعام پرآ چکی ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے سبب اسلام آباد کی چائنہ چوک اور ڈی چوک پر پولیس کی نفری تعینات ہے،سیکرٹری داخلہ نے ڈی چوک کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا،احتجاج کے با‏عث راولپنڈی اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش ہے، اسلام آباد آنے والے تمام راستے بند ہیں اور میٹرو بس سروس معطل ہے جب کہ جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھی جزوی معطل ہے،تعلیمی اداروں میں جڑواں شہروں میں آج پھر چھٹی کی گئی ہے، اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے،

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • سپریم کورٹ،بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ،بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے از خود نوٹس کو نمٹا دیا

    عدالت میں بھونگ انٹرچینج تعمیر کے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، رئیس منیر کے وکیل نے بتایا کہ بھونگ میں ہندو مندر جلائے جانے پر یہ از خود نوٹس لیا گیا تھا، کیس کی سماعت کے دوران بھونگ ایریا تک رسائی کا ایشو سامنے آیا، بھونگ تک رسائی کے لیے پولیس اور انٹرچینج کے معاملات اٹھے تھے، رئیس منیر کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے رسائی کے لیے بھونگ انٹرچینج کی تعمیر کا حکم دیا تھا، زمین کے کچھ حصے کی ایکوزیشن رہتی ہے جو ڈی سی نے کرنی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پھر پنجاب حکومت سے پوچھ لیتے ہیں،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ بھونگ میں ایس پی آفس بنا دیا گیا ہے، انٹرچینج کی تعمیر کے لیے فنڈز وفاقی حکومت نے دینے ہیں،این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھونگ انٹر چینج کا کنڑیکٹ دیا جا چکا ہے، بھونگ انٹرچینج کے لیے فنڈز بھی مختص ہو چُکے ہیں،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر فنڈز مختص ہو چُکے ہیں تو پھر بات ختم، اس کو جلد مکمل کریں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کہاں انٹرچینج بننا ہے کہاں نہیں، یہ پالیسی میکر نے فیصلہ کرنا ہے،رئیس ابراہیم کے وکیل نے کہا کہ ہمیں رئیس منیر کی جانب سے زمین دینے پر اعتراض ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے رئیس ابراہیم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ رئیس ابراہیم کے وکیل نے اس سوال کا جواب دیا کہ میری درخواست کو ابھی نمبر نہیں لگا،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نمبر نہیں لگا تو پھر آپ رہنے دیں،سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب حکومت اور این ایچ اے کے بیانات کے تناظر میں از خود نوٹس نمٹا دیا گیا

    اتنی منشیات بارڈرز کے ذریعے سپلائی نہیں ہوتی جتنی جیلوں میں سپلائی ہو رہی ہے،جسٹس مسرت ہلالی
    دوسری جانب تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی سے متعلق کیس میں پر اے این ایف اور تمام صوبوں سے تحریری جواب طلب کر لیا،تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے خلاف درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ بتائیں منشیات کی روک تھام کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اے این ایف کے مخبری کے نظام کے تحت جاسوسی کا نظام قائم کریں، سب سے زیادہ منشیات جیلوں میں سپلائی ہوتی ہے، اتنی منشیات بارڈرز کے ذریعے سپلائی نہیں ہوتی جتنی جیلوں میں سپلائی ہو رہی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق رپورٹ میں لکھا گیا وہاں صرف ہیروئن کا استعمال ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیاہیروئن پی کرختم کردی گئی ہے، پتہ نہیں رپورٹ میں کونسی ہیروئن کا ذکرکیا گیا ہے، بلوچستان کی رپورٹ پر مجھے خوشی بھی ہے اور حیرت بھی، کالجز میں بھی منشیات فروخت ہو رہی ہیں،منشیات سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تو خیبرپختوا ہے، صوبہ خیبرپختونخوا خاموش کیوں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اصل معاملہ ہی خیبرپختونخوا اوربلوچستان کا ہے۔آئینی بینچ نے اے این ایف اور تمام صوبوں سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ تحریری جواب میں تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے سدباب کے لیے مکمل میکانزم فراہم کیا جائے،سپریم کورٹ نے سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

  • پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج، عمران،بشریٰ ،علیمہ و دیگر پر نئے مقدمے درج

    پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج، عمران،بشریٰ ،علیمہ و دیگر پر نئے مقدمے درج

    تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو پرتشدد مظاہرے کرنے پر سابق وزیراعظم عمران خان، انکی اہلیہ بشریٰ بی بی اور سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    پی ٹی آئی احتجاج پرمقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے،مقدمے میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور،عمران خان کی بہن علیمہ خان، اعظم سواتی، تیمور مسعود، شہریار ریاض،حماد اظہر،اسد قیصر سمیت 300 سے زائد مقامی رہنما اور کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے کے متن کے مطابق مظاہرین نے سرکاری موٹر سائیکل اور گاڑی کو نقصان پہنچایا جبکہ ملزمان نے پولیس ڈرائیور کو اغوا کیا اور تشدد کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیا، بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل سے پارٹی رہنماوں کو اسلام آباد چڑھائی کا منصوبہ دیا،مقدمہ نمبر 2594 میں کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں جبکہ مظاہرین پر سرکاری پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچانے اور مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب فیصل آباد کے تھانہ غلام محمد آباد میں عمران خان سمیت 45 افراد پر مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 سمیت 13 دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے،پولیس نے املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس پر حملے سمیت دیگر الزامات میں 35 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے،فیصل آباد میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق مظاہرین نے عمران خان کے اکسانے پر امن و امان پامال کیا اور دہشت گردی کی،فیصل آباد کے تھانہ صدر جڑانوالہ میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمے میں عمران خان پر اعانت کا الزام عائد کیا گیا ہے،مقدمے میں توڑ پھوڑ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پولیس مزاحمت اور حکومت مخالف نعرے بازی کرنے درج کیے گئے،تھانہ جڑانوالہ میں مقدمہ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے

    عمران خان، بشریٰ،علیمہ،گنڈاپور و دیگر کیخلاف پنڈی میں بھی مقدمہ درج
    سابق وزیراعظم عمران خان پر پنڈی کے تھانہ صادق آباد میں بھی مقدمہ درج کر لیا گیا،تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں عمران خان،علیمہ خان ،بشری بی بی،علی امین گنڈا پور،عمر ایوب سمیت دیگر رہنماؤں پر دہشتگردی دفعات سمیت دیگر دفعات کے تحت ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے گرفتار کارکنان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کا مقدمہ درج کر لیا گیا،
    مقدمہ میں کار سرکار میں مداخلت بلوا سمیت دیگر دفعات شامل ہیں،مقدمہ تھانہ شمس کالونی میں سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔پی ٹی آئی کے 33کارکنوں کو مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • احتجاج کی کال سےروزانہ 190ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے ، وزیر خزانہ

    احتجاج کی کال سےروزانہ 190ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے ، وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی احتجاج کی کال سےروزانہ 190ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے ، لاک ڈاؤن اور احتجاج کے باعث ٹیکس وصولیوں میں کمی ہوتی ہے ۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرخزانہ کا مزید کہنا تھا احتجاج کے باعث کاروبار میں رکاوٹ سے برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں ۔ امن عامہ کے لئے سیکیورٹی پر اضافی اخراجات آتےہیں ۔ آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے میں ہونے والے نقصانات اس کے علاوہ ہیں ۔ آئی ٹی اور ٹیلی کام کی بندش سے سماجی طور پر منفی اثر پڑتا ہے ۔وزارت خزانہ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق احتجاج سے جی ڈی پی کو ایک سو چوالیس ارب کا روزانہ نقصان ہوتا ہے۔ برآمدات میں کمی سے روزانہ چھبیس ارب ،براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے سے روزانہ تین ارب روپے نقصان ہوتا ہے ۔ احتجاج کے باعث صوبوں کو زرعی شعبے میں روزانہ چھبیس ارب اور صنعتی شعبے میں یومیہ بیس ارب روپے سے زیادہ نقصان ہے ۔

    چپل میں آئس چھپا کر نیوزی لینڈ اسمگل کی کوشش ناکام

    پی ٹی آئی لاہور کی نئی حکمت عملی، 700 کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی احتجاج: ٹرین سروس بھی بند کردی گئی

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

  • پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر  سے غائب

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    تحریک انصاف کی احتجاج کی کال، بشریٰ بی بی قافلے کے ہمراہ، تاہم عمران خان کی بہن علیمہ خان کہیں نظر نہ آئیں،

    پی ٹی آئی کے احتجاج میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے، خیبر پختونخوا سے روانہ ہونے والے قافلے اسلام آباد کی حدود میں پہنچ چکے ہیں، بشریٰ بی بی جن کے بارے میں کل کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں،احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی وہ قافلے کے ہمراہ ہیں، تاہم علیمہ خان، جو عمران خان کی بہن ہیں، اس اہم موقع پر غیر موجود رہیں، دن بھر علیمہ خان کسی بھی شہر میں نظر نہ آئیں، نہ کسی قافلے کی قیادت کی نہ شریک ہوئیں، علیمہ خان کہاں ہیں ، عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان سے ہی 24 نومبر کے احتجاج کی کال دلوائی تھی تا ہم احتجاج کے روز علیمہ خان منظر عام سے غائب ہیں،علیمہ خان کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ وہ پارٹی کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں، اور ان کی عدم شرکت نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ بھی ممکن ہے کہ علیمہ خان نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر شرکت نہ کی ہو اور وہ روپوش ہوں جب قافلہ اسلام آباد پہنچے تو علیمہ خان منظر عام پر آجائیں،

    سوشل میڈیا پر علیمہ خان کی غیر موجودگی موضوع بحث بن گئی۔ کچھ صارفین نے ان کی غیر موجودگی پر تنقید کی، ایک صارف نے سوال اٹھا یا کہ علیمہ خان کدھر ہیں،

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ابھی تک علیمہ خان کا قافلہ نہیں نظر آیا

    اب تک پی ٹی آئی کی قیادت نے علیمہ خان کی غیر موجودگی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔پی ٹی آئی قیادت علیمہ خان کی احتجاج میں عدم شرکت پر خاموش ہے،

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب